مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

راولاکوٹ کا محاصرہ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری

راولاکوٹ میں کرفیو اور دھرنوں سے نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ بے بس حکومت اور مقتدرہ کے تناظر میں بحران کا حل کیسے ممکن ہے؟ مکمل تجزیہ پڑھیے۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں کرفیو اور دھرنوں سے نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ بے بس حکومت اور مقتدرہ کے تناظر میں بحران کا حل کیسے ممکن ہے؟ مکمل تجزیہ پڑھیے۔

Summary in English

Daily life in Rawalakot has been paralyzed by curfews and sit-ins. In the context of a helpless government and the establishment, how is a resolution to the crisis possible? Read the full analysis.

راولاکوٹ کا محاصرہ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

مسلم لیگ نون کی حکومت کے قیام کے باوجود پونچھ، بالخصوص راولاکوٹ میں، عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں، رینجرز اور ایف سی کے نافذ کردہ کرفیو اور شہر کے محاصرے کی صورتِ حال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس طرح عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں فیصلہ سازی میں پیپلزپارٹی کے فیصل راٹھور حکومت کا کوئی مؤثر کردار نہیں تھا، اسی طرح وزیراعظم افتخار گیلانی بھی عملاً بے اختیار اور بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بدقسمتی سے حالیہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے دوران منتخب سیاسی قیادت کے اختیارات کا دائرہ سکڑ کر محض علامتی رہ گیا ہے اور تمام اختیارات مقتدرہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوگئے ہیں۔ مقتدرہ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف خود سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوچکی ہے بلکہ اپنے حواریوں کو بھی کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے حالات سے نکلنے کی کوئی عملی راہ تلاش کرنا ہوگی۔ ظاہر ہے کہ مقتدرہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مفاہمت کی راہ نکلنے تک حالات کو جوں کا توں نہیں چھوڑا جاسکتا۔ میرے خیال میں عوامی ایکشن کمیٹی شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے بعض یک طرفہ اقدامات کرسکتی ہے۔

مثال کے طور پر راولاکوٹ بس ٹرمینل پر موجود دھرنے کے شرکا کو مرکزی دھرنے میں منتقل کردیا جانا چاہیے۔ اس اقدام سے راولاکوٹ اور راولپنڈی کے درمیان آمدورفت بحال ہوسکے گی، مقامی آبادی کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی اور مرکزی دھرنے کی قوت بھی بڑھے گی۔ اسی طرح سڑکوں پر موجود ایکشن کمیٹی کے کارکنوں سے واضح اپیل کی جانی چاہیے کہ وہ شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

پونچھ کی سیاسی قیادت، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، حکومت پر کرفیو اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ایکشن کمیٹی اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے درس وتدریس بحال کرنے کی اپیل کرے۔ اسی طرح شہر کے ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولتیں مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے۔ اگر انتظامیہ یا نیم فوجی دستے ان اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تو رائے عامہ میں ان کے خلاف ردعمل مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس طرح یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ شہری زندگی کی بحالی میں اصل رکاوٹ کون ہے۔

صدر نجیب نقی، وزیراعظم افتخار گیلانی اور اسپیکر چودھری طارق فاروق تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ایک مضبوط سیاسی ٹیم میدان میں اتاری ہے۔ اس ٹیم کو محض تماشائی بننے کے بجائے اپنا سیاسی اور آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ پونچھ کی سیاسی قیادت، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، حکومت پر کرفیو اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالے۔ جہاں حکومت عوامی مشکلات کے حل کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھائے، وہاں اس کے ہاتھ بھی مضبوط کیے جائیں۔

اگر ممکن ہو تو پونچھ کی سیاسی قیادت فوری طور پر ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد کرے، متفقہ اور دوٹوک مطالبات مرتب کرے اور انہیں حکومت کے سامنے پیش کرے۔ اس طرح حکومت کو واضح سیاسی سمت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اصل فیصلہ ساز حلقوں پر بھی دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی مقامی سیاسی قیادت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ بات چیت کرکے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ اختلافات کے باوجود سیاسی قوتوں اور ایکشن کمیٹی کے درمیان رابطے کا دروازہ کھلنا چاہیے۔

موجودہ حالات میں خاموشی، لاتعلقی یا محض رسمی بیانات کافی نہیں۔ راولاکوٹ کے شہریوں کو فوری ریلیف، آزادانہ آمدورفت، تعلیم و علاج کی سہولتوں اور معمول کی زندگی کی بحالی درکار ہے۔ یہ ذمہ داری صرف ایکشن کمیٹی یا حکومت کی نہیں، بلکہ خطے کی پوری سیاسی قیادت کی ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں