صحافی اور کالم نگار دانش ارشاد کو آزاد جموں و کشمیر کے محکمۂ داخلہ نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کر لیا ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف آزاد کشمیر میں آزادیٔ صحافت اور شہری آزادیوں سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ سرینگر اور مظفرآباد کے صحافتی بیانیوں کے درمیان موجود تضاد کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق دانش ارشاد کا نام ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں شامل کیا گیا ہے، جس میں متعدد دیگر افراد کے نام بھی درج ہیں۔ یہ کارروائی آزاد کشمیر میں جاری وسیع تر کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
فورتھ شیڈول کیا ہے؟
فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت ایسے افراد کی نگرانی کی جاتی ہے جن کے بارے میں حکام کو کسی کالعدم تنظیم یا ممنوعہ سرگرمی سے وابستگی کا شبہ ہو۔ اس فہرست میں شامل ہونے کے بعد کسی فرد کو پولیس نگرانی، نقل و حرکت کی پابندی، بیرونِ ملک سفر میں رکاوٹ اور مالیاتی نگرانی جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کسی صحافی کا نام اس فہرست میں شامل ہونا ایک غیر معمولی اور سنگین اقدام ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف قانونی معاملات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی پیشہ ورانہ ساکھ، معاشی زندگی اور شہری آزادیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
دانش ارشاد کا معاملہ
دانش ارشاد گزشتہ کئی برس سے آزاد کشمیر کی سیاست، سماج اور عوامی مسائل پر صحافتی کام کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر ٹائمز کے کالم نگار بھی ہیں اور آزاد کشمیر کی داخلی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہیں ان افراد کے ساتھ فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے جن کے بارے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کے روابط جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دانش ارشاد کے خلاف مخصوص شواہد کیا ہیں اور ان کی صحافتی سرگرمیوں کو کس بنیاد پر قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی سیاسی تحریک کی رپورٹنگ، اس کے مطالبات کو عوام تک پہنچانا یا کسی تحریک سے مبینہ ہمدردی دہشت گردی سے جوڑنے کے لیے کافی سمجھی جا سکتی ہے؟ اگر حکومت کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں شفاف قانونی کارروائی کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔
سرینگر اور مظفرآباد کا صحافتی آئینہ
ماضی میں آزاد کشمیر کے متعدد صحافتی اور سیاسی حلقے سرینگر میں صحافیوں پر عائد پابندیوں، گرفتاریوں اور اظہارِ رائے کی قدغنوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ آج سرینگر سے شائع ہونے والے کشمیر ٹائمز میں آزاد کشمیر کے ایک صحافی کے خلاف کارروائی کی خبر شائع ہونا پورے خطے کے لیے ایک معنی خیز صورتِ حال ہے۔
وقت کا پلٹا یہ ہے کہ کل تک آزاد کشمیر کے صحافی سرینگر کے صحافیوں پر عائد پابندیوں پر سوال اٹھاتے تھے، جبکہ آج سرینگر کے صحافی آزاد کشمیر کے صحافیوں کے خلاف عائد پابندیوں کی خبریں شائع کر رہے ہیں۔
آزادیٔ صحافت کا اصول جغرافیہ، سیاسی وابستگی یا ریاستی بیانیے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔
یہ منظر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں صحافت ریاستی دباؤ، قومی سلامتی کے بیانیے اور سیاسی حساسیت کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
کسی بھی ریاست میں آزادیٔ صحافت کا معیار اس بات سے طے نہیں ہونا چاہیے کہ پابندی کس فریق پر عائد ہوئی ہے۔ اگر سرینگر میں صحافیوں پر پابندی آزادیٔ صحافت کی خلاف ورزی ہے تو مظفرآباد میں کسی صحافی کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا بھی اسی اصول کے تحت قابلِ تشویش اقدام ہے۔
اختلافِ رائے اور دہشت گردی کا فرق
حکومتوں کو امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قانونی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ تاہم انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا بنیادی مقصد مسلح یا پرتشدد سرگرمیوں کا سدِباب ہے، نہ کہ پرامن سیاسی اختلاف، صحافتی تنقید یا عوامی تحریکوں کی رپورٹنگ کو محدود کرنا۔
اگر صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور احتجاجی تحریکوں سے وابستہ افراد کو ایک ہی قانونی خانے میں رکھا جائے تو اس سے قانون کے غلط استعمال کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف صحافتی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ حکومت کے اپنے مؤقف کی ساکھ بھی کمزور پڑتی ہے۔
اہم سوالات
دانش ارشاد کے معاملے میں حکومت کو چند بنیادی سوالات کا جواب دینا چاہیے:
- انہیں فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی مخصوص قانونی وجہ کیا ہے؟
- ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد کی نوعیت کیا ہے؟
- کیا انہیں پہلے نوٹس اور مؤثر سماعت کا حق دیا گیا؟
- کیا انہیں اپنے دفاع اور اپیل کا موقع فراہم کیا گیا؟
- کیا ان کی صحافتی سرگرمیوں یا سیاسی رپورٹنگ کو کارروائی کی بنیاد بنایا گیا؟
- اس پابندی کی مدت کتنی ہے اور اس کے خاتمے کا قانونی طریقہ کیا ہوگا؟
کسی فرد کو دہشت گردی سے متعلق فہرست میں شامل کرنا ایک سنگین اقدام ہے، جس کے اثرات اس کی سماجی، مالی اور پیشہ ورانہ زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے فیصلوں میں شفافیت، قانونی جواز اور مؤثر اپیل کا حق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
حکومتی مؤقف اور شفافیت
اگر حکومت سمجھتی ہے کہ دانش ارشاد یا دیگر افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے باقاعدہ قانونی عمل کے ذریعے اپنا مؤقف ثابت کرنا چاہیے۔ محض مبہم الزامات، خفیہ اطلاعات یا سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ نوٹیفکیشن کی قانونی بنیاد اور کارروائی کی وجوہات واضح کی جائیں تاکہ معاملے کو افواہوں اور سیاسی الزام تراشی کے بجائے قانون اور حقائق کی بنیاد پر پرکھا جا سکے۔
نتیجہ
دانش ارشاد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جانا صرف ایک صحافی کے خلاف انتظامی کارروائی نہیں بلکہ کشمیر میں صحافت، اختلافِ رائے اور ریاستی اختیار کے باہمی تعلق کا امتحان ہے۔
آزادیٔ صحافت کا اصول جغرافیہ، سیاسی وابستگی یا ریاستی بیانیے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سرینگر ہو یا مظفرآباد، صحافیوں پر پابندی، نگرانی یا دہشت گردی سے متعلق فہرستوں میں شمولیت کے ہر معاملے کو یکساں معیار، شفاف قانونی عمل اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت جانچا جانا چاہیے۔
وقت بدلتا رہتا ہے، مگر صحافت کا اصل امتحان یہی ہے کہ جب پابندی اپنے مخالف پر عائد ہو تو بھی آزادیٔ اظہار کا دفاع کیا جائے، اور جب وہ اپنے قریب کے صحافی تک پہنچے تو بھی خاموشی اختیار نہ کی جائے۔

تبصرے (0)