مواد پر جائیں

آزاد کشمیر · رائے

صبح کی سوچ 

حالات کے بطن سے جنم لینے والی تحریکیں

خلاصہ
Summary in English

The Awami Action Committee arose from deep-seated public grievances rather than a political vacuum. Authorities cannot crush widespread unrest through force alone. Read why addressing root causes is now urgent.

صبح کی سوچ 

صبح کی سوچ 

حالات کے بطن سے جنم لینے والی تحریکیں

 ایک بات حکمرانوں، اربابِ اختیار اور ان کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرنے والے فرمانبرداروں کو مزید احمقانہ فیصلے کرنے سے پہلے اپنے اذہان کی دہلیز پر ضرور لکھ لینی چاہیے کہ عوامی ایکشن کمیٹی حالات کی خالق نہیں تھی، بلکہ حالات کے بطن سے جنم لینے والی ایک حقیقت تھی۔ یہ کمیٹی کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی تھی؛ اس کے وجود کے پیچھے محرومیاں، ناانصافیاں، احساسِ بے بسی اور وہ اجتماعی اضطراب کارفرما تھا جسے مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا۔ گویا عوامی ایکشن کمیٹی ان حالات کا بچہ تھی جنہیں وقت کے حکمرانوں نے خود اپنے طرزِ حکمرانی سے جنم دیا تھا۔ اب اس بچے کی پیدائش کے ابتدائی نقوش کیا تھے، اس کی نشوونما کن مراحل سے گزری، اور بالخصوص ایک وسیع تر، مشترکہ اور جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت اختیار کرنے کے بعد اس نے کون سی فکری، سیاسی اور عملی راہیں اپنائیں—یہ سب سوالات یقیناً سنجیدہ علمی و سیاسی مباحث کے متقاضی ہیں۔ کسی تحریک سے اختلاف کرنا، اس کی حکمتِ عملی پر تنقید کرنا اور اس کے فیصلوں کا تجزیہ کرنا زندہ معاشروں کی فکری صحت کی علامت ہے۔ لیکن کسی تحریک کی سیاسی و عملی تشکیل پر سوال اٹھانے اور اس کے وجود کو بزورِ قوت مٹانے کی خواہش پالنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ اسباب کو ختم کیے بغیر ان کے نتائج کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، اجتماع کو منتشر کیا جا سکتا ہے اور بظاہر کسی تحریک کے تنظیمی ڈھانچے کو توڑا بھی جا سکتا ہے؛ لیکن وہ حالات، وہ محرومیاں اور وہ احساسات جنہوں نے لوگوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا ہو، انہیں نہ قانون کی طاقت سے مٹایا جا سکتا ہے، نہ بندوق کی نالی سے۔ اگر زمین میں اضطراب کے بیج باقی ہوں تو کسی ایک شاخ کو کاٹ دینے سے موسم تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اور پھر میاں محمد بخشؒ کی اس فکری و روحانی روایت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جس میں بظاہر کمزور مخلوق کے لیے بھی قدرت کی حفاظت کے ایسے امکانات موجود ہیں جو طاقت ور سے طاقت ور نگاہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتے۔ آج کی بے بس دکھائی دینے والی فاختہ کل کس صورت میں تاریخ کے افق پر نمودار ہو، یہ فیصلہ ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وقت کی خاموش گردش وہ کچھ کر دکھاتی ہے جس کا اندازہ نہ باز کو ہوتا ہے، نہ شکاری کو۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ باز اور شکاری کا یہ کھیل ختم کیا جائے۔ اقتدار کی نشست سے ضد، انا اور تصادم کی وہ علامتیں ہٹائی جائیں جو مسائل کو سلجھانے کے بجائے انہیں مزید الجھاتی ہیں۔ باز کو بھی واپس اس کی جگہ پر بٹھایا جائے اور شکاری کو بھی اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا موقع دیا جائے۔ اس کے بجائے نگاہ اس اصل مسئلے کی طرف مبذول کی جائے جو اس سارے تنازعے کے پس منظر میں موجود ہے۔ کیونکہ خطرہ ہمیشہ سامنے دکھائی دینے والے پرندے سے نہیں ہوتا؛ کبھی وہ سانپ ہوتا ہے جو خاموشی سے جڑوں میں سرایت کر رہا ہوتا ہے، اور جسے نظرانداز کرنے والے بالآخر اپنی ہی غفلت کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، جب حکمران علامتوں کو اصل مسئلہ سمجھ بیٹھیں تو مسائل حل نہیں ہوتے، صرف اپنی صورت بدلتے ہیں۔ اگر اصل اسباب کو پہچاننے کے بجائے ساری توانائی ان لوگوں کو شکست دینے پر صرف کر دی جائے جو ان اسباب کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں، تو انجام کسی ایک فریق کی فتح نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی شکست بھی ہو سکتا ہے۔ اور جہاں تک کوہِ گراں کی بات ہے، اسے اپنی جگہ قائم رہنا ہے۔ وقت کے طوفان آتے ہیں، اقتدار کے موسم بدلتے ہیں، باز اڑتے ہیں، شکاری تھکتے ہیں اور تخت و تاج تاریخ کے حوالے ہو جاتے ہیں؛ مگر پہاڑ اپنی جگہ رہتے ہیں۔ یہ کائنات کسی فرد، کسی منصب یا کسی عارضی طاقت کی خواہش کے مطابق نہیں، اپنے خالق کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق چلتی ہے۔ سو، اے اربابِ اختیار! تصادم کی آگ کو مزید ہوا دینے سے پہلے لمحہ بھر ٹھہریے، اپنے فیصلوں کے نتائج پر غور کیجیے اور حالات کے ظاہر سے آگے بڑھ کر ان کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ کیونکہ طاقت کا کمال کسی آواز کو خاموش کر دینا نہیں، بلکہ ان حالات کو بدل دینا ہے جو آوازوں کو جنم دیتے ہیں۔ مولا کے رنگ۔۔۔۔۔ ۔کوگی نے نوئیں نروئی ہی رہنا ھہ ۔۔۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں