مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری پر امن عوامی حقوق تحریک کا دنیا کی تحریکوں کے ساتھ تقابلی جائزہ

کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک نے عوام کو بنیادی حقوق کے لیے متحد کر دیا ہے۔ جانیے اس کا تاریخی عالمی تحریکوں سے تقابلی جائزہ اور اثرات۔

خلاصہ

کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک نے عوام کو بنیادی حقوق کے لیے متحد کر دیا ہے۔ جانیے اس کا تاریخی عالمی تحریکوں سے تقابلی جائزہ اور اثرات۔

Summary in English

The ongoing public rights movement in Kashmir has united the people for fundamental rights. Explore a comparative analysis of this movement with historical global movements and its impacts.

پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری  پر امن عوامی حقوق تحریک کا دنیا کی تحریکوں کے ساتھ تقابلی جائزہ

پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری پر امن عوامی حقوق تحریک نے جہاں عوام کو بنیادی “حقوق “صحت  “انصاف  “روزگار”  تعمیر و ترقی “ریاستی وسائل پر ریاستئ عوام کا حق  “عوام کا “حق ملکیت اور حق حکمرانی “کا شعور  اور ان کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کا تصور  دیا وہاں مختلف علاقوں قبیلوں  فرقوں پاکستانی سیاسی تجارتی فرنچائز میں  منقسم و منتشر عوام کو ایک قوم میں تبدیل کیا ہے اپنی جدوجہد اور  لازوال قربانیوں سے  پوری دنیا میں معاشی ہجرت پرمجبور محنت کشوں کو متحد کر کے عوامی حقوق تحریک کا ترجمان پشتی بان اور قوم کا سفیر بنانے میں  اہم کردار ادا کیا ہے

مظلوم و ظالم محکوم و حاکم مزارع اور مالک کے درمیان ایک تاریخی کشمکش اور جدوجہد رہی ہے   پاکستانی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں  جاری  عوامی حقوق تحریک بھی  پاکستانی ظالم قابض حکمرانوں اور  ان کے سہولت کاروں کے خلاف  ماضی کی تحریکوں کا تسلسل ہے

اگر ہم تاریخ کے اوراق کی روگردانی کریں  تو ہمیں  معلوم ہو گا کہ

1–موجودہ عالمی سامراجی قوتوں کے سرپرست اعلیٰ امریکہ کی عوام نے 1765میں ورجینا میں ٹیکسوں کے خلاف عوامی  مزاحمت میں  “No Taxation without representation “کا نعرہ دیا  اور 1773-74 میں  Boston Tea party کی Continental Congrss کے بعد عوام کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں  اس وقت  کے برطانوی سامراج سے  1776کو علان آذادی Decleration of Independence کا اعلان کیا

2–1789 کا انقلاب فرانس بھی  بنیادی طور پر عوام کا بادشاہت کے عوام پر ظلم جبر بربریت   عوام دشمن پالیسیوں غربت افلاس  جہالت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں  ہی برپا ہوا

3–1917میں انقلاب روس بھئ زار کی بادشاہت کے عوام پر ظلم جبر غربت افلاس  قید وبند قتل و غارت کے نتیجے میں  ہی برپا ہوا

4–1947میں برصغیر کی عوام کے برطانوی  سامراج کے غاصبانہ قبضے لوٹ مار کے خلاف  کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں ہی قبضے کا خاتمہ ممکن ہیں  سکا جدوجہد  کے اس طویل سفر میں

1919میں جرنیل ڈائر نے جلیانوانہ باغ میں  سینکڑوں بے گناہ شہریوں کو شہید  اور ہزاروں کو زخمی کیا

1930میں  پشاور  قصہ خوانی بازار میں  عظیم باچا خان کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف  چلنے والی  پر امن آذادی کی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر دیا  تھا لیکن  پھر بھی برطانوی سامراج اپنا غاصانہ قبضہ برقرار نہیں  رکھ سکا تھا اور  اسے  ہندوستان چھوڑنا پڑا تھا

5–1949 میں  چین میں  ماوزے تنگ کی قیادت میں چینی عوام نے ایک طویل لازوال قربانی کے نتیجے میں  ظالم اور کرپٹ حکمرانوں اور  انسان دشمن نظام سے  آذادی حاصل کی

جنوبی ایشیا کا امن اور خوشحالی ریاست جموں کشمیر کی آذادی اور بھارتی "مودی فاشزم "اور پاکستانی "ملا ملٹری فاشزم"سے نجات سے ہی ممکن ہیں

6–1955میں امریکہ  میں  ہی روزا پارکسRosa Parks کی شہریوں کے ساتھ  نسلی تعصب امتیازی قوانین کے خلاف  سول رائٹس موومنٹ Civil Rights Movement کے دوران 381دن بائیکاٹ کے نتجے میں ہی 1956کو امریکی وفاقی عدالت کو نسلی تعصب اور امیتازئ قوانین کے خلاف فیصلہ دینا پڑا

7–ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف لازوال جدوجہد اور 1963میں واشنگٹن مارچ جس میں تقریبا250000 اڑھائئ لاکھ لوگوں نے شرکت کی اس کے نتجے میں

Civil Rights Act of 1964

Voting Rights Act of 1965

منظور ہوا ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا لازوال پر امن جدوجہد کے باعث 1964میں نوبل پرائز Noble Prize دیا گیا جس کی ساری رقم اس نے عوامی جدوجہد کے لئے  دے دی

اس تاریخی عوامی جدوجہد کی قیمت ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کو 1968میں شہادت کی قیمت میں  ادا کرنا پڑی

8–نیلسن منڈلا نے غلامی نسلی تعصت سے 1950میں African National Congress کے پلیٹ فورم سے  جدوجہد کا آغاز کیا 1962میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور 27سال کی طویل اسیری کے بعد 1990کو رہائی ملی نیلسن منڈلا کی اس عظیم جدوجہد کے نتیجے میں  1993میں ڈی کلرک کے ساتھ  مشترکہ نوبل پرائزNoble Prize ملا اور  1994میان تاریخی انتخابات میں بھاری اکثریت سے  جنوبی افریقہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے  اور انہوں نے 1995میں Truth and reconciliation commission بنا کر عوام کو نفرت جہالت قتل غارت تعصبات سے  نکال کر آذادی کی شاہراہ  پر چڑھایا

پاکستانی زیر تسلط ریاست جموں کشمیر  کی عوام کی بھی ریاست پر قابض پاکستانی حکمران طبقات اور  ان کے سہولت کاروں کے خلاف  ایک لازوال جدوجہد ہے جس میں  اب تک 100سے زائد شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ  پیش کر کے  عوامی حقوق کی جدوجہد کو اپنے مقدس لہو سے  روش کیا ہوا ہے سینکڑوں لوگ گرفتار اور  لاپتہ ے ہزاروں کے خلاف جعلی مقدمات بنائے ہوئے  ہیں  اربوں روپے  کی املاک اور کاروبار تباہ کر دئیے گے ہیں  لیکن اس کے باوجود بھی عوام کے جذبات  ہمت جرت اور  جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے

پاکستانی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے پہاڑوں سے  اٹھنے والی  پر امن عوامی حقوق تحریک نے نہ صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کو ایک نیا آنگ ڈھنگ اور  رنگ دیا  ہے  بلکہ بھارت  اور  پاکستان  کی مظلوم عوام کو بھی ظالم کرپٹ حکمرانوں اور  انسان دشمن نظام سے  نجات کا راستہ دکھایا  ہے

جنوبی ایشیا کا امن اور خوشحالی   ریاست جموں کشمیر  کی آذادی اور  بھارتی  “مودی  فاشزم “اور  پاکستانی  "ملا ملٹری فاشزم”سے نجات سے ہی ممکن ہیں

اس کے لئے  بھارت اور پاکستان  کی عوام بلخصوص انسان دوست دانشوروں  صحافیوں  طلبا وکلا مزدوروں  کسانوں  ٹریڈ  یونینوں کو کشمیری  عوام پر جارحیت بربریت قتل و غارت لوٹ مار سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار  ادا کرنا ہو گا

بھارت  اور پاکستان کی عوام نے جب بھی اپنے  اوپر مسلط کرپٹ ظالم حکمرانوں  اور  انسان دشمن نظام کے خلاف  عوامی جدوجہد کی تو ریاست جموں کشمیر کی عوام ریاست اور  دنیا بھر میں  مقیم ریاستی باشندے بھارت  اور  پاکستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے

تبصرے (0)

تبصرہ کریں