مذاکرات کی بیل منڈھے کیوں نہیں چڑھتی؟
آزاد کشمیر میں خوف، طاقت ، اختیار اور مزاحمت کے سوالات
تحریر: صادق سبحانی
آزاد کشمیر میں حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات بار بار شروع ہوتے ہیں، امید پیدا ہوتی ہے، فاصلے کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں، مگر پھر معاملہ کسی نہ کسی مقام پر رک جاتا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ مذاکرات کیوں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاسی بحران کے بارے میں اصل پالیسی بناتا کون ہے؟
مئی 2024 سے جون 2026 تک کے واقعات کو ایک ساتھ رکھیں تو آزاد کشمیر میں ایک گہرا عوامی تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ بازاروں، دھرنوں، نجی محفلوں اور سوشل میڈیا میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ریاستی پالیسی کا ایک مقصد عوامی ایکشن کمیٹی کی mobilisation کو اتنا مہنگا اور خطرناک بنا دینا تھا کہ عام آدمی احتجاج میں نکلنے سے خوف محسوس کرے۔
اس دعوے کو فی الحال کسی عدالتی فیصلے یا آزاد تحقیق نے ثابت نہیں کیا۔ اس لیے اسے حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن گزشتہ دو برس میں بار بار پیش آنے والے واقعات اس تاثر کو اتنا سنجیدہ ضرور بناتے ہیں کہ اسے محض افواہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مئی 2024 کے پہلے بڑے لانگ مارچ کو ہی دیکھ لیجیے۔ مارچ سے پہلے گرفتاریاں ہوئیں، راستے بند ہوئے اور بڑی تعداد میں فورس تعینات کی گئی۔ اسلام گڑھ میں پولیس افسر عدنان قریشی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ سرکاری موقف یہ تھا کہ انہیں مظاہرین کی طرف سے گولی لگی، لیکن مقامی سطح پر آج تک ایک مختلف دعویٰ موجود ہے کہ وہ پولیس کی اپنی firing کا شکار ہوئے۔ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں نامزد بعض ایکشن کمیٹی رہنما وقوعے کے وقت پولیس حراست میں تھے۔
یہ انتہائی سنگین دعوے ہیں، لیکن ان کا فیصلہ سوشل میڈیا پوسٹوں سے نہیں ہونا چاہیے۔ FIR، گرفتاری کا ریکارڈ، پوسٹ مارٹم، ballistic evidence اور مکمل ویڈیو material سامنے آنا چاہیے۔
اسی مارچ کے دوران پاکستان سے Rangers مظفرآباد بلائی گئیں۔ بعد میں آٹے اور بجلی سمیت بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے گئے اور ایکشن کمیٹی نے مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود Rangers کی firing میں تین شہری مارے گئے۔ یہی وہ واقعہ تھا جس نے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا کیا کہ اگر مطالبات مان لیے گئے تھے تو پھر lethal force کی ضرورت کیوں تھی؟
ستمبر 2025 میں ایک اور pattern سامنے آیا۔ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام بند کر دیا گیا۔ پھر تصادم ہوا، مظاہرین اور پولیس اہلکار دونوں مارے گئے۔ حکومت ایسے shutdown کو امن و امان کا اقدام قرار دے سکتی ہے، لیکن عوامی سطح پر اسے mobilisation، information flow اور آزاد reporting روکنے کے طریقے کے طور پر دیکھا گیا۔
پھر جون 2026 آیا، اور شاید پوری کہانی کا سب سے اہم سوال بھی اسی کے ساتھ پیدا ہوا۔
لانگ مارچ 9 جون کو ہونا تھا تو 5 جون کی رات راولاکوٹ میں کیا ہو رہا تھا؟
5 جون کو ایکشن کمیٹی کو دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دیا گیا، انٹرنیٹ بند کیا گیا، پاکستانی فورسز کی تعیناتی شروع ہو چکی تھی اور پورا خطہ چار دن بعد ہونے والے احتجاج سے پہلے ہی ایک وسیع security operation کی فضا میں داخل ہو گیا تھا۔
اسی رات عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما عمر نذیر کشمیری کی گاڑی روکی گئی۔ ان کے ساتھی شہزیب حبیب مارے گئے اور عمر نذیر زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق یہ ایک “routine checkpoint inspection” تھی اور گاڑی میں موجود افراد نے پہلے فائرنگ کی۔ مقامی لوگوں کا بیانیہ بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق یہ معمول کی checking نہیں بلکہ ایک targeted operation تھا اور اصل ہدف عمر نذیر تھے۔
اس وقت ہمارے پاس ایسا forensic یا judicial evidence نہیں کہ اسے ثابت شدہ target killing کہا جا سکے۔ لیکن سرکاری وضاحت بھی بنیادی سوالات کا جواب نہیں دیتی۔
یہ checkpoint اسی رات وہاں کیوں تھا؟ کیا پولیس کو عمر نذیر کی movement معلوم تھی؟ کیا انہیں گرفتار کرنا مقصود تھا؟ کس نے گاڑی روکنے کا حکم دیا؟ پہلا فائر کس نے کیا؟ شہزیب کو لگنے والی گولی کس ہتھیار سے نکلی؟
Amnesty International کا اس واقعے کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ اس سوال کی اہمیت مزید بڑھا دیتا ہے۔
آزاد کشمیر میں بحران کی پالیسی آخر بناتا کون ہے؟
دو دن بعد، 7 جون کو، شہزیب کے معاملے پر Rawalakot میں جمع ہونے والے ہزاروں لوگوں اور پولیس کے درمیان خونریز تصادم ہوا۔ شہری بھی مارے گئے اور پولیس اہلکار بھی۔ مقامی عینی شاہدین براہ راست firing کے الزامات لگاتے ہیں، جبکہ پولیس مظاہرین پر حملوں کا الزام عائد کرتی ہے۔ ان متضاد بیانات کا فیصلہ بھی صرف آزاد تحقیقات ہی کر سکتی ہیں۔
عوامی بیانیہ یہ ہے کہ Rawalakot میں 5 اور 7 جون کے واقعات کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ 9 جون کو باقی آزاد کشمیر سے لوگ گھروں سے نہیں نکلیں گے۔ اس نیت کا کوئی دستاویزی ثبوت ہمارے پاس نہیں۔ البتہ یہ ضرور رپورٹ ہوا کہ حکام کو گرفتاریوں، پابندی اور قیادت کے روپوش ہونے کی وجہ سے نسبتاً کم عوامی ردعمل کی توقع تھی۔
یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ میرپور، کوٹلی اور دوسرے علاقوں سے لوگ نکلے اور بڑی تعداد Rawalakot پہنچی۔ یوں اگر سخت کارروائی کا عملی مقصد mobilisation روکنا بھی تھا تو وہ حاصل نہیں ہوا۔
اس کے بعد ایکشن کمیٹی پر پابندی، Fourth Schedule، بڑے پیمانے کی گرفتاریاں، قیادت کے خلاف مقدمات اور گرفتاری پر انعام جیسے اقدامات سامنے آئے۔ اسی وجہ سے آزاد کشمیر میں یہ comparison بھی عام ہوا کہ کیا یہاں سیاسی تحریک کو وہی طریقے استعمال کر کے تھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پاکستان میں PTI یا تحریک لبیک کے خلاف دیکھے گئے؟
اس سلسلے میں ان کرداروں کی آزاد کشمیر میں تعیناتی جنہوں نے پاکستان میں احتجاجی عوامی تحریکوں کو کچلا تھا ایک بڑے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم اس طرح کی تعیناتیاں اور پھر ان کرداروں کا طرز عمل اور طرز بیان جس کو عام لوگ ' دہشت گردی اور وحشت' پکارتے ہیں ، ان سے بھی نیچے اصل سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اداروں اور پالیسیوں کی حدود و قیود کیا ہیں؟
اصل سوال institutional structure کا ہے۔
آزاد کشمیر میں بحران کی پالیسی آخر بناتا کون ہے؟ وزیراعظم اور کابینہ؟ چیف سیکرٹری اور آئی جی؟ پاکستان کی وفاقی حکومت؟ پاکستان سے آنے والی فورسز؟ یا ایسے سکیورٹی ادارے جو مذاکراتی میز پر نظر نہیں آتے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی جیسے اہم عہدوں پر پاکستان کی سروسز سے “لینٹ افسران” تعینات ہوتے ہیں۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ بحران کے وقت ان کی اصل chain of accountability کیا ہے۔ کیا وہ منتخب حکومت آزاد کشمیر کو جواب دہ ہیں، اسلام آباد کو، یا دونوں کو؟
یہاں مذاکرات کی ناکامی کا شاید سب سے بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔
ایک طرف political track ہے جو کہتا ہے: آئیں، بات کریں، مطالبات پر compromise کریں اور settlement نکالیں۔
دوسری طرف security track کی زبان ہے: ریاستی رٹ، کالعدم تنظیم، anti-state activity، گرفتاری، Fourth Schedule، prosecution اور surrender۔
جس تنظیم کو ایک ہی وقت میں سیاسی stakeholder بھی سمجھا جائے اور security enemy بھی، اس کے ساتھ پائیدار مذاکرات کیسے ممکن ہوں گے؟
2024، 2025 اور 2026 کے واقعات کو جوڑیں تو کم از کم ایک قابلِ تحقیق pattern ضرور بنتا ہے:
عوامی mobilisation، پیشگی پابندیاں، گرفتاریاں یا communications shutdown، پھر تصادم اور ہلاکتیں، اس کے بعد criminalisation، اور بالآخر دوبارہ مذاکرات کی پیشکش۔
یہ pattern خود کسی خفیہ منصوبے کو ثابت نہیں کرتا، لیکن آزاد اور غیر جانب دار investigation کا مضبوط جواز ضرور پیدا کرتا ہے۔
HRCP کی fact-finding بھی اس بحران میں institutional distrust، اظہار اور رابطوں پر پابندیوں اور increasingly confrontational state response کی نشاندہی کر چکی ہے۔ یعنی مسئلہ محض ایکشن کمیٹی کے بیانیے تک محدود نہیں؛ اعتماد کا بحران حقیقی ہے۔
اسی لیے 5 جون سے تحقیقات شروع ہونی چاہئیں۔ Operational orders، checkpoint record، wireless logs، پوسٹ مارٹم، ballistic reports، گاڑی کا forensic examination اور دستیاب ویڈیوز ایک آزاد کمیشن کے سامنے لائی جائیں۔ یہی معیار 7 جون Rawalakot اور بعد کے Mirpur، Kotli اور دیگر خونریز واقعات پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ شہری ہو یا پولیس اہلکار، ہر موت کا حساب ہونا چاہیے۔
اور آخر میں پھر وہی بنیادی سوال:
کیا حکومت آزاد کشمیر کے پاس ایکشن کمیٹی سے کیے گئے سیاسی معاہدے کو نافذ کرنے کا حقیقی اختیار ہے؟
اگر ہے تو مذاکرات بار بار آخری مرحلے پر کیوں رک جاتے ہیں؟
اور اگر نہیں ہے تو پھر اصل فیصلہ ساز کون ہیں؟
اب تک سخت پالیسی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ لوگ مارے گئے، پولیس اہلکار بھی مارے گئے، انٹرنیٹ بند ہوا، گرفتاریاں ہوئیں، تنظیم پر پابندی لگی، مگر تحریک ختم نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس بداعتمادی اور polarization مزید بڑھی۔
اس لیے شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ریاستی حکام کی نیت کیا تھی بلکہ یہ ہے کہ اس پوری حکمت عملی نے حاصل کیا کیا؟
اور 5 جون کی رات آج بھی اس کہانی کے درمیان ایک جواب طلب سوال کی طرح کھڑی ہے:
اگر لانگ مارچ 9 جون کو تھا تو عمر نذیر کی گاڑی 5 جون کو کیوں روکی گئی؟
اس کا جواب سیاسی بیان نہیں، ثبوت دے سکتا ہے۔
اور شاید یہی ثبوت ہمیں یہ بھی بتا سکے کہ آزاد کشمیر کا موجودہ بحران چند غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے یا ایک ایسی سکیورٹی پالیسی کا، جس پر اب جمہوری اور عوامی جوابدہی ناگزیر ہو چکی ہے۔

تبصرے (0)