مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

نہتی عوام پر فورسز کی فائرنگ کے الزام کے بعد مظاہرین کا شدید ردعمل اور بنیادی حقوق کا مطالبہ

مظاہرے کے دوران ایک شہری نے سیکیورٹی فورسز پر نہتی عوام، بچوں اور معذور افراد پر سیدھی فائرنگ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ فورسز اور سیاستدانوں کے ایسے اقدامات کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یہی ناانصافیاں ملک میں عسکریت پسندی کو جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلیم، علاج اور شفاف نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

خلاصہ

مظاہرے کے دوران ایک شہری نے سیکیورٹی فورسز پر نہتی عوام، بچوں اور معذور افراد پر سیدھی فائرنگ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ فورسز اور سیاستدانوں کے ایسے اقدامات کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یہی ناانصافیاں ملک میں عسکریت پسندی کو جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلیم، علاج اور شفاف نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

Summary in English

During the protest, a citizen leveled serious allegations against security forces, accusing them of opening direct fire on unarmed civilians, children, and persons with disabilities. He maintained that such actions by the forces and politicians fuel severe public outrage, and that these very injustices give rise to militancy in the country. Demanding education, healthcare, and a transparent system within the framework of the constitution, he expressed the resolve to continue the struggle for their rights.

نہتی عوام پر فورسز کی فائرنگ کے الزام کے بعد مظاہرین کا شدید ردعمل اور بنیادی حقوق کا مطالبہ
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

Speaker 1: کیا کہنا چاہیں گے سر آپ یہ جو اس وقت مظاہرہ...

Speaker 2: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ویسے تو ہمیں پہلے سے یہ یقین تھا کہ یہ ظالم ہیں، جابر ہیں، قاتل ہیں۔ لیکن آج عوام کا جمِ غفیر ہونے کے بعد ہمیں سو فیصد یقین تھا کہ ممکن ہے کہ یہ جو مجرم ہیں جو اندر سے کالے ہیں اور باہر سے اسلام اور کلمے کا دعویٰ کرتے ہیں، کہ یہ فائر نہیں ماریں گے اپنی عوام کے اوپر۔ خدا کی قسم میں نے اس مجمعے کے اندر معذور بھی لوگ دیکھے ہیں، وہیل چیئر کے اندر بھی لوگ دیکھے ہیں، بچے دیکھے ہیں، بوڑھے دیکھے ہیں، عورتیں دیکھی ہیں۔ ان کے اوپر اس طرح سیدھا فائر اس طرح مارا گیا جس طرح بارڈر کے اوپر کسی دشمن فوج کے سینوں پہ فائر مارے جاتے ہیں۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ! میں بغیر ایمان کے دنیا سے جاؤں اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو۔ سیدھے فائر لوگوں کو مارے گئے، نہتی عوام کے اوپر۔ مجھے آپ یہ بات بتائیں کہ کیا یہ ہماری فورسز ہیں؟ ہمارے پسینے، خون کی کمائی سے، ٹیکسز کے اوپر آ کر ہمیں گولیاں مارتے ہیں؟ اور پھر وہ درندے، وہ کالے ہمارے سیاستدان جن کے سائن سے، جن کی التجا سے یہاں پر ایف سی اور فورسز آئیں، پھر وہ بے غیرت اور وہ کمینے ان سے بڑھ کر جو لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ دیتے ہیں اور سہولت کاری کرتے ہیں۔ میں آج یہ جو پوزیشن ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا، تصور میں نہیں لایا جا سکتا اس کو۔

لیکن ایک بات یاد رکھیں، خدا کی قسم جو لوگ اس وقت ان ایف سیز کے ساتھ کھڑے ہیں، ان سیاستدانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اس قتل کے اندر برابر کے شریک ہیں! وہ مجرم ہیں پورے کے پورے! یہ جو جب آنکھ ظاہری بند ہوگی نا، قبر میں جب آپ جائیں گے تو پھر آپ کو ٹھکانے آئے گی عقل کہ ہم کیا کر کے آئے ہیں۔ نہتی عوام کے اوپر گولیاں مارنے کے لیے ذریعہ ہم نے بننا تھا؟ ہمارے سیاستدانوں نے بننا تھا؟ ان کتوں اور کمینوں نے بننا تھا کہ جنہوں نے 75 سال سے ہمارے ووٹوں سے اپنے گاڑیاں خریدیں، مکان بنائے، بچوں کو پڑھایا، ان کی گال دیکھیں آپ، ان کے گالوں کا حال دیکھیں آپ، اتنے موٹے موٹے گال ہیں ان کے حرام اور سور کا گوشت کھا کے اور ہمارے بچوں کا، غریبوں کا حال دیکھیں آپ کیا بن رہا ہے۔

دنیا کے 200 ملکوں میں سے کوئی ایک ملک ایسا مجھے آپ، مجھے بتا دیں کہ جس نے اپنے آئین کے دائرے میں رہ کر لوگ باہر نکلیں اور پھر ان کے اوپر سیدھے فائر مارے گئے ہوں۔ یہ کہاں کا، یہ کہاں کا انصاف ہے مجھے یہ بتائیں؟ یہی وہ باتیں ہیں کہ جہاں سے پھر ٹی ٹی پی جنم لیتی ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں کہ جہاں پر دہشت گرد جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ باتیں ہیں کہ جہاں پر بی ایل اے جنم لیتی ہے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم مر جائیں گے، کٹ جائیں گے، سولی پہ لٹکا دو، پھانسی پہ لٹکا دو، لیٹا دو، ڈبو دو، کچھ بھی کر لو لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک ہی صورت ہے پیچھے ہٹنے کی کہ ان پہاڑوں کے اوپر ایٹم بم پھینکو اور ہمیں جو ہے نا تحس نحس کر دو۔

ہم مر جائیں گے، کٹ جائیں گے، سولی پہ لٹکا دو، پھانسی پہ لٹکا دو، لیٹا دو، ڈبو دو، کچھ بھی کر لو لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کیا مانگا ہم نے آپ سے یار؟ علاج مانگا، تعلیم مانگی۔ 12 سیٹیں بے غیرتوں نے وہاں پر رکھی ہوئی ہیں اور بلیک میلی کر کے ہمیں یہاں پر وہ حکومت بنائی جاتی ہے جس کو، جس کی وہ اسلام آباد میں چاہتے ہیں۔ کیوں پھر کرتے ہو پھر یہاں پہ الیکشن؟ کیوں الیکشنوں کے اوپر ہمارا ٹیکس کا پیسہ خرچ ہوتا ہے؟ ایک طرف ہمارے غریب کے لیے پیراسیٹامول تک کی گولی نہیں ملتی سرکاری ہسپتال میں اور دوسری طرف یہ تم بلیک اور کالے طریقے سے الیکشن کروا کے اپنے بندے سیٹ کر کے وہاں پر حکومتیں بناتے ہو تم!

پھر سیدھا کوئی جنرل بٹھا دو یہاں پر! سیدھا کوئی بیوروکریٹ بٹھا دو یہاں پر! اتنی بڑی بے غیرتی! اتنا بڑا کنجر پن! یہ دیکھیں، یہ چار پانچ جگہوں سے قافلے اندر داخل ہوئے ہیں اور ایک قافلے کی یہ میں آپ کو روداد بتا رہا ہوں۔ ایک قافلے کی روداد سنا رہا ہوں۔ یہاں پر پانچ کلو میٹر تک لوگ اپنے گھروں میں نہیں ہیں، لوگوں کو گھروں سے نکال دیا، بچوں کو نکال دیا، گھروں کے اندر گھس کر فائر مار رہے ہیں۔ یہ حال ہے اس ملک کا!

میں خدا کی قسم کر کے کہتا ہوں کہ فائر مارنے والوں سے بڑے مجرم وہ ہیں کہ جو لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ دیتے ہیں۔ آپ نے سور کا گوشت کھایا تھا یا حلال کھایا تھا، مجھے یہ بتائیں؟ خدا کی قسم جس کے اندر رتی برابر بھی ایمان ہو گا، جس کے اندر رتی برابر بھی حلال، حلال کا گوشت چڑھا ہو گا، خون، خون اس کے جسم کے اندر ہو گا وہ ان کو ووٹ نہیں دے گا۔ وہ کسی سیاستدان کو اپنے گھر نہیں آنے دے گا۔ اگر وہ آنے دیتا ہے تو وہ ان معصوم بچوں کے قاتل کا مجرم ہے۔ وہ کـ، وہ قاتل ہے۔ ان مقتولین کا وہ مجرم ہے۔ وہ بے غیرت ہے، وہ کمینہ ہے، وہ دلال ہے، وہ فرعون ہے، وہ شداد ہے! کیا کیا میں آپ کو بتاؤں؟

نہتی عوام کے اوپر اس طرح فائر مار رہے ہیں، یار دنیا کے کسی ملک کے اندر ایسا ہوتا ہے؟ حسینہ واجد کو جب بتایا گیا کہ 50 ہزار لوگ آ رہے ہیں، ہم نہیں ان کے اوپر فائر مار سکتے اور وہ یہاں سے بھاگ گئی۔ ہم نے تو آپ کو بھاگنے کا بھی نہیں کہا، ہم نے تو اپنے حقوق مانگے ضابطے کے اندر رہ کر، اصول کے اندر رہ کر۔

ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دین وہ نہیں ہے جو ہم نے بنایا ہوا ہے۔ کیا یہی دین ہے کہ مسجدوں میں جا کر نمازیں پڑھو؟ کیا یہی دین ہے کہ جا کر وظیفے پڑھو؟ یہ ظالموں کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں دین کیا کہتا ہے، مجھے یہ بتائیں؟ کیا حضرت عمر نے نہیں کہا تھا کہ جو دجلہ، دجلہ کے کنارے اگر کتا بھی بھوکا ہے تو اس کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔

یہاں پر کتوں کو نہیں، خنزیروں کو نہیں، دہشت گردوں کو نہیں اور روٹی کا مسئلہ نہیں، یہاں پر فائر مارے گئے ہیں۔ کتنے لوگ زخمی ہو گئے ہیں، کتنے بچے یتیم ہو گئے ہیں، پھر لوگ باتیں کریں گے جی کہ ان نے خرد کتی جڑے اودھر بغیرت اسدے پئے نے، او بغیرتو تم دلال ہو تم، کمینے ہو تم، خنزیر کی اولادیں ہو! ہم کس کے سامنے جا رہے ہیں؟ انڈیا کی فوج کے سامنے جا رہے ہیں؟ امریکہ کی فوج کے سامنے جا رہے ہیں؟ کہاں جا رہے ہیں ہم؟ ہم اگر جا رہے تھے تو ہم اپنی فورسز کے سامنے جا رہے تھے۔ اگر تم اپنی فورسز کے سامنے جانے سے اگر یہ والی باتیں کرتے ہو تو پھر تمہارے انسان ہونے پہ شک ہے، مسلمان ہونے پہ شک ہے۔

کس لیے یہ فورسز بنی تھیں؟ کہ اپنے لوگوں پہ فائر مارو؟ جذبات ہیں، جوش ہے، خون کھول رہا ہے۔ ہمت نہیں ہے اب مزید بات کرنے کی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں