مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

خوگر حمد سے تھوڑا سا شکوہ

محترم چوہدری طارق فاروق صاحب سپیکر (آزاد) جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نام

خلاصہ

آزاد جموں و کشمیر کو صوبہ بنانے کی ممکنہ آئینی تبدیلی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کیا عوامی حقوق کے نام پر خطے کا تاریخی تشخص داؤ پر لگایا جا رہا ہے؟ جانیے اس فکر انگیز تحریر میں۔

Summary in English

Serious questions have been raised over the potential constitutional amendment to make Azad Jammu and Kashmir a province. Is the region's historical identity being put at stake in the name of public rights? Find out in this thought-provoking piece.

Wahid
Wahid تصویر: Wahid

ایک طویل سے آپ کے ساتھ رابطہ نہیں ہوسکا ، آپ موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں شاید گنتی کے ان احباب میں شمار ہوتے ہیں جن سے سیاسی و فکری مکالمہ ممکن ہے ۔

آپ کی آج کی تحریر میں عوامی حقوق، معاشی ترقی، انصاف اور بہتر حکمرانی کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اصل سوال پھر سے وہی بنتا ہے کہ ان حقوق کے حصول کے لیے آزاد جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟

آپ کی مذکورہ تحریر میں سے میرے جیسا تجزیہ کار جو "باریکی" دیکھ رہا ہے وہی میرا موضوع سخن ہے ۔

چودھری صاحب !

کیا صوبہ بنائے بغیر عوام کو انصاف نہیں مل سکتا؟ کیا موجودہ نظام میں اصلاحات نہیں ہو سکتیں؟ کیا منتخب اسمبلی کو زیادہ اختیارات، عوام کو اپنے وسائل پر حق، اداروں کو آزادی اور حکومت کو جواب دہ نہیں بنایا جا سکتا؟ اور اگر یہ نہیں ہوسکتا تو پھر اس کی ذمہ داری کس پہ عائد ہونی چاہیے؟ اقتدار کے راج سنگھاسن پہ گزشتہ اسی سالوں سے آپ کے "ہمنوا" براجمان رہے ہیں۔۔ وہی سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے ۔۔ اب اس نظام کی ناکامیوں کا بوجھ بھی آپ کے پلڑے میں ہی گرتا ہے ۔

میرا اس ضمن میں اگلا سوال یہیں سے پیدا ہوتا ہے کہ

اگر یہ سب ممکن ہے تو پھر صوبہ بنانے کی بحث کو عوامی حقوق کے ساتھ جوڑنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟

آپ لکھتے ہیں کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں زمینی حقائق بدل چکے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وقت گزرنے سے کسی قوم کا حقِ خودارادیت ختم ہو جاتا ہے؟ کیا کسی مسئلے کا طویل عرصے تک حل نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اب اصولوں کو ہی بدل دیا جائے؟ پھر بتائیے کہ کون سا حقائق بدلے ہیں؟ کیا حکومت پاکستان نے کوئی معرکہء جیتا ہے جس سے حقائق میں بدلاو آیا ہے ؟

اگر زمینی حقائق ہی ہر فیصلے کی بنیاد بن جائیں تو پھر طاقتور فریق کسی علاقے پر جتنا عرصہ قابض رہے، کیا بالآخر اسی کے مؤقف کو درست مان لیا جائے؟ یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا ۔ کیا ہم آپ کے "زمینی حقائق" بدلنے کے فارمولے کو بھارتی زیر قبضہ جموں کشمیر پر بھی لاگو کریں گے یا اس کا حجم صرف انتہائی زیادہ آزاد کشمیر میں ہی ہے ؟

قبلہ چودھری صاحب!

زمینی حقائق کو تسلیم کرنے اور ان کے سامنے اصولوں سے دستبردار ہونے میں بہت فرق ہے

آپ نے خود اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا ذکر کیا ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ یہ حق پوری سابق ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق ہے، صرف ایک علاقے کی انتظامی سہولتوں کا معاملہ نہیں ۔۔۔

اگر مسئلہ کشمیر ابھی حل طلب ہے تو کسی بھی ایسی آئینی تبدیلی پر سنجیدہ بحث ضروری ہے جو ریاست کی متنازعہ حیثیت یا مستقبل کے سیاسی تصفیے پر اثر انداز ہو سکتی ہو ۔۔ کیا صوبے کی نئی بحث اس سوال کو کمزور نہیں کررہی ؟

محترم سپیکر !

یہ کہنا کافی نہیں کہ ریاستی تشخص بھی برقرار رہے گا اور ہر قسم کی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی، اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے اور اس سے ریاست کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ یہی ایک غیر معمولی سوال ہے جس کے ساتھ لاکھوں لوگوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے ۔

مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے، لیکن ہر مسئلے کا حل ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا نہیں ہوتا ۔۔

آپ کی حکومت کے پاس آئینی طور پر ایک انتہائی ادھورا سا انتظامی مینڈیٹ ہے ۔

یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ عوامی حقوق اور ریاستی تشخص ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں

آزاد کشمیر کے عوام کو اچھی تعلیم، بہتر علاج، روزگار، انصاف، مضبوط ادارے اور معاشی ترقی ملنی چاہیے۔ انہیں اپنے وسائل پر زیادہ اختیار ملنا چاہیے اور ان کی منتخب حکومت کو حقیقی اختیارات حاصل ہونے چاہییں

لیکن یہ سب حقوق دینے کے لیے صوبہ بنانا کیوں ضروری ہے؟

اگر حکومت اور انتظامی نظام میں خرابیاں ہیں تو ان کی اصلاح کیجیے۔ اگر اختیارات کی کمی ہے تو اختیارات مانگیے ۔ اگر مالی وسائل پر اختیار نہیں تو اس کا مناسب حل نکالیے۔ اگر عوام حکمرانوں سے مطمئن نہیں تو انہیں جواب دہ بنائیے ۔۔ لیکن آپ کی سیاسی گنگا یہیں سے الٹی بہنا شروع ہوجاتی ہے ۔۔ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جمہوری جواب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تین سال پہلے آپ کے ہمنواؤں سے مانگا تھا آج انھی سوالات کے ساتھ وہ گزشتہ چار ماہ سے محصور کیوں ہیں ؟

مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے، لیکن ہر مسئلے کا حل ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا نہیں ہوتا ۔۔ آپ اگر اسے خطے کو کسی صوبائی تشکیلیت میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو یاد رکھئیے اس سے مسئلہ کی جڑیں ہل جائیں گی اور آپ کے وکیل کا اسی سالوں کا استدلال دھڑام سے زمین پہ گر پڑے گا ۔۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات اور صوبائی حیثیت دو الگ سوال ہیں

آزاد کشمیر کے عوام کے پاکستان کے ساتھ گہرے معاشرتی، معاشی، مذہبی اور خاندانی تعلقات ہیں۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں

لیکن ان تعلقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا کہ آزاد کشمیر کو لازماً پاکستان کا صوبہ بنا دیا جائے، ایک الگ سیاسی فیصلہ ہے جس کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر غور ضروری ہے

پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی برقرار رہ سکتے ہیں، عوام کو تمام ضروری سہولتیں بھی مل سکتی ہیں اور آزاد کشمیر کی موجودہ متنازعہ حیثیت کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے

آخر ایسا نظام کیوں نہیں بنایا جاتا جو عوام کو حقوق بھی دے اور ریاست کے مستقبل سے متعلق سوال کو بھی نقصان نہ پہنچائے؟

اگر آپ کا مقصد عوام کی خدمت ہے تو واضح کیجیے کہ صوبہ بنائے بغیر عوام کو ان کے تمام بنیادی حقوق کیوں نہیں دیے جا سکتے؟

اگر مقصد بہتر حکمرانی ہے تو اس کے لیے مؤثر آئینی اصلاحات کیوں پیش نہیں کی جاتیں؟

اگر مسئلہ کشمیر ابھی حل طلب ہے تو صوبائی حیثیت کے ممکنہ سیاسی اور قانونی نتائج پر کھل کر بات کیوں نہیں ہوتی؟ مثال کے طور پر کیا اس کی صوبائی حیثیت کے خواب کے ساتھ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 بھی انا للہ ہوجائے گا؟

قبلہ !

عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ زمینی حقائق بدل چکے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ مجوزہ تبدیلی سے ان کے مستقبل کو کیا فائدہ ہوگا اور ریاست کی متنازعہ حیثیت پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں

ریاست کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوالات کو نظرانداز کرنا تباہ کن ہوگا ۔

آزاد کشمیر کے عوام کو ترقی بھی چاہیے، انصاف بھی، معاشی خوشحالی بھی اور حقیقی جمہوری اختیار بھی

لیکن ان حقوق کے حصول کے لیے ریاستی تشخص اور حقِ خودارادیت کو غیر ضروری سمجھنا درست نہیں

یاد رکھیے، بہتر حکمرانی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، لیکن اصلاحات اور ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا ایک ہی بات نہیں ۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر آکر آپ بزرگوں کے پر جل جاتے ہیں۔

عوام کو حقوق دیجیے، اختیارات دیجیے، وسائل پر اختیار دیجیے اور ان کی زندگی بہتر بنائیے، لیکن یہ بھی واضح کیجیے کہ اس سب کے لیے صوبہ بنانا آخر کیوں ضروری ہے؟

یہی اصل سوال ہے اور اسی کا جواب عوام کو ملنا چاہیے اور اس کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے تو خدارا اس سوال کو نہ چھیڑیں۔ بصد شکریہ

آپ کا خیر اندیش

واحد کاشر ۔ ہیڈ آف کرنٹ افئیرز

جموں کشمیر ٹی وی

Jammu Kashmir TV

تبصرے (0)

تبصرہ کریں