پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری پر امن عوامی حقوق تحریک نے جہاں عوام کو بنیادی “حقوق “صحت “انصاف “روزگار” تعمیر و ترقی “ریاستی وسائل پر ریاستئ عوام کا حق “عوام کا “حق ملکیت اور حق حکمرانی “کا شعور اور ان کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کا تصور دیا وہاں مختلف علاقوں قبیلوں فرقوں پاکستانی سیاسی تجارتی فرنچائز میں منقسم و منتشر عوام کو ایک قوم میں تبدیل کیا ہے اپنی جدوجہد اور لازوال قربانیوں سے پوری دنیا میں معاشی ہجرت پرمجبور محنت کشوں کو متحد کر کے عوامی حقوق تحریک کا ترجمان پشتی بان اور قوم کا سفیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے
مظلوم و ظالم محکوم و حاکم مزارع اور مالک کے درمیان ایک تاریخی کشمکش اور جدوجہد رہی ہے پاکستانی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک بھی پاکستانی ظالم قابض حکمرانوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ماضی کی تحریکوں کا تسلسل ہے
اگر ہم تاریخ کے اوراق کی روگردانی کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ
1–موجودہ عالمی سامراجی قوتوں کے سرپرست اعلیٰ امریکہ کی عوام نے 1765میں ورجینا میں ٹیکسوں کے خلاف عوامی مزاحمت میں “No Taxation without representation “کا نعرہ دیا اور 1773-74 میں Boston Tea party کی Continental Congrss کے بعد عوام کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں اس وقت کے برطانوی سامراج سے 1776کو علان آذادی Decleration of Independence کا اعلان کیا
2–1789 کا انقلاب فرانس بھی بنیادی طور پر عوام کا بادشاہت کے عوام پر ظلم جبر بربریت عوام دشمن پالیسیوں غربت افلاس جہالت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں ہی برپا ہوا
3–1917میں انقلاب روس بھئ زار کی بادشاہت کے عوام پر ظلم جبر غربت افلاس قید وبند قتل و غارت کے نتیجے میں ہی برپا ہوا
4–1947میں برصغیر کی عوام کے برطانوی سامراج کے غاصبانہ قبضے لوٹ مار کے خلاف کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں ہی قبضے کا خاتمہ ممکن ہیں سکا جدوجہد کے اس طویل سفر میں
1919میں جرنیل ڈائر نے جلیانوانہ باغ میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کیا
1930میں پشاور قصہ خوانی بازار میں عظیم باچا خان کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف چلنے والی پر امن آذادی کی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر دیا تھا لیکن پھر بھی برطانوی سامراج اپنا غاصانہ قبضہ برقرار نہیں رکھ سکا تھا اور اسے ہندوستان چھوڑنا پڑا تھا
5–1949 میں چین میں ماوزے تنگ کی قیادت میں چینی عوام نے ایک طویل لازوال قربانی کے نتیجے میں ظالم اور کرپٹ حکمرانوں اور انسان دشمن نظام سے آذادی حاصل کی
جنوبی ایشیا کا امن اور خوشحالی ریاست جموں کشمیر کی آذادی اور بھارتی "مودی فاشزم "اور پاکستانی "ملا ملٹری فاشزم"سے نجات سے ہی ممکن ہیں
6–1955میں امریکہ میں ہی روزا پارکسRosa Parks کی شہریوں کے ساتھ نسلی تعصب امتیازی قوانین کے خلاف سول رائٹس موومنٹ Civil Rights Movement کے دوران 381دن بائیکاٹ کے نتجے میں ہی 1956کو امریکی وفاقی عدالت کو نسلی تعصب اور امیتازئ قوانین کے خلاف فیصلہ دینا پڑا
7–ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف لازوال جدوجہد اور 1963میں واشنگٹن مارچ جس میں تقریبا250000 اڑھائئ لاکھ لوگوں نے شرکت کی اس کے نتجے میں
Civil Rights Act of 1964
Voting Rights Act of 1965
منظور ہوا ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا لازوال پر امن جدوجہد کے باعث 1964میں نوبل پرائز Noble Prize دیا گیا جس کی ساری رقم اس نے عوامی جدوجہد کے لئے دے دی
اس تاریخی عوامی جدوجہد کی قیمت ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کو 1968میں شہادت کی قیمت میں ادا کرنا پڑی
8–نیلسن منڈلا نے غلامی نسلی تعصت سے 1950میں African National Congress کے پلیٹ فورم سے جدوجہد کا آغاز کیا 1962میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور 27سال کی طویل اسیری کے بعد 1990کو رہائی ملی نیلسن منڈلا کی اس عظیم جدوجہد کے نتیجے میں 1993میں ڈی کلرک کے ساتھ مشترکہ نوبل پرائزNoble Prize ملا اور 1994میان تاریخی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جنوبی افریقہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے 1995میں Truth and reconciliation commission بنا کر عوام کو نفرت جہالت قتل غارت تعصبات سے نکال کر آذادی کی شاہراہ پر چڑھایا
پاکستانی زیر تسلط ریاست جموں کشمیر کی عوام کی بھی ریاست پر قابض پاکستانی حکمران طبقات اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک لازوال جدوجہد ہے جس میں اب تک 100سے زائد شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے عوامی حقوق کی جدوجہد کو اپنے مقدس لہو سے روش کیا ہوا ہے سینکڑوں لوگ گرفتار اور لاپتہ ے ہزاروں کے خلاف جعلی مقدمات بنائے ہوئے ہیں اربوں روپے کی املاک اور کاروبار تباہ کر دئیے گے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی عوام کے جذبات ہمت جرت اور جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے
پاکستانی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے پہاڑوں سے اٹھنے والی پر امن عوامی حقوق تحریک نے نہ صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کو ایک نیا آنگ ڈھنگ اور رنگ دیا ہے بلکہ بھارت اور پاکستان کی مظلوم عوام کو بھی ظالم کرپٹ حکمرانوں اور انسان دشمن نظام سے نجات کا راستہ دکھایا ہے
جنوبی ایشیا کا امن اور خوشحالی ریاست جموں کشمیر کی آذادی اور بھارتی “مودی فاشزم “اور پاکستانی "ملا ملٹری فاشزم”سے نجات سے ہی ممکن ہیں
اس کے لئے بھارت اور پاکستان کی عوام بلخصوص انسان دوست دانشوروں صحافیوں طلبا وکلا مزدوروں کسانوں ٹریڈ یونینوں کو کشمیری عوام پر جارحیت بربریت قتل و غارت لوٹ مار سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا
بھارت اور پاکستان کی عوام نے جب بھی اپنے اوپر مسلط کرپٹ ظالم حکمرانوں اور انسان دشمن نظام کے خلاف عوامی جدوجہد کی تو ریاست جموں کشمیر کی عوام ریاست اور دنیا بھر میں مقیم ریاستی باشندے بھارت اور پاکستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے

تبصرے (0)