
میرپوری معاشرہ اور معاشرتی تبدیلی سلسلہ
1947 سے پہلے اور بعد کے میرپور کی مادی بنیادیں
﷽
اللہ سوہنےنے ناہاں نال جہیڑا بڑا مہربان تے بہوں رحم کرنے آلا ھہ
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے
معاشرہ اور معاشرتی تبدیلی
تاریخی مادیت کی روشنی میں میرپوری معاشرے کا عمومی تعارفی جائزہ
شمس رحمان
عوامی اشاعت گھر میرپور آزاد جموں کشمیر
تمام جملہ حقوق مصنف کے حق میں محفوظ ہیں
نام کتاب معاشرہ اور معاشرتی تبدیلی
مصنف شمس رحمان
کمپوزنگ شمس رحمان
سرورق شمس رحمان
سرورق تصویر ( پرانا میرپور، مندر اور خانقاہ) ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید
اشاعت کا سال 2025
انتساب
اُن تمام روشن خیال اور کھلے دل و دماغ والے آزادی, اور ترقی, پسندوں کے نام جو معاشرے میں تمام افراد کی بہتری کے لیے تبدیلی لانے کی خاطر اس کو سمجھنے کا مشکل کام کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں
موضوعات
یہ تحریر و تجزیہ کس کے لیے ہے؟ 14
تاریخی مادیت نظریے کا مختصر پس منظر 23
میرپوری معاشرے میں پیداوار کے ذرائع کا ارتقاء 32
میرپور میں پیداواری تعلقات اور معاشرتی ڈھانچہ 45
1947 میں کیا بدلا؟ پرانے نظام کے نئے رکھوالے 56
1947 سے بعد کا میرپور اور نیا معاشرتی ڈھانچہ 58
جاگیرداری اور قبائل باقیات اور منڈی کی معیشت کے تعلقات 58
تارکین وطن اور عالمی نظریاتی اثرات 58
انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا اور ماوراء قومی جہان 58
ضروری باتیں اور وضاحتیں
شروع میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے اپنے اردگرد کے معاشرے کو ذہن میں رکھیے۔ دیکھیے کہ وہ ماضی میں کیسا تھا اور آج کیسا ہے۔ اس طرح یہاں پیش کی گئی باتوں کو سمجھنا آسان ہوگا۔
دوسری وضاحت یہ ہے کہ سماجی علوم کی روشنی میں کسی واقعے، حادثے یا صورتِ حال کے اسباب تلاش کرنا، اس کا جواز پیش کرنا نہیں ہوتا۔ مقصد صرف یہ سمجھنا اور سمجھانا ہوتا ہے کہ وہ واقعہ کیوں اور کیسے پیش آیا۔
اگر آپ کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے تو ذرا سوچیے: جب سے آپ نے ہوش سنبھالا، اس وقت سے آج تک آپ کے گاؤں، قصبے یا شہر کی معاشرتی زندگی میں کون کون سی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں؟ کون سی تبدیلیاں آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتی دیکھیں، اور کون سی اب بھی جاری ہیں؟
آزاد کشمیری معاشرے کا تقریباً ہر پہلو بنیادی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ لیکن سیاست کی سطح سے نیچے، ان تبدیلیوں کا باقاعدہ مطالعہ کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ کتابچہ اسی سمت میں میری ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں لکھنے پڑھنے والوں کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے لکھنے والوں نے یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو جدید سائنسی نظریات سے متعارف کرایا۔ ان تحریروں سے متاثر ہو کر بے شمار نوجوانوں نے اپنی زندگیاں معاشرے میں انقلابی تبدیلی، ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کی جدوجہد سے وابستہ کیں۔ یہ کتابچہ بھی اسی علم اور تعلیم کا نتیجہ، اور ایک طرح سے اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اپنے معاشرے کے حقیقی حالات کا دیانت داری سے، ٹھوس مادی بنیادوں پر جائزہ لیے بغیر انقلاب، ترقی اور آزادی کی جدوجہد کے مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ صرف دوسرے معاشروں میں پیدا ہونے والے نظریات کو اپنے حالات پر لاگو کرنے کی کوشش کافی نہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص خود کو جانے بغیر زندگی گزارتا رہے اور کبھی کچھ، کبھی کچھ اور بننے کی کوشش کرتا رہے۔ جس طرح اپنی زندگی کی حقیقت کو سمجھے بغیر حقیقی اطمینان اور خوشی حاصل کرنا مشکل ہے، اسی طرح اپنے معاشرے کو سمجھے بغیر اس کی حقیقی آزادی، ترقی اور خوشحالی کے لیے کامیاب جدوجہد کرنا بھی مشکل ہے۔
تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں گزرا، اور دنیا میں کوئی ایسا خطہ نہیں، جہاں انسان نے اپنی ذاتی، نفسیاتی اور اجتماعی زندگی کے حالات پر غور نہ کیا ہو یا انہیں سمجھنے کی کوشش نہ کی ہو۔ کشمیر، آزاد کشمیر اور میرپور بھی اس سے الگ نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں معاشرے اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور بیان کرنے کے کئی انداز ہیں۔ ان میں سے چند عام خیالات کی مثالیں یہ ہیں:
- کوٹھے کچے لیکن لوگ سچے تھے۔ مطلب اب کوٹھے پکے لیکن لوگ جھوٹے ہیں۔
- آو آپ کو بتائیں باتیں گذرے زمانے کی۔ کیا زمانے تھے وہ بھی۔
- بڑی مہر محبتیں تھیں ۔ ایک دوسرے سے ہمدردی تھی۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ وہ زمانہ بڑا اچھا تھا۔ وہ لوگ بڑے اچھے تھے۔ وہ ماحول معاشرہ بڑا اچھا تھا۔
- راجے کا راج بڑا سخت تھا۔ہندو ہر شعبے میں حاوی تھے۔ مسلمان بہت دبے ہوئے ، غریب، بے وسیلہ اور دکھی تھے۔
- اللہ کے کام ہیں یہ سب۔ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ سب کو جواب دینا پڑے گا ، اگلے جہان ، روز محشر۔
- بس جی اللہ کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی کو نہ دے کر۔
- غریب اگلے جہان میں غریب نہیں ہو گا۔ اونچ نیچ ، طبقاتی تقسیم ، ظلم و ستم ، جبر و تشدد، پسماندگی اور محرومی ، جہالت اور ان پڑھی، منافقت اور اقربا پروری ، رشوت خوری جنت میں نہیں ہو گی۔ یہ سب کچھ کرنے والے جہنم میں جلیں گے۔
- سرمایہ کاری اور تجارت عین عبادت ہے ۔ جدید دور میں جدید علوم کو سیکھ کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ بس جی ساری توجہ تعلیم اور کاروبار پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انفرادی، اور اجتماعی طور پر غربت اور پسماندگی سے نکلنے کا ایک یہی طریقہ ہے۔
- لوگ بے حس ہیں۔ لوگ جاہل ہیں۔ اتنا ظلم سہہ کر بھی مزاحمت نہیں کرتے۔ احتجاج نہیں کرتے۔ بغاوت نہیں کرتے۔
- جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے عوام ویسے حکمران۔
- لیڈر بک جاتے ہیں۔ عوام اکٹھے نہیں ہوتے۔ اتنی تنظیموں کی کیا ضرورت ہے ۔ کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ۔ سب شخصی مخالفت ہے۔
- بس جی سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے
- اتنا مذہب اور اتنی بے ایمانی۔ یہ کیسے ممکن ہے۔
- ہر گلی محلے میں مسجد مگر کسی گلی محلے کی دوکان سے خالص سودا نہیں ملے گا ۔
- سماج کو بدلنا ہے تو خود کو بدلو۔
- تاریخ سے کچھ حاصل نہیں آج کی دنیا میں جینے اور آگے بڑھنے کے لیے مستقبل کی فکر کریں۔
- سب بیماریوں کی جڑ طبقاتی نظام ہے۔
- سب مسائل کی وجہ بیرونی قبضہ ہے۔ ریاست خود مختار ہو گی تو مسائل حل ہوں گے
اگر آپ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں یا وہاں سے برطانیہ آ کر آباد ہونے والے کشمیریوں کی گفتگو سنیں، اور مختلف طبقوں کی محفلوں میں بیٹھیں، تو معاشرے کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کئی طرح کی آرا سننے کو ملیں گی۔ اوپر دی گئی باتیں انہی عام خیالات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ دکھاتی ہیں کہ ہمارے ہاں لوگ معاشرتی حالات اور مسائل کو کس طرح سمجھتے اور ان کی وضاحت کرتے ہیں۔
دنیا کے دوسرے علاقوں کی تاریخ پر بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں انسان اپنے اردگرد کی زندگی اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انسان کے رویوں اور معاشرتی زندگی کی وضاحت کرنے کی کوششیں بھی انسانی تاریخ جتنی پرانی ہیں۔
تاہم چند سو سال پہلے تک ان کوششوں میں بعض خیالات بہت عام تھے۔ مثلاً یہ کہ انسان کو اچھے کام کرنے کی توفیق اللہ دیتا ہے، جبکہ برے کام وہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر کرتا ہے۔ یا یہ کہ اچھائی قدرت کی طرف سے آتی ہے اور برائی معاشرہ پیدا کرتا ہے۔ ایک اور خیال یہ تھا کہ عقل اچھائی اور جذبات برائی پیدا کرتے ہیں۔
اس کتابچے میں میں نے اپنے معاشرے کو سماجی علوم کے ایک ایسے نظریے کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے جو، میرے خیال میں، معاشرے کو سمجھنے کے لیے بہت مؤثر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس نظریے کی مدد سے ہم اپنے معاشرے کے مسائل، وسائل، مواقع اور خطرات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ انسانی زندگی کے مادی حالات، ان کے انتظام اور معاشرتی پیداوار کے ذریعے معاشرے کے ماضی، حال اور مستقبل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے لیے اس نظریے نے صرف ماضی ہی کو نہیں، حال کو بھی زیادہ روشن اور واضح کر دیا تھا۔
یہاں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ کوئی علمی نظریہ مکمل یا آخری سچ نہیں ہوتا۔ سائنسی نظریہ دستیاب حقائق اور معلوم علم کی بنیاد پر کچھ دعوے اور مفروضے پیش کرتا ہے۔ جیسے جیسے علم بڑھتا ہے، ان دعووں اور مفروضوں کی جانچ ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان میں تبدیلی یا بہتری آتی ہے۔ یوں علم اور نظریے کی ترقی جاری رہتی ہے۔
یہاں ’’موجود علم‘‘ اور ’’معلوم علم‘‘ کا فرق بھی سمجھ لینا چاہیے۔ موجود علم سے مراد وہ علم ہے جو کسی موضوع کے بارے میں کہیں نہ کہیں دستیاب ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر شخص اس سے واقف ہو۔ سائنسی معنوں میں معلوم علم وہ ہے جو مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہو۔
اس کتاب میں تاریخی مادیت کے بارے میں اپنی موجودہ سمجھ کی بنیاد پر میرپور کے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس نظریے اور سماجی علوم کے بارے میں میری واقفیت بنیادی اور تعارفی ہے۔ میرپور کی تاریخ اور موجودہ معاشرتی ڈھانچے کے بارے میں بھی میری معلومات محدود ہیں۔ اس لیے میں یہاں ایک ابتدائی تجزیہ ہی پیش کر سکتا ہوں۔
ہر علمی کام پہلے سے معلوم باتوں سے شروع ہوتا ہے۔ بعد میں زیادہ علم اور تجربہ رکھنے والے لوگ اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں میرپوری معاشرے کا تاریخی مادیت کی روشنی میں جائزہ لینے کا کام، جہاں تک مجھے معلوم ہے، ابھی شروع نہیں ہوا۔ اسی لیے میں اپنے محدود علم کے باوجود یہ کوشش کر رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ بیرسٹر قربان صاحب نے تاریخی مادیت اور شعور پر بہت کچھ لکھا تھا۔ ان کی تحریروں سے مجھے بھی اس نظریے کو سمجھنے میں مدد ملی۔ افسوس کہ وہ اس نظریے کی روشنی میں اپنے معاشرے کا جائزہ پیش کرنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اگر یہاں پیش کی گئی باتیں میرپوری معاشرے کے حقیقی حالات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان سے ایک یا چند لوگوں کو بھی اپنے معاشرے کو بہتر سمجھنے میں مدد ملتی ہے تو میری کوشش کامیاب ہوگی۔ امید ہے کہ آئندہ کوئی محقق زیادہ ٹھوس حقائق، اعداد و شمار اور واضح دلائل کے ساتھ اس سے بہتر تجزیہ پیش کرے گا۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو اپنے استاد دوست طارق کے الفاظ میں کم از کم میری ’’کُھڑک تو مَٹھی‘‘ ہو جائے گی۔
ہمارے ہاں بعض لوگ جدید سماجی علوم کو صرف ’’مغربی علم‘‘ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ معاشرے کے علمی مطالعے کی ایک اہم ابتدائی مثال ابن خلدون (1332–1406ء) کا کام ہے۔ ان کے بعد بہت سے سماجی مفکرین نے معاشرے، معاشرتی تبدیلی، ارتقا، ترقی اور انقلاب کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے۔ اگر میں سماجیات کی درسی کتاب لکھ رہا ہوتا تو ان نظریات کا تفصیلی تعارف بھی پیش کرتا۔ لیکن یہاں میرا مقصد ایک خاص نظریے کی روشنی میں میرپوری معاشرے کو دیکھنا اور دکھانا ہے۔ اس لیے توجہ تاریخی مادیت ہی پر رکھی ہے۔
بعض لوگوں کو سماجی علوم کی مدد سے سماجی عمل (social processes) اور معاشرتی تبدیلی (social change) سمجھنے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، پھر ہم کسی اور نظریے سے اس کی وضاحت کیوں کریں؟ اس بات میں شک نہیں کہ اہلِ ایمان ہر واقعے کو اللہ کے قائم کردہ نظام کے اندر دیکھتے ہیں۔ لیکن اسی نظام کو سمجھنے کے لیے انسان کو دماغ اور یادداشت بھی ملی ہے۔ یادداشت کی وجہ سے انسان اپنے تجربے سے سیکھتا ہے۔ ایک بار غلطی ہو تو پچھلا تجربہ اکثر اسے دوبارہ وہی غلطی کرنے سے بچاتا ہے۔ کائنات اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے سائنسی علوم اسی انسانی صلاحیت کے استعمال سے ترقی کرتے ہیں۔ انسان نے غوروفکر، تجربے اور آزادانہ سوچ سے زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت سی دریافتیں اور ایجادات کی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اس تحریر کا فائدہ کیا ہے، اس کا فیصلہ آپ اسے پڑھ کر ہی کر سکتے ہیں۔ اگر اس سے آپ کو اپنے اردگرد کے معاشرے کے ماضی اور حال کو سمجھنے میں کچھ مدد ملے، یا پہلے سے موجود سمجھ میں بہتری آئے، تو اس کوشش کی کچھ افادیت ضرور ہے۔ اگر موضوع نیا ہو اور پہلی بار پوری بات سمجھ نہ آئے تو دوبارہ پڑھنا مفید ہو سکتا ہے۔ میں یہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ اردو ادب کا خاصا مطالعہ کرنے کے باوجود ایم اے سالِ اول میں جب میں نے پہلی بار سبطِ حسن کی کتاب ’’نویدِ فکر‘‘ پڑھی تو اس کا بیشتر حصہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ البتہ میں اپنی اس تحریر کا موازنہ سبطِ حسن جیسے عظیم قلم کار کی اس شاہکار کتاب سے ہرگز نہیں کر رہا۔
میرا خیال ہے کہ معاشرے کے حقیقی حالات، مسائل، مواقع اور خطرات کو دیانت داری سے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسی سمجھ کی بنیاد پر بننے والے نظریات، پالیسیاں، لائحۂ عمل، حکمتِ عملیاں اور اقدامات جدوجہد کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔ ایسی جدوجہد محض بڑے دعووں یا ہیرو بننے کی خواہش تک محدود نہیں رہتی، بلکہ حقیقی اور ٹھوس تبدیلیوں کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
میری معلومات کے مطابق میرپور یا آزاد کشمیر کے مادی حالات کا اس نوعیت کا تجزیہ پہلے پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم میں جانتا ہوں کہ میرپور کے اندر اور باہر کئی ایسے کشمیری موجود ہیں جو یہ کام مجھ سے کہیں بہتر کر سکتے ہیں۔ ابھی تک، جہاں تک مجھے علم ہے، انہوں نے اس موضوع پر ایسا کام پیش نہیں کیا۔
چونکہ یہ اپنی نوعیت کی ایک ابتدائی کوشش ہے، اس میں یقیناً خامیاں اور کمی رہ گئی ہوگی۔ امید ہے کہ سماجی علوم اور تاریخی مادیت کے دوسرے ماہرین مستقبل میں زیادہ جامع تجزیے پیش کریں گے۔ اس طرح میرپور میں مثبت، صحت مند، ترقی پسند اور تعمیری تبدیلی کے لیے ہونے والی جدوجہد کو بہتر سمجھنے اور آگے بڑھانے میں مدد مل سکے گی۔
اس کتاب میں بعض باتیں بار بار سامنے آئیں گی۔ اس تکرار سے اکتائیے گا نہیں۔ امید ہے کہ آخر تک پہنچ کر واضح ہو جائے گا کہ بعض باتوں کو دہرانا کیوں ضروری تھا۔
شروع میں کتاب کا مقصد اور چند علمی اصطلاحات اور تصورات سمجھانے میں کچھ وقت لگے گا۔ ممکن ہے یہ حصہ قدرے مشکل یا خشک محسوس ہو، لیکن آگے کی بحث سمجھنے کے لیے یہ وضاحتیں ضروری ہیں۔
میں نے کوشش کی ہے کہ زبان آسان ہو اور جہاں ممکن ہو، مشکل اصطلاح کے بجائے بات کی وضاحت کر دی جائے۔ پھر بھی اس کتاب کو لکھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کسی علمی نظریے کی روشنی میں معاشرے کا تجزیہ عام فہم زبان میں پیش کرنا آسان کام نہیں۔
شمس رحمان
مانچسٹر / میرپور
یہ تحریر و تجزیہ کس کے لیے ہے؟
ان سب افراد کے لیے جو اپنے سماج میں تبدیلی کے عمل کو سمجھنے اور سماجی تبدیلی کی جدوجہد میں حصہ ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور ان کے لیے جو اس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ معاشرے کے ان بہت سارے افراد کے لیے بھی ہے جو تعلیم یافتہ ہیں مطلب یہاں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس کو پڑھ سکتے ہیں ۔سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے موجودہ معاشرے میں اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست ذاتی مفادات کے لیے کی جانے والی مختلف بے ایمانیوں کا نام ہے۔ شعور کی یہ شکل ان کے اندر معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے تبدیلی لانے کے کسی بھی عمل یا تحریک کے بارے میں امید نہیں ابھرنے دیتا اور وہ نہ صرف خود مایوس ہیں بلکہ دوسروں تک بھی یہ مایوسی خوب پہونچاتے ہیں اور پھیلاتے ہیں۔
اس کتابچے کا مقصد ان تمام افراد کے اندر معاشرے ( اپنے معاشرے) کی حقیقی ا ور ٹھوس سمجھ بوجھ / شعور میں اضافہ کرنے میں مدد کرنا ہے۔ تاکہ وہ شعوری طور پر ، مثبت، صحت مند ،تعمیری یعنی ترقی پسندانہ تبدیلی لانے کی جدوجہد کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ یاد رہے ہمارے ہاں بہت قدرتی وسائل ہیں ۔ ہمارے لوگوں نے ہر عہد میں جذبہ بھی دکھایا ہے، خلوص بھی ، ہمت بھی ، حوصلہ بھی، صبر بھی لیکن ایسا معاشرہ تعمیر نہیں ہو سکا جس میں رہنے والے سب انسانوں کی بنیادی انسانی ضروریات عزت نفس مجروع ہوئے یا گروی رکھے بغیر پوری ہو سکیں۔ آج تک سیاسی لٹریچر میں توجہ کا مرکز زیادہ تر سیاست رہی ہے ۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ اپنے پورے معاشرے کو دیکھا جائے اور اس شعور کے ساتھ تبدیلی کی جدوجہد کو وسعت اور گہرائی بخشی جائے تاکہ یہ جدوجہد حقیقی ٹھوس مادی حالت سے جڑ سکے اور معاشرے کے تمام رنگوں کو سمجھ کر انہیں اپنے اندر مثبت، صحت مند اور تعمیری انداز میں سمو کر معاشرے کی تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھائے ۔ بہتر بنائے۔
میری معلومات کے مطابق آزاد کشمیر کے بار میں مجموعی طور پر یا اس کے تین انتظامی یونٹوں میں سے کسی پر معاشرتی علوم کی روشنی میں کوئی تجزیہ موجود نہیں ہے۔ چاہے سرکاری ادارے ہوں یا بائیں بازو کے نظریاتی مصنف و مبلغ ۔ انہوں نے نظریاتی علم تو خاصا پیدا کیا ہے لیکن اس علم کی روشنی میں اپنے اس خطے کا کوئی تفصیلی تجزیہ نہیں پیش کیا۔ ترقی پسندانہ سیاست کے صرف تعلیم یافتہ 'نظریاتی' کارکنوں تک محدود رہنے کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ میرے خیال میں شاید یہ رہی ہے کہ جس سماج میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اس کے حقیقی معروضی حالات کا تاریخی تجزیہ ہی موجود نہیں ہے۔ کیونکہ میری سمجھ کے مطابق قوم پرستانہ اور ترقی پسندانہ نظریات جو کہ چند صدیاں قبل بنیادی طور پر برطانیہ ، یورپ اور روس میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے تھے ان کو پورے خلوص کے ساتھ بھی حرف حرف یاد کر اور سمجھ لینے کے باوجود ان معاشروں میں نافذ نہیں کیا جا سکتا جہاں سے وہ پیدا نہیں ہوئے اور جہاں کے مادی حالات ان کے لیے موزوں اور سازگار نہ ہوں۔ درحقیقت مطلق العنان طاقت حاصل کر کے بھی نظریات اپنے تناظر و حالات سے باہر یعنی جہاں ان کی جڑیں نہ ہوں لاگو یا نافذ کیے ہی نہیں جا سکتے۔ چاہے کتنا بھی جبر کر لیں آخر ایسے نظریاتی جبری ڈھانچے زمین بوس ہو جاتے ہیں جو اپنے معاشرے کے مادی حالات اور سیاسی و سماجی ، ثقافتی اور نفیساتی رحجانات کی عکاسی نہ کرتے ہوں اور اس کے مطابق لچک پذیر اور تغیر پذیر ( مادی حالات کے مطابق تبدیل ) نہ ہوں۔ اس لیے ان نظریات کو سمجھ کر ان کی روشنی میں اپنے معاشرے کا تجزیہ کر کے اس میں سے مقامی حقائق (معروض) کے مطابق سیاسی نظریات کشید کیے جاسکتے ہیں اور کیے جانے چاہیں۔
یہ تحریر مقامی مادی تجزیے کی کمی کو پورا کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ یہ قدم درست سمت کو اٹھایا گیا ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے کریں گے۔
میں نے جان بوجھ کر اس پہلے حصے کو سیاسی نظریات سے آزاد رکھا ہے۔ کیونکہ سیاسی نظریات کی روشنی میں یہ تجزیہ انتہائی پیچیدہ ہو جاتا اور پھر صرف ' خاص عالم' ہی اس کو پڑھ سکتے۔ نظریہ و نظریاتی سیاست اور شعور و ترقی پسندی جیسے پہلوؤں پر الگ سے کتابچہ تیاری کے مراحل میں ہے۔
دوسرے یہ کہ تاریخی مادیت کے نظریے میں تبدیلی کے عمل کو سمجھنے کے لیے جدلیاتی مادیت کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ میں نے اس کو بھی فلحال بات کو سادہ رکھنے کے لیے اس حصے میں شامل نہیں کیا ہے۔ جدلی مادیت کے لیے بھی الگ کتابچے میں بحث کی جائے گی۔ اس کتابچے میں صرف تاریخٰ مادیت پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
مجھے امید ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد اگر آپ بقایا حصوں بشمول نظریاتی سیاست اور جدلی مادیت کو بھی پڑھ لیں تو نظریہ بھی بہتر طور پر سمجھ میں آ جائے گا اور اپنے حالات بھی۔
اور ہاں اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ ترقی پسندانہ اور انقلابی تبدیلی جدوجہد کے بغیر نہیں آتی ۔ چاہے جتنی کتابیں لکھ ڈالیں۔ شاید اسی لیے باوا جی بلھے شاہ نے فرمایا تھا کہ 'علموں بس کر او یا' اور یہ کہ ' گل ہک نقطے تے مکدی اے'۔ تاریخی مادیت نظریے کے پیش کار کارل مارکس نے بھی 1845 میں اپنی کتاب جرمن آئیڈیالوجی میں کہا تھا " فلسفیوں نے دنیا کی مختلف طریقوں سے تشریحات کی ہیں۔ جب کہ اصل نکتہ اس کو بدلنا ہے۔ " ۔ تاہم یہ نکتہ بھی علم میں ارتقاء سے ہی سے سمجھ میں آیا تھا۔
تبدیلی کی دونوں شعوری شکلوں میں اپنے اپنے مقامی حالات کی علمی تحقیق اور تجزیے کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ مقامی معروض کی حقیقی سمجھ ( شعور) کے بغیر اگر جذبات کے سہارے یا حالات کے بد ترین ہو جانے پر انقلابی تبدیلی آ بھی جائے تو پرانے کی جگہ نیا تعمیر کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ اصلی اور نقلی انقلابی کی لڑائی میں تباہی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ معاشرے میں بہتری کی بجائے ابتری آ جاتی ہے اور انقلاب ترقی و خوشحالی کی بجائے پسماندگی اور بدحالی جننے لگتا ہے ۔
کتابچے کی ترتیب
کتابچے کو مختلف عنوانات میں بانٹ کر لکھا گیا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں اس طرح ہمارے معاشرتی حالات و ڈھانچے کو زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
معاشرہ اور معاشرتی تبدیلی
بنیادی باتیں
معاشرتی تبدیلی کیا ہوتی ہے؟
معاشرتی زندگی میں تبدیلی۔ اس کو سماجی تبدیلی یا معاشرتی تغیر یا سماجی تغیر بھی کہا جاتا ہے۔
معاشرہ کیا ہوتا ہے؟
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ افراد معاشرہ بناتے ہیں۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ افراد کی تبدیلی سے معاشرہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ جیسا معاشرہ چاہتے ہو ویسے خود بن جاؤ ۔ مطلب جب سب ویسے بن جائیں گے تو ایسا معاشرہ پیدا ہو گا جو آپ چاہتے ہو۔
تاہم اس خواہش کی خوبصورتی اور افادیت سے پرے اور نیچے پائے جانے والے حقائق دیکھیں تو بات اتنی سادہ سی نہیں ہے۔ سادہ ہونی چاہیے تھی۔ سادہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا ۔ لیکن سادہ ہے نہیں ہے۔ کیونکہ معاشرہ ایسا سادہ نہیں ہے ۔یہ معاشرے کے بارے میں بہت ہی سادہ سی سمجھ کا اظہار ہے۔ معاشرہ پیچیدہ ہے اس لیے اس کو سادہ باتوں سے سمجھا نہیں جا سکتا۔ چلیے معاشرے کی پیچیدگی کی تھوڑی سی تشریح کر لیتے ہیں۔
معاشرہ صرف افراد کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ افراد مجموعی طور پر معاشرہ بناتے ہیں۔ یہ دعویٰ صرف اس حد تک درست ہے کہ افراد کے بغیر معاشرہ نہ تو وجود میں آ سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا ہے۔ کاش حقیقت اتنی سادہ ہی ہوتی تو سب اچھا ہو جاتا۔ لیکن افراد کی فقط ( صرف) موجودگی سے معاشرہ نہیں بن جاتا ۔
معاشرے کی تشکیل افراد کے درمیان تعلقات کا تانا بانا کرتا ہے۔یعنی معاشرہ افراد کے درمیان تعلقات ، واستوں اور رابطوں کے تانے بانے سے بنتا ہے۔ غور کریں تو زندگی درحقیقت ان ہی تانوں بانوں کا نام ہے۔
تعلقات کا تانا بانا کیا ہوتا ہے؟
تعلقات کا تانا بانا کسی جگہ بسنے والے انسانوں کے درمیان مختلف رشتوں ناطوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس تانے بانے کو سمجھنے کے لیے اگر ہم بات اپنی ذات سے شروع کریں
اپنے ارد گرد دیکھیں
اور
اپنی زندگی کی ابتداء پر غور کریں، تو ہمیں رشتوں کا یہ تانا بانا صاف نظر آ نے لگتا ہے۔
ہمارے وجود میں آنے کے عمل کی ابتداء ماں کی کوکھ میں ماں اور باپ کے باہمی حیاتیاتی تعلق سے ہوتی ہے۔ پیدائش کے بعد ہمارا پہلا ، بنیادی اور مادی تعلق ماں کے ساتھ بنتا ہے۔ یہ تعلق جبلی ہوتا ہے اور شروع میں حیاتیاتی اور زندگی کی بنیادی ترین ضروریات/ حاجات، احتیاجات پوری کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ تاہم عمر اور پرورش کے ساتھ ساتھ اور اس مناسبت اور مطابقت سے ماں باپ، بہن بھائیوں، رشتہ داروں ، ہم جولیوں سے ہمارے معاشی، نفسیاتی ، سماجی، معاشی ، و ثقافتی تعلقات پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں، اور ہم ایک معاشرتی تانے بانے اور معاشرتی اعمال و افعال ( سوشل پراسسز) کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر تصور میں اس تانے بانے کو دیکھیں تو پورا معاشرہ ہی اک پیچیدہ تانا بانا نظر آئے گا۔ سوشیالوجی کا علم ان تعلقات کے معاشرتی پہلوؤں اور شکلوں کے مطالعے کا نام ہے ۔
یہ تعلقات انسان کے وجود میں آنے سے دنیا کے مختلف خطوں میں ، مختلف شکللوں میں ، موجود چلے آرہے ہیں۔ تعلقات کی سادہ ترین شکل سے لے کر ان کے مسلسل ارتقاء سے ہی معاشرے کو بنانے والے مختلف گروہ، ادارے اور اعمال (پراسیس) تاریخ کے مختلف ادوار میں پیدا ہوئے اور سادگی سے پیچیدگی کی طرف پروان چڑھے ہیں ۔
اب اگر دنیا کی سطح پر سوچیں تو معلوم علم کی روشنی میں ہم جانتے ہیں کہ قدیم ترین سماج میں انسان خود کچھ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ جو کچھ قدرت کی طرف سے موجود تھا وہی کھاتا تھا۔ وہ سادہ ترین شکل تھی معاشرے کی۔ تب سے آج مصنوعی ذہانت کے عہد تک ارتقاء کے سفر میں معاشرے انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
معاشرے اور انسان کے انفرادی ( نفسیاتی) اور اجتماعی ( معاشرتی ) حالات و اعمال کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے قدیم زمانے سے ہر معاشرے میں کچھ انسانوں نے اپنی زندگیوں میں اپنے شعور و سمجھ کے مطابق کوششیں کیں جو اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی رہیں ۔ یوں وقت کی اونچی نیچی راہوں پر علم کا دریا بھی بہتا رہا۔ ارتقاء کے سمندر میں گرتا رہا۔
کائنات اور اس کے اندر ان گنت طبعیاتی، کیمیائی قوتوں ، انسانی جسم اور انسانی معاشرے کو سمجھنے کی ان کوششوں کے دوران قدیم فلسفیوں سے لے کر موجود سماجی علوم کے ماہرین تک زندگی کے فلسفیانہ، روحانی اور سماجی و نفسیاتی پہلوؤں اور طرز عمل کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کئی ایک دعوے ، مفروضے اور نظریات پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔
تاریخی مادیت بھی ایک ایسا ہی علمی نظریہ ہے۔ جس کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ معاشرے میں موجود اداروں کی جڑیں اس معاشرے میں جاری پیداواری سرگرمیوں اور پیداواری تعلقات میں اتری ہوئی ہوتی ہیں۔ تمام علمی نظریات کی طرح تاریخی مادیت بھی کوئی حرف آخر اور کامل اور ساکت و جامد نظریہ نہیں ہے ۔ یہ علمی نظریہ جو انیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا تھا اس میں بھی ارتقاء ہوا ہے۔ اس کی کمزوریوں ، کجیوں کو تنقیدی بحث مباحثے اور تحقیقی کے ذریعے بہتر بنا یا گیا اور بہتری کا یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ تاہم اس کو آج بھی سماجی علوم میں انسانی سماج یعنی معاشرے کو سمجھنے کا بہترین زریعہ ، بہترین عینک سمجھا جاتا ہے۔
اس کتابچے میں میرپوری معاشرے اور معاشرتی تبدیلی کا مطالعہ اس ہی علم کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاریخی مادیت کے نظریے کے مطابق :
معاشرہ کسی علاقے میں بسنے والے افرد کے درمیان پیداواری سرگرمیوں یعنی روزی روٹی پیدا کرنے کے لیے کیے جانے والے کاموں کاجوں کے دوران پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے تعلقات، رشتوں ناطوں اور ان سے جنم لینے والے اداروں، رسم و رواج، اقدار ، سوچ و فکرکے اندازوں اور طور و اطوار وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔
یوں معاشرتی تبدیلی پیداوار کے ذرائع، پیداواری سرگرمیوں، پیداواری تعلقات اور ان سے جنم لینے اور پروان چڑھنے والے اداروں، کام کاج ( اعمال) ، اقدار و طور اطوار میں تبدیلی کو کہا جاتا ہے۔اس تبدیلی کی مختلف وجوہات اور شکلیں ہوتی ہیں۔
یہ تبدیلی شعوری بھی ہوتی ہے اور قدرتی یا فطرتی یا غیر شعوری بھی۔ شعوری تبدیلی عام طور پر اس تبدیلی کو کہا جاتا ہے جو سماج میں بسنے والے مختلف افراد ، طبقوں / پرتوں یا حلقوں کی طرف سے شعوری طور پر ذاتی اور معاشرتی زندگیوں میں تبدیلیاں لانے کے لیے کی جانے والی شعوری کوششوں اور جدوجہدوں کے ذریعے آتی ہے۔ جبکہ لاشعوری یا غیر شعوری تبدیلی وہ ہوتی ہے جو شعوری کوششوں کے بغیر بھی اس سماج کے بنیاد ی حالات میں جاری رہتی ہے ۔
تبدیلی کے اسی عمل کو علامہ اقبال نے اس مصرے میں سمویا تھا۔
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
تاہم یہ مشاہدہ ابتدائی طور پر اقبال کے اس مصرع سے ہزاروں سال پہلے یونانی فلسفی ہر کلیدس سے منسوب ہے کہ زندگی میں صرف تبدیلی ہی ایک ایسا عمل ہے جو مستقل رہتا ہے۔ باقی سب کچھ ہر ایک لمحے بدلتا رہتا ہے۔
Only change is constant.
تبدیلی کی عام طور پر تین شکلیں ہوتی ہیں ۔
ارتقائی تبدیلی ۔ یعنی بتدریج ۔ جو ہر ساعت ، ہر گھڑی ، ہر پل اور پل پل جاری رہتی ہے ۔ معاشرے میں انسانوں کی تمام سرگرمیاں ، قدرتی واقعات ، موسمی حالات وغیرہ مجموعی طور پر اس کو جاری رکھتے ہیں ۔ حکمران جتنے بھی طاقتور ہوں تبدیلی کے اس عمل کو نہیں روک سکتے۔ دنیا میں کتنے طاقتور گزرے مگر تبدیلی کو نہ روک سکے۔ غاروں سے ستاروں تک پہنچنے کی انسانی تاریخ میں ایک ارتقائی عمل مسلسل جا ری رہا ہے اور آج بھی، اس لمحے بھی جاری و ساری ہے ۔
اصلاحی تبدیلی ۔ یعنی جب معاشرے میں شعوری طور پر اصلاحات لائی جاتی ہیں۔ بادشاہوں کے زمانے میں یہ اصلاحات کچھ اچھے نیک اور رحم دل باشاہ لایاکرتے تھے اور چند صدیاں قبل سے اکثر عوامی تحریکوں کے ذریعے لائی جاتی ہیں۔ اس میں یوں ہوتا ہے کہ جب عوام کی ایک بڑی اکثریت یا مخصوس طبقہ یا کمیونٹی کسی موجود ادارے یا پورے نظام کی فرسودگی، نا انصافی اور عوام کی اکثریت کے مفادات کے خلاف ہونے کو جان لیتی ہے اور مل کر اس میں تبدیلی کے مسلسل آواز بلند کرتی ہے اور حکمرانوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ اگر وہ عوام مخالف پالیسی، قوانین اور اعمال میں تبدیلی نہ لائے تو بات انقلاب تک پہنچ سکتی ہے تو وہ اصلاحات متعارف کروا کر احتجاج کرنے والے بڑے حلقے کو مطمین کر لیتے ہیں اور انقلاب ٹل جاتا ہے۔
انقلابی تبدیلی۔ یہ وہ شعور تبدیلی ہوتی ہے جس کا مقصد معاشرے کے موجود نظام کی جڑ بنیاد کو بدل دینا ہوتا ہے۔ اگر حکمران جائز عوامی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مطلوبہ اصلاحات متعارف نہ کروائیں تو اکثر انقلاب برپا ہا جاتا ہے یا کبھی خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ انقلابی تبدیلی پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور پرتشدد بھی۔ اس کا دارومدار موجود ڈھانچے میں حکمران طبقے کے رویوں پر ہوتا ہے۔ فرانس ، روس ، چین ، کیوبا، ایران کے انقلاب متشدد انقلابوں کی مثالیں ہیں۔ جب کہ 1989 میں مشرقی جرمنی اور بعد ازاں روس میں گلاسنوسٹ اور پریسٹرائیکا کے بعد سویت یونین اور مشرقی یورپ میں آنے والے انقلاب پر امن انقلابوں کی مثالیں ہیں۔
تاریخی تجزیہ
میں اس بات کا قائل ہوں کہ آج کے حالات کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے درست، حقیقی، مناسب، ٹھوس اور موثر لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے اپنی تاریخ کا حقیقی تجزیہ کرنا بنیادی اور لازمی شرط ہوتی ہے۔ یعنی اپنے حالات کے تاریخی سفر کو سمجھ کر ہم آج درپیش مسائل کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں ، اپنے گرد و پیش کو بہتر سمت اور راستے پر گامزن کرنے کے مواقعوں کو پہچان سکتے ہیں اور حالات میں ترقی پسندانہ، مثبت، تعمیری اور صحت مند تبدیلیاں لانے کے لیے موثر لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں۔
علم و تحقیق کی دنیا میں تاریخی تجزیہ کرنے کے مختلف طریقے اور شکلیں پائی جاتی ہیں۔ حالیہ وقتوں میں آثار قدیمہ اور جنیاتی تحقیق اور معلومات کے ذرائع یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ایجادات اور ترقی نے تاریخ اور علم کی سمجھ کے نت نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
یہاں میرپور کا تاریخی تجزیہ تاریخی مادیت کی روشنی میں کیا جا رہا ہے، جس میں بنیادی اہمیت ذرائع پیداوار کو حاصل ہوتی ہے ۔یعنی اگر آپ روزی روٹی کے ذرائع اور آلات اور قوتوں اور ان سے پیدا ہونے والے تعلقات ( یعنی مجموعی طور پر پیداواری سرگرمیوں ) کو سمجھ لیں تو باقی کے معاشرے یعنی سیاسی، قانونی و معاشی اور ثقافتی اداروں اور اقدار و رسوسم و رواج وغیرہ کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
چونکہ یہ تجزیہ کسی علمی و تحقیقی جریدے ( رسالے) کے لیے نہیں بلکہ میرپوری معاشرے میں عمومی تبدیلیوں کو عام انداز میں سمجھنے کے لیے ہے جس کا مقصد اس سمجھ بوجھ کو خاص طور سے معاشرے میں شعوری تبدیلیاں لانے کے خواہش مندوں کے سامنے رکھنا ہے اس لیے اس میں تجزیے میں خصوصی دستاویزات، اعداد و شمار اور تفصیلی حالات چھاننے کا انداز نہیں اپنایا گیا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کا تجزیہ بہت زیادہ وقت اور نظم و ضبط کا تقاضا کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ امید ہے کہ علم و تحقیق کے میدان میں مجھ سے بہتر صلاحیتوں اور علم سے لیس طلباء اور استاد اور تجزیہ نگار اس تجزیے کو مزید بہتر بنائیں گے۔ البتہ مزید مطالعے کے لیے صفحات کے نیچے اور آخر میں مختلف کتابوں اور رسائل وغیرہ کے حوالے دیے گئے ہیں۔
تاریخی مادیت
تاریخی مادیت کا آسان لفظوں میں مطلب ہے ، معاشرے کے مادی حالات کو مرکز بنا کر انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنا۔ یا مادی حالات کی تاریخ پر نظر رکھ کر معاشرے کا مطالعہ کرنا۔ یعنی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت نظر معاشرے کے مادی حالات پر رکھ کر اس معاشرے کے ماضی اور حال کو پڑھنا اور سمجھنا۔ اس طرح سے تاریخ کا مطالعہ کرنے اور تاریخی مادیت کے نظریہ سازوں کی طرف سے انسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت دریافت ہوئی تھی کہ تمام ادارے انسان کی اجتماعی معاشی سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ آسان لفظوں میں اجتماعی معاشی سرگرمیوں کا مطلب ہے روزی روٹی پیدا کرنے کے لیے مختلف کام کرنا۔ قدیم غاروں کے زمانے سے جدید صنعتی و سرمایہ داری معاشرے تک انسانی تاریخ کے مطالعے سے تاریخی مادیت کا قانون دریافت کرنے والوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ معاشرہ درحقیقت انسان کے پیداواری عمل کے دوران پیدا ہونے والے اور پروان چڑھنے والے رشتوں اور داروں سے مل کر بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس معاشرے کے معاشی، قانونی، سیاسی، ثقافتی اخلاقی ادارے اور اقدار اور رسوم و رواج ان رشتوں سے براہ راست با بالواسطہ تشکیل پاتے ہیں۔ یعنی معاشرے کے ادارے ایک طرح سے مادی جڑبنیاد بنانے والے رشتوں سے بنتے ہیں۔ اس کو اور سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورت اور ترجیح روزی روٹی پیدا کرنے کے لیے محنت و مشقت ( جسمانی اور دماغی) ہوتی ہے ۔ اس ہی سے پھر باقی رشتے اور ادارے بتدریج پیدا ہوتے اورپروان چڑھتے ہیں۔
تاریخی مادیت نظریے کا مختصر پس منظر
تاریخی مادیت کی یہ عینک بنائے جانے (یعنی تاریخی مادیت کا نظریہ متعارف ہونے) سے پہلے، دنیا کے فلسفی سمجھتے تھے کہ انسانی سوچ اور نظریات معاشروں میں معاشرتی تبدیلی کے مرکزی انجن ہوتے ہیں۔ یعنی سوچیں اور نظریات پہلے پیدا ہوتے ہیں اور پھر وہ معاشرے کے ڈھانچے ، مادی حالات اور اداروں میں تبدیلیاں لاتے ہیں یا ان کی روشنی میں تبدیلیاں رونما ہوتی یا لائی جاتی ہیں۔ تاہم تاریخی مادیت کے نظریے نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ مادی حالات کے بدلنے سے معاشی، سیاسی، سماجی و اخلاقی اور قانونی حالات و ادارے اور اقدار میں تبدیلیوں کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ۔ یعنی پہلے مادی حالات بدلتے ہیں ہیں اس کے بعد باقی کے حالات۔ یعنی سوچ مادی حالات سے پیدا ہوتی ہے۔
اس نظریے کو منظم شکل میں پیش کرنے والے دو جرمن فلسفی دوست تھے۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز ۔ انہوں نے یہ نظریہ انیسویں صدی کے برطانیہ میں ایسے وقت پیش کیا جب برطانیہ اور یورپ کے دیگر حصوں میں گزشتہ چند صدیوں سے سائنسی فکر اور روشن خیالی عروج پر تھی ۔ معیشت، معاشرت اور سیاست میں بنیادی ، دور رس اور گہری اور وسیع تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں معاشروں کی کایا کلپ ہو رہی تھی۔ یعنی نیچے والی مٹی اوپر ہو رہی تھی۔ اس فکری انقلاب میں تھامس ہوبز ( 1588 تا 1679) سے لے کر فریڈرک ہیگل ( 1770 تا 1831) تک درجنوں فلسفیوں اور عالموں نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اس فکری دھارے یا انداز فکر کی بنیادی صفت یہ تھی کہ انہوں نے سماج ، تاریخ، انسانی طرز عمل و معاشرے وغیرہ کو عیسائی پادریوں کے ادارے 'کلیسا' کی طرف سے پیش کی جانے والی توضیحات اور تشریحات سے ہٹ کر سائنسی مطالعے کے ذریعے سمجھنے کی کوششیں کیں اور وضاحتیں پیش کیں۔ یہ وہ عہد تھا جب خیالات کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ یہ خیالات (آئیڈیاز) کی عظمت کا عہد تھا۔
روشن خیالی کے اس عہد میں جہاں ایک طرف انسانی خیالات اور افکار کو تاریخی ارتقاء کی مرکزی قوتیں یعنی انجن قرار دینے کی دلیلیں دی جاتی تھیں وہاں عقل و خرد کے ذریعے معاشی اور معاشرتی امور اور تاریخ کو انسانی زندگی کی مادی ضروریات اور ان کو پورا کرنے سے متعلق معاشی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر سمجھنے کی کوششیں بھی سامنے آنے لگیں۔ مارکس سے پہلے فرانس کے فلسفی اور ریاضی دان ' کنڈورسے' ( 1743 تا 1795) نے آزاد معیشت ، آئینی حکومت اور برابری کے حقوق پر لکھا اور ' ہنری ڈی سینٹ سائمن ' (1760 تا 1825) نے محنت کشوں کے ساتھ کھڑے ہو کر تاریخ کی مادی تشریح کرتے ہوئے اس کو غلاموں، مزارعوں اور تنخواہ مزدوروں کے ادوار سے پہچانا۔ فرانس ہی کا 'اوتھوانا بغناغ ' ( 1761- 1793 ) پہلا مفکر تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ تاریخ میں معاشرے کو چلانے میں مرکزی کردار معاشی قوتوں کا رہا ہے۔ یعنی معاشی قوتیں معاشرے کا انجن ہوتی ہیں اور معاشرے کو چلاتی ہیں۔ ان میں تبدیلیاں ، معاشرتی تبدیلیاں (معاشرتی تغیر) لاتی ہیں۔
یہ سوال کہ معاشرتی تبدیلی کیوں آتی ہے سب سے پہلے جرمن فلسفی ہیگل ( 1770 – 1831 ) نے اٹھایا ۔ اس نے کہا کہ روشن خیال مفکرین تاریخ کے ایک عہد سے دوسرے عہد میں پائے جانے والے فرق کو تو پہچان لیتے ہیں کہ کیا کیا تبدیل ہوا لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ تبدیلی آئی کیوں؟
ہیگل نے اس عہد کے معیشت دانوں کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ شہری معاشرے کی بنیاد انسان کی فطرت پر قائم ہوتی ہے جو آفاقی ہوتی ہے اور بدلتی نہیں ۔ اس کے مقابلے میں ہیگل نے یہ دلیل پیش کی کہ انسان کی فطرت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود فن و ادب، سائنس اور ریاستی ادارے اور ان کے قواعد و ضوابط ، قوانین اور اقدار و روایات یوں ہی کہیں سے اُگ نہیں آتے بلکہ ان سب کا ایک تاریخی پس منظر ہوتا ہے یعنی ان کے پیدا ہونے کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں اور ان کی پیدائش اور پروان چڑھنے کے اس تاریخی عمل کو سمجھے بغیر ان کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ ہیگل نے فلسفیانہ خیالات کو تاریخی تناظر دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ہمہ گیر سچائیاں نہیں بلکہ اپنی مخصوص ثقافت کا اظہار ہوتے ہیں ۔ یعنی یہ کہ معاشرتی تبدیلیاں اپنے اپنے ثقافتی دائروں میں اپنے اپنے حالات کے مطابق رونما ہوتی ہیں۔
یہ بہت دلچسپ عہد اور بحثیں ہیں جدید علوم کے منبعوں کو سمجھنے کے لیے لیکن یہاں ان بحثوں کی تفصیلات پیش کرنے کی گنجائش نہیں ۔ یہاں صرف یہ بتانا تھا کہ جس عہد میں تاریخی مادیت کا نظریہ پیش کیا گیا وہ عہد یورپ میں ایک طرف سرمایہ داری طرز پیداوار کی پیدائش اور افزائش کا عہد تھا اور دوسری طرف اس میں تاریخ ، معاشرے ،معاشرتی تبدیلی ، انسانی فطرت وغیرہ کے بارے میں کلیسائی تشریحات اور توضیحات کو چھوڑ کر تجربات و مشاہدات کی روشنی میں زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی سائنسی کوششیں پھل پھول رہی تھیں۔
تاہم تاریخی مادیت کے نظریے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ خیالات ہی معاشرے کو چلانے والی واحد قوت نہیں ہوتے اور نہ ہی بادشاہتوں ، سلطنتوں ، ایمپائروں کے عروج و زوال کی تہہ میں صرف معاشرے کے اوپرلے طبقے کے عظیم اور بہادر انسانوں کی سرگرمیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ یعنی تاریخ عظیم خیالات، عظیم شخصیات اور حکمرانوں کی سرگرمیوں سے زیادہ کچھ ہوتی ہے۔
تاہم جس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تاریخ کے اس مادی نظریے نے معاشروں میں ارتقاء کے عمل یعنی معاشرتی تبدیلی کے سفر کو سمجھنے کی کوششیں کرنے والے فلسفیوں کو جو سر کے بل کھڑے ہو کر دنیا کو دیکھ رہے تھے سیدھا کر کے پاؤں پر کھڑا کر دیا وہ یہ دعویٰ تھا کہ ' سوچ مادہ نہیں پیدا کرتی بلکہ مادہ سوچ پیدا کرتا ہے'۔ یعنی پہلے مادہ اور پھر سوچ۔ یعنی سوچ اور خیالات ارد گرد کے مادی حالات کے تناظر میں پیدا ہوتے ہیں۔ ( اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کی خیالات کی کوئی اہمیت یا تبدیلی میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ بلکہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرتی تبدیلی فقط نظریات اور افکار سے نہیں آتی بلکہ معاشرے کے مادی حالات میں تبدیلی سے سوچ و فکر ، خیالات اور نظریات میں تبدیلی آتی ہے۔ تغیر واقع ہوتا ہے۔ اس کا تفصیلی تجزیہ یہاں بات کو بہت پیچیدہ بنا دے گا)۔
تاریخی مادیت کا مرکزی دعویٰ یہ تھا کہ معاشرتی تبدیلی کا انجن وہ تضادات ہوتے ہیں جو پیدوار کے ذرائع ( روزی روٹی پیدا کرنے کے ذرائع) اور ان سے پیدا ہونے والے تعلقات ( پیداوار ی تعلقات ) میں پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ نظریہ اس وقت پیدا ہوا جب یورپ صنعتی اور سرمایہ داری دور میں داخل ہو رہا تھا، تاہم اس نے معاشرتی تبدیلی ( تغیر) کا جو 'قانون' دریافت کیا اس کو معاشرے میں تبدیلی کے عمل اور وجوہات اور شکلوں کو سمجھنے کے لیے ڈارون کی طرف سے زمین پر زندگی کے ارتقاء کے نظریے جیسا اور اس جتنا اہم قرار دیا گیا۔ اس کا نچوڑ یوں بیان کیا جاتا ہے۔
"انسانی تاریخ کی سادہ سی حقیقت جو گھاس کی طرح اُگے ہوئے نظریات کے پیچھے چھپی رہی وہ یہ ہے کہ سیاست، علم ، فن وغیرہ سے پہلے انسان کو کھانے ، پینے، محفوظ رہائش، اور تن ڈھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے زندہ رہنے کے لیے یہ بنیادی اور لازمی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان جو سرگرمیاں کرتا ہے ان کے فروغ سے ایک معاشی بنیاد بنتی ہے جس پر اس معاشرے کے ریاستی ، اداروں ، قانونی تصورات ، فن و اخلاقیات کی 'عمارت' قائم ہوتی ہے۔ "
اس نظریے نے انسانی سماج کے مطالعے میں بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ پہلے سماجی تبدیلی ، واقعات اور حالات کا سبب لوگوں کی سوچوں یا پھر آسمانی قوتوں میں ڈھونڈا جاتا تھا۔ اس نظریے نے اسباب کو معاشرتی پیداواری عمل اور پیداواری تعلقات اور پیداوار کی تنظیم اور تقسیم میں ڈھونڈنے کی دلیل پیش کی۔
تاریخ کے اس مادی نظریے کی روشنی میں میرپور میں معاشرتی تبدیلی / معاشرتی تغیر کا تاریخی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس تجزیے میں کمیوں کجیوں کے باوجود اس سے ہمیں اس نظریے کو عملی طور پر سمجھنے میں بھی مدد ملے گی اور میرپوری معاشرے کو بھی۔
تاریخی مادیت اور میرپور
میرپور اس وقت 'آزاد' ریاست جموں کشمیر کا ایک انتظامی ڈویژن ہے جو میرپور ، بھمبر اور کوٹلی کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں توجہ کا مرکز یہ علاقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ 'آزاد' کشمیر کے باقی دو ڈویژن مظفر آباد اور پونچھ اہمیت میں میرپور سے کم ہیں یا میں ان علاقوں میں معاشرتی تبدیلی لانے اور اس کے عمل کو سمجھنے کے خواشمندوں تک تجزیہ نہیں پہنچانا چاہتا ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کے تاریخی تجزیے کے لیے میری معلومات میرپور کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں۔
امید کرتا ہوں کہ اس تجزیے کی طرح آزاد کشمیر بلکہ ریاست جموں کشمیر کے دیگر خطوں کے آزادی، و ترقی پسند تجزیہ کار اپنے اپنے خطے کا تجزیہ کریں گے جن کو جوڑ کر پوری ریاست کے تجزیوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے تاکہ ریاست کے تمام باشندوں خاص طور سے سیاسی کارکنوں کو پوری ریاست کے ٹھوس تاریخی اور موجود مادی حالات ( معروض) کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔دراصل اس کی زیادہ تر توجہ میرپور شہر اور گردوپیش کے گاؤں ہی ہیں ۔ کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ مجھے بھمبر اور کوٹلی کے بارے میں بھی کچھ زیادہ معلوم نہیں ہے۔ اس لیے اس مضمون کو میرپور ڈویژن کے تجزیے کا بھی بس ایک ابتدائی اور تعارفی جزو ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سماجی علم یعنی معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ ایک سمندر ہے اور یہ تجزیہ ایک قطرے کا بھی شاید لاکھواں حصہ ۔ تاہم اگر یہ ننھا سا ہی سہی پہلا ننھا قطرہ ثابت ہو تو بَلھے، بَلھے، شاوہ ، شاوہ۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا اور یہاں جان بوجھ کر دوہرایا جا رہا ہے کہ تاریخی مادیت کے نظریے میں معاشرتی ڈھانچہ ان تانوں بانوں اور اداروں کو کہا جاتا ہے جو اس معاشرے میں پیداواری سرگرمیوں سے پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں ۔ معاشرہ ان ہی اداروں سے مل کر بنا ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ یہ نقطہ اس حصے کے آخر تک زیادہ صاف اور واضح ہو جائے گا۔
میرپوری معاشرے کا تاریخی تجزیہ کرنا میرے لیے اس لیے بھی نسبت آسان ہے کہ میں نے پرانے معاشرتی ڈھانچے کو 'جاتے' ہوئے اور نئے ' ڈھانچے' کو آتے ہوئے دیکھا ہے۔ جاتے ہوئے دیکھا ہے کا مطلب ہے کہ معاشرے کی قدیم زمانوں سے چلی آ رہی مادی بنیادوں کو بدلتے ہوئے اور نئی بنیادوں کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ جس معاشرتی ماحول میں میں پیدا ہوا وہ ماحول پیداوار کے جن ذرائع اور آلات استعمال ہوتے تھے وہ میری عمر کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے بدلے ۔ ہم نے ان کی جگہ پیداوار کے نئے ذرائع کو لیتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ہم معاشرے کی جڑ بنیاد کے بدل جانے کے بعد اب معاشرتی اداروں یعنی معاشی سرگرمیوں، سماجی رسوم و رواج، اقدار ، رویوں ، اور حکومتی اداروں یعنی قانون و انصاف، تعلیمی نظام ، کاروبار و تجارت کے اصولوں وغیرہ کو بھی بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ہم نے جاگیرداری اور قبائلی سماج کی جڑ بنیاد بدل جانے کے بعد پرانے معاشرے کو ایک نئے سماج میں بدلتے ہوئے دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں۔
معاشرے کی مادی جڑ بنیاد
اس حصے کے شروع میں قدیم زمانے سے لے کر آج تک کے پیداواری ذرائع پر بات کی گئی ہے اور یہ دکھا نے کی کوشش کی گئی ہے کہ قدیم زمانے سے لے کر آج تک ان میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں ؟
اس کے بعد آلات پیداوار کی تاریخ بیان کی گئی ہے کہ کس عہد کے سماج میں کون سے پیداواری آلات استعمال ہوتے تھے۔ ظاہر ہے جوں جوں معاشرہ آگے بڑھا آلات پیداوار کی تعداد بڑھتی گئی اس لیے تمام آلات پیداوار کو شامل کرنا ممکن نہیں ہے لہذا چیدہ چیدہ آلات کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس تجزیے کا بنیادی مقصد آلات کی تاریخ یا تفصیل بیان کر نا نہیں ہے ۔ بلکہ تاریخی مادیت کی روشنی میں اپنے خطے، علاقے یا معاشرے کو دیکھنے ، پڑھنے ، سمجھنے کا طریقہ واضح کرنا ہے ۔
اس سے اگلے حصے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہر عہد میں انسانی محنت کے استعمال کا ارتقاء کس طرح سے ہوا؟
اور اس سے بعد والے حصے میں یہ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس مادی ڈھانچے پر ہر ایک عہد میں سماجی و ثقافتی و قانونی و سیاسی اور ریاستی ادارے اور رسوم و رواج اور اقدار کی کون سی شکلیں کس طرح پروان چڑھیں اور ارتقاء پذیر ہوئیں؟
پیداوار کے ذرائع کیا تھے؟
آپ میں سے جو میری عمر کے ہیں یعنی ساٹھ کے عشرے میں یا اس سے پہلے پیدا ہوئے اگر خود کو اس زمانے میں لے جائیں جب ہم پروان چڑھ رہے تھے تو آپ کو اس معاشرے کی یہ تصویر تصور میں نظر آ جائے گی۔ خیال کو پیچھے لے جا کر ارد گرد نظر دوڑایے ، سوچئیے۔ اس زمانے میں روزی روٹی یعنی پیداوار کے ذرائع کیا تھے؟ کن ذرائع سے پیدا وار ہوتی تھی؟ مطلب ضرورت کی بنیادی اشیاء کہاں سے پیدا کی جاتی تھیں؟ خوراک، لباس اور رہائش۔۔۔ روٹی ، کپڑا اور مکان۔
یہ حقیقت ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ میرپور میں قدیم ترین زمانوں سے لے کر 1960 کی دہائی تک سب بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ زمین تھی۔ یعنی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ زمین تھا۔ انسانوں اور جانوروں کی زندگی کو جاری رکھنے کی بنیادی ضروریات ، اناج، پانی اور درخت زمین سے پیدا ہوتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ اگر زندگی قائم نہ رہے تو معاشرہ رہتا ہے نہ معاشرتی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی اس کا مطالعہ کرنے یعنی اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا کوئی بچتا ہے۔ مطلب انسان کو پہلے زندہ رہنا پڑتا ہے اس کے بعد باقی زندگی کے پہلو نشوونما پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کو لطیف معاملات دستیاب تھے لیکن اس نے زندہ رہنے کے لیے خوراک پیدا کرنے کو ترجیح دی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوراک کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں تھا ( اب بھی نہیں) اس لیے خوراک حاصل کرنا پہلی ضرورت رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس نظریے والے یہ تجویز کرتے ہیں کہ باقی چیزوں کو چھوڑو اور بس خوراک پیدا کرنے اور کھانے میں لگے رہو۔ وہ کہتے ہیں کہ خوراک انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اس لیے انسان کی پہلی ترجیح رہی ہے۔ اور ہے اور یہ کہ خوراک کی پیداوار کے عمل سے دیگر رشتے پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔
زندہ رہنے کے لیے خوراک یعنی کھانا اور پینا ( پانی پینا) بنیادی ضروریات ہیں جن کے بغیر زندگی جاری نہیں رہ سکتی۔ اس کے بعد حفاظت کے لیے مکان اور لباس درکار ہوتے ہیں ۔ یہ میں بات کر رہا ہوں قدیم ترین انسانی عہد کی اور قدیم ترین میرپور کی تب اس کا نام ظاہر ہے میرپور نہیں تھا۔ نہ تب یہ شہر تھا۔ لیکن یہ خطہ موجود تھا اور اس پر قدیم انسانی کی موجودگی کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
مجھے کیسے پتہ ہے قدیم میرپور کے بارے میں ؟ جنیاتی سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث آثار قدیمہ کی کھوج کاری کے علم اور طریقوں میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے جس کی مدد سے قدیم زمانوں اور انسانوں اور ان کے معاشرے کے بارے میں بہت کچھ جانا چکا ہے ۔ تاریخ اور تاریخی مادیت کے علم کے ذریعے انسانی ارتقاء کے اس سفر کے مختلف مراحل کو اچھی طرح سے پڑھا اور جانچا بلکہ اب تو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے دیکھا بھی جا سکتا ہے ۔
تاہم سائنس کے کسی بھی مضمون چاہے وہ سماجی علوم ہوں یا قدرتی علوم ان کے زریعے جو علم حاصل ہوتا وہ نئی معلومات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے ۔ مثال کے طور پر آثار قدیمہ کے ماہرین نے جو دعوے قدیم معاشروں کے بارے میں کیے ہیں جن کا حوالہ اس تجزیے میں دیا گیا ہے وہ اس وقت دستیاب آثار کے مطالعے کی بنیاد پر کیے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصے بعد دنیا کے کسی اور مقام سے کچھ قدیم آثار ملیں جن سے پتہ چلے کہ' ہل ' تو اس سے پہلے بھی استعمال ہوتی تھی۔ اس لیے سائنسی معلومات ، دعوؤں اور نظریات کو عقیدے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
اگرچہ میرپور پر تاریخی مادیت کی روشنی میں یہ پہلا تجزیہ ہے لیکن تاریخی مادیت کے علمی نظریے جس کو تاریخ و سیاسیات و معاشریات اور دیگر سماجی علوم میں سماج اور سماجی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ایک مستند نظریہ تسلیم کیا جاتا ہے کا دعویٰ ہے کہ انسان جہاں بھی تھا اس کی ابتدائی ترین معاشی سرگرمی روزی کی تلاش تھی جو بتدریج روزی پیدا کرنے کے تسلسل میں ڈھل گئی۔ یعنی آج کے جدید ترین زرائع پیداوار کا سلسلہ مسلسل پیچھے کی طرف یعنی ماضی میں جاتے جاتے جا کر انسان کے وجود کے اولین زمانے سے جا ملتا ہے جب انسان خود کچھ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھا ۔ وہ ہاتھوں سے قدرتی طور پر موجود خوراک کے استعمال پر انحصار کرتا تھا ۔ وہاں سے یہاں تک کے سفر کو تاریخی یا معاشرتی ارتقاء کہا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کا یہ سارا سفر اپنے تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سیکھنے کا عمل تھا۔ ہاتھوں پر انحصار سے لے کر آج ستاروں پر لغوی طور پر کمند ڈالنے کے عہد تک انسان نے سب کچھ مشاہدات اور تجربات کے ذریعے بتدریج سیکھا ہے۔[1]
ابتدا میں معاشی سرگرمیوں سے ہی انسان کے اپنے گردوپیش سے رشتے/ تعلقات پیدا ہوئے۔ موسمیاتی و کائناتی بھی اور معاشریاتی بھی۔ یعنی پہلے انسان ارد گرد موجود قدرتی طور پر پیدا ہونے والی اشیاء سے بھوک اور پیاس مٹاتا تھا ۔ جانوروں/پرندوں کا گوشت اور درختوں اور پودوں سے پھل فروٹ اور پانی سے مچھلیاں یا دیگر حشرات وغیرہ کھا کر۔اس کو انگریزی میں ' ہنٹنگ اینڈ گیدرنگ' معاشرہ کہا جاتا ہے ۔ یعنی شکاری اور ڈھونڈ کر اکٹھا کر کے لانے والا معاشرہ ۔ ( ڈھونڈھ کر اکٹھا کر کے لانے کے لیے اردو اور متعلقہ زبانوں سے کوئی اصطلاح میں نہیں سوچ سکا)۔ عام طور پر شکاری معاشرہ ہی کہا جاتا ہے جس میں ماہی گیری کو بھی شکار ہی سمجھا جا سکتا ہے یا پھر اس کو 'شکاری-ماہی گیری' معاشرہ کہا جاتا ہے جہاں روزی شکار اور ماہی گیری سے حاصل کی جاتی تھی۔
پیداوار میں انقلاب
لیکن پھر بتدریج تجربات سے سیکھنے کی انسانی صلاحیت کی وجہ سے ارتقاء کی شاہراہ پر انسانی تاریخ کا پہلا انقلاب برپا ہوا۔ انسان نے ( خالق کی طرف سے دی گئی اور یا ارتقاء پذیر ہونے والی صلاحیتوں کو استعمال کر کے) خود 'روزی' اناج / خوراک پیدا کرنا سیکھ لیا۔ اس کی ابتدائی ترین شکل ناج اگانا تھا۔ یہ ایک دلچسپ بحث ہے کہ روزی خود پیدا کرنے یعنی ناج اگانے کا راز مرد نے سیکھا یا عورت نے؟ یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ عمومی طور پر شکاری معاشرے میں مرد شکار کر کے لاتا تھا جب کہ عورت چیزیں جیسے قدرتی طور پر اگے پھل و سبزیاں وغیرہ اکٹھی کر کے/ جمع کر کے لاتی تھی۔ پہلے عورت نے اناج اگانے کا عمل سیکھا۔ قدیم یونان میں تو ذراعت کی دیوی بھی عورت تھی ۔ تاہم قدیم زمانوں کے بارے میں نئے آثار قدیمہ ملنے کے بعد معلوم ہورہا ہے کہ یہ دعویٰ پوری طرح درست نہیں ہے۔ قدیم عورت بھی شکار کر سکتی تھی اور شکار پر جاتی بھی تھی۔ لیکن یہاں ہم اس بحث کی تفصیلات میں یہاں نہیں جا سکتے۔ (آخر میں کتابوں اور مضامین کے لنک دیے ہوئے ہیں) [2] ۔
ہمارے اس تجزیے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا کے جن آٹھ جغرافیائی مراکز میں کاشت کاری کے عمل کی شروعات ہوئیں ان میں میں انڈس تہذیب کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جو بعد ازاں کشمیر اور پنجاب بھی شامل رہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ میرپور بھی ان خطوں میں شامل ہے جہاں قدیم عہد میں کاشت کاری کا آغاز ہوا۔ کیونکہ جدید قومی ریاستوں اور شناختوں سے پہلے میرپور ثقافتی اور جغرافیائی اعتبار سے پہاڑی اور پنجابی اور کبھی کشمیر کے مفتوحہ مضافاتی علاقوں سے منسلک رہا ہے۔ [3]
(شکاری و ماہی گیری سماج اور دیگر سماجوں میں پیداوار کے آلات کیا تھے؟ انسانی محنت کی کیا شکل تھی اور پیدوار کے عمل سے پیدا ہونے والے رشتوں ناطوں سے تشکیل ہونے والے سماج کی کیا شکل و صورت تھی اس بحث کے لیے الگ حصہ رکھا ہے تاکہ انسانی اور میرپوری معاشرے میں معاشرتی ارتقاء کی کہانی بہت زیادہ پیچیدہ نہ ہو جائے۔ )
جب شکار اور قدرتی خوراک کے ساتھ ساتھ پیداوار زراعت سے بھی ہونے لگی تو ظاہر ہے کہ خوراک میں اضافہ ہوا لیکن مادی بنیاد ( روزی کے ذرائع ، انسانی محنت، آلات پیداوار) بدلی تو اس وقت کے انسانی معاشرے میں دور رس تبدیلیوں کا عمل بھی شروع ہوگیا۔ جو اس حصے کے آخر میں پیداواری تعلقات کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
کاشتکاری یعنی زراعت کی دریافت انسان کے لیے انتہائی اہم انسانی دریافت تھی۔ اس کے بعد ہزاروں سالوں انیسویں صدی تک زمین ہی اپنے باسیوں کے لیے روزی کا مرکزی اور بڑا زریعہ رہی۔ اسی لیے زمین اور اس سے پیدا ہونے والے وسائل پر قبضہ ہی جنگوں کا اصل مقصد رہا۔
ہزاروں سالوں پر پھیلے اس عہد میں اشیائے استعمال ہاتھوں سے تیار کی جاتی رہیں۔ لیکن اٹھارہویں صدی کے انگلینڈ میں بھاپ یعنی سٹیم سے چلنے والے انجن ، کئی تکلوں والے چرخے ( سپنڈل جینی) ، روئی پیلنے ( پنج نے ) والی مشین اور ابلاغ /پیغام رسانی کے لیے تار ( ٹیلی گراف) جیسی ایجادات نے پیداوار کے عمل کو صنعتی انقلاب کی راہ پر ڈال دیا ۔
اس زاویے سے دیکھیں تو دنیا میں ذرائع پیداوار یعنی روزی پیدا کرنے کے ذرائع کے ارتقاء کی تین شکلیں قدیم سے آج کے زمانے تک رہی ہیں۔
شکاری
کاشت کاری اور
صنعت کاری۔
شکاری شکل میں روزی زمین پر مختلف قدرتی اشیاء کی شکل میں موجود ہوتی ہے۔ انسان اس کو حاصل کر کے استعمال میں لاتا یعنی کھاتا پیتا تھا۔ حاصل کرنے کا یہ عمل شکار اور اکٹھا کر کے لانے پر مشتمل تھا۔ انسان کی قابلیت ابھی اتنی ہی تھی۔ انسان خود پیدا نہیں کر سکتا تھا۔
کاشت کاری عہد میں زمین سے اناج خود مگر ہاتھوں سے اگایا جاتا اور استعمال کیا جاتا تھا ۔انسان نے خود پیدا کرنا سیکھ لیا۔ یہ عہد ہزاروں سال تک چلا اور کئی خطوں میں آج بھی جاری ہے۔
جبکہ صنعتی عہد انسان کی طر ف سے ہزاروں سالوں کے ارتقا کے دوران کیے جانے والے کام، تجربات اور مشائدات سے حاصل کردہ علم کی روشنی میں نت نئی ایجادات کرنے کے قابل ہو جانے سے شروع ہوا ۔ اس عہد کی پہچان یہ تھی کہ اس میں ہاتھوں کی بجائے مشینوں سے کام کرنا شروع ہوا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ پیداوار اور مستعدی اور مسابقت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ۔ قیمتوں میں کمی ہونے لگی ، تنخوائیں بڑھیں اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت میں بھی تیزی آئی۔ صنعتی ممالک میں انسانی سماج ایک نئے عہد میں داخل ہو گیا۔
میرپوری معاشرے میں پیداوار کے ذرائع کا ارتقاء
کاشتکاری کے آغاز سے 1970 تک میرپوری معاشرے میں پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ زمین ہی تھی ۔ اور یہ پیداوار کاشت کاری کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی۔ تاہم زمانہ قدیم میں جائیں تو یہاں بھی اناج خود اگانا سیکھنے سے پہلے روزی شکار کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی تھی۔ جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کے شکار کی شکل میں شکاری عہد کی باقیات آج بھی موجود ہیں۔ 1960 کے آخر اور 1970 کے شروع میں میری ہوش تک زمین سے روزی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ کاشتکاری ہی تھا۔ روزی روٹی پیدا کرنے کے عمل سے ہی بہت سے سماجی و سیاسی اور ثقافتی رشتے اور سرگرمیاں جڑی ہوئی تھیں ۔ سب کی جڑیں زمین میں اتری ہوئی تھیں۔
کاشتکاری کے علاوہ دیگر پیشے جن کے ذریعے روزی کمائی جاتی تھی ان میں لکڑیاں کاٹنا، مال مویشی پالنا اور دودھ دہی تیار کرنا، سبزیاں اگانا، کپڑا بُننا و سینا، برتن اور جوتے بنانا، بال کاٹنا، تیل نکالنا، مکان بنانا، لکڑی کے در دروازے بنانا ، لوہے کے ہتھیار وغیرہ بنانا ، مچھلیاں پالنا، مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانا وغیرہ شامل تھے۔ لیکن ان سب پیشوں کے بدلے میں جو اناج ملتا تھا وہ زمین سے پیدا ہوتا تھا۔ اس لیے روزی کا بنیادی زریعہ زمین ہی تھا۔ قریب سے دیکھ کر غور کریں تو یہ سب پیشے تاریخ کے مختلف ادروار میں زمین کے ساتھ پیداواری رشتوں سے ہی پیدا ہوئے تھے۔ یہ درحقیقت کاشتکاری سماج کے مختلف ادارے تھے جن پر قبائلی سماج کے جاگیرداری کے طرف آتے آتے ' سماجی رنگ' بھی چڑھ گیا اور ان کے سماجی حیثیتیں بھی جُڑ گئیں۔
جس طرح کاشت کی جانے والی زمین کے مالکان کو زمیندار اور کاشت کرنے والوں کو کاشت کار اور کسان کہا جاتا تھا اسی طرح دوسرے کاموں سے روزی حاصل کرنے والوں کے بھی مختلف شناختیں / پہچانیں تھیں۔ جیسے گجر، بکروال، کسبی ( کاسوی۔ جولاہے) ملیار ( آرائیں) ، کمہار، موچی، نائی، درزی، نائی، تیلی، لوہار ، مستری، ترکھان، چمیار ، مچھیرے وغیرہ وغیرہ۔ (ممکن ہے کوٹلی و بھمبر میں مزید ہیشے بھی ہوتے ہوئے ہوں جن کا مجھے علم نہیں ۔ یہ معاشرے کی تصویر کو سمجھنے کے لئیے مثالیں ہیں ۔ مکمل فہرست نہیں ہے)۔ جب تک میرپور کے کاشتکار معاشرے میں ابھی منڈی اس سطح پر نہیں پہنچی تھی جہاں نقد تجارت ہوتی ہے، اس لیے ان تمام ہُنر مند کاریگروں اور دستکاروں کو اپنا ہنر اور محنت اناج کے بدلے بیچنا پڑتی تھی ۔ یعنی یہ اپنی خدمات زمیندار کو دیتے تھے اور بدلے میں اناج لیتے تھے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ ایسا بالکل نہیں تھا کہ کسان صرف ہل چلاتا اور فصل اُگاتا تھا۔ بلکہ کئی زمیندار اور کسان گھرانے کئی دیگر کام بھی کرتے تھے جیسے کپڑا بُننا یا خود جوتے یا مکان بنا لینا وغیرہ۔ اکثر زمیندار اور کسان گھرانوں میں مال مویشی بھی ہوتا تھا جن میں سے کچھ بیوپار بھی کرتے تھے وغیرہ۔ اسی طرح ہنر مند کاریگر گھروں میں سے بھی کچھ کے پاس اپنی زمین ہوتی تھی یا کسی دوسرے کی کاشت کرتے تھے یا مال مویشی چرا لاتے تھے یا مال برداری وغیرہ کر لیتے تھے۔ تاہم شناخت اس کام اور پیشے سے بنتی تھی جو ان کی روزی کا بڑا ذریعہ تھا۔ یا پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب پیشے کی پہچان 'برادری' کی شکل اختیار کر گئی تو پھر روزی کا ذریعہ بدل جانے کے باوجود پہچان وہی رہی ۔
اس کے علاوہ تفریحی سے متعلقہ پیشے بھی تھے۔ جن کو مقامی زبان میں ' دل پشوری' بھی کہتے تھے۔ اس کے لیے مختلف ڈھول باجے ( ساز) استعمال ہوتے تھے ۔ میں نے جو خود یکھے اور سُنے ان میں ڈھول، ڈھولکی، طبلہ، ہارمونیم، ستار، اک تارا، توتنی/ شہنائی، بانسری اور جوڑی وغیرہ شامل ہیں۔ اس پیشے سے وابستہ فن کاروں کو ' بازی گر' ( باجی گر) کہا جاتا تھا۔
موجود شہادتوں کے مطابق میرپور شہر اور گردو نواح میں آج سے کم از کم دو ہزار سال پہلے شہر بن چکے تھے جہاں تجارتی منڈیاں بھی موجود تھیں اور جہاں تجارتی سرگرمیاں غالب تھیں۔ سنتالیس سے پہلے بھمبر کوٹلی و ڈڈیال بھی شہر تھے جن کے بارے میں مجھے زیادہ علم نہیں ہے ( ان شہروں میں موجود سماجی علوم و تاریخی مادیت سے دلچپسی رکھنے والے دوست و اہل علم لکھیں) ۔ تاہم میرپور شہر جو میرے گاؤں موڑا لوہاراں سے کوئی چار پانچ میل مغرب کی طرف تھا ، اس کی خود میری اپنی یاد تو صرف ایک ہی ہے ' بوڑھ کے درخت سے لٹکتے چمگادڑ' جنہیں ہم ' کھٹکر' کہتے تھے۔ البتہ بزرگوں سے اور خاص طور سے انگلینڈ میں سب سے پہلے کچھ رشتہ دار بزرگوں اور پھر طارق عاجز مرحوم اور بعد ازاں پروفیسر نذیر تبسم، عبدالجبار بٹ، یونس تریابی، علی عدالت، پروفیسر نذیر نازش ، لالہ ارشد، منصف داد ایڈوکیٹ اور پروفیسر محمد یعقوب وغیرہ جیسے دوستوں سے حاصل ہونے والی معلومات اور اب پروفیسر صلاح الدین، محترم مسکین عاصی ، محترم ارشد، مشیر تعلیم چوہدری یوسف، سابق وزیر چوہدری یوسف مرحوم، کی کتابوں سے جو معلومات ملیں اور دنیا میں شہروں کی تشکیل اور معاشرے کے معاشی بہاؤ کو بہانے کے لیے کی جانے والی تجارتی سرگرمیوں کی جو تھوڑی بہت سمجھ ہے اس کی وجہ سے میرپور شہر کی زیادہ واضح تصویر دماغ میں موجود ہے۔ [4]
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس میرپور جس کو ہم پرانا شہر کہتے ہیں اس سے ہزاروں سال قبل اس علاقے کا مرکزی شہر چومکھ ( پرانا چومکھ) شہر تھا جو کہ موجود شہادتوں اور شوائد کے مطابق موجودہ ' اوناع' گاؤں سے شمال کی طرف واقع تھا۔ پہلی بار یہ بات مجھے راچڈیل شہر میں رہنے والے شاید راجدھانی گاؤں سے تعلق رکھنے والے محترم محمد افضل صاحب نے 'کشمیریوں کی زندگیاں' نامی پروجیکٹ کے سلسلے میں ایک انٹرویو میں بتائی تھی۔ بقول ان کے ہزاروں سال قبل یہاں ایک شہر تھا جو دریائے جہلم کے رخ بدلنے کی وجہ سے دریا برد ہو گیا تھا۔
2023 کے شروع میں اپنے ایک گھریلو دوست چوہدری محمد ارشد ( لالہ ارشد) جن کا تعلق بھمبر سے ہے اور 1969 کے آخر سے اولڈہم میں آباد ہیں اور تاریخ اور آثار قدیمہ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں ان کے ساتھ اوناع جانا ہوا ۔ وہاں کے ایک مقامی بزرگ نے بھی بتایا کہ قدیم زمانوں میں یہاں ایک بڑا شہر ہوتا تھا جو یہاں یعنی اوناع سے لے کر نیچے جنوب کی طرف پرانے میرپور تک پھیلا ہوا تھا اور مکان اتنے گنجان تھے کہ چھتوں پر سے بغیر نیچے اترے کئی میل جنوب کی طرف سفر کیا جا سکتا تھا۔
یہ بات یا دعویٰ میں نے پہلے بھی سن رکھا تھا۔ 1970 کی دہائی میں ہائی سکول میں تھے تو میں اور میرے ہم عمر ( ہانی) لڑکے اکثر گرمیوں کی دوپہروں کو جب سارا عالم گرمی سے نڈھال گھروں کے اندر دبکا ہواتا تھا، گھروں سے نکل کر ارد گرد کے میدانوں (مہیروں) اور ٹوٹی زمینوں (پُڑہوں) میں مختلف مہم جوئیوں پر نکل جایا کرتے تھے ۔ اس دوران عجیب و غریب غیر متوقع تجربات سے گذرتے اور ' دریافتیں' کرتے تھے۔ اس عمر کی ایک دریافت موجودہ کال گڑھ بازار ( چوک راج محمد شہید) سے پرانے شہر کی طرف جانے والی سڑک تھی جو کھود کر بنائی گئی تھی اس لیے اس کے کنارے کافی اونچے ہیں ۔ اسی لیے اس کو ' ڈونگی گہیل ' بھی کہا جاتا تھا۔ اس پر اوچھی لس سے پہلے موڑا راٹھیاں اور موڑا لوہاراں کے درمیان مشرقی کناروں کے اندر ہڈیاں نظر آتی تھیں۔ عجیب عمر تھی۔ دل میں ڈر، نے ابھی گھر نہیں کیا تھا۔ ہم نے نہ صرف ان ہڈیوں کو ٹٹولا بلکہ کچھ ٹٹولتے ٹٹولتے توڑ بھی ڈالیں ۔
بعد میں دادا جی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان میں زیادہ تر انسانی ہڈیاں ہیں۔ شاید پرانی بستیوں کا کوئی قبرستان ہوا ہو گا۔ انہوں نے ہی بتایا کہ یہاں کسی زمانے میں بہت گھنی آبادیاں ہوا کرتی تھیں ۔ اور وہی چھتوں والی بات بتائی ، لیکن یوں کہ بکری چھتوں پر سے ہوتے ہوتے بھمبر تک جا سکتی تھی۔ ان باتوں کی تاریخی حقیقت جو بھی ہو ان سے اتنا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں قدیم آبادیاں تھیں۔ اور اوناع سے موجودہ دریا کی طرف کناروں پر نیچے تک برتنوں کے ٹکڑے (پھیکڑاں) اور پتھروں کے اوزار قدیم زمانوں کا پتہ دیتے ہیں۔ کاش ہماری کوئی حکومت ہوتی تو تاریخ اور آثات قدیمہ کے عالم ان آثار کی مدد سے ہماری قدیم تاریخ کے دریچے وا ہ کرتے۔
نئے میرپور (جو کہ اب پرانا کہلاتا ہے) کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ اس کے ارد گرد کوئی چار سو گاؤں آباد تھے جن کا شہر کے ساتھ روزانہ کا تعلق تھا تجارتی رشتوں کے ذریعے۔ گاؤں میں وہ زمیندار جن کی فصل ( کوئی بھی فصل) ضرورت سے زیادہ ہوتی تھی وہ زاہد فصل شہر میں بیچتے تھے ۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو شہروں کے وجود میں آنے کا عمل ہی ان تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے شروع ہوا جو ضرورت سے زاہد پیداوار حاصل کرسکنے کے آلات اور قابلیت آ جانے کے نتیجے میں شروع ہوئیں۔
زمیندار اور کاریگروں و دستکاروں کے درمیان ''سیپ'' کا رشتہ تھا جس کے ذریعے خوراک اور خدمات کی تقسیم ہوتی تھی۔ اس پر تفصیلات آگے چل کر ۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ گاؤں کے کاریگر، دستکار اور ہنر مند وں میں سے بھی جو زمیندار اور اپنی ضرورت یا گاؤں محلے والوں کی ضروریات سے زائد تیار کر سکتے تھے وہ شہر میں آ کر بیچ دیتے تھے۔ لہذا میرپور شہر کا منظر کچھ ایسا ہوتا تھا کہ صبح مختلف گاؤں سے لوگ مختلف چیزیں ( اجناس) لے کر آتے جیسے لکڑیاں، مرغ، انڈے، بیل بکریاں ، دودھ، مکھن، گھی اور بھاریاں ( جھاڑو) وغیرہ لے کر آتے تھے اور شام کو نمک۔ مرچ، مصالحے ، کوئی ہتھیار ، اوزار اور شاید کچھ لوگ پھل فروٹ اور کپڑے بھی خریدتے ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ یوں شہر گاؤں کا بڑا گہرا رشتہ تھا۔ شہر گاؤں کے سر پر چلتا تھا اور گاؤں والوں کو بھی شہر کی اشیاء کی ضرورت رہتی تھی۔
خلاصہ اس پوری بات کا یہ ہے کہ 1947 سے پہلے قدیم زمانوں سے میرپور میں روزی کا بڑا ذریعہ زمین تھی اور روزی کاشتکاری سے حاصل کی جاتی تھی۔ سماجی ، سیاسی و ثقافتی ڈھانچہ ، رشتے داریاں ، براہ داریاں ، رسم رواج، اقدار اور کھیل تماشے بھی زمین سے پیداوار کرنے کی پیداواری سرگرمیوں سے ہی اُگے ہوئے تھے۔ تاریخ کے ایک عہد میں جب زمینوں سے اضافی پیداوار ہونے لگی تو اس کی خریدوفروخت کے عمل سے شہروں کی پیدائش کا عمل شروع ہوا ۔ شہر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھے ۔ شہر اور گاؤں دونوں ایک دوسرے کی ضرورت تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کو کھلاتے تھے۔
اگلے حصے میں آئیے دیکھتے ہیں کہ آلات پیداوار کیا ہوتے ہیں اور میرپور میں کاشتکاری اور روزی کے دیگر ذرائع کے لیے کیا آلات استعمال ہوتے تھے۔
آلات پیداوار کیا تھے؟
اوپر لکھا ہے کہ ابھی حال ہی تک زمین ہی روزی کا سب سے بڑا ذریعہ تھی ۔ زمین سے روزی حاصل کرنے کی ابتدائی ترین شکل شکار ، ماہی گیری اور گردوپیش سے خود رو یعنی خود سے اُگے ہوئے پھل سبزیاں اکٹھی کرنا اور کھانا تھا۔ اس کے بعد خود اناج اگانا یعنی کاشت کاری سیکھی اور پھر صنعت کاری ۔
اس حصے میں ہم یہ دیکھیں گے کہ آلات پیداوار کیا تھے؟ اپنے ارد گرد موجود روزی حاصل کرنے کے لیے انسان کیا آلات استعمال کرتا تھا؟
معلوم علم کے مطابق قدیم ترین ارتقائی نشوونما جس نے انسان کو چوپائیوں سے الگ سفر پر ڈال دیا وہ دو پاؤں پر کھڑا ہونے اور ہاتھوں کے استعمال کی صلاحیت اور قابلیت تھی۔ اگر تخلیق کے مذہبی عقیدے کی روشنی میں دیکھیں تو بھی شروع میں شاید انسان صرف ہاتھ پاؤں سے جو کچھ حاصل کر سکتا تھا وہی کر پاتا تھا۔انسان کے اولین ترین دور میں ہاتھ پاؤں ہی ہتھیار تھے اور وہی اوزار۔ ارد گرد موجود 'روزی' کو ہاتھوں سے ہی اکٹھا کرتا اور استعمال میں لاتا تھا۔ تاہم بعد ازاں " کوشش اور غلطی" ( ٹرائل اینڈ ایرر) سے سیکھنے کے عمل کے زریعے پتھر اور لکڑی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ گیا۔ یعنی پتھر اور لکڑی کے سادہ ترین ہتھیار /اوزار وہ اولین ترین ہتھیار/اوزار تھے جو موجود تو قدرت کی طرف سے تھے لیکن ان کے استعمال میں انسان کی سوچ اور عمل کو دخل تھا۔
2011 میں کینیا کی ایک جھیل ' ترکانہ' کے کنارے سے دریافت ہونے والے قدیم آثار سے ماہرین نے جو نتائج اخذ کیے ان کے مطابق اولین ترین ہتھیار / اوزار موجود انسان سے کئی ملین سال پہلے کرہ ارض پر بسنے والے 'انسان' نے ایجاد کیے تھے ۔ جو پتھرکے ٹکڑے تھے۔ کوئی ساڑھے تین ملین سال پرانی بات ہے یہ[5]۔ پھر بتدریج جوں جوں وقت گذرتا گیا نئے موسمی اور جغرافیائی حالات میں نئے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں موجود آلات اور اوزاروں میں بہتری اور نئے آلات اور اوزاروں کی ایجادات کا عمل جاری و ساری رہا جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ آلات اور اوزار بنانے کا یہ عمل جو ایک پتھر یا لکڑی کے ٹکڑے سے شروع ہوا تھا آج پیچیدہ ترین ، حیران کن اور ناقابل یقین آلات اور اوزاروں کی دنیا میں جاری ہے جیسے خود کار ہتھیار اور اوزار ۔
میرپور شہر 47 سے پہلے
میرپور تو شاید اتنا قدیم نام نہیں ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک ہندو سادھو بودھ پوری اور ایک مسلمان صوفی میراں میر کے ناموں کے ملاپ سے نکلا ہے ۔ ایک دوسرے نظریے کے مطابق میراں میر فقیر نہیں بلکہ حکمران تھا اس علاقے کا۔وہ میراں شاہ گکھر تھا۔ تاہم شہر جو میرپور سے پہلے چومکھ کے نام سے جانا جاتا تھا اس کی اور درحقیقت میرپور ڈویژن کی تاریخ کے ڈانڈے پتھر کے عہد تک جاتے ہیں۔ اس کے شواہد چتر پڑی اور کوٹلی اور بھمبر وغیرہ کے علاقوں میں بکھرے پڑے ہیں اور اگرچہ ہمارے ہاں دیگر سماجی علوم کی طرح آثار قدیمہ کا علم اور محکمہ بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے، تاہم کچھ اہم کام اس سلسلے میں ہو رہے ہیں جن سے قدیم زمانوں کے بارے میں علم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ (تفصیلات کے لیے پروفیسر صلاح الدین کی " تاریخ میرپور" اور آزاد کشمیر کی معروف اور سنجیدہ ترین ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر رخسانہ خان کا کام دیکھیں۔ ڈاکٹر محسن شکیل اور سعید اسد نے بھی اس پر کچھ کام کیا ہے)[6]۔ میرپور اور آزاد کشمیر پر برطانوی کشمیری رئیس حیدر کے بصیرت افروز مضامین پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر جائیں۔ [7]
قدیم زمانے سے 1947 میں میرپور کی تقسیم تک روزی روٹی پیدا کرنے کے آلات نے ظاہر ہے ایک ارتقائی سفر کیا اور قدیم زمانے کے آلات کے مقابلے میں 1947 میں استعمال ہونے والے آلات بہت بہتر تھے ۔ تاہم ان میں بہتری کا سفر بہت ہی سست تھا یعنی کئی نسلیں ایک ہی قسم کے ہتھیار تھوڑی بہت بہتری کے ساتھ استعمال کرتے چلے آرہے تھے۔
جیسا کہ پہلے لکھا کہ انسان کی ابتدائی ترین ضرورت جس کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں تھا وہ کھانا پینا تھا ۔ یعنی غذا۔ خوراک۔ شروع میں وہ قدرتی طور پر موجود خوراک ہی کھاتا رہا ۔ تاہم بعد میں خود پیدا کرنا شروع کر دی۔ یہ عام تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسان کا ابتدائی ترین اوزار 'پتھر' تھا جو غذا حاصل کرنے کے لیے ایجاد ہوا یا دوسرے جانوروں یا خطرات سے دفاع یا جارحیت کے عمل کے دوران ۔ ایک بار سیکھ جانے کے بعد اس کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے ہونے لگا ۔ ابتدائی ترین کٹا ہوا پتھر جس کے تیز اور نوکیلے کنارے تھے وہ کاٹنے، تراشنے اور رگڑنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ( اب بھی ہو سکتا ہے۔ شاید دنیا کہ کچھ حصوں میں اب بھی استعمال ہوتا ہو) ۔ درحقیقت بچپن میں جب ہم گاؤں کے ارد گرد کے علاقوں میں مہم جوئیاں کرتے تھے تو پتھر اور لکڑی کے ہتھیار اور اوزار بنانا اور پرندوں اور 'شریف' جانورو ں جیسے خرگوش کا شکار کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا۔ اگرچہ ہم جانے کتنے ہزار سالوں سے کاشتکاری سماج میں رہتے تھے لیکن گاؤں سے زرا پرے ایک دم سے شکاری عہد میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ مطلب شکاری سماج ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
شروع میں کاشتکاری بھی پتھر، لکڑی اور ہاتھوں سے ہوتی تھی۔ کوئی پانچ ہزار سال قبل مسیح کے زمانے میں دو شاخوں والی لکڑی ( فورک / دو انگلا/ ساہنگا) زمین کھود کر اس میں بیج ڈالنے کے لیے استعمال میں آیا۔ پھر ہاتھوں سے کھینچی جانے والی ہل ایجاد ہوئی اور کوئی چار ہزار سال پہلے بیلوں کو سدھا کر کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ معلوم علم کے مطابق اس کا استعمال سب سے پہلے ادھر ہمارے پڑوس انڈس ویلی ( وادی سندھ ) اور ملحقہ علاقوں میں ہی ہوا تھا۔ کوئی پندرہ سو سال قبل مسیح بیل جوت کر لکڑی کی ہل چلانے کا دور آیا۔ اسی عرصے میں پتھر کی درانتیاں بنا کر استعمال ہونے لگیں ۔ بعد ازاں تانبے کی دریافت کے بعد تانبے کی درانتیاں اور ہل وغیرہ بننے لگے۔[8]
لوہے کی پہلی ہل چین میں کوئی پانچ سو سال قبل مسیح میں استعمال ہونے لگی تھی[9] ۔جس سے پیداوار میں بے پناہ اضافہ ممکن ہو گیا۔ اب فصل کے گرد باڑ لگانے، پالتو جانوروں کو چارہ ڈالنے اور کاشت کاری سے متعلقہ دیگر کئی ایک کاموں کے لیے بتدریج کلہاڑی، پھاوڑا، بیلچا اور بہت سے دوسرے اوزار ایجاد ہوتے گئے۔
روٹی روزی کے علاوہ موسمی شدت سے بچنے کے لیے لباس اور محفوظ رہائش بھی انسان کی بنیادی ضروریات تھیں۔ ان کے لیے بھی مختلف آلات اور اوزار ضرورت کے مطابق مختلف ادوار میں استعمال میں لائے گئے۔ مثال کے طور پر لباس کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار سال قبل انسان نے لباس پہننا شروع کیا۔ ابتدائی لباس جانوروں کی کھالیں تھیں جو اوڑھ لی جاتیں اور پھر مختلف ادوار میں بتدریج ان سے نرم اور ملائم لباس بنانے کے لیے مختلف آلات اور اوزار تخلیق ہوئے۔ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے علاوہ محفوظ رہائش بھی انسانی بقاء کے لیے بنیادی اور اولین ضرورتوں میں آتی تھی۔ تعمیرات کے لیے بھی اوزار سادہ سے پیچیدہ کی طرف ارتقاء پذیر رہے۔
اگرچہ یہ ایجادات یعنی ہل وغیرہ پہلے ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے خطوں میں ہوئیں اور بعد میں یورپ پہنچیں لیکن آگے چل کر ان کو ہاتھ سے چلانے کی بجائے پیداواری اوازاروں اور ہتھیاروں کو مشینی ہتھیار بنانے کے مرحلے تک یورپ کے ایجاد کار لے کر گئے۔
یورپ کو جو عمل باقی دنیا سے آگے لے گیا وہ نیچے بیان کی گئی چند مشینی ایجادات سے شروع ہوا تھا۔ کیسے آلات و اوزار پیداوار میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں وہ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے معاشرتی و سیاسی اثرات کے لیے الگ باب میں بحث کی گئی ہے۔
اہم ایجادات یہ تھیں :
'سٹیم انجن' یعنی بھاپ سے چلنے والا انجن۔
'سپننگ جینی' یعنی کئی تکلوں والا چرخہ ۔
'کاٹن جن' یعنی روئی پنجنے والی مشین ۔
ٹیلی گراف یعنی تار
ہمارے ہاں ابھی بات وہاں تک نہیں پہنچی لیکن پیداواری آلات کی دنیا میں ان ایجادات اور نو آبادیاتی نظام کی وجہ سے ہمارے لوگ وہاں اور وہاں کی تبدیلیاں ہمارے ہاں پہنچ گئیں۔ ان تبدیلیوں نے میرپور کے صدیوں میں اترے مادی حالات اور اس پر کھڑے ڈھانچے کو" تہ پونڈ" کر ڈالا ۔ مکمل بدل ڈالا ۔ ( تفصیلات آگے) ۔
میرے خیال میں آگے بڑھنے سے پہلے یہاں پیدواری قوتوں کی وضاحت بھی کر لینی چاہیے۔
پیداواری قوتیں
پیداوار ظاہر ہے آپوں آپ نہیں ہو جاتی۔ حتٰی کی شکاری دور میں بھی جب اردگرد م قدرتی طور پر موجود خوراک استعمال کی جاتی تھی وہ خوراک حاصل کرنے کے لیے جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے استعمال کے بغیر ناممکن تھی۔ پیداواری قوتوں سے مراد وہ تمام قوتیں لی جاتی ہیں جو پیداوار کے عمل میں شامل ہوتی ہیں یعنی جو پیداوار کرنے کے عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ پیداواری قوتوں کا مرکز اور بنیاد انسانی محنت ہوتی ہے۔ کیونکہ انسانی محنت کے بغیر خام لکڑی اور پتھر کو ہاتھوں سے استعمال کرنے سے لے کر آج مصنوعی ذہانت تک کا سفر ممکن نہیں تھا۔ یہ محنت جسمانی بھی ہوتی ہے اور دماغی بھی۔ آسان لفظوں میں پیداوار ی قوتیں پیداوار کے ذرائع، پیداوار کے آلات اور انسان کی محنت کے اشتراک یا مجموعے پر مشتمل ہوتی ہیں۔ پیداوار کے معیار کا انحصار پیداواری قوتوں کے معیار پر ہوتا ہے۔
اب اگر ہم شکاری معاشرے میں پیداواری قوتوں کو تلاش کریں تو شروع میں ہمیں پیداواری قوتوں میں انسانی ہاتھ پاؤں، دماغ اور قدرتی قوتیں شامل تھیں جن کے استعمال سے کھانے پینے اور حفاظت کے لیے درکار اشیاء حاصل کی جاتی تھیں۔ اس مرحلے پر انسان پیدا کچھ نہیں کرتا تھا بلکہ جو کچھ قدرت کی طرف سے پیدا کیا ہوا تھا اس کو استعمال کرتا تھا۔ ساری محنت اورہنر مندیاں جو کچھ ارد گرد موجود تھا اس کو حاصل کرنے اور استعمال کر نے کے لیے درکار ہوتی تھی۔
لیکن جب انسان نے ہاتھوں سے لکڑی کے ڈنڈے اور پتھر استعمال کرنا شروع کر دیے تو یہ پیداواری قوتوں میں پہلا انقلابی اضافہ تھا ۔ ہاتھوں کے لچکدار اور " آزادانہ" استعمال کے بعد اشرف المخلوقات کے سفر کا یہ دوسرا مرحلہ تھا ۔ اس سے انسان کو یقیناً ارد گرد کے جانداروں پر مزید برتری یعنی اشرفیت حاصل ہو گئی۔ کاشتکاری سیکھنے کے بعد پیداواری قوتوں میں انسانی جسم و دماغ کے ساتھ ساتھ پتھر اور لکڑی کے بنے ابتدائی آلات اور اوزار بھی شامل ہو گئے جن میں بتدریج مسلسل استعمال اور اس استعمال کرنے کے عمل سے سیکھ سیکھ کر مزید اضافہ اور بہتری آتی گئی۔ ارتقاء کا عمل نہ صرف مسلسل جاری و ساری رہا بلکہ تیز اور پیچیدہ ہوتا گیا۔
موجود ہ عہد میں صنعتی معاشروں میں پیداواری قوتوں میں ارتقاء کے طویل سفر کے دوران بہترین سیکھے ہوئے دماغ نے اب دماغ سے باہر دماغ (مصنوعی زہانت) ایجاد کر لیا ہے۔ جس طرح پہلی بار پاؤں پر کھڑا ہو کر ہاتھ استعمال کرنے کے عمل نے انسانی ارتقاء میں انقلابی تبدیلی کی تھی اور اسے ارد گرد کے ان جانوروں پر فوقیت عطا کر دی تھی جو دو قدموں پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے اور ہاتھوں کو خود مختاری سے استعمال نہیں کر سکتے تھے اور جس طرح ہاتھوں سے ڈنڈا یا پتھر استعمال کرنے کے ہنر نے انسان کو مزید طاقت ور بنا دیا تھا یعنی انسان کے ہاتھ لمبے ہو گئے تھے اور کئی ہزار سال بعد جس طرح چھاپہ خانے نے علم اور فہم و فراست کو عام آدمی تک پہنچانے کا سفر شروع کیا تھا اسی طرح مصنوعی ذہانت در حقیقت انسانی دماغ کی انقلابی وسعت ہے جو کہ ارتقاء کے سفر کو مزید تیز اور وسیع کر دے گی۔
اس کو پھر سے خلاصہ کر کے پڑھ لینا مفید رہے گا۔ انسانی تاریخ کے شروع زمانوں میں ( جو کہ ملین سالوں پر محیط تھے) زیادہ استعمال انسانی جسم کا ہوتا تھا لیکن جوں جوں ابتدائی آلات سے لے کر زندگی کی پیچیدگی اور تنوع ( رنگا رنگی) میں اضافہ ہوتا گیا ، تقسیم کار بڑھتی گئی اور دماغی صلاحتیں بھی کھلتی چلی چلی گئیں اور اب تو ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں وہاں دنیا کے کچھ ممالک کے کچھ حصوں میں تو جسمانی محنت پر دماغی محنت غالب آ رہی ہے اور جسمانی طور پر انسان کے پاس فرصت اور تفریحی سے لطف اندوز ہونے کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔ البتہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم ، سامراجی راج اور سرمایہ پرستی کے باعث دماغی ترقی کے شاہکار انسانوں کی اکثریت کو میسر نہیں اور اربوں انسانوں کی زندگیاں چند صدیاں قبل کے عہد میں پھنسی ہوئی ہیں۔ بقول ارون دتی رائے آج کی دنیا ( انہوں نے ہندوستان کے حوالے سے کہا تھا) میں کئی صدیاں اکٹھے جی رہی ہیں۔ پیداواری قوتیں جسمانی و دماغی قوتوں کے امتزاج پر مشتمل ہوتی ہیں۔ پیداواری قوتوں میں ترقی سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر تقسیم کا نظام اچھا ہو تو خطے کی آبادی کی خوراک میں بہتری آتی ہے اور ان کو دماغی قوتوں کے مزید بہتر استعمال سے پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے سوچ و وچار اور غور و خوض کے لیے زیادہ وقت اور مواقع ملتے ہیں جس کے نتیجے میں پیداواری قوتوں میں مزید بہتری آتی ہے اور یوں پیداواری قوتوں کے ارتقاء میں تیزی آ جاتی ہے جس کے نتیجے میں پھر پیداوار کی مقدار اور معیار میں بھی مزید بہتری پیدا ہوتی اور یوں یہ سلسلہ انسان کو ' ستاروں پر کمند ڈالنے ' اور ' دماغ سے باہر دماغ' کی ایجاد تک لے آیا ہے اور رکا نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی سوچوں سے کئی سال قبل میرے دماغ میں یہ شعر پیدا ہوا تھا۔
ہو جائے گی خدا سے بھی ملاقات ایک دن
کھلتے جاتے ہیں اسرار آہستہ آہستہ
میرپور میں پیداواری قوتوں کو دیکھیں تو 1960 کے عشرے تک یہاں کے کاشت کاری سماج میں روزی پیدا کرنے کے لیے پتھر کے زمانے سے لے کر لوہے کے زمانے کے اوزار استعمال ہوتے تھے جن کو استعمال کرنے کے لیے انسانی محنت زیادہ تر جسمانی تھی ۔ تاہم پیداوار کو قائم رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے اپنے مخصوص مادی حالت کی مناسبت سے دماغی محنت بھی ہزاروں سال تک ارتقاء کا سفر کر کے اتنی ترقی کر چکی تھی کہ اوزراوں اور ہتھیاروں کو نہ صرف بہتر شکل دی جا چکی تھی بلکہ ان کے استعمال کے بھی کئی رنگ ڈھنگ سیکھے جا چکے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح سے تخلیق کیا ہے کہ وہ جو عمل کرتا ہے وہ اس کے دماغ میں محفوظ ہو جاتا ہے جس کو یاداشت کہا جاتا ہے۔ اس لیے اول روز سے انسان نے جو عمل کیا وہ اس کی یاداشت میں محفوظ ہوتا گیا اور مسلسل عمل سے وہ سیکھتا چلا گیا۔
اگر غور کریں تو زندگی کے ہر شعبے میں ہر علاقے میں اپنے اپنے مقامی 'عالم' موجود تھے جو زمینداری سے لے کر صحت و تندرستی اور ہنر و کاریگری کے میدانوں میں ماہرانہ علم رکھتے تھے۔ جن کومقامی زبان و ثقافت میں ' سیانے ' کہا جاتا تھا۔ پیداوار چاہے زمین سے اناج کی شکل میں ہو یا مختلف ہتھیار اور اوزار استعمال کر کے ارد گرد موجود قدرتی طور پر موجود اشیاء جیسے مچھلی، شہد، جانوروں اور مفید و قیمتی جڑی بوٹیوں کا شکار یا لوہے، دھاتوں بشمول سونے سے ہتھیار اور زیورات بنانے کے ہُنر، ان میں سے ہر ایک ہنر کے نام ور ماہرین موجود تھے ۔ بدقسمتی سے اور کئی مادی و سیاسی اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بناء پر ہمارے یہ عظیم مقامی 'سیانے' اپنا علم کسی تحریری شکل میں نہ لا سکے اور سینہ بسینہ بھی یہ ہم تک نہ پہنچ سکا کیونکہ تحریری علم خاص طور سے نصاب تعلیم جو رائج ہو ا وہ مقامی معاشرے یا مقامی ماہرین سے حاصل نہیں کیا گیا تھا بلکہ ہزاروں میل دور معاشروں سے درآمد کیا ہوا تھا اور اب بھی ہے۔
میرے خیال میں پیداواری قوتوں کا تصور اب کافی حد تک واضح ہو گیا ہے کہ پیداوار کے ذرائع، پیداواری قوتیں کیا ہوتی ہیں ۔ پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی انسانی محنت اور اس کے لیے استعمال ہونے والے آلات ، ہتھیار اور اوزار۔
اب آگے بڑھتے ہیں پیداواری عمل کے اس پہلو کی طرف جو درحقیقت یہ کتابچہ لکھنے کی بنیادی وجہ بنا ۔ یہ پہلو ہے پیداواری تعلقات ۔ کیونکہ ہمارے ہاں ( میرپور آزاد جموں کشمیر ) میں تیز رفتار معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر کوئی اس بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتا ہے ۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے کئی وجوہات اور نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان سب سے گذرا ہوں ۔ تاہم تاریخی مادیت کا نظریہ پڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ اس نظریے کی روشنی میں معاشرتی / سماجی تبدیلی کا بظاہر پیچیدہ اور دھندلا اور پراسرار عمل خاصا صاف اور واضح سا نظر آتا ہے ۔ اس کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ انسانوں کے درمیان تعلقات کا تانا بانا ہی ہے جو معاشرہ تشکیل دیتا ہے یعنی جس سے معاشرہ بنتا ہے۔ یعنی کسی بھی معاشرے کی بنیاد پیداواری تعلقات پر ہوتی ہے۔ اور معاشرتی تبدیلی ان پیداواری تعلقات میں تبدیلیوں ہی کا نام ہے۔ معاشرتی تبدیلی کی اس بنیاد یا مرکز کو سمجھ لینے کے بعد اس کے اثرات کو سمجھنا اور پھر ان کے مطابق بہتر اور مفید حکمت عملیاں اور پالیسیاں بنانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
پیداواری تعلقات
پیداواری تعلقات سے کیا مراد لی جاتی ہے یعنی پیداواری تعلقات کن تعلقات کو کہا جاتا ہے- جیسا کہ اوپر اشارہ کیا تاریخی مادیت کی عینک جو یہاں استعمال کی جارہی ہے اس میں سے معاشرے کی بنیاد ، معاشرے کی عمارت یعنی تعلقات اور مفادات کے تانے بانے کے نیچے روزی روٹی پیدا کرنے کے عمل یعنی پیداواری عمل کے دوران پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے تعلقات سے تعمیر ہوئی ، ہوئی نظر آتی ہے۔ سادہ الفاظ میں پیداواری تعلقات ان تعلقات کو کہا جاتا ہے جو پیداوار کے لیے پیداواری عمل کے دوران اس میں شریک افراد کے درمیان پیداواری قوتوں (پیداوار کے زرائع، آلات یعنی ہتھیار ، انفرا سٹرکچر ( راستے ۔ سواری ) اور تکنیک( طریقے ) وغیرہ) کو تخلیق کرنے کے اعمال کی کوکھ سے جنم لیتے یعنی پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں۔
معاشرے میں تعلقات کے پیچیدہ تانے بانے کا جال یعنی مختلف اداے درحقیقت ان تعلقات سے بُنے اور بنے ہوئے ہوتے ہیں۔
اب آئیے پہلے پیداواری تعلقات کے تصور کو مزید وضاحت سے سمجھتے ہیں کہ کن تعلقات کو پیداواری تعلقات کہا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد دیکھیں گے کہ میرپور میں 1947 سے پہلے پیداواری تعلقات کیا تھے؟
ان تعلقات کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ رضاکارانہ نہیں ہوتے یعنی ان میں شریک افراد اپنی مرضی سے ان میں شریک نہیں ہوتے بلکہ ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو اس حیثیت میں وہ کام کرنا پڑتا ہے۔یعنی یہ تعلقات مجبوری ہوتے ہیں۔ کیونکہ فرد کے پیداواری عمل میں شریک ہوئے بغیر اس کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یعنی یہ شعوری طور پر نہیں بلکہ ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ جب کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو انسان کی سب سے اولین ترین معاشرتی ' ایجاد ' شاید مل کر غذا حاصل کرنا اور مل کر کھانا اور اس دوران مل کر حملہ کرنا یا دفاع کرنا تھا۔ پیداوار کے یہ ابتدائی ترین تعلقات شعوری کم اور جبلتی زیادہ تھے ۔ تاہم شعور کا سفر وہاں سے شروع ہو گیا تھا۔ اس ابتدائی عہد میں انسان مکمل طور پر قدرت کا محتاج تھا۔ خوراک کے لیے بھی اور موسم کے اعتبار سے بھی ۔ ابھی وہ بات چیت کر سکنے کے قابل بھی نہیں ہوا تھا۔
جیسا کہ اوپر اشارہ کیا زندگی کے سفر میں پیداواری قوتوں کی پیچیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیداواری عمل اور اس وجہ سے پیداواری تعلقات اور ان سے پیدا ہونے والے شعور اور اس کی روشنی میں قائم ہونے والے روزی حاصل کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کے معمولات قائم ہوئے۔ ان معاشی ضروریات اور سرگرمیوں کے ذریعے تاریخ کے مختلف مراحل پر ہر ایک علاقے میں اس کے اپنے جغرافیائی، موسمی، اور پیداواری قوتوں کی مناسبت سے رشتے ناطے، خاندان، ٹبر، قبیلے ، برادریاں پروان چڑھے ۔ بتدریج قواعد و ضوابط ، رسوم و رواج، اقدار، قوانین، اداروں اور انتظام و انصرام میں بھی پیچیدگی آتی گئی ۔ یعنی ریاست قائم ہو گئی ۔ دنیا کی پہلی ریاست حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے کوئی چھ ہزار سال قبل میسوپوٹومیہ میں قائم ہوئی ۔ اس کا بادشاہ حمو رابی تھا جس کو دنیا کا پہلا قانون ساز مانا جاتا ہے ۔ ریاست کا بنیادی کام زمین اور اس سے ہونے والی پیداوار کا زیادہ سے زیادہ حصہ سرکاری (حاکم کے ) خزانے میں پہنچانا ہوتا تھا۔ اس کے لیے مختلف ادارے وجود میں آئے اور ارتقاء پذیر ہوئے۔
میرپور میں پیداواری تعلقات اور معاشرتی ڈھانچہ
سنتالیس سے پہلے کا جو علم سنتالیس کے بعد موجود پیداواری اور معاشرتی ڈھانچے سے حاصل کیا اور تاریخی مادیت کے علم کے ذریعے سمجھا اس کا خلاصہ یہاں بیان کر رہا ہوں تاکہ ہم سمجھ سکیں کے یہاں کا پیداواری اور معاشرتی ڈھانچہ کیا تھا اور کب تک اس کو مرکزی حیثیت حاصل رہی؟ پھر وہ کیوں بدلا ؟ کیسے بدلا ؟ کس حد تک بدلا ؟ جیسے سوالوں پر بات ہو گی۔ امید ہے کہ اس کے بعد ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہے گا کہ اس کی جگہ کس پیداواری ڈھانچے نے لی؟ کب؟ کیوں اور کیسے؟ اور یہاں کے معاشرتی ڈھانچے میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں ؟ کب اور کیوں؟ اور اب کیا ہے؟ اور آگے کیا معاشرتی تبدیلیاں ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔
اوپر دی گئی معلومات کی بنیاد پر یہ تو ہم جان چکے ہیں کہ میرپور ڈویژن کا علاقہ دنیا کے ان آٹھ قدیم خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں شکاری انسان نے کاشتکاری کی ابتداء کی۔اس کے بعد یہ خطہ کئی ادوار سے گذرا لیکن 1960 کی دہائی تک میرپوری معاشرے کی جڑ بنیاد یعنی بنیادی ڈھانچہ زرعی ہی رہا اور کاشتکاری ہاتھ سے استعمال کیے جانے والے آلات اور اوزاروں سے ہوتی رہی۔عین ممکن ہے کہ شہر میں اکا دُکا مشینوں کا استعمال اس سے پہلے شروع ہو چکا ہو لیکن مجموعی طور پر کم از کم کاشتکاری جو کہ نوے فیصد پیداوار کا حصہ تھی اس میں مشینیں استعمال نہیں ہوتی تھیں۔
پیداوار کے کاشتکاری و زرعی عہد کے دوران جو قدیم زمانے سے 1930 تک بغیر کسی بڑی اجتماعی عوامی مزاحمت کے جاری رہا اس کے اپنے مخصوص پیداواری تعلقات اور محنت کی تقسیم کے نمونے ، سماجی و معاشی اور سیاسی حیثیت اور مرتبے کے پیمانے اور دائرے تھے جو ان پیدواری سرگرمیوں سے پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی مختلف روایات، اقدار اور توقعات و فرائض اور ذمہ داریوں کے ذریعے جاری و ساری چلے آ رہے تھے۔ تبدیلی کی رفتار اتنی سست تھی کہ معاشرہ ساکت و جامد نظر آتا تھا۔ جیسے ہزاروں سالوں سے ایک ہی مقام پر کھڑا تھا۔ یہی وجہ تھی بزرگ زیادہ دانا ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ نئے پیدا ہونے والوں سے کئی سال قبل سے اس معاشرے میں رہ رہے تھے اور پچھلی نسلوں سے سیکھے ہوئے علم، اپنے مشاہدات اور تجربات کی وجہ سے نئے پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں بہت کچھ جانتے ہوتے تھے۔
اس کو بہت زیادہ تفصیل سے یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہاں تو بنیادی سمجھ بوجھ پیش کرنا ہی مقصد ہے نا ، اس لیے نیچے اس کی بس ایک جھلک ہی پیش کی گئی ہے۔
پیداوار کا بنیادی اور بڑا ذریعہ زمین تھی۔ لیکن زمین سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے آلات اور اوزار و ہتھیار بنانے کی ضرورت تھی۔ پیداوار کرنے کے لیے پہلے سادہ آلات اور اوزار بنائے اور استعمال میں لائے گئے ۔ پھر قدرے پیچیدہ اور پھر مزید پیچیدہ ۔ ارتقاء کا سفر جاری رہا ۔ آلات کے ساتھ ساتھ تعلقات پیداوار بھی ارتقاء پذیر رہے۔ زمین سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے آلات اور اوزار اور ہتھیار بنانے اور ان کو چلانے کا کام انسان نے انسانی محنت کے ذریعے کیا۔ اگر آپ تصور کریں تو تب بھی اور اب بھی تو نظر آئے گا کہ پیداوار کا یہ سارا عمل صرف انسانی محنت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ورنہ آلات اور اوزار اور ہتھیار بن سکتے نہ پیداوار ہوتی ۔ باقی سب کچھ تب کارآمد ہوا اور اب بھی تب کارآمد ہوتا ہے جب انسانی محنت اس میں شامل ہوتی ہے یعنی انسان ان کو کام میں لاتا ہے۔ ورنہ سب کچھ مٹی کا ڈھیر ہے۔
دراصل پیداواری تعلقات ہی سے معاشرتی ڈھانچہ بنتا ہے۔ مختلف تحریری معلومات اور آثار قدیمہ کی دریافتوں اور جنیاتی علم کے ذریعے ملنے والی معلومات کو تاریخی مادیت کی عینک سے دیکھنے پر نظر آتا ہے کہ قدیم ترین شکاری معاشرے میں جہاں پیداواری سرگرمیاں شکار کرنے اور قدرت کی طرف سے موجود خوراک حاصل کرنے تک محدود تھیں اس معاشرے میں پیداواری تعلقات بہت سادہ ، بنیادی اور تھوڑے سے تھے۔ اس عہد میں کوئی چیز کسی کی ملکیت نہیں تھی۔ جس کو جو ملتا اور جو بھی جو کچھ حاصل کر سکتا وہ اس کو استعمال کر لیتا۔ محفوظ کر کے زخیرہ کرنے کا علم ابھی انسان نے نہیں سیکھا تھا۔ لہذا پیداواری سماجی تعلقات کے حوالے سے یہ سنجھالی یا اشتراکی معاشرے کی سادہ ترین شکل تھی۔
اس کے بعد جب کاشتکاری سیکھ لینے کے بعد انسان نے ایک جگہ رہنا شروع کر دیا تو قبائل وقوع پذیر ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے 'خطے' پر ڈیڑے ڈال لیے ۔ وہاں بسنے لگے اور وہ خطہ ان کا قرار پایا۔ اس معاشرے میں پیداواری سماجی رشتوں کی شکل قبائلی ہونے کی وجہ سے یہ معاشرے قبائلی کہلائے۔ ( ایسا بالکل نہیں تھا کہ پچھلا نظام مکمل طور پر ختم ہو جاتا تھا اور پھر نیا پیدا ہوتا تھا۔ بلکہ یوں ہوتا تھا کہ کسی بھی خطے میں انسانوں کے گروہ بقاء کی جنگ میں کچھ نیا سیکھ لیتے ، بنا لیتے یا معلوم ( دریافت یا ایجاد) کر لیتے تو ان کے اس گروہ کی زندگی میں اس کے استعمال سے اس کے مطابق تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو جاتا تھا۔ غور کریں تو اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ )
میرپور میں بھی ایسا ہی ہوا ۔ ہزاروں سال یہ خطہ مختلف قبائل کی حکمرانی میں چلتا رہا ۔ درحقیقت اس عہد میں حکمرانی کم اور حکمرانی کے لیے جنگ زیادہ ہوتی تھی۔ جو جس طرف سے چاہتا حملہ کر دیتا اور جیت جاتا تو نیا حاکم اور ہار جاتا تو پچھلا حاکم اپنا حکم جاری رکھتا۔
یہ ' حکم' کا عہد تھا۔
مختلف راجوارے قائم ہوئے اور پھر جو راجوارہ قدرے مستحکم ہو جاتا وہاں اناج اگانے اور اس کا بڑا حصہ حاکم تک پہنچانے کے لیے زمینیں اپنے وفاداروں میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ یہ وفادار جاگیر دار کہلاتے تھے۔ جن کا کام ارد گرد سے کسانوں کو اناج اگانے پر مامور کرنا ہوتا تھا۔ یہ اناج کا بڑا حصہ حاکم کو ، پھر خود اور باقی جو بچتا کسان کو ملتا۔ یعنی کسان پیداوار کرتا تھا لیکن اس کو سب سے کم حصہ ملتا تھا۔ کیوں؟ حالانکہ کسان تعداد میں زیادہ ہوتے تھے؟
تاریخی مادیت اور اینگلز و مارکس کے نظریے سے پہلے اس کی کئی تاویلیں کی جاتی تھیں۔ کئی جواز پیش کیے جاتے تھے اس غیر منصفانہ تقسیم کے۔ شاید یہ سوال تاریخ کے کسی مرحلے پر پیدا ہوا کہ ملکیت اور محنت کا یہ نطام کس نے بنایا تھا؟ قدیم عہد میں اس پر دو بڑے نظریے پائے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ یہ اللہ کی مرضی تھی۔ اللہ کسی کو زیادہ طاقت و اختیار اور رزق دیتا تھا اور کسی کو کم۔ یہ قسمت کے کھیل تھے۔ دوسرا نظریہ یہ تھا کہ طاقت و اختیار دیتا تو اللہ ہی ہے لیکن طاقت والے لوگ اس کو غلط استعمال کرتے ہیں ۔ اس دور کے صالحین اور رہنماؤں کی طرف سے یتیموں کا مال نہ کھانے اور کمزوروں ناداروں اور مسکینوں کا خیال رکھنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اکثر رعایا بشمول غریب، مسکین، نادار، کمزور اور کسان قسمت کی اس سمجھ بوجھ کے اتنے زیر اثر رہتے تھے کہ غیر منصفانہ تقسیم پر سوال اٹھانا تو درکنار سوچنے کو بھی گنا کبیرہ سمجھتے تھے۔ اکثر خود کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے کہ شاید ان کے اعمال ایسے نہیں تھے کہ اللہ خوش ہو کر ان کو زیادہ دیتا۔ کچھ اپنے رہنماؤں اور پیشواؤں کی ان باتوں کو تسلیم کرتے تھے کہ ان کو اگلے جہان ان تکالیف و مصائب کا اجر ملے گا۔
تاریخی مادیت کے نظریے کی روشنی میں تاریخ کو پڑھا گیا تو یہ عقدہ کھلا کہ سوال ملکیت کا تھا۔ بڑا حصہ وہ لیتا تھا جو زمین کا مالک تھا۔ پھر وہ جو مالک کے لیے براہ راست کا م کرتا تھا اور پھر جو بچتا وہ اس کو ملتا جو پیداوار کرتا تھا۔ یعنی تاریخی علم کی روشنی میں صاف نظر آتا ہے کہ دولت کی غیر مساوی اور غیر منصفانہ تقسیم یعنی اونچ نیچ کا رواج درحقیقت تاریخ کے ایک مرحلے پر پیداواری ذرائع کی غیر برابر ملکیت اور غیر منصفانہ تقسیم سے پیدا ہوا تھا ۔ [10]
تاہم ' مالکوں ' کی طرف سے نجی ملکیت کو شدید تحفظ حاصل رہا اور آج بھی حاصل ہے۔ ملکیت کے اس نظام سے بتدریج پیداواری تعلقات کی اگلی شکل جاگیرداری پیدا ہوئی جو برصغیر کے بہت سے خطوں میں ابھی تک نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ آج بھی مذہبی عقائد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ 16 مارچ 1846 کو جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور جموں کے راجہ گلاب سنگھ کے درمیان امرتسر کے مقام پر معائدے کے نیتجے میں ریاست جموں کشمیر وجود میں آئی تو اس میں شامل ہونے والے علاقوں میں قبائلی و جاگیرداری نظام جڑیں پکڑ چکے تھے۔ کہیں دونوں کی شکلیں موجود تھیں۔( میرپور میں تو آج بھی قبائلی اور جاگیرداری تعلقات اور نظام موجودہ ' سوداگری' اور ' دوکانداری' نظام کی مختلف شکلوں کے ساتھ ساتھ جاری و ساری ہیں) ۔
اب اگر 1846 میں موجودہ ( منقسم ) ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد کو ذہن میں رکھ کر سوچیں تو زمین جو لوگوں کی روزی روٹی اور ریاست کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھی وہ مہاراجہ کی ملکیت تھی۔ کیونکہ مہاراجہ نے ریاست برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو رقم ادا کر کے ریاست اپنے نام کروائی تھی جس میں ریاست کی حدود کے اندر زمین، اس پر بسنے والے لوگ اور وسائل شامل تھے۔ تاہم نہ تو یہ ساری رقم مہاراجہ نے خود ادا کی تھی اور نہ ہی وہ ساری ریاست کی زمین خود کاشت کر سکتا تھا ۔ اس لیے اس نے زمینوں کا ایک بڑا حصہ ان جاگیرداروں کے پاس رہنے دیا جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ادا کی جانے والی رقم میں حصہ ڈالا تھا۔ اس عہد کی تاریخ لکھنے والے اکثر مورخ جانے یا ان جانے میں یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ ان جاگیرداروں میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی ۔
تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ہندو اور سکھ جاگیردار زیادہ تھے اور ان کو مزید جاگیریں عطا کی گئیں ۔ لیکن غور کریں تو یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ یہ اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہ ہندو اور سکھ تھے بلکہ اس لیے کہ وہ پہلے سے جانے کتنی نسلوں سے جاگیردار چلے آ رہے تھے ۔ وہ جاگیر کی حیثیت سے مہاراجہ کے لیے اپنا کام بہتر طور پر کر سکتے تھے۔ان کے پاس جاگیرداری کا تجربہ تھا۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ ان زمینوں کو کاشت کروا کر پیداوار کا کچھ حصہ خود رکھیں اور باقی مہاراجہ سرکار کو ادا کریں۔ جاگیردار مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کو زمینوں کی کاشت کے لیے کسانوں کی ضرورت تھی۔ کسانوں کی بہت بڑی اکثریت اس عہد تک مسلمانوں پر مشتمل ہو چکی تھی اس لیے اکثر مسلمان اور غیر مسلم جاگیرداروں کی زمینوں پر کاشتکاری مسلمان کسان ہی کرتے تھے۔ کچھ مورخین جو ایک بار پھر جانے یا ان جانے میں ریاست جموں کشمیر اور اس کی تشکیل سے پہلے اس کے خطوں خاص طور سے وادی کشمیر کی تاریخ کا آغاز چودھویں صدی میں یہاں اسلام کا غلبے کو ہی سمجھتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ امیر جاگیرداروں میں مسلمانوں کی شرح کم اور غریب کسانوں میں مسلمانوں کی شرح اتنی زیادہ کیوں تھی وہ بھول جاتے ہیں کہ مسلم راج سے پہلے سب ہندو تھے۔ اس سے پہلے ایک بہت بڑی تعدا د بُدھ اور اس سے پہلے پھر ہندو۔ بادشاہوں کے ساتھ کسانوں کے مذہب بھی بدل جاتے تھے لیکن حالات نہیں۔ کسانوں کی اکثریت اگر ڈوگرہ ریاست میں محنت کے باوجود غربت کی زندگی بسر کر رہی تھی تو رنجیت سنگھ سے پہلے ابدالی اور اس سے پہلے مغلوں اور حتیٰ کہ عظیم اور مہربان بادشاہ زین العابدین کے عہد میں بھی خوشحال نہیں تھی۔ غیر مساوی تقسیم اور اس کی بنیاد پر طبقات تب بھی موجود تھے ۔ اب بھی موجود ہیں۔ آزاد کشمیر میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے ۔ یہاں بھی ، آج بھی ، اتنے وسائل کے باوجود بھی لاکھوں انسان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔اب تو حاکم بھی مسلمان ہیں اور محکوم بھی۔ پھر ایسا کیوں ہے؟َ ان سوال پر نظریات والے باب میں بحث کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ معاشرے میں نظریات اور بیانیے کیسے پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں۔
جس طرح اپنی زندگی کی حقیقت کو سمجھے بغیر حقیقی اطمینان اور خوشی حاصل کرنا مشکل ہے، اسی طرح اپنے معاشرے کو سمجھے بغیر اس کی حقیقی آزادی، ترقی اور خوشحالی کے لیے کامیاب جدوجہد کرنا بھی مشکل ہے۔
جہاں تک ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد میرپور میں زمین کی ملکیت اور کاشتکاری کے پیداواری عمل کا تعلق ہے یہاں بھی اس عمل سے تین بڑے طبقے جو پہلے بھی موجود تھے جاری و ساری رہے۔
سب سے اوپر اصل مالک مہاراجہ اور مہاراجہ کا خاندان
پھر مہاراجہ کے مذہب اور ذات والے ۔ یعنی برہمن
پھر مہاراجہ کی برادری ۔ یعنی ڈوگرے اور راجے ( ان میں مسلمان جاگیردار بھی شامل تھے)
پھر چھوٹے زمیندار
سب سے نیچے پیداوار کرنے والے کسان جن میں سے کچھ مالک تھے ، کچھ کرایہ دار اور کچھ مزارع
اس سے نیچے زمینداروں اور جاگیرداروں کو مختلف خدمات فراہم کرنے والے دست کار۔ جن کو اس قبائلی اور جاگیردار سماج میں کمی کہا جاتا تھا۔ اور کمی کا مطلب نیچ بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ کام کرنا بہت ہی مشکل تھا اور کوئی خوشی سے نہیں کرتا تھا۔ بلکہ مجبوری سے کرتا تھا۔ چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کو اگرچہ ایسا کہا نہیں جاتا تھا لیکن سلوک ان کے ساتھ بھی وہی کیا جاتا تھا۔ یعنی جن لوگوں کی محنت پر سماج کھڑا تھا اور جن کی محنت سے سب کے لیے روزی پیدا ہوتی تھی وہی اس سماج کے سب سے دبے کچلے ہوئے اور کم عزت طبقات بنا دیے گے تھے۔
عز ت ، حیثیت اور اختیارات کا تعلق پیداوار پر حق اور حصے سے تھا۔ پیداوار کا بڑا حصہ مہاراجہ کو ملتا تھا، پھر جاگیرداروں کو اور باقی جو کچھ بچ جاتا تھا وہ کسان کو۔ " دانے پھکے' کی مقدار امارت کا پیمانہ تھا جیسے آج روپیہ۔
مقامی سطح پر جاگیردار ہی ' مہاراجہ' یعنی ماہی باپ تھے۔ وہ پیداوار کا بہت بڑا حصہ لینے کے ساتھ ساتھ زمیندار سے مختلف قسم کے ٹیکس بھی وصول کرتے تھے۔ مثال کے طور پر کاہ چرائی ، جنگل کا مالیہ ، کڑاہاٹوں ( پن چکیوں) کی آمدنی پر ٹیکس اور قانونی جرمانے وغیرہ۔
مختلف خطوں میں جاگیرداروں کی اور قسمیں یا پہچانیں بھی تھیں جیسے پٹہ دار، علاقہ دار، معافی دار اور مقرری دار وغیرہ
اب ظاہر ہے کہ جاگیردار یہ سب کام خود تو نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے ان کے نیچے زیلدار، نمبر دار اور چوکیدار وغیرہ ہوتے تھے۔ ریاست کی تقسیم تک چوکیدار سے لے کر مہاراجہ تک سب کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ کسان کی محنت کے ذریعے زمین سے پیدا ہونے والا اناج تھا۔ یوں اس عہد میں دو بڑے طبقے جو تھے وہ کسان اور جاگیردار تھے ۔ اس زاویے سے مہاراجہ بھی دراصل جاگیردار تھا جو ریاست میں زمین کا سب سے بڑا مالک تھا۔ تعداد کے لحاظ سے کسان سب سے بڑا طبقہ تھا۔ تاہم قریب سے دیکھیں تو ان میں بھی آگے پرتیں تھیں۔ مزارعوں اور جاگیرادار کے درمیان ایک طبقہ تھا جو زمین دار تھا لیکن اپنی زمین پر خود ہل چلاتا تھا ۔ کچھ جو تھوڑے بڑے زمین دار تھے یا کسی وجہ سے اپنی زمین خود کاشت نہیں کر سکتے تھے وہ کچھ زمین کسی بے زمین کسان کو ' پھکے' پر دے دیتے تھے۔ جس پر ' بہھاک مزارعے' کام کرتے تھے۔ س پر پہاڑی زبان کے بڑے شاعر استاد سلیم رفیقی نے ایک معروف نظم بھی لکھی ہے۔ ایسی صورت میں حصہ اکثر آدھا آدھا ہوتا تھا۔ زمین پر مزارعے کسانوں اور دستکاروں / کسب داروں کے ساتھ کھڑے ہو کر دیکھیں تو یہ یعنی چھوٹے اور درمیانے زمیندار ( اس دور میں ) دستکاروں کی نسبت قدرے خوشحال تھے اور اوپرلے طبقے کی نچلی پرتوں کے ساتھ میل کھاتے تھے۔اکثر کے تعلقات کی پہنچ زیلداروں، نمبرداروں اور چھوٹے سرکاری افسروں تک ہی ہوتی تھی۔ قریب سے دیکھنے پر اس زمیندار کو اس عہد کا متوسط طبقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک طرف قدرے خوشحالی اور ' اوپر' تعلقات کے ذریعے اوپرلی پرت کے ساتھ جُڑا ہوا تھا اور دوسرے طرف زمینداری خود کرنے کی وجہ سے کسان کے ساتھ بھی جڑا ہوا تھا۔ میری معلومات کے مطابق مہاراجہ عہد میں میرپور میں جاگیردار زیادہ تر ہندو اور سکھ ہی تھے۔ زمینداروں میں مسلمانوں کی شاید اکثریت تھی۔ تاہم اس پہلو پر مزید معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی اہم بات ہے کہ پیداواری تعلقات صرف زمین کے مالکوں اور زمین پر ہل چلانے والے کسانوں تک ہی محدود نہیں ہوتے۔ ہم جس عہد کی بات کر رہے ہیں اس تک پہنچتے پہنچتے میرپور میں کاشتکاری کی معیشت ( زراعت) محنت کی تقسیم کے ہزاروں سالوں پر محیط مسلسل عمل کے نتیجے میں کئی ایک پیشوں/ کسبوں میں تقسیم ہو چکی تھی اور ان کسبوں/پیشوں سے تعلقات کا ایک پیچیدہ اور خاصا گھنا سماجی تانا بانا پیدا ہو چکا تھا ۔ کسان اور زمیندار کے ساتھ ساتھ کسبوں کا یہ تانا بانا تقسیم سے قبل کے میرپوری معاشرے کی جڑ بنیاد تھا ۔زمین سے اناج اگانے کے لیے کسان کو بیلوں کے لیے ہل پنجالی کی ضرورت تھی ۔ ہل پنجالی ترکھان بناتا تھا۔ جب کہ ہل کو پھال ( لوہے کا تیز نوکیلا حصہ جو کسان کی ہتھی تلے بیلوں کے زور سے زمین کا سینا چیرتا ہے ) کی ضرورت ہوتی تھی ۔ پھال لوہار بناتا تھا۔ بیلوں کی بھاگیں اور چھکے وغیرہ کسان اور زمیندار خود بنا لیتے تھے۔ کسان ، ترکھان اور لوہار یہ ساری محنت کیوں کرتے تھے؟
اناج (روٹی) کے لیے۔
روٹی کہاں سے آتی تھی ؟
زمین سے۔
اسی طرح دیگر بہت سے پیشے وجود میں آئے ۔دوسرے پیشوں میں درزی، موچی، نائی، مستری، تیلی، کاسوی، کمہار، چوڑے چمیار، مسلی، مراثی وغیرہ وغیرہ ۔
اس عہد میں مسجد کا امام یعنی مولوی صاحب کو بھی فصلوں کی پیدوار سے حصے کی شکل میں ' تنخواہ' دی جاتی تھی ۔ یوں وہ بھی اپنی سروسوں کے بدلے اناج میں حصہ پاتے تھے۔
ہر ایک پیشے کا مقصد اناج تک پہنچنا ہوتا تھا ۔ مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں محنت مزدوروی، ملازمت حتیٰ کہ مزدوری کے لیے ترک وطن کو بھی روٹی کمانے کا عمل کہا جاتا تھا۔
بس جی روٹی کما رہے ہیں۔ بیٹا یا بھائی روٹی کمانے گیا ہے۔ بس جی لگے ہوئے زمینوں سے روٹی کمانے۔ اب اس کے معنی میں وسعت آ گئی ہے۔ پیشے کئیریر بن گئے ہیں۔
زمیندار کی حیثیت کیوں زیادہ تھی؟ اس کی واضح وجہ یہ تھی کہ سب کو روزی زمین سے ملتی تھی اور زمین زمیندار کے پاس تھی۔ لہذا جس طرح پوری ریاست میں مہاراجہ سب سے بڑا جاگیردار ہونے کی وجہ سے سب سے اونچی حیثیت کا مالک تھا اس ہی طرح گاؤں کی سطح پر زمیندار کی حیثیت سب سے اونچی تھی۔
تاہم یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میرپور ( اور ریاست ) میں اگرچہ طبقاتی تقسیم موجود تھی اور بڑے زمینداروں سے لے کر سب سے اوپر مہاراجہ تک ' جاگیرداروں' کو بہت سی مراعات حاصل تھیں اور ان کے پاس دولت اور اختیار بھی تھا تاہم ان کے اور عام چھوٹے زمیندار ، کسان اور دستکار کے درمیان سماجی فاصلہ بہت زیادہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر اندرون پنجاب میں مالک اور مزارعوں کے درمیان جتنا فاصلہ تھا میرپور میں اس سے بہت کم تھا۔ کیونکہ یہاں زمین اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی پنجاب میں ۔
بہرحال یہ تھی عوامی سیاست کے ظہور سے پہلے مہاجہ راج کے دوران ریاست جموں کشمیر کے اندر معاشرتی ڈھانچے کی جڑ بنیاد۔ پورا راج اس پھر کھڑا تھا۔ زمین پر اس ڈھانچے کو کسان ، زمیندار اور اوپر بیان کیے گئے تمام کسب دار پیشوں کے محنت کش مرد اور عورتیں ہر لمحے دھکیلتے رہتے تھے۔ وہ اس معیشت کا ا نجن تھے۔ اس میں کسان و زمیندار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ کیونکہ وہ اناج پیدا کرتے تھے ۔ اس حقیقت کو تقسیم سے پہلے ریاست کے باشعور باشندے سمجھنے لگے تھے۔ 1932 کی " مالیہ بند تحریک" کے دوران سردار بدھ سنگھ نے اس بات کو ان الفاظ میں رعایا خاص طور سے کسانوں کو بتایا تھا۔
"کسانو تم پیداوار کرتے ہو اور مہاراجہ کی بلبلیں آتی ہیں اور کھا جاتی ہیں۔ راجہ کا راج تمھارے ہل پر کھڑا ہے ۔ اگر تم ہل روک لو تو راج زمین بوس ہو جائے۔"
ڈدیال کے معروف عالم دین اور سیاسی رہنما مولانا عبداللہ سیاکھوی نے اس کو اپنی مشہور عام نظم ' لیتر نامہ' ( اس کو کچھ لتر نامہ بھی کہتے ہیں) میں بھی اس تقسیم کو سمویا تھا۔ بعد ازاں استاد سلیم رفیقی نے اپنی نظموں ' مہاڑی ریت' اور ' مزارع' میں پیش کیا تھا۔
ریاست میں سب سے بڑے طبقے کی دریافت کے بعد اس کے سیاسی شعور میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہاراجہ راج ناقابل شکست نظر آنے کے باوجود بتدریج فرسودہ ہو کر کمزور ہوتے ہوتے آخر ٹوٹ بکھر گیا۔
1931/32 میں جو تحریک اٹھی تھی ، خاص طور سے مالیے میں اضافے کے خلاف وہ ' مالیہ کی تحریک' تھی ۔ اس کی قیادت میں ہندو ، مسلمان اور سکھ شامل تھے۔ انہوں نے اس تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ ان میں ان ساہوکاروں کے بیٹے بھی تھے ۔ وہ اس تحریک کو ایک ظالمانہ حکومتی اور ساہوکارہ نظام کے خلاف تحریک سمجھتے تھے۔ لیکن کچھ مسلمان اور ہندو لیڈروں نے اس کو مذہبی فرقہ واریت کی طرف موڑ دیا۔ ایسا کرنا آسان تھا۔ کیونکہ واقعی میرپور کے حکومتی ڈھانچے میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ خاص طور سے محکمہ مال میں جو سب سے بڑا محکمہ تھا کیونکہ وہ ریاست میں پیدوار کے سب سے بڑے زریعے زمین سے ہونے والی پیداوار کا انتظام چلاتا تھا۔ تاہم سیاست کے نیچے جو حقیقت عام رعایا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی کہ:
کسانوں کی اکثریت مسلمان تھی ۔ سب کسان مسلمان نہیں تھے۔ ہندو بھی تھے۔
جاگیرداروں اور ساہوکاروں کی اکثریت ہندو تھی ۔ سب جاگیردار اور ساہوکار ہندو نہیں تھے۔ اصل مسئلہ وہ مہاراجہ نظام تھا جس کی جڑیں صدیوں میں اُتری ہوئی تھیں۔ یہ نظام کسان کے ہل اور دستکاروں کے اوزاروں اور محنت پر کھڑا تھا۔ لیکن کسان اور دستکاروں کی محنت کا مقصد زمین سے روزی حاصل کرنا تھا اور زمین کا اصل مالک ریاست کا سربراہ ہوتا تھا۔ ایسا ریاست جموں کشمیر میں بھی تھا جہاں کی اکثریت مسلمان تھی لیکن حکمران ہندو تھا۔ لیکن ایسا ان ریاستوں میں بھی تھا جہاں کے حکمران مسلمان نواب اور نظام تھے لیکن پرجا کی اکثریت ہندو تھی۔ لیکن یہ حقیقت عوام کی کثریت سے اوجھل تھی اس لیے یہاں بغاوتیں مذہبی رنگ اختیار کر جاتی تھیں۔ یا کچھ چالاک لیڈر ان کو مذہب کی طرف موڑ کر اپنے مفادات حاصل کرتے تھے۔
ریاست جموں کشمیر میں بھی اس مغالطے کی وجہ سے سیاست جلد ہی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو بدلنے اور ناانصافیوں کو ختم کرنے کی راہ سے ہٹ کر فرقہ واریت کی اندھی کھائی کی طرف لڑھک گئی اور نفرت کے سمندر میں غرق ہو گئی۔ غیر منصفانہ ملکیت اور تقسیم کا نظام یعنی معاشرتی ڈھانچہ وئیں کا وئیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فرقہ ورانہ سیاست پر تو کہی پہلوؤں سے کتابوں کی کتابیں لکھی گئیں ، لیکن اس سیاست کے نیچے روزی روٹی کمانے کے رشتوں سے بُنے ہوئے تانے بانے اور ان رشتوں کو بہتر بنانے کی سیاست کے بارے کچھ کم ہی پڑھنے کو ملتا ہے۔ میرپور کے معاشرتی ڈھانچے پر تو 1932 کی مالیہ تحریک کو کچلنے کے لیے آنے والے برطانوی راج کے نمائندے میجر سالزبری کی طرف سے تیار کی جانے والی رپورٹ کے سواء سماجی تاریخ کی کوئی تحریر شاید کہیں ہو مگر میری نظر سے تو نہیں گزری۔
اس رپورٹ کی کچھ متعقلہ جھلکیاں یہاں پیش کی گئی ہیں ۔ اس رپور ٹ کا تفصیلی تجزیہ الگ سے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
اس رپورٹ کا عنوان تھا KASHMIR DISTURBANCES ( کشمیر میں شورش) ۔
دستاویزی وضاحت: «Kashmir Disturbances» اس دور کی شورش اور اس سے متعلق سرکاری خط و کتابت کا وسیع عنوان ہے۔ میرپور تحصیل کے اراضی مالیے اور انتظام کے بارے میں میجر سی۔ وی۔ سالسبری کی 14 مئی 1932ء کی رپورٹ ایک الگ دستاویز ہے۔ اس لیے جہاں اصل رپورٹ کے نتائج بیان کیے گئے ہیں، وہاں اسی کا حوالہ دیا گیا ہے؛ اور جہاں بعد کے سرکاری افسران کی رائے ہے، اسے ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے تین مقاصد تھے۔
1۔ میرپور میں زرعی اور دیہہ صورت حال اور ریاستی انتظامیہ کی مختلف شاخوں میں بہتری لانے کے سوال پر رپورٹ کی تیاری
2۔ میرپور سے فوجوں کی واپسی کا سوال
3۔ سینئر سول افسر، کشمیر دربار اور فوج کے کمان دار کے تعلقات بارے ہدایات
اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 11 جنوری 1932 کو ریاست جموں کشمیر سرکار کی طرف سے میرپور میں شورش کے حوالے سے ایک ٹیلی گرام برطانوی ہند کی حکومت کی بھیجی گئی تھی جس میں درخواست کی گئی کہ ریاستی حکومت کو ایک جہاز دیا جائے جس پر سے جموں کے کسانوں کے لیے مالیے کی نئی شرح ادا کرنے کی ہدایات پر مشتمل اشتہارچے گرائے جائیں گے۔
اگلے دن یعنی 12 جنوری 1932 کو اس معاملے پر ایک اجلاس میں مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر اس درخواست کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پہلی وجہ یہ کہ برطانوی ہند سرکار کو یقین نہیں تھا کہ نوٹسوں میں جو مالیے کی جو شرح مانگی گئی ہے وہ موجود حالات میں معقول اور منصفانہ ہے اور برطانوی ہند کی حکومت ' دربار' اور اس کے' کرایہ داروں' کے درمیان جھگڑے میں کسی کی طرف داری نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ان خطوط پر تعاون کے لیے ضروری ہے کہ 'ریزیڈنٹ' زرعی حالات کا جائزہ لے کر اپنی رائے پیش کرے کہ درباری کی طرف سے جو ریاعات دی گئی ہیں وہ موجودہ صورت حال میں کافی ہیں۔ ریزیڈنٹ سے کہا جانا چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو وہ اس معاملے پر اپنی رائے پیش کرے۔
ایک اور وجہ جہاز نہ دینے کی یہ بھی بیان کی گئی کہ نوٹس مفاہمتی نہیں بلکہ دھمکی آمیز تھے۔
31 جنوری 1932 کو پنجاب کے گورنر جعفری مونٹ مورینسی نے وزیر داخلہ مسٹر ایمرسن کو خط لکھا جس میں کہا گیا :
" میرے خیال میں 'ریذیڈنٹ' یا میجر سالز بری سے کہا جائے کہ میرپور پہنچ کر یہ معلوم کرنے کے لیے صورت حال کا جائزہ لے کہ میرپور ، کوٹلی اور پونچھ وغیرہ میں بغاوت کی بنیادوں میں حقیقی معاشی شکایات کس حد تک موجود ہیں۔
کیونکہ اگر اس کی سیاسی - فرقہ ورانہ وجوہات کو دبا بھی دیا گیا تو اگر اس کی بنیاد میں جائز شکایات موجود ہیں تو بعد میں یہ دوبارہ بغاوت ہو سکتی ہے۔ "
اس رپورٹ میں بھی کسانوں اور دستکار پرتوں کی بجائے مذہبی فرقہ وارانہ نقطہ نظر سے معاشرے کو دیکھا گیا ۔ اس رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ میرپور میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے باوجود محکمہ مال اور دیگر شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ مالیہ تحریک مالیے کی اونچی شرح کے خلاف شروع ہوئی تھی اور اس میں تمام طبقات کے لوگ شامل تھے۔ اس کے رہنماؤں میں سردار بدھ سنگھ، راجہ محمد اکبر،مولانا عبداللہ سیاکھوی اور کئی ایک دیگر رہنما شامل تھے ۔ مسلمانوں نے مساجد میں قران پر حلف لے رکھا ہے کہ نئی شرح کے مطابق مالیہ ادا نہیں کرنا ہے۔ اس لیے صورت حال کا حل یہ ہے کہ مالیے کی شرح میں اضافہ واپس لیا جائے ۔ اس تحریک میں شامل کئی فعال کارکنان اور رہنماؤں کو جموں کشمیر وبرطانوی ہند سرکاروں کی طرف سے جیلوں میں ڈھالا گیا اور پھانسیاں بھی دی گئیں۔ اس کی تفصیلات کی یہاں ضرورت نہیں ۔ اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اگر 1931 میں مہاراجہ راج کی سیاسی گرفت کو سری نگر میں ریشم کارخانے کے مزدوروں اور عوامی ابھار نے کمزور کر دیا تھا تو 1932 میں اس کی معاشی بنیاد کو میرپور کے کسانوں اور عوام کی مالیہ تحریک نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ان واقعات کی سیاسی تاریخ کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی جڑا ہے: اس وقت میرپور کے کسانوں کی معاشی حالت کیا تھی؟ سالسبری کی رپورٹ میں اس سوال کا کچھ جواب ملتا ہے۔ اس نے کسانوں کی کئی شکایات کو اہم سمجھا، لیکن ان کا حل زیادہ تر سرکاری انتظام بہتر بنانے میں تلاش کیا۔ بعد میں محکمۂ مال کے افسروں نے اس کے بعض نتائج سے اختلاف کیا۔ اس لیے رپورٹ کے شواہد اور افسروں کی آرا کو الگ الگ پڑھنا ضروری ہے۔
سالسبری رپورٹ: زمین، مالیہ اور معاشی تعلقات
رپورٹ میں درج اعداد اور مشاہدات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مالیہ بند تحریک کے وقت زمین پر محنت کرنے والے لوگوں کی زندگی کن حالات میں گزر رہی تھی۔ پہلے زمین اور پیداوار کے حالات دیکھتے ہیں، پھر قرض، بیرونی روزگار اور سرکاری انتظام کے سوالات پر آتے ہیں۔
زمین کی ملکیت اور خاندان کی کفالت
سالسبری نے لکھا کہ میرپور کے کئی کاشت کاروں کے پاس اتنی زمین نہیں تھی کہ اس کی پیداوار سے پورے خاندان کی ضروریات پوری ہو سکتیں۔ زمین کا مالک ہونا ضروری نہیں کہ معاشی تحفظ بھی فراہم کرے۔ بعض خاندانوں کے افراد ریاست سے باہر کام یا تجارت کرکے گھر کو رقم بھیجتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میرپور کی معیشت صرف مقامی کھیتی باڑی تک محدود نہیں تھی۔ (سالسبری رپورٹ، مطبوعہ صفحات 3 اور 10)
بندوبستی ریکارڈ میں زمین کی اوسط ملکیت اور زیرِ کاشت رقبے میں تبدیلی کے اعداد بھی ملتے ہیں۔ ان اعداد سے ہر گھرانے کی الگ حالت معلوم نہیں ہوتی، لیکن یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جب زمین کے قطعات چھوٹے ہوتے جائیں تو خاندان کا گزارہ کیسے ہو؟ (مطبوعہ صفحہ 10)
پیداوار اور ریاستی مالیہ
رپورٹ کے بندوبستی حساب کے مطابق مجموعی پیداوار کی تخمینی مالیت 12,84,736 روپے تھی۔ اس میں سے 24,474 روپے کی منظور شدہ کٹوتیوں کے بعد خالص پیداوار کی تخمینی مالیت 12,60,262 روپے بنتی تھی۔ منظور شدہ اراضی مالیہ 2,64,305 روپے تھا، یعنی اس تخمینی خالص مالیت کا تقریباً 21 فیصد۔ لیکن یہ پورے تحصیل کا سرکاری تخمینہ تھا، کسی ایک کسان کی حقیقی کمائی یا اس کے تمام اخراجات کا حساب نہیں۔ (مطبوعہ صفحہ 11)
سالسبری نے اعتراض کیا کہ فصلوں کی پیداوار اور قیمتوں کے بعض تخمینے زیادہ رکھے گئے اور کچھ اخراجات کا مناسب لحاظ نہیں کیا گیا۔ اس لیے مالیے کا بوجھ جانچنے کے لیے صرف 21 فیصد کی شرح دیکھنا کافی نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس شرح کے لیے آمدنی کا تخمینہ کیسے بنایا گیا تھا۔ (مطبوعہ صفحات 4 اور 11)
قرض، ساہوکاری اور مذہبی شناخت
سالسبری نے مسلمان زمینداروں کی مقروضی اور ہندو ساہوکاروں سے ان کے مالی تعلقات کا ذکر کیا۔ اس نے انہیں کشیدگی کے اسباب میں شمار کیا۔ مگر قرض خواہ اور قرض دار کے درمیان معاشی طاقت کا فرق، اور ان کی مذہبی شناخت، دو الگ باتیں ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر ساہوکار یا ہر کسان کی حالت ایک جیسی رہی ہو۔ بعد کے سرکاری تبصروں میں سالسبری کی بعض باتوں سے اختلاف بھی کیا گیا۔ (مطبوعہ صفحات 3 اور 21 تا 25)
میرپور سے بیرونی روزگار کی پرانی روایت
سالسبری کی رپورٹ اور اس پر سرکاری تبصروں میں ریاست سے باہر کام اور تجارت کرکے رقم کمانے والوں کا ذکر ہے۔ کلکتہ، بمبئی اور برما جیسے مقامات کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ میرپور کے لوگوں کی روزگار کے لیے نقل مکانی کی تاریخ برطانیہ کی طرف 1960ء کی دہائی کی ہجرت سے پہلے کی ہے۔ البتہ اس پرانی نقل مکانی اور بعد کی بین الاقوامی ہجرت کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ (مطبوعہ صفحات 3 اور 21 تا 23)
سرکاری افسروں کے درمیان اختلاف
سالسبری نے زمین کے ریکارڈ، محکمۂ مال کے عملے اور مالیے کے بعض تخمینوں پر تنقید کی اور اصلاحات تجویز کیں۔ دوسری طرف محکمۂ مال کے اعلیٰ افسروں نے ان کے کئی اعتراضات سے اختلاف کیا اور بندوبستی حسابات کا دفاع کیا۔ اس لیے سرکاری ریکارڈ کو ایک ہی متفقہ مؤقف سمجھنا درست نہیں۔ سالسبری کی بات اور اس کے جواب میں دی گئی رائے الگ الگ دیکھنی چاہیے۔ (اصل رپورٹ، مطبوعہ صفحات 3 تا 5؛ بعد کی مراسلت، صفحات 21 تا 25)
ان شواہد سے کیا سمجھ آتا ہے؟
میرپور میں زمین پیداوار کا بنیادی ذریعہ تھی۔ کسان محنت کرکے فصل اگاتا تھا، مگر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ریاستی مالیے، قرض اور دوسرے واجبات کا بھی اثر پڑتا تھا۔ بیرونی روزگار سے آنے والی رقم اس معاشی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ یہی وہ حالات تھے جن میں 1932ء کی تحریک اٹھی۔ البتہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تحریک کا ہر واقعہ صرف معاشی وجہ سے پیش آیا۔ سیاسی قیادت، مذہبی تشریحات اور ریاستی اقدامات نے بھی اس کی صورت بنائی۔
سالسبری نے ان مسائل کا حل بنیادی طور پر انتظامی اصلاحات میں تلاش کیا۔ اس نے زمین کی ملکیت اور پیداوار کی تقسیم کے پورے نظام کو بدلنے کی تجویز نہیں دی۔ ہماری بحث کا مقصد اس سے مختلف ہے: ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ زمین، محنت، قرض اور ریاستی اختیار کے ان تعلقات نے عام لوگوں کی زندگی کو کیسے متاثر کیا۔ اسی سے اگلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1947ء کے بعد ان تعلقات میں کیا بدلا اور کیا برقرار رہا۔
ماخذ: C. V. Salusbury، میرپور تحصیل کے اراضی مالیے اور انتظام سے متعلق رپورٹ، 14 مئی 1932ء، مطبوعہ صفحات 3–5 اور 10–12؛ متعلقہ بعد کی سرکاری مراسلت، مطبوعہ صفحات 21–25۔ یہ اصل دستاویز کے مطبوعہ صفحات ہیں، PDF کے صفحہ نمبر نہیں۔
یوں 1932ء کے شواہد ہمیں اس سوال تک پہنچاتے ہیں جو اس کتاب کی اگلی بحث کا مرکز ہے: اگر 1947ء میں اقتدار اور حکمرانوں کی شناخت بدل گئی تو زمین، پیداوار، محنت اور عام لوگوں کی زندگی پر اختیار رکھنے والے بنیادی رشتوں میں کتنی تبدیلی آئی؟
خلاصہ اس حصے کا یہ ہے کہ مسلمان آبادی کی اکثریت کی محرومیوں، پسماندگیوں اور مصائب کی بنیادی وجوہات 1947 غیر مسلم نہیں تھے بلکہ وہ استحصالی نظام تھا جو ان گنت صدیوں سے کسان کی ہل اور کسب داروں کی محنت سے پیدا ہونے والی پیداوار پر پل رہا تھا۔ ان دو بڑی عوامی تحریکوں نے اس راج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ عوامی سیاست کے دباؤ کی وجہ سے سیاست کے میدان میں انتخابات کے ذریعے نمائندے چُننے کے ساتھ ساتھ کسانوں اور زمینداروں کو زمین کی ملکیت دینے کی طرف بھی پیش رفت جاری تھی۔ لیکن پھر غدر پڑ گیا ۔ جس کو ہمارے اس عہد کے بزرگ ' رولا' کہا کرتے تھے۔
یہاں ہمارے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ اس ' غدر' ، ' رولے' یا ' جہاد' کے نتیجے میں مہاراجہ راج کے خاتمے اور غیر مسلوں کے قتل عام اور ان کے میرپور چھوڑ جانے کے سواء کچھ خاص نہیں بدلا تھا۔ وہ نظام جس نے مزدور کسان و دستکار اور چھوٹے زمیندار کو جھکڑا ہوا تھا ، جس نے عام انسانوں کی زندگیاں اجیڑن بنائی ہوئی تھیں ۔ وہ نظام صیح سالم تھا۔ یعنی حقیقی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
ختم کیا ہوا تھا؟ مہاراجہ راج۔ غیر مسلم باشندوں کا وجود۔ نظام وئیں کا وئیں رہا ۔ بلکہ بد سے بد تر ہوتے ہوتے اب تو عام آدمی کے لیے عفریت بنتا جا رہا ہے۔
1947 میں کیا بدلا؟ پرانے نظام کے نئے رکھوالے
میرپور سے جب ہندو اور سکھ ختم ہو گئے۔ کچھ مارے گئے ، کچھ جان بچاکر بھاگ گئے۔ اوپر پوری ریاست سے مہاراجہ نظام بھی ختم ہو گیا۔ تو ان کی جگہ کس نے لی؟
آزاد کشمیر میں عوامی حقوق اور بہتر سماج قائم کرنے کے علم برداروں کے لیے یہ سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سوال کو ایمانداری سے سمجھے بغیر یہاں ایک حقیقی عوامی حقوق ، آزادی اور ترقی کی تحریک و سیاست نہیں تعمیر پا سکتی۔
یہاں اس کے صرف موٹے موٹے پہلوؤں کی فہرست دی گئی ہے۔ اصل میں اس پر ورکشاپوں کی ضرورت ہے جن میں ہر ضلع میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے سنجیدہ اور سینئیر افراد کو مدعو کر کے اس کا ٹھوس ، حقیقی اور ایماندارانہ تجزیہ کر کے اس کی اصلی یعنی سائنسی سمجھ حاصل کی جانی چاہیے۔ میرپور میں مارکسیوں نے سائنسی سیاست، طبقاتی جدوجہد اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے سیاسی میدان میں کام تو بہت کیا ہے۔ زندگیاں وقف کی ہیں۔ لیکن غور کریں تو عملی طور پر ان کا انداز فکر وہی ہے ہیگل والا۔ وہ سر کے بل کھڑے ہیں۔ یعنی سمجھتے ہیں کہ لوگ نظریہ سیکھ جائیں گے تو انقلاب آ جائے گا۔ جبکہ سوال معاشرے کی ٹھوس بنیاد کو سمجھ کر اس کو بدلنے کے لیے ا یسے ٹھوس نظریات، ایسی ٹھوس سیاست اور ایسی ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے جو یہاں موجود حقیقی حالت کی جامع سمجھ سے کشید کی گئی ہو۔ یہاں کے عوام کو اس میں اپنے حالات ، امنگوں ،خوابوں اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے مواقعوں کا عکس نظر آئے۔
جہاں تک سیاسی اختیارات یعنی اقتدار اعلیٰ کا تعلق ہے 'آزاد کشمیر' میں انگریزوں کی جگہ کراچی معائدے کے تحت عملی طور پر اس خطے کا انتظام سنبھال کر پاکستان نے لے لی۔ یہ ایک ایسا معائدہ امرتسر تھا جس میں ' آزاد' کشمیر اور گلگت بلتستان کے نئے 'حکمرانوں' نے پچھہتر لاکھ نانک شاہی نہیں دیے ۔ اس معاہدے کے تحت کشمیر مسئلے پر بیانیے، موقف، سفارت کاری اور پالیسیاں ' پاکستانی حکمران طبقات' نے اپنے ہاتھ میں لے لیں۔
اندرونی راج کرنے کے لیے مہاراجہ کی جگہ سردار ابراہیم خان آ گئے۔ میرپور ( اور 'آزاد' کشمیر کے دیگر شہروں میں ) میں ہندو اور سکھ جاگیرداروں اور شہر کے کاروباریوں اور دوکانداروں کی جگہ مسلمان بیٹھ گئے۔ انتظامیہ میں بھی غیر مسلموں کی جگہ آزاد کشمیر ی مسلمان بیٹھ گئے۔
اس مقامی انتظامیہ کو چلانے کے لیے پاکستان سے لینٹ افسر بھیج دیے گئے ۔ انگریز دور میں ایک ریزیڈنٹ ہر شہر میں ہوتا تھا۔ ان کی جگہ ان لینٹ افسروں نے لے لی لیکن زیادہ اختیارات کے ساتھ۔ حکومت کا سیاسی نظام جو سنتالیس سے پہلے ارتقاء پذیر تھا اس کی دو شکلیں تھیں۔ ایک مہاراجہ کا راج جس میں 1930 کی جدید عوامی سیاست کی پیدائش کے بعد اصلاحات کی جا رہی تھیں ۔ دوسری شکل تھی نئی عوامی سیاسی جماعتیں۔ ان میں سے ایک نیشنل کانفرنس تو بھارتی انتظام والے علاقے میں رہ گئی اور دوسری مسلم کانفرنس یہاں کی حکومت سنبھال لی۔ تیسری مزدور کسان کانفرنس سنتالیس کے ہنگاموں میں ٹوٹ بکھر گئی۔
اس حکومت کو چلانے کے لیے اب صرف مسلمان سیاستدان ہی بچے تھے جو صدارت، وزارت عظمیٰ اور وزیروں کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ساہوکارہ نظام سرکاری طور پر تو ختم ہو گیا اگرچہ غریب کی زندگی میں ادھار لینا اور چکا نہ سکنے کی صورت میں اندرو اندر زمینیں یا عزتیں مسلمان زمینداروں اور جاگیرداروں کو بغیر لکھے دینے کے واقعات ہوتے رہے (مختلف شکلوں میں اب بھی ہوتے ہیں )۔
ہاں اب فصلوں پر ' کَہن' نہیں لگتا تھا۔ گائے کا گوشت بھی اب بغیر کسی خوف و خطر کھا سکتے تھے۔ لیکن صرف وہ ہی جنہوں نی پالی ہوئی تھیں یا جن میں خریدنے کی سکت تھی۔
پہلے اکثریت نے اس تبدیلی کو آزادی کہا۔ انقلاب پکارا۔
عام آدمی بھی سمجھا کہ آزادی ہو گئی ہے۔ انقلاب آ گیا ہے۔ مشکل کے دن گذر گئے ہیں۔ اب ہم سب مسلمان اکٹھے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن جلد ہی یہ حقیقت جس طرح پاکستان میں ظاہر ہو گئی اور فیض احمد فیض نے اس کو اس طرح شعر بند کیا کہ
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
اسی طرح 'آزاد' کشمیر میں بھی اجالا داغ داغ ہی رہا ۔ عام آدمی کے لیے اب بھی جاگیرداروں کا راج تھا۔ عام آدمی اب بھی زمین سے محروم تھا اور زمینداروں اور جاگیرداروں کی چاکری کرنے پر مجبور تھا۔ ہاں جاگیردار اب مسلمان تھے۔ ۔ مجموعی طور پر معاشرتی ڈھانچہ بھی قائم رہا اور استحصال بھی جاری و ساری رہا۔
یعنی صدیوں سے چلے آرہے پیداواری تعلقات وہی رہے ۔
اب بھی گاؤں والے لکڑیاں، مرغیاں، انڈے ، بھاریاں ، مانجھے ، گھی، مکھن ، دودھ وغیرہ لے کر صبح میلوں چل کر شہر جاتے تھے۔ ہاں اب وہاں خریدنے والے مسلمان تھے۔ آڑتی، سنیارے، پنساری ، ہوٹلوں والے کپڑوں کی دوکانوں والے ۔۔۔ جو پہلے 75٪ غیر مسلم تھے اب 100٪ مسلمان تھے۔ لیکن ان کا اپنے مسلمان گاہکوں سے تعلق وہی رہا جو غیر مسلم دوکانداروں اور کاروباریوں کا تھا۔ یعنی پیداواری تعلقات گاؤں میں بھی وہی رہے اور شہروں میں بھی۔ جاگیرداری اور قبائلی سماج میں ' عزت اور غیرت' کے تصورات عمل کی تحریک دینے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرپور میں مولوی ڈنڈے والے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شہر میں مسلمان عورتوں کے داخلے کو ڈنڈے کے زور پر اس لیے روکتے تھے کہ کچھ عورتوں کے شہر میں غیر مسلم دوکانداروں کے ساتھ تعلقات کی خبریں اُڑی تھیں۔ اب میرپور شہر میں روز مجبوریوں میں جھکڑی ہوئی کتنی ہی مسلمان عورتیں مسلمان دوکانداروں ، وکیلوں، ڈاکٹروں اور سرکاری افسروں کے ساتھ اکثریت مرضی کے خلاف تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوتی ہیں؟ لیکن کسی مولوی ڈنڈے والے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حتیٰ کہ کتنی عزتیں مولویوں کے ہی آستانوں پر لٹ جاتی ہیں؟ یہ آزادی مسلمان دوکانداروں ، تاجروں، سیاستدانوں اور دین و مذہب کے نام پر تنخوائیں اور نذرانے بٹورنے والوں کے لیے واقعی آزادی تھی۔
تاہم عام مزدور کسانوں کے لیے بدلا تو بس یہ بدلا کہ اب استحصال کرنے اور استحصال سہنے والے دونوں مسلمان تھے۔ استحصال کرنے والے مسلمانوں کے لیے تو یہ واقعی آزادی تھی لیکن کیا سہنے والوں کے لیے بھی یہ آزادی تھی؟
یہ عام انسان کے لیے آزادی نہیں تھی۔ کیونکہ اوپرلے طبقے کے چہرے اور مذہب بدلا تھا نظام نہیں بدلا تھا۔ جب کہ مسائل کی جڑیں اور اسباب اس جاگیردارانہ استحصالی نظام میں تھے۔ اس لیے اس نظام کے نئے رکھوالے تو کلمہ گو تھے لیکن ان رکھوالوں کے استحصالی کرتوت ، وطیرہ اور مفادت نہیں بدلے تھے ۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ پیداوار اور تقسیم اور اس پر قائم معاشرتی ڈھانچہ نہیں بدلا تھا۔
میرپوری معاشرہ سنتالیس کے بعد
تاریخی مادیت نظریے کی روشنی میں موجودہ میرپوری معاشرے کا عمومی تعارفی تجزیہ
تعارف
تاریخی مادیت کا ایک اہم دعویٰ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی ادارہ، قانون، پالیسی اور عمل درآمد کا سلسلہ غرض کوئی بھی عمل ایک دم کہیں سے وجود میں نہیں آجاتا۔ اس کا ایک مادی پس منظر اور تناظر ہوتا ہے۔ یعنی اس کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور مادی اسباب اور وجوہات ہوتی ہیں۔ اس مادی پس منظر اور تناظر کو سمجھ کر نہ صرف ان کے ماضی بلکہ حال کے رحجانات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے اور اس سمجھ کے ساتھ مستقبل میں بہتر رخ دیا جا سکتا ہے۔ میرپور اور یا آزاد کشمیر اس سے مستثنیٰ نہیں ہے یعنی یہاں کے سیاسی، سماجی، سماجی اور ثقافتی اداروں پر بھی یہ اصول لاگو ہوتا ہے۔ سمجھنے سمجھانے کی غرض سے اس کو اس طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح جب آپ طبی معائنے کے لیے جاتے ہیں اور معائنے کے دوران کسی عضو میں کوئی نقص یا بیماری نظر آئے تو ڈاکٹر اس کی تاریخ کی تھوڑی چھان بین کرتے ہیں کیونکہ اس سے ممکنہ وجوہات و اسباب سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ اس کے بعد موزوں علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے ( طبی تقاضوں کے مطابق ایسا ہونا چاہیے۔ اب اگرہمارے ہاں صحت کے کسی ادارے میں ایسا نہیں ہوتا تو یہ اس لیے ہے کہ شاید ادارہ موجود نہیں یا خود ادارہ بیمار ہے) ۔
انسانی تاریخ کی آج تک کی موجود معلومات کے مطابق انسانی معاشرہ سادہ ترین معاشرتی تعلقات سے پیچیدہ ترین تعلقات کی طرف آیا ہے۔ جو سرگرمی اس سفر میں مرکز ومحور رہی ہے ، ملین سالوں کے اس سفر کے دوران ، وہ ہے رزق پیدا کرنا۔ رزق کی پیداوار کرنا۔پیداوار کو بہتر بنانا اور بہتر بنانے کے لیے آلات پیداوار اور پیداواری قوتوں میں اپنی استطاعت اور دستیاب وسائل کے مطابق بہتری لانا ۔ یعنی پیداواری سرگرمیوں کو انسانی تاریخ میں مرکزی اور بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاریخ کا پہیہ پیداواری سرگرمیاں دھکیلتی رہی ہیں ۔ آج بھی دھکیل رہی ہیں۔
سوائے شروع کے عرصے کے جب انسان خود کچھ پیدا نہیں کر سکتا تھا اور قدرت کی طرف سے اپنے ارد گرد موجود اشیاء سے ہی پیٹ بھرتا تھا۔ س کے بعد کی ساری انسانی تاریخ پیداوار بڑھانے کی تاریخ ہے۔ خود پیدا وار کر کے یا دوسروں کی پیداوار چھین کر ۔
کاشتکاری سیکھنے کے بعد پیداواری عمل کے مختلف حصوں یا اجزاء یعنی پیداوار اور اس کی تنظیم و تقسیم کی سرگرمیوں کے تسلسل اور ترتیب میں بہتری آتی گئی۔ سرگرمیوں کے اسی تسلسل اور ترتیب سے ادارے وجود میں آئے اور ارتقاء پذیر رہے ۔ معاشرے کا ڈھانچہ یعنی معاشرتی ڈھانچہ ان ہی سرگرمیوں اور اداروں سے مل کر بنا ہوتا ہے۔
اصل میں تو میرپور / آزاد کشمیر کے ہر ایک ادارے کا الگ الگ پس منظر بیان کر کے اس کے تاریخی تناظر میں اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان کی موجودہ شکل کی اصلیت سامنے آ سکے ۔ تاہم میرے پاس اتنی معلومات نہیں ہیں اور نہ وقت۔ اس لیے ایک عمومی تعارفی تجزیہ پیش کر رہا ہوں ۔ اگر اس میں کچھ جان ہوئی اور یہ حالات سے متعلقہ اور حالات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوا تو مجھے یقین ہے کہ کچھ اور مقامی معاشرتی علوم کا علم رکھنے والے ایک ایک ادارے کا تجزیہ کر کے عوام کے سامنے رکھیں گے کہ کس ادارے کی جڑیں کہاں تک جاتی ہیں اور کن راہوں پر اس کا ارتقاء ہوا۔ وغیرہ وغیرہ
نیا معاشرتی ڈھانچہ
اس دوسرے حصے میں میرپور کے اس معاشرتی ڈھانچے کی وضاحت کی گئی ہے جس نے پرانے معاشرے کی جگہ لی۔ سب سے پہلے اس عمل کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے جس نے زرعی اور کاشتکاری کی معیشت پر قائم پرانے معاشرے کو توڑنے اور نیا معاشرہ بنانے میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی میرپور سے برطانیہ ہجرت اور اس کے اثرات۔ اس کے بعد نئی معاشی بنیادوں کے خدوخال اور نئے معاشرے میں پیداوار کے ذرائع، ٓلات، پیداواری قوتوں اور پیداواری تعلقات کا خاکہ پیش کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ سنتالی کے بعد معاشرتی تبدیلی میں حصہ ڈالنے والے دیگر عوامل کے کردار اور اثرات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
ولایت کی دریافت اور میرپور ی معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلی
میرپوری معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلی کا اصل عمل کہیں ساٹھ 1960 کی دہائی میں جا کر شروع ہوا۔
لیکن میرپوری معاشرے کی جڑ بنیاد بدلنے کا یہ عمل میرپور میں پیداواری قوتوں کی ترقی کے نتیجے میں نہیں شروع ہوا تھا۔ نہ ہی یہ میرپور سے مہاراجہ راج کے خاتمے کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ آزادی کا نعرہ لگا کر حکمران بننے والے عام آدمی کو ان زنجیروں سے آزادی نہیں دے سکے تھے جن میں اس کی روزمرہ زندگی جھکڑی ہوئی تھی۔ صدیوں سے قائم 'غیر مسلم' نظام کو تبدیل نہیں کر سکے تھے۔ ہاں جو غیر مسلموں کی جگہ چھین کر وہاں خود بیٹھ گئے تھے وہ آزاد ہو چکے تھے۔ وہ کشمیر کے ان " آزاد" علاقوں میں صدیوں سے جاری استحصال کو جاری و ساری رکھنے اور یہاں کے وسائل کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ مل کر بد سلوکی کرنے میں آزاد تھے۔
میرپور میں معاشرتی ڈھانچے کی جڑ بنیاد میں تبدیلی کا عمل میرپور کے مزدوروں کے پیداواری قوتوں کے پاس جانے کے نتیجے میں شروع ہوا تھا۔ یہ پیداواری قوتیں ہزاروں میل دور سابق نو آبادیاتی آقاؤں کے دیس برطانیہ میں ترقی پا رہی تھیں۔
میرپوری محنت کشوں کے برطانیہ پہنچنے کی کہانی کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ بیسویں صدی یعنی 1900 کے اوائل میں شروع ہوئی۔ یہ بات اس حد تک درست ہے کہ میرپوری محنت کشوں نے اسی عرصے میں ولایت دریافت کیا۔ تاہم وہ عمل جس کے نتیجے میں یا جس کی وجہ سے میرپور اور برطانیہ کا یہ تعلق قائم ہوا وہ تین صدیاں قبل 31 دسمبر 1600 کے دن شرو ع ہوا تھا۔ اس دن برطانیہ کی ملکہ الزبیتھ اول نے اپنے ملک میں پیداواری رشتوں کے جاگیرداری سے سرمایہ داری اور پھر سامراجیت کی شکل اختیار کرنے کے پرجوش اور ہنگامہ خیز ماحول میں دو سو انگریز تاجروں کو کرہ ارض کی مشرقی زمینوں ( برطانیہ ، ڈچ اور پرتگیزی بادشاہوں کے لیے یہ ممالک نہیں زمینیں تھیں) میں تجارت کرنے کی آجازت دی۔ ان دوسو تاجروں میں سے ایک گروپ خود کو ' گورنر اینڈ ٹریڈرز آف لنڈن ٹریڈنگ ان ٹو دی ایسٹ انڈیز ' ( مشرقی علاقوں میں تجارت کرنے والے تاجر اور حاکم ) کہتا تھا ۔ بعد میں یہی گروپ ایسٹ انڈیا کمپنی کہلایا۔
اس کمپنی کا پہلا گروپ 1601 جیمز لنکاسٹر کی قیادت میں ' ایسٹ انڈیز ' میں آیا اور انڈونیشیا کے شہر بنتام میں ایک فیکٹری لگائی اور واپسی پر 500 ٹن مصالحے لے کر گیا۔ لیکن وہاں پرتگالی، فرانسیسی اور ڈچ کمپنیوں کا اثر رسوخ زیادہ ہونے کے باعث برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوب ایشیا کا رخ کیا۔ کمپنی کا دوسرا جہاز 1608 میں بھارتی گجرات کے شہر سورت کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوا ۔ کمپنی کے ذریعے برطانیہ میں پیداواری قوتوں کی ترقی اور صنعتی انقلاب میں برطانوی ہند اور جموں کشمیر کی چائے، کالی مرچ ، اون ، ٹیکسٹائل، نیل اور ریشم ، زعفران اور پشم نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ یوں کہ ہندوستان میں تجارت کی آجازت ملنے پر ایسٹ انڈیا کمپنی والے مذکورہ اشیاء خاص طور سے چائے اور کالی مرچ ہندوستان سے سستے داموں لے کر برطانیہ میں مہنگے داموں بیچ کر منافع کماتے تھے۔ جلد ہی انہوں نے یہ اشیاء مشرقی یورپ اور وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی بیچنا شروع کر دیں۔ اس سرمائے سے برطانیہ میں فیکٹریاں لگیں جہاں ہندوستان اور جموں کشمیر سے لائی ہوئی ریشم اور روئی سے نت نئے کپڑے بنا کر واپس ہندوستان میں مہنگے داموں بیچے جاتے تھے۔ اس ہی عمل سے صنعتی انقلاب پروان چڑھا۔ یوں برطانیہ کے صنعتی انقلاب میں جنوب ایشیائی ممالک کے ساتھ ' تجارت' کا اہم کردار تھا۔
یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی کہانی بیان کرنا مقصد نہیں ہے۔اس کے لیے لنک نیچے دیا گیا ہے [11] ۔ اس کے علاوہ بی بی سی کی اس ویب سائیٹ پر بھی بہت مفید اور دلچسپ معلومات موجود ہیں [12]۔
یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ میرپوری مزدوروں کی برطانیہ ہجرت کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی میں صنعتی انقلاب اور برطانیہ کے نوآبادیاتی اور سامراجی طاقت بننے کی کہانی سے جُڑی ہوئی ہے۔
اس تاثر کا دوسرا رخ واضح کرنے کے لیے کہ یہ انگریزوں کا ان غریب مزدوروں پر احسان عظیم تھا کہ انہوں نے ان کو اپنے ملک میں آنے کی آجازت دی اور ان کی غریبی دور ہوئی ، یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مزدوروں کی قلت ہو گئی اور برطانوی مزدوروں نے مارکس کی دریافت قدر زاہد کے زریعے صنعتی پیداوار میں اپنے مرکزی کردار اور کلیدی حیثیت کے شعور کے بعد کم مزدوروی پر کام سے انکار کر دیا تو سرمایہ داروں نے اپنی نوآبادیوں سے مزدوروں بلائے ۔ یوں درحقیقت دوسری نوآبادیوں سے آئے ہوئے مزدوروں کے ساتھ ساتھ میرپوری مزدوروں نے کم معاوضوں پر ان ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں کام کر کے ان کو زمین بوس ہونے سے بچایا [13]۔
برطانیہ میں میرپوری مزدوروں کی آبادکاری کی کہانی ذرا آگے چل کر بیان کی گئی ہے۔ یہاں میرپور سے برطانیہ ہجرت کے اسباب اور پس منظر جان لینا مددگار ہوگا ۔ پہلے باب میں پیش کی گئی تفصیلات کی وجہ سے یہاں اس پس منظر کی تصویر زیادہ واضح ہو گی۔
میرپور سے ہجرت کے اسباب اور پس منظر
1846 میں ریاست جموں کشمیر کی تشکیل سے پہلے میرپور ایک راجوارہ تھا اور یہاں ابھی معیشت قبائلی اور ابتدائی جاگیردارانہ رشتوں پر استوار تھی۔ زمین ایک تو بارانی یعنی بارش کی محتاج تھی اور دوسرے کم تھی۔ آلات پیداوار بھی بنیادی سے تھے جس کی وجہ سے اس زمین سے جو پیداوار ہوتی تھی اس کا بڑا حصہ مقامی راجے اور ان کے بعد جاگیردار اور زمین مالکان یعنی زمیندار لے جاتے تھے ۔ اس کے بعد جو حصہ بچتا تھا وہ بے زمین دستکاروں میں بانٹا جاتا تھا۔ لہذا چند گھرانوں کو چھوڑ کر باقی سب غربت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ زمین سے روزی یعنی پیداوار حاصل کرنے یعنی کاستکاری کرنے کے علاوہ ایک بڑی تعداد روٹی کمانے کے لیے ارد گرد کے شہروں میں جا کر محنت مزدوری کرتے تھے ۔ محنت کشوں کی ایک خاصی تعداد کشتیاں بنانے کا کام کرتی تھی۔ کشتی سازی کی یہ صنعت صدیوں سے آج کے منگلا بند والی جگہ پر قائم چلی آ رہی تھی[14]۔
اس صنعت میں کام کرنےوالے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق میرپور کے علاقہ ڈڈیال اور اس کے نواع سے بتایا جاتا ہے۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے معروف سماجی محقق راجر بالرڈ کے مطابق محنت کش دریائے جہلم و پونچھ میں بہہ کر آنے والی یا ارد گرد کے جنگلوں سے لکڑی دریا کے ذریعے ٹلوں پر یہاں لاتے اور کشتیاں بنا کر نیچے جہلم جا کر بیچا کرتے تھے ۔ اس وقت تک ابھی گاڑیاں اور ریل گاڑیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں، اس لیے دور دراز مقامات تک مال برداری، آمد و رفت اور رسل و رسائل کا بڑا ذریعہ دریا تھے۔ یہ کشتیاں جہلم سے لاہوری بندر تک مال لے جانے کے کام آتی تھیں۔ اکثر کشتیاں چلانے والے بھی ڈڈیال یا گردونواح کے ملاح ہی ہوتے تھے۔ 1867 میں جب برطانوی راج برصغیر میں پنجے گاڑھ چکا تھا تو بری یعنی زمینی سفر کے میدان میں دو بڑی عظیم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
- ایک تو ریل کی پٹری جہلم تک پہونچ گئی ۔
- دوسرے سمندروں میں سفر کے لیے بادبانی جہازوں کی جگہ بھاپ سے چلنے والے ' دخانی جہاز ' متعارف کروائے گئے۔
ریل چلنے کے نتیجے میں ریل کے ذریعے مال برداری میں اضافہ ہو گیا کیونکہ ریل تیز، محفوظ اور سستی پڑتی تھی۔ لہذا کشتی بانی کی صنعت زوال پذیر ہو کر ختم ہو گئی۔ [15]
اس صنعت میں کتنے لوگ کام کرتے تھے اور کتنے بیروز گار ہوئے اس پر معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں ضرور ، مزدور اس صنعت سے وابستہ ہوئے ہوں گے۔
جب یہ صنعت بند ہو گئی تو کچھ بے روزگار مزدروں نے معاشی تنگی کے باعث میرپور سے باہر جا کر مزدوروی کرنے کی روایت کے مطابق ریل میں بیٹھ کر برطانوی ہندوستان کے شہروں میں جا کر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔
اب میرپور 1846 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور جموں کے راجہ گلاب سنگھ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا۔ مزدور کسانوں کے حالات مزید اب تر ہو گئے تھے ۔ میرپور کے زیادہ تر مزدور لاہور، دہلئ، بمبئی، کراچی اور کلکتہ جیسے بڑے شہروں میں گئے۔ یہ وہ دن تھے جب برطانیہ نے بادبانی جہازوں کی جگہ بھاپی انجن سے چلنے والے بحری جہاز استعمال کرنے شروع کیے تھے۔ بمبئی اور کراچی میں جانے والے میرپوریوں میں سے کچھ کو ان جہازوں پر نوکریوں کی ضرورت کا پتہ چلا تو وہ قسمت آزمانے بندرگاہوں پر چلے گئے۔ جہازوں پر نوکریاں جہاز کے کوئلہ کمرے میں تھیں ۔ جہاں مزدور شفٹوں میں کوئلہ ڈالتے رہتے تھے۔ بقول راجر بالارڈ ، یہاں درجہ حرارت 70 سے 80 ڈگری سنٹی گیرڈ تک ہوتا تھا ۔ یہاں کام شروع کرنے والے مزدور زیادہ دن گرمی کی یہ شدت پرداشت نہیں کر پاتے تھے۔ لیکن میرپور کے ڈڈیالی مزدروں نے کام شروع کیا تو وہ " کاہڈا کہھڈ" گئے مطلب گرمی کی حدت سہہ گئے، برداشت کر لیا۔ اس پر جہاز کے منتظمین نے انہیں مزید مزدور لانے کو کہا ۔ جو مزدور مزید مزدور بھرتی کر کے لانے لگے ان کو 'سرنگ' کا عہدہ دیا کیا۔ اس کی کچھ تفصیلات ڈڈیال کے چوہدری یوسف نے جو بعد میں وزیر اور بڑے کاروباری بنے آپ بیتی ' داستان یوسف' میں بیان کیے ہیں ۔ [16]
یہ بحری جہاز مختلف بندرگاہوں پر مہینوں لنگر انداز رہتے تھے۔ اس دوران کچھ مزدور جو کوئلہ کمروں کی شدید گرمی سے تنگ آئے ہوتے مختلف ممالک میں قسمت آزمائی کے لیے نکل جاتے۔ ہمارے میرپوری پہلے پہل اسٹریلیا میں بھی گئے ۔ ان میں سے جو واپس آتے سڈنی کو شرنی کہتے تھے۔ کچھ اسٹریلوی محققین ڈڈیال کے ایک نوجوان برطانوی کشمیری سکالر محمد اویس کے ساتھ اس پر تحقیقی کام کر رہے ہیں۔
اسی دوران کچھ برطانیہ ( ولایت) میں بھی رہ گئے اور کچھ امریکہ بھی گئے[17]۔ تاہم جہاں ان اولین تارکین وطن کشمیری محنت کشوں کی ہجرت کا سلسلہ چند عشروں بعد ' چین مائگریشن' یعنی" لِنگرو لِنگری " مطلب تعلقات اور واقفی کے ذریعے ایک مسلسل ہجرت کی شکل اختیار کر گیا وہ برطانیہ تھا۔ اگرچہ ہجرت کا آغاز بعض شہادتوں کے مطابق 1900 کے اوائل میں ہوا تاہم برطانوی راج کے خاتمے اور ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے بعد زیادہ لوگ برطانیہ آنے لگے۔ 1960 تک ہزاروں کی تعداد میں ڈڈیال اور گردوپیش کے دیہات بشمول چک سواری اور کالگڑھ سے مزدور جن میں زیادہ تر نوجوان تھے برطانیہ میں موجود تھے۔میرے والد صاحب 1961 میں برطانیہ آئے تھے جب کہ ان کے کزنز اور کئی دوست اور کالگڑھ کے دیگر نوجوانوں کی برطانیہ آمد کا سلسلہ 1950 کے عشرے کے شروع سے جاری تھا۔ تاہم جب ' کالوں' کی تعداد بڑھنے لگی تو برطانیہ کے تنگ نظر نسل پرستوں نے ' سفید شناخت اور تہذیب' خطرے میں ہے کا سیاسی نعرہ لگایا ۔ اس لیے برطانوی سرکار کی طرف سے پہلا امیگریشن قانون متعارف کروایا گیا جو 1962 میں لاگوں ہونا تھا۔ جس کے مطابق صرف وہی آ سکتے تھے جن کے پاس کام کی پیش کش موجود ہو۔ 1960 میں امیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے اس پہلے امیگریشن قانون کے لاگو ہونے سے پہلے پہلے برطانیہ پہنچنے کی کوششوں کے نتیجے میں برطانیہ میں کشمیریوں کی تعداد میں مزید اور تیز رفتار اضافہ ہوگیا۔
اس دوران میرپور میں منگلا ڈیم بننے کے بعد میرپور شہر اور اس کے ارد گرد تقریباً چار سو 400 گاؤں منگلا جھیل کے پانیوں میں غرق ہو نے کے باعث میرپور شہر اور ڈوبنے والوں گاؤں سے برطانیہ ہجرت میں اضافہ ہوا ۔ 1970 میں بچوں کے ماں کے بغیر داخلے پر پابندی کی وجہ سے بال بچہ ( بیوی بچے) بھی آنے لگے ۔ 1980 کے بعد بزرگ والدین جن کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے کوئی نہیں رہ گیا تھا اور یہاں بزرگوں کی دیکھ بھال کے پیسے بھی ملتے تھے ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ اسی زمانے میں لڑکے لڑکیاں شادیوں کے قابل ہو چکے تھے ان کی شادیوں اور منگیتروں کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گزشتہ ایک دو دہائیوں سے ہنر مند مزدور اور طلباء کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کے بعد اب پونچھ اور مظفر آباد سے بھی کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں آباد ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت برطانیہ میں 'آزاد'' جموں کشمیر سے ایک ملین سے زائد کشمیری برطانیہ میں آباد ہیں۔
پیداواری قوتوں کی ترقی ، روزی کا چھٹا اور روزی کی تلاش
اب تک کا خلاصہ یہ ہے کہ نئئ ایجادات جیسے بھاپی انجن اور نئے آلات نے انگلینڈ کی پیداواری قوتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ۔ اس کا تعلق بھی ہمارے ساتھ نوآبادیاتی راج کی وجہ سے یوں جُڑا کہ اسی بھاپی انجن والے بحری جہازوں پر میرپور کے نوجوان مزدور کسان برطانیہ پہنچے ۔ اس کے چند عشروں بعد جب بھارت سے نوآبادیاتی راج کا خاتمہ ہوا اور ادھر ریاست جموں کشمیر تقسیم ہو گئی تو ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار میرپوری مزدور کسان اورکچھ سابق فوجی روزگار کی تلاش کے سلسلے میں برطانیہ گئے جہاں انہوں نے کاٹن ملوں، اینٹوں کے بھٹوں اور فاؤنڈریوں میں کام سخت محنت طلب کام کیے ۔ 1950 کے عشرے میں میرپور سے کشمیری مزدوروں کی برطانیہ ' چین مائگریشن' ( لنگڑو لنگڑی۔ سلسلہ وار) کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد وہاں مزدوروں کی مانگ میں بہت اضافہ ہو گیا۔ مزدروں کی کمی کو سابق نوآبادیوں سے مزدرو ں کو بلا کر پورا کیا گیا۔ بعد میں نئے امیگریشن قوانین اور منگلا ڈیم کے نتیجے میں میرپور شہر اور گرد و نواح کے گاؤں کے منگلا جھیل میں غرق ہونے کے باعث اجڑنے والوں ، خاص طور پر میرپور شہر کے باسیوں میں سے بھی کئی نے برطانیہ کا رخ کیا۔
جہاں تک پیداوار یعنی روزی روٹی پیدا کرنے کے عمل اور سلسلے کا تعلق ہے میرپور جو اب 'آزاد' کشمیر کا ضلع تھا میں روزی روٹی پیدا کرنے کا وہی صدیوں پرانا طریقہ جاری و ساری تھا ۔ تاہم اب زمین کے علاوہ ملازمتیں بھی روزی کمانے کا ایک بڑا ذریعہ بن رہی تھیں جن کے لیے تنخواہ 'آزد' کشمیر کے بجٹ سے دی جاتی تھی جو پاکستان سرکار آزد کشمیر کے وسائل اور تارکین وطن کے زرمبادلہ کے استعمال کے بدلے دیتی تھی ۔
1960 کی دہائی سے زمین کی بجائے تارکین وطن خاص طور پر برطانیہ سے بھیجا جانے والا پیسہ روزی کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا جا رہا تھا ، جس کے نتیجے میں صدیوں سے موجود معاشرتی ڈھانچے کی جڑ بنیاد بدلنا شروع ہو گئی تھی۔ فصل کی شکل میں زمین سے روزی حاصل کرنے کا عمل تیزی سے سکڑنے لگا۔ یعنی اب کاشتکاری سے وابستہ افراد کی تعداد میں واضح کمی آنا شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس کا بھی کوئی انگلینڈ میں تھا انہوں نے والدین سے کاشتکاری ختم کروا دی ۔ کیونکہ والدین کو اس سخت محنت و مشقت سے آزاد کروا نا چاہتے تھے جس میں وہ انہیں بچپن سے جُتا ہوا دیکھتے آئے تھے۔ وہ والدین کی زندگیاں آسان بنانا چاہتے تھے ۔
چونکہ انگلینڈ میں کسی ایک برادری کے محنت کش ہی نہیں گئے تھے بلکہ تقریباً ہر ایک برادری کے نوجوان گئے تھے اس لیے اب مختلف برادریوں کے ' ولائیتیوں ' نے زمین خریدنے کی قوت حاصل کر لی۔ غیر زمیندار برادریوں کے جو نوجوان برطانیہ سے کمائی کر کے واپس بھیجنے لگے تو ان کے والدین یا بڑے بھائیوں نے زمینیں خریدنا شروع کر دیں۔ لہذا زمین فصلوں کی بجائے اب خرید و فروخت کی شکل میں کمائی کا ایک بڑا ذریعہ بن کر ابھری۔ اس دوران تین اور بڑی معاشی سرگرمیوں نے جنم لیا جن کے نتیجے میں معاشرتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔
ایک تو پرانا میرپور منگلا ڈیم میں غرق ہونے کے بعد نیا میرپور بنا ، جہاں پرانے میرپور شہر سے اجڑنے والوں کے ساتھ ساتھ زیر آب آنے والے سینکڑوں گاؤں سے اجڑنے والے بھی آکر بسنے لگے ۔نئے شہر کی آبادکاری کے عمل نے شہر میں نئے سماجی و معاشی اور سیاسی رشتے پیدا کیے ۔
دوسرے ولایت کے پیسے سے پکے مکانات اور دوکانوں کی تعمیر کا عمل بڑے پیمانے پر شروع ہوا جس کے نتیجے میں تعمیر سے متعلق اور ساتھ ساتھ دیگر ضرورت اور تعیش کی دوکانوں کی مانگ بھی بڑھ گئی جس سے چھوٹے چھوٹے بازار ہر ایک قصبے میں پیدا ہونے لگے۔ غیر زمینداروں کی طرف سے زمین خریدنے اور کاروبار شروع کرنے کے نتیجے میں زمینداری و کاشتکاری معیشت پر قائم قبائلی اور جاگیردارانہ طبقاتی ڈھانچہ زمین بوس ہو گیا۔ اگرچہ ابھی تک میرپور کی زیادہ تر آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے لیکن دیہاتوں کا پرانا تانا بانا یعنی سماجی ڈھانچہ بڑی حد تک بدل گیا ہے ۔ اب سماجی حیثیت اور رتبہ زمینداری کی بنیاد پر نہیں طے پاتا بلکہ دولت ، کاروبار ،سیاسی اور سرکاری عہدوں، اور پیشہ ورانہ تعلیم ( زیادہ پیسے کمانے والے شعبوں) سے متعین ہوتی ہے۔ اس وقت میرپور ڈویژن کے تمام اضلاع کے شہروں اور ارد گرد کے دیہاتوں میں معاشی سرگرمیوں میں زمینداری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ( دیگر اضلاع میں شاید صورت حال مختلف ہو لیکن رحجان اسی طرف آگے بڑھ رھا ہے) ۔ اس کی جگہ اب زمین کی خرید و فروخت ( رئیل اسٹیٹ) ، مختلف قسم کے بڑے کاروبار بشمول صحت اور تعلیم کے کاروبار، دوکانداری، دفاتر میں کڑوروں روپوں کی رشوت ، پاکستان کے تمام برانڈوں کے سٹور آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں ۔ ان طبقات میں اب آمدنی کا مطلب روزی روٹی سے 'ترقی' کر کے امارت اور اثر و رسوخ بڑھانے میں بدل گیا ہے۔
تیسری عظیم معاشی سرگرمی جس سے میرپور ہی نہیں آزاد جموں کشمیر کی معیشت پر مقامی اختیار میں بے پناہ اضافہ ہونا تھا وہ تھی پرائیوٹ کوآپریٹو بینکوں کا قیام تھا ۔ بدقسمتی سے اس بڑے معاشی منصوبے کو پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جابرانہ اقدامات کے ذریعے ختم کر دیا ۔ بینک بند کر دیے گئے اور بینکاروں کو جان کے لالے پڑ گئے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان بینکوں کو اس لیے بند کیا گیا تھا کہ ان کے مالکان چوہدری برکت اور چوہدری نور حسین وغیرہ نے فراڈ کیا تھا۔ میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ لیکن بعد ازاں جب برطانیہ میں کچھ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ فراڈ کے اس الزام کی مثال لوگ یہ دیتے تھے کہ وہ بینک کا پیسہ استعمال کرتے تھے یعنی بینک کے سرمائے سے سرمایہ کاری کرتے تھے۔ حالانکہ سارے بینک یہ کرتے ہیں ۔ کچھ جیالے کہتے ہیں کہ بھٹو سرکار نے صرف میرپور میں ہی نہیں پاکستان بھر میں نجی بینکوں کو سرکاری ملکیت میں لے لیا تھا۔ تاہم وہ یہ حقیقت نظر انداز کر جاتے ہیں کہ میرپور میں نجی بینکوں کو سرکاری ملکیت میں نہیں لیا گیا بلکہ بند کر دیا گیا تھا۔
ان تمام معاشی سرگرمیوں پر تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہے لیکن فلحال کم از کم میں اس کے ساتھ انصاف کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ اس لیے مجموعی طور پر پرانے سے نئے میرپور کی طرف منتقلی کے معاشرتی ڈھانچے پر اثرات یعنی معاشرتی تبدیلی پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش تک ہی محدود رہوں گا۔
خلاصہ یہ کہ آج میرپور کا پرانا مادی ڈھانچہ نیا روپ دھار رہا ہے۔ معاشرتی ڈھانچے کی مادی بنیاد بدل گئی ہے۔ نئی پیداواری قوتوں نے پرانی پیداواری قوتوں کو شکست دے دی ہے۔ یعنی پیداوار بدل گئی ہے۔ پیداوار کے آلات بدل گئے ہیں۔ پیداوار کے لیے محنت کے انداز بدل گئے ہیں۔ پیداوار کی تقسیم کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ پرانے پیداواری رشتوں کی جگہ نئے پیداواری رشتے لے رہے ہیں ۔ پرانے معاشرتی ڈھانچے کی جگہ نیا معاشرتی ڈھانچہ لے رہا ہے۔ آج کا آزاد کشمیر ایک ایسی منڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں سب کچھ باہر سے آتا ہے ۔ سرمایہ بھی اور مال بھی۔ صرف صارفین مقامی ہیں ۔ بلکہ اب صارفین میں بھی ایک بڑی تعداد تارکین وطن کی ہے۔
قبائلی و جاگیرداری سے دوکانداری/ سوداگری معاشرے کا سفر
اس وقت تک کے تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ مختلف تاریخی حالات اور واقعات ( اتھل پتھل) کی وجہ سے میرپور کے پرانے ڈھانچے کی جگہ نیا ڈھانچہ لے رہا ہے۔ اب آیے یہاں سے آگے قدرے تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ نیا ڈھانچہ کیا ہے؟ کیسا ہے؟ کسی معاشرے کے ڈھانچے کا پتہ کیسے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کیسا ہے؟ ویسے تو اس کے لیے مختلف عینکیں ( نظریات ) موجود ہیں جو معاشرے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ تاہم ، ہم نے اس مضمون میں چونکہ تاریخی مادیت کو چُنا ہے اس لیے اس ہی کی عینک سے دیکھیں گے۔ اگر ہم غور سے سنتالیس کے پہلے کے معاشرے کا بعد کے معاشرے سے موازنہ کریں تو واضح نظر آئے گا کہ پیداوار یعنی روٹی روزی کے ذرائع ، پیداوار کےآلات، پیداواری قوتوں اور پیداواری تعلقات کی معاشی بنیا د بدلنے کے نتیجے میں سماجی، سیاسی و ثقافتی تعلقات میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہوا ہے جو بتدریج واضح ہوتا جا رہا ہے۔
اب ذرا قریب سے دیکھتے ہیں کہ مادی حالات جس کو معاشرے کی مادی بنیاد بھی کہا جاتا ہے میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ پہلے عمومی تناظر پیش کرنے کے بعد تبدیلیوں پر بات کی گئی ہے کہ پیداوار، پیداوار کے ذرائع، پیداوار کے آلات، پیداواری قوتیں اور پیداوری تعلقات میں کیا تبدیلیاں ہوئیں اور اب کیا ہے ؟
نوآبادیاتی راج ( کلونی نظام) میں رہنے والے معاشروں کا مطالعہ کرتے وقت ایک اہم بات جو ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ نوآبادیاتی راج کی وجہ سے ہمارے معاشروں کے ڈھانچوں ( معاشرتی ڈھانچوں) کے اندر ایک نیا، بہت بڑا ، گہرا اور بنیادی تضاد پیدا ہو گیا۔ نیا اس لیے کہ جنوب ایشیائی علاقوں پر کسی بیرونی طاقت کی طرف سے اگرچہ یہ پہلا قبضہ نہیں تھا۔ اس سے پینسٹھ ہزار سال پہلے افریقہ سے آنے والے شکاری باشندوں سے لے کر تیرہ سو سال پہلے محمود غزنوی تک آٹھ مختلف بیرونی حاکموں نے برصغیر پر راج کیا ۔ ہر عہد میں ظاہر ہے کہ مقامی ارتقائی عمل پر اچھے اور بُرے اثرات مرتب ہوئے۔
تاہم انگریزی راج پیداوار اور تجارت کا ایک ایسا نیا نظام لے کر آیا جو پہلے دنیا میں موجود ہی نہیں تھا۔ سرمایہ داری نظام اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی، انتظامی، حکومتی ، معاشی اور ثقافتی ادارے سہولویں صدی سے برطانیہ میں سرمایہ داری طرز پیداوار کی 'کوکھ' سے پیدا ہوئے اور پروان چڑھے تھے۔ ان کو بتدریج برصغیر میں لاگو کیا گیا ، خاص طور سے زمینوں کے انتظام و انصرام یعنی پیدوار کے سب سے بڑے ذریعے پر ، تو یہاں کے نظام کی جڑ بنیاد بدل گئی۔ لیکن اس نئے نظام کو سمجھنے کے لیے درکار تعلیم تک صرف ایک اقلیت کو ہی رسائی حاصل تھی اس لیے اکثریت اس نظام سے نا واقف رہی کہ سرمایہ داری نظام انگلینڈ میں اصل میں کیسے پیدا ہوا اور کیسے کا م کرتا ہے۔
برطانیہ میں جوں جوں سرمایہ داری ترقی کرتی گئی جاگیرداری کے غلبے اور اجارے کے ادارے ایک ایک کر کے پسپا ہوتے گئے۔ کلیسا، بادشاہ اور جاگیرداروں کی جگہ طاقت سرمایہ دار، پارلیمنٹ اور سیکولر سول سوسائٹی کے اداروں کے پاس منتقل ہو گئی۔ اسی میں خاص طور سے جمہوری اور بائیں بازو کے فعال ارکان ( فعالیوں) کی طرف سے نوآبادیاتی راج یعنی دوسرے ممالک پر قبضوں کی مخالفت بھی ہوئی اور نوآبادیاتی نظام مخالف تحریکوں کو حمایت بھی ملی۔
ہمارے ہاں آزادی کی تحریکیں تو کامیاب ہو گئیں ( جیسے میرپور/ آزاد کشمیر میں بھی مہاراجہ راج تو ختم ہو گیا) لیکن سرمایہ داری کی بنیاد صنعت کاری جس میں سے مزدوری ، مزدور تحریکیں اور جمہوریت پیدا ہوئی تھی فروغ نہ پا سکی۔ عوام کو سیاست کار نظریاتی خوابوں کے ذریعے تحریک دیتے رہے۔ تاہم عملی طور پر آج بھی معاشرے میں کئی صدیاں اکٹھے چل رہی ہیں ۔ کچھ خطوں اور طبقوں میں جہاز کی رفتار سے اور کچھ میں ریڑھے کی رفتار سے گھسٹ رہی ہیں۔ یہ تضاد اب بھی معاشروں کو پیچھے کی طرف کھینچے ہوئے ہے۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ سرمایہ داری نظام میں سب مسائل و مصائب کا حل مل جاتا ہے۔ کہیں بھی نہیں ملا۔ تاہم جاگیرداری اور قبائلی معاشی اور سیاسی نظاموں کی بے شمار پسماندگیوں، محرومیوں اور فرسودگیوں سے عوام کی اکثریت کو خلاصی مل جاتی ہے۔نئے مسائل پیدا بھی ہوئے ہیں لیکن ان کا مقابلہ ان سے اور ان کے بارے میں سائنسی علم حاصل کر کے آگے بڑھا جا رہا ہے۔
بہر حال اب آئیے اس تناطر میں آپنے میرپور کو دیکھیں کہ نئے ڈھانچے میں کیا بدلا اور اب اس کی نوعیت کیا ہے؟ خارجی طور پر میرپور میں بڑی معاشرتی تبدیلیاں دو بڑے عوامل سے شروع ہوئیں:
- بیرون وطن ہجرت میں تیز رفتار اضافہ اور
- منگلا ڈیم کی تعمیر۔
- 1947 سے بھارتی مقبوضہ علاقے سے ہجرت[18]
میرپور سے برطانیہ ہجرت اور منگلا ڈیم کے اثرات
میرپور سے بیرون وطن ہجرت اور منگلا ڈیم کی تعمیر نے میرپور شہر اور ضلع کے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ اگرچہ اس نئے ڈھانچے میں بھی شہری اور دیہاتی زندگی کی شکلیں موجود رہیں لیکن شہر اور گاؤں کے درمیان معاشی اور مادی رشتوں کا تانا کچھ منگلا جھیل کے پانیوں میں بہہ گیا اور کچھ برطانیہ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ تک پھیل گیا۔ پرانے میرپور شہر کے گرد چار سو گاؤں جو شہر سے جڑے ہوئے تھے منگلا جھیل میں غرق ہو گئے۔ جو بچ گئے وہ نئے شہر سے بیسیوں میل دور تھے جن کا شہر کے ساتھ رشتہ بدل گیا۔ اب دیہاتی صبح شہر اپنی پیدا کی ہوئی اشیاء بیچنے اور شام کو ان سے حاصل ہوئی رقم سے سودا سلف لینے نہیں آتے تھے۔ اب پانی میں آ جانے والے گاؤں کے خاندان نئے میرپور میں جگہ لے کر یہیں بسنے لگے ۔ روپےپیسے والے سودا سلف لینے آتے، یا پھر ملازمین، محنت کش ، طلباء اور پیشیاں بھگتنے والے۔ ان میں سے اکثر یہیں بسنے لگے۔ کچھ اپنے مکانوں میں اور کچھ کرائے پر اور طلباء ہوسٹلوں میں۔
پرانا میرپور اور اس کے ارد گرد گاؤں والے سبزیوں، پھل فروٹ ، آٹے دانے ، کپڑے لتے ، جوتیوں اور مکانات کی تعمیر کے لیے درکار سامان (لکڑی، پتھر ، اینٹیں ) وغیرہ میں خود کفیل تھے۔ شاید کچھ مصالحہ جات یا نمک ' پار' مطلب دریائے جہلم کے پار پوٹھوہار اور پنجاب سے لاتے تھے۔ بدلے میں کھُوسے اور کَھدر ' پار' جا کر بیچتے تھے۔ مطلب میرپور پاکستان میں پیدا ہونے والی اشیاء کی یک طرفہ منڈی نہیں تھا۔ کچھ چیزیں وہاں سے آتی تھیں اور کچھ یہاں سے جاتی تھیں۔
میں کال گڑھ میں پیدا ہوا اور ایف اے تک وئیں پرورش پائی۔ ہم یہی سُن کر جوان ہوئے کہ نیا میرپور درحقیقت کالگڑھ میں بننا تھا ۔ اس کے لیے اینٹیں وغیرہ بھی آ چکی تھیں ۔ بلکہ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہائی سکول اور ڈسپنسری دراصل شہر کی عمارتوں کے طور پر بنی تھیں۔ لیکن قصبے کے کچھ لوگوں نے اس کی اس شدت کے ساتھ مخالفت کی جس کی وجہ سے شہر 'بلا گالے' منتقل کر دیا گیا۔ تاہم بڑے ہو کر کشمیر اور اپنے شہر میرپور کے بارے میں جاننے کی تانگ جاگنے کے بعد کشمیر پر جو کتاب ہاتھ لگتی پڑھنے کی کوشش کرتا۔ کشمیر پر زیادہ تر پڑھائی 1988 میں برطانیہ بسنے کے بعد کی کیونکہ کراچی میں تو کشمیر پر کچھ زیادہ کتابیں نہیں ملی تھیں۔ برطانیہ میں یوسف صراف کی دو جلدوں پر مشتمل ' کشمیریز فائیٹ فا فریڈم،' ہاتھ لگی (غالباً یونس تریابی صاحب سے ) تو جیسے معلومات کے سمندر میں غوطہ زنی ہونے لگی۔ اس کتاب کو پڑھنا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ کراچی میں خودمختاری پر سیاسی ایمان لانے کے بعد الحاق بارے کچھ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا۔ مگر 1990 کی دہائی کے آخر تک کچھ مزید مارکسی لٹریچر پڑھنے اور مانچسٹر یونیورسٹی میں ایم اےکے دو سالوں کے دوران مختلف الخیال مصنفین، خاص طور سے عوامی تحریکوں اور مطالعہ کسان ( پیزنٹس سٹڈیز ) پڑھنے اور ان کا موازنہ کرنے کے تجربے سے گزرنے کے بعد صرف عقیدت کے ساتھ پڑھنے کی زہنیت میں خاصی تبدیلی واقع ہوئی۔ یوسف صراف صاحب کی کتاب اس ہی زمانے میں پڑھی۔ اکثر مختلف تاریخی واقعات کے حوالوں کے لیے۔ ایک دن پڑھتے پڑھتے پڑھا کہ واقعی نیا میرپور کال گڑھ میں ہی بسانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن پھر بقول یوسف صراف انہوں نے جو چند معززین کی ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی اس نے متعلقہ اداروں کو تجویز دی کہ شہر کو منگلا ہیڈ ورکس سے زیادہ دور نہیں بنایا جا نا چاہیے۔ لہذا شہر کو بلا گالے منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور بقول ان کے ، اکال گڑھ میں شہر کے حمایتی اور مخالف بینس اور جاٹ آپس میں لڑتے رہے۔
شہر کو منگلا ہیڈ ورکس کے نزدیک کیوں ہونا چاہیے ؟ اس بارے میں صراف صاحب نے کچھ نہیں لکھا۔ مختلف شعبوں سے وابستہ سیانے لوگوں سے پوچھا کہ شہر کے ہیڈ ورکس کے نزدیک ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ شہری انتظام و انصرام، دفاع یا انجینئرنگ کے حوالے سے کوئی معقول جواز سامنے نہ آیا۔
شہر کو گاؤں سے یوں کاٹنے کی مجھے آج دو بڑی ممکنہ اور ایک دوسرے سے منسلک وجوہات سمجھائی دیتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر میرپور شہر کالگڑھ میں بنتا تو میرپور شہر کی وہ اشرافیہ جس کا دیہات اور دیہات میں بسنے والے غالب سماجی گروہوں (برادریوں ) سے تعلق نہیں تھا ان کے لیے کالگڑھ میں بننے والے نئے میرپور شہر میں غلبہ حاصل کرنے کے امکانات بہت کم تھے۔ غیر میرپوری اشرافیہ کے لیے شہر کا دیہاتوں سے کٹا ہوا ہونا ضروری تھا۔ ورنہ جن حکمرانوں نے منگلا ڈیم کے خلاف ایک بہت بڑی عوامی تحریک کو کچل دیا تھا وہ کال گڑھ کے میجر (ر) نیک عالم کی سرگرم حمایت کے مقابلے میں بابا جیون کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے شہر کو بلاہ گالا لے جانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتے؟ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر کم از کم گریجویٹ سطح کا تحقیقی مقالہ ( تھیسس) لکھا جا سکتا ہے۔
اس ہی عرصے میں برطانیہ ہجرت میں بھی تیزی آگئی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ 1950 کے عشرے میں دوسری جنگ سے تباہ شدہ برطانیہ کی تعمیر کے لیے سستے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ ایسے میں وہاں موجود کشمیریوں نے ،جن کی تعداد اب ہزاروں میں پہنچ چکی تھی، اپنے اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بلانے کی رفتار میں اضافہ کر دیا۔ پھر جب میرپور اور دنیا میں انگریزوں کی دوسری نوآبادیوں سے مزدوروں کی بڑی تعداد ولایت پہنچ آئی تو نسلی قوم پرستوں یعنی نسل پرستوں نے شور مچا دیا کہ یہ اتنے زیادہ کالے منظور نہیں ہیں۔ تب برطانیہ سرکار نے آنے والوں کی تعداد کم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بحث کے بعد فیصلہ کیا کہ 1962 سے امیگریشن پر کچھ پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ان پابندیوں سے پہلے پہلے زیادہ سے زیادہ دوستوں رشتہ داروں کو بلانے کی دوڑ کے نتیجے میں میرپوریوں کی برطانیہ آمد میں تیز رفتار اضافہ ہوا۔ جب ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے میرپور شہر اور گردوپیش کے چار سو گاؤں سے ایک لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے تو ان میں سے بھی بہتوں نے برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا۔ منگلا ڈیم کی تعمیر سے پرانا شہر اُجڑنے کے بعد خاص طور سے میرپور شہر والوں کی برطانیہ ہجرت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
میرپوری سماج کی جو جڑ بنیاد برطانیہ ہجرت میں اضافے اور برطانیہ سے پونڈ آنے شروع ہو جانے کے نتیجے میں تبدیل ہونا شروع ہوئی تھی اس کو ڈیم نے میرپور اور گرد و نواح میں ایک دم سے نگل لیا۔ اگر میرپور شہر نہ اجڑتا تو ولائیتی پیسے سے یہاں سرمایہ کاری کی شکلیں اور اقسام مختلف ہونے کے قوی امکانات تھے۔ مکانات و دوکانوں کی تعمیر تو ہوتی لیکن تجارت کے لیے زراعت اور شہر کے گرد کارخانے اور فیکٹریاں بھی لگتیں جن کے بیج اور ابتدائی کونپلیں شہر میں موجود تھیں جیسے کھوسا، کھدر، لومز وغیرہ۔ گاؤں اور شہر کا رشتہ نہ صرف قائم رہتا بلکہ گاؤں میں اکثر گھرانوں میں قوت خرید میں اضافے کی وجہ سے شہر کے وسعت اختیار کر کے عظیم الشان شہر بن جانے کے واضح امکانات موجود تھے۔
معاشرتی جڑ بنیاد نے پونڈوں کے آنے سے بدلنا ہی تھا، لیکن اس پر صدیوں سے جاری سماجی ادارے جیسے خاندان، برادریاں، رسوم و رواج ، اخلاقی رویے وغیرہ بتدریج یعنی آہستہ آہستہ بدلتے ۔ لوگوں پر ان تبدیلیوں کے اثرات بتدریج ہوتے جس سے نئے ماحول میں ڈھلنے کی مشکلات ان کے لیے ازیتیں نہ بنتیں۔ تسلسل قائم رہتا۔ اگلی نسل پچھلی نسل سے جڑی رہتی ۔ پیڑیوں / نسلوں کے درمیان فاصلے اتنے طویل نہ ہوتے اور ان سے والدین اور بچوں کے درمیان دوریاں اور دماغی کوفتیں اور دماغی امراض اس قدر نہ ہوتے ۔ اس پہلو کو ریاست خاص طور سے جموں کے میرپور ڈویژن میں پہاڑی ، گوجری اور ڈوگری بیلٹ میں تقسیم کی لکیر کے آر پار بسنے والے لوگوں کی تقسیم کے بعد کی زندگیوں کے موازنے سے بہت بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انمول سماجی مطالعہ ہو سکتا ہے۔ لیکن نفرتوں کی اونچی اونچی دیواروں کے آر پا دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔
بھارتی مقبوضہ علاقے سے ہجرت
1947 میں جس طرح میرپور میں ہندو اور سکھ ریاستی باشندوں کا مقامی اور باہر سے آئے ہوئے حملہ آوروں کے ہاتھوں قتل عام ہوا اور زندہ بچ جانے والے میرپور چھوڑ کر بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ علاقوں میں چلے گئے ،اسی طرح جموں میں مقامی اور باہر سے آئے ہوئے ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا بھی قتل عام ہوا ۔ زندہ بچ جانے والے پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام علاقوں میں آن بسے۔ اس آر پار ہجرت کے بھی میرپور کے معاشرتی ڈھانچے پر وسیع اور دور رس اثرات مرتب ہوئے۔
میرپور سے غیر مسلم ریاستی باشندوں کے چلے جانے سے یہاں کا صدیوں پرانا کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی رنگ بھی ختم ہو گیا۔ معیشت ، سیاست اور انتظامیہ پر مقامی مسلمان اور پاکستانی حکمران طبقے کے نمائندے آ کر بیٹھ گئے۔ تاہم بھارتی قبضے میں جانے والے علاقوں سے آنے والے ریاستی باشندوں کے آنے سے میرپوری سماج میں ایک نیا رنگ آ گیا۔ 47 میں نے والے اجڑے خاندان جو میرپور میں آئے ان کو اس نسبت سے کبھی مہاجر بھی پکارتے اور لکھتے ہیں کہ وہ اپنے شہر، قصبے اور گاؤں سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ لیکن حقیقت میں ان کو یہاں اپنا ہی حصہ سمجھا گیا ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ان علاقوں کا میرپور سے 47 کے رولے سے پہلے بھی تعلق تھا جو صدیوں پرانا تھا۔ انگریزی علاقے سے بیلوں اور گدھوں پر نمک لاد کر راجوری ، مینڈھر اور سری نگر تک جانا اور واپسی پر اخروٹ ، بادام اور مختلف مصالحے لانے کی روایت میرپور میں بہت پرانی تھی جس کو مقامی زبان میں ' تھوڑ' کہا جاتا تھا اور جو یہ کام کرتے تھے ان کو تھوڑی پکارا جاتا تھا۔
یہاں مجھے بابائے گوجری رانا فضل حسین راجوروی اور میری دادی صاحب نور کے درمیان ایک مختصر سا مکالمہ یاد آ رہا ہے جو اوپر پیش کی گئی صورت حال کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ باوا فضل جب "چٹکا کمیٹی" کی دعوت پر برطانیہ آئے تو وہ کچھ دن اولڈہم میں میرے گھر پر رکے۔ پہلے دن آئے تو میری دادی جو اس وقت ہمارے ساتھ رہتی تھیں نے مجھ سے پوچھا:
شمسا اے پہھائی اور کُہن نی۔
میں آخیا : " بے اے میرپوروں ہن "۔
بے پچھیا ۔ " پچھے کُتھوں ہین''۔
''راجوری تھوں ''۔ میں آخیا
'' ہائے رجی وی راجوری''۔ دادی نے بابا جی فضل رانا کو یوں دیکھتے ہوئے کہا جیسے میرپور اپنے گاؤں میں کھڑی راجوری کو دیکھ رہی ہوں۔ اور بابا فضل حسین جو نئی جگہ ، ان جان گھر میں کچھ جھجک سی محسوس کر رہے تھے ان کی آنکھوں میں ایک دم سے شناسائی کی چمک نظر آئی۔ جیسے کمرے کی فضا ایک دم سے اجنبیت کی جگہ اپنائیت سے بھر گئی ہو۔ میں نے دادی سے پوچھا ۔
'' بے رجی وی راجوری کیاں آخنے سن راجوری کی؟ ''
'' پُترا او اوخے دیہاڑے سن۔ وخت کجیے وی بہوں سن تے غریبی وی۔ کہیں واریں اساں نے پاسے بدل ویلے پر نہ برے تے فصلاں نھی سن ہونیاں۔ فیر لوک راجوری جانے سن دانا پھکا آننے واستے۔ آخنے سن راجوری وچ کدے دانے پھکے نی تھوڑ نھی ہونی۔ تاں ماریوں راجوری کی رجی وی راجوری آخنے سن۔ ''
مطلب میرپور ڈویژن کے علاقے ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ میرپور کے دیہاتوں کے ساتھ زبان اور کلچر کا بھی کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگ گوجری اور پہاڑی ہی بولتے تھے اور پڑھے لکھے لوگ اردو لکھتے پڑھتے تھے۔ ایک صدی سے ایک ہی ریاست کے باشندے تھے ۔ اس لیے اپنے گھروں سے اجڑنے اور قتل عام دیکھنے اور اس سے بچ کر آنے کے گہرے صدمات تو ضرورت تھے لیکن ان کے لیے یہ ہجرت کوئی بہت بڑا " کلچرل شاک" یعنی ثقافتی صدمہ تھا اور نہ یہاں بسنے والوں کے لیے وہ کوئی زیادہ اجنبی تھی۔ پھر سرکاری طور پر بھی ان کو سرکاری زمینیں الاٹ کی گئیں ۔ تعلیمی اداروں میں نشستوں اور سرکاری ملازمتوں میں بھی کوٹا رکھا گیا ۔ انہوں نے خود بھی محنت کی اور وہ میرپور کی معیشت، سیاست، و ثقافت کا اہم حصہ بن گئے۔ کئی بتدریج نئے تعلقات اور دوستیوں ، واقفیوں کے ذریعے انگلینڈ بھی پہنچ گئے۔
بہرحال مذکورہ واقعات یعنی میرپور سے بیرون اور اندرون ہجرت اور منگلا ڈیم نے مقامی معاشرتی ڈھانچے کی بنیادوں میں دور رس تبدیلیوں کا وہ عمل شروع کیا جو مسلسل جاری ہے۔ آئیے پہلے معاشرے کی مادی بنیادوں میں آنے والی تبدیلیوں کا مختصر سا جائزہ لے لیں ۔
زرائع پیداوار
جیسا کہ اوپر بیان کیا برطانیہ ہجرت کے ثمرات یعنی پونڈ واپس میرپور پہنچنے سے پہلے تک ہزاروں سالوں سے یہاں کے باسیوں کی روزی روٹی کا سب سے بڑا وسیلہ ، زریعہ زمین تھی۔ پرانے میرپور کے غرق ہونے تک دیہات اور شہر میں بسنے والے اپنی خوراک ، لباس اور رہائش سے متعلقہ روزمرہ کی ضروریات مقامی کاشتکاری ، اور دستکاری سے پیدا کر لیتے تھے۔ شہر کے ارد گرد چنگاہاں ( جھنگاں) میں سبزیوں کے باغوں سے مقامی ضروریات پوری ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ کپاس کی فصل جو سارا سال رہتی تھی ( غالباً تین بار کاشت کی جاتی تھی) اس سے ٹبروں اور خاندانوں کے لباس کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں ۔ افراط مطلب اپنی ضروریات سے زیادہ نہیں تھی مگر اپنی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔
نیا میرپور ان تمام ضروریات کے لیے دینہ ، جہلم اور پاکستان کے دوسرے شہروں کا محتاج ہو گیا۔ پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ البتہ پیسے کے نئے نئے ذرائع پیدا ہو گئے۔ پیسے اور روزی روٹی کے دو سب سے بڑے ذریعے سامنے آئے۔ ایک تو 'آزاد' حکومت کا بجٹ ، جو پاکستان حکومت ' آزاد' حکومت کو گلگت بلتستان ، خارجہ ، دفاعی ، کرنسی ، آزاد خطوں کے وسائل و اختیارات اور وفاداریاں پاکستان کے حوالے کے بدلے میں دیتی تھی۔ دیتی ہے۔ یہ بجٹ جتنا جتنا بھی تھا سرکاری ملازمین ، وزیروں مشیروں ، ٹھیکیداروں ، پرمٹ داروں کی روزی کا زریعہ تھا۔
اس کے بعد روزی کا دوسرا (اب شاید پہلا) سب سے بڑا زریعہ تارکین وطن کا پیسہ ( ترسیلات زر) بن گیا۔یہ پیسہ جس کو کمانے کے لیے پسینہ کہیں اور گرتا تھا اور جو پسینے کے معاوضے میں سے قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں اترے رشتوں کے تانے بانے کے حصے کے طور پر میرپور میں آنے لگا تھا۔
اگر ہم پیداوار کو روزی روٹی کہیں تو اب روزی روٹی کیا تھی؟
پیسہ / نقدی
پیسہ / نقدی جو اس سے پچھلے مرحلے یعنی منگلا ڈیم کی تعمیر تک ایک نایاب چیز تھی۔ تب زمین سے پیدا ہونے والا اناج سب سے بڑی کرنسی تھی۔ سارا سال ہر طرح کی محنت اور سرگرمیاں اس اناج کو پیدا کرنے ، اس کی تقسیم اور اس تک رسائی حاصل کرنے لیے ہوتی تھیں۔ اب اناج کی جگہ نقدی ، معاشی سرگرمیوں کا سب سے بڑا ذریعہ، اور زمین ایک تجارتی شے بن گئی ، جو دھڑا دھڑ بکنے لگی۔ اس سے پہلے زمین بیچنا انتہائی بُرا فعل سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جب زمین روزی کا بڑا ذریعہ نہ رہی، تو روزی کے نئے بڑے ذریعے 'پیسے' نے زمین کی مرکزی حیثیت سے جڑی سوچ کہ زمین بیچنا اچھا فعل نہیں ، بدل ڈالی۔
دیکھتے ہی دیکھتے زمین کا کاروبار پھیل گیا۔ گاؤں والوں کی طرف سے گاؤں اور شہر میں زمینیں خریدنے کا رحجان پیدا ہوا جس سے زمین کی قیمت بڑھی اور ' پلاٹ صنعت' کو فروغ ملا۔ اس صنعت نے ترقیاتی اتھارٹی ( ایم ڈی اے) کو ملازمت کے لیے اتنا پرکشش بنا دیا کہ یہاں ملازمت لینے کے لیے لاکھوں دینا منافع کا سودا سمجھا جانے لگا کیونکہ کڑوروں کمانے کے مواقع تھے۔ اسی عہد سے ہی مقامی اداروں میں رشوت کے نرخ تارکین وطن کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم کے ساتھ جڑ گئے۔ یوں اب زمین سے بھی اناج کی جگہ پیسہ اُگنے لگا اور حکومتی بجٹ اور تارکین وطن کا پیسہ مل کر روزی کے سب سے بڑے ذریعے کی حیثیت اختیار کرنے لگے ۔ پہلے مختلف سرکاری اداروں نے رشوت کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی اور پھر بتدریج نجی ادارے اور سیاستدان بھی اس دوڑ میں شامل ہو کر کاروبار اور اثرورسوخ کے ذریعے پیسہ بنانے لگے ۔
روزی کا تیسرا بڑا ذریعہ جو بتدریج پھیلا وہ تجارت ہے۔ اس میں بھی ظاہر ہے کہ پیسے کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ البتہ اس میں یہ اہم بات ہے کہ اس میں منافع کمایا جاتا ہے ۔ پاکستان کی منڈیوں سے مال سستی قیمت پر خرید کر میرپور کی منڈیوں میں مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔ تاہم سرکاری ملازمتوں کی طرح تجارت میں گردش کرنے والے سرمائے میں بھی تارکین وطن کا براہ راست اور بالواسطہ بہت بڑا حصہ ہے۔ اکثر گاہک بھی تارکین وطن ہیں۔ تاہم یہ سب میں اندازے سے کہہ رہا ہوں ۔ ان کو سائنسی حقیقت بنانے کے لیے ان تمام شعبوں میں گردش کرنے والے سرمائے کی مالیت کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ کوئی کر دے تو بہت بڑی نیکی ہو گی۔ مطلب تاریخی مادیت کے طالب علموں کے کرنے کا کام ہے ۔ یہ ان کے لیے یہ ' ہوم ورک ' ہے۔
ان تمام شعبوں میں گردش کرنے والے سرمائے سے سیاستدانوں کے حصے میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ کچھ سیاستدان آزاد کشمیر کے بجٹ، آزاد کشمیر حکومت میں اپنی حیثیت کی وجہ سے کاروباروں ، ٹھیکوں اور تارکین وطن رشتہ داروں، برادری ، دوستوں یا کاروباری سودوں سے اتنی رقم حاصل کرتے ہیں کہ اربوں تک پاکستان میں اپنی سیاسی جماعتوں کے "مہاراجوں" کو دے کر مراعاتوں بھری کرسی حاصل کرتے اور اس پر تشریف قائم رکھتے ہیں۔
درحقیقت اب میرپور ( اور کافی حد تک آزاد کشمیر ) کی معیشت بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ منڈی برطانیہ اور دیگر ممالک میں تارکین وطن کے ذریعے ' ماورا قومی' یعنی ٹرانس نیشنل حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میرپور یا آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ مختلف ثقافتی، برادریائی، خاندانی اور سیاسی رشتوں ناطوں کے ذریعے ہر اس دیس تک پھیل چکی ہے جہاں میرپور ( آزاد کشمیر) کے تارکین وطن بستے یا کام کرتے ہیں۔
صرف منڈی ہی نہیں بلکہ اس پر جو معاشرہ پروان چڑھا ہے س کے تانے بانے بھی برطانیہ ، یورپ، مشرق وسطیٰ ، کنیڈا اور امریکہ میں پروان چڑھنے والے کشمیریوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ہر معاشی سرگرمی سودے یعنی بیوپار کے گرد گھومتی ہے۔ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں داخلوں سے لے کر ملازمتیں حاصل کرنے ، تبادلہ کروانے رکوانے، ترقیاب ہونے اور حتیٰ کی ریٹائرڈ ہونے اور پینشن تک میں کچھ نہ کچھ سودا بازی کا عنصر موجود رہتا ہے۔ تجارت کی چیزیں ( سودا) پاکستان سے لاکر یہاں بیچا جاتا ہے۔ اس سودے میں روزمرہ اور عام استعمال کی مادی اشیاء کے ساتھ ساتھ سیاسی اختیار و اثرورسوخ اور ثقافتی اشیاء بھی شامل ہیں۔ سب کچھ شئے فرخت بن رہا ہے۔
یوں میرپور اور آزاد کشمیر کی موجودہ معیشت منڈی کی معیشت ہے اور موجودہ معاشرہ درحقیقت سوداگری ( بیوپاری یا دوکانداری ) معاشرہ ہے۔ جس میں کاروباری رحجانات بھی پیدا ہو چکے ہیں لیکن ابھی کمزور اور اقلیتی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرپوری معاشرہ اب جاگیرداری یا قبائلی نہیں رہ گیا۔ ہاں قبائلی اور جاگیرداری معاشروں کی کچھ باقیات باقی ہیں۔[19]
آلات پیداوار
اگر پیدوار کو زمین سے یا فیکٹری میں محنت سے پیدا ہونے والی اشیاء تک محدود رکھیں تو نئے میرپوری سماج میں اب یہ تقریباً ناپید ہو گئی تھیں۔ لیکن میں نے یہاں پیداوار کو روزی روٹی کے معنوں میں عام طور پر 'غیر پیداواری' سرگرمیوں ( خود پیدا نہ کیے سودے کی خرید و فروخت ، ملازمت،سیاست کے زریعے کمائی ) کے معنوں میں بھی لیا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر جھلک دیکھی کہ ہر ایک سرگرمی یا کم از کم اکثر سرگرمیاں براہ راست یا بالواسطہ 'پیسہ کمانے' کے لیے ہی کی جاتی ہیں۔ اس لیے اب پیداوار پیسہ ہے اور اس کو کمانے کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں اپنے انداز میں پیداواری سرگرمیاں ہیں ۔
1960 کے بعد کاشت کاری اور دستکاریوں کی چھوٹی چھوٹی صنعتیں بہت تیزی سے دم توڑ گئیں ۔ لیکن جو کچھ کاشتکاری اور دستکاری کہیں بچ گئی اس میں کچھ عرصہ تو ہل بیل اور پرانے آلات ہی استعمال ہوتے رہے ۔ لیکن بتدریج ان کی جگہ مشینوں یعنی ٹریکٹروں اور تھریشروں نے لے لی جو نقد رقم لے کر کاشتکاری کے کام کرتے تھے۔تاہم اناج اب مہاراجہ، جاگیرداروں اور زمینداروں کو نہیں دیا جاتا تھا بلکہ گھریلوا ستعمال کے لیے ہی ہوتا تھا۔
دستکاری میں سے برتن و جوتے بنانے، تیل نکالنے اور روئی دھنکنے کے کام ختم ہو گئے۔البتہ کپڑے سینے اور بال کاٹنے کے ہنروں کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ جوتوں کی مرمت کا کام بھی چلتا رہا۔ ان کے لیے کپڑے سینے والی نئی مشینیں اور بال کاٹنے اور جوتے مرمت کرنے والے ہتھیار باہر ملکوں سے پاکستان اور وہاں سے میرپور آنے لگے۔ ان کے ساتھ ساتھ پیداوار کے جدید ذرائع بھی سامنے آنے لگے۔ سرکاری ملازمتوں کے بعد بہت سے نئے پیشے اور ہنر بھی روزی کا ذریعہ بننے لگے۔ ان میں دوکانداری ، مختلف دوکانوں پر نوکری، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور دواخانوں پر ملازمتیں وغیرہ۔ بتدریج صحت اور تعلیم سب سے بڑے نجی کاروبار بن گئے۔ 1970 کی دھائی میں ، ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہونے لگا ، کچھ فیکٹریاں بھی لگنا شروع ہو گئیں اور پھر بینک بھی کھلنے لگے۔ پاکستان کے سرکاری اور پھر میرپور کے نجی یعنی پرائیویٹ۔ پیداوار کے ان نئے ذرائع میں پیداوار کے آلات متعلقہ شعبوں میں ' تعلیم اور تربیت' کو قرار دیا جا سکتا ہے( ؟) ۔ ( اور ظاہر ہے یہ پیداواری قوتوں میں بھی شمار ہوتے ہیں)۔
بہرحال آلات پیداوار کے حوالے سے مجموعی طور پر اب میرپوری معاشرہ مشینی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ ہر ایک کام کے لیے کوئی نہ کوئی نئی مشین آ رہی تھی۔ تاہم ان میں سے کچھ بھی مقامی سطح پر پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اکثر مشینیں اور تیار مال سب کچھ باہر سے پاکستان اور وہاں سے میرپور آتا ہے۔ اس لیے بیوپاری یا دوکانداری ہی میرپوری معاشرے کی درست پہچان معلوم ہوتی ہے۔
پیداواری قوتیں
جیسا کہ اوپر پہلے باب میں وضاحت کی ہے کہ پیداواری قوتوں سے مراد آلات پیداوار، پیداواری ہنر اور سب سے بڑھ کر انسانی محنت کا مل کر پیداوار کرنا لیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مجموعی طور پر پیداواری سرگرمیوں یا پیداواری سرگرمیوں کے مجموعے کو پیداواری قوتیں کہا جاتا ہے ۔ آئیے اب دیکھیں کہ نئے میرپوری سماج میں پیداواری قوتوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
پرانے میرپوری سماج میں مجموعی طور پر پیداواری قوتیں زمین سے پیداوار کرنے سے متعلقہ آلات ، دستکاری یعنی ہاتھ سے کام کرکے چیزیں وسطیں بنانے اور انسان کی زیادہ تر جسمانی محنت پر مشتمل تھیں۔ البتہ ایک خاصا حصہ ذہنی محنت کا بھی تھا جس کا کام درحقیقت جسمانی محنت سے کی جانے والی پیداوار کا انتظام چلانا تھا ۔ پرانے آلات پیداوار کی جگہ مشینیوں کے آ جانے سے زمینوں سے اگائی جانے والی فصل میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا۔ کیونکہ یہ صرف اپنے استعمال کے لیے اگائی جاتی تھی۔ مجموعی طور پر پیداوار میں کمی ہوئی کیونکہ باہر کے پیسے کی وجہ سے کاشتکاری سے وابستہ گھرانوں/ افراد میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ۔
اوپر کے معنوں میں اب پیداواری قوتوں میں اگرچہ کچھ پرانے آلات اور جدید مشینیں شامل ہیں لیکن سب سے زیادہ آمدنی ( پیداوار) دماغی قوتوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ان میں تجارتی ، سیاسی اور کاروباری معاملات ( سودا/ بیوپار) کرنے کی صلاحیتوں اور ہنرمندیوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپ اوپر بیان کردہ روزی کمانے کے جس بھی شعبے سے وابستہ ہیں آپ کے معاملہ کرنے کے ہنر ہی آپ کو اوپر لے کر جاتے اور نیچے لاتے ہیں۔ خواہ برادری یا جماعت کی حمایت حاصل ہو تو بھی فیصلہ کن کردار آپ کی معاملہ کرنے کی صلاحیت ادا کرتی ہے۔ ایک ہی برادری اور خاندان کے کچھ افراد عہدوں اور حیثیتوں میں اوپر اور کچھ نیچے کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب’ معاملہ کرنے کی صلاحیتوں ‘کے نظریے میں کافی حد تک مل جاتا ہے۔
ریڑھی پر بھاؤ تاؤ سے لے کر سکول اور ہسپتال وغیرہ کی آجازت/ لائسنس اور اربوں کے برانڈڈ اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے کاروباری معائدوں اور سیاسی عہدوں ، ٹکٹوں اور قلم دانوں تک میں اپنے فائدے کے لیے مخالف فریق کو قائل کرنے اور منوانے کا ہنر کارفرما ہوتا ہے۔ اس لیے یہ میرپور کی معیشت میں ایک اہم پیداواری قوت ہے۔ اس میں مقامی سطح پر دفاتر میں گاہکوں کے ساتھ فیسوں اور رشوتوں کے نرخ طے کرنا بھی شامل ہے۔
اس سوداگری سماج میں زیادہ کامیاب وہ لوگ اور پرتیں ہیں جو ہر حال میں معاملہ اپنے حق میں کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔[20]
پیداواری تعلقات
پیداواری تعلقات وہ تعلقات ہوتے ہیں جو پیداواری سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہم معاشی پیداوار یعنی روزی روٹی پیدا کرنے کی سرگرمیوں کو پیداواری سرگرمیاں کہہ رہے ہیں اس لیے ان سے پیدا ہونے والے تعلقات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تو چلیے دیکھیں کہ سنتالیس میں مہاراجہ راج کے خاتمے کے بعد میرپور ی معاشرتی ڈھانچے کی جڑ بنیاد میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ، جن کا ذکر اوپر کیا ہے ، ان میں سے کس قسم کے پیداواری تعلقات پیدا ہوئے؟
اوپر ہم نے دیکھا کہ سنتالیس سے پہلے ہزاروں سالوں کے قبائلی اور جاگیردارانہ پیداواری عمل ( پیداوار سے تقسیم کے ذریعے) سے چار بڑے طبقات یا پرتیں پیدا ہوئی تھیں۔ حاکم( راجے مہاراجے ، انتظام و انصرام چلانے والے سرکاری افسر ان و ملازمین ) ، جاگیردار، زمیندار ، کسان اور دستکار ۔ تاہم جب اپنی ضرورت سے اضافی پیدوار ممکن ہوئی تو 'لینے دینے ' ( بارٹر سسٹم) کا سلسلہ شروع ہوا جو درحقیقت سوداگری تعلقات اور شہروں کے قیام کے بالکل آغاز کا مرحلہ تھا۔ سنتالیس سے پہلے میرپور شہر میں بڑے بیوپاری جاگیردار بھی تھے ۔ یعنی وہ زیادہ زمین ہونے کی وجہ سے کسانوں یا باہک مزارعوں کی محنت استعمال کر کے اپنی ضروریات سے زیادہ ناج اگاہ سکتے تھے جو وہ فروخت کر سکتے تھے۔
سنتالیس کے بعد ہجرت اور منگلا ڈیم کی وجہ سے کاشتکاری و زمینداری وغیرہ نہ رہیں ۔ لیکن پیسہ بہت آ جانے سے خوراک، لباس، تعمیر کا سازوسامان ، صحت اور تعلیم کے لیے سب کچھ پاکستان سے لاکر میرپور میں بیچا جانے لگا۔ یوں دوکانداری / سوداگری کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس میں سے کون سے پیداواری تعلقات پیدا ہوئے ؟
پیداواری تعلقات پہچاننے کے لیے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ پیداوار کون اور کیسے کرتا ہے اور کون اس کا مالک ہے اور کون اس کا مالک نہیں ہے۔ اب اگر میرپور میں دیکھیں تو جیسا اوپر وضاحت کی یہاں کی سب سے بڑی پیداوار ہے روپیہ پیسہ یعنی نقدی ، کیش۔ باقی یہاں بہت ہی کم کچھ پیدا ہوتا ہے۔ ضروریات کی چیزیں پیسہ دے کر باہر سے خرید کر لائی جاتی ہیں اور یہاں بیچی جاتی ہیں۔
اب اس کیش کا اصل مالک کون ہے؟ غور کریں ذرا۔ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ کون اس کا مالک و مختار ہے؟
بظاہر تو پیدوار یعنی نقدی کے بڑے ذرائع بجٹ اور تارکین وطن کے پیسے کے مالک و مختار آزاد کشمیر کے شہری ہی ہیں ۔
میرپور اور آزاد کشمیر میں تارکین وطن کی طرف سے بھیجے جانے والے پیسے کے وہ خود مالک و مختار ہیں۔ جس کو جب چائیں جتنا چاہیں جیسے چاہیں بھیجیں۔
پیداوار کا دوسرا بڑا ذریعہ سالانہ بجٹ بھی ہر سال 'آزاد' کشمیر حکومت کو دے دیا جاتا ہے جس کو وہ بھی جہاں چاہیں جیسے چاہیں استعمال کریں۔
تاہم کیا اس بظاہر کے پیچھے حقیقت بھی یہی ہے۔
جس طرح متحدہ ریاست جموں کشمیر میں جاگیرداری معیشت میں اصل مالک اور بڑا جاگیردار مہاراجہ سرکار تھی اور آگے اس کے کارندے (جاگیردار، افسران، زیلدار، نمبردار وغیرہ ) اس کے لیے مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے کام کرتے تھے اور بدلے میں کچھ حصہ پاتے تھے ، اسی طرح اب 'آزاد' کشمیر میں اصل مالک پاکستان کی سرکار ہے۔ آزاد کشمیر کا بجٹ بھی اور تارکین وطن کا پیسہ بھی پاکستان سرکار کے ذریعے پاکستان کے بینکوں میں آتا ہے۔ جو نہیں آتا وہ بھی آزاد کشمیر کی منڈی کی معیشت میں سوداگری کی گردشوں سے گذر کو آخر ان ہی بینکوں میں ہی جمع ہوتا ہے۔ یوں 'آزاد' کشمیر کی معیشت پر اصل اختیار پاکستان کے ارباب اختیار کا ہے۔ وہ آگے اس پیسے میں سے کچھ حصہ 'آزاد' حکومت ریاست جموں کشمیر کے اقتدار پر بٹھائے گئے اپنے ماتحتوں کو دیتے ہیں جس طرح مہاراجہ جاگیرداروں کو دیتا تھا اور وہ بدلے میں وفا داری کرتے تھے۔
یوں درحقیقت آزاد کشمیر کا معاشرہ بھی کنٹرول اور استحصالم کی کئی پرتوں میں جکڑا ہوا ہے لیکن یہ جکڑ کئی ایک لہروں یا پرتوں پر مشتمل ہے۔ جلدی سے ان پرتوں کی ایک جھلک دیکھ لیں:
ایک بجٹ دوسرے غیر جمہوری الحاقی آئین، تیسرے پاکستان کی وزارت امور کشمیر ، لینٹ افسر، سیاسی جماعتوں ، چوتھے فوج اور ایجنسیاں، پانچویں کچھ مذہبی و روحانی شخصیات ، چھٹے صحافیوں اور ساتویں اساتذہ کے ذریعے 'آزاد' خطے کی معیشت، سیاست، ثقافت، نفسیات کو ایک مخصوص اور یک طرفہ سرکاری بیانیے کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی اس سرکاری جکڑ کے اس ڈھانچے کے نیچے والی پرت جو پیسے یعنی پیداوار میں حصہ دار ہے وہ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں، افسر شاہی اور تعلیم و صحت سے متعلقہ کچھ نجی صنعتوں بشمول بجلی پیدا کرنے والوں اور بڑے دوکانداروں(جن میں تارکین وطن بھی شامل ہیں) پر مشتمل ہے۔ جو حیثیت جاگیردار کو حاصل تھی وہ ان کو حاصل ہے۔ تب عام آدمی جاگیردار کا محتاج تھا اور آج ان کا۔ اس سے نیچے چھوٹے افسروں، چھوٹے دوکاندار ، تھوڑی بہت زمین والے زمیندار و کاشتکار وغیرہ اور سب سے نیچے جن کا کوئی کاربار بھی نہیں روزگار بھی نہیں اور کوئی باہر بھی نہیں۔ اس لیے یہ جکڑ ( غلبہ / تسلط) اکثر آبادی کہ کچھ حلقوں کے لیے بے رضا و رغبت یعنی مرضی اور خواہش کے مطابق نظر آتی ہے۔
بجٹ کے بارے میں آزاد کشمیر کے عام شہری تو عام شہری کئی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا احسان عظیم ہے ۔ میں خود برطانیہ آنے تک یہی سمجھتا تھا حالانکہ میں کراچی یونویرسٹی سے سوشیالوجی میں ایم اے کر کے آیا تھا اور آخری دو سال نقل کے بغیر پاس کیے تھے۔ تاہم وہاں سوشیالوجی کے مضمون میں سوائے اس دریافت کے کہ ' پاکستان کی پسماندگی کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر بھی ہے کیونکہ پاکستان کو کشمیر پر بہت وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں' مزید کچھ نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ سالانہ بجٹ کے موقع پر دیکھنے کے ملتا تھا جب ہر طرف اخبارات میں سرخیاں لگتی ہیں کہ پاکستان نے اتنا بجٹ آزاد کشمیر کو دیا گیا ہے۔ اس لیے عام شہری کو ہر سال یا دہانی ہوتی ہے اور اس کے دماغ میں اپنے پاکستان کے حکمرانوں اور اس استحصالی رشتے کی پیداوار اور وفادار لیڈروں کے یہ دعوے ازلی سچائی بن جاتے ہیں کہ' ہم پاکستان کا دیا کھاتے ہیں' ۔ ' پاکستان کے بغیر ہم ایک چائے کی پیالی بھی نہیں پی سکتے'۔ وغیرہ
آزاد کشمیر کا موجودہ آئین ' ایکٹ چوہتر' شاید دنیا کا واحد آئین ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ صرف ایک سیاسی نظریے کے امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ حتیٰ کہ سرکاری نوکری کے بھی صرف ایک ہی سیاسی نظریے کے لوگ اہل ہو سکتے ہیں۔ وہ سیاسی نظریہ ہے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق۔ عام طور پر ہمارے خود مختاریے اور انقلابی دوست پاکستان کو دوش دیتے ہیں قبائلی مداخلت سے لے کر ایکٹ چوہتر تک ، لیکن میں نے جب ریاست میں مسلم کانفرنس کی سیاست اور خاص طور سے 14 اگست 1947 کے بعد مسلم کانفرنس کے لیڈروں کو ' فالو' کیا بطور خاص چوہدری حمید اللہ اور سردار ابراہم خان کو تو دیکھا کہ درحقیقت انہوں نے اور سینکڑوں دیگر رہنماؤں نے مداخلت کی دعوت دی۔ ترقی پسندوں نے سردار ابراہیم کے ذریعے جنرل اکبر کو اور روایت پسندوں نے چوہدری حمید اللہ کے ذریعے خان قیوم کو۔ یہ واقعات یوسف صراف کی ' کشمیریز فائیٹ فار فریڈم ' میں درج ہیں۔ سردار ابراہیم کو فیض احمد فیض لوگوں نے جو گل مرگ میں ڈیڑے ڈالے ہوئے تھے قائد اعظم کے پاس بھیجا لیکن جب قائد اعظم نے ملنے سے انکار کر دیا تو افتخار احمد تاری کے ' ہتھے' چڑھ گئے جو روزنامہ پاکستان ٹائمز کے مالک اور کشمیر میں انقلاب برپا کرنے والے بائیں بازو کے پاکستانیوں کے ساتھی تھے ۔ جبکہ 15 اگست کے بعد چوہدری حمیداللہ نے خان قیوم کو لکھا کہ اب پاکستان کی مداخلت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تو خان قیوم نے کہا کہ آپ خود ادھر آؤ چٹھیوں سے کچھ نہیں ہو گا۔
اسی طرح ایکٹ چوہتر میں الحاق پاکستان کی شرط رکھنے کے حوالے سے عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ سردار عبدالقیوم صاحب نے رکھوائی تھی کیونکہ محاذ رائے شماری اور این ایل ایف، خاص طور سے مقبول بٹ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں آزاد کشمیری کے نوجوان خاص طور سے خود مختاری کی طرف مائل ہوتے جا رہے تھے۔
اس نظریے کو راسخ کرنے کے لیے پھر وہ تمام ذرائع استعمال کیے جاتے رہے جو کسی بھی معاشرے میں 'ذہن سازی' اور ' رائے کی تشکیل و تعمیر' کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ تعلیمی نصاب، ذرائع ابلاغ، اساتذہ، دینی و علمی شخصیات ۔ جب کہ ' مخالف' یعنی آزادی و خود مختاری کے نظریے پا پابندیاں ۔ لیکن اس کا اثر الٹا ہوا اور خود مختاریوں کی تعداد بڑھتی ہی رہی۔ خود مختاری جان سے پیاری نئی نسل کا محبوب نعرہ بن گیا اور ' نعرہ ہی نہیں ایمان ہے آزادی کے متوالوں کا۔ کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا'۔
یہ دونوں جکڑ بندیاں ظاہر ہے کہ فوجی قبضے کی بنیاد پر قائم و دائم ہیں۔ ان دو بڑ ی جکڑ بندیوں کے اندر پھر استحصال اور جبر کی مزید جکڑ بندیاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب پاکستان کی وفاداری میں ہوتا ہے تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس سب کے صلے میں سب کو مقامی سطح پر اختیار اور طاقت ملتی ہے جو کہ در اصل جدید ' اناج' کے آلات پیداوار ہیں جن کے ذریعے ۔۔۔آج کے آزاد کشمیری معاشرے کی سب سے بڑی پیداوار یعنی نقدی/ روپیہ/پیسہ/ مال ' پیدا' کیا جاتا ہے۔
یہ ہے معاشی حقیقت موجودہ میرپور ی معاشرے کی۔ اس میں اگر دور سے دیکھیں تو تین بڑے طبقے ہی نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا قابض ڈھانچہ، آزا د جموں کشمیر کے حکمران طبقات اور چھوٹے ملازمین یا بے روزگار شہری۔ تاہم قریب جا کر دیکھیں تو طبقے مختلف پرتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
ایسا کوئی ایک طبقہ موجود نہیں ہے جس کو کہا جا سکتا ہو کہ اگر وہ متحد ہو جائے تو انقلاب آ جائے۔۔ یعنی اس وقت کوئی ایک انقلابی طبقہ موجود نہیں ہے۔ انقلابی سوچ و فکر کے حامل ، انقلابی سیاست کرنے والے افراد یا چھوٹے چھوٹے گروہ تو مل جاتے ہیں لیکن انقلابی طبقہ موجود نہیں ہے۔ جیسے متحدہ میرپور میں کسان طبقہ تھا جس کے بارے میں سردار بدھ سنگھ نے کہا تھا کہ راجے کا راج کسان کی ہل پر کھڑا ہے۔ کسان ہل روک دے تو راج زمین بوس ہو جائے۔ آج کا آزاد کشمیری معاشرہ کسی ایک طبقے کے بل پر نہیں کھڑا اس لیے ان تمام پرتوں کے اکٹھ اور مشترکہ جدوجہد کے بغیر جو موجودہ نظام میں استحصال، جبر، غلامی، و محرومی کا شکار ہیں آزاد کشمیر میں ٹھوس اور بامعنی جدوجہد اور اس کے ذریعے صحت مند ، مثبت اور تعمیری یعنی ترقی پسندانہ تبدیلی لانا ممکن نہیں لگتا۔
اس شعور کے ساتھ میں 15 ستمبر 2023 کو میرپور گیا تھا۔پچھلی بار جنوری 2013 میں گیا تھا۔ لیکن اب دس سال بعد میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ جا رہا تھا کہ جو ہے اس کو دیکھنا اور سمجھنا ہے ۔ جو ہونا چاہیے اس کی بنیاد پر نہیں ۔ بل کہ جو ہے اس میں سے کیا ہو سکتا ہے۔ مطلب کھلے دل و دماغ سے دیکھنا اور سُننا ہے ۔ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ حلقوں کو ۔ طبقوں کو۔ پرتوں کو۔ نظریات کو ۔ مختلف شعبوں میں افسران سے لے کر چھوٹے سرکاری ملازمین، بڑے چھوٹے کاروباریوں ، خواتین، خاص طور سے نوجوانوں کو ۔ جاننے والوں ، دوستوں اور نئے ملنے والوں کو ۔ اس کے لیے میں نے کوئی باضابطہ بات چیت و بحث مباحثے نہیں منظم کیے بلکہ جہاں جب موقع ملتا میں اپنی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے سُننے لگتا۔ اس دوران ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ مجھے لگا میں میرپور میں نہیں کہیں اور ہوں۔ مطلب وہ میرپور جو میں جانتا تھا وہ میرے سیاسی نقطہ نظر کے مطابق چند پرانے اور نئے انقلابی، ترقی پسند اور زادی پسند نظریاتیوں پر مشتمل تھا۔ جن کو میں پہلے سے جانتا تھا اور جن کی سرگرمیوں کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلتا رہتا تھا۔
نئے لوگوں سے ملنے کا پہلا موقع تو مخدوم شاہ صاحب نے فراہم کیا جن سے واقفی شناسائی برطانیہ میں آباد میرپور کے ترقی پسند دوستوں شاید ہاشمی اور ندیم اسلم کے ذریعے ہوئی تھی۔ ان کی تنظیم جموں کشمیر ورکر ز پارٹی کے ایک نوجوان کو باڈی بلڈنگ کے مقابلے میں انعام ملا تھا جس کے لیے انہوں نے جبیر ہوٹل میں ایک دعوت رکھی ہوئی تھی۔ اس میں ورکز پارٹی کے کوئی درجن بھر ارکان جن میں سے زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں تھے شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں مخدوم صاحب نے میرا تعارف کروانے کے بعد کہا کہ اگر کوئی کچھ پوچھنا چاہے تو ضرورت پوچھے۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ حاضرین نے مختلف سوال پوچھے۔
چند ہفتے بعد میری ملاقات میرپور کے کچھ اور نوجوانوں کی ایک اور قسم سے ہوئی جنہوں نے میرپور کے کچھ ایسے پہلوؤں سے تعارف کروایا جن سے میں بالکل بے خبر تھا۔ اس ملاقات کو ایک اتفاقیہ ملاقات ہی کہا جا سکتا ہے۔۔ تاہم اس ملاقات کے بعد میں جب تک اس دورے کے دوران وہاں رہا اور بعد کے دو دوروں کے دوران میرپور شہر کے بارے میں میرے علم اور سمجھ میں خواشگوار ا ور مفید اضافہ ہوا۔
ملاقات
ملاقات یوں ہوئی کہ میں عبدالجبار بٹ صاحب سے ملنے میرپور میں ان کے گھر گیا۔ بٹ صاحب کے ہاں پہنچا تو دیکھا کہ نذیر نازش صاحب بھی وہیں تھے۔ وقت شام کوئی چھ بجے کا تھا۔ نازش صاحب اور بٹ صاحب کو میں 1988 میں انگلینڈ جانے کے بعد سے جانتا ہوں۔ میں ان دونوں انتہائی مخلص کشمیری آزادی اور ترقی پسندوں سے بہت کچھ سیکھا ۔ بٹ صاحب سے سنتالیس سے پہلے کے میرپور ، سنتالی کے فوری بعد کی میرپور اور برطانیہ میں جے کے ایل ایف کے قیام کے زمانے کے بارے میں ۔ جب کہ نازش صاحب سے جموں کشمیر کے حوالے سے نیشنلزم اور سوشلزم کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ دونوں نے 1980 کے عشرے کے اخیر میں تعارف ہونے کے بعد سے آج تک ہمیشہ میرے ساتھ ایک چھوٹے عزیز جیسا ہی سلوک کیا۔ دونوں کی خوبی یہ ہے اپنی سیاسی سوچ و فکر اور سوجھ بوجھ کو پوری ایمانداری سے شئیر کرتے ہیں ۔ میرا تجربہ دونوں کے ساتھ یہ رہا ہے کہ اختلافات کو نہ صرف قبول بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ خیر اس دن میں جب میں بٹ صاحب کے گھر گیا تو وہاں نذیر نازش صاحب نے بتایا کہ میرپور میں کچھ نوجوان ہیں جو آج شام سات بجے اکبر لائبریری میں ایک ورکشاپ کر رہے ہیں۔ مجھے اس روز آٹھ بجے راجہ زوالفقار صاحب سے ملنا تھا ۔ لیکن جس طرح نازش صاحب نے اچھے لفظوں میں ان نوجوانوں کے کام بارے بتایا تھا اس سے مجھے تجسس ہوا تو میں نے کہا کہ سات سے آٹھ تک میں بھی چلنا چاہتا ہوں۔ بٹ صاحب نے کہا ہاں میں بھی چلتا ہوں ۔ نازش صاحب نے فون کر کے بتایا کہ شمس رحمان اور عبدالجبار بٹ صاحب بھی آنا چاہتے ہیں تو آگے سے جواب آیا کہ خوش آمدید۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب نازش صاحب نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی کتاب " کشمیر کا قومی سوال" تو ہمارے نصاب میں ہے۔ یہ کتاب میں نے 1993 میں لکھی اور 1994 میں شائع تھی۔ خیر ہم گئے تو اکبر لائبریری میں کوئی
چالیس پچاس لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے اور ایک دو سٹیج پر۔ ہم تینوں ، بٹ صاحب، نازش صاحب اور مجھے، بھی سٹیج پر بلا لیا گیا۔ ایک گھنٹے کے دوران میں نے سنا کہ جو مقررین مائیک پر آئے انہوں نے تقریریں نہیں کیں۔ بل کہ دلچسپ اور خاصے علمی مقالے پرجوش انداز میں پیش کیے۔ ایک آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام پر، دوسرا چینی انقلاب کے سرخیل ماؤزے تنگ پر ۔
میں کوئی پونے آٹھ بجے چلا گیا ۔ لیکن اس ورکشاپ کی انفرادیت میرے ساتھ رہی۔ ایک تو نئے چہرے اور پھر سب نوجوان اور سیاسی باتیں علمی انداز میں کرتے ہوئے۔ باعتماد اور تنقید و سوالات کے پرستار۔
چند ہفتے بعد نغمان عارف سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے علم و شعور کو نکھارنے کے لیے ایک فورم بنا رکھا ہے جس کا نام ہے ' پیپلز یونائیٹڈ فورم'۔ اس کا پس منظر انہوں نے یہ بتایا کہ پروفیسر عارف کمپلوی کے بیٹے ہونے کے ناطے تھوڑی بہت سیاسی یعنی آزادی و ترقی پسندانہ تعلیم اور دلچسپی تو انہیں گھر پر اور بچپن سے ہی ملی تھی تاہم بعد ازاں تعلیم کے دوران سماج کی سمجھ بوجھ اور سیاسی و سماجی شعور کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوا اور رحمت العالمین کی زندگی و تعلیمات ، سماجی علوم کے عالمی ماہرین، انقلابیوں، دانشوروں اور پاکستان و آزاد کشمیر کے ترقی پسندوں اور انقلابیوں کی تعلیمات سے متاثر ہو کر انہوں نے جموں کشمیر ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کی جو کہ میرپور میں اس وقت نوجوانوں کے لیے علم اور سمجھ بوجھ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ تھا۔ ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم شاہ صاحب خود بیرسٹر قربان صاحب کے شاگرد اور خاصا عرصہ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی میں رہ کر آئے تھے۔ نغمان نے بھی بیرسٹر صاحب کو پڑھ رکھا تھا اور بقول ان کے وہ سماجی شعور کے معاملے میں بیرسٹر صاحب اور مخدوم صاحب کو اپنا استاد مانتے ہیں ۔ تاہم کچھ عرصے بعد بقول نغمان اس نے محسوس کیا کہ اگرچہ مخدوم صاحب بہت ہی اچھے استاد اور عالم انسان ہیں تاہم میرپور میں سماج کو بہتر بنانے کے لیے جس کام کی ضرورت ہے اس کے حوالے سے نغمان کا زاویہ مختلف تھا۔ اس وقت اور اب سمجھیں تین سال قبل کی بات ہے یہ۔ نغمان جو اس وقت تک میرپور کالج میں انگریزی ادب پڑھا رہا تھا نے مسٹ یونیورسٹی میں اپنے ایک دوست سے بات کی اور دونوں نے سیاسی و سماجی اور ادبی حوالے سے سرکاری تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے اوقات میں علمی کام شروع کیا۔ دو سے چار ہوئے اور جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ 80 کے قریب نوجوان تھے جن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا ایک باقاعدہ نصاب ہے اور وہ باضابطہ اور باقاعدہ علمی کلاسز کرتے ہیں جہاں کتابوں، دستاویزی فلموں وغیرہ کے ذریعے سب ایک بحث مباحثہ کر کے ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا نصاب میں کیا ہے ؟ تو نغمان نے بتایا کہ بنیادی سیاسی و سماجی نظریات بشمول حضور اکرم ﷺ کی زندگی اور اسلامی تعلیمات، نوآبادیاتی نظام، سامراج، ارتقاء، نیشنلزم، انقلاب چین و روس، جمہوریت ، جنوب ایشیاء اور ریاست جموں کشمیر میں آزادی و ترقی کے تصورات، سیاست اور جدوجہد اور اہم شخصیات۔ نغمان نے اس شام اپنی علمی بیٹھک میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یہ سیکٹر سی ون ، ڈاکٹر امجد انصاری صاحب کے سری نگر کلینک سے تھوڑا آگے ایک پلازے کے تہہ خانے میں بنی کوئی چھ سات دوکانوں میں سے ایک دوکان تھی۔ اس میں فرش اور کرسیوں پر کل کوئی دو درجن لوگ سما سکتے تھے۔
اس دن وہ بلال حبشی ( حضرت بلال رضہ اللہ تعالی عنہ) کی زندگی پر گرافکس کے ذریعے بنی دستاویزی فلم دیکھ رہے تھے)۔ جس کو جو بات سمجھنے میں دشواری ہوتی وہ وپو چھتا اور نغمان یا ایک دو اور سینئرز میں سے کوئی عام گپ شپ کے انداز میں سمجھاتا ۔ اگلی بار میں جب گیا تو وہ سبھاش چندر بوس پر ایک دستاویزی فلم دیکھ رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے فرخ سہیل گوندی صاحب کی ۔۔۔ سمیت مختلف کتابیں بھی پڑھیں۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر اندر ان نوجوانوں نے میرپور کے مختلف سیکٹرز میں یونٹ بنائے۔ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ چند سالوں سے وہ ، مخدوم صاحب اور کرامت صاحب کی ورکرز پارٹیوں اور سعد انصاری صاحب کی جے کے ایل ایف کی مقامی مسائل کے حوالے سے پوری طرح سے معاونت کرتے ہیں۔
پیپلز یونائیٹڈ فورم کی جن باتوں نے مجھے خاص طور سے متوجہ کیا وہ یہ تھیں کہ وہ نظریاتی علم کے تمام رنگوں کو پڑھتے تھے ، اس پر بات بھی کرتے تھے لیکن اندھی عقیدت کے انداز میں نہیں اور نہ ہی وہ جدید علوم کو اسلام کے مخالف بنا کر پیش کرتے یا گردانتے تھے ۔ بلکہ وہ حضور اکرم ﷺ اور ان کے بعد مسلمان عالموں اور سائنسدانوں کو ہی جدید علوم کے پیش رو سمجھتے اور معاشرے کی حقیقی ، ایمادارانہ سمجھ بوجھ اور معاشرے کو اس میں بسنے والے تمام انسانوں کے لیے بے انصافی ، بد سلوکی، غربت و افلاس اور محرومیوں سے پاک بنانا وہ دینی فریضہ سمجھتے تھے۔وہ اس بات سے واقف تھے کہ مارکس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ مذہب ایک افیون ہے اور جس کی بنیاد پر پھر کچھ لوگوں کے نزدیک انقلابی کا پہلا کام مذہب کو مسترد کرنا اور مذہبی بحثوں میں الجھ کر رہا جانا ہی بن جاتا ہے وہ پوری بات یوں تھی ۔۔۔" ناانصافیوں سے بھرے طبقاتی سماج میں ( وہ خود ایک خوشحال یہودی خاندان کا چشم و چراغ تھا اور یورپ کی بات کر رہا تھا جہاں غالب مذہب عیسائیت تھا) مذہب ایک افیون کی طرح ہوتا ہے ۔ ایسے بے درد معاشرے میں مذہب معاشرے کا دل اور دبے کچلے انسانوں کی آہ و بکاہ اور پناہ کا ذریعہ ہوتا ہے۔
ان کے خیال میں مارکس کا اصل کام معاشرے کو تاریخی اور جدلی مادیت کی روشنی میں سمجھنا اور اس کو بدلنے کے لیے مقامی حالات کے مطابق سیاسی جدوجہد کرنے کا نظریہ ہے۔ درحقیقت چونکہ میں خود اسی طرح کے نتیجے پر پہنچا تھا اس لیے یہ کتاب لکھنے کے مشکل کام کا خیال مجھے پیپل یونائیٹڈ فورم کے ساتھ ان ملاقاتوں کے دوران ہی آیا تھا۔ ان کی ایک اور منفرد بات میں نے یہ دیکھی کہ ان میں ایک تحمل مزاجی تھی ۔ تنگ نظری، نفرت اور بے صبری نہیں تھی ۔ خاص طور سے عام آدمی کی طرف ان کا رویہ ایسا نہیں تھا کہ لوگ ہیں اسی قابل کہ ان کا استحصال ہو یعنی رگڑے جاتے رہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی محفلوں میں غم غلط کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں پڑتی تھی، لے دے کر دو چار لڑکے سگریٹ پیتے تھے اور وہ بھی میرے بشمول شرمندہ محسوس کرتے تھے کیونکہ باقیوں کی طرف سے کوئی اچھا ردعمل نہیں آتا تھا۔ مجھے یہ لڑکے زمین سے جڑے ہوئے لیکن دنیا کے حالات سے آگاہ نظر آئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ شہر کے مختلف سیکٹروں کے ساتھ ساتھ گاؤں کے لڑکے بھی جڑ رہے تھے۔ ان کے علم کی دو پرتیں تھیں۔ ایک دنیا میں موجود نظریات کو سیکھنا اور دوسرے ان کو اپنے مقامی حالات کے مطابق سمجھنا اور ڈھالنا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے جب ان سے علی عدالت کے ناول ' جاسوس' کی تقریب میں شرکت کی درخواست کی تو وہ درجنوں کی تعداد میں شریک ہوئے ۔ اور اگلے سال 14 اپریل کو پہاڑی عالمی ادبی دن کے بھی خوبصورتی کے ساتھ انتظامات کیے۔ اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ میرپور کے معاملات و مسائل اور حالات کو سمجھتے ہیں اور زمین سے کتنی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس دوران نذیر نازش صاحب تو واپس آ گئے لیکن عبدالجبار بٹ صاحب سے مسلسل بیٹھکیں ہوتی رہیں۔ گھنٹوں یہ نوجوان بٹ صاحب کے پاس بیٹھتے اور سنتالیس سے پہلے اور بعد کی کی کشمیری سیاست اور جدوجہد کے بارے میں سنتے اور سیکھتے۔ اس دوران 1932 کی مالیہ تحریک، 1865 میں ریشم مزدوروں کی تحریک کے بارے میں بھی نشستیں ہوئیں جن کے بارے میں انہیں اس وقت زیادہ معلومات حاصل نہیں تھیں۔
ایک اور اچھی صفت میں نے جو دیکھی ان نوجوانوں میں وہ یہ تھی کہ وہ نظم و ضبط کے پابند ضرور تھے ، لیکن خشک مزاج یا زندگی کو بہتر بنانے کے لیے معاشی سرگرمیوں کے مخالف یا بس ہر وقت انقلاب ہی ' سوچتے' رہنے والے نہیں تھے۔ ان کے روزانہ کے عمل سے لگتا تھا کہ وہ محنت سے کمانے کو بنیادی ترجیح دیتے ہیں اور علمی و سیاسی بہتری کی سرگرمیاں میرپور میں لوگوں کے لیے زندگی کو حقیقی معنوں میں بہتر بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی شام کو کہیں بیٹھتے اور چائے یا کھانے کا دور چلتا تو ان میں سے ہر کوئی کمائی کے مطابق حصہ ڈالتا۔ ایک دو بار میں نے کہا رہنے دو یار میں دے دیتا ہوں سب کے تو نغمان نے کہا شمس صاحب ہمیں اس راستے پر نہ ڈالیں جس پر چل کر ہماری نطریں بھی ولائتیوں کے بٹوؤں پر ہوں۔ میں نے شرمندہ ہو کر صرف اپنا حصہ ہی دیا۔
ان نوجوانوں سے ملاقاتوں اور نشستوں کے ذریعے حالیہ میرپور کے حوالے سے میرے علم یہ اضافہ ہوا ، خاص طور سے آج کے نوجوان کی سوچ و فکر اور سیاسی اپروچ اور انداز۔ اوپر بیان کیے گئے سوداگری میرپوری معاشرے میں۱۹90 یا 2000 میں پیدا ہونے والی پیڑھی / نسل جو اب پچیس سے پینتیس سال کی ہے ۔ مختلف پرتوں اور طبقات میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی اس پیڑھی کی سوچ و فکر ، خواہشات و توقعات، امنگیں اور ارمان اور اخلاقیات اپنے سے پہلے والی نسل سے اگر بالکل ہی نہیں تو بہت زیادہ حد تک مختلف ہیں۔ یہ جس بھی طبقے میں پیدا ہوئے اس نسل نے عمومی طور پر کاشتکاری عہد کی قبائلی ذات برادریوں کو والدین کی حد تک محدود کر کے سوداگری سماج میں جدید پیشوں اور شوق/ مشاغل کے اعتبار سے اپنی اپنی شناختیں اور سماجی سرگرمیاں ، بیٹھکیں ، انجمنیں اور یونینیں بنائی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر ، کمپیوٹر انجینئر، وکیل، صحافی، صوفی ملنگ قلندر، شاعر و ادیب ، فن کار، ( اب سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے بلاگرز و یو ٹیوبرز) استاد، تاجر ، ڈرائیور، وغیرہ۔ ان میں خواتین بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ درحقیقت خواتین میرپور کی معیشت سے لے کر ثقافت تک ہر شعبہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ تاہم مردوں میں عورتوں کے حوالے سے جارحانہ اور خود غرضانہ جنسی رویوں کا ذمہ دار عورتوں کو قرار دینے کے چلن کی وجہ سے خواتین کے لیے معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحتیں کلی طور پر بروئے کار لانا اب بھی بہت مشکل ہے ۔ تاہم گھر سے لے کر سماج کے مختلف پہلوؤں میں ان کے حصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر موجود نوجوان نسلیں اپنے اپنے طبقے اور پیشے اور حیثیت میں میرپوری سماج کو نئی شکل اور نیا روپ دے رہے ہیں۔ ان میں سے جو مذہبی ہیں وہ مذہب کو دوسروں پر تھوپنے کا رویہ کم ہی رکھتے ہیں۔ ان میں سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کی اولادیں بھی شامل ہیں جنہوں نے درحقیقت لٹ مار کر کے اور دوسروں کا حق مار کر اپنی اولادوں کو اعلیٰ اور پرتعیش زندگی دی ہے ۔ تاہم ان کی اولادوں میں کئی روشن خیال اور معاشرے کے نادار اور محروم طبقات کی بہتری کی کم از کم خواہشات ضرور ر کھتے ہیں۔ دوسرے طرف ان کے والدین نے سوداگری معاشرے میں دولت کی پیداوار کے لیے سیاست میں برادری ازم کو مسلسل فروغ دیا جو اب اچھا خاصا مضبوط سیاسی ہتھیار ہے ۔ اس کے ساتھ موروثیت بھی واضح طور پر نمایاں ہو چکی ہے۔تاہم نوجوانوں میں سے جو کاروبار میں گئے ان کے کاروباروں کی پیش کاری اور طرز عمل کافی حد تک جدید اور بعض معاملات میں انگلینڈ جیسی ہی ہے۔
خلاصہ یہ کہ سوداگری معیشت کے اوپرلے اورد رمیانے طبقے کی پرتوں میں جدید اشیا کے استعمال سے جدید سوچ بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔ جدید سوچ کا مطلب یہ کہ ان میں اپنے وسائل بڑھانے اور ان کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید تعلیم اور ہنر مندیاں سیکھنے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ ان میں خواہش موجود ہے کہ محروم طبقات کو بھی زندگی کی بنیادی ضروریات ملیں۔ یہ سوچ مختلف طبقات کی نوجوان نسل میں پائی جاتی ہے خاص طور سے 1990 کے بعد پیدا ہونے والے مرد اور عورتوں میں ۔ اس کے لیے کیا وہ عوامی ایکشن کمیٹی یا کسی دوسری شکل میں جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں ۔ اس پر کوئی تحقیقی تو موجود نہیں لیکن ذاتی مشاہدات اور بات چیت سے مجھے یوں نظر آیا کہ مفادات ، مواقعوں اور سہولتوں کے موجودہ انتہائی ایک طرفہ اور بگڑے ہوئے توازن کو بدلنے کے لیے زیادہ تر سرگرم نوجوانوں کا تعلق درمیانے طبقے کی درمیانی اور نچلی پرتوں سے ہے۔
اوپرلے طبقے کی اس عمر کی نسل کے پاس وافر دولت اور وسائل موجود ہیں اس لیے اس طبقے کے کئی نوجوان باہر تعلیم حاصل کرنے یا جائیدادوں کے کاروبار وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں۔ کئی تعلیم حاصل کر کے واپس میرپور میں ہی ملازمتیں کر رہے ہیں اور ان میں سے چند بہت شدت سے اصلاحات چاہتے ہیں لیکن اکثر وہ نطام کی خرابیوں کا ذمہ دار عام آدمی کی ناخواندگی اور پسماندگی کو قرار دیتے ہیں کہ ہمارے لوگ سیکھ ہی نہیں سکتے جدید زندگی کے تقاضوں کو۔ وہ حکمران طبقے کی طرف سے حکمرانی اور انتظا کا معقول نطام تعمیر نہ کر سکنے کو اکچر بالکل ہی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کچھ تو یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانی ان کے والدین کے حصے میں اس لیے آئی کہ باقی کوئی اس قابل ہی نہیں تھا۔ اوپرلے طبقے کے اکثر نوجوان جدید عیاشیوں میں بھی مشغول ہوتے ہیں ۔ ان کو عام آدمی کے لیے سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ان کی عیاشیوں کی تفصیلات عام آدمی تک جانے کن کن شکلوں میں پہنچتی ہیں ۔
ان پرتوں کے نیچے محرومیوں نے ایک اور دنیا پیدا کی ہوئی ہے جس کو محروم ترین طبقاتی پرتیں قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کا کوئی باقاعدہ روزگار نہیں ، کاروبار نہیں اور کوئی باہر بھی نہیں ۔ ارد گرد ہونے والی ' ترقی' اور ' خوشحالی ' میں اس کو اس کا حصہ مانگ کر ملتا ہے یا چوری کر کے۔ سیاسی جلسے جلوس، درباروں کے لنگر، مساجد و مدرسے ان کی روزی روٹی کے وسیلے ہیں۔ حالیہ سالوں میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد لاہور سے مولوی خادم رضوی مرحوم کی طرف سے ناموس رسالت کے نام پر جو تحریک شروع کی وہ جلد ہی تحریک لبیک بن گئی اور پاکستان اور آزاد کشمیر میں اس میں ان لوگوں کو اپنی بات اور نمائندگی کرنے کا موقع ملا جن کا اس سے پہلے کوئی حلقہ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی نے نچلے طبقات کو متحرک کیا تھا لیکن وہاں اس طبقے کی مذہب کے ساتھ عقدیدت مندانہ وابستگی کو آواز نہیں ملتی تھی۔ مولوی خادم مرحوم کی تحریک سے پہلی بار اس سیاسی حلقے کو متحرک و منظم ہونے کا موقع ملا۔ میرپور میں بھی یہ آواز خاصی حد تک موجود ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف مسائل پر جلسے جلوس کرتے ہیں ۔ جس طرح پاکستان کے اندر اس سیاسی حلقے کو مختلف بااثر افراد کی سرپرستی ملی اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی اب اس جماعت کے کارکان تو محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اب قیادت کافی بااثر اور خوشحال طبقے والوں کے پاس نظر آتی ہے۔ میرپور میں تمام محروم پرتوں کے درمیان تعلقات مجموعی طور پر اچھے ہیں اور حقوق کی جدوجہد میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔
میرپور ، آزاد جموں کشمیر میں موجودہ سیاست کی شکل و صورت کیا ہے؟ ریاست جموں کشمیر میں 1947 میں تقسیم سے پہلے کس قسم کی سیاست پروان چڑھ رہی تھی؟
تقسیم کے بعد آزاد جموں کشمیر میں کس طرح کی سیاست پروان چڑھی ؟
کیا خود مختاری اور انقلاب کے نام پر آزاد کشمیر میں کی جانے والی موجودہ سیاست کے ذریعے خود مختاری حاصل کی جاسکتی ہے یا انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے؟
ترقی پسندانہ اور رجعتی نظریات کی تہہ میں مادی حقائق کی بنیاد پر کیا ایک وسیع تر عوامی فلاح و ترقی کی سیاست تعمیر کی جا سکتی ہے؟
نفرتوں کے بغیر بنیادی انسانی ضروریات کے لیے کیا مشترکہ جدوجہد ممکن ہے؟
کیا ٓزاد کشمیر کے دیگر خطوں میں بھی ایسا ممکن ہے؟
شعوری طور پر میرپور کی مادی بنیاد کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کس قسم کی سیاست معاشرے کو بہتری اور ترقی کی طرف لے جاسکتی ہے ؟
ان سوالات پر اس سیریز کے اگلے حصے " نظریہ اور نظریاتی سیاست" کے تحت بحث کی گئی ہے ۔ جو جلد ہی آپ کے ہاتھوں میں ہو گا۔ ٓئندہ کتابچے میں شامل موضوعات کی فہرست
نظریہ اور نظریاتی سیاست
نظریہ ۔ بنیادی تعارف
علمی اور سیاسی نظریہ
جدید سیاسی نظریات
نظریاتی سیاست
جموں کشمیر میں نظریاتی سیاست
آزاد جموں کشمیر میں نظریاتی سیاست
تارکین وطن اور عالمی نظریاتی اثرات
انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا اور ماوراء قومی جہان
آزاد کشمیر میں نظریاتی سیاست کا حال اور مستقبل
-
ہمارے ہاں کبھی کبھی کچھ مجرد مذہب کے پرچارکوں کی طرف سے ان باتوں کو " مغربی " سائنس قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے اور مجرد 'سائنسی' سیاست کے دعویدار جواب میں مذہب کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے مطالعے اور مشاہدے اور کائنات کو سمجھنے اور کائنات کے اندر ان گنت اعمال کو جاننے سے تو کوئی مذہب منع نہیں کرتا ۔ خاص طور سے ہماری الہامی کتاب قران پاک میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کے ذریعے بار بار کائنات کو سمجھنے اور جاننے کہ ہدایت دی ہے کیونکہ کائنات کی سمجھ ہی سے اس کائنات کے اندر متحرک و فعال مختلف نظاموں کو سمجھا جا سکتا ہے ، اس میں زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ، آنے والی زندگی کو بھی بہتر طور سمجھا جا سکتا ہے اور حقیقت میں اس کائنات کے خالق تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یوں اس کائنات اور انسانی سماج کے تام پہلوؤں کا سائنسی مطالعہ علمی عبادت ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ سائنسی مطالعے کے علم و عمل کو سمجھ کر سائنسی مطالعہ کیا جائے۔ ↑
-
https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0287101 ↑
-
Mohenjo Daro and the Indus Civilization Vol-i (1931) : Marshall Sir John : Free Download, Borrow, and Streaming : Internet Archive ↑
-
ہمارے سماجی اور سیاسی ماحول کی وجہ سے ایک بار پھر واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرپور شہر پر توجہ مرکوز کر کے میں بھمبر اور کوٹلی کی اہمیت اور حیثیت کو گھٹانا نہیں چاہتا بلکہ معلومات کی کمی بنیادی وجہ ہے۔ یعنی میری علمی کمزوری اس کی وجہ ہے نہ کہ کسی قسم کا تعصب۔ ↑
-
https://www.portmir.org.uk/kashmir-state/appraising-mirpurs-documented-history-story-kashmir-state/ ↑
-
https://indusrivervalleyinformation.weebly.com/inventions-for-agriculture.html ↑
-
Robert Greenberger, The Technology of Ancient China (New York: Rosen Publishing Group, Inc., 2006), pp. 11–12. ↑
-
اس موضوع کی تفصیلی اور گہری سمجھ کے لیے فریڈرک اینگلز کی کتاب ؛ خاندان اور ذاتی ملکیت کی ابتداء' بہت ہی فکر انگیز کتاب ہے۔ ↑
-
V.S. Kalra (2000) From Textile Mills to Taxi Ranks, ↑
-
Naqvi, S. A. 2013. Indus Waters and Social Change: The Evolution and Transition of Agrarian Society in Pakistan. Karachi, Pakistan: Oxford University Press. ↑
-
Ballard, R. 1983. “The Context and Consequences of Migration: Jullundur and Mirpur Compared.” New Community 11: 117–36.
- Ballard, R. 1987. “The Political Economy of Migration: Pakistan, Britain, and the Middle East.” In Migrants, Workers and the Social Order, edited by Jeremy Eades, 17–41. London: Tavistock.
Ballard, R. 2003. “A Case of Capital-Rich Under-Development: The Paradoxical Consequences of Successful Transnational Entrepreneurship from Mirpur.” Contributions to Indian Sociology 37, nos. 1–2: 25–57.
-
بابا صدیق چکسواری کے نواع سے اب لیڈز برطانیہ میں آباد ہیں ان کے دادا بھی ایک سرنگ تھے۔ انہوں نے بھی اس موضوع پر مجھے تعلیم دی۔ ↑
-
ڈڈیال کے چہودری یوسف کی آپ بیتی دستان یوسف میں اس کی کچھ مفید تفصیلات موجود ہیں ↑
-
اس پہلو کی طرف توجہ دلانے کے لیے میں معروف برطانوی کشمیری مصنف محترم یعقوب نظامی صاحب کا مشکور و ممنون ہوں ↑
-
برطانیہ سے قریبی رشتوں رابطوں کی وجہ سے یہاں کچھ لوگوں کی سوچ سرمایہ داری ہو سکتی ہے ، خاص طور سے جو برطانیہ میں سرمایہ کاری (بزنس) سے وابستہ رہے ہوں۔ دوکانداری سے نہیں۔ سرمایہ کاری سے۔ کیونکہ برطانیہ میں بھی میرپوریوں کی اکثریت، خاص طور سے جو ابھی تک میرپور سے جُڑے ہوئے ہیں ، دوکانداری سے وابستہ ہے۔ کاروباری / سرمایہ کار کم کم ہی ہیں۔ ↑
-
مقامی لفظوں میں اس کو سودا بازی سماج یا دو نمبری سماج بھی کہا جاتا ہے۔ ↑

تبصرے (0)