راولاکوٹ کے ڈی چوک میں حقوق کے حصول کے لیے جاری لانگ مارچ اور دھرنا چوتھے دن میں داخل ہو گیا ہے۔ دھرنے میں موجود مظاہرین نے فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ اور مبینہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر شدید تشویش اور غ��ے کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین کے مطابق مختلف عمارتوں میں موجود اہلکاروں کی جانب سے پیش قدمی کرنے والے پرامن شہریوں کو گولیاں مار کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان اور بچے شہید ہو چکے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوام سفید جھنڈے اٹھائے اپنے شہر جانے کے لیے راستے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم دوسری جانب سے کارروائیاں جاری ہیں۔ رات کے اوقات میں بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے، جس سے ڈی چوک اور ارد گرد موجود لوگوں پر کسی بڑے آپریشن کا اندیشہ لاحق ہے۔ مظاہرین نے میرپور میں کرفیو کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
مظاہرین نے وضاحت کی کہ وہ نہ تو ملک کے خلاف ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کے، بلکہ صرف اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دھرنے کے شرکاء نے میڈیا کے ایک حصے پر پروپیگنڈے اور من گھڑت الزامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے پرامن شہریوں کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے وضاحت کی کہ وہ نہ تو ملک کے خلاف ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کے، بلکہ صرف اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بین الاقوامی میڈیا کو راولاکوٹ آ کر صورتحال کی غیر جانبدارانہ کوریج کرنے کی دعوت دی گئی تا کہ حقائق دنیا کے سامنے آ سکیں۔
مظاہرین نے اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں ان کے حق میں آواز اٹھانے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی کہ حقوق کی اس تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے روڈز پر نکلنا ہوگا اور اس آواز کو دبنے نہیں دینا ہو گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تمام تر مظالم اور قربانیوں کے باوجود حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

تبصرے (0)