میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
راولاکوٹ میں جاری دھرنوں کے خلاف فورسز کے آپریشن کی اطلاعات نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک ہیں۔ مظاہرین سے وابستہ سوشل میڈیا پیجز اور افراد کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متیالمیرہ بس ٹرمینل پر جاری دھرنا آپریشن کے ذریعے ختم کروا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تین جوانوں کی شہادت سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عمر فاروق چوک میں بھی فائرنگ اور فورسز کی کارروائیوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیراعظم کی راولاکوٹ آمد کے فوراً بعد پیش آنے والے یہ واقعات طاقت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔عوامی احتجاج کا جواب طاقت سے دینا مسائل کو حل نہیں کرتا بلکہ انہیں مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیتا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ تصادم کے بجائے مکالمے، جبر کے بجائے سیاسی تدبر اور طاقت کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ارباب اختیار سے میری یہی گزارش ہے خدارا اداراجاتی کردار کو یوں جسٹیفائی نہ کریں ۔کسی پلیٹ فارم پر اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کر رہا ھے۔ اس تحریک کی خدمت کر رہا ہے تو اسے کرنے دیجیے اسکی رائے کو حذف کرنے یا کسی گروپ سے جہاں سے اسکی آواز حکام بالا تک پہنچ سکتی تھی اسے ریمو کرنے سے مسلہ حل نہیں ہوتا۔ اعلیٰ سیاسی بصیرت رکھنے والے لوگوں سے میرا یہ کھلا چیلنج ھے کہ اگر آپ کے پاس سچ ھے دلائل ہیں تو کسی پلیٹ فارم ہے بات کیجیے ، مکالمہ کیجیے ۔ کوئ سچ لکھے یا بولے تو سننے سے اتنا مت ڈریے یاد رکھیے کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی اپنا ارادہ نہیں بدلتی ۔ اتنے دن سے ظلم تو تھا ہی لیکن ظلم وبربریت کا جو طریقہ آج اختیار کیا گیا ھے اس کیساتھ کھڑے نہ ہوں۔ آپ لوگ جانتے ہو کہ یہ عوامی عمل نہیں ھے خدارا سچ بولو اور سچ کا ساتھ دو ، کٹھ پتلی حکومت کی خوشی کو ترجیح نہ دو، یاد رکھو تاریخ ہیروز کو بھی یاد رکھتی ہے اور غداروں کو بھی ۔
دھرتی ماں میرے کشمیر کی تاریخ جب آنے والے بچوں کو اپنے اجداد کی قربانیاں بتائے گی تو آپکی غداری پے پردے نہیں ڈالے گی ۔
خدارا ہوش کے ناخن لو ہاتھ پے ہاتھ ہاتھ دھرے مت بیٹھو اپنی بساط میں جو کرسکتے ہو وہ کرو ابھی بھی وقت ھے اپنی ریاست بچا لو ۔

تبصرے (0)