مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

نقاش تمھیں تو ابھی بہت جینا تھا

ایک بے گناہ شہید آزاد کشمیری کے قتل کی المناک کہانی

خلاصہ

گھر کی چار دیواری میں بے گناہ مارے جانے والے 29 سالہ نقاش کی دردناک کہانی۔ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ جانیے اس غمزدہ بہن کی زبانی۔

Summary in English

The tragic story of 29-year-old Naqash, who was innocently killed within the four walls of his home. The only brother of five sisters is no longer in this world. Hear the account in the words of his grieving sister.

نقاش تمھیں تو ابھی بہت جینا تھا
تصویر: chatgpt

نقاش تمھیں تو ابھی بہت جینا تھا 
میرے بھائی نقاش… تمہیں تو ابھی بہت جینا تھا۔
6 جون کا وہ دن ہماری زندگی سے سب کچھ چھین لے گیا۔

میرے بھائی نقاش کو گولی اُس وقت لگی جب وہ اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں تھا۔ نہ وہ کسی سیاست کا حصہ تھا، نہ کسی احتجاج میں شامل تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا تھا۔ وہ تو ایک عام، معصوم اور بے ضرر انسان تھا… پھر اُس گولی نے اُسی کو کیوں چنا؟

نقاش صرف 29 سال کا تھا، مگر دل سے آج بھی وہی معصوم سا بچہ تھا۔ ایسا بچہ جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ عمر چاہے کتنی بھی بڑھ جائے، ماں کے لیے بیٹا کبھی بڑا نہیں ہوتا۔

وہ ہم پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
ہماری خوشی، ہمارا مان، ہمارے گھر کی رونق اور ہماری دعاؤں کا جواب تھا۔

اور میری ماں کے لیے؟

وہ صرف بیٹا نہیں تھا… وہ اُس کی پوری دنیا تھا۔

آج سے 29 سال پہلے میرے ماں باپ نے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا کر ایک بیٹا مانگا تھا۔ اللہ نے نقاش عطا کیا تو وہ صرف گھر میں آنے والا بچہ نہیں تھا، وہ ہمارے گھر کی خوشیوں کا مرکز بن گیا۔

میرے والد کی تہجد کے سجدوں کی قبولیت، میری ماں کی دعاؤں کا ثمر اور پانچ بہنوں کی آنکھوں کا تارا۔

آج وہ نہیں ہے تو یوں لگتا ہے جیسے گھر اپنی جگہ موجود ہے، مگر گھر کے اندر سے زندگی کہیں چلی گئی ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے، جب تم بہت چھوٹے تھے اور تمہارا پاؤں جل گیا تھا۔ ابو تمہیں گود میں اٹھا کر ایسے بھاگے تھے جیسے تمہارے پاؤں پر لگا زخم اُن کے اپنے دل پر لگا ہو۔

پھر جب تم میٹرک میں پاس ہوئے تو ابو کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ تمہاری پسند کا کھانا بنوایا، تمہاری پسند کی چیزیں خریدیں، تمہاری چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں اپنی پوری خوشی تلاش کی۔

عید آتی تو ابو تمہیں ساتھ لے کر بازار جاتے۔ تمہیں ہر چیز دلاتے۔

تم بڑے ہوتے گئے، مگر ابو کے لیے تم کبھی بڑے نہیں ہوئے۔

راولاکوٹ جاتے تو کہتے:

“آپ لوگ بھی آنا، مجھے فون کر دینا، میں شاپ پر آ جاؤں گا… آپ اپنی پسند سے میرے لیے چیزیں لے دینا۔”

اور ہم بہنیں تمہارے لیے چیزیں چنتی رہتیں۔

تمہیں کپڑوں اور جوتوں کا کتنا شوق تھا، میرے شہزادے…

ایک عید پر تم نے تین جوڑے جوتے لے لیے۔ امی نے حیرت سے پوچھا:

“اتنے سارے کیوں لے لیے؟”

تم نے معصومیت سے جواب دیا:

“بس اچھے لگ رہے تھے، سمجھ نہیں آ رہی تھی کون سا لوں… اس لیے تینوں لے لیے۔”

بس تم ایسے ہی تھے نقاش…

سادہ، معصوم، بے ضرر اور نرم دل۔

تمہیں دیکھ کر یقین آتا تھا کہ دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے دل میں کسی کے لیے برائی نہیں ہوتی۔

پھر 2020 آیا، جب ابو کو کینسر کی تشخیص ہوئی۔ میں اُس وقت UAE میں تھی۔ ابو کی بیماری کے ساتھ ساتھ میرے دل میں ایک اور فکر تھی:

“نقاش اکیلا سب کچھ کیسے سنبھالے گا؟”

ہم سب بہنیں ابو کے علاج میں اُن کے ساتھ کھڑی رہیں۔ ہر ممکن علاج کروایا، ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دعا مانگی… مگر ایک دن موت ہمیں ابو سے بھی جدا کر گئی۔

ابو چلے گئے اور میرے دل میں ہر وقت ایک ہی خیال رہتا تھا کہ میرا نقاش اکیلا رہ گیا ہے۔

اگرچہ ہم بہنیں اُس کے ساتھ تھیں، مگر بھائی کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا۔

آج کبھی کبھی دل کہتا ہے… شاید اچھا ہوا ابو پہلے چلے گئے۔ کیونکہ اگر وہ آج زندہ ہوتے اور اپنے نقاش کو یوں جاتے دیکھتے تو شاید اُن کا دل یہ منظر برداشت نہ کر پاتا۔

ایک جاننے والی نے بتایا تھا کہ جب ابو ہسپتال میں داخل تھے، ایک رات نقاش اُن کے پاس بیٹھا بیٹھا بینچ پر سو گیا۔ ابو کے ہاتھ میں کینولا لگا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر سے کمبل اتارا اور سوئے ہوئے بیٹے پر ڈال دیا۔

پوری رات خود سردی برداشت کرتے رہے، مگر بیٹے کو جگایا نہیں۔

انہیں کیا خبر تھی کہ صرف چار سال بعد دونوں باپ بیٹا ہمیں اس طرح چھوڑ جائیں گے کہ ہم ایک دوسرے کے چہروں میں بھی تم دونوں کو تلاش کرتے رہیں گے۔

نقاش…

تمہیں کبھی بخار ہو جاتا تو امی ساری رات تمہارے سرہانے کھڑی رہتیں۔ ماتھے پر ہاتھ رکھتیں، بار بار دیکھتیں کہ بخار کم ہوا یا نہیں۔

اور جب تم گھر سے نکلتے تو امی کی نصیحتیں ختم ہی نہیں ہوتی تھیں:

“سڑک کے کنارے کنارے چلنا۔”
“مغرب سے پہلے گھر آ جانا۔”
“دھوپ میں مت جانا۔”
“سائے والی جگہ سے جانا۔”

امی تمہیں ٹورنامنٹ میں جانے سے بھی ڈرتی تھیں۔ کہتیں رات دیر ہو جائے گی، راستے میں کچھ ہو گیا تو؟

اور تم بھی ماں کی بات خاموشی سے مان لیتے تھے۔

تمہیں کیا خبر تھی کہ ماں کی ہر نصیحت کے پیچھے محبت سے زیادہ خوف چھپا ہوتا ہے۔

تمہیں کیا معلوم تھا کہ ماں کا ہر فون دراصل ایک دعا ہوتا ہے:

“یا اللہ، میرا بیٹا خیریت سے واپس آ جائے۔”

میں جب بھی ایئرپورٹ جاتی یا واپس آتی، تم مجھے چھوڑنے بھی آتے اور لینے بھی۔

2 دسمبر 2025 کو بھی تم مجھے ایئرپورٹ چھوڑنے آئے تھے۔

نقاش…

مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

کاش اُس دن مجھے پتا ہوتا کہ یہ آخری بار ہے۔

میں تمہیں جانے نہ دیتی۔
تمہیں روک لیتی۔
تمہیں اپنے ساتھ واپس لے آتی۔
تمہارے پاس بیٹھتی، تمہیں دیکھتی رہتی اور شاید بار بار کہتی:

راولاکوٹ جاتے تو کہتے: "آپ لوگ بھی آنا، مجھے فون کر دینا، میں شاپ پر آ جاؤں گا… آپ اپنی پسند سے میرے لیے چیزیں لے دینا۔" اور ہم بہنیں تمہارے لیے چیزیں چنتی رہتیں۔

“نقاش، آج مت جاؤ… میرے پاس بیٹھو۔”

مگر زندگی ہمیں کبھی نہیں بتاتی کہ کون سی ملاقات آخری ہے، کون سا گلے لگنا آخری ہے، کون سی آواز آخری ہے اور کون سا “اللہ حافظ” ہمیشہ کے لیے الوداع بن جائے گا۔

پھر…

6 جون آ گیا۔

وہ دن جس نے ہماری پوری زندگی بدل دی۔

تم صرف نمازِ جنازہ کے لیے گئے تھے۔ جب وہاں حالات خراب ہوئے تو تم اپنے ڈیری فارم کی چار دیواری کے اندر چلے گئے۔

تم کسی کے دشمن نہیں تھے۔
تم کسی سے لڑنے نہیں گئے تھے۔
تم کسی احتجاج کا حصہ نہیں تھے۔

پھر وہ گولی تم تک کیسے پہنچی، نقاش؟

اُس گولی پر تمہارا نام کس نے لکھا تھا؟

تم تو اتنے ڈرپوک تھے کہ شاید زندگی میں کبھی بندوق کو ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔ پھر تمہاری زندگی چھین لینے والی گولی تم تک کیوں پہنچی؟

کاش وہ گولی ہم پانچ بہنوں میں سے کسی کو لگ جاتی…
کاش ہم میں سے کسی کو کچھ ہو جاتا…
مگر تمہیں کچھ نہ ہوتا۔

کیونکہ تم صرف ہمارا بھائی نہیں تھے۔

تم ہماری جان تھے۔
تم ہماری ماں کی جان تھے۔

آج بھی دل ماننے کو تیار نہیں کہ نقاش واقعی ہم سے جدا ہو گیا ہے۔

دل بار بار کہتا ہے:

“کاش کوئی دروازہ کھول کر کہہ دے… نقاش زندہ ہے۔”

لیکن پھر حقیقت سامنے آتی ہے…

اور ایک ماں کا دل ایک بار پھر ٹوٹ جاتا ہے۔

نقاش…

جب تمہیں گولی لگی ہوگی، تمہیں کتنا درد ہوا ہوگا؟

کیا تم ڈر گئے تھے؟
کیا تم نے کسی کو پکارنا چاہا ہوگا؟
کیا تمہیں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی؟
کیا اُس لمحے تمہیں اپنی ماں یاد آئی ہوگی؟

کیا تم نے سوچا ہوگا:

“جو ماں میری معمولی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی، آج وہ کہاں ہے؟”

کیا تم نے اپنی بہنوں کو یاد کیا ہوگا؟

یہ سوال میرے دل کو ہر روز اندر سے توڑتے ہیں۔

سب سے بڑا دکھ شاید یہ ہے کہ اُس لمحے تمہیں ہماری ضرورت تھی… اور ہم تمہارے پاس نہیں تھے۔

ایک ماں ساری زندگی اپنے بچے کو ہر تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔

امی نے بھی یہی کیا۔

تمہیں بخار ہوا تو رات بھر جاگیں۔
تم باہر گئے تو فون کرتی رہیں۔
تم دیر سے آئے تو دروازے کی طرف دیکھتی رہیں۔
تمہیں معمولی سی تکلیف ہوئی تو اُن کا دل بے چین ہو گیا۔

مگر اُس دن…

وہ تمہیں بچا نہ سکیں۔

شاید ماں کے لیے اس سے بڑا دکھ کوئی نہیں کہ جس بچے کو اُس نے پوری زندگی اپنی آنکھوں میں چھپا کر رکھا، وہ ایک لمحے میں اُس کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو جائے۔

نقاش…

مجھے اپنی بیٹی کی بیماری کا وہ وقت بھی یاد ہے۔

تم پورا ایک ماہ میرے ساتھ ہسپتال میں رہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں کہا کہ مجھے گھر جانا ہے۔

میں نے تمہیں کئی بار کہا:

“نقاش، گھر ہو آؤ۔”

مگر تم نہیں گئے۔

تمہیں اپنی بہن کی فکر تھی۔

تم ایسے ہی تو تھے… اپنوں کے لیے خود کو بھول جانے والے۔

اور تمہیں پرفیوم کا بھی کتنا شوق تھا۔

2 جون کو میں نے تم سے پوچھا:

“کیا چاہیے؟”

تم نے کہا:

“میرے لیے اچھی سی پرفیوم لے آنا۔”

نقاش…

اب وہ پرفیوم میں کیا کروں؟

جس خوشبو کے لیے تم نے کہا تھا، وہ خوشبو اب کس کے لیے خریدوں؟

اور امی کو کیا کہوں؟

کہ جس بیٹے کے لیے وہ ہر جگہ سے پرفیوم لاتی تھیں، اب وہ خوشبو لگانے کے لیے گھر میں موجود نہیں؟

لوگ کہتے ہیں صدقہ مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔

میری ماں نے تمہاری حفاظت کے لیے کتنا صدقہ دیا، کتنی دعائیں کیں، کتنے سجدے کیے۔

پھر بھی تم نہ بچ سکے۔

یہ سوال آج بھی دل میں اٹھتا ہے:

تم کیوں نہ بچ سکے، نقاش؟

تم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟

تم تو صلہ رحمی کرنے والے، محبت بانٹنے والے اور سب کے دکھ میں کھڑے ہونے والے انسان تھے۔

پھر تمہاری زندگی اتنی مختصر کیوں لکھی گئی؟

تمہیں ابھی بہت جینا تھا۔

ابھی ماں کی دعاؤں کا سایہ تمہارے سر پر ہونا تھا۔
ابھی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنا تھا۔
ابھی گھر میں تمہاری شادی کی تیاریاں ہونی تھیں۔
ابھی امی نے تمہارے سر پر سہرا دیکھنا تھا۔
ابھی ہمیں تمہارے بچوں کو اپنی گود میں اٹھانا تھا۔

مگر…

تم چلے گئے۔

اور تمہارے جانے سے صرف ایک بھائی نہیں گیا۔

گھر کی آواز چلی گئی۔
ماں کی ہنسی چلی گئی۔
بہنوں کا سہارا چلا گیا۔
عیدوں کی رونق چلی گئی۔
گھر کی وہ خوشی چلی گئی جس کا نام نقاش تھا۔

آج بھی تمہاری چیزیں دیکھ کر دل کہتا ہے:

“نقاش یہیں کہیں ہوگا…”

پھر حقیقت یاد آتی ہے۔

نقاش اب گھر نہیں آئے گا۔
فون نہیں کرے گا۔
پرفیوم نہیں مانگے گا۔
امی سے نہیں کہے گا: “میں آ رہا ہوں۔”
بہنوں کے لیے چیزیں نہیں چنے گا۔

اور ہم؟

ہم اب تمہیں نہیں، صرف تمہاری یادیں چنتے رہیں گے۔

نقاش…

اگر آنسو کسی کو واپس لا سکتے تو آج تم ہمارے درمیان بیٹھے ہوتے۔

اگر دعائیں کسی کو لوٹا سکتیں تو میری ماں آسمان ہلا دیتی۔

اگر سجدوں سے تقدیر بدل سکتی تو ہم تمہیں کبھی نہ کھوتے۔

مگر اب ہمارے پاس صرف دعا ہے۔

یا اللہ!

جس طرح نقاش ہماری دنیا کی خوشبو تھا، اُسے اپنی جنت کی خوشبوؤں میں جگہ عطا فرما۔

اُس کی قبر کو نور سے بھر دے۔
اُسے کشادگی عطا فرما۔
اُس میں سکون اور رحمت نازل فرما۔
اُس کی ہر تکلیف کو اپنی رحمت سے مٹا دے۔

اور یا اللہ…

میری اُس ماں کو صبر عطا فرما جس نے نقاش کو دنیا سے مانگا تھا۔

اُس ماں کے دل پر اپنا رحم فرما، جس کی دعاؤں کا مرکز اُس کا بیٹا تھا اور آج اُسی بیٹے کی یاد اُس کے دل کو ہر لمحہ رُلاتی ہے۔

اے میرے رب…

جس طرح ہم نے نقاش کو دنیا میں پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھا، تُو بھی اُسے اپنی رحمت کے پھولوں میں جگہ دینا۔

اور جب کبھی جنت میں ہماری ملاقات ہو…

تو ہمیں پھر وہی گھر دینا۔
وہی ماں دینا۔
وہی پانچ بہنیں دینا۔
وہی محبتیں دینا۔

اور ہمارا نقاش بھی…

بالکل ویسا ہی معصوم، ویسا ہی شریف، ویسا ہی نرم دل، ویسا ہی مسکراتا ہوا…

ہمیں پھر سے دے دینا۔

نقاش… تمہیں تو ابھی بہت جینا تھا۔

مگر شاید اللہ نے تمہیں دنیا کی مختصر زندگی کے بعد اپنے پاس بلا لیا۔

ہم تمہیں بھولیں گے نہیں۔

جب تک ماں کی سانس ہے،
جب تک بہنوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں،
جب تک اس گھر کی دیواریں کھڑی ہیں،
نقاش، تم ہمارے درمیان زندہ رہو گے۔

اللہ تمہیں اپنی بے حساب رحمتوں میں جگہ دے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲💔
#RightsMovementAJK
#jkbsnews

تبصرے (0)

تبصرہ کریں