پونچھ میں چار ماہ سے دھرنا جاری ہے، مذاکرات کہاں کھڑے ہیں؟ حکومت کی حکمت عملی کیا ہے؟"
جواب آیا: "کون سا دھرنا؟ کہاں لوگ مارے گئے؟"
جناب وزیر اعظم! آپ نے سوال کا جواب نہیں دیا، آپ نے اپنے منصب کا استعفیٰ پڑھ کر سنا دیا۔
چار مہینے۔ ایک سو بیس دن۔ پونچھ کے بازار بند ہیں، سکولوں پر تالے ہیں، سڑکیں سنسان ہیں۔ مریض ہسپتال کی راہ دیکھتے دیکھتے دم توڑ رہے ہیں، مزدور کے گھر میں چولہا ٹھنڈا پڑا ہے، طالب علم کا سال ضائع ہو رہا ہے۔ اور ریاست کا وزیر اعظم پوچھ رہا ہے کہ دھرنا کہاں ہے؟
ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ دھرنا کہاں ہے۔
دھرنا اُس ماں کی آنکھوں میں ہے جس کا بچہ چار ماہ سے سکول نہیں گیا۔ دھرنا اُس دکاندار کے رجسٹر میں ہے جس کا ادھار بڑھتا جا رہا ہے۔ دھرنا اُس بیمار کی سانس میں ہے جو راستہ بند ہونے کی وجہ سے شہر نہ پہنچ سکا۔ دھرنا ہر اُس گھر میں ہے جہاں لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہماری حکومت ہے بھی یا نہیں۔
اگر وزیر اعظم کو یہ معلوم نہیں تو صرف دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو انہیں خبر ہی نہیں دی جاتی، یا انہیں خبر سے کوئی غرض نہیں۔ پہلی صورت نااہلی ہے، دوسری بے حسی۔ اور دونوں صورتوں میں انہیں اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔
جناب وزیر اعظم! آپ نے سوال کا جواب نہیں دیا، آپ نے اپنے منصب کا استعفیٰ پڑھ کر سنا دیا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو حکمران عوام کے ووٹ سے آتا ہے، اسے عوام کے دروازے پر واپس جانا ہوتا ہے، اس لیے وہ عوام کا دکھ جانتا ہے۔ لیکن جو حکمران بند کمروں کے فارمولوں سے آتا ہے، اس کی وفاداری بھی انہی کمروں سے ہوتی ہے۔ اسے پونچھ کی سڑک سے زیادہ اسلام آباد کی راہداری کی فکر ہوتی ہے۔
آج آزاد کشمیر کا شہری پوچھ رہا ہے: یہ وزیر اعظم ہے یا ایک منشی، جسے فائل پر دستخط کرنے کا حکم ملتا ہے مگر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں؟ جو نہ عوام کے سامنے جواب دہ ہے، نہ اپنے ضمیر کے سامنے۔ یہ دوسرا فیصل راٹھور ہے، ایک اور چہرہ، وہی پرانا نظام۔
جناب وزیر اعظم! آپ کو دھرنے کا پتہ نہیں، مگر دھرنے کو آپ کا پتہ ہے۔ پونچھ کے لوگ جانتے ہیں کہ ان کا وزیر اعظم کون ہے، کہاں بیٹھا ہے، اور کس کے اشارے پر چلتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ "کون سا دھرنا؟"
سوال یہ ہے کہ کون سا وزیر اعظم؟
اور جب قیادت اتنی بے خبر ہو جائے، تو پھر عوام کو خود باخبر ہونا پڑتا ہے۔

تبصرے (0)