مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

ریاستی رٹ کا راگ، آئین و قانون کا سوگ

شیڈول فور سے چھیڑ  چھاڑ کرتی ھوئی ایک تحریر  

خلاصہ

پاکستان اور آزاد کشمیر میں ریاستی رٹ کے نام پر آئین اور بنیادی حقوق کی مبینہ پامالیوں پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا قانون کی آڑ میں عوامی آواز کو دبایا جا رہا ہے؟ جانیے اس اہم تحریر میں۔

Summary in English

Serious questions are being raised over alleged violations of the constitution and fundamental rights in the name of the writ of the state in Pakistan and Azad Kashmir. Is the public voice being suppressed under the guise of the law? Find out in this important piece.

راولاکوٹ دھرنا
راولاکوٹ دھرنا تصویر: بشکریہ فیس بک

پاکستان  اور ڀاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ان دنوں ریاستی رٹ کا بڑا چرچا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ریاستی رٹ کوئی ایسی مقدس شے ہے جسے صبح و شام ورد کرنے سے ہی ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ کچھ حضرات تو اس کے ایسے عاشقِ زار ہیں کہ انہیں عوام کے مطالبات، شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق سے زیادہ ریاستی رٹ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ان کی گفتگو سن کر لگتا ہے کہ اگر کسی نے ریاستی رٹ کے احترام میں کھڑے ہو کر سلام نہ کیا تو شاید ریاست کا پورا ڈھانچہ ہی زمین بوس ہو جائے گا۔

مگر ایک چھوٹی سی الجھن ہے۔ ریاستی رٹ آخر ہے کیا؟

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام احتجاج نہ کریں، سوال نہ اٹھائیں، اپنے حقوق نہ مانگیں اور حکومت کے ہر فیصلے کو سر جھکا کر قبول کر لیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آئین، قانون، اسمبلی، عدالت اور جمہوریت کے یہ اضافی اخراجات آخر کس کام کے ہیں؟ ایک حکم نامہ جاری کیا جائے، عوام کو اس کی تعمیل کا پابند بنایا جائے اور ریاستی رٹ کا جشن منایا جائے!

ویسے ریاستی رٹ کے ان شیدائیوں سے ایک سوال ہے: شوکت نواز کو دن دہاڑے گرفتار کرنے کے بعد آج تک کسی مجاز عدالت یا جج کے سامنے پیش نہ کرنے پر آپ کی ریاستی رٹ کہاں تشریف فرما ہے؟ کیا وہ بھی کسی حفاظتی تحویل میں ہے؟ یا قانون کی کتاب میں کوئی ایسا باب بھی ہے جس کے مطابق ریاست جب چاہے شہری کو اٹھا لے اور عدالت میں ڀیش کرنا اپنی صوابدید پر چھوڑ دے؟

یہ جو مبینہ طور پر دو سو کے قریب مسلح افراد کی موجودگی کی بات کی جا رہی ہے، ذرا اس کی تاریخ بھی تو کھنگالیے۔ تین سال قبل انہیں راولاکوٹ کون لایا تھا؟ کس کے حکم پر لایا گیا تھا اور ان کے پیشِ نظر مقاصد کیا تھے؟ راولاکوٹ جیسے  پُرامن شہر میں انہیں گھوڑوں پر سوار ہو کر مسلح مارچ کرنے کی اجازت کس نے دی تھی؟ یہ سب کس انتظامی حکمتِ عملی کا حصہ تھا؟ کیا اس وقت بھی ریاستی رٹ قائم کی جا رہی تھی یا ریاستی رٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا؟

اور اب ایک دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ آج یہ لوگ اچانک ایکشن کمیٹی کے کھاتے میں کیسے ڈال دیے گئے؟ کل تک اگر یہ ریاستی سرپرستی میں تھے تو آج ان کی شناخت اور وابستگی کیسے بدل گئی؟
اگر یہ افراد واقعی ریاست کے زیرِ سرپرستی یا اس کے انتظامی اختیار کے تحت موجود تھے تو پھر ان کے اقدامات کی جواب دہی سے ریاست خود کو کیسے الگ کر سکتی ہے؟

جس ایکشن کمیٹی کو آج ریاست اپنا مخالف قرار دے رہی ہے، پابندی عائد کرنے سے چند روز پہلے تک اسی کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے تھے۔ اکتوبر ۲۰۲۵ میں اسی کمیٹی کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ بھی کیا گیا۔ پھر اچانک، کسی شفاف اور قابلِ فہم قانونی جانچ پڑتال (Due Diligence) کے بغیر، اسے دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اس پابندی کو متعلقہ قانون کے تحت چیلنج بھی کیا گیا، لیکن آج تک اسی قانون میں درج طریقۂ کار کے مطابق کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا رہی۔ تو کیا یہ ریاست اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو رہی؟ اگر قانون پر عمل درآمد ریاست کی بھی ذمہ داری ہے تو پھر اس معاملے میں ریاستی رٹ کہاں ہے؟

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ شہریوں کو قانون کا پابند کیسے بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود قانون کی پابندی کیسے کرتی ہے۔

اگر آج اقوامِ متحدہ کے متعلقہ ذیلی ادارے انسانی حقوق کی صورتِ حال پر آپ سے جواب طلب کر رہے ہیں تو یہ کسی بیرونی سازش یا اچانک پیدا ہونے والی صورتِ حال کا نتیجہ نہیں، بلکہ آپ کے اپنے اقدامات اور پالیسیوں کا لازمی شاخسانہ ہے۔ ریاستوں کو اپنے طرزِ عمل کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ انسانی حقوق کے سوالات کو نظرانداز کرنے سے وہ ختم نہیں ہو جاتے، بلکہ مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔

اور صاحبان! ریاستی رٹ کوئی ایسی جادوئی چھڑی نہیں جسے لہرا کر عوام کے حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانونی تقاضوں کو غائب کر دیا جائے۔ رٹ آف دی سٹیٹ کا مطلب آئین اور قانون کی حکمرانی ھے مگر یہ حکومت، ریاست اور عوام ڀر یکساں لاگو ھوتی ھے۔

مگر ادھر  کمال کی ریاستی رٹ ہے! شہری قانون توڑ دے تو گرفتاری، تھوڑا بولے تو شیڈول فور کا وار ۔ اور ریاست قانون سے انحراف کرے تو قومی مفاد۔ عوام سڑک پر نکل آئیں تو امن و امان کا مسئلہ۔ عوام سوال کریں تو بغاوت کا شبہ، ریاست جواب نہ دے تو حکمتِ عملی!

پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر میں ’’ریاستی رٹ‘‘ کی بحالی کا مطلب محض جبر کے ذریعے کنٹرول قائم کرنا نہیں، بلکہ اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا، شہری آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا، جواب دہی کے نظام کو مؤثر بنانا اور عوامی شکایات و تحفظات کا ازالہ کرنا ہونا چاہیے۔

ریاست کی رٹ قانون سے پیدا ہوتی ہے، خوف سے نہیں۔ ریاست شہریوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے، ان کی خاموشی سے نہیں۔ رٹ قانون کے یکساں نفاذ سے ھوتی ھے جبر اور بندوق سے نھیں ۔

کچھ لوگوں کو شاید یہ غلط فہمی بھی ہے کہ ریاست کا احترام اور ریاستی اقدامات پر تنقید ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حالانکہ ریاست سے سوال کرنا شہری کا حق ہے اور ریاست کا جواب دینا بھی اس کی ذمہ داری۔ لیکن ہمارے ہاں تو سوال کرنے والے کو پہلے مشکوک قرار دیا جاتا ہے، پھر اس کی حب الوطنی کا امتحان لیا جاتا ہے اور آخر میں اسے ریاستی رٹ کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔

ایک مشورہ ہے: ریاستی رٹ کے لیے اتنی فکر کرنے کے بجائے ذرا قانون اور آئین کی رٹ کے لیے بھی آواز بلند کر لیا کریں۔ اس سے ریاست کو بھی فائدہ ہو گا اور عوام کو بھی۔ ورنہ خدشہ ہے کہ ایک دن ریاستی رٹ تو بہت بلند آواز میں موجود ہوگی، مگر اس کے نیچے  قانون، انصاف اور شہری حقوق سب دفن ہو چکے ہوں گے۔

شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر اس حق کی آڑ میں راستے بند کرنے، یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں۔ بلاشبہ ریاست کے ھر شھری کو آئین اور قانون کے سامنے سرینڈر کرنا چاھیے ۔مگر  کیا ریاست و حکومت خود ایسا کر رھی ھے ؟

ریاست کو بھی اپنی رٹ آئین اور قانون کے تحت قائم کرنے کا حق حاصل ہے، مگر اس سے پہلے اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ خود قانون اور آئین کے تابع ہے۔

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ شہریوں کو قانون کا پابند کیسے بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود قانون کی پابندی کیسے کرتی ہے۔ کیونکہ جہاں شہری قانون کے تابع ہوں اور ریاست , حکومت اور حکمران مستثنیٰ، وہاں قانون کی حکمرانی نہیں، طاقت کا راج ھوتا ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں