وزیر اعظم آزاد کشمیر کا دورہ راولاکوٹ
جب معلوم ہوا کہ وزیراعظم صاحب نے راولاکوٹ جانا ہے تو ایک سوال بار بار ذہن میں آرہا تھا کہ آیا وہ جائیں گے بھی یا نہیں، مظفرآباد سے نکل کر جب کوہالہ پہنچیں گے تو وہ کیا فیصلہ کریں گے ؟
اسلام آباد کی طرف رخ ہوگا یا راولاکوٹ کی طرف
خیر یہ معاملہ تو حل ہوا جب یہ معلوم ہوا کہ جناب نے راولاکوٹ کو منتحب کیا ہے پھر بھی اک سوال جو مسلسل ذہن پے دستک دیے جارہا تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیوں آئے، کیا بات کرنے اور کس سے بات کرنے آئے ہیں ؟
فرانسیسی مفکر مشل فوکو کی لکھی ہوئی بات یاد آئی کہ کون بولتا ھے؟ اور
کس کا موقف معتبر قرار پاتا ہے؟ ذہن میں کئ سوال اس وقت موجود رہے جب تک ان کے نمائندوں کی طرف سے ایک ویڈیو منظر عام پے آتی
وزیراعظم صاحب کی تشریف آوری راولاکوٹ ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں ہوئی جہاں روایتی طور پر ان شاندار استقبال بھی کیا گیا۔ سلسلہ کلام کو اس دورے کی خاص گفتگو کی طرف لے کر چلتے ہیں جناب کی گفتگو سنتے ہوئے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اردو نہایت اچھی بولتے ہیں اور ذخیرہ الفاظ بھی وسیع ہے ، تاریخ کشمیر کا حوالہ بھی مظبوط تھا چند سوال بھی جاندار تھے لیکن ان سوالوں کا تعلق عوام و عوامی ذمہ داران اور سرکاری ذمہ داران
دونوں سے تھا
لیکن کلام کس سے کیا گیا حقائق کو کس حد تک جاننے کی کوشش کی گئی اور حقائق بتانے والا کون تھا ؟
راقمہ جس نتیجے پر پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ جناب کا یہ دورہ کشمیر بالخصوص راولاکوٹ کے لیے کسی طور فائدہ مند نہیں رہا ہوگا، کیونکہ چند سرکاری لوگوں کو بٹھا کر تقریر کرنے سے کچھ حاصل نہیں جناب کو پروٹوکول میں بیٹھ کر اپنی فلاسفی جھاڑنے کے بجائے عوام کا موقف سننا چاھیے تھا ۔ وہ عوام کا اعتماد بحال کرنا چاھتے تھے تو عوام کے پاس جانا چاھیے تھا عوام کی بات سننی چاھیے تھی لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا جن چند لوگوں وہ حوالہ دیتے جارہے تھے کہ ریاست کا امن بگاڑ رھے وہ چند لوگ نہیں وہ ریاست کے عوام ہیں جو اپنے حقوق مانگ رہے تھے اب ان کے حقوق میں ان کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کا حساب بھی شامل ھے
ارباب اختیار سے میری یہی التجا ہے خدارا تماش بین نہ بنو ، انفرادیت سے نکلو اور اجتماعیت کی طرف آؤ ۔
وہ اس ظلم و بربریت کا حساب مانگ رہے ہیں اور اس سلوک کے متعلق بات کررہے ھیں جو ان کے ساتھ روا رکھا گیا ،ان سوالوں کا جواب دینے جناب کو ان کے سامنے جانا چاہیے تھا اگر جواب دے سکتے تھے تو ۔۔۔۔۔۔۔
ان نمائندگان سے سوال کرتے جو عوام کو دہشت گرد ، را کا ایجنٹ بھارت سے پیسے لے کر امن تباہ کرنے کے بیانیے جاری کر رھے ہیں ان سے سوال کرتے کہ آخر کیوں ایسے بیانیے جاری کیے گئے؟ کیوں عوام میں اس قدر غصے اور نفرت کی فضا کو پروان چڑھایا گیا ؟ اس پر امن تحریک کو اس نہج پر کون لایا ؟ ایسی کونسی طاقت تھی جسکے بدلے میں اس قدر عوامی مزاحمت سامنے آئ ؟ کیوں کہ مزاحمت خود طاقت کی پیدہ کردہ ہے۔ یہ پوچھنا چاھیے تھا یہ سوال کرنا چاھیے تھا کہ عوام کو دہشت گرد را کا ایجنٹ بھارتی کرنسی لینے والے یہ بیانیے جاری کرنے والے یہ ریاست کے حد درجہ سینئیر سیاسی اپروچ رکھنے والے لوگ اپنے ان جھوٹے بیانیوں کو ثابت کرسکتے ہیں کیا؟
یہ طرف بیانہ جاری کر کے سارا قصور عوام کے کھاتے میں ڈال کر یہ نہ صرف اس تحریک کے شہدا کے خون کے ساتھ غداری ھے بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے ہر مجاہد کے ساتھ غداری ہے ۔ ریاست کے لیے اپنی کھالیں کھنچوانے والے یہ تربیت نہیں دے گئے تھے کہ اپنے انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دو ، ریاست ایسے نہیں بچ سکتی جیسے یہ بچا رہے ہیں ۔ ارباب اختیار سے میری یہی التجا ہے خدارا تماش بین نہ بنو ، انفرادیت سے نکلو اور اجتماعیت کی طرف آؤ ۔ اپنے عوام پر الزام تراشیاں مت کرو ورنہ یہ نفرت اس قدر بڑھ جائے گی یہ عوام یہ مزاحمت آپکے لیے قرآن کا "بہرے گونگے اندھے" والا حوالہ استعمال کرے گی ۔ نفرت کی ان چنگاریوں کو ہوا مت دو کہ آشیاں آپکا بھی نہ بچے ، نفرت کے اس طوفان محبت سے روکو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو یہ عوام سچ میں آپ سے بھی جینے کا حق چھین لیں ۔ کیونکہ جب مزاحمت جب طاقت کا روپ دھارتی ھے تو پھر کچھ بھی طاقت ور نہیں بچتا سب تہس نہس ہوجاتا ہے۔

تبصرے (0)