مسئلہ جموں کشمیر کو گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے سامنے ایک ایسے تنازع کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جس کے دو بڑے فریق پاکستان اور بھارت ہیں، لیکن تاریخ کا پہیہ کبھی ایک مقام پر نہیں رکتا۔ حالات، واقعات، نسلوں کے تجربات، سیاسی شعور اور عوامی مزاحمت جب ایک خاص مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو پرانے بیانیے اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں اور نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ جموں کشمیر کے معاملے میں بھی آج یہی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازع، سرحدی کشیدگی یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اندر سے خود کشمیری عوام کی ایک نئی سیاسی آواز ابھر رہی ہے جو اپنے وجود، اپنے حق حکمرانی، اپنے وسائل، اپنی شناخت اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں براہِ راست سوال اٹھا رہی ہے۔
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ابھرنے والی عوامی حقوق کی تحریک نے اس پورے معاملے کو ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ تحریک محض کسی ایک حکومت کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ اس سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر کسی خطے کے عوام دہائیوں تک اپنے بنیادی حقوق، معاشی وسائل، سیاسی اختیار، روزگار، بجلی، آٹے، تعلیم، صحت، سستی اشیائے ضروریہ، شفاف حکمرانی اور باوقار زندگی کے مطالبات کرتے رہیں اور بالآخر ان مطالبات کو ایک منظم عوامی تحریک کی شکل اختیار کرنا پڑے تو پھر مسئلے کو صرف دو ریاستوں کی باہمی کشمکش سمجھنا حقیقت کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کرنا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر جموں کشمیر واقعی صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان زمین کا ایک ٹکڑا ہے تو پھر وہاں کے عوام کی سیاسی آواز کہاں ہے؟ اگر یہ صرف دو ممالک کا تنازع ہے تو پھر کشمیری انسان کی زندگی، اس کی آزادی، اس کی عزت، اس کے وسائل، اس کی رائے اور اس کے سیاسی مستقبل کی حیثیت کیا ہے؟ اگر عالمی سیاست میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصول اہم ہیں تو پھر عوام کے بنیادی انسانی حقوق، سیاسی شرکت اور حقِ خود ارادیت کے اصول بھی اتنے ہی اہم کیوں نہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جو آج جموں کشمیر کے مسئلے کو روایتی سفارتی فریم سے باہر نکال کر ایک وسیع تر انسانی، سیاسی اور اخلاقی مسئلہ بنا رہے ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جموں کشمیر کے مسئلے کی پیچیدگی کو محض نعروں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ 1947 کے بعد پیدا ہونے والی جنگیں، تقسیم، مختلف انتظامی حصے، اقوام متحدہ کی قراردادیں، دو طرفہ معاہدے، لائن آف کنٹرول، فوجی موجودگی، آئینی انتظامات اور مختلف ادوار کی سیاسی تبدیلیاں اس تنازعے کو ایک انتہائی پیچیدہ تاریخی شکل دیتی ہیں۔ لیکن پیچیدگی کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کے بنیادی حقوق کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا جائے۔ کسی بھی تنازعے میں سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے، جبکہ فیصلے طاقتور ریاستیں، سیاسی اشرافیہ اور ادارے کرتے ہیں۔ جموں کشمیر کی تاریخ بھی اسی انسانی المیے سے بھری پڑی ہے۔
آج مسئلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان جیتے گا یا بھارت، بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جموں کشمیر کے عوام کب جیتیں گے؟
آج مسئلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان جیتے گا یا بھارت، بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جموں کشمیر کے عوام کب جیتیں گے؟ اصل سوال یہ نہیں کہ کس ملک کا پرچم بلند ہو گا بلکہ یہ ہے کہ اس خطے میں رہنے والے انسان کو کب اپنے مستقبل کے بارے میں باوقار انداز میں فیصلہ کرنے کا حق ملے گا؟ اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا ملک کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ یا شہ رگ قرار دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ خود کشمیری عوام کو اپنی سیاسی تقدیر کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں گزشتہ تین برس کی عوامی حقوق کی تحریک ایک اہم سیاسی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اس تحریک کے مطالبات کو اگر صرف معاشی مطالبات سمجھا جائے تو یہ اس کی گہرائی کو کم کرنا ہوگا۔ آٹا سستا ہونا چاہیے، بجلی کے نرخ مناسب ہونے چاہئیں، روزگار کے مواقع بڑھنے چاہئیں، تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام ہونی چاہئیں، اشرافیہ کی مراعات کم ہونی چاہئیں، عوامی وسائل پر عوام کا حق ہونا چاہیے، مقامی سطح پر بااختیار حکومت ہونی چاہیے اور ریاستی اداروں کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے؛ یہ تمام مطالبات بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں لیکن درحقیقت ان سب کے مرکز میں ایک ہی سوال ہے: اقتدار کس کے لیے ہے اور ریاست کس کی ہے؟
اگر ریاست عوام کے لیے ہے تو عوام کی زندگی آسان بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت عوام کی نمائندہ ہے تو اسے عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر وسائل عوام کے ہیں تو ان وسائل کے استعمال میں عوام کی شرکت ہونی چاہیے۔ اور اگر کسی خطے کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو وہاں کے عوام کو محض تماشائی بنا کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں حالیہ برسوں کی تحریک نے اسی احساس کو نمایاں کیا ہے کہ عوام اب محض وعدوں، نعروں اور سیاسی تقریروں پر مطمئن ہونے کے لیے تیار نہیں۔ نئی نسل سوال پوچھ رہی ہے۔ نوجوان پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے پہاڑوں سے بجلی پیدا ہوتی ہے تو ہمارے گھروں میں بجلی مہنگی کیوں ہے؟ ہمارے وسائل موجود ہیں تو ہمارے علاقوں میں غربت کیوں ہے؟ ہمارے نام پر عالمی فورمز پر دعوے کیے جاتے ہیں تو ہمارے اپنے بنیادی حقوق کیوں نظر انداز ہوتے ہیں؟ اگر ہمارے خطے کی سیاسی حیثیت اتنی اہم ہے تو یہاں کے لوگوں کو فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار کیوں حاصل نہیں؟
یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام سے ہے۔
اسی لیے مسئلہ جموں کشمیر کے بارے میں پرانا طرزِ فکر اب ناکافی دکھائی دیتا ہے۔ برسوں تک پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف بیانیے تشکیل دیتے رہے۔ دونوں ممالک نے اپنی اپنی قومی سیاست میں جموں کشمیر کو ایک اہم موضوع بنایا۔ ایک طرف کشمیر کو نامکمل تقسیم کا مسئلہ قرار دیا گیا، دوسری طرف اسے قومی وحدت کا لازمی حصہ بتایا گیا۔ مگر اس پوری بحث میں سب سے کم سنی جانے والی آواز اکثر خود کشمیری عوام کی رہی۔ یہی وہ خلا ہے جس نے وقت کے ساتھ ایک گہرے سیاسی اضطراب کو جنم دیا۔
آج اگر کشمیری عوام اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل سے لے کر اپنے سیاسی حقوق تک سوال اٹھا رہے ہیں تو اسے محض کسی بیرونی سازش کا نام دے دینا اور ظلم بربریت اور قتل و غارت کرکے کے اصل حقیقت کو چھپانا اب ناممکن ہو چکا ہے

تبصرے (0)