مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

خواب ، حقوق اور بندوقیں

کیا آزاد کشمیر کی عوامی تحریک بیرونی سازش ہے؟ جانیے کیسے سستے آٹے اور بجلی کے بنیادی مسائل نے ریاستی بیانیے کو رد کر کے عوام کو متحرک کیا۔

خلاصہ

کیا آزاد کشمیر کی عوامی تحریک بیرونی سازش ہے؟ جانیے کیسے سستے آٹے اور بجلی کے بنیادی مسائل نے ریاستی بیانیے کو رد کر کے عوام کو متحرک کیا۔

Summary in English

Is the public movement in Azad Kashmir a foreign conspiracy? Find out how the basic issues of cheap flour and electricity rejected the state narrative and mobilized the public.

خواب ، حقوق اور بندوقیں

اگلے دن عوام کے ساتھ فوج کے تعلقات کے شعبے کی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ ریاست اور سکیورٹی اداروں کو بعض نام نہاد تحریکوں اور کمیٹیوں کے اصل مقاصد کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حقوق کی آڑ میں مخصوص یاپوشیدہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

یہ دعویٰ کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی فوج کے تعلقات عامہ کے ماہر افسران، حکومت میں موجود سیاستدانوں اور ان کے ہم نوا صحافیوں اور دانشوروں وغیرہ کی طرف سے ایسے بیانات، دعوے اور تجزیے دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں کہ جی فلاں علاقے میں جو لوگوں کو سڑکوں پر لایا گیا ہے وہ بظاہر عوامی حقوق کی بات کر رہے ہیں لیکن اصل میں ایجینڈا کچھ اور ہے۔ اکثر یہ اجینڈا غیر ملکی بتایا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ تر اشارہ یا کھلم کھلا نام بھارت کا لیا جاتا ہے۔ 

اس بیانیے کے بعد پھر اس احتجاج، مظاہرے اور دھرنے میں موجود ہر ایک شخص کو ' وطن دشمن' ۔ دشمن ملک کا ایجنٹ ' یعنی 'غدار' وغیرہ قرار دے کر پھر اس کے ساتھ من مانے سلوک کو جواز بخش دیے جاتے ہیں ۔ 'عوام' اس بیانیے کو نہ صرف ' مفت میں خریدتے' ہیں بلکہ آگے دھڑا دھڑ بیچتے اور دعائیں بھی مانگتے ہیں کہ وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے ۔ ہماری فوسرسز کو اللہ دشمنوں کا قلع قمع کرنے میں کامیابی عطا فرمائے۔

اب کی بار ان کی یہ بات سنی تو ایک دوست بھی ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ ہمیں کیا پتہ ایکشن کمیٹی کے پیچھے کیا ایجینڈا ہے؟

میں نے کہا پتہ تو ظاہر ہے کسی کا نہیں ہوتا لیکن میرے ذہن میں ایک بات واضح ہے ۔ بغیر کسی شک و شبے کے۔

وہ کیا

وہ یہ کہ ستمبر 2022 سے اکتوبر 2025 تک جو کچھ میں نے آزاد کشمیر میں دیکھا ہے وہ کسی بیرونی یا اندرونی سازش یا ایجینڈے کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ بل کہ آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت کے حقیقی حالات کا ردعمل ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس تحریک سے پہلے مزاحمتی اور متبادل سیاست ایسے بیرونی یا اندرونی ایجینڈوں کے گرد گھومتی تھی جو عوام کو نت نئے خواب دکھا دکھا کرامید جگائے رکھتے تھے۔اپنے پیچھے لگائے رکھتے تھے۔ لیکن یہ خواب ، یہ امیدیں، روزمرہ زندگی سے کٹی ہی رئیں۔ مجرد۔

پہلی بار ایسا ہوا کہ ایکشن کمیٹی نے دو ایسے کام کیے جنہوں نے عوام کی اکثریت کی اصل روزمرہ زندگی میں اصل تبدیلی پیدا کی۔ آٹا اور بجلی۔

ممکن ہے ہم جیسے 1960، 70 اور 80 میں والدین اور بڑے بھائیوں کی قربانیوں کے باعث ' اعلیٰ' تعلیم حاصل کرنے ، چند انقلابی اور نظریاتی کتابیں پڑھنے اور اپنے سے اگلی ایک نسلوں کو 'متاثر' کرنے والوں کو یہ آٹے بجلی کے مطالبات بہت چھوٹے لگیں۔ کیوں کہ ہم نے تو اک باغ نہیں اک کھیت نہیں ۔ ساری دنیا مانگنی ہے۔ لیکن روزانہ آٹے اور بجلی کے بلوں کا بوجھ ڈھونے والی اکثریت کے لیے یہ شاید سب سے بڑے اور بھاری زنجیر تھی۔ عام آدمی کے لیے یہ کھیت بھی تھا اور باغ بھی اور روزمرہ زندگی کی دنیا بھی۔ میں نے خود دیکھا کہ عام عوام کے لیے آٹا اور بجلی کی سستے داموں دستیابی شاید حقیقی آزادی کا پہلا احساس تھا۔ اگر نظریات اور بیانیوں کی عینکیں اُتار کر دیکھیں تو صاف نظر آ جاتا ہے کہ عام آدمی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد جڑا تھا۔ اور عام آدمی کی اتنی بڑے تعداد کی پہلے 'لانگ مارچ' میں شرکت کے نتیجے میں ہی یہ دونوں مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔ میرے خیال میں اس کے بعد کمیٹی کی طرف سے جتنی بھی کالیں دی گئیں اور نئے مطالابات شامل کیے گئے ان میں عوام کی بڑی اکثریت نے احسان مندی کے جذبات کے تحت شرکت کی۔ کئی لوگوں کو میں نے کہتے سُنا کہ یار سستی بجلی اور آٹا استعمال کرکے ایکشن کمیٹی کی کال پر لبیک نہ کہیں تو یہ احسان فراموشی ہو گی۔ اور پھر کمیٹی کے نئے مطالبات بھی تو صحت اور تعلیم ، سفر اور ابلاغ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے بارے میں تھے۔ اس لیے ہر بار عوامی شرکت توقعات سے بڑھ کر ہوئی۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بندوق کے سواء عوامی حقوق اور احتجاج کے مسائل حل کرنے کے باقی سب راستے مسدود ہو چکے ہیں؟

میرے خیال میں و دوسرے اور تیسرے مارچ کی ضرورت نہیں تھی۔ جو مطالبات تھے ان کو آزاد کشمیر بھر میں کمیٹی کو دستیاب حمایت کو تصادم کے بغیر اور کم خطرناک طریقوں سے بھی منظور کروانے کی جدوجہد جاری رکھی جاسکتی تھی ۔ ساتھ ساتھ عوام کی سیاسی تعلیم و تربیت اور تنظیم بھی ہو جاتی اور عوامی مسائل و حقوق کے نام پر ووٹ لے کر عوام کو بھول جانے والے سیاستدانوں کو عوامی میدان میں عوام کے ذریعے ہی چیلنج کیا جا سکتا تھا۔

لیکن عوام نے کمیٹی کی طرف سے ہر دو بار پہلے سے بڑھ کر ہمت، حوصلے اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ کمیٹی کی قیادت نے شہری مطالبات کے لیے جنگی زبان اور تصام کی حکمت عملی والا راستہ کیوں چُنا؟ اس سوال کے بہت سے جواب گردش میں ہیں لیکن اصل میں اس کا جواب کمیٹی کی قیادت کو بہرحال دینا پڑے گا۔

تاہم اس سے بھی بڑا سوال پاکستان کے ارباب اختیار سے بنتا ہے جن کے حکم کے بغیر ایک بالکل عوامی تحریک کی قیادت کی ایک سیاسی قسم کی غلطی کو سلامتی کے بیانیے کی بنیاد بنا کر لوگوں کو بغیر کسی وارننگ کے کھلے عام قتل کر کے دہشت و وحشت کا ماحول کیوں بنایا گیا؟ اگر مقصد ریاست جموں کشمیر کی موجودہ تقسیم کو مستقل کرنا اور آزاد کشمیر کو صوبہ بنانا تھا تو اس کے لیے کیا طاقت کے زور پر فتح کرنے کے راستے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا؟ اگر مان بھی لیا جائے کہ ایجینڈا کوئی اور تھا جو حقوق کے پیچھے چھپایا ہوا تھا کمیٹی نے، تو اگر حقوق کے مطالبات مان لینے کے بعد ان پر واقعی عمل درآمد بھی کر دیا ہوتا تو کیا پھر بھی عوام اسی طرح کمیٹی کی طرف سے بغیر کسی حقیقی اور ٹھوس ضرورت اور جواز کے لانگ مارچ کے لیے نکلتی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بندوق کے سواء عوامی حقوق اور احتجاج کے مسائل حل کرنے کے باقی سب راستے مسدود ہو چکے ہیں؟

میرا دوست خراٹے بھر رہا تھا ۔ میں بھی کمپیوٹر سکرین پر خواب و خیال سے پرے لاکھوں افرد کے مجمعے اور ہزاروں مسلح رینجرز کی بندوقوں کی تڑ تڑ سے پرے حقیقت دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

@followers

تبصرے (0)

تبصرہ کریں