مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

راولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر

چار ماہ سے راولاکوٹ خوف اور ناکہ بندیوں کے حصار میں ہے۔ مسلسل فائرنگ اور دباؤ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ جانیے اس بحران کی مکمل صورتحال۔

خلاصہ

چار ماہ سے راولاکوٹ خوف اور ناکہ بندیوں کے حصار میں ہے۔ مسلسل فائرنگ اور دباؤ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ جانیے اس بحران کی مکمل صورتحال۔

Summary in English

For four months, Rawalakot has been gripped by fear and blockades. Continuous firing and pressure have made life miserable for its citizens. Find out the complete situation of this crisis.

راولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

رات کے کسی پہر راولاکوٹ میں اچانک بھاری ہتھیاروں کی آواز گونجتی ہے۔ چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا شہر سانس روک کر کھڑا ہو گیا ہو۔

گھروں کی دیواریں لرزتی ہیں، سوئے ہوئے لوگ جاگ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے چہروں پر نظریں جم جاتی ہیں۔ فائرنگ رکنے کے بعد خاموشی ضرور لوٹ آتی ہے مگر یہ وہ خاموشی نہیں ہوتی جو سکون دیتی ہو بلکہ یہ وہ خاموشی ہوتی ہے جس میں لوگ اگلی آواز کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

چار ماہ سے زیادہ عرصے سے راولاکوٹ ایک غیر معمولی کیفیت میں زندہ ہے۔ ایک ایسا شہر جس کی راتوں میں فائرنگ کی گونج موجود ہو، جس کے اوپر ڈرون منڈلاتے ہوں، جہاں دن کے اوقات میں فلیگ مارچ اور فورسز کی نقل و حرکت معمول بن چکی ہو اور جہاں اندر آنے یا باہر جانے والے مقامی افراد مختلف ناکوں پر بار بار اپنی شناخت ثابت کرنے پر مجبور ہوں، وہاں زندگی صرف عملی طور پر محدود نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں بھی سمٹنے لگتی ہے۔

راولاکوٹ کی حالیہ کہانی میں گرفتاریوں، خوف، نقل مکانی، بندشوں اور غیر یقینی مستقبل کا ذکر ہے۔ دوسری طرف مقتدرہ کی جانب سے ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ عناصر پر امن و امان خراب کرنے اور مسلح سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

ابھی آٹھ اکتوبر کو راولاکوٹ کے دھرنے کو چار ماہ مکمل ہوئے۔ اس دوران ہر شخص نے اپنے حصے کی ایک الگ حقیقت دیکھی۔ کسی نے احتجاجی اجتماعات دیکھے، کسی نے بند بازار، کسی نے جنازے اور کسی نے ناکوں پر شناخت پریڈ کے بے رحم عمل کو دیکھا، کسی سے خوراک اور دوائیں تک چھینیں گئیں، کئی لوگوں نے گرفتاریوں کی خبریں سنیں اور کئی خاندانوں نے خاموشی سے اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اگست کے آغاز میں میرپور ڈویژن کے دو اضلاع کا سفر ہوا تو منظر بالکل مختلف تھا۔ بازار کھلے ہوئے تھے، معمولات زندگی جاری تھے اور روزمرہ کی مصروفیات میں کسی بڑے بحران کا عکس واضح نہیں تھا۔ گفتگو کے دوران اکثر لوگ ایک ہی مقام پر آ کر رک جاتے تھے۔

"لوگوں کی ہمدردیاں ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہیں، لیکن..."

یہ "لیکن" دراصل ایک مکمل داستان تھا۔

اس کے پیچھے خوف بھی تھا، بے یقینی بھی اور شاید یہ احساس بھی کہ ہمدردی اور عملی شمولیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ لوگ رائے رکھتے تھے مگر اسے عمل میں ڈھالنے کے نتائج سے بھی آگاہ تھے یا پھر قیادت کی غیر موجودگی اس "لیکن" کا بڑا سبب تھی۔

مظفرآباد سے آنے والی باتوں میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت محسوس ہوئی۔ صحافی دوست آپریشنوں، گرفتاریوں اور دباؤ کے ماحول کا ذکر کرتے تھے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ ایسے تھے جو کھل کر سامنے آنے سے گریزاں تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض حلقوں سے احتجاجی تحریک سے فاصلہ اختیار کرنے کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔

یہ صورت حال صرف میرپور ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن کے علاقوں تک محدود نہیں تھی۔ باغ کے مختلف علاقوں سے بھی تحریک کی بازگشت کمزور سنائی دیتی رہی اور پلندری میں معمولات زندگی بڑی حد تک بحال ہوتے دکھائی دیے۔ اگرچہ آٹھ اکتوبر کو بھی پلندری میں غیر معمولی عوامی اجتماع دیکھنے میں آیا مگر مجموعی تصویر یہی تھی کہ پورے خطے میں وہ کیفیت برقرار نہیں رہی جو ابتدائی دنوں میں محسوس ہوتی تھی۔

کسی بھی تحریک کی اصل قوت اس کے لوگوں سے براہ راست تعلق میں ہوتی ہے۔

یہیں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ اگر مختلف علاقوں میں لوگوں کی ہمدردیاں موجود ہیں تو پھر اس بحران کا اصل بوجھ صرف راولاکوٹ کے کندھوں پر کیوں آ گیا؟ وہ شہر جہاں سب سے زیادہ دباؤ محسوس کیا گیا۔ وہ شہر جہاں مسلسل غیر یقینی صورت حال نے روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔ وہی شہر جہاں بہت سے خاندانوں نے خوف اور بے یقینی کو اپنی زندگی کا حصہ بنتے دیکھا۔

شاید اس سوال کا ایک جواب موجودہ سیاسی جغرافیے میں پوشیدہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مقتدرہ کے لیے یہ بحران بتدریج ایک وسیع خطے کے مسئلے سے سکڑ کر پونچھ کے مسئلے کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ جب کسی احتجاج کی جغرافیائی حدود محدود دکھائی دینے لگیں تو اس کے ساتھ نمٹنے کی حکمت عملی بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ تاثر پیدا کیسے ہوا؟ اس پر بحث کی جا سکتی ہے مگر اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ایکشن کمیٹی بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اس عمل کا حصہ بنتی دکھائی دی۔ اس کی مرکزی قیادت راولاکوٹ میں موجود رہی، فیصلے وہیں سے ہوتے رہے اور بیشتر اعلانات بھی وہیں سے جاری ہوتے رہے۔ ان اعلانات کی بازگشت ان علاقوں میں تو سنائی دیتی ہے جو ایکشن کمیٹی کی اثر میں ہیں لیکن ان مقامات تک کم پہنچ سکی جہاں ریاست کی رِٹ موجود ہے۔

شاید کچھ ذمہ داران کو یہ امید بھی تھی کہ مختلف اداروں میں عہدوں کی تبدیلیاں حالات کا رخ بدل سکتی ہیں۔ انتظار کیا گیا، امکانات پر نظر رکھی گئی مگر جب زمینی حقیقت میں کوئی بڑا فرق پیدا نہ ہوا تو نئی حکمت عملی کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ اس وقت تک شاید قیمتی وقت گزر چکا تھا اور یہی موجودہ تعطل کا سب سے اہم پہلو ہے۔

اعلامیے سیاسی پیغام تو دے سکتے ہیں مگر وہ اپنے طور پر عوامی تحریک کا متبادل نہیں بن سکتے۔ کسی بھی تحریک کی اصل قوت اس کے لوگوں سے براہ راست تعلق میں ہوتی ہے۔ جب قیادت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگے تو الفاظ کی تاثیر بھی کم ہونے لگتی ہے۔

آج راولاکوٹ کے بحران کو صرف ایک دھرنے یا چند سیاسی بیانات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے اندر خوف، تھکن، امید، انتظار اور بے یقینی کے کئی رنگ شامل ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ شاید اب بھی ایکشن کمیٹی کے موقف سے اتفاق رکھتے ہوں مگر خاموش ہیں اور خاموشی ہمیشہ مخالفت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی خوف ہوتی ہے، کبھی مایوسی، کبھی تھکن اور کبھی یہ احساس کہ فردِ واحد کی حیثیت سے کچھ بدلنا ممکن نہیں۔

اسی لیے شاید موجودہ مرحلے میں اصل سوال یہ نہیں کہ ہمدردیاں کہاں موجود ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان ہمدردیوں اور عملی شرکت کے درمیان کھڑی دیوار کیسے گرائی جا سکتی ہے۔

اس کا جواب کسی ایک تقریر، ایک جلسے یا ایک نئے اعلامیے میں نہیں ملے گا۔ اس کے لیے دوبارہ رابطہ قائم کرنا ہو گا، منتشر حلقوں کو جوڑنا ہو گا اور ان علاقوں تک واپس جانا ہو گا جہاں وقت کے ساتھ خاموشی گہری ہوتی گئی ہے۔

کیونکہ تحریکیں صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتیں، وہ اپنے لوگوں کے درمیان زندہ رہتی ہیں۔

اور جب ایک تحریک اپنے لوگوں تک پہنچنا چھوڑ دے تو اس کا جغرافیہ سکڑنے لگتا ہے۔

پھر پورے خطے کا سوال آہستہ آہستہ ایک شہر کا سوال بن جاتا ہے۔

اور اس مرحلے پر راولاکوٹ، تمام تر ہمدردیوں کے باوجود خود کو تنہا کھڑا پاتا ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں