مواد پر جائیں

ای بکس

آزاد کشمیر چوراہے پر

عوامی ایکشن کمیٹی و دیگر موضوعات پر مضامین — شمس رحمان

خلاصہ

شمس رحمان کی کتاب 'آزاد کشمیر چوراہے پر' خطے کی بدلتی مزاحمتی سیاست اور تاریخی تناظر کا احاطہ کرتی ہے۔ وادی میں آزاد کشمیر کا پرچم لہرانے کے فکری اسباب جاننے کے لیے ضرور پڑھیں۔

Summary in English

Shams Rehman's book 'Azad Kashmir at the Crossroads' covers the region's changing politics of resistance and its historical context. It is a must-read to understand the ideological reasons behind hoisting the Azad Kashmir flag in the Valley.

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدائے بزرگ و برتر کے نام سے جو بڑا رحیم بہت مہربان ہے

انتساب

ان تمام مزاحمت کاروں کے نام جنہوں نے مختلف شکلوں میں
جبر واستبداد، استحصال، غلامی، اقربا پروری، ریا کاری اور
فرسودگی کے خلاف دامے، درمے، سخنے جدوجہد کی اور
معاشرے میں شعور اور آگہی کے چراغ جلانے کے لیے اپنی
زندگیاں وقف کیں جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں

نام کتاب : آزاد کشمیر چوراہے پر

مصنف : شمس رحمان

کمپوزنگ : شمس رحمان

ناشر : عوامی اشاعت گھر میرپور آزاد جموں کشمیر

اشاعت کا سال : 2025

قیمت : 500 روپیہ

دیباچہ

یہ کتاب گزشتہ کوئی ایک دہائی کے دوران لکھے جانے والے مختلف کالموں اور مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں آزاد جموں کشمیر اور کشمیر مسئلے کے مختلف پہلوؤں، عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک، مقبول بٹ شہید کی زندگی، سیاست و نظریات، افضل گورو کا تہاڑ جیل سے انٹرویو، امان اللہ خان اور نذیر انجم پر تعزیتی کالمز اور مذہبی و صوفی عشق و فرقہ واریت کے علاوہ کچھ متفرق مضامین شامل ہیں۔

تقریباً سب ہی مضامین اس وقت کی صورت حال سے تحریک پا کر لکھے گئے ہیں۔ جو اس وقت میری سوچ و فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ موضوعات شاید اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں سوائے عوامی ایکشن کمیٹی پر مضامین کے جو کہ ہم عصر حالات کا احاطہ کرتے ہیں۔ مضامین کی اشاعت درحقیقت اپنے کالموں کا ریکارڈ عام کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ تاہم ان میں سے اکثر مضامین کی اہمیت یہ بھی ہے کہ ان میں تاریخی پس منظر و تناظر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ موضوع سے متعلق ایک یا دو نقاط کو واضح کر کے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس مسئلے یا معاملے پر شعور حاصل کرنے کے لیے مفید سمجھے گئے۔ چند مضامین میں چند بنیادی باتیں اور مشاہدات بار بار نظر آتے ہیں جو امید ہے کہ قارئین برداشت کر سکیں گے۔

آزاد کشمیر تصور اور حکومت

وادی کشمیر میں پہلی بار عوامی احتجاجوں میں آزاد کشمیر کے پرچم لہرانے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ آج تک وادی میں الحاق پاکستان اور خود مختار کشمیر کے نعروں اور پرچموں کے ذریعے بھارتی قبضے کے خلاف جذبات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے ردعمل میں جس تازہ ترین عوامی ابھار نے وادی کو ایک بار پھر مجسم مزاحمت بنا ڈالا اس میں بھی پاکستانی پرچم لہرائے گئے جن کو حسب معمول بھارت نے تحریک کو پاکستانی رنگ دے کر عالمی دہشت گردی سے جوڑ کر قتل عام کو جواز بخشنے کی کوشش کی اور پاکستان نے اس کو الحاق پاکستان کے نعرے اور آزاد کشمیر پر اپنی گرفت کو تقویت پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔ اس تناظر میں اب آزاد کشمیر کے پرچم لہرانا تحریک کی سیاست میں ایک انتہائی اہم تبدیلی نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں اس تبدیلی کے دو اہم ترین پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ پہلی بار وادی میں کھلے عام آزاد کشمیر کو تسلیم کیا گیا ہے اور آر پار آزادی کی جدوجہد کے درمیان ایک سیاسی تعلق پیدا ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر کا قیام ایک بار پھر مزاحمتی تحریک کی منزل قرار پا رہا ہے۔

تاہم بظاہر یہ عجیب بات لگتی ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی اپنی اسمبلی اور اس اسمبلی کا اپنا پرچم بھی موجود ہے۔ پھر اس اسمبلی کا پرچم کیوں نہیں لہرایا گیا؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ موجودہ تحریک جو 1987 میں شروع ہوئی تھی اس کی بنیادی وجہ مسلم متحدہ محاذ کو اس اسمبلی سے باہر رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر کی جانے والی دھاندلی تھی۔ اس دھاندلی کے خلاف محاذ نے احتجاج کیے تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ تب اچانک مظاہروں میں بندوق بھی در آئی اور تحریک نے مسلح تحریک کا روپ دھار لیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بندوق پاکستان سے آئی تھی بذریعہ جے کے ایل ایف اور جماعت اسلامی۔ اور متحدہ مسلم محاذ چونکہ ان مختلف تنظیموں اور گروپوں پر مشتمل تھا جو بنیادی طور پر کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف تھے اور تحریک مزاحمت اب بھی بنیادی طور پر بھارتی قبضے کے خلاف ہے اس لیے اس میں اس اسمبلی کے پرچم لہرانے کی توقع نہیں کی جاسکتی جس کو مزاحمتی تحریک بھارتی کٹھ پتلی سمجھتی ہے۔ لیکن کیا آزاد کشمیر کے پرچم لہرانے کا مقصد یہ ہے کہ وادی کشمیر کی مزاحمتی تحریک نے آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت کو اپنی منزل مان لیا ہے؟ کچھ لوگ شاید یہی سمجھیں اور کہیں گے۔ لیکن گذشتہ تیس سالوں سے وادی کی صورت حال کو قریب سے دیکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ وادی کشمیر میں مزاحمتی تحریک کے قائدین اور خاص طور سے وہ نوجوان جو ”آزاد“ کشمیر میں رہ کر واپس گئے ہیں اور وہ جو سوشل میڈیا یا کتب کے ذریعے آزاد کشمیر کے حالات سے واقف ہیں وہ آزاد کشمیر کی بے اختیاری اور بے بسی سے آگاہ نہیں ہیں۔ بلکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے ایک رکن نے ایک بار بتایا تھا کہ بے شک ہماری اسمبلی کٹھ پتلی ہے اور ہم کشمیری سیاستدان بھارتی فوج اور ایجنسیوں کے ماتحت ہیں۔ لیکن ہمیں کم از کم جنرل لیول کے بھارتی فوجی کنٹرول کرتے ہیں آپ کے ہاں تو میجر بھی بھاری ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا نہیں ہے کہ آزاد کشمیر کے پرچم لہرانے کا مطلب آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت یا اسمبلی کو ماننے کے مترادف ہے۔ درحقیقت آزاد کشمیر کے پرچم وادی میں لہرائے جانے کا مطلب میرے خیال میں آزاد کشمیر کے حقیقی تصور کے دوبارہ جنم لینے کی علامت ہے۔

اس مضمون میں آزاد کشمیر کے تصور کو تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت اور آزاد کشمیر کی تحریک کے فرق کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ وادی کشمیر کے عوام جو آگ اور خون کے دریا میں گرے ہوئے ہیں ان کو اپنی سیاسی جدوجہد کو واضح سمت دینے میں مدد مل سکے۔

آزادکشمیر کا تصور:

آزادکشمیر کا نعرہ پہلی بار 12 مئی 1946 کو ضلع اننت ناگ کے گاوں کعبہ مرگ میں مزدور کسان کانفرنس نے اپنے ایک عوامی اجتماع میں بلند کیا تھا۔ درحقیقت پنڈال میں داخلے کے مختلف دروازوں میں سے ایک کا نام ’’آزادکشمیر‘‘ تھا۔ مزدور کسان کانفرنس اور آزادکشمیر کے تصور کے بانیان عبدالسلام یتو اور پنڈت پریم ناتھ بزاز تھے۔ اس اجتماع میں آزادکشمیر کی ریاست کے معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی پروگرام پر مختصر بحث کے بعد پنڈت پریم ناتھ بزاز کو وضاحت کے ساتھ جماعت کا پروگرام/ منشور تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تاہم بقول ان کے ہندوستان کی تقسیم اور کشمیر میں حریت کی تحریک شروع ہو جانے اور اپنی تین سالہ نظر بندی کے باعث وہ یہ ذمہ داری پوری نہ کر سکے۔ یاد رہے کہ مزدور کسان کانفرنس کے تصور آزادی میں بادشاہت کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ (پنڈت پریم ناتھ بزاز آزادکشمیر‘ ایک جمہوری سوشلسٹ تصور)

آزادکشمیر کے تصور کی پیدائش جس سیاسی تناظر میں ہوئی تھی اس کو سمجھنا بھی آج کی مزاحمتی سیاست کی قیادت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

1944 میں سردار بدھ سنگھ کی سربراہی نیشنل کانفرنس نے ’’نیا کشمیر‘‘ کے نام سے جو منشور پیش کیا اس میں پہلی بار واضح طور بلا امتیاز صنف اور رنگ ونسل ریاست کے تمام باشندوں کے بنیادی معاشی، تعلیمی اور ثقافتی حقوق اور زبانوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن اپریل 1946 میں جب شیخ عبداللہ دوبارہ نیشنل کانفرنس کے سربراہ منتخب ہو چکے تھے انہوں نے جو یاداشت کیبنٹ مشن کو پیش کی اس میں نیا کشمیر کو ایک طرف رکھ کر انہوں نے کشمیر کا جو تصور پیش کیا وہ ایک ایسے جغرافیائی خطے کا تصور تھا جس کی ایک زبان اور ایک ثقافت تھی۔ یعنی شیخ صاحب نے بقول پنڈت کشپ بندھو جماعت کے سرکردہ لوگوں خاص طور سے غیر مسلم قائدین سے کسی قسم کے مشورے کے بغیر جماعت کے موقف میں اس قدر بنیادی تبدیلی کردی (یوسف صراف کشمیر فائٹس فار فریڈم ، صفحہ 672)۔ ایک ثقافت اور ایک زبان کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر صرف کاشر زبان اور ثقافت تک محدود تھا۔ اس میں سے ریاست کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی میں غیر کاشری کشمیریوں کو بھی نکال باہر کر دیا گیا تھا۔ میرے خیال میں یہ ریاست جموں کشمیر میں کشمیر کے عوامی، جمہوری اور قومی تصور کے گرد پروان چڑھنے والی سیاست سے انحراف تھا جس نے ریاست کی سیاست کا رخ تقسیم کی طرف موڑ دیا۔ تاہم یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہاں اس کا تعلق یہ بنتا ہے کہ جب مزدور کسان کانفرنس نے آزاد کشمیر کا تصور پیش کیا تو ریاست کی اس وقت سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس ”کشمیر چھوڑ دو“ تحریک برپا کر کے ریاست کی سیاست کو وادی تک محدود کرنے کی راہ پر آگے بڑھ چکی تھی۔

مسلم کانفرنس جو ریاست کی اس وقت دوسری بڑی جماعت اور وادی کے کچھ علاقوں کو چھوڑ کر جموں کے مسلمانوں میں زیادہ مقبول تھی بقول یوسف صراف مسلم کانفرنس نے کشمیر چھوڑ دو تحریک میں بحیثیت جماعت تو حصہ نہ لیا تاہم وادی کی سیاست سے الگ تھلگ ہونے سے بچنے کے لیے اس کے صدر چوہدری غلام عباس اور سیکرٹری اللہ رکھا ساگر نے بھی گرفتاری پیش کی اور جیل میں چلے گئے۔

اس موقع پر ریاست کے مستقبل کے حوالے سے مسلم کانفرنس بھی الحاق کی بجائے ریاست کی خود مختاری کے حق میں تھی۔ اس کے قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ نے 28 مئی 1946 کو ایک پریس کانفرنس میں ریاست کے مستقبل کے حوالے سے جماعت کا موقف واضح کیا جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے:

الحاق پاکستان ریاست کے ہندوؤں اور الحاق ہندوستان ریاست کے مسلمانوں کے حق میں نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ کسی تنازعے میں نہیں پڑیں گے۔ ہماری منزل ریاست کی خود مختاری ہے۔ جہاں تک مہاراجہ کا تعلق ہے تو وہ آئینی سربراہ رہے گا جس طرح کہ کئی دوسرے ممالک میں ہے۔ یہ حل کہیں باہر سے نہیں آیا بلکہ پوری ایمانداری اور خلوص سے ہم نے خود اپنے مقامی حالات کی روشنی میں یہ حل نکالا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم پاکستان اور ہندوستان سے الگ رہیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم دونوں سے دوستانہ معاشی اور سیاسی تعلقات رکھیں گے لیکن ہم ایک یا دوسرے کے اثر میں نہیں آئیں گے۔ (صراف صفحات 707-708)

مزدور کسان کانفرنس کی طرف سے آزاد کشمیر کا تصور پیش کیے جانے کے کوئی اڑھائی ماہ بعد مسلم کانفرنس نے آزاد کشمیر کے تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے 26 جولائی 1946 کو سری نگر میں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی میں ”قراردادِ آزاد کشمیر“ منظور کی جس کی توثیق 27 جولائی کو کارکنان کے کنونشن میں کی گئی۔ مسلم کانفرنس کی قرارداد کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ریاست کی موجود اسمبلی کی جگہ باقاعدہ آئینی اسمبلی قائم کی جائے جو آزاد کشمیر کا آئین تیار کرے اور جس میں ریاست کی تمام ’اقوام‘ اور کمیونٹیوں کو ان کی آبادی کی مناسبت سے متناسب نمائندگی حاصل ہو۔

تاہم جب کشمیر چھوڑ دو تحریک زور پکڑ گئی اور مہاراجہ سرکار بھی جبر اور پکڑ دھکڑ پر اتر آئی تو مسلم کانفرنس کے چوہدری حمید اللہ جنہوں نے چند ماہ قبل مسلم لیگ یا کانگریس کے اثر کے بغیر ریاست کو الگ رکھنے کا عزم کیا تھا صلاح مشورے کے لیے جماعت کے قائم مقام سیکرٹری پروفیسر اسحاق قریشی کو ساتھ لے کر قائد اعظم کے پاس تشریف لے گئے۔ پروفیسر اسحاق قریشی نے 11 جولائی 1947 کو قائد اعظم کے ساتھ اپنی اس تاریخی ملاقات کی تفصیلات تفصیلی انٹرویو میں وفات سے چند سال قبل برطانیہ کے شہر اولڈہم میں بتائیں جس کی توثیق یوسف صراف نے بھی ”کشمیر فائٹس فار فریڈم“ میں کی ہے۔ پروفیسر اسحاق قریشی اس ملاقات میں قائد اعظم نے کشمیری لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیر چھوڑ دو تحریک سے دور رہیں اور کشمیر کو خودمختار رکھنے میں مہاراجہ کا ساتھ دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسلم لیگ کی ریاستوں کے بارے میں پالیسی کی وضاحت پر مبنی ایک پریس ریلیز بھی س وقت روزنامہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے لیے دی جس میں انہوں نے مسلم لیگ کے اس موقف کو دہرایا کہ ریاستیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں اور اگر چاہیں تو آزاد و خود مختار بھی رہ سکتی ہیں۔ واپس کشمیر میں آ کر مسلم کانفرنس کے دونوں مرکزی رہنماؤں نے 18 جولائی کو جماعت کی سنٹرل کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں خود مختار کشمیر کی قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ دوسرے دن کارکنان کے کنونشن میں اس قرارداد کی توثیق کی جانا تھی لیکن بقول یوسف صراف انہوں نے اور وادی کے کچھ اور رہنماوں نے سو کے قریب حاضرین جن میں سے زیادہ تر کا تعلق وادی سے تھا کو الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کے لیے قائل کر لیا اور الحاق پاکستان کی قرارداد منظور ہو گئی۔

قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد سے مسلم کانفرنس کی تاریخ درحقیقت ”آزاد کشمیر“ اور ”الحاق پاکستان“ کے حامیوں کے درمیان کشمکش کی تاریخ ہے۔ اور بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ یہ کشمکش مسلم لیگ کے اندر کشمیر کی آزادی اور کشمیر کو فتح کرنے والی قوتوں کے درمیان کشمکش کا پرتو تھی۔ اس کی تفصیلات پھر کبھی۔

آزاد کشمیر حکومت:

جب پاکستان اور ہندوستان کی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس انڈین کے سائے تلے اپنا کشمیر قائم کرنا چاہتی ہے اور انگریز بھی خودمختار کشمیر کے حق میں نہیں ہیں تو مسلم کانفرنس کی قیادت بھی متبادل راستوں کی تلاش میں چل پڑی۔ آزاد کشمیر کے قیام کے ان نئے راستوں پر سردار محمد ابراہیم مرکزی کردار بن کر سامنے آتے ہیں۔ 22 اگست 1947 کو وہ کچھ اہم پاکستانی اور کشمیری شخصیات جن میں فیض احمد فیض، چوہدری حمید اللہ اور سردار آغا شوکت علی شامل تھے کی ہدایات پر راجہ عبدالحمید خان کے ساتھ پاکستان روانہ ہوئے۔ یہاں آ کر بہت سی کوششوں اور سفارشوں کے باوجود قائد اعظم سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ تاہم ایک دن سر راہ ان کی ملاقات مسلم لیگ پنجاب کے صدر اور روزنامہ پاکستان ٹائمز کے مالک میاں افتخار الدین سے ہو گئی۔ چند دن بعد میاں صاحب سردار ابراہیم کو کرنل اکبر خان، نواب ممدوٹ اور خان قیوم کے پاس مری میں لے گئے۔

22 ستمبر کی 1947 شام چھ بجے ایک انتہائی اہم اجلاس گورنر ہاوس لاہور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان نے۔ دیگر شرکاء میں غلام محمد وزیر مالیات، میاں افتخار الدین، مسٹر زمانی کیانی، سردار شوکت حیات خان، نواب آف ممدوٹ، چوہدری محمد علی، مسٹر خورشید انور اور کرنل اکبر خان اور چوہدری حمید اللہ شامل تھے۔ پروفیسر اسحاق قریشی کے مطابق انہیں اور چوہدری حمید اللہ کو پاکستانی خفیہ اداروں کے دو لوگ کشمیر سے لے کر آئے تھے لیکن لاہور کے اس اجلاس میں شرکت کا شرف صرف چوہدری حمید اللہ کو حاصل ہوا اور پروفیسر اسحاق کو باہر بٹھا دیا گیا۔ بقول پروفیسر قریشی چوہدری حمید اللہ نے بتایا کہ اجلاس میں کشمیر کو آزاد کروانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس منصوبے سے چوہدری غلام عباس کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ”اعلان آزادی“ تیار کرنے کے لیے میاں افتخار الدین کی سربراہی میں فیض احمد فیض، میاں بشیر الدین اور چوہدری حمید اللہ پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ آزادی منصوبے کے تین پہلو تھے۔ پہلا پونچھ میں مسلح جتھے تیار کرنا جو سری نگر کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ دوسرا وادی میں زیر زمین تحریک منظم کرنا جو مناسب وقت پر انقلاب برپا کرے گی۔ تیسرے کٹھوعہ۔ جموں روڈ سے ہندوستانی مدد کو روکنے کے لیے کاروائیاں کرنا۔ اس میں کہیں قبائلیوں کی مداخلت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس کی تصدیق کشمیر کے معروف دانشور یوسف ٹینگ کے ساتھ فیض احمد فیض کی اس گفتگو سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے ”فیض احمد فیض، ایلس اور کشمیر“ کے عنوان سے اس وقت ہفت روزہ اور اب روز نامہ ”چٹان“ میں شائع کی تھی۔ فیض کے بقول قبائلی جارحیت کا اقدام لیاقت علی خان اور خان قیوم نے کیا۔

یوسف صراف آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے اس وقت کے ایک جج سردار محمد شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مقامی بغاوت کے ساتھ ساتھ قبائلی مداخلت کا فیصلہ ستمبر کے آخر میں مری کے فئیر ویو ہوٹل میں منعقدہ اجلاس میں ہوا تھا جس کے شرکاء میں سردار ابراہیم، میجر خورشید انور، بیگم نسیم اکبر اور سردار شریف شامل تھے۔ سردار شریف کے مطابق حملے کا دن 6 اکتوبر تھا جبکہ سردار ابراہیم کے خیال میں یہ دن 22 اکتوبر تھا۔ بقول یوسف صراف شاید کہیں کوئی غلط فہمی تھی لیکن کیا یہ صورت حال درحقیقت پاکستانی حکمران طبقات میں کشمیر کے معاملے پر دھڑے بندی کی عکاس نہیں تھی جس کی طرف فیض احمد فیض نے بھی اپنے مذکورہ انٹرویو میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکمران دو نقطہ ہائے نظر میں بٹ گئے تھے مگر کشمیر کے حالات کا رخ قیوم خان نے متعین کیا؟ یعنی ایک دھڑا اس تحریک کو کشمیریوں کی اندرونی تحریک کے طور پر حمایت کرنا چاہتا تھا اور جس کا مقصد کشمیر کی آزادی تھا جب کہ دوسرا کشمیر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ قائد اعظم کا اعتماد کسی بھی دھڑے کو حاصل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پروفیسر اسحاق قریشی اور چوہدری حمید اللہ خان کشمیر پر حملے کے بعد کراچی میں قائد اعظم سے ملے تو انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ میں نے تم لوگوں کو کیا صلاح دی تھی اور تم نے کیا کر دیا؟ اس پر بقول پروفیسر قریشی ہم نے جب قائد اعظم کو تفصیلات بتائیں کہ کیسے ہم کو پاکستان لایا گیا اور گورنر ہاؤس کے اجلاس میں کیا پلان پیش کیا گیا اور چوہدری حمید اللہ نے بتایا کہ اس اجلاس میں انہوں نے شرکاء کو بتایا تھا کہ قائد اعظم نے ہمیں کیا ہدایات جاری کی تھیں تو ان سے کہا گیا کہ قائد اعظم کی آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر قائد اعظم نے دونوں کشمیریوں کو ایک تحریری رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا جو انہوں نے فوری طور پر تیار کر کے دی لیکن قائد اعظم کی صحت بگڑ گئی اور ایک دن لیاقت علی خان نے دونوں کشمیری لیڈروں کو بلایا تو وہاں وہ رپورٹ لیاقت علی خان کے سرہانے رکھی تھی اور لیاقت علی خان نے کہا کہ بابا بہت بیمار ہے اس لیے اس کو تنگ کرنے کی ضرورت نہیں اب سارے معاملات وہ سنبھال رہے تھے اس لیے ہمیں بھی ضرورت پڑے تو ان ہی سے رابطہ رکھنا چاہیے۔

اس تناظر میں 4 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر کی پہلی جمہوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا اور اس کی خبر 8 اکتوبر کے ملٹری گزٹ میں شائع ہوئی۔ میرے خیال میں اس حکومت کو پاکستان کے اس دھڑے کی پشت پناہی حاصل تھی جو کشمیر کی آزادی کا مخالف نہیں تھا اور اس کے اعلان میں الحاق کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس کے صدر غلام نبی گلکار اور وزیر اعظم سردار ابراہیم خان تھے۔ گلکار صاحب 8 اکتوبر کو وادی کشمیر چلے گئے اور شیخ عبداللہ سے ملاقات کر کے انہیں آزاد کشمیر تحریک کا حصہ بننے کی دعوت دی لیکن ملاقات کے بعد انہیں مہاراجہ حکومت نے گرفتار کر لیا۔ جبکہ ادھر 20 اکتوبر کو قبائلی داخل کر دیے گئے اور 24 اکتوبر کو آزاد کشمیر کی دوسری حکومت کا اعلان کر دیا گیا جس کا صدر سردار ابراہیم خان کو راول پنڈی کے کمشنر اور بیگم نسیم اکبر نے آدھی رات کے وقت جگا کر بنا دیا۔ اس حکومت کے اعلان سے آزادی کو نکال کر اس کو پاکستان کی کٹھ پتلی بنا دیا گیا تھا۔ سردار ابراہیم جانے انجانے میں آزادی کی گاڑی چھوڑ کر اقتدار کے لیے پاکستان کی بس میں سوار ہو گئے۔

اس کے بعد مہاراجہ نے ہندوستان سے مدد مانگی جس کے لیے ہندوستان نے الحاق کی شرط رکھی اور الحاق کے بعد (جس کی دستاویز پر تنازعہ موجود ہے) ہندوستان نے اپنی فوجیں بھیج دیں اور پاکستان نے اپنی اور کشمیر کی ریاست بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان جنگ کا میدان بن گیا۔

آزاد کشمیر کی نئی حکومت عملی طور پر پاکستان میں کشمیر کو فتح کرنے والی قوتوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئی۔ سردار ابراہیم کو اقوام متحدہ میں لے جایا گیا لیکن تقریر نہ کرنے دی گئی بلکہ ان کی جگہ مشتاق گورمانی نے سردار ابراہیم بن کر تقریر کی۔ اسی مشتاق گورمانی نے سردار ابراہیم کی موجودگی میں گلگت بلتستان کے علاقے جو وہاں کے عوام نے آزاد کشمیر کے پرچم تلے ہی مہاراجہ سے آزاد کروائے تھے پاکستان کے انتظام میں دے دیے اور سردار ابراہیم اپنی کمزور حیثیت کہ وجہ سے زہر کے گھونٹ پی کر حکومت کرتے رہے۔ مرنے سے پہلے انہوں نے خود اپنی زبانی یہ کہانی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کے نوجوانوں کو سنائی۔ درحقیقت آزاد کشمیر کو کشمیر کونسل اور وزارت امور کشمیر اور چیف سیکرٹری کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر حکومت اور اس کے تشخص کو نئی زندگی اس وقت ملی جب خورشید حسن خورشید اس کے صدر بنے۔ انہوں نے ایک طرف پاکستان سے آزاد کشمیر کو تسلیم کر کے دوست ممالک سے تسلیم کروانے کی تجویز پیش کی اور دوسری طرف اس کا نام آزاد کشمیر سے بدل کر آزاد جموں وکشمیر حکومت رکھا۔ لیکن پاکستان کی طرف سے کے ایچ خورشید کے نظریہ آزاد کشمیر کو تسلیم کرنے کی بجائے ان سے اقتدار واپس لے کر مسلم کانفرنس کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار عبدالقیوم نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کے ذریعے ایک طرف حکومت حاصل کی اور قائم رکھی اور دوسری طرف آزاد کشمیر کی منفرد حیثیت اور تشخص کو بھی قائم رکھا۔ جس پر سب سے طاقتور شب خون ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 میں اس کو صوبہ بنانے کی کوشش کر کے مارا لیکن سردار عبدالقیوم اور آزادی پسند کشمیریوں نے ایک ہو کر اس کو ناکام بنا دیا۔ تاہم وہ غیر ریاستی جماعت پیپلز پارٹی کے آزاد کشمیر میں قیام کو نہ روک سکے۔

خودمختار کشمیر کی سیاست اور آزاد کشمیر:

ستر کی دہائی تک آزاد کشمیر میں خود مختار کشمیر کی سیاست بھی ایک مسلمہ حقیقت بن چکی تھی۔ اس کا آغاز تو تقسیم کشمیر کے فوری بعد عبدالخالق انصاری کی قیادت میں ہو چکا تھا لیکن منگلا ڈیم کی تعمیر تک یہ میر پور میں انصاری برادری تک محدود تھی۔ منگلا ڈیم کے خلاف مزاحمتی تحریک جو کہ میر پور کے تمام عوام کی تحریک تھی کے دوران عبدالخالق انصاری نے جہاں اپنی ثابت قدمی سے میر پور کے عوام میں اپنی ساکھ قائم کی وہاں خود مختار کشمیر کے نظریے کو بھی لوگوں تک پہنچایا۔ 1965 میں سوچیت گڑھ کے مقام پر بھارتی مقبوضہ کشمیر کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر جب محاذ رائے شماری کے نئے عہدیداروں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تو وہاں پاکستان کے اندر خود مختار کشمیر کے لیے امان اللہ خان کی قیادت میں برسر پیکار کشمیری بھی اس دھارے میں شامل ہو گئے۔ یہاں محاذ کے صدر عبدالخالق انصاری جب کہ سیکرٹری جنرل امان اللہ خان اور پبلسٹی سیکرٹری مقبول بٹ منتخب ہوئے۔ اس وقت تک میر پور میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی شکل میں تعلیمی اداروں کے اندر بھی خود مختاری کی آواز ایک بھر پور وقت بن کر سامنے آئی۔ نیشنل لبریشن فرنٹ کے قیام کی شکل میں مسلح جدوجہد کا عنصر بھی تحریک میں شامل ہو گیا اور مقبول بٹ کی بھارتی مقبوضہ علاقے میں گرفتاری، گلگت کے اورنگ زیب کی شہادت اور مقبول بٹ کو پھانسی کی سزا، جیل سے فرار اور گنگا کا اغواء اور این ایل ایف کے قائدین پر مقدمات ایسے پے در پے واقعات تھے جنہوں نے خود مختاری کی تحریک کو زبردست مہمیز بخشی۔ گنگا اغواء کے مقدمے کے دوران جہاں حکمرانوں نے بقول مقبول بٹ اپنے وطن کے خلاف اپنے تمام گناہوں کو کشمیریوں کے اس حریت پسندانہ اقدام کی اوٹ میں چھپانا چاہا وہاں عابد حسن منٹو اور ڈاکٹر عبدالباسط جیسے پاکستانیوں نے کشمیری حریت پسندوں اور کشمیر کی آزادی کی بھر پور وکالت کی ۔ اس کے بعد خود مختار کشمیر کا نظریہ جو اب تک سیاسی طور پر سرگرم کشمیریوں تک محدود تھا سر عام نہ صرف پورے آزاد کشمیر میں گونجنے لگا بلکہ برطانیہ میں فروغ پذیر تارکین وطن کشمیریوں کے ذریعے برطانوی شہروں اور ایوانوں تک بھی پہونچنے لگا۔

1977 میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں لبریشن فرنٹ کے قیام کی شکل میں برطانیہ میں موجود کشمیری آزادی پسند اور انقلابی کارکنان بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے۔ 1984 میں مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد جو ردعمل سامنے آیا اس سے ثابت ہو گیا کہ خودمختار کشمیر کے نظریے اور سیاست کو آزاد کشمیر اور تارکین وطن کشمیریوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل ہو رہی تھی۔

اس وقت تک وادی میں بھی مزاحمتی سیاست نیشنل کانفرنس اور کانگرس کے گٹھ جوڑ کے خلاف تیزی سے ابھر رہی تھی اور 1987 میں جب متحدہ مسلم محاذ نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو نیشنل کانفرنس اور کانگرس نے مل کر ریاستی پشت پناہی میں ان کو روکنے کے لیے جو آمرانہ اور جمہوریت مخالف ہتھکنڈے اختیار کیے ان سے ثابت ہو گیا کہ اس کشمیر میں بھی نام کی جمہوریت کے اندر حق خود ارادیت کے جمہوری حق کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ بے تحاشہ اور کھلے عام دھاندلی کے خلاف جو عوامی ابھار آیا اس نے بھارتی قبضے اور اس کو سہارا دینے والی قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک بار پھر 1930 والی صورت حال پیدا ہو گئی۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آزاد کشمیر والے اور خاص طور سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ والے خاص طور سے وہ جو برطانیہ اور دیگر ممالک میں اس محاذ پر سر گرم تھے وہ بھارتی قابض قوتوں کی طرف سے کشمیر میں جمہوریت کی سر عام پامالی کو منظر عام پر لاتے اور آزادی کے لیے جمہوریت اور سماجی انصاف کے اصولوں پر بھر پور اور مسلسل تحریک کا آغاز کرتے اور بھارت، پاکستان اور دنیا کے آزادی، جمہوریت اور انصاف پسند حلقوں سے مدد مانگتے۔ مگر ہوا یہ کہ ایک بار پھر انہوں نے پاکستان کے ان حکمران طبقوں پر اعتماد کر لیا جنہوں نے پہلے بھی کشمیریوں کی آزادی کی امنگوں اور تحریک کے نام پر کشمیر کو فتح کرنے کی تحریک میں بدل دیا تھا۔ ان ہی حکمران طبقوں نے آزاد کشمیر اور برطانیہ میں جے کے ایل ایف کے ٹکڑے کر کے آزادی کی تحریک کو کمزور بعد ازاں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون اور اب تحریک انصاف کو مسلط کر کے آزاد کشمیر کی حیثیت کو مزید بے اختیار بنا دیا۔ تاہم یہ یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے اندر اس کے خلاف مزاحمت مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

بھارتی مقبوضہ خطے میں جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے جب مفتی سعید جن کی بیٹی کو جے کے ایل ایف نے تحریک کے آغاز میں اغواء کیا تھا نے ایک نئی جماعت قائم کی تو اس میں ’’خود حکومتی‘‘ کو منشور کا حصہ بنایا گیا اور یہ جماعت تیزی سے نیشنل کانفرنس کی اندرونی خود مختاری کے نظریے کو شکست دے کر اپنی ساکھ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن حالیہ انتخابات کے بعد بی جے پی کے اتحاد کر کے اپنی ساکھ کھو دی۔

لیکن اب تقریباً تیس سال، ایک لاکھ جانوں اور بے انت تباہی کے بعد وادی کشمیر میں میں مزاحمتی تحریک میں آزاد کشمیر کے پرچم لہرا کر کیا وادی کشمیر کی قیادت ایک بار پھر آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا انہوں نے تحریک آزاد کشمیر کا وہ سرا ڈھونڈ لیا ہے جو 1947 کے ہنگاموں میں ان سے چھین لیا گیا تھا؟ کیا اب کی بار کشمیری پاکستان و بھارت کے اندر ان قوتوں سے رشتہ استوار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو پورے جنوب ایشاء کو تنگ نظر قوم پرستانہ، مذہبی فرقہ واریت، جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ جبر و استحصال، جہالت اور افلاس سے نجات دلانے کے لیے برسرِ پیکار ہیں اور کشمیر سمیت قوموں کی آزادی کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں (مقبول بٹ بھی اسی راستے کا مسافر تھا) یا پھر ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے اندر ان ہی قوتوں کے دام میں آجائیں گے جن کی بقاء جنگ و نفرت اور استحصال میں اور جو کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ اس کو ہمیشہ کے لیے فتح کرنا چاہتے ہیں؟ یہ سوال ریاست کے تمام باشندوں کے لیے ہے چاہے وہ کہیں بھی آباد ہیں لیکن سب سے زیادہ اہم یہ سوال وادی کشمیر میں مزاحمت کی نظریاتی قیادت کے لیے ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وادی کی قیادت جس راستے پر چلے گی اس سے نہ صرف وادی کشمیر، ریاست جموں کشمیر لداخ کا مستقبل وابستہ ہے بلکہ جنوب ایشاء میں نفرت اور محبت اور جنگ وامن اور افلاس وخوشحالی، سماجی جبر اور سماج انصاف اور لوک جمہوریت اور خواص کی آمریت کی کشمکش پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ مختصراً یہ کہ آج ریاست جموں کشمیر کے ان تمام باشندوں کے لیے جو علاقائی، ثقافتی اور مذہبی شناختوں کی بقاء باہمی کے ساتھ ریاست جموں کشمیر کو بھارت و پاکستان کے ”فتح پسندوں“ کے قبضے سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے بنیادی اور مرکزی سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا آج کے حالات میں کیا مطلب ہے؟ کیسا آزاد کشمیر قائم کرنا ہے؟ آج تو ہمارے پاس ستر سال کا تجربہ ہے جس دوران ہم نے بھارت اور پاکستان کے ساتھ رہ کر بھی دیکھ لیا اور مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کو بھی بھگت لیا؟

آزاد کشمیر: کیسا اور کیسے؟

کچھ عرصہ قبل راقم کا ایک مضمون میں آزاد کشمیر کے تصور اور حکومت کے تاریخی پس منظر پر شائع ہوا تھا۔ اس کا اختتام اس سوال پر کیا تھا کہ ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق اور آزادی کی تحریک کے قائدین کے لیے کلیدی سوال یہ ہے کہ آج کے حالات میں آزاد کشمیر کیسا ہونا چاہیے؟ آج اس کا جواب لکھنے بیٹھا تو محسوس ہوا کہ سوال صرف یہ نہیں ہے کہ کیسا ہونا چاہیے۔ در حقیقت اس سے بھی اہم ، مرکزی اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسا کشمیر حاصل کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اس مضمون میں کھلے دل و ذہن کے ساتھ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ان دو سوالوں پر ریاست جموں کشمیر میں عوامی سیاست کے تاریخی اور موجودہ تناظر بحث کی گئی ہے۔ مجھے نہ تو ایسا کوئی دعویٰ ہے اور نہ ہی قارئین کو ایسا سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ میں یہاں لکھ رہا ہوں یہ حرف آخر اور تنقید و ترمیم سے ماوراء ہے۔ در حقیقت یہ ان نازک سوالوں پر بحث کی ایک کوشش ہے جو ریاست اور اس کے باشندوں کو درپیش غلامی، قبضے اور جبر کی مختلف شکلوں سے آزاد کروانے کے لیے لازمی ہے۔

اصل حالات ہمیشہ اس رخ پر آگے بڑھتے ہیں جدھر ان کو زمین پر موجود سیاست اور جدوجہد لے کر جاتی ہے۔ تاہم سوچ و چار اور تحریر و تجزیے اس سیاست اور جدوجہد میں تھوڑا بہت کردار ادا کر سکتے ہیں اگر ان کو ٹھوس زمینی حقائق کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ اس حوالے سے بھی مجھے جسمانی طور پر جو تھوڑی بہت رسائی حاصل ہے وہ برطانیہ اور ’’آزاد‘‘ کشمیر کے حالات تک محدود ہے۔ تاہم سماجی ذرائع ابلاغ اور کچھ ذاتی رابطوں رشتوں کے ذریعے کشمیر وادی، جموں، لداخ و گلگت بلتستان کے حالات سے بھی کسی حد تک آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ اسی تناظر میں کچھ عرصہ پہلے میں نے ”مسئلہ کشمیر کا جمہوری حل“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ تاہم اس کے بعد کے حالات، خاص طور سے آزاد کشمیر کے نعرے اور پرچموں کی وادی کشمیر میں بہار نے گذشتہ اور یہ مضمون لکھنے کی تحریک دی ہے۔

متحدہ ریاست جموں کشمیر میں ابھرنے والی عوامی تحریک کو دیکھیں تو اس کے بطن سے خود مختار کشمیر کے تین تصور ابھرے تھے۔

1۔ نیا کشمیر
2۔ جموں کشمیر
3۔ آزاد کشمیر

ان میں سے میرے خیال میں ’’نیا کشمیر‘‘ واضح ترین تصور تھا کیونکہ اس میں ریاست کی کثیر الثقافتی نوعیت اور ہر ایک شعبہ زندگی سے متعلق پالیسیوں اور اقدامات کو واضح انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ دوسرا تصور جو جموں کشمیر کا تھا وہ مہاراجہ کی سر پرستی میں اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا تھا اور میرے خیال میں اگر نیشنل کانفرنس کشمیر چھوڑ دو تحریک نہ شروع کرتی تو مہاراجہ درحقیقت کثیر الجماعتی جمہوریت کو تسلیم کر چکا تھا اور ایسے انتخابات جن میں اسمبلی کی تمام نشستوں پر مقابلہ ہونا تھا ان میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس ہی بڑی جماعتیں بن کر ابھرنا تھیں۔ اس عہد میں آزاد کشمیر کے تصور کی دو شکلیں پیش کی گئی تھیں۔ ایک مزدور کسان کانفرنس والی شکل جس کی جو وضاحت پریم ناتھ بزاز نے ’’آزاد کشمیر: ایک جمہوری سوشلسٹ تصور‘‘ میں پیش کی اس کے مطابق ایسا آزاد کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے قائم کیا جانا تھا۔ یعنی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ الحاق کے بعد پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کے اس تصور کو حقیقت بنانے کی گنجائش فراہم کی جائے گی۔ اور وہ بھی ایک جمہوری اور سوشلسٹ آزاد کشمیر کی۔ جبکہ آزاد کشمیر کا دوسرا تصور مسلم کانفرنس والا تھا جس میں مہاراجہ کی سرپرستی میں ایک کثیر الجماعتی آزاد و خود مختار ملک قائم کیا جانا تھا جو بھارت اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں تھا۔

ان تینوں میں سے کوئی تصور بھی عملی جامہ نہ پہن سکا اور ریاست تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف پاکستان کی سرپرستی میں مسلم کانفرنس اور دوسری طرف بھارت کی سرپرستی میں نیشنل کانفرنس اقتدار میں آگئی۔ ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام باشندے جو ریاست کی موجودہ صورت حال کو بدلنا چاہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ریاست کے مستقبل کے حوالے سے جو بھی تصور درست سمجھتے ہیں یا کوئی نیا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو بھی تقسیم کے آر پار ’دونوں کشمیروں‘ میں حقیقتوں کو پوری طرح جان کر مستقبل کا فیصلہ کریں ورنہ چہرے بدل جائیں گے صورت حال نہیں بدلے گی۔ حاکم اور مالک بدل جائیں گے غلامی بدستور رہے گی۔

تقسیم کشمیر کے وقت سیاسی صورت حال ایسی تھی کہ اگر بھارت اور پاکستان کے حکمرانوں کو کشمیری عوام کی بہتری مقصود ہوتی تو جنگ بندی لکیر کے آر پار وہ ایک طرف بھارت اور کشمیر اور دوسری طرف پاکستان اور کشمیر کے درمیان اس بظاہر باہمی رفاقت وقربت اور محبت کے رشتے کو پروان چڑھاتے۔ اندرونی خودمختاری، کشمیری تشخص، جمہوریت اور سماجی انصاف فراہم کرتے اور کشمیر کے وسائل کو کشمیر کی معاشی اور اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک طرف شیخ عبداللہ اور دوسری طرف سردار ابراہیم جنہوں نے ریاست میں آزادی، انصاف اور جمہوریت کی عوامی تحریک کا رخ کانگرس اور مسلم لیگ کی طرف موڑنے میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا کو نکال باہر کیا گیا اور تب سے بظاہر پیار کا یہ رشتہ بداعتمادی اور بے اعتباری کی راہوں پر چل نکلا۔ بعد ازاں تو اس میں جبر و تشدد کا عنصر بھی در آیا اور اب تک دونوں طرف درحقیقت یہ رشتہ جبری شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے دونوں طرف یہ نعرہ پروان چڑھا کہ جبری ناطے توڑ دو۔ کشمیر ہمارا چھوڑ دو۔

دوسرا اہم عنصر جس نے ریاست کے دونوں حصوں میں مزاحمتی سیاست کو پھر سے جنم دیا اور جلا بخشی وہ خود نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی قیادت میں سیاسی اختلافات رائے اور متعلقہ حصے میں بیرونی قبضے کو تسلیم نہ کرنے والوں کو پرامن طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی گنجائش فراہم کرنے اور جمہوری طور پر ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے ان کو کچلنے کی پالیسیاں تھیں۔ تقسیم کے بعد شروع میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمتی آوازیں مسلم کانفرنس اور جماعت اسلامی کے سیاسی نظریات رکھنے والوں کی طرف سے اٹھائی جاتی تھیں جبکہ پاکستانی مقبوضہ حصے میں یہ آوازیں نیشنل کانفرنس سیاسی نظریات اور خود مختار کشمیر کے لیے تھیں ۔ دونوں طرف عددی اعتبار سے یہ مزاحمتی آوازیں معمولی اور اقلیتی آوازیں تھیں ۔ لیکن ایک طرف نیشنل کانفرنس اور دوسری طرف مسلم کانفرنس نے اپنی سیاسی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے نہ صرف اپنے اندرونی اختیارات و طاقت کے ذریعے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے آقاؤں کی مدد سے ان چھوٹی چھوٹی آوازوں کو کچلنے کی پالیسیاں اپنائیں ۔ یوں تقسیم کے بعد اولین دنوں سے ہی ریاست کے دونوں حصوں میں مزاحمتی سیاست کا وجود قائم ہو گیا ۔

پاکستان اور بھارت کے قبضے کے خلاف مزاحمتی آوازوں کا مرکز وادی کشمیر اور آزاد کشمیر چلے آ رہے ہیں ۔ تاہم دونوں خطوں میں مزاحمت کی شکلیں مختلف رہی ہیں ۔ وادی میں مزاحمتی آوازیں شروع میں شیخ عبداللہ کی معطلی اور قید کے ردعمل میں محاذ رائے شماری کی شکل میں سامنے آئیں اور اس کے متوازی جماعت اسلامی اور مسلم کانفرنس کی طرف سے بھی بھارتی قبضے کو مسترد کرنے کا رجحان بتدریج فروغ پذیر رہا ہے ۔ اندرہ عبداللہ ایکارڈ کے بعد مسلم کانفرنس و جماعت اسلامی والی مزاحمت کو ایک طرح کی اخلاقی برتری حاصل ہو گئی ۔

جموں اور لداخ میں اگرچہ بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کے قابل ذکر شواہد نہیں ملتے لیکن ان دونوں خطوں میں ریاست کی وحدت اور باشندہ ریاست کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر بااختیار اسمبلیوں کی دہائی ہمیشہ سے سنائی دیتی رہی ہے ۔ آج بھی ان علاقوں میں ریاست کے اندر مقامی خود مختاری کے مطالبات فروغ پذیر ہیں ۔

گلگت بلتستان جن کو کرنل حسن کی قیادت میں آزاد کروایا گیا تھا اور ابھی حال ہی میں کرنل حسن کے بیٹوں کرنل نادر حسن اور کرنل وجاہت حسن کی وساطت سے معلوم ہوا کہ تب گلگت بلتستان کا پرچم وہی تھا جو آزاد کشمیر کا سرکاری پرچم ہے اور اب وادی میں بھی لہرایا جا رہا ہے ۔ لیکن ان علاقوں کو آزاد کشمیر کے قیام میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اور چار اکتوبر کی حکومت کے وزیر اعظم اور چوبیس والی کے صدر سردار ابراہیم کی موجودگی میں آزاد کشمیر سے جدا کر کے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔ وہاں باشندہ ریاست معطل کر دیا گیا اور ابھی حال ہی تک بنیادی جمہوری حقوق بھی معطل رکھے گئے تھے۔ تاہم اب ایک نیم جمہوری حکومت موجود ہے۔ یہاں بھی مزاحمتی سیاست میں باشندہ ریاست کی بحالی اور ایک مکمل طور پر بااختیار مقامی حکومت قائم کرنے کے مطالبات کو عوامی کی بھاری حمایت حاصل ہے۔

’’آزاد‘‘ کشمیر کو چونکہ سرکاری طور پر آزادی کے ’’بیس کیمپ‘‘ کے طور پر قائم کیا گیا تھا اس لیے یہاں بائیس سالوں تک کوئی باقاعدہ حکومتی نظام قائم نہ کیا گیا۔ بلکہ عنان حکومت عارضی قواعد کے ذریعے مسلم کانفرنس کی ایک جماعتی حکمرانی کے تحت چلائی گئی۔ ستر کی دہائی تک یہاں مزاحمتی سیاست کو سردار ابراہیم کی معطلی کے ردعمل میں پونچھ کی بغاوت، میر پور میں منگلا ڈیم کی جبری تعمیر کے خلاف تحریک، کے ایچ خورشید کی سربراہی میں لبریشن لیگ کے قیام، اور پاکستان و آزاد کشمیر میں موجود خود مختاری پسند کشمیریوں کی طرف سے محاذ رائے شماری کے قیام سے مہمیز ملی۔ طلباء میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے خودمختاری کے نظریے کو تقویت دی۔ ستر کی دہائی میں مقبول بٹ کی طرف سے دنیا کی ہم عصر تحریکوں کی مناسبت سے جنگ بندی لکیر کے پار گوریلا کارروائیوں اور جیل سے فرار و گنگا اغواء جیسے حریت پسندانہ اقدامات اور حریت پسندوں کی پکڑ دھکڑ اور ان پر مقدمات نے مزاحمتی سیاست کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ آزاد کشمیر، خاص طور سے میر پور سے بیرون ممالک، خصوصاً برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے دامے درمے اور سخنے مزاحمتی سیاست کو حمایت فراہم کی۔

ریاست کے مختلف خطوں میں مزاحمتی سیاست کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ گذشتہ سات دہائیوں میں یہاں مقامی شناخت اور مقامی حقوق کی سیاست کو تقویت ملی ہے اور کشمیر کا جو سیاسی تصور ریاست کی قومی شناخت بن کر ابھر رہا تھا وہ تقسیم کے بعد آزاد کشمیر کے علاوہ کسی علاقے میں فروغ نہیں پاسکا۔ حتیٰ کہ وادی کشمیر میں بھی کشمیری کا مطلب جغرافیائی طور پر وادی اور ثقافتی طور پر کاشری کے دائر میں سمٹ آیا ہے۔ صرف آزاد کشمیر اور بیرون ممالک آباد آزاد کشمیریوں میں آج بھی کشمیری پوری ریاست جموں کشمیر کی قومی سیاسی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ ریاست کے دیگر خطوں میں ریاست کی وحدت کے حامیوں کی اکثریت کو بھی کشمیری پوری ریاست کی سیاسی شناخت کے طور پر منظور نہیں۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وادی کے اندر مزاحمتی سیاست میں بھارتی اور ریاستی سیکولرازم کے نام پر تسلط اور جبر کے ردعمل میں بتدریج مذہبی (اسلامی) شناخت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی گئی جبکہ آزاد کشمیر میں ریاستی اور پاکستانی اسلام کے نام پر تسلط اور جبر کے ردعمل میں جو مزاحمتی سیاست پروان چڑھی اس میں سیکولرازم اور سوشلزم کے نعروں اور نظریات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ریاستی سطح پر متحدہ خودمختار ریاست کشمیر کا نظریہ، سیاست اور تنظیمیں لداخ، جموں اور گلگت بلتستان میں کوئی خاطر خواہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یوں خودمختار کشمیر کا نظریہ وادی اور آزاد کشمیر میں کتنا بھی مقبول کیوں نہ ہو اور کشمیر مسئلے کے حل کے لئے اس کو کتنا ہی معقول اور منصفانہ اور جمہوری کیوں نہ قرار دیا جائے عملی طور پر یہ وادی اور آزاد کشمیر تک محدود ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جو اس نظریے کی داعی نہ صرف سب سے بڑی جماعت ہے بلکہ واحد جماعت ہے جو ریاست کے کم از کم چار حصوں وادی، جموں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ تاہم لداخ میں اس کے وجود سے کم از کم میں آگاہ نہیں ہوں اور جموں اور گلگت بلتستان میں بھی برائے نام وجود رکھتی ہے۔

ایسی صورت حال میں عملی طور پر تو کسی قسم کی پیش رفت تب ہی ممکن ہو سکتی ہے جب ریاست کے مختلف خطوں کی اس سیاسی قیادت کے مابین کھلا بحث مباحثہ ہو جو کم از کم ریاست کی وحدت کی حامی ہے۔ لیکن نظری طور پر اس بحث مباحثے کے لیے ایک خاکہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹھیک اس وقت مزاحمتی سیاست کو عروج وادی کشمیر میں حاصل ہے جہاں گذشتہ اڑھائی عشروں سے بھارتی قبضے کے خلاف جاری تحریک کو اس دوران پروان چڑھنے والے نوجوان کشمیری نسل نے بظاہر ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مزاحمت کی یہ تحریک تب پھوٹی تھی جب نیشنل کانفرنس اور انڈین کانگرس نے مل کر کشمیری اور بھارتی سرکار سے مل کر مسلم یونائٹڈ فرنٹ کو اسمبلی سے باہر رکھنے کے لیے دھاندلی اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا تھا۔ یعنی تبدیلی کا جمہوری راستہ جبری طور پر بند کیا تھا اور پاکستان نے کشمیر کو بھارت سے چھین کر اپنے قبضے میں کرنے اور رکھنے کے لیے عوامی مزاحمتی تحریک میں پہلے بندوق اور پھر اسلام کے نام پر مجاہد داخل کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں جہاں لاکھوں انسانی زندگیاں اور معاشی و سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تباہ ہوا وہاں سیاسی طور پر یہ تباہی ہوئی کہ بھارت عالمی سطح پر مقامی تحریک کو پاکستانی مداخلت قرار دینے میں کامیاب رہا۔

وادی میں مزاحمت کا تازہ ترین ابھار جو 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت سے پیدا ہوا اس میں بھی پاکستانی پرچم لہرا کر اور بعد ازاں اُڑی کے واقعے کے نتیجے میں اس کی مقامیت بُری طرح متاثر ہوئی۔ تاہم آزاد کشمیر کے پرچموں کی آمد سے اس میں امید کی ایک ایسی کرن ضرور دکھائی دے رہی ہے جو تحریک کی اصل بنیاد کشمیریت کی بحالی اور فروغ کے لیے کچھ مواقع اور راستے فراہم کر سکتی ہے۔ میرے خیال میں وادی اور ریاست کے دیگر خطوں کی سیاسی آزادی صرف اور صرف ایک نظریے کے ذریعے ممکن ہے اور وہ نظریہ ہے کشمیریت کا۔ وہ کشمیریت جس کا اظہار’’نیا کشمیر‘‘ میں کیا گیا تھا۔ یہ سچ ہے کہ کشمیریت کی اس لہر کو نیشنل کانفرنس نے بعد ازاں اقتدار کے بدلے بھارت کے ہاں گروی رکھ دیا تھا اور ایکارڈ کے بعد تو اس کو بالکل اجنبی بنا دیا گیا۔ تاہم میرے خیال میں اگر مقصد اگر جمہوریت ، سماجی انصاف، ترقی اور خوشحالی والی آزادی حاصل کرنا ہے تو پھر کشمیریت کا تصور کسی ایک سیاسی جماعت سے بڑا اور وسیع تھا اور ہے یا کم از کم ہونا چاہیے۔ وادی کے اندر آج تحریک مزاحمت جس نے بے شک بھارتی قبضے کی چولیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی سیاست یعنی سیاسی ویژن و بصیرت میں کشمیریت کی غیر حاضری ہے۔ یوں وادی کی تحریک مزاحمت کے لیے سب سے بڑی آزمائش کشمیریت کے نظریے اور سیاست کو بھارت اور بھارت نواز سیاست سے آزاد کروا کر مزاحمتی سیاست کی رہنماروشنی بنانا ہے۔

ایک سیاسی نظریے کی حیثیت سے میرے خیال میں کشمیریت اتنی سیکولر ہے کہ اس میں مذہب کی بنیاد پر سیاسی جبریت کا راستہ روکنے کی سکت موجود ہے اور اتنی مذہبی ہے سیکولر بنیاد پرستی حد میں رکھ سکتی ہے۔

اس کی جڑ بنیاد اور روح میرے خیال میں مذہبی رواداری اور کثیر النظریاتی معاشرے کا قیام ہے۔ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ معاشرے میں ہر سطح پر موجود ہے۔ بلکہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ کسی نہ کسی حد تک یہ موجود ہے جس کو مزاحمتی تحریک سیاست کے ذریعے بھارت نوازی سے آزاد کروا کر پروان چڑھا سکتی ہے۔ تاہم اس پر وادی کے دانشور زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ میں جس آزاد کشمیر کے خدوخال یہاں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس کی بنیاد اور روح کشمیریت ہی ہے اور وہ کشمیریت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔

کیسا آزاد کشمیر؟

یہ کشمیر وادی کاشر، جموں، لداخ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل ہے۔ اگر چہ ریاست جموں کشمیر میں ان خطوں کے علاوہ مزید قومیتی شناختیں بھی موجود ہیں تاہم حکومتی ڈھانچوں کے طور پر میرے خیال میں یہ وہ خطے ہیں جہاں گذشتہ ستر سالوں سے مقامی حکومتی ڈھانچے موجود چلے آ رہے ہیں اور ان کے گرد ان کی مقامی شناختیں پروان چڑھی ہیں۔ سوائے جموں کے لیکن وہاں بھی مقامی اسمبلی کی مانگ بدستور فروغ پذیر ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جموں اور لداخ میں بھارتی یونین میں مکمل طور پر ضم ہونے اور گلگت بلتستان میں کشمیر کے ساتھ نہ رہنے کے نظریات بظاہر زیادہ طاقتور ہیں لیکن اس پہلو کا احاطہ آگے چل کر کیا گیا ہے۔

آج کے حالات میں اس آزاد کشمیر کا تصور درحقیقت نیشنل کانفرنس کے نیا کشمیر، مسلم کانفرنس و مزدور کسان کانفرنس کے آزاد کشمیر اور پیپلز نیشنل پارٹی کے متحدہ ریاست ہائے کشمیر کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ظاہر ہے کہ ”آزاد کشمیر“ کے ان تینوں تصورات اور پروگراموں کو موجودہ صورت حال کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس کے لیے مختلف خطوں سے خواہشمند حلقوں سے مشاورت لازمی ہو گی ۔ اور اس وقت تک جو بھی پرچم مختلف خطوں میں استعمال ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک پر شاید اتفاق ممکن نہیں ہو گا اس لیے عین ممکن ہے باہمی اتفاق سے تبدیلیاں لازمی ہوں لیکن بنیادی تقاضا بھارت کی طرف سے پرامن سیاست پر جبر و تشدد کا خاتمہ اور بھارت و پاکستان دونوں کی طرف سے ریاست کو شہ رگ و اٹوٹ انگ قرار دینے کی جابرانہ روش و پالیسی کو ترک کر کے ریاستی عوام کے درمیان باہمی مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے ایسی ریاست کے قیام پر اتفاق کرنا ہے جو ریاست کے تمام خطوں کے عوام کے لیے قابل قبول اور جس میں ان کے علاقائی (قومیتی) مفادات اور حقوق اور شناختوں کی ضمانت ہو۔

آزاد کشمیر کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جیسا کہ گذشتہ مضمون اور یہاں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تقسیم سے پہلے ابتدائی طور پر تو تبدیلی کے لیے تحریک کا راستہ اختیار کیا گیا تھا لیکن جب مہاراجہ حکومت نے ذمہ دارانہ نظام حکومت کے لیے اسمبلی متعارف کروادی تو پھر سیاست کا مرکز ومحور اس اسمبلی کے اختیارات بڑھانا بن گیا۔ تاہم کشمیر چھوڑ دو تحریک کے نتیجے میں موجود اسمبلی کے اختیارات بڑھانے اور اس کو جمہوریانے کی بجائے مہاراجہ کو کشمیر سے نکالنا مقصد بن گیا۔ اس کے نتیجے میں متحدہ کشمیر کی سیاست اور بعد ازاں ریاست بھی ٹوٹ بکھر کر بھارت اور پاکستان کے ”انتظام“ میں چلی گئی۔ اس کے بعد سے اب تک ”آزادی“ کے لیے کئی ایک کوششیں اور کاوشیں کی گئیں اور مختلف راستے اختیار کیے گئے۔

سب سے پہلی کوشش مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کی طرف سے ”عبوری“ اور پھر ”آزاد“ حکومت کا قیام تھا۔ جس کو پونچھ میں بغاوت اور قبائلیوں کی مداخلت کے ذریعے پوری ریاست کی حکومت بنانے کی کوشش جس کو مہاراجہ نے الحاق کے بدلے بھارت کی مدد سے ناکام تو کر دیا لیکن ریاست بھارت و پاکستان کی فوجوں کے درمیان جنگ کا میدان بن گئی ۔

دوسری کوشش بھارت نے اقوام متحدہ کے ذریعے کی جہاں بھارت و پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے بعد 13 اگست 1948 کو قرارداد منظور ہوئی جس کے مطابق پہلے پاکستان کی طرف سے تمام اور پھر بھارت کی طرف سے افواج کی اکثریت کو نکال لینے کے بعد آزادانہ ریفرنڈم کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا تھا۔ لیکن مبینہ طور پر پاکستان کی طرف سے اعتراض پر 5 جنوری 1949 کو قرارداد میں کشمیر کے مستقبل کو بھارت اور پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا گیا۔ پاکستان نے افواج نہیں نکالیں اور بھارت نے الحاق کو ہی حتمی قرار دے کر اپنے زیر انتظام جموں کشمیر میں انتخابات کو الحاق کی توثیق قرار دے کر اقوام متحدہ کی طرف سے اس کو ریفرنڈم کے مترادف نہ قرار دینے کے باوجود کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ماننا اور منوانا شروع کر دیا جبکہ پاکستان نے افواج نہ نکالنے اور اندرونی طور پر کشمیر کو شہ رگ قرار دینے کے باوجود عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اظہار جاری رکھا۔ اس کے بعد چناب فارمولے سے شروع ہو کر نیشنل کانفرنس کی اٹانومی، پی ڈی پی کی خود حکومتی، شملہ معاہدے، امان اللہ کی طرف سے اقوام متحدہ کی ٹرسٹئی ، سجاد لون و یوسف پچ ، جنرل مشرف اور کے ایچ خورشید سمیت کئی فارمولے پیش کیے گئے۔ ادھر رائے شماری کی کوکھ سے مقبول بٹ نے مسلح جد و جہد کے ذریعے قومی آزادی کی جدوجہد کا آغاز بھی کیا جو ان کی پھانسی پر منتج ہوئی اور جو مسلح جدو جہد مسلم یونائٹڈ فرنٹ کو اسمبلی سے باہر رکھنے کے خلاف برپا ہوئی وہ مقبول بٹ کے قومی آزادی کے فلسفے اور سیاست سے عاری ہونے کے باعث بھارتی قبضے کو مفلوج کرنے کے باوجود آزادی نہ جیت سکی۔

ایسی صورت حال میں جب کہ پوری ریاست میں ایک طرف بھارت اور دوسری طرف پاکستان کی فوجیں اور خفیہ ادارے اور سول و فوجی بیوروکریٹس، نام نہاد صحافی اور دانشور دن رات ریاستی باشندوں کو جبر و تشدد ، دھونس دھمکی اور لالچ و بلیک میلینگ کے ساتھ ساتھ یک طرفہ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب کے ذریعے قابو میں رکھے ہوئے ہیں یہاں نہ تو کسی ایک نظریے کے لیے بظاہر غالب حمایت موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سیاسی تنظیم موجود ہے جس کو ریاست کے تمام خطوں میں قابلِ ذکر حمایت حاصل ہے تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ پوری ریاست میں رائے شماری ہو اور جس خطے میں اکثریت جس طرح کے مستقبل کے لیے ووٹ دے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ریاست کے تمام انتظامی خطوں میں بغیر بیرونی دباؤ اور فوجی و خفیہ اداروں کی دھونس اور اجارہ داری اور خودمختار کشمیر کے نظریے کے تحت انتخابات پر عائد پابندیوں کے بغیر غیر جانبدار عالمی مبصرین اور ذرائع و ابلاغ اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی نگرانی میں پانچوں علاقائی اسمبلیوں (بشمول جموں اسمبلی) انتخابات ہوں اور ان انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں اپنے علاقے کے مستقبل کے حوالے سے مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے خود کو عوام کے سامنے پیش کریں۔ ان انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتوں سے ہی معلوم ہو جائے گا کہ کس علاقے میں کتنی اکثریت کیا مستقبل چاہتی ہے۔ ان اسمبلیوں کو پھر آپس میں بیٹھ کر ریاست کے مجموعی مستقبل پر مذاکرات کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کیا جائے اور اس کی روشنی میں آئندہ لائحۂ عمل بشمول خودمختار ریاست کا قیام یا بھارت و پاکستان کے ساتھ باہمی طور پر قابلِ قبول انتظامات کے تحت آگے بڑھا جائے۔

ریاست میں علاقائی حقوق کا سوال اور مسئلہ کشمیر

عوامی سیاست کے نظریے سے دیکھیں تو متحدہ ریاست کشمیر میں جدید عوامی سیاست کا ظہور ۱۹۳۰ء کے عشرے میں ہوا تھا۔ تب سے ۱۹۴۷ تک اس سیاست کا مرکز و محور صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر ہی رہا۔ تاہم اس عوامی سیاست کے نتیجے میں جو ریاستی اسمبلی وجود میں آئی اس میں لداخ (جس میں بلتستان بھی شامل تھا) اور گلگت کی نمائندگی بہرحال موجود تھی۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس ظاہر ہے کہ وادی اور جموں میں زیادہ متحرک تھیں لیکن وہ دونوں ”آل“ جموں کشمیر جماعتیں تھیں صرف جموں کشمیر کی نہیں۔ اگر ریاست میں پاکستان اور بھارت فوجی مداخلت کے ذریعے اس کو تقسیم کر کے قبضہ نہ کرتے تو یقیناً لداخ اور گلگت میں بھی عوامی سیاست فروغ پاتی اور کشمیری تشخص جو ریاست کا سیاسی تشخص بن کر اُبھر رہا تھا نئے کشمیر کی تعمیر و تشکیل کے ذریعے فروغ پاتا۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہ ہوا اور کشمیری ریاست کے اندر قوم و ریاست کے ارتقاء کا عمل بھارتی و پاکستانی قوم پرستی اور ریاستی تسلط تلے تقسیم در تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ مسخ بھی ہوتا رہا۔ ریاست کی تین حصوں میں تقسیم کے باعث بھارتی مقبوضہ کشمیر، پاکستانی مقبوضہ جنوبی کشمیر (آزاد کشمیر) اور پاکستانی مقبوضہ شمالی کشمیر (گلگت و بلتستان) میں روابط بھی منقطع ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں معلومات و تعلیم و آگاہی کے چینل پاکستانی اور بھارتی سرکاروں کے ہاتھ آگئے۔ اُنہوں نے منقسم کشمیر کے ایک طرف پاکستانی پروپیگنڈے اور دوسری طرف بھارتی پروپیگنڈے کے ذریعے نئے تشخص اور نئی سیاستوں کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا۔ تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے ریاست کے متعلقہ خطوں کو مکمل طور پر ضم نہ کیا بلکہ ان کو ایک منفرد خصوصی حیثیت دیے رکھی۔ اس پر کشمیری خودمختاری پسندوں کا موقف یہ ہے کہ اس کی وجہ دونوں کی طرف سے پوری ریاست پر اقوام متحدہ کے ذریعے قبضہ کرنے کی خواہش تھی نہ کہ کشمیریوں کے منفرد تشخص کا احترام۔ تاہم یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ میں ہے اور بھارت و پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تو جھٹلاتے رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کے مبصروں کی موجودگی میں ان حصوں کو ضم نہیں کر سکتے تھے۔ وجہ جو بھی ہو اس صورت حال نے وادی اور آزاد کشمیر میں ”کشمیری سیاسی تشخص“ کو اور دیگر علاقوں میں ایک منفرد ریاستی تشخص کو زندہ رکھا ہے۔ تاہم یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا لازمی ہے کہ اس دوران نیشنل کانفرنس و مسلم کانفرنس نے بالترتیب بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں کے تابع پوری ریاست کی وحدت اور تشخص کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ اس خلاء میں جو خود مختار کشمیر کی سیاست اُبھری اس نے بھی نعروں کی حد تک تو پوری ریاست کی بات کی مگر عملی طور پر ”آزاد“ کشمیر اور وادی کشمیر تک ہی محدود رہی۔ جموں و لداخ کو تو بالکل ہی نظر انداز کیا تاہم گلگت بلتستان میں محاذ رائے شماری، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور مقبول بٹ کی قیادت میں این ایل ایف اور بعد ازاں امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ شوکت مقبول و عارف شاہد و کرنل وجاہت وغیرہ کی قیادت میں ”اپنا“ نے کمزور ہی سہی مگر ایک رابطہ قائم رکھا۔

اس وقت ریاست میں تین حکومتیں اور تین انتظامی ڈھانچے موجود ہیں جو اپنے سرکاری ناموں کے مطابق درج ذیل ہیں:

۱۔ جموں اور کشمیر ۲۔ آزاد جموں و کشمیر ۳۔ گلگت بلتستان

اس کے علاوہ لداخ ہل کونسل بھی ہے جبکہ جموں میں مقامی اسمبلی کی مانگ طویل عرصے سے موجود ہے لیکن سنی نہیں جا رہی۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ خودمختار کشمیر کی حامی قوتیں عملی طور پر اپنے اپنے مخصوص جغرافیائی اور علاقائی دائروں تک محدود ہیں اور تقسیم سے پہلے نیشنل کانفرنس اور تقسیم کے بعد ۱۹۸۰ کی دہائی میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی اور بعد میں متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سوا کسی جماعت نے ریاست کے اندر ثقافتی اور جغرافیائی تشخص اور اختیار سے متعلق سوال کو حل کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب گلگت بلتستان، جموں اور لداخ میں کشمیری تشخص کو یہ کہہ کر سرے سے مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس کا مطلب وادی کشمیر ہے۔ ظاہر ہے اس میں بھارتی اور پاکستانی سرکاروں کا بھی ہاتھ ہے مگر ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اس میں کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کی سیاست کی نظریاتی و سیاسی و معاشی پسماندگی یعنی بصیرت کی غربت کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ یہی وجہ ہی کہ اب گلگت بلتستان کی ریاست سے علیحدگی کے مطالبات پر خودمختار و متحدہ ریاست کشمیر کے پرچارکوں کی طرف سے وہی ردعمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے جو بھارت اور پاکستان کے حکمران کشمیر کے حوالے سے ظاہر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یعنی گلگت بلتستان ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس کی علیحدگی کا سوال غداری ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر اسطرح کی دھمکیوں اور عملی قتل عام کے باوجود بھارت و پاکستان ریاست کے کشمیریوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے تو خودمختار کشمیر والے اس رویے کے ذریعے ریاست کو متحد ظاہر ہے کہ نہیں رکھ سکتے۔ مگر ٹھیک اس وقت خودمختار کشمیر والوں کو گلگت بلتستان ، جموں اور لداخ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ اس کے لیے ایک تجویز اس کالم کے نچوڑ میں پیش کی گئی ہے شاید اس سے خودمختار و متحدہ اور جمہوری کشمیر کے لیے برسر پیکار کشمیریوں کو کچھ مدد مل سکے۔

میری تجویز جو کہ میں نے کشمیر مسئلے کے جمہوری اور منصفانہ حل کے لیے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز اور کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات و سیاست اور منشوروں سے کشید کی ہے اس کے چیدہ چیدہ نقاط درج ذیل ہیں :

۱۔ ریاست کے سب حصوں میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے بشمول مقبول بٹ کے جسد خاکی ، افضل گورو اور سزائے موت کے منتظر دیگر کشمیریوں کو جنہیں مشکوک عدالتی کاروائیوں اور پولیس کی غنڈا گردی کے ذریعے مجرم قرار دیا گیا

۲۔ پاکستان و بھارت کی فوجیں شہری علاقوں سے دور ہٹا لی جائیں اور دونوں کی قید یا علم میں جو بھی ریاستی باشندے ہیں اُن کو فوری رہا کیا جائے اور جن کو شہید کر دیا گیا ہے اُن کے لواحقین کو اس کی خبر کی جائے۔

۳۔ تمام ریاستی باشندوں کو ریاست کے اندر آنے جانے اور تجارت کرنے کی مکمل آزادی ہو اس کے لیے فوری طور پر تمام روایتی راستے کھولے جائیں اور باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا کارڈ کی شکل میں جاری کیا جائے۔

۴۔ نشر و اشاعت اور ملازمت کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط اور پابندیوں کا فوری طور خاتمہ کیا جائے

۵۔ تنظیم سازی ، سیاسی طور پر انتخابات میں حصہ لینے اور مُہم سازی کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط کا بھی فوری طور پر خاتمہ کیا جائے

۶۔ ریاست میں پانچ مقامی اسمبلیاں قائم کی جائیں جن میں وادی کشمیر یا کاشرا سمبلی، جموں اسمبلی ، لداخ اسمبلی ، آزاد کشمیر اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی شامل ہیں ۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات جس حد تک ممکن ہو ایک ہی وقت میں منعقد کروائے جائیں اور ان میں کوئی بھی کشمیری بغیر کسی امتیاز و تفریق کے حصہ لینے کا مجاز ہو۔

۷۔ ان اسمبلیوں کو یہ حق حاصل ہو کہ پوری ریاست کا جو بھی آخری فیصلہ ہو یہ اسمبلیاں مقامی طور پر خودمختار رہیں گی چاہے ریاست خود مختار رہے، بھارت میں شامل ہو یا پاکستان میں یا اس کا آخری حل کسی قسم کی تقسیم کی شکل میں سامنے آئے۔

۸۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی کے لیے ریاست بھر میں انتخابات ہوں اس واضع مینڈیٹ کے ساتھ کے اس اسمبلی کو ریاست کے مُستقبل کے بارے میں مذاکرات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ان انتخابات میں شرکت کے لیے بھی ریاستی باشندوں پر کسی قسم کی کوئی قدغن یا شرائط مسلط نہیں ہونی چاہئیں۔

ظاہر ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور سارے عمل کو صاف و شفاف اور منصفانہ رکھنے کے لیے مختلف طرح کے نگران و انتظام وانصرام کی ضرورت ہوگی جن پر مذکورہ راہ عمل پر اصولی اتفاق اور صلاح مشورے سے مزید غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنے بھی ذرائع اور وسائل جس کے پاس بھی موجود ہیں ان کے ذریعے اس تجویز کو ریاست کے سب حصوں اور تمام سیاسی جماعتوں اور نظریات کے حامل باشندوں تک پہنچایا جائے اور ان کی رائے سے اس کو ”ریاستی ڈیمانڈ“ کے طور پر پیش کیا جائے تا کہ ایک تو ریاستی کی نمائندگی کا مسئلہ حل ہو سکے اور دوسرے ریاست کے تمام باشندوں کو اس کے مستقبل کے فیصلے میں شریک کیا جاسکے۔

آزاد جموں کشمیر میں جمہوری عمل اور حق پرست سیاست

یہ مضمون خاص طور سے آزاد جموں کشمیر کے آزادی و ترقی پسندوں اور ان تمام ریاستی باشندوں کے لیے لکھا گیا ہے جو اس خطے میں ایک جمہوری ، با اختیار اور باوقار فلاحی حکومت دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ میں نے اس میں ایک آزادی پسند مشاہدہ کار طالب علم کی حیثیت سے مذکورہ سیاسی قوتوں کے لیے جمہوری عمل میں حصہ لینے کی ضرورت ، اہمیت اور طریقہ کار پر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق رائے کا اظہار کیا ہے۔ شروع میں تین کلیدی اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے جس کے بعد اصل سوال پر بحث کی گئی ہے کہ جمہوری عمل میں کیوں اور کیسے حصہ لیا جانا چاہیے۔

آزاد کشمیر:

1946 میں ’’آزاد کشمیر‘‘ کے تصور کی ابتداء سے لے کر آج تک ’’آزاد کشمیر‘‘ کے تصور اور موجودہ آزاد جموں کشمیر حکومت تک بہت کچھ لکھا گیا ہے جس کا یہاں طوالت سے بچاؤ کے لیے صرف خلاصہ ہی پیش کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر کا ابتدائی تصور جو آل جموں کشمیر مزدور کسان پارٹی کے کنونشن منعقدہ 1946 میں پیش کیا گیا تھا وہ ایک ’’سوشلسٹ جمہوریہ‘‘ کا تصور تھا جس کا تفصیلی خاکہ پریم ناتھ بزاز نے فراہم کیا تھا۔ اس کی تفصیلات ان کی کتاب ’’آزاد کشمیر: ایک سوشلسٹ جمہوری تصور‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ’’آزاد کشمیر‘‘ کی جو پہلی حکومت جس کا اعلان چار اکتوبر 1947 کو راولپنڈی سے ہوا اس کو عارضی جمہوریہ کا نام دیا گیا۔ یہ اعلان مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کی طرف سے کیا گیا۔ عملی طور پر یہ حکومت، اعلان اور ایک کاغذی حکومتی ڈھانچے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے صدر غلام نبی گلکار ریاست کے مہاراج ہری سنگھ کو ’’گرفتار‘‘ کرنے (اور شیخ عبداللہ کو اس کا حصہ بنانے) کے لیے سری نگر چلے گئے اور وہاں جا کر خود گرفتار ہو گئے۔ لہٰذا پاکستان کے ارباب اختیار نے ریاست پر قبائلی حملے کے دو روز بعد ”آزاد کشمیر“ کے نام سے چوبیس اکتوبر کو ایک حکومت قائم کر دی۔ یکم جنوری 1948 کو بھارت کی طرف سے کشمیر مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے کے بعد اس حکومت کی موجودگی کو ”مقامی اتھارٹی“ کے طور پر تسلیم کیا گیا اور 28 اپریل 1949 کو پاکستان کے حکمرانوں نے اس حکومت کے سربراہ سردار محمد ابراہیم خان سے مہاراجہ راج سے چھڑائے جانے والے دوسرے ریاستی حصے گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ خارجہ امور، دفاع اور رائے شماری وغیرہ سے متعلقہ اختیارات بھی لے لیے۔ لیکن جلد ہی اس کے اندرونی اختیارات پر بھی وزارتِ امورِ کشمیر اور بعد ازاں کشمیر کونسل بٹھا دی۔ یوں یہ حکومت ایک تابعدار، بے بس، مجبور اور لاچار و بے اختیار اور بے وقار مقامی اتھارٹی بنتی چلی گئی۔ اس خطے کے عوام جنہوں نے دو قومی نظریے کے اثر تلے ”تحریکِ آزاد کشمیر“ کے قائدین کی طرف سے مسلمانوں کے لیے باوقار اور بااختیار حکمرانی اور خوشحالی کی آس میں ریاست جموں کشمیر کے اندر مہاراجہ کی طرف سے محدود مگر فروغ پذیر جمہوری عمل کو لات مار کر بغاوت کی تھی، ”آزادی“ کے بعد ”غیر مسلم“ راجوں اور افسر شاہی کی جگہ مسلم قبائل کے راجوں اور مسلم قبائل کی افسر شاہی کے راج میں آ گئے۔ آزادی صرف ”نئے مہاراجوں اور نئی افسر شاہی“ کو ہی نصیب ہوئی۔

تقسیم سے پہلے اس خطے جس کو ”آزاد کشمیر“ کا نام دیا گیا، میں بے شک اور پلہ اور بااختیار طبقہ اکثریتی طور پر غیر مسلموں پر مشتمل تھا اور استحصال کی مختلف شکلیں بھی موجود تھیں جن کی جڑیں صدیوں میں اتری ہوئی تھیں، لیکن تقسیم کے بعد صرف یہ تبدیلی آئی کہ غیر مسلموں کے قتل اور فرار کے بعد ان کی جگہ مسلمانوں نے لے لی۔ ایک عام آدمی کے لیے روزمرہ زندگی میں سوائے مذہبی آزادی کے احساس کے، طبقاتی اور استحصالی جبر میں کوئی خاطر خواہ فرق پیدا نہ ہوا۔ خطے کے وسائل اور اختیارات کے استحصال میں بھی مہاراجہ راج کے اہلکاروں کی جگہ پاکستانی اور ان کے ایستادہ حکمرانوں کے بیٹھ جانے سے کوئی فرق نہ پڑا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ مختصر یہ کہ فرسودہ استحصالِی ڈھانچہ نہ صرف موجود رہا بلکہ اب اس کے خلاف مذہب کے نام پر آواز بھی نہیں اٹھائی جا سکتی تھی۔ جو آوازیں اٹھیں ان کو ''عام آدمی'' تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ان کے کانوں میں ''اسلام'' اور ''پاکستان'' کی مخالفت کے الزامات کی روئی ڈال دی گئی۔

بھلا ہو ڈُڈیال کے محنت کش جہازیوں کا جنہوں نے مہاراجہ عہد میں ہی میر پور میں معاشی تنگدستیوں سے بھاگ کر ''ولایت'' دریافت کر کے یہاں پائی جانے والی غربت اور افلاس کی شدت کو کم کرنے کے ایسے عمل کا آغاز کیا جس سے نہ صرف عام آدمی کی ایک بڑی اکثریت کو معاشی خوشحالی نصب ہوئی بلکہ آزادی کے بعد پیدا ہونے والے ''آزاد'' کشمیری حکمران مگر بدعنوان طبقے کے بھی وارے نیارے ہو گئے اور پاکستان کے بدعنوان حکمرانوں کو بھی زرِ مبادلہ اور بینکوں اور قدرتی وسائل کی شکل میں دولت لوٹنے کا ایک وسیلہ جاریہ ہاتھ لگ گیا۔ تارکینِ وطن میں جو چند آزاد کشمیری برطانیہ کے کاروباری میدان میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کامیاب ہوئے تو انہوں نے اپنے وطن میں بینکاری کے ذریعے مقامی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی تو پاکستان میں پیپلز پارٹی کی پہلی جمہوری حکومت نے دن دھاڑے ڈاکہ مار کر ان بینکوں کو بند اور بینکاروں و سرمایہ کاروں کو بدنام کر کے جیل میں ڈال دیا۔

تقسیم سے پہلے اس خطے میں اوپری طبقہ جس کو مہاراجہ راج میں جاری استحصال میں حصہ ملتا تھا وہ مہاراجہ راج میں شریک اہلکاروں، بڑے زمینداروں اور چند کاروباریوں پر مشتمل تھا۔ تقسیم کے بعد اگرچہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی حد تک اسلام اور مسئلہ کشمیر موجود ہے لیکن عملی طور پر اس ہی طبقے سے سیاست میں آنے والے برادری اور علاقہ پرستی کے ہتھیاروں سے پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ خطے کا اختیار اور وسائل بیچ کر عام آدمی اور باقی ماندہ وسائل کو لوٹ کر حکومت اور انتظامیہ میں ''حکمران طبقے'' کی شکل اختیار کر گئے۔

آزاد جموں کشمیر میں جمہوری عمل :

آزاد جموں کشمیر میں جمہوری عمل اس ہی تناظر میں پروان چڑھا۔ 1961 تک تو اس خطے کو، جہاں 1947 میں متحدہ ریاست میں ہونے والے اخری انتخابات کے وقت جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا تھا، کاروبار کے طور پر ”کاروباری قواعد“ (رولز آف بزنس) کے تحت ہی چلایا گیا۔ 1961 تک قانون ساز کونسل کی شکل میں یہ جمہوری عمل جاری رہا لیکن تب تک ”آزادی پسند“ آوازیں ” الحاق پاکستان“ کے نام پر اجارہ داری کے عادیوں کو للکارنے لگیں تو پاکستان کی اس پہلی نام نہاد جمہوری حکومت کے زیر سایہ یہاں خودمختار کشمیر کے حامیوں کو انتخابی عمل اور ملازمتوں سے باہر رکھنے کے لیے ”الحاق پاکستان سے وفاداری“ کے حلف کی شق متعارف کروا کر یہاں کے جمہوری نظام میں جو معمولی سی روح موجود تھی اور فروغ پذیر ہو سکتی تھی اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ یوں اس طبقے کو جس نے مہاراجہ عہد کے استحصالی ڈھانچے میں غالب غیر مسلموں کے چلے جانے کے بعد ان کی جگہ لی تھی مزید کھل کھیلنے کا موقع میسر آ گیا اور آزادی پسند نظام سے باہر اپنی سیاست کرنے پر مجبور ہو گئے۔

حق پرست:

حق پرست کی اصطلاح سے میرا تعارف یہاں آزاد کشمیر کے موجودہ بلدیاتی انتخابات (نومبر دسمبر 2022) میں ہوا ہے۔ یہ ان امیدواروں کے لیے استعمال ہوئی ہے جن میں آزادی پسند اور ترقی پسند دونوں شامل ہیں لیکن انہوں نے الحاق کی شق کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ میرے خیال میں یہ ایک موزوں اور وسیع تر اصطلاح ہے اور آزادی پسندوں اور ترقی پسندوں کے لیے آزاد کشمیر کے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے لیے یہ ایک جامع شناخت ہے۔ یہ در حقیقت ان کی وہ شناخت ہے جو موجود زمینی سیاسی حالات اور حقائق سے پیدا ہوئی ہے اس لیے تمام ”قوم پرستوں، خود مختاریوں، آزادی پسندوں اور ترقی پسندوں“ کو سیاسی جدوجہد کے اس نئے مرحلے پر اس ہی اصطلاح کو اپنانا چاہیے کیونکہ آزاد کشمیر کے اندر وہ سیاسی حق پر ہیں اس لیے حق پرست ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ”الحاق نواز“ جماعتوں میں کوئی حق پر نہیں ہے اور کوئی حق پرست نہیں ہے۔ در حقیقت تمام الحاق پسند جماعتوں میں کارکنان کی اکثریت بنیادی طور پر حق پرست ہے اور رہنماؤں میں بھی کئی ایک حق پرست ہیں لیکن متبادل نہ ہونے کی وجہ سے اس ناحق نظام کا حصہ ہیں۔ درحقیقت آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت حق پرست ہے۔

الحاق کی شق کے بعد حق پرستوں کا ایک بڑا حصہ کچھ مجبوری میں، کچھ احساسِ جرم کے زیر اثر اور کچھ شعوری طور بھارتی مقبوضہ کشمیر کو ’’آزاد‘‘ کروانے کی جدوجہد میں مشغول ہو کر ’’آزاد‘‘ کشمیر کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کو ’’آزادی‘‘ مخالف سمجھنے اور قرار دینے لگے۔ کچھ نے الحاق کی جماعتوں میں شامل ہو کر سیاسی اور انتظامی میدانوں میں روزگار حاصل کر لیا۔

حصہ کیوں لینا چاہیے؟

ریاست کی تقسیم جو مختلف اندرونی اور بیرونی سیاسی، معاشی اور عسکری عوامل کا نتیجہ تھی نظریاتی اعتبار سے وہ ایک اور دو قومی نظریے کی کشمکش سے پیدا ہونے والی ہندوستان کی تقسیم کے عمل سے جڑی ہوئی تھی۔ تقسیم کی لکیر کے ایک طرف آل جموں کشمیر نیشنل کانفرنس جو کہ انڈین نیشنل کانگریس کے قریب اور زیر اثر تھی کو ریاستی باشندوں کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل تھی اور دوسری طرف آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کو جو کہ پاکستان مسلم لیگ کے قریب اور اس کے زیر اثر تھی۔ سوائے چند آوازوں کے بھارتی استعمال میں آنے والے ریاستی علاقوں میں نیشنل کانفرنس یا الحاقِ ہندوستان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قابلِ ذکر مزاحمت اور جدوجہد نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی پاکستانی زیر استعمال علاقوں میں الحاقِ پاکستان کے خلاف۔ بلکہ دونوں حصوں میں کشمیر کی بڑی جماعتوں کی قیادت اور عوام کی بھاری اکثریت ایک طرف سیکولرازم کے نام پر بھارت کے ساتھ (ایک قومی نظریہ) اور دوسری طرف اسلام کے نام پر پاکستان کے ساتھ (دو قومی نظریہ) جانے پر خوش تھی۔ آزاد کشمیر کے علاقوں میں جو لڑائی لڑی گئی وہ ہندو ڈوگرہ راج کے خلاف پاکستان کی سرپرستی میں لڑی گئی جس میں آزاد کشمیر بھر میں غیر مسلم آبادی کا قتلِ عام کیا گیا اور دوسری طرف وادی میں قبائلی حملہ آوروں کے خلاف نیشنل کانفرنس ملیشیاء نے مزاحمت کی اور جموں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اس تناظر میں ہونے والی ریاست کی تقسیم اس لحاظ سے کامل تقسیم تھی کہ ایک طرف بھارت نواز نیشنل کانفرنس اور دوسری طرف پاکستان نواز مسلم کانفرنس کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر سیاسی جماعت موجود ہی نہیں تھی۔

ریاست اور خاص طور سے وادی اور آزاد کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے سرکاری بیانیوں کے غلبے اور اجارہ داری میں تبدیلی کا عمل اس وقت شروع ہوا جب ایک طرف نیشنل کانفرنس اور دوسری طرف مسلم کانفرنس کی حکومتوں کو مختلف خدشات اور الزامات کی بنیاد پر دہلی اور اسلام آباد والوں نے ہٹا دیا اور دونوں طرف مقامی ریاستی حکومتوں کی اندرونی خودمختاری اور تشخص کو پامال کرتے ہوئے دہلی اور کراچی (بعد ازاں اسلام آباد) کی گرفت کو مختلف ترامیم اور اداروں کے ذریعے مضبوط کرنا شروع کیا گیا۔ تفصیلات میں جائے بغیر تبدیلی کے اس عمل کے دو کلیدی مراحل کا مختصر ذکر یہاں مناسب ہوگا۔

پہلا مرحلہ تھا رائے شماری کا۔ اگرچہ اس سے پہلے میرپور میں ایک خود مختاری پسند جماعت ’’عوامی کانفرنس‘‘ وجود میں آچکی تھی لیکن اس کا اثر میرپور کے چند سیاسی کارکنان تک محدود تھا۔ جبکہ شیخ عبداللہ کی معزولی اور گرفتاری کے بعد وادی میں اٹھنے والے رائے شماری کے نعرے کی گونج نے لکیر کے دونوں طرف بھارت اور پاکستان کے بیانیوں کے خلاف ایک نیا سیاسی ابھار پیدا کر دیا۔ اس نے پہلے بھارتی مقبوضہ علاقے اور پھر پاکستانی مقبوضہ علاقے میں محاذ رائے شماری کی شکل میں ایک موثر آزادی پسند پلیٹ فارم تشکیل دیا جس کا اثر ورسوخ قیادت کے سمجھوتوں اور حدود کے باوجود بتدریج فروغ پاتا رہا۔

دوسرا مرحلہ قومی آزادی کا مرحلہ تھا جس نے نوجوانوں میں رائے شماری سے مایوسی کے احساسات سے جنم لیا اور جو مختلف موثر اقدامات اور واقعات سے توانائی پاتا ہوا 1987 میں بھارتی قبضے کے خلاف ایک بڑی عوامی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ مجموعی طور پر بھارت و پاکستان کے بیانیوں کے مخالف ان دونوں مراحل کے دوران ریاست کے دونوں اطراف خاص طور سے وادی، آزاد کشمیر اور تارکین وطن کشمیریوں میں آزادی کے بیانیے کے لیے جگہ اور گنجائش وسعت پذیر رہی۔ پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں اور قبضہ مشینری بشمول مقامی کل پرزوں کے مسلسل جبر اور پروپیگنڈے کے باوجود آزادی کی سوچ و فکر ونظریے کی حمایت میں اضافہ جاری ہے۔ اگرچہ بھارتی مقبوضہ وادی کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد سے مزاحمتی اور آزادی پسند سیاست کی پیدا کردہ اس سیاسی جگہ کو فوجی قبضے میں لے لیا گیا ہے، اکثر آزادی پسند قیادت اور کارکنان کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے اور فوج کی ایک بڑی تعداد اور سول مشینری کے ہاتھوں کئی ایک جابرانہ اقدامات اور ہتھکنڈوں کے ذریعے مزاحمتی سیاست کو ختم کرنے کا کام مسلسل جاری ہے لیکن آزادی کی سوچ و فکر اور امنگیں بہرحال موجود ہیں۔

دوسری طرف آزاد کشمیر میں جیسا کہ اوپر بیان کیا 1975 کی دہائی میں آزاد کشمیر سے آزادی پسندوں کا ایک بڑا حلقہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں مصروف ہو گیا تھا اور آزاد کشمیر سے سینکڑوں جوان بھارتی قبضے کے خلاف لڑنے کے لیے وہاں گئے تھے۔ لیکن اس دوران آزاد کشمیر میں بھی خود مختاری کے نظریے اور ریاست کو فروغ حاصل ہوا۔ اس کے نتیجے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزادی پسندوں کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسند فکر و سیاست کی علمبردار تنظیمیں جو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے بھارتی مقبوضہ علاقے میں تحریک کے مخالف تھے (کہ ”آزادی کی یہ تحریک آزاد نہیں تھی“، اور ”جو جس کے قبضے میں ہے اس کے خلاف وہاں جدوجہد کرے“)، ان کے نظریاتی اثر و رسوخ اور مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ بلکہ لبریشن فرنٹ کے اندر بھی درحقیقت ترقی پسندانہ نظریات کو پذیرائی ملی جس کے نتیجے میں وادی کشمیر کے حالات کے تناظر میں ابھرنے والے اور آزاد کشمیر کے تناظر میں ابھرنے والے خود مختاری کے تصور اور اس کے پرچارکوں میں کشمکش بھی پیدا ہوئی جو مختلف گروہوں کی شکل میں سامنے آئی اور آرہی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں اس وقت حق پرست (آزادی پسند، ترقی پسند) ایک بڑی عددی اور سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ لیکن وہ تاریخ کے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں رائے شماری اور مسلح جدوجہد کے ذریعے قومی آزادی کے مراحل اپنا اپنا کردار ادا کر کے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ حالات ایک نئے موڑ پر آچکے ہیں۔ اس مقام سے آگے بڑھنے کے دو راستے نظر آتے ہیں۔

ایک ہے موجودہ روش قائم رکھنا۔ پوری ریاست کو متحد کرنے کے لیے جس خطے میں موجود ہیں اس کے سیاسی و معاشی حالات سے کٹ کر چلتے رہنا۔ اس کا نتیجہ میرے خیال میں فرسٹریشن اور بیزاری میں اضافے کی شکل میں نکلے گا اور بتدریج یہ تنظیمیں مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر گپ شپ گروپ یا بہت زیادہ ہوا تو اپنے اپنے سرپرستگان کے لیے عارضی دباؤ پیدا کرنے والی قوتوں (پریشر گروپوں) کی شکل اختیار کرتے جائیں گے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ ریاست کے دیگر خطوں کو وہاں بسنے والوں پر چھوڑ دیں اور جس خطے میں موجود ہیں اس کے ہر ایک پہلو اور سطح پر بھر پور شعوری اور منظم حصہ لیں۔

حصہ کیسے لیا جانا چاہیے؟

مثالی طور پر تو اس کا آغاز تمام حق پرست جماعتوں کے قائدین اور حق پرستوں جماعتیں چھوڑ کر پاکستانی یا کشمیری انتخابی جماعتوں میں جانے والے اور حق پرست سیاست کے انفرادی حامی رہنماؤں کی ایک کم از کم دو روزہ مشاورتی کانفرنس سے ہونا چاہیے جس کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر میں ایک جمہوری سیاسی جماعت کے قیام پر اتفاق رائے قائم کرنا ہونا چاہیے۔

اس میں تقریروں کی بجائے مختلف سیشنوں میں جماعت کے قیام کے مختلف پہلوؤں پر ورکشاپیں ہونی چاہیں جن میں جماعت کے قیام، نام، منشور، تنظیم سازی، قیادت و دیگر عہدوں کے انتخابات کے طریقہ کار اور سیاسی حکمت عملی پر اتفاق رائے حاصل کرنے جیسے پہلوؤں اور معاملات پر کھل کر بحث مباحثہ ہونا چاہیے۔

بنیادی اور مرکزی تھیم حق پرست سیاست کی مضبوطیاں، کمزوریاں، خطرات اور مواقع اجاگر کرنا ہونا چاہیے جس کے بعد مضبوطیوں اور مواقع کو عمل جامہ پہنانے اور کمزوریوں کو دور کرنے اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے طریقوں اور درکار وسائل اور ان کے حصول پر حقیقت پسندانہ لائحہ عمل تیار کرنے پر سیشن ہونے چاہیے۔

آخری سیشن میں جماعت کے منشور کے سیاسی، معاشی، اقتصادی، انتظامی اور ثقافتی پہلوؤں پر متعلقہ شعبوں میں دلچسپی اور مہارت رکھنے والے حاضرین پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی جائیں جو اندرون اور بیرون وطن متعلقہ افراد کی مدد سے کمیٹیوں کو وسعت دے کر دی گئی مدت تک تحقیق کر کے اپنے اپنے شعبے کے لیے عملی اور حقیقت پسندانہ دستاویزات تیار کریں۔

ان تمام دستاویزات کی تیاری کے بعد ان کی روشنی میں جماعت کا منشور تیار کیا جائے جس کے بعد رکن سازی کے لیے مدت کا تعین کیا جائے ۔ اس مدت کے دوران ریاست بھر میں اور بیرون ریاست رکن سازی کی مہم چلائی جائے جس کے دوران تمام دستیاب ذرائع استعمال کر کے منشور کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جائے اور جماعت کے تمام ارکان (ابھی سب ارکان ہی ہوں گے کوئی قائد نہیں ہوگا) ممکنہ ذرائع سے معاشی وسائل اکٹھے کریں جو کہ ایک عارضی اکاؤنٹ کمیٹی کے ذریعے جماعت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں ۔

اس کے بعد متفقہ مدت کے بعد انتخابات کا اعلان کیا جائے اور انتخابات میں کوئی بھی کارکن کسی بھی عہدے کے لیے مقابلے میں اپنا نام دینے کا مجاز ہونا چاہیے ۔ انتخابی مہم کے دوران تمام امیدوار جمہوری انداز میں مہم چلائیں اور انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے جیتنے اور ہارنے والے میدان عمل میں عوامی حمایت حاصل کرنے اور جماعت کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے لیے سرگرم عمل رہیں ۔

منشور کی مجوزہ بنیادیں:

ظاہر ہے منشور و آئین اور حکمت عملیوں کارکنان کی مشاورت سے ہی طے کیے جائیں گے تاہم مثال کے طور پر کچھ تجاویز یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

▪ جماعت کی حتمی اور آخری منزل منقسم ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور آزادی اور خود مختاری کا حصول اور ایک فلاحی جمہوری ریاست کا قیام ہوگی جس میں رنگ نسل ذات برادری ، حسب نسب ، صنف ، مذہب فرقے اور علاقے کی تفریق کے بغیر تمام باشندوں کو برابر کے حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

جماعت کی طرف سے منقسم ریاست کے تمام خطوں میں اس منزل کی طرف کارفرما قوتوں اور کاوشوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کے لیے تمام ممکنہ ذرائع اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

جماعت بھارت اور پاکستان کے اندر عوامی حقوق اور آزادیوں کے لیے برسرِپیکار قومیتی، طبقاتی اور عوامی سیاسی قوتوں اور ان کی جدوجہد کے ساتھ باہمی یک جہتی کے رشتے استوار کرنے کے لیے تمام ممکن ذرائع اور وسیلے استعمال کرے گی۔

جماعت کا فوری مقصد آزاد کشمیر میں جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار حاصل کر کے یہاں ایک با اختیار اور باوقار حکومت قائم کرنا ہوگا

ریاست پاکستان کے ساتھ معاہدہ کراچی کو ختم کر کے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کے درمیان برابری اور باہمی وقار کی بنیادوں پر سیاسی، معاشی، اقتصادی، مالی اور انتظامی تعلقات استوار کر کے نئے معاہدے کرے گی۔

جماعت جمہوری اصولوں اور میرٹ کی بنیادوں پر تمام ارکان اور حکومت میں جانے کے بعد تمام باشندوں کو بلا امتیاز برابری کے مواقع اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ جماعت میں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی ایک پورا شعبہ قائم کیا جائے گا جس کا کام ریاست جموں کشمیر کے مقدمے کو دنیا بھر میں متعلقہ حکومتوں، اداروں اور فورموں پر پیش کر کے مدد و حمایت حاصل کرنا ہو گا۔

مسلسل مُہم کے ذریعے الحاق کی شق کے خاتمے کے بعد انتخابات میں حصہ لینا ہے یا اس اعلان کے ساتھ اس شق کے با وجود حصہ لینا ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو اس شق اور عبوری ایکٹ کو ختم کر کے باقاعدہ آئین متعارف کروائیں گے، اس کا فیصلہ کارکنان سے تفصیلی مشاورت اور اکثریتی فیصلے سے کیا جائے گا۔

نچوڑ :

یہ مضمون ذاتی سمجھ بوجھ کی روشنی میں آزاد جموں کشمیر میں موجود اور سرگرم تمام حق پرست جماعتوں اور حق پرست سیاست کے حامیوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ خیال تو کئی سالوں سے پل رہا تھا اور اس پر گاہے بگاہے لکھا بھی لیکن موجودہ بلدیاتی انتخابات میں حق پرست امیدواروں کو ملنے والی پذیرائی سے حوصلہ پا کر کھل کر اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔ اس کا مقصد جمہوری عمل میں حصہ لینے کے حوالے سے ایک مثبت اور صحت مند بحث کا آغاز کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ چونکہ میری حیثیت ایک مشاہدہ کار اور سوچنے والے سے زیادہ نہیں ہے اس لیے اصل کام سیاسی میدان میں سرگرم عمل سیاسی ذہن وفکر اور عملی تجربہ رکھنے والے حق پرست سیاستدانوں کا ہے کہ وہ کس طرح الگ الگ تنظیمی اور نظریاتی دائروں سے نکل کر ایک باقاعدہ اور باضابطہ سیاسی جماعت قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں اور کاوشیں کر سکتے ہیں۔ اس کے بغیر ظاہر ہے کہ یہ تجاویز محض ایک لکھاری کے الفاظ، جملوں اور خواہشوں کا مجموعہ ہی رہیں گی۔

جاگ اُٹھا آزاد کشمیر؟ اب کیا کریں؟

یوں تو ”آزاد“ جموں کشمیر میں مزاحمتی یا متبادل سیاست کرنے والوں کی طرف سے احتجاج کی روایت نئی ہرگز نہیں ہے بلکہ 1947 میں جب مسلم کانفرنس کو ”حکومت“ بنا کر دی گئی تھی تب سے متبادل مزاحمتی سیاست بھی موجود ہی ہے جو 1947 سے پہلے والے میر پور میں موجود تھی۔ تب سے 05 ستمبر 2023 تک بیسیوں تحریکیں ابھریں اور ہزاروں احتجاج ہوئے۔ تاہم ان میں سے کسی تحریک یا احتجاج کی سطح حقیقی معنوں میں آزاد کشمیر اور نوعیت عوامی نہیں تھی۔ نام اور دعوے ضرور ریاستی سطح کے رہے ہیں۔

گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں جب میں دس سال بعد برطانیہ سے واپس وطن گیا تو اپریل 2023 تک قیام کے دوران مختلف سطحوں، پیشوں، سیاسی وابستگیوں کے سیاسی اور ”غیر سیاسی“ افراد سے ملاقاتوں اور بات چیت کے موقع ملے۔ یہ تو واضح تھا کہ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ لیکن متبادل اور مزاحمتی سیاسی جماعتیں جو اب ایک خاصی تعداد میں پائی جاتی ہیں اور کی حمایت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ان میں سے کسی کی طرف سے عوامی مسائل و مشکلات کے خلاف عوام جدوجہد کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہ آئی۔ سوائے اس تاثر کے کہ لوگ بے حس ہو چکے ہیں، جی۔ کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ بریانی کی پلیٹ کو آزادی پر ترجیح دیتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ لوگ اقتداری سیاست دانوں کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ شکنجے پر برادری کے نام کا تالا لگا ہوا ہے اور چابی اقتداری سیاست دانوں کے پاس ہے۔ کچھ کو یہ کہتے بھی سنا کہ جو کچھ لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے یہ ان کا ”علاج“ ہے۔

اس پر یہ مختصر مکالمہ بھی ہوا۔

کیوں بھائی؟

اس لیے کہ ان۔۔۔ کو ووٹ ہی کیوں دیتے ہیں؟ اب بھگتیں۔

تو کس کو ووٹ دیں؟

کسی پڑھے لکھے سلجھے ہوئے شریف آدمی کو۔

وہ کہاں ہیں؟

شریف آدمی تو سیاست میں آتا ہی نہیں جناب۔

خود مختاری والوں سے پوچھا کہ انتخابات میں حصہ لینے میں کیا حرج ہے۔ جواب ملا کہ جب تک الحاق کے نظریے والی شق موجود ہے انتخابات میں جانا ممکن نہیں۔

اس شق کے خلاف مہم بھی تو نہیں چل رہی؟

اس لولی لنگڑی اسمبلی میں چلے بھی جائیں تو کیا ہوگا جی۔ ہمیں تو پوری ریاست کو متحد اور خود مختار بنانا ہے تب جا کر جو اسمبلی قائم ہوگی وہ با اختیار ہوگی۔

تب تک لوگ کیا کریں۔

وہی جو کر رہے ہیں۔ بھاگیں جھنڈی والی گاڑیوں کے پیچھے ٹوٹی سڑکوں پر بھوکے پیٹ اور ننگے پاؤں۔

مایوسی سی مایوسی ہر طرف محسوس ہوئی۔ اس دوران عبدالجبار بٹ کے گھر پر عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں معلوم ہوا۔

عوامی ایکشن کمیٹیاں:

یہ تو پہلے ہی معلوم تھا کہ پونچھ میں گزشتہ سال یعنی 2022 سے کمیٹی متحرک تھی لیکن میں سمجھتا تھا کہ شاید وہ آٹے کی سبسڈی اور پندرھویں ترمیم کی حد تک تھی۔ تاہم اب پتہ چلا کہ کمیٹی نہ صرف متحرک ہے بلکہ اس کے تنظیمی ڈھانچے اور مقاصد میں بھی وسعت پیدا ہو رہی تھی۔

کہیں کہیں اس گیت کی صدا بھی آتی تھی۔۔۔ ہم محنت کش اس دنیا سے جب اپنا حصہ مانگیں گے۔۔۔ اک کھیت نہیں ، اک باغ نہیں ۔۔ ہم ساری دنیا مانگیں گے۔ (شاید فیض احمد فیض کا کلام ہے جو فلم مزدور میں گایا گیا تھا)۔

دوبارہ جولائی 2023 کے آخر میں گیا تو میرپور عوامی ایکشن کمیٹی کوٹلی میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ”گرینڈ جرگے“ میں شرکت کا موقع ملا ۔ یہ پونچھ اور میرپور ڈویژن کی کمیٹیوں کا ”بڑا گٹھ“ ، یعنی مرکزی اجلاس تھا۔ اس میں عمر نذیر صاحب نے موجودہ تحریک کا مختصر پس منظر اور غرض و غایت بیان کی ۔ پس منظر میں دیوار پر لگے بینر پر تین مطالبات لکھے ہوئے تھے

1۔ بجلی کے بلات میں ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ

2۔ آٹا سمیت اشیائے خورد ونوش پر سبسڈی (کھانے پینے کی چیزوں کی رعایتی قیمتوں) کی بحالی

3۔ حکمران طبقات، اشرافیہ اور بجوں کی مراعات کا خاتمہ

اس اجلاس میں جے کے ایل ایف کے دو دھڑوں کے سربراہان سردار صغیر اور ڈاکٹر توقیر کو دیکھ اور سن کر اچھا لگا۔ لیاقت حیات بھی ہوتے تو اور اچھا ہوتا۔ ڈاکٹر توقیر نے اپنے مختصر خطاب میں میرپور عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کرنے والے نوجوان رہنما نعمان عارف کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹیوں کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔

سردار صغیر صاحب نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی اس موجودہ تحریک کا آغاز انجمن تاجران اور سول سوسائٹی نے راولا کوٹ سے کیا تھا۔ بعد میں جب عوام کا رجحان ان کی طرف ہو گیا تو ”لوگوں“ نے ان کی راہ کو درست سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ جڑت کا اظہار کیا۔ سردار صغیر نے کہا کہ عوامی تحریکوں کو دو اطراف سے خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تو بالا دست طبقات کی طرف سے جو تحریکوں میں ”اپنے بندے“ بھیج کر انتشار پھیلاتے ہیں اور دوسرے ان حلقوں اور قوتوں سے جو اپنے حامیوں کو ایکشن کمیٹیوں سے کاٹ کر تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ چتاونی بھی دی کہ تحریک کا ایپی سنٹر ”انجمن تاجران ، سول سوسائٹی“ راولا کوٹ ہے اگر اس کو ”ڈسٹرب“ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ تحریک درست سمت میں موثر انداز میں آگے نہیں بڑھ سکے گی۔

اجلاس کے آخر میں تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے اجلاس میں سے ہی منتخب کردہ ایک کمیٹی نے اجلاس میں پیش ہونے والی تجاویز میں سے چند تجاویز کو منظور کیا۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر مطالبات پورے نہیں کیے جاتے تو ایک طرح کی ”سول نافرمانی“ کا آغاز کیا جائے جس میں بجلی کے بلات جمع کروانے سے انکار، مزید مقامات پر مزید دھرنے اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں قومی ہڑتال۔

اس اجلاس میں یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ عوامی ایکشن کمیٹی میر پور کے جن نوجوانوں کے ساتھ میں گیا ہوا تھا انہوں نے نعمان عارف کی قیادت میں انتہائی متحرک ، مثبت اور موثر کردار ادا کیا۔

واپسی پر میر پور کے نوجوانوں سے بات چیت سے لگا کہ وہ خاصے پر امید ہیں کہ میر پور میں مزید دھرنے بھی دیے جاسکتے ہیں ، بلات جمع نہ کروانے کی مہم بھی شروع کریں گے اور قومی ہڑتال کے لیے بھی کام کا آغاز کر دیں گے۔ تاہم سچی بات یہ ہے کہ مجھے لگتا تھا کہ دھرنے تو ٹھیک ہے سیاسی طور پر سرگرم افراد دھرنا دے لیں گے۔ لیکن بلات جمع کرنے سے انکار یا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے والی امیدیں میرے خیال میں امید سے زیادہ خواہش یا ”خواہشاتی سوچ“ تھی۔

یہاں یہ بتانا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا تصور ریاست میں نیا نہیں ہے۔ میری معلومات کے مطابق ریاست میں پہلی عوامی ایکشن کمیٹی 1964 میں میر واعظ مولوی فاروق نے قائم کی تھی۔ تاہم میری معلومات کے مطابق ”آزاد جموں کشمیر“ میں عوامی کمیٹی سات سال قبل گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے مختلف الخیال گروپوں کو ٹھوس اور روزمرہ کے عوامی مسائل کے گرد ایک پلیٹ فارم پر لانے کے کامیاب تجربے کے بعد شروع کی گئی تھی۔

عوامی رجحان میں تبدیلی؟

چند دن بعد مجھے محسوس ہوا کہ کالگڑھ (اسلام گڑھ) بازار اور ارد گرد کے گاؤں میں مہنگائی اور بجلی بلات وغیرہ کے بارے میں رجحان بدل رہا ہے۔ ایک دم سے عام آدمی کی گفتگو کا رخ پاکستانی جماعتوں کی سیاست سے ہٹ کر تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خاص طورے بجلی کے ’دل کش‘ بلوں کی طرف ہو رہا تھا۔ چند دن بعد موڑ اکھیال کی مسجد سے یہ اعلان سن کر تو میں حیران رہ گیا کہ بجلی کے بل ادا نہیں کرنے بلکہ انجمن تاجران کے صدر جناب یونس فائیکو جنرل سٹور والوں کے پاس جمع کروا دیں ۔ 25 اگست کو میری واپسی تک کوئی ایک ہزار کے قریب انجمن تاجران کے صدر کے پاس جمع ہو چکے تھے۔ مقامی عوامی ایکشن کمیٹی جو کہ رٹھوعہ ہر یام پل کی تکمیل کے لیے قائم ہوئی تھی اس نے بھی دیگر عوامی مسائل پر بھی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔

ادھر میر پور میں بھی عوام کا غم و غصہ ہر طرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ لوگ کہتے تھے ’ بل دے ہی نہیں سکتے تو دیں گے کیا‘۔

اس دوران مظفر آباد ڈویژن جو کوٹلی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ’بڑے گھٹھڈ‘ میں شامل نہیں تھے وہاں سے انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی ، بار کونسل اور دیگر شہری تنظیموں نے سات مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈز (منشورِ حق) پیش کیا۔ اس میں بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کے خاتمے، آٹے کی مصنوعی قلت دور کرنے، حکمران طبقات کی بے جا مراعات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مبرا قرار دینے ، لوہاڑ ٹنل کی تعمیر ، کوہالہ روڈ کو بہتر بنانے اور دارالحکومت کے لیے گریٹر واٹر سپلائی کا منصوبہ شروع کرنے کے مطالبات بھی شامل کیے گئے۔ مطالبات منظور نہ ہونے پر 31 اگست کو ہڑتال اور احتجاج کی کال دی جس پر خوب عمل ہوا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ آزاد کشمیر بیدار ہو رہا ہے۔ لیکن یہ بیداری مختلف ہے۔ نئی ہے۔

میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے مختلف سیکٹروں میں عوامی دھرنے دیے جا رہے تھے اور عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے 05 ستمبر کو قومی ہڑتال کے لیے بھی عوام کو آگاہ اور تیار کرنے کا کام مسلسل جاری تھا۔ میرپور میں اس کے لیے دو تنظیمیں متوازی کام کر رہی تھیں۔ ایک طرف عوامی ایکشن کمیٹی تھی اور دوسری طرف میرپور بار کونسل۔ بار کونسل نے اعلان کیا کہ وہ 05 ستمبر کو چوک شہیداں میں احتجاج کے لیے اکٹھے ہوں گے جبکہ ایکشن کمیٹی نے اس روز شام پانچ بجے سٹیڈیم سے محکمہ برقیات کے دفتر کی طرف جلوس کی شکل میں جا کر وہاں جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ کچھ لوگوں کو اس تقسیم پر بہت مایوسی ہوئی۔ (اس کے پس منظر اور وجوہات کو یہاں شعوری طور پر زیر بحث نہیں لایا جا رہا)۔

سیاسی بیداری؟

05 ستمبر کے روز ہم چند دوست مانچسٹر میں تھے۔ میرا خیال تھا کہ راولا کوٹ اور کوٹلی میں بڑے جلوس جلسے ہوں گے جب کہ میر پور میں شاید اتنے زیادہ لوگ نہ نکلیں۔ لیکن جوں جوں ویڈیوز آتی گئیں اور سجاد جرال صاحب کی وال لائیو ہوتی رہی ہمارے حیرت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ تبصرہ نگار عوام کے جم غفیر کو سکرین پر لا کر پورے اعتماد کے ساتھ دعوے کر رہے تھے کہ یہ میر پور کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔

اس اجتماع میں کی جانے والی تقاریر سے معلوم ہوا کہ اس میں میر پور شہر کے علاوہ اردگرد کے تمام چھوٹے بڑے دیہاتوں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ آئے ہوئے تھے۔ یہ بار کونسل اور انجمن تا جراں کا اجتماع تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میرے ساتھ میر پور کے جو دوست تھے وہ شاید درست ہی کہہ رہے ہیں کہ اب اس اجتماع کے بعد شام کو کیا ہونا ہے۔ تاہم پہلے اجتماع کی طرح ہمارا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا۔ شام کے جلوس کو ”مرکزی دھارے“ کے صحافیوں نے کوئی اہمیت نہ دی لیکن شکریہ خان میر پوری کا جن کی وال پر ہم مختلف سیکٹروں سے آتی ریلیوں کو دیکھتے رہے۔ جب یہ ریلیاں سٹیڈیم میں اکٹھی ہوئیں تو یہ احتجاج بھی ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بڑا اجتماع بن چکا تھا۔

اگر چہ اس کے شرکاء کی تعداد صبح والے جلسے سے تھوڑی کم تھی لیکن یہ عوامی ایکشن کمیٹی کا اجتماع تھا اور یہ لوگ میر پور کے مختلف سیکٹروں سے آئے ہوئے تھے۔ صبح کے جلسے کے برعکس شام کو پولیس کی بھاری نفری بھی برقیات کے دفتر کے باہر تعینات تھی۔ تاہم مظاہرین اور قیادت نے شام کو تقاریر کے بعد واضح ہو چکا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی زیادہ تر ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو پونچھ اور مظفر آباد ڈویژنوں اور کوٹلی وبہمبر ضلعوں کی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر آزاد کشمیر کو مثبت راہوں پر آگے بڑھانے کی تحریک میں کردار ادا کرنے کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔

مظفر آباد کے بعد میر پور بھی بیدار نظر آیا اور پونچھ نے تو سب کو بیدار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا اور شاید آزاد کشمیر کی سطح پر پہلا عوامی احتجاج۔ مطلب جس میں پورے خطے کے عوام نے گاؤں سے شہروں تک ہر مقام پر احتجاج کیا۔ یہ ایک عارضی ابال ہے یا کہ ایک دور رس بیداری؟

اب کیا کریں؟ اس پر بات کرنے سے پہلے چلیے اس کیفیت کو جسے میں ”سیاسی بیداری“ قرار دے رہا ہوں ریاست جموں کشمیر میں عوامی بیداری کے تاریخی پس منظر کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں تا کہ اپنی سوچ اور سمجھ کو تاریخی تناظر اور سیاق و سباق سے کئی مجرد سوچ سمجھ بننے سے بچا سکیں۔

ریاست جموں کشمیر میں سیاسی بیداری کا پس منظر:

جاگنے اور بیداری کی اصطلاحات کو سماجی تغیر (تبدیلی) کے سیاسی تجزئیے اور سماجی تبدیلی کی سیاست میں مرکزی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

جاگنے یا بیدار ہونے کا لغوی یا اصلی یعنی بنیادی مطلب تو ہوتا ہے نیند سے جاگنا۔ جسمانی نیند سے جاگنا۔ نیند جب انسان کا بدن اور دماغ سویا ہوا ہوتا ہے۔ اعصابی نظام قدرے غیر فعال اور شعور معطل ہو یا ہوا ہوتا ہے۔ اپنے ارد گرد سے بے خبر۔

سماجی تبدیلی کی اصطلاح میں بیدارے یا جاگنے سے مراد عوام میں اپنے اجتماعی حالات کے شعور اور اس شعور کے بل پر اپنے حالات خلاف آواز اٹھانا لی جاتی ہے۔ عوامی بیداری کا تصور انفرادی طور پر تو شاید قدیم زمانوں میں بھی استعمال ہوتا ہو لیکن سیاسی معنوں میں یہ اصطلاح جدید عوامی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید عوامی سیاست کی پیدائش سے پہلے سیاست بادشاہوں اور جاگیرداروں کا اختیار اور استحقاق سمجھا جاتا تھا۔ بادشاہ اور جاگیردار حکومت کرتے تھے اور عوام تابع داری۔ یعنی وہ حکم کرتے اور یہ بجالاتے تھے۔

ریاست جموں کشمیر میں عوامی بیداری 1930 کے زمانے میں پیدا ہوئی تھی۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار عوامی حقوق کی ایک فہرست (عوامی تحریک کا پہلا منشورِ حق) بنا کر برطانوی حکومت کے نمائندے کو پیش کرنے سے لے کر 1947 میں ریاست جموں کشمیر کی تقسیم تک اس عوامی تحریک کی وجہ سے ریاست میں تاریخ میں پہلی سیاسی جماعت قائم ہوئی۔ پہلی بار انتخابات ہوئے اور ایک عوامی اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

تاہم اس دوران پہلے قدیر خان کی پراسرار تقریر، گرفتاری اور مقدمے اور پھر ’کشمیر چھوڑ دو‘ جیسے اقدامات سے عوامی ریاستی تحریک پہلے ’مسلمانوں‘ کی اور پھر ’وادی کشمیر کے مسلمانوں‘ کی تحریک تک محدود ہوئی اور پھر تقسیم ہو گئی۔

تب یہ خطہ جس کا سرکاری نام اب ’آزاد جموں وکشمیر‘ ہے وجود میں آیا۔ ’آزاد کشمیر‘ کا تصور ابتداء میں ریاست کے ایک معروف ترقی پسند سیاسی رہنما، مصنف، صحافی اور تجزیہ نگار اور مزدور کسان کانفرنس کے ایک بانی پریم ناتھ بزاز نے 1946 میں پیش کیا تھا۔ بعد ازاں اس کی وضاحت ’آزاد کشمیر : ایک سوشلسٹ جمہوریہ‘ نامی کتاب میں کی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’آزاد‘ کشمیر کو چار معاملات میں پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے اندرونی طور پر خود مختار رہ کر ایک سوشلسٹ جمہوری ریاست کے طور پر قائم کرنا چاہیے۔

مہاراجہ کے مخمصے، پونچھی و میرپوریوں کی بغاوت، پٹیالہ دستوں کی در اندازی، پاکستانی قبائلیوں کی یلغار کے بعد مہاراجہ نے 26 اکتوبر کو مبینہ طور پر بھارت سے الحاق کر لیا اور ریاست کی طرح مزدور کسان کانفرنس بھی دولخت ہو گئی۔ تاہم اس دوران 4 اکتوبر 1947 کو وادی، پونچھ، میرپور اور جموں سے تعلق رکھنے والے کچھ مسلم کانفرنسی رہنماؤں نے ایک عبوری حکومت بنا کر اس کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت قرار دے دیا۔ اس کے دو ہفتے بعد قبائلی جتھے ریاست میں داخل ہو گئے ۔ مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ بھارتی فوج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتر گئی۔ چند ماہ کی مار دھار کے بعد بھارت معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اب تک وہیں پڑا ہوا ہے۔

تقسیم کے بعد:

اس ساری فوجی اور سفارتی / عالمی سرگرمیوں کا زمین پر نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ مختلف اندازوں کے مطابق کوئی اڑھائی تین لاکھ ریاستی باشندے جان سے گئے اور کوئی ڈیڑھ ملین کے قریب ہجرت پر مجبور ۔ تین حکومتیں قائم ہوئیں۔ وادی کشمیر، جموں اور لداخ پر مشتمل ’بھارتی زیر انتظام جموں وکشمیر‘، جموں ، پونچھ اور وادی کشمیر کے کچھ حصوں پر مشتمل ’پاکستانی زیر انتظام جموں وکشمیر‘۔ عام طور پر اقوام متحدہ اور مختلف عالمی تنظیموں / اداروں کے نقشوں اور کاغذات میں ’پاکستانی زیر انتظام جموں وکشمیر‘ میں گلگت بلتستان بھی شامل ہوتا ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان جس کو ’آزاد کشمیر کی طرح مقامی باغیوں نے آزاد کروایا تھا کو اس کے قائدین نے 6 نومبر کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔ پاکستان نے آزاد کشمیر کی طرح ان علاقوں کی اپنی حکومت قائم کرنے کی بجائے 28 اپریل 1949 کو مبینہ طور پر ’آزاد کشمیر‘ کی حکومت کے صدر سردار ابراہیم کے ساتھ کراچی میں ایک پراسرار معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ سردار ابراہیم پہلے تو چپ رہے۔ کچھ نہ کہا کہ مطلوب تھا پردہ ان کا لیکن آخری عمر میں بار بار کہتے رہے کہ میں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ کیے ہوں تو انگلیاں کاٹ لیں ۔ غازی ملت اس وقت بھی خاموش رہے اور پردہ قائم رکھا جب 05 فروری 1948 کو اقوام متحدہ میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی طرح انہوں نے بھی اقوام متحدہ میں تقریر کرنا تھی مگر ان کی جگہ پاکستان کے مشتاق گورمانی نے کر دی۔

بہر حال اگر ریاست جموں کشمیر میں اس وقت کے سیاسی نظریات کو ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ تقسیم اس لحاظ سے ’کامل‘ تھی کہ وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے میں مجموعی طور پر بھارت سے الحاق کی حمایت زیادہ تھی۔ وادی میں نیشنل کانفرنس کی وجہ سے اور جموں ولداخ میں دو قومی نظریہ کی وجہ سے ۔ غیر مسلم پاکستان سے الحاق نہیں چاہتے تھے۔ جبکہ ’آزاد کشمیر‘ اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں مہاراجہ کے خلاف بغاوت ہوئی تھی اور دونوں خطوں میں الحاق پاکستان کا رجحان واضح طور پر غالب تھا۔

اقوام متحدہ نے ریاست جموں کشمیر کی تینوں حکومتوں کو اپنے اپنے خطے کے مقامی معاملات کا انتظام چلانے کے لیے تسلیم کیا تاہم ان میں سے کسی کو پوری ریاست کی نمائندگی یا اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اگرچہ اپنے طور پر شیخ عبداللہ کو ہٹانے کے بعد جو حکومت وہاں بنائی گئی اس نے بھارت کے ساتھ الحاق کی ”توثیق“ کی اور ”آزاد کشمیر“ والے بھی اپنی عبوری یا موجودہ حکومت کو پوری ریاست کی ”نمائندہ“ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

آزادی اور قبضے کا تضاد:

اب ہمارے اس مضمون کی مناسبت سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارتی اور پاکستانی زیر انتظام علاقوں کے اپنے اپنے انتظام کاروں کے ساتھ تعلقات میں اس قدر نظریاتی ہم آہنگی پائی جاتی تھی تو پھر ان تعلقات میں کشیدگی کہاں سے در آئی؟ پیار کی شادی جبری شادی میں کیسے بدلی۔ مختصر جواب اس کا یہ ہے کہ ایک طرف شیخ عبداللہ اور دوسری طرف سردار ابراہیم در حقیقت دونوں ہی ریاست جموں کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کے حامی تھے۔ شیخ عبداللہ 1946 میں کشمیر چھوڑ دو کی تحریک شروع کرنے تک اس نیشنل کانفرنس کے سب سے مقبول رہنما تھے جس نے 1944 میں ”نیا کشمیر“ کے نام سے خطے کی تاریخ میں پہلی بار ایک سیاسی منشور شائع کیا تھا۔ جس میں ”آئینی بادشاہت“ کو تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ منشور ریاست میں کشمیری تشخص کے ریاستی سیاسی تشخص بننے کے عمل کا نقطہ عروج تھا۔ اس میں کشمیر سے مراد پوری ریاست ”جموں کشمیر لداخ اقصائی چن اور علاقہ جات“ سے تھی۔ مگر کشمیر چھوڑ دو کی تحریک پر بیٹھ کر شیخ عبداللہ اس کو واپس وادی کشمیر میں لے آئے۔

سردار ابراہیم بھی 18 جولائی 1947 تک ریاست میں آئینی بادشاہت کے حامی تھے۔ 18 اگست کو مسلم کانفرنس کی مرکزی کمیٹی میں خود مختار کشمیر کی جو قرار داد متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی وہ اس کے رکن تھے یعنی انہوں نے خود مختار کشمیر کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

دونوں ریاست میں حالات بدلنے کی وجہ سے ریاستی مفادات کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے لیے بھارت اور پاکستان کے حکمرانوں کی انگلی پکڑ کر اقتدار میں آنے کے لیے خود مختاری سے منحرف ہو کر الحاق کے گن گانے لگے۔ تاہم دونوں اندر سے بھارتی اور پاکستانی بننے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے دونوں منفرد تشخص اور جیسی تیسی اندرونی خودمختاری پر قائم رہے۔

دونوں پر پاکستان و بھارت کے حکمرانوں کو شک تھا کہ یہ اندر خانے خودمختار یہ ہیں۔ اس لیے ادھر بھارت نے شیخ عبداللہ کو 1953 میں امریکہ کے ساتھ مل کر ’’خودمختاری‘‘ کا اعلان کرنے کے شک میں معزول کر کے قید میں ڈال دیا گیا اور ادھر پاکستان نے سردار ابراہیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ اس کا ردعمل ان کی اپنی جماعتوں اور برادریوں میں ہوا اس سے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارت سے الحاق کے مخالفین کی حوصلہ افزائی ہوئی اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پاکستان سے الحاق کے مخالفین کی ۔

اس کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے زیر سایہ بننے اور ٹوٹنے والی سرکاریں دونوں طور بنتی ٹوٹتی رہیں۔ ہر دو خطوں میں سڑکیں، اسکول، ہسپتال، نلکے ٹوٹیاں، ڈیم، پل وغیرہ جیسی عوامی ضروریات، مختلف شعبوں میں ملازمتوں اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور بجلی و پانی کے بلات وغیرہ کا انتظام اپنے اپنے انتظام کاروں کے ہاں نظام کی نسبت سے چلتا رہا۔ لیکن بھارتی زیر استعمال خطے میں بھارتی قبضے کے خلاف اور پاکستانی زیر استعمال خطے میں پاکستانی قبضے کے خلاف مزاحمت کی سیاست زور پکڑتی رہی۔ تاہم مزاحمت کی اس سیاست میں ایک واضح فرق تھا۔ بھارتی مقبوضہ علاقے میں مزاحمتی سیاست بھارتی قبضے اور الحاق بھارت کے خلاف تھی۔ لیکن پاکستانی خطے میں پاکستانی قبضے اور الحاق پاکستان کی مخالف قوتوں کی توجہ بھی بھارتی مقبوضہ علاقے خاص طور سے وادی کشمیر اور وہاں بھارتی قبضے پر ہی مرکز رہی۔

خاص طور سے 1988/89 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ’’مسلح تحریک‘‘ کے آغاز کے بعد تو پاکستانی زیر استعمال علاقے ’’آزاد‘‘ کشمیر یا پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے بھارتی قبضے کے خلاف تحریک کے ذریعے اپنا قبضہ پکا کرنے کی پالیسی کے خلاف بات کرنے کا مطلب تھا ’بھارت کے قبضے کو جائز قرار دینا “- ”آزادی پسندوں اور مجاہدوں کی مخالفت کرنا۔ کشمیر کی آزادی کی مخالفت کرنا۔ پاکستان کی مخالفت کرنا لہذا اسلام کی مخالفت کرنا “۔

یہ سب کچھ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ برطانیہ میں بھی اور ’آزاد “کشمیر میں بھی اور پھر گزشتہ کوئی دس پندرہ سالوں کے دوران وادی کے کچھ اس تحریک کے اندر فعال کرداروں ،نوجوان نسل کے کچھ طلباء، مصنفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں سے بات چیت کے ذریعے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہاں کیسے سب کچھ شروع ہوا اور پھر کیسے ”نظریاتی “فرق کی وجہ سے تقسیم در تقسیم اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا عمل پیدا ہوا اور پھر کیسے مزاحمت کی پرامن اور سیاسی شکل کا زندہ رہنا بھی ناممکن ہو گیا۔

اب کیا کریں ؟ مزاحمتی سیاست سے عوامی سیاست کی طرف ؟

یوں اس ”آزاد “کشمیر میں مزاحمتی سیاست محاذ رائے شماری کے قیام سے قبل کے عرصے اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے بیانات اور کبھی کبھی چھوٹے موٹے احتجاجوں کے سواء یہاں وسائل کے استحصال ، انفراسٹرکچر کی پسماندگی ، منصوبوں کی عدم تکمیل ، ملازمتوں میں بے ایمانیوں ، اداروں میں بدعنوانیوں ، برادریوں کے نام پر اپنی ہی برادریوں کے استحصال ، مہنگائی کے ساتھ ساتھ بجلی کے زیادہ بلات اور ان پر طرح طرح کے ٹیکسوں کے بارے میں احتجاج تو ہوئے ، تقریریں بھی ہوئیں لیکن کوئی واضح تحریک چل کر قائم نہ رہ سکی ۔

بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ اس کام کا کم از کم آغاز پہلی بار عوامی ایکشن کمیٹیوں نے کر دیا ہے۔ جس طرح عوام نے اس تحریک میں شرکت کی ہے اس سے صاف ظاہر اور واضح ہے کہ عوامی تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اس بنیاد کو مضبوط کر کے اس پر کیسی عمارت تعمیر کی جانی ہے اور وہ کتنی مضبوط ہوگی ، اس میں مختلف خیالات اور نقطہ ہائے نظر کو سمونے کی کتنی گنجائش اور ”آزاد “جموں کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کو عوام کی شرکت سے حل کرنے کے لیے کتنی اہلیت وصلاحیت ہوگی اس کا دارومدار عوامی ایکشن کمیٹیوں کی قیادت اور عوامی ایکشن کمیٹیوں سے باہر اس تحریک کا حصہ بننے والی قوتوں جن میں بار کونسلیں اور قوم پرست جماعتیں سرفہرست ہیں کے طرزِ عمل پر ہوگا۔

اس وقت یہ تحریک فوری طور پر یا جلد از جلد مفت یا لاگت کی قیمت پر بجلی حاصل کرنے، اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں کمی لانے اور حکمران طبقات کی بے جا نو آبادیاتی حاکموں کے جیسی مراعات کے خاتمے کے لیے ہے۔ لیکن تاریخی حالات عوامی ایکشن کمیٹیوں کو ایسے مقام پر لے آئے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے حال اور مستقبل کے حوالے سے ایسی عوامی سیاست کو فروغ دیں جو اس خطے کے بنیادی مسائل سے نپٹ سکے۔

1۔ حقیقی حالات کے حقیقی اور ایماندارانہ جائزے کے بعد یہاں قائم فرسودہ، پسماندہ اور عوام کی زندگیاں مشکل بنانے والے ڈھانچے کے متبادل موجودہ حالات کا عکاس اور عوام کی زندگیاں بہتر بنانے والے بیانیے اور سیاست کو عام کرنا ہوگا۔

2۔ ایک مخصوص نظریے کے نام پر آزاد کشمیر کے دیگر باشندوں کو سیاست اور عوامی دفاتر سے دور رکھنے کی سیاست کو بھی پرامن طور پر جمہوری میدان میں چیلنج کر کے یہاں ایک بہتر جمہوری اور بااختیار و باوقار حکومت کے قیام کے لیے بھی راہ ان ہی کو ہموار کرنا ہوگی۔

3۔ اس راستے پر عوامی تحریک کو ”آزاد“ جموں کشمیر کے اندر اور باہر ان تمام افراد اور تنظیموں کی مدد و حمایت کی ضرورت ہوگی جو آزاد کشمیر میں ایک حقیقی نمائندہ حکومت، معاشی خوش حالی ، بدعنوانیوں سے پاک انتظامیہ، عوام کے مفادات کا خیال کرنے اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا مقصد رکھنے والے سیاسی نمائندے اور ارکان اسمبلی اور انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرنے والی عدلیہ چاہتے ہیں۔

بیرونی قبضہ اور ریاست کا مستقبل :

جہاں تک پاکستان کے قبضے کا تعلق ہے یہ تحریک اس کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان کے قبضے کا تعلق پوری ریاست جموں کشمیر کی آزادی سے ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کے متعلقہ احکام اور اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ یہاں بدلتے ہوئے مادی حالات کا پوری ریاست کے تاریخی اور موجودہ تناظر کے ساتھ ساتھ پاک بھارت اور جنوب ایشیاء کے حالات کی روشنی میں تجزیہ کر کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کا جائزہ لے کر وہاں انتخابات اور پبلک سروس میں جانے کے لیے الحاق کی شق کا فوری خاتمہ کریں۔ اس کی بجائے اس شق پر اتفاق کر لیں کہ خودمختار کشمیر والے جیت کی صورت میں اپنے خطے کی خودمختاری کا اعلان نہیں کریں گے۔

آزاد جموں کشمیر کے وسائل کے استعمال اور یہاں بڑے منصوبوں کے حوالے سے برابری کی بنیاد پر باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک ایماندارانہ معاہدہ کریں اور جب تک پوری ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا اس معاہدے کے تحت عوامی مفادات میں یہاں کے معاملات چلائیں۔

یہ تحریک بھارت کے ساتھ الحاق کی تحریک بھی نہیں ہے۔ تاہم کچھ ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ بھارت سرکار اور خفیہ ادارے اس صورت حال کو بالکل اسی طرح استعمال کر سکتے ہیں جس طرح کہ پاکستان سرکار اور خفیہ اداروں نے وادی کشمیر میں الحاق بھارت کے خلاف ”پاکستان نواز“ اور ”خودمختاری نواز“ ، کشمیری حلقوں کو استعمال کیا۔ اس پہلو پر یہاں سیر حاصل بحث نہیں کی جا سکتی اس لیے اس پر الگ سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔

آزاد کشمیر میں عوامی تحریک کو عوامی ہی رہنے دیں

میاں محمد بخشؒ نے کہا تھا۔۔۔ خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی

اور بابا بلھے شاہ نے لکھا تھا۔۔۔ منہ آئی بات نہ رہندی اے

کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے۔ لیکن ہم جس عہد میں رہ رہے ہیں اس کی پہچان سوشل میڈیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سب پردے ہٹ رہے ہیں۔ خاص و عام کے بھی۔

اور منہ آئی بات کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں کہہ ہی دیتا ہے۔ سچ مچ کے یا صاف اور واضح۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی ایک سوچ و خیال یا نظریے کی اجارہ داری قائم ہو بھی جائے تو زیادہ دیر نہیں چل سکتی بشرطیکہ اس میں سب نظریات کو سمونے کی گنجائش ہو۔ اس کا سیاسی مطلب یہ ہے کہ اس میں سوچ و فکر کے سو پھولوں کو کھلنے دینے کا حوصلہ ہو۔

یہ کوئی انکشاف والی بات نہیں ہے کہ ہمارے (پاکستان اور آزاد کشمیر کے) تعلیمی نصاب میں تاریخ اور معاشرے کے بارے میں مجرد اور اکثر خلافِ حقیقت علم حالات اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر، مصنوعی طور پر مقدس بنا کر بچوں کے دماغ میں ایک طرح سے ٹھونسا جاتا ہے۔ اکثر واقعات، حالات اور معاملات و شخصیات کو صرف ایک (عموماً) سرکاری نقطۂ نظر سے دیکھنے کی تربیت دی جاتی ہے اور مختلف نقطۂ نظر یا موقف کو سننے کی حوصلہ شکنی بلکہ ممانعت کی جاتی ہے۔ نتیجے میں ایک تنگ نظر اور متعصبانہ سرکاری بیانیہ بنتا ہے جس میں جبر اً دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش اور جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ مختلف نقطۂ نظر دین و وطن دشمنی اور کفر و غداری نظر آتا ہے جس کو روکنا سرکاری موقف کے مطابق قومی اور دینی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔

بُرا ہو اس سوشل میڈیا کا اس نے یک نظریاتی معاشرے کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ عام اور خاص کی باتیں ’’عوام‘‘ کی باتیں بن رہی ہیں۔
جب تک معلومات اور اطلاعات کے ذرائع (ذرائع ابلاغ) اور تحقیق و جستجو پر سرکار کا قابو اور اختیار تھا تب تک تو معاملہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہا۔ اگرچہ تب بھی مختلف نقطہ ہائے نظر پیدا ہوتے اور فروغ پاتے رہے مگر صرف ایک مخصوص دائرے میں ہی محدود رہتے تھے۔ ’’ہم خیالوں تک‘‘۔

تاہم جب سرمایہ دارانہ معاشروں میں پروان چڑھنے والے تخلیقی دماغوں نے ابلاغ اور رابطوں کے لیے نئی کاوشیں کیں جو مقبول عام اور منافع بخش ہو گئیں تو ریاستوں کے بظاہر قوی اور مضبوط و مربوط حصار و اختیار کی دیواریں دھڑام دھڑام گرنے لگیں۔

انٹرنیٹ اور اس سے جڑی ایجادات و تخلیقات کے نتیجے میں عام عوام کو معلومات تک رسائی اور عام آدمی کے لیے معلومات کی ترسیل کے معاملات میں دنیا صرف تیس سالوں میں اتنی بدل گئی جتنی شاید اس سے قابلِ پوری تاریخ میں نہیں بدلی تھی۔

جس طرح چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد اس سے قبل کے ’’علم گھوٹ‘‘ نظام بتدریج فرسودہ اور غیر متعلق ہوتے گئے اسی طرح اب سوشل میڈیا کے عہد میں وہ تمام معاشرے جہاں مختلف الخیالی کو برداشت نہیں کیا جاتا ان کی فرسودگی اور غیر متعلقیت بے نقاب ہو رہی ہے اور ٹھوس اصلاحات لائے بغیر فقط جبر کے ذریعے سیاسی تحریکوں، شاعروں اور ادیبوں کو خاموش کرنے کی پالیسی کے ذریعے تبدیلی کو نہیں روکا جا سکتا بلکہ جبر کے یہ سارے ہتھکنڈے اور ان کو استعمال کرنے والے تانے بانے بھی بہہ جائیں گے۔

تاہم تاریخ یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ جبر و استبداد کے ماحول میں کبھی کبھی بغاوت بھی وہی شکل اختیار کرتی ہے۔ یک خیالی، یک رنگی، یک سمتی بغاوت کامیاب ہو جانے پر بھی علم و ادب اور انسانی فکر غلام ہی رہتی ہے۔ ایک مخصوص سانچے میں جھکڑی ہوئی۔

آزاد جموں کشمیر میں موجودہ تحریک جس نے موجود حکومتی اور معاشرتی ڈھانچے کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں، جو پھوٹی تو بنیادی انسانی ضروریات اور حقوق کی شکل میں ہے لیکن اس کی جڑیں عوامی شعور بیدار کرنے کی ایک طویل جدوجہد کارفرما ہے۔ یہ جدوجہد اسلامی حقوق العباد کے تصور کے ساتھ ساتھ قوم پرستی، قومی آزادی اور ترقی پسندی کے ان نظریات کی روشنی میں آگے بڑھتی رہی ہے جو مغرب میں روشن خیالی، سرمایہ دارانہ معیشت اور صنعتی انقلاب کے ادوار میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے اور نو آبادیاتی نظاموں کے ذریعے پھلے پھولے اور پھیلے۔ یہ چار صدیوں کا قصہ ہے۔ ان چار صدیوں میں مغرب اور کچھ مشرق بھی ان نظریات کے عروج و زوال کے تجربات سے گزرا اور ان کی کمزوریوں کو سہا اور مضبوطیوں سے مستفید ہوا اور نظریہ ارتقاء پذیر رہا ہے۔

آزاد جموں کشمیر میں حالیہ عوامی تحریک نے جہاں حکومتی اور عمومی ڈھانچے کو جھنجھوڑا ہے وہاں مزاحمتی یا متبادل سیاست کی حدود کو بھی بے نقاب کر کے اس کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اس تحریک کو شروع دن سے ہی مزاحمتی ( قوم پرستی اور انقلاب ) کی سیاست کے قائدین اور کارکنان کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت حاصل رہی ہے۔ تاہم لانگ مارچ کے اختتام پر ہونے والے کئی ایک واقعات اور خاص طور سے عوامی حقوق کے شہدا کے جنازے پر ہونے والی تقاریر اور اس کے بعد بھی سوشل میڈیا پر مختلف یا مخالف خیالات اور موقف کو علم، دلیل اور ثبوت سے جواب دینے کی بجائے وہی غداری اور کفر، بے غیرتی کے الزامات و فتوے جن کے خلاف جدوجہد کا دعویٰ ہے بہت سے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تنظیموں کے اندر جذبات بھڑکانے، ہیرو پرستی اور نظریہ پرستی کے علاوہ اور کوئی خاص تربیت کا نظام موجود نہیں ہے۔ جن تنظیموں میں سٹڈی سرکلز ہوتے ہیں ان میں بھی اکثر نظریاتی رٹہ بازی یا انقلابی نظریہ سازوں سے عقیدت کی مضبوطی کو ہی مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے سماج کے معروض کی باتیں تو ہوتی ہیں لیکن معروض کے مطابق نظریات کو ڈھالنے کی بجائے معروض کو نظریات کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں سیاسی حکمت عملی معروض کی عکاس نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسی تاریخ ساز عوامی تحریک جو مثبت، صحت مند، تعمیری اور ترقیاتی رجحانات اور امنگوں سے بھری ہوئی ہے وہ ’الحاق اور خود مختاری‘ کی بحث کی نذر ہوتی نظر آرہی ہے۔ مسئلہ بحث سے نہیں ہے لیکن جس طرح سے یہ بحث ہو رہی ہے وہ طرز مسئلہ ہے۔ جیسا کہ اوپر لکھا۔ بحث جذباتیت، نفرت،
الزام تراشی اور فتوے بازی سے لتھڑی نظر آتی ہے۔

اس کا فائدہ براہ راست ان قوتوں کو ہو گا جن کے پاس اپنی فرسودگی کی وجہ سے نئی عوامی
لہر کو گہری اور وسیع تر اصلاحات کیے بغیر یعنی خود کو بدلے بغیر یا اس لہر میں بہہ جانے کے بغیر تیسرا کوئی
راستہ نہیں۔ البتہ اس بحث میں شدت اور گرمی کے نتیجے میں اصل مسائل اور معاملات سے عوامی توجہ
کے ہٹنے اور اس سے پیدا ہونے والی تقسیم کو وہ ضرور اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ پہلے دن سے
آزاد کشمیری حکمران حلقوں کی کوشش تھی کہ یہ تحریک عوامی حقوق کے راستے سے ہٹ کر خود مختاری
کے راستے پر جائے اور وہ اس کو حقوق کی بجائے سیکورٹی یعنی ملکی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش کریں۔ تاہم
قوم پرست، ترقی پسند اور عوامی تحریک کی قیادت نے بہت سی مشکلات کے باوجود مل کر اس کو عوامی
مسائل اور حقوق پر مرکوز رکھا جس کی وجہ سے یہ واقعی عوامی تحریک بن کر ابھری۔ اب بھی سب اس
تحریک کے ساتھ کھڑے رہ کر جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ، جو کہ ایک فطری بات ہے، ان کو
ایماندارانہ بحث مباحثے سے تحریک کے اجتماعی دائرے اور طریقہ کار (ایس او پیز) کے اندر مل بیٹھ
کر حل کیا جا سکتا ہے۔ تحریک کے کارکنان اور ریاست کے اس حصے کے شہری کی حیثیت سے۔ اپنی
اپنی نظریاتی ٹوپیاں ایک طرف رکھ کر۔ تحریک کی قیادت میرے خیال میں تحریک کے اندر مختلف
سیاسی نظریات اور خیالات سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ اس تحریک میں
سے خود مختاری اور سوشلسٹ انقلاب نہیں نکل سکتے تاہم انقلابی اصلاحات نکل سکتی ہیں۔ لہٰذا اس
تحریک کو عوامی ہی رہنے دیں اور اس کی سیاست کو فلاح کی انقلابی اصلاحات تک ہی رکھیں۔

میرے خیال میں ٹھیک اس وقت مزاحمتی سیاست کے تمام رنگوں کی تمام تر توجہ ایف آئی

آروں کا خاتمہ، اسیران کی رہائی، 4 فروری 2024 کو چارٹر آف ڈیمانڈز کے بقایا مطالبات

بارے ’نوٹی فیکیشن‘ پر عمل درآمد، تحریک کے دورن سول اور پولیس کے شہدا اور زخمیوں بارے

عدالتی کمشن پر مرکوز رہنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک کے مستقبل پر بھی کمیٹی کے اندر خوب اور کھل کر بحثیں ہونی چاہئیں اور ہر ایک الزام خاص طور سے ’’بھارتی ہاتھ‘‘ بارے الزامات کا ٹھوس جواب کمیٹی کی طرف سے آنا چاہیے اور الزامات لگانے والوں کو عدالت میں لے جانا چاہیے۔

آزاد کشمیر عوامی حقوق تحریک پیسے کہاں سے آئے؟

11 مئی 2024 کو آزاد جموں کشمیر میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے ایک تاریخ ساز عوامی مارچ کے بعد یہ سوال میں نے کچھ روایتی سیاستدانوں اور صحافیوں سے سُنا کہ ”لانگ مارچ میں شریک اتنی بڑی تعداد کے سفری، کھانے پینے اور رہائش کے اخرجات کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟“۔ اس کے بعد وہ دعویٰ کرتے ہیں یا تاثر دیتے ہیں کہ پیسے بیرونی ذرائع سے آئے اور کچھ کا اشارہ انڈیا کی طرف ہوتا ہے۔ اپنے اس دعوے کی بنیاد اپنے اس تجربے کو بناتے ہیں کہ ہم دو چار سو لوگوں کا جلوس جلسہ کریں تو سفر اور کھنے پینے پر لاکھوں روپے اٹھ جاتے ہیں۔ یہ تو کئی ہزار لوگ تھے۔ میں نے جواب میں جب یہ کہا کہ سب کچھ تو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ یہ عوام کا مارچ تھا جس کے لیے پیسے بھی عوام نے خود خرچ کیے کیونکہ میری معلومات کے مطابق لوگوں نے اپنی ٹرانسپورٹ، گاڑیاں، موٹر سائیکل وغیرہ استعمال کیے یا شئیر کیے اور کھانے پینے اور رہائش کے لیے ہر قصبے اور شہر میں میزبانوں نے انتظامات کیے تھے۔ ہوٹلوں، دوکانوں اور گھروں میں مظاہرین کو خوش آمدید کہا گیا۔ لیکن ان کے لیے یہ ماننا مشکل تھا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی رہی تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ عوام کو ہم جانتے ہیں۔ عوام تو پیسے خرچ نہیں کرتے بلکہ لیتے ہیں۔ کوئی مفت کچھ نہیں دیتا۔ سب کہانیاں ہیں۔

ایک اور سیاستکار صاحب نے ایک اور جگہ عوام کے بارے میں جب ایسی ہی بات کی تو میں نے پوچھا آپ جب الیکشن لڑتے ہیں یا برطانیہ دوروں پر جاتے ہیں یا یہاں الیکشن کے دوران جلوس جلسے کرتے ہیں تو آپ کے جو حمایتی خرچ اٹھاتے ہیں وہ بھی عوام ہی سے ہوتے ہیں نا؟

ہاں ہاں ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا

کیا مفادات ہوتے ہیں ان کے؟ میں نے پوچھا۔

کسی کی زمین کا مسئلہ حل کرانا ہوتا ہے، کسی نے پلازہ بنانا ہوتا ہے، کسی نے شریکوں کو جلانا ہوتا ہے۔ کسی نے کسی کو اندر کرانا ہوتا ہے اور کسی نے کسی کو چھڑانا ہوتا ہے۔ کچھ بس صرف توڑ پھار کے لیے ہی خرچے کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے سمجھایا۔

تو آپ کے خیال میں کیا اس مارچ کو کامیاب کرانے میں عوام کے مفادات نہیں تھے؟ میں نے پھر سوال کر دیا۔

اونہیں نہیں، جن مفادات کے لیے یہ مارچ تھا، ان کے لیے کوئی جیب سے کچھ خرچ نہیں کرتا۔

اگلے روز میں نے مارچ میں شرکت کرنے والے کچھ دوستوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے وہی بتایا جو میں نے اوپر لکھا کہ ہر گاؤں، قصبے، شہر جہاں سے مارچ گزرا انہیں کسی بھی چیز کے لیے ادائیگی نہیں کرنا پڑی۔ کئی جگہوں پر انہوں نے دوکانداروں اور ہوٹل والوں سے کہا بھی کہ ہم پیسے دے سکتے ہیں، ، آپ لے لیں لیکن کسی نے پیسے نہیں لیے۔ راولاکوٹ اور مظفر آباد میں رہائش اور کھانے کے لیے یوں لگتا تھا کہ ہر ایک گھر کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور لوگ گھروں سے کھانا پکوا پکوا کر مظاہرین کے لیے لا رہے تھے۔

گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی مرمت کے لیے مارچ کے ساتھ بھی رضا کار مکینک موجود تھے اور دوکانوں پر بھی مرمت کے لیے جائیں تو مکینک پیسے نہیں لیتے تھے۔ ایک دوست جو برطانیہ میں ہوتا ہے اس نے 13 مئی کو فون پر بتایا کہ میں نے مظفر آباد اپنے رشتہ داروں کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں رات ایک بجے تک کھانا پکتا رہا۔ ایک بجے ہم کھانا لے کر گئے تو باہر کوئی کھانا لینے والا نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا صرف ہمارے گھر میں نہیں تھا اکثر گھروں میں یہی ہو رہا تھا۔ اور وہ ریڑھی والا بچہ جس نے ستر ہزار کا فروٹ اپنی ریڑھی سے مظاہرین کو مفت دیا تھا اس کی ویڈیو تو سوشل میڈیا پر وائرل رہی۔

تاہم روایتی سیاستدانوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہے۔ کیونکہ ان کے جلسے جلوسوں میں لوگ مفت نہیں جاتے۔ اس لیے ان کا دماغ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ کسی سیاسی جلسے جلوس میں لوگ جیب سے پیسے لگا کر بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اس خطے میں متبادل یا مزاحمتی سیاست کی تاریخ اور اس کے ارتقاء سے واقف نہیں ہیں؟ یا جہاں وہ ہیں وہاں سے مزاحمتی سیاست اتنی معمولی سی محسوس ہوتی ہے کہ اس کے بارے میں جاننے کی کبھی انہیں ضرورت ہی نہیں پڑی؟

یہاں میں آزاد کشمیر میں سیاسی ارتقاء کے اس پہلو کا پس منظر ممکنہ حد تک مختصر رکھ کر پیش کر رہا ہوں۔ خاص طور پر اقتداری جماعتوں کے ان کارکنان کے لیے جن تک یہ شاید نہیں پہنچ سکا اور جو سمجھتے ہیں کہ اس تحریک کے پیچھے کچھ خفیہ ہاتھ ہیں۔ یہ پاکستان کے ان ارباب اختیار اور اداروں کے لیے بھی ہے جو ریاست جموں کشمیر کے ان خطوں کو بہت زیادہ حساس سمجھ کر یہاں سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے یہاں کے حقیقی مسائل اور حقوق کی مستند عوامی آوازوں کو بھی بیرونی اشاروں پر بولنے والے سمجھ کر چپ کروانے میں کوشاں رہتے ہیں۔

خواصی جمہوریت اور عوامی جمہوریت

آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال کو سیاسیات کی روشنی میں دیکھنے سے ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال یہاں خواصی اور عوامی جمہوریت کے درمیان کشمکش کا اظہار ہے۔ اس کو قدیم اور جدید کی کشمکش بھی کہا جا سکتا ہے۔ (اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی تہ میں معاشی اور مادی عوامل کو نظر انداز کر رہا ہوں۔ تاہم چونکہ یہاں بنیادی مقصد سیاسی کشمکش کو واضح کرنا ہے اس لیے سیاسی پہلو پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔)

بظاہر آزاد جموں کشمیر میں روایتی سیاستدان جو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن لڑتے اور منتخب ہوتے ہیں، جمہوری سیاست کا حصہ ہیں۔ درحقیقت ان کو ہی عوام کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور موجودہ تحریک کے دوران اور بعد میں وزیر اعظم سے لے کر کئی اسمبلی ارکان تک نے کئی بار کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کو اگر عوام کی نمائندگی کا شوق ہے تو انتخابات جیت کر اسمبلی میں آئیں نا۔

اب اگر ایمانداری سے 1947 میں آزاد جموں کشمیر کے قیام سے لے کر آج تک کے عرصے پر غور کریں تو پہلے مسلم کانفرنس، پھر پیپلز پارٹی اور اس کے بعد نون لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ہی الیکشن جیتتے چلے آرہے ہیں۔ ایکٹ 1974 میں الحاق سے وفاداری والی شق سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ مطلب اکثریت ان جماعتوں کو ہی ووٹ دیتی آرہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنوب ایشیاء خاص طور سے ہندوستان بشمول ریاست جموں کشمیر میں برطانوی راج سے پہلے صدیوں تک قبائلی و جاگیردارانہ اور بادشاہی نظام قائم چلا آرہا تھا جس میں ذات برادری اور نسلی پس منظر کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ جدید عوامی سیاست جو مغرب میں قوم پرستانہ اور ترقی پسندانہ لبرل اور روس میں سوشلسٹ انقلابوں کے زیر اثر ہندوستان میں نوآبادیاتی راج کے خلاف پیدا ہوئی اس کے بتدریج پروان چڑھنے کے نتیجے میں یہاں لبرل جمہوریت اور انقلاب کی نظریاتی سیاست کو فروغ ملا۔ کئی خطوں خاص طور سے شہروں میں سماجی تنظیم اور سیاست کی قدیم شکلوں پر یہ نئی سیاست حاوی ہوگئی تاہم بے شمار خطوں میں سیاست پرانی ڈگر پر چلتی رہی۔

ریاست جموں کشمیر میں 1930 سے جدید عوامی سیاست کے نتیجے میں سری نگر، جموں اور میرپور شہر میں قدیم سماجی تنظیم ”برادری“ کے مقابل جدید تنظیم ”سیاسی“ جماعت کو خاصی حد تک فروغ ملا۔ آزاد کشمیر جہاں مسلم کانفرنس کی اکثریت تھی یہاں سیاست میں غیر مسلم حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں اسلامی عنصر کے استعمال نے ایک مختصر عرصے کے لیے سیاست میں برادریوں، قبیلوں اور ٹبروں کی کے مقابلے میں مسلم شناخت کی اہمیت میں اضافہ کر دیا۔ 1947 میں ”آزاد کشمیر“ کے قیام کی تحریک کی کامیابی کے بعد جب اس خطے سے مہاراجہ راج اور غیر مسلم اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے

گئے یا مار دیے گئے تو مسلمان آبادی کی اکثریت نے اس امید پر مسلم کانفرنس اور اس کے ذریعے

پاکستان سے وابستگی کا اظہار کیا کہ صدیوں سے قائم اونچ نیچ کے استحصالی نظام سے ان کو اسلام میں

حقوق العباد کے تصور کے مطابق آزادی ملے گی۔ تاہم جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ عملی طور

پر آزادی صرف ان ہی کو ملی ہے جو مہاراجے ، اس کے افسروں ، اس کے جاگیرداروں اور شہر کے

دوکانداروں کی جگہ آکر بیٹھے ہیں۔ وہ راج نہیں بدلا جس نے ان کو غربت وافلاس اور کسمپرسی و بے بسی

کی زنجیروں میں جکڑاہوا تھا۔

مہاراجہ کے بعد مزاحمتی اور حقوق کی سیاست

لوگوں نے جب دیکھا کہ درحقیقت مہاراجہ گیا ہے مہاراجہ نظام نہیں تو انہوں نے تین
راستے اپنائے ۔ اکثریت نے یہ راستہ چُنا کہ نئے حکمرانوں سے وفاداری کے بدلے ملازمتوں،
سیاست ، کاروبار، ٹھیکوں اور پرمٹوں وغیرہ میں جو حصہ ملتا ہے لے لیں ۔ چوہدری نور حسین صاحب
نے بیچ کا راستہ اپناتے ہوئے میر پور میں جمہوری سیاست کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر مزاحمتی
سیاست سے بھی قریبی تعلق رکھا جس کے نتیجے میں ان کو اکثر انتخابات میں مزاحمتی سیاست کے ووٹ
بھی ملتے رہے۔ ایک چھوٹی سی اقلیت جو میر پور شہر میں تھی نے عبدالخالق انصاری ایڈووکیٹ اور
صوفی محمد زمان کی قیادت میں اس نئے نظام میں عام آدمی کی مشکلات و مسائل اور ریاست کی تقسیم
اور غلامی کے خلاف آواز اٹھانے کا مشکل راستہ اپنایا۔ تینوں راستوں کے کچھ مسافر کسی مقام پر اپنا
راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر بھی نکل کھڑے ہوتے رہے۔

آزاد کشمیر میں مزاحمتی یا متبادل سیاست اس تیسرے راستے پر ہی پروان چڑھی۔ شروع

میں میر پور کے چند گھرانوں تک محدود ہونے کے بعد بتدریج اس میں مختلف برادریوں کے تعلیم یافتہ

لوگ شامل ہوتے گئے۔ باضابطہ یا حمایتی بن کر ۔ آج اس کی مختلف نظریاتی شکلیں یا رنگ آزاد

کشمیر بھر میں اور دنیا کے مختلف ممالک میں آباد تارکین وطن کشمیریوں میں موجود ہیں۔ اس راستے پر پروان چڑھنے والی سیاست کی اہم اور نمایاں صفت یہ چلی آرہی ہے کہ اس میں عموماً قبیلے اور برادری کی بنیاد پر حمایت یا مخالفت کی بجائے نظریات اور میدانِ عمل میں کردار کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ نظریاتی طور پر اس میں قوم پرستی، قوم پروری، ترقی پسندی اور انقلاب کے کئی رنگ ملتے ہیں لیکن ریاست کی وحدت و خودمختاری سب میں مشترک رہی ہے۔ جہاں تک سماجی تبدیلی کا تعلق ہے اس سیاست کے ایک انتہائی معتبر رہنما محمد مقبول بٹ نے گنگا ہائی جیکنگ کیس میں پاکستان کی عدالت میں کہا تھا ”میں جبر و غلامی، استحصال، اقربا پروری، ریاکاری، فرسودگی اور دولت پسندی کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوا ہوں“۔ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ آزادی سے ہماری مراد صرف بیرونی قبضے سے آزادی ہی نہیں بلکہ غربت و افلاس، محرومی، بیماری، فرسودگی اور قبیلہ پرستی سے بھی آزادی حاصل کرنا ہے۔

یوں متبادل سیاسی شعور پروان چڑھنے کا عمل عوامی حقوق کی موجودہ تحریک سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ تاہم بتدریج یہ شعور بھارت کے قبضے سے آزادی، ریاست کی وحدت و خودمختاری، پاکستان کے قبضے کے خلاف جدوجہد اور طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ انقلاب کے آدرشوں کے تابع اور خاصی حد تک گرد و پیش روزمرہ زندگی کے مسائل سے لاتعلق ہوتا چلا گیا۔ مقبول بٹ کی پھانسی پر بھارتی اور پاکستانی زیر تسلط علاقوں میں ہونے والے ردعمل میں فرق نے پاکستان کے ان حکمران حلقوں کو بے چین کر دیا جو صرف بھارتی مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروا کر پاکستان میں شامل کرنے کو ہی ”مسئلہ کشمیر“ سمجھتے تھے۔ تاہم 1987 کے انتخابات میں جب بھارتی کانگرس اور کشمیری نیشنل کانفرنس نے مل کر کشمیر وادی میں مزاحمتی سیاست کے کئی رنگوں اور شکلوں کے اتحاد ”مسلم یونائیٹڈ فرنٹ“ المعروف ”مف“ کو اسمبلی سے باہر رکھنے کے لیے کھلی دھاندلی کی تو اس کے خلاف ایک بڑا عوامی ردعمل پھوٹ پڑا۔ ہزاروں نوجوان، عورتیں اور بچے دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ پھر روزمرہ زندگی کے دیگر مسائل اور حقوق کو بھی مظاہروں میں اجاگر کیا جانے لگا اور جلد ہی یہ ”حق خودارادیت“ کی تحریک بن گئی۔ پاکستان نے بھارتی قبضے کے خلاف اس تحریک کی خفیہ اور ظاہر حمایت کرتے ہوئے ”آزاد کشمیر“ میں ”آزادی پسندی“ کے جذبات اور امنگوں کو جے کے ایل ایف کے ذریعے وادی کی طرف موڑ دیا۔ ریاست کے اندر اور باہر کچھ ترقی پسند کہتے رہ گئے کہ یہ مہم جوئی ہے اور مہم جوئیوں سے آزادیاں نہیں پیدا ہوتیں۔ لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ سب کی (میری بھی) توجہ بھارتی مقبوضہ علاقے میں آزادی کی تحریک پر مرکوز ہو گئی۔

اس دوران آزاد جموں کشمیر میں خودمختاری اور انقلابی نظریات کی سیاست نے عام عوام کی روز مرہ زندگی کے مسائل کو ان عظیم مقاصد سے مشروط کر دیا گیا۔ ریاست جب خود مختار ہو گی اور یہاں انقلاب آئے گا تو ہی عوام کے مسئلے حل ہوں گے۔ جب کہ عوام کی اکثریت اپنی روز مرہ زندگی کے مسائل کی پوٹلیاں اٹھائے اپنی برادری اور قبیلے کے لیڈروں کی گاڑیوں کے آگے پیچھے بھاگتی اور ان کے دفتروں اور گھروں کے دروازوں پر رسوا ہوتی رہی۔ مسائل بڑھتے رہے۔ زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی۔ اوپر پاکستان کے حکمران ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرضوں پر قرضے لے کر ملک کو گروی رکھنے کے راستوں پر رواں دواں رہے۔ روزمرہ کے مسائل کے لیے آزاد کشمیر میں بہت سی چھوٹی موٹی تحریکیں چلیں لیکن ہر بار یا تو کچل دی جاتیں یا پھر کچھ چھوٹے موٹے مطالبات عارضی طور پر پورے ہوتے۔ ایسی کئی تحریکوں کے بعد ان کے پس منظر میں کارفرما لیڈروں کے نوازے جانے کے قصے کہانیاں بھی گردش میں آجاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال جب میں دس سال بعد وطن واپس آیا تو موجودہ تحریک کے بارے میں بھی شروع شروع میں ایسے ہی تاثرات اور تبصرے سننے کو ملتے تھے۔ لیکن پھر مظفر آباد میں عظیم مشاورت کے بعد چارٹر آف ڈیمانڈ اور تیس رکنی قیادت کے انتخابات اور بجلی بلات کے بائیکاٹ کے بعد عوامی رائے میں واضح بدلاؤ آنا شروع ہو گیا۔

یہ عوامی جمہوری سیاست کا اظہار تھا۔ اس کی وسعت اور گہرائی کو میں بھی شروع میں سمجھ نہ سکا کیونکہ حقیقت میں عملی طور پر کسی تحریک کا حصہ ہونے اور اس کو دور سے یا سکرین پر دیکھنے میں فرق تو بہرحال ہوتا ہے۔ میرے خیال میں آزاد کشمیر میں عوام کے ”منتخب“ نمائندے بھی اس تحریک کی وسعت اور گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ شاید اب بھی وہ اس کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر

ہیں۔ اسی لیے وہی عشروں پرانے الزامات کے سہارے طاقت و جبر اور خوف کے ان ہی پرانے

ہتھکنڈوں پر تکیہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اور روایتی سیاستدان پوچھتے ہیں کہ پیسے کہاں سے آئے۔ اسی

لیے یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی یا شاید وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ عوامی تحریکیں کسی اور کے پیسے

کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ہاں تحریکوں کے برپا ہو جانے کے بعد ہر طرف سے اپنے اپنے مفادات کے

لیے ڈول ڈالے جاتے ہیں۔ تپے ہوئے تندور میں ہر کوئی اپنی اپنی گونی لگانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ تحریک اس سے مستثناء نہیں۔ تاہم آج سوشل میڈیا کے عہد میں ثبوتوں کے بغیر پوری تحریک کو

بیرونی سازش قرار دینا مبینہ ملزمان کی بجائے الزام دینے والوں کی ساکھ کے لیے زیادہ نقصان دہ

ہوتا ہے۔

میری سمجھ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ٹھیک اس وقت آزاد کشمیر عوامی بیداری کے اس ہی
تاریخ ساز لمحے سے گزر رہا ہے، جس نے برطانوی ہند میں قدیم سماجی و سیاسی ڈھانچوں کو توڑنے کے
عمل کا آغاز کیا تھا۔ جس نے 1930 میں ریاست جموں کشمیر میں شخصی ، جاگیردارانہ اور قبائلی
نظاموں کے توڑنے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ جس نے 1980 میں نیشنل کانفرنس اور انڈین کانگرس کی
اجارہ داری کو توڑنے کا آغاز کیا تھا۔ آزاد کشمیر میں یہ عوامی جمہوری سیاست کے اجتماعی اظہار اور
یہاں خواصی جمہوری سیاست جو ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے اور جو اپنے ہی لوگوں کو برادری ،
قبیلوں اور ٹبروں کے نام پر استعمال کر کے پاکستان کے سیاسی خاندانوں کو اربوں روپے دے کر
مظفر آباد اسمبلی میں پہنچ کر پھر اپنوں اور آزاد کشمیر کے وسائل سے اربوں کمانے کا عمل شروع کر دیتے
ہیں، اس کو بے نقاب کرنے کا لمحہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ان کو تو بالکل ہی قابل قبول نہیں جو
اب کئی نسلوں سے مظفر آباد میں اقتدار کو اپنی موروثی ملکیت سمجھتے ہیں۔ عوامی مارچ کی کامیابی کے
بعد انہوں کس طرح یہ دکھانے کے لیے کہ ان کے ساتھ بھی بندے ہیں وہ کس طرح ہاتھ پاؤں مار
رہے ہیں وہ صاف نظر آرہا ہے۔

نچوڑ: مستقبل کے راستے

ایسے میں پاکستان کے وہ ادارے جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ پاکستان میں بھی اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی طاقت کا اصل سرچشمہ وہ ہیں، ان کے لیے بھی معاملات کو ہاتھ سے گنوائے بغیر سدھارنے کا تاریخی موقع ہے۔ اس کا بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ آزاد جموں کشمیر میں خواصی جمہوریت کے پروردہ حکمرانوں سے کہیں کہ وہ زمین پر بدلی ہوئی حقیقت کو مان لیں (کیونکہ آخر کار ان کو ماننا پڑے گی)۔ چارٹر آف ڈیمانڈز پر عوام کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں (اس سے ان کی ساکھ بحال ہو سکتی ہے)۔ تمام گرفتار شدگان کو رہا کریں جن پر جھوٹے مقدمے بنائے ہوئے ہیں (یہ معاملہ نوجوانوں کو مزید متحرک اور یک جا کر رہا ہے)۔ مبینہ طور پر سینکڑوں ایف آئی آر ختم کریں۔ اس کے بعد یہاں پر پرامن طور پر اپنے نظریات کے اظہار اور انتخابات میں حصہ لینے کی سب کو آزادی ہو۔ خود یہاں کے انتخابات میں مداخلت نہ کریں۔ ”آزاد کشمیر“ اکیلے خود مختار نہیں ہو سکتا (ہاں باوقار ہو سکتا ہے جس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے ہی حق میں ہے)۔ جبکہ ریاست کے دیگر خطے کم از کم اس وقت تو کہیں پوری ریاست کی وحدت اور خود مختاری کے موڈ میں یا کچھ اس پوزیشن میں نظر نہیں آتے۔ اس لیے ”آزاد کشمیر“ میں یہ فیصلہ بغیر کسی مداخلت اور جبر کے عوام پر چھوڑ دیں کہ وہ ”خود مختاری“ والوں کو ووٹ دیں گے یا ”حقوق“ والوں کو۔ آزاد کشمیر میں سیاست عوامی موڑ مڑ چکی ہے۔ مہاراجہ نظام میں اُتری خواصی جمہوریت اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔ اس کو جبر اور دہشت سے مسلط رکھنے کی کوششیں نہ کریں کیونکہ ایک تو ایسا اب زیادہ عرصے تک ممکن نہیں اور دوسرے اس سے معاملات سب کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس عوامی تحریک نے خودمختاری والوں کو بھی سہ راہے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ اس خطے میں عوامی حقوق کی سیاست کا حصہ بنیں، غیر متعلق ہو جائیں یا کوئی اور مہم جوئی کریں جس کا نتیجہ یہاں وادی سے مختلف نہیں ہوگا۔ جذباتیت کو حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ سب قوتیں ایک بار، صرف ایک بار، آزاد کشمیر کے عوام پر بھروسہ کر کے دیکھ لیں وہ عوامی حقوق کے حق میں ہی فیصلہ دیں گے۔ اس کے بعد پاکستان کی منتخب حکومت آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کے ساتھ وسائل کے باہمی استعمال کے بارے میں باہمی مفادات کی بنیاد پر معائدات کرے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے رشتے میں موجود بحران کا حل آزاد کشمیر کے لیے اختیار، وقار، شناخت، فلاح، ترقی اور خوشحالی کے اصولوں پر قائم حکومت ہے۔

جن کے لیے ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ یعنی مسئلہ کشمیر اولین ترجیح ہے وہ اس کے لیے الگ سے حکمت عملی بنائیں جو ریاست کے تمام خطوں کے ٹھوس حقیقی حالات، اجتماعی مفادات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں بنائی جائے ۔ اگر خلق خدا کا یہ تاثر درست ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا ہے تو اس کے تحت اس خطے میں بھارت جیسے ہی اقدامات کرنے والے راستے پر آگے بڑھنے کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام موجودہ حکومتی نظاموں سے آخری حد تک تنگ اور عاجز آچکے ہیں۔ لیکن شناخت کی قیمت پر شاید اب وہ ایک مخصوص طبقے اور بیانیے کو مزید قبول نہیں کریں گے۔ پوری دنیا کی قدیم اور جدید تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، خود اپنے اس جنوب ایشیائی خطے کی تاریخ چھان لیں، جبر کا راستہ اور بغاوتیں لازم و ملزوم رہی ہیں۔ باہمی مفادات اور باہمی عزت کا راستہ اپنا کر دیکھیے یہی راستہ باہمی امن اور خوشحالی کی طرف جاتا ہے۔

آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟

صدارتی فرمان، ردعمل اور مستقبل کے امکانات

29 اکتوبر کو’’آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر‘‘ کے صدر بیرسٹر چوہدری سلطان صاحب نے ایک ہنگامی صدارتی آرڈینینس یعنی فرمان جاری کیا۔ بظاہر یہ عوامی اجتماعات اور نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوام کی’’سہولت‘‘ کے لیے ہے۔ تاہم چونکہ آزاد کشمیر میں حکمران اکثر جو کہتے ہیں’’اصل بات‘‘ وہ نہیں ہوتی اس لیے ان کے لفظوں کو نہیں عمل کو دیکھ کر اصل مقصد کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اب تک جس طرح سے جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، آزادی پسند اور ترقی پسند جماعتوں اور تحریک انصاف آزاد کشمیر کے عمرانی دھڑے کے رہنماؤں پر جس طرح سے مقدمے درج کیے گئے اور ان کو گرفتار کیا گیا اس سے واضح طور پر نظر آرہا ہے اس فرمان کا بنیادی مقصد’’پرامن سیاسی اجتماعات‘‘ پر پابندی عائد کرنا ہے۔ خاص طور سے اس کا آرٹیکل 3(1) پیراگراف چار واضح کرتا ہے کہ’’کسی غیر سیاسی تنظیم کی طرف سے سیاسی اجتماع کی درخواست پر غور ہی نہیں کیا جائے گا‘‘۔ جب اس فرمان کے شروع میں اصطلاحات کی تعریف اور وضاحت میں سیاسی تنظیم اور سیاسی اجتماع کی تعریف نظر نہ آئی تو مجھے پکا یقین ہو گیا کہ اس فرمان کا مقصد آزادی و ترقی پسند تنظیموں اور جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے افراد کو ڈرانا اور عوام کو کمیٹی سے دور بھگانا ہے۔

اس فرمان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک یہ کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے تحت صدر کو ایسا فرمان جاری کرنے کا اختیار صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ریاست میں امن و امان کی صورت حال اتنی ابتر ہو چکی ہو کہ اس سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق اور اسمبلی سیشن میں نہ ہولیکن صورت حال کو سنبھالنے کے لیے فوری طور پر عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کے سوا کوئی راستہ باقہ نہ بچا ہو۔

دوسرے یہ کہ ایسا فرمان صدر خود نہیں جاری کرتا بلکہ حکومت تیار کر کے صدر کے پاس بھیجتی ہے۔ صدر اس کی منظوری دے یا نہ دے سات دنوں کے بعد وہ خود بخود منظور سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بات صدر جناب بیرسٹر سلطان صاحب بہادر نے خود فرمائی ہے۔ یہ فرماتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ جب ان کے پاس وہ یہ قانون لائے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بلیک لاء یعنی کالا قانون ہے۔ (بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر یہ کلپ بس اتنا ہی گردش کر رہا ہے) مطلب معلوم نہیں اس کے بعد انہوں نے کوئی وضاحت کی کہ انہوں نے منظوری کیوں دی؟ اگر اس وجہ سے دی کہ یوں بھی سات دنوں بعد اس نے آئین کے مطابق خود بخود ہی منظور ہو جانا تھا تو انہوں نے اس قانون کی منظور اپنے نام کیوں کروائی؟

اس فرمان کو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، آزادی و ترقی پسند جماعتوں، صحافیوں، کئی ایک مذہبی و ثقافتی انجمنوں اور طلبا تنظیموں نے تو پہلے دن سے ہی مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں تحریک انصاف اور اب مسلم لیگ نون کے صدر فاروق حیدر نے بھی مسترد کر دیا ہے۔ جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنی حکمت عملی کے مطابق اس کو مسترد کیا اور نرم احتجاجی رویہ اپنایا۔ انہوں نے سیاہ پرچم لہرا کر فرمان کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم اس دوران ایک اور عمل بھی جاری تھا۔ وہ یہ کہ راوالاکوٹ میں سردار امان اور دیگر کے خلاف کچھ مولویوں نے فتویٰ دیا تھا کہ وہ خدانخواستہ کافر ہو گئے ہیں اور کچھ کالعدم تنظیموں کے ارکان کی طرف سے بندوقیں سرعام دکھا دکھا کر لادینیت کے خلاف جہاد کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ مولویوں نے تو بعد ازاں سردار امان سے معذرت کر لی لیکن دھمکیاں دینے والوں کے خلاف آزادی پسندوں اور ترقی پسندوں کی قیادت خاص طور سے نیپ اور جے کے ایل ایف کی قیادت نے مقامی انتظامیہ سے مقدمات قائم کرنے کو کہا لیکن ان کے مطالبے پر غور نہ ہوا۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ تھانے ایف آئی آر کٹوانے گئے تھے یا نہیں۔ تاہم 16 اکتوبر کو انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ اگر مقدمات قائم نہ کیے گئے تو وہ 19 کو مذہب کا استحصال کر کے اشتعال پھیلانے کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ اب اتفاق سے 29 اکتوبر کو فرمان جاری ہوا اور 30 کو شائع بھی کر دیا گیا اس لیے 19 نومبر کو آزادی و ترقی پسند تنظیموں ( آل پارٹیز ) کی طرف سے مظاہرے تک اس صدارتی فرمان کی منسوخی کو بھی مظاہرے کے مطالبات میں شامل کر لیا گیا۔ انتظامیہ اور پولیس جو اس سے قبل میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان کے خلاف مقدمہ کر چکے تھے نے طاقت دکھا کر راولا کوٹ میں اس جلوس اور جلسے کو نہ ہونے دینے کی کوشش کی۔ لیکن طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود اچھا خاصا جلوس بھی ہوا اور جلسہ بھی ہوا۔ نیپ کے لیاقت حیات گرفتار کر لیے گئے جبکہ جے کے ایل ایف اپنے دھڑے کے سربراہ سردار صغیر صاحب نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ یہاں مصنوعی کرداروں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کو جواز بنا کر فوجی یلغار کی جاسکے۔ اگر ایسی غلطی کی گئی تو اس کا بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 09 دسمبر تک یہ آمرانہ صدارتی فرمان منسوخ نہیں کیا گیا اور جھوٹا فتویٰ لگانے اور کالعدم تنظیموں کی طرف سے دہشت گردانہ زبان استعمال کرنے والوں پر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو پھر 10 دسمبر کو جو کہ حقوق انسانی کا عالمی دن ہے اس دن ہم پورے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں اور عالمی سطح پر جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں آواز بلند کریں گے۔ اس کے علاوہ برطانیہ ، یورپ اور دنیا جہاں کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کو یہاں پاکستانی اداروں کے مقاصد سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی انقلاب پر امن طور پر نہیں آیا نہ ہی کہیں آزادی پر امن طور پر ملتی ہے۔ پر امن طور پر انقلاب کو راستے ہٹایا جا سکتا ہے۔

21 نومبر کو کوٹلی میں صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہو گئی جہاں سارا دن مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق ”شر پسند اور دہشت گرد عناصر“ نے کوٹلی ریسٹ ہاؤس میں کھڑی سرکاری گاڑیوں کو پر اسرار طور پر جلا دیا گیا اور ایک مقامی ویلفیئر تنظیم کی ایمبولینس کو توڑ پھوڑ دیا گیا۔ تاہم مظاہرین اور اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ریسٹ ہاؤس کی طرف تو جلوس گیا ہی نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گاڑیاں سرکاری اہلکاروں نے خود جلائی گئی ہیں اور ایمبولینس بقول ان کے پولیس کا بندہ چلا رہا تھا اور اس میں آنسو گیس کے شیل لے کر جا رہا تھا۔ موقع پر موجود کچھ دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ ایمبولینس ایک زخمی سپاہی کو لے کر جا رہی تھی لیکن کچھ بھی حتمی طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔ بہرحال حکومت اس صورت حال کو جواز بنا کر اور زیادہ طاقت کے استعمال پر کمر بستہ نظر آ رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ 22 نومبر کو (آج) قوم پرستوں اور آزادی پسندوں کی طرف سے مظفر آباد میں ہونے والے مجوزہ مارچ کے اعلان کے جواب میں وہاں کے مجسٹریٹ نے مذکورہ صدارتی فرمان کے مطابق ریلی کو بغیر اجازت قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ 13 مئی والا جلوس جب مظفر آباد پہنچا تھا تو مطالبات منظور ہو جانے کے بعد منتشر ہوتے نہتے مظاہرین کا پاکستانی رینجرز سے سامنا ہوا تو تین نوجوان شہید ہو گئے تھے۔ اب کی بار کیا ہو گا اس کا دارو مدار بظاہر اس پر ہے کہ کتنی تعداد میں لوگ باہر نکلتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی مظفر آباد میں آزادی و ترقی پسند جماعتوں کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کچھ غلط فہمیوں اور حکمت عملی کے فرق کے باوجود توقع کی جا رہی ہے کہ کمیٹی اور آزادی و ترقی پسند سیاست کے قائدین کے درمیان جو فاصلے پیدا ہو رہے تھے ان میں کمی آئے گی اور پانچ دسمبر کو وہ مل کر اس صدارتی فرمان کی منسوخ کروانے میں کامیاب ہو کر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری اور عمل درآمد کی تحریک کی طرف لوٹ سکیں گے اور دس دسمبر کو بھی مل کر حقوق انسانی کے عالمی دن کی مناسبت سے اس خطے میں حقوق انسانی کی صورت حال سے تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں گے۔ دارالحکومت مظفر آباد میں آج بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

مظفر آباد کا مظاہرہ مکمل طور پر پر امن رہنے کے بعد منتشر ہو چکا ہے۔ پولیس قریب بھی نہیں آئی۔ اس پر مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شاید حکومت نے کوٹلی سے سبق سیکھا ہے کہ جہاں شروع میں مظاہرین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن پولیس گردی کے نتیجے میں سارا شہر ہی امڈ آیا۔ آزاد کشمیر میں حکومت، ایکشن کمیٹی، خودمختاری کشمیر کی حامی تنظیموں اور کالعدم تنظیموں کے کارکنان کے لیے مستقبل کے لیے بہترین راستہ کون سا ہو سکتا ہے؟ اس پر تفصیلی کالم بہت جلد۔۔۔

ایک ایف آئی آر

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو

(زمین پر سسکتے انسان کی آواز کو توانائی بخشنے پر اللہ میاں جالب صاحب کی روح کو سکون اور ان کے وارثوں کو خوشیاں بخشے)

08 نومبر کی صبح فیس بک پر ایک ایف آئی آر پڑھتے ہوئے میرے تخیل میں یہ مناظر ابھرے۔

03 نومبر 2024 شام سات بجے تک میر پور شہر کے مضافات میں نئی بستی نیوسٹی میں ”آپنا“ نامی ہوٹل کے صحن میں کوئی سو ڈیڑھ سو افراد اکٹھے ہو چکے تھے۔ ان میں زیادہ تر قصبے اور شہر کے نوجوان تھے۔

نیوسٹی میر پور شہر کے مضافات میں 200؟ میں منگلا ڈیم کی توسیع کے نتیجے میں اجڑنے والے خاندانوں کی بستی ہے۔ سات بجے جب جلسہ شروع ہوا تو ایک دراز قد خوبرو نوجوان نے اٹھ کر اپنی زبان میں بستی کے لوگوں کی زندگیوں کو اجڑنے اور اجاڑے جانے کے دکھوں کے ذریعے شہر کے دیگر شہریوں کی زندگیوں سے جوڑتے ہوئے بستی کے لوگوں کے ذیلی کنبہ جات اور دیگر مسائل اور حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھی۔۔۔ جیلانی نے بھی عوام کی حالت زار سے بے خبر اور بے حس حکمرانوں کی عیاشیوں پر تنقید کی۔

یہ دونوں نوجوان عوامی ایکشن میر پور کے سرگرم کارکن ہیں۔ ایکشن کمیٹی۔ نغمان اور جیلانی دونوں اس نوجوان نسل کے نمائندہ ہیں جن کا سیاسی نصب العین یہ ہے کہ ہم سب نے عوام سے مل کر عوام کی حمایت اور عوام کی طاقت سے حکمرانوں کو جوابدہ بنانا ہے۔ اپنے ٹیکسوں سے ان کو عیاشیوں سے روکنا ہے اور باوقار انداز حکمرانی کے لیے نئے رہنماؤں نئے نمائندوں کو چننا ہے۔

میٹنگ جاری ہے۔ ایک اور پرجوش اور باوقار نوجوان حمزہ یونس کھڑا ہو کر حاضرین سے عہد لیتا ہے کہ ہم سب نے مل کر اپنے حقوق کی جدوجہد میں آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے حکمرانوں کو بے وجہ عیاشیاں نہیں کرنے دینی ہیں۔ کل کو اگر اپنے حقوق کے لیے ہمیں شہر میں ہڑتال کرنا پڑی تو روالاکوٹ سے لوگ نہیں آئیں گے ہماری مدد کے لیے بلکہ ہمیں خود ہی مل جل کر یہ کام کرنا ہوگا۔ حاضرین پورے جوش اور خلوص سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر عہد کر رہے ہیں۔ نیوسٹی کی فضائیں نئے عزم، نئے حوصلے، نئی امیدیں، نیا جوش، نیا ولولہ محسوس کر رہی ہیں۔ لوگ ایک نئی جرات محسوس کر رہے ہیں۔

وہیں قریب ہی ایک پولیس کانسٹیبل بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا اور غور سے سن رہا ہے۔ مگر وہ ڈیوٹی پر ہے۔ پھر وہ آرام سے ایک طرف بیٹھ کر ایف آئی آر کا رجسٹر نکال کر ایف آئی آر لکھنا شروع کر دیتا ہے۔

’’اس کو کسی کا فون آیا ہے ایف آئی آر لکھنے کے لیے‘‘۔ کانسٹیبل سے تھوڑی دور کھڑے ایک نوجوان دوسرے سے کہا۔

’’فون کیا۔ اس کو بھیجا ہی یہی کہہ کر گیا ہوگا‘‘۔ دوسرا نوجوان کہتا ہے۔

میٹنگ ختم ہونے پر کانسٹیبل چلا گیا۔ شرکاء ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، کوئی چائے پی رہا ہے، کچھ سگریٹ سلگائے گپ شپ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ کچھ بزرگ نوجوانوں کو شاباشی اور دے رہے ہیں:

’’شاوا سے پترو۔ اللہ تساں نی راخی کرے۔‘‘

☆☆☆☆

میں جس کا تعلق میرپور کے مشرق میں واقع مضافاتی قصبے اکالگڑھ سے ہے انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کے مضافات میں واقع ایک ٹاؤن اولڈہم میں حسب معمول بیوی کے کام پر جانے والے الارم سے جاگتا ہوں۔ معمول ہی کے مطابق کچن میں جا کر دو کپ چائے کے بنا کر لاتا ہوں اور معمول ہی کے مطابق فیس بک کھولتا ہوں۔ وہاں مجھے ایک ایف آئی آر نظر آتی ہے۔ میں آزاد کشمیر میں جاری جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری حقوق کی تحریک سے اچھی طرح واقف ہوں۔ 2023ء اور 2024ء میں اکال گڑھ میں قیام کے دوران سب کچھ کافی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

میں نے یہ ایف آئی آر جے کے ٹی وی کے گروپ میں شئیر کی۔ اس گروپ میں کوٹلی، میرپور، مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے لوگ موجود ہیں۔ کوئی کینیڈا میں آباد ہے تو کوئی امریکہ میں اور کوئی یورپ و مڈل ایسٹ میں۔ سب نے میرپور کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے عوام دوست کارکنان کے خلاف اس ایف آئی آر کی مذمت کی۔ لیکن جے کے ٹی وی کے معروف ترین اینکر خواجہ کبیر جو ابھی حال ہی میں کئی ماہ ’آزاد‘ کشمیر رہ کر واپس برطانیہ آئے ہیں نے کہا
”باقی باتوں کو چھوڑو ایف آئی آر کو ذرا غور سے پڑھو اور سلامی دو اس کانسٹیبل کو جس نے یہ ایف آئی آر لکھی ہے“۔

میں نے پھر غور سے ایف آئی آر پڑھی۔ واقعی کانسٹیبل تسنیم احمد معظم نے بڑی منفرد قسم کی ایف آئی لکھی ہے۔ اس میں روایتی دروغ گوئی اور حاشیہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا تھا۔ بلکہ جو کچھ بھی لکھا تھا سچ لکھا تھا۔

”پروفیسر نغمان عارف کمپلوی اور غلام جیلانی نے میرپور نیوسٹی کے عوام کے حقوق کی خاطر جنگ لڑنے اور حکمرانوں کی عیاشیوں کی نسبت تقریریں کیں۔ اور حمزہ نے حلف لیا کہ تمام لوگ نیوسٹی کے حقوق کے لیے ہر وقت تیار ہیں“۔

اب ظاہر ہے ایسی ایف آئی آر دیکھنے کو کم ہی ملتی ہے کیونکہ ایف آئی آر میں تو اکثر باقاعدہ یاوہ گوئی کی جاتی ہے۔

لیکن اس ایف آئی آر کی اہمیت صرف اس لیے ہی نہیں کہ اس میں کانسٹیبل نے جھوٹ نہیں لکھا۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ ایف آئی آر ہنگامی طور پر جاری ہونے والے صدارتی فرمان کی شق آٹھ کے تحت درج ہوئی ہے۔ یہ فرمان 30 اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔ یعنی تین دن پہلے اور ابھی شاید متعلقہ دفاتر میں بھی نہیں پہنچا تھا۔ شاید اسی لیے وہ لڑکے کہہ رہے تھے کہ کسی نے کانسٹیبل کو فون کر کے ایف آئی آر کاٹنے کو کہا ہو گا یا یہ کہ اس کو یہی کہہ کر بھیجا گیا تھا۔

اس فرمان کی شق آٹھ کہتی ہے کہ جو کوئی غیر قانونی عوامی اکٹھ کرے گا اس کو تین سے سات سال تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

خواجہ کبیر احب جے کے ٹی وی پر اس معاملے کی بات پروگرام کر چکے تھے۔ میں نے اس ایف آئی آر پر فوری ایک پر گورام کر دیا۔ لیکن اس کی قانونی اور آئینی حیثیت پر قانونی رائے درکار تھی۔ وہ بھی جلد ہی مظفر آباد سے محترم امجد علی ایڈووکیٹ اور جناب کرم داد ایڈووکیٹ کی طرف سے آ گئی کہ یہ پورا فرمان ہی غیر آئینی ہے جس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ بلکہ کچھ لوگوں نے تو کمنٹ کیے کہ آزاد کشمیر کی موجود حکومت ہی غیر آئینی ہے۔

اس ایف آئی آر کی اہمیت جو یورپ، امریکہ، قوام متحدہ اور برطانیہ میں خاص طور سے دلچسپی کا باعث بنے گی وہ یہ ہے کہ یہ آزاد کشمیر کے موجودہ صدر بیرسٹر سلطان محمود کے دستخطوں سے جاری ہوئی ہے۔ موصوف کی صحت اس وقت بہت خراب ہے جس کی بہتری کے لیے دعا گو ہوں۔ تاہم اس حقیقت کو وہ یا کوئی بھی کیسے بدل سکتا ہے کہ وہ جو امریکہ، یورپ، اقوام متحدہ اور برطانیہ میں کشمیر عوام کے حقوق بشمول حق خود اختیاری کے لیے رواں دواں، مست نازاں رہتے تھے آج ان کی اپنی حکمرانی میں پرامن طور پر محلے میں عوامی حقوق کی بات کرنا جرم بن چکا ہے

اس ایف آئی آر کا ایک تاریخی پہلو بھی ہے۔ یہ مہاراجہ کے شخصی حکمرانی کے عہد کی یاد دلاتی ہے۔ درحقیقت کچھ مورخین، محققین اور دانشوران کا خیال ہے کہ جو عوامی جدوجہد 1930 میں مہاراجہ کے شخصی راج کے خلاف شروع ہوئی تھی اور جس کا ارتقاء ریاست میں ہو رہا تھا اور اس کے رد عمل میں مہاراجہ راج بھی اصلاحات متعارف کروانے پر مجبور ہو تھا ، وہ ارتقاء ’’آزاد جموں کشمیر‘‘ کے قیام کے ساتھ ان علاقوں میں رک گیا تھا۔ آج عوامی ایکشن کمیٹی درحقیقت 1930 کی مسلم اور نیشنل کانفرنس ہے۔ ایکشن کمیٹی کے نوجوان شیخ عبداللہ اور غلام عباس اور سردار ابراہیم اور پریم ناتھ بزاز اور عبدالسلام یتو اور سردار بدھ سنگھ وسردار اکبر اور کرشن دیو سیٹھی اور وید بھسین ہیں۔ یہ تحریک اور یہ نوجوان کسی فرقہ ورانہ، تنگ نظر اور خیالی ریاست اور آزادی کے پیچھے دیوانے ہو کر نہیں نکلے ہیں۔ یہ نوجوان حقیقت پسند اور گردوپیش کے ٹھوس حالات سے شعور کا پیالہ پی کر پرامن مہذب اور باوقار انداز میں سماج بدلنے نکلے ہیں۔ شخصی راج، برادری ازم، تنگ نظر قوم پرستی، اقربا پروری، ریاکاری، بدعنوانی اور استحصال کے خلاف عوامی جنگ۔ عوام کے سنگ۔

آزاد کشمیر میں خود مختار سیاست کا مُستقبل

جی نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ میں نے سیاسی وسماجی تجزیوں کو چھوڑ کر مُستقبل کا حال پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم آزاد کشمیر میں خود مختاری کی سیاست کے مُستقبل کے حوالے سے جانے کیوں میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ یہ مجھے کچھ کچھ نظر آ رہا ہے۔ اگر میں سیاستدان ہوتا تو اس پر تجزیہ لکھنے کی بجائے اپنے مُستقبل کی فکر کرتا۔ مگر میں سیاستدان نہیں ہوں بلکہ کشمیر میں خود مختاری کی سیاست کا ایک طالب علم ہوں اسلیئے کشمیری سیاست کے اس نقطہ نظر کے حوالے سے جب بھی کچھ نیا نظر آتا ہے یا سوجھتا ہے تو کوشش کرتا ہوں کہ اس کو اپنے جیسے دوسرے ہزاروں خود مختاریوں تک پہنچا دوں۔

آج کا یہ کالم لکھنے کا خیال یہ خبر پڑھ کر آیا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے اپنی قیادت سے انحراف کرتے ہوئے پاکستان و بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کی بہتری کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال ومظاہروں میں شرکت نہیں کی۔ اس کی وجہ مختلف شہروں میں فرنٹ کے قائدین نے یہ بتائی ہے کہ ہم کشمیر پر قابض دونوں پڑوسی ممالک سے آزادی چاہتے ہیں نہ کہ کسی ایک یا دوسرے کی بالادستی۔ اس صورت حال کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور ہر زاویے سے اس کی مختلف وجوہات اور اثرات نظر آ سکتے ہیں۔ تاہم میں نے یہاں اس کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں لبریشن فرنٹ کے اندر’’پاکستانی کشمیری قوم پروری‘‘ اور’’کشمیری قوم پروری‘‘ کے زاویے سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

اسی کی دہائی کے آخر میں جب میں نے برطانیہ آ کر لبریشن فرنٹ کی رُکنیت حاصل کی تھی تو میں تازہ تازہ خود مختاریہ بنا ہوا تھا۔ سیاسی شعور کے اعتبار سے ایک طرف جہاں مجھ میں شاید جماعت اسلامی کے اثرات باقی تھے تو دوسری جانب سوشلسٹ تعلیمات کا اثر بھی نمایاں ہو رہا تھا۔ تاہم اس حد تک مجھے سمجھ آچکی تھی کہ کشمیر کا مسئلہ یہاں بھارت اور پاکستان دونوں کے قبضے کا مسئلہ ہے۔ اور یہ خودمختاری کی کسی بھی تنظیم کے لیے لازمی ہے کہ اس کی قیادت اور کارکن اس پر واضح سوچ اور شعور اور اس کی مناسبت سے پالیسی رکھتے ہوں۔ میرے خیال میں جے کے ایل ایف ایک ایسی ہی کشمیری جماعت تھی۔ تاہم جماعت کے اندر جا کر پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ فرنٹ کے اندر ادھوری اور پوری قوم پروری کا جھگڑا موجود ہے۔ ایک طرف وہ قائدین تھے جو خودمختاری کی بات تو کرتے تھے مگر پاکستانی قبضے اور پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے ان کی سیاست خودمختار اور خودمختارانہ نہیں تھی۔ وہ بھارت کے خلاف تو کھل کر سیاست و سرگرمیاں کرتے تھے مگر پاکستانی سرکاری اور غیر سرکاری سیاسی، معاشی و ثقافتی جبر واستحصال اور غیر مساوی تعلقات پر پردہ ڈالنے کو ترجیح دیتے تھے بلکہ اگر کوئی اس پہلو کی طرف زیادہ اصرار کرتا تو ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے۔ اور جب بات بہت زیادہ بڑھی تو پاکستانی حکمرانوں کے آزاد کشمیر کے ساتھ سلوک کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو بھارت کا ایجنٹ بھی قرار دے دیا۔ تاہم اس کے باوجود جب 1992 میں لبریشن فرنٹ برطانیہ کے انتخابات ہوئے تو یہ برطانیہ کی سب سے بڑی کشمیری نژاد سیاسی تنظیم تھی۔ اس کے کوئی چار سو سے زائد باقاعدہ یعنی ممبر شپ فیس قوم پروری ادا کرنے والے رُکن تھے۔ انتخابات میں جب اکثر نشستوں پر وہ لوگ کامیاب ہو گئے جن کو بائیں بازو کے یا امان اللہ خان صاحب کے مخالفین (جانے کیوں) کہا یا سمجھا جاتا تھا تو برطانوی قیادت نے امان صاحب سے جانے کیا کیا کہا کہ امان صاحب نے برطانیہ میں فرنٹ کی تنظیم کو معطل کر دیا روز نامہ جنگ لندن کے ذریعے ۔ کل غالباً بتیس برانچوں میں سے امان صاحب کے فیصلے کو چودہ برانچوں نے تسلیم کیا اور اٹھارہ نے مسترد کر دیا۔ بعد ازاں جب ان اٹھارہ برانچوں کے اجلاس میں بھی لبریشن فرنٹ کے آئین میں امتیازی سلوک پر مبنی ترمیم کی واپسی اور جمہوری اصولوں کے تحت آگے بڑھنے کے معاملات کو پس پشت ڈال کر شخصی جذباتیّت (جس کی جڑیں امان اللہ خان کو باور کروانے کی خواہش میں اُتری ہوئی تھی) کے زور پر تنظیم کو چلانے کا فیصلہ ہوا تو ہم کچھ دوست خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد فرنٹ کے مختلف دھڑے برطانیہ میں اپنی اپنی بساط اور ضرورت کے مطابق کام کرتے رہے مگر اُن کی وابستگیوں کی روشنی میں صاف دیکھا جاسکتا تھا کہ ادھوری قوم پروری اور پوری قوم پروری الگ الگ اتحادوں میں ہی رہتی تھی۔

اب جب فرنٹ کا اتحاد ہوا تو مختلف دوستوں نے مختلف اندازوں ، قیاس آرائیوں اور خدشات کا اظہار کیا تاہم میرا استدلال یہ تھا کہ عمل ظاہر کرے گا کی ایجنڈا کیا ہے۔ ایجنڈے کی ایک جھلک اس وقت سامنے آئی جب اتحاد کے بعد فرنٹ امان اللہ خان گروپ کے سابق چیئر میں سردار صغیر کی قیادت میں 22 اکتوبر کو یوم سیاہ منایا گیا۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں پی این پی کے سوشلسٹوں کو چھوڑ کر باقی خود مختاریے تاریخی طور پر 22 اکتوبر 1947 کو پاکستانی قبائلیوں کی یلغار کو یوم سیاہ کے طور یاد نہیں کیا کرتی تھی۔ مگر گذشتہ ایک دہائی سے اس رجحان میں واضح تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔ سردار صغیر کی طرف سے قبائلی مداخلت کی یاد میں احتجاجی جلوس میں متحدہ فرنٹ کی قیادت نے شرکت نہ کی جس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ سردار صغیر اور فرنٹ کی نئی قیادت میں ادھوری اور پوری قوم پروری کے معاملات پر اختلاف موجود ہے۔ اب فرنٹ کے کارکنان کی طرف سے جماعت اسلامی کی ریلی میں شرکت نہ کرنا بھی فرنٹ کے کارکنوں کی طرف سے پوری قوم پروری کی سیاست کی طرف ایک قدم ہے۔ تاہم اس مسئلے کا نازک اور پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی تحریک اور باغی جوانوں کی طرف سے بھی صرف بھارت ہی کو قابض قرار دیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے یوم سیاہ صرف 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے جس روز بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئی تھیں۔ اور اب بھی پاکستان کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر وادی میں ایسا کوئی بڑا مظاہرہ تو نہیں ہوا تاہم کچھ ایسے حلقے موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ کشمیر مسئلے کے حوالے سے پاکستان کی پسپائی ہے۔ آر پار کشمیر کی مزاحمتی تحریک میں ان معاملات پر کوئی قابلِ ذکر فکری و سیاسی اشتراک دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ آزاد کشمیر میں پاکستانی قبضے کے خلاف احتجاجی سوچ و فکر کے اظہار کو وادی میں جماعت اسلامی اور حتیٰ کہ کئی جے کے ایل ایف کے کارکنان بھی بھارت نوازی قرار دے دیتے ہیں اس بنیاد پر کہ بھارت اُن کو مار رہا اور پاکستان کسی کو مار نہیں رہا بلکہ بھارت کے خلاف اُن کی مدد کر رہا ہے تو پھر یہ آزاد کشمیر والوں کو کیا پڑی ہے احتجاج کرنے کی؟ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر آزاد کشمیر کے خودمختاری پسندوں اور وادی میں مزاحمت کاروں کو ظاہر ہے کہ مکالمہ اور بحث مباحثہ کرنا ہوگا جو کسی نہ کسی حد تک ہو بھی رہا ہے خاص طور پر ”عالمِ صبا“ ”صابر سپیس“ یعنی فیس بک وغیرہ پر۔ تاہم آزاد کشمیر کے حوالے سے اگر نیپ این ایل سی، پی این پی، این ایس ایف اور کے این پی وغیرہ مل کر فرنٹ کے مکمل قوم پروری کی طرف راغب ارکان کو کھلے ہاتھوں خوش آمدید کہیں اور سارے مل کر ایک بامعنی قومی خودمختار جمہوری کشمیر اتحاد قائم کرلیں اور پھر اس کے پلیٹ فارم سے مل کر اندرون اور بیرونِ کشمیر جدوجہد کریں تو پاکستانی جماعتوں کی یلغار اور خودمختار قوتوں کے انتشار کے باعث جو ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا ہے اور جس کی روشنی میں لگتا ہے کہ مستقبلِ قریب میں یہ خودمختاری کی جماعتیں شاید قابلِ قدر تاریخی ورثہ بن جائیں گی وہ منظر نامہ بدل سکتا ہے۔ مستقبل پاکستان و بھارت کے ساتھ تصادم کا نہیں نہ ہی اُن کے اندر تصادم پسند قوتوں کا حصہ بننے کا ہے بلکہ بھارت و پاکستان کے اندر اور کشمیر میں تقسیم کی لکیر کے آر پار انصاف، امن، آزادی، ترقی و خوشحالی پسند قوتوں کے ساتھ مل کر متحدہ جمہوری کشمیر کے ساتھ ساتھ متحدہ جمہوری جنوب ایشیاء کی جدوجہد سے جُڑنے کا بھی ہے۔ کیونکہ تصادم پسندوں کی کامیابی کا مطلب مستقبل کا خاتمہ۔

آزاد کشمیر: اختیارات اور امکانات

ریاست جموں کشمیر میں اس وقت تین باقاعدہ اسمبلیاں ایک کونسل اور ایک کا مطالبہ موجود ہیں۔ تین اسمبلیوں میں ”جموں وکشمیر“ اسمبلی، ”آزاد کشمیر“ اور ”گلگت بلتستان“ اسمبلی شامل ہیں جبکہ کونسل لداخ ہل کونسل اور مطالبہ جموں اسمبلی کا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پوری ریاست کی نمائندہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے پوری ریاست تو درکنار یہ اپنے اس مخصوص علاقے کی بھی نمائندہ نہیں ہیں کیونکہ ریاست کے متعلقہ حصے پر قابض ملک کے احکام کے تحت تینوں میں سے کسی اسمبلی میں بھی خودمختار ریاست کشمیر (بشمول لداخ، جموں، گلگت، کوشر) کی بنیاد پر کسی باشندہ ریاست کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس لیے یہ اسمبلیاں زیادہ سے زیادہ اپنے خطے میں ”الحاق پاکستان“ اور ”الحاق بھارت“ کے حمایتی باشندوں کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتی ہیں پوری ریاست یا اپنے خطے کی پوری آبادی کا نہیں۔

ایسی صورت حال میں وہ ریاستی باشندے، سیاسی جماعتیں، شہری تنظیمیں اور دانشور جو جمہوریت اور بلا تخصیص رنگ ونسل و مذہب تمام ریاستی باشندوں کے سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی پاسداری اور تحفظ کے حمایتی ہیں ان کے لیے اور وہ جو ریاست کو متحدہ اور خودمختار جمہوریہ بنانے کے لیے برسر پیکار ہیں ان کے لیے جدوجہد کو دو راستوں پر گامزن کرنا ہوگا۔ (اگر تاخیر نہیں ہو چکی تو)

اول یہ کہ وحدت اور خودمختاری کے اپنے نظریے، سیاست اور سرگرمیوں کو علاقائی اور مقامی سطحوں سے بلند اور دائروں سے وسیع کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر اوپر بیان کی گئی کسی ایک اسمبلی کو پوری ریاست کی نمائندہ ہونے کے دعووں کو ترک کرنا ہوگا۔ پوری ریاست کی نمائندگی کے لیے اپنے نظریے وسیاست کو ریاست بھر کے سیاسی ، سماجی ، ثقافتی و معاشی اور جغرافیائی [زمینی] حالات و ضروریات کے حقیقی ، ٹھوس اور مستند علم و معلومات کی بنیاد پر تشکیل کرنا اور فروغ دینا ہوگا ۔ ریاست کی خود مختاری کے موجود تمام نظریات کہیں نہ کہیں ”علاقہ پرستی“ کا شکار ہیں ۔ مثال کے طور پر اس وقت پوری ریاست کا احاطہ کرنے والا سیاسی نظریہ ”متحدہ ریاست ہائے کشمیر“ کا ہے ۔ جو سب سے پہلے سردار شیراز نے ”ریاست ہائے کشمیر اور نئے کشمیر میں ان کی حیثیت“ کے نام سے پیش کیا تھا ۔ مگر نظری اعتبار سے اس انتہائی اہم نظریے میں بھی کاشری اور کشمیری کو ایک ہی قرار دے دیا گیا جس سے پورے نظریے کے معنی بدل جاتے ہیں اور وادی کا شر کشمیری قوم بن جاتی ہے اور باقی قومیتیں ۔ جبکہ ریاست کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ واقعی کشمیری قوم کا مرکز وادی کا شر رہی ہے مگر اس قوم کی تشکیل میں موجودہ ریاست کی تمام تشکیلی اکائیوں کا اہم کردار اور حصہ رہا ہے ۔ یوں کشمیر کا شر کی ارتقائی شناخت نہیں بلکہ ریاست کی شناخت قرار دی جا سکتی ہے ۔ مگر کیا ریاست کی قومی شناخت قرار دی جا سکتی ہے؟ کیا کشمیر جیسی کثیر القومی ریاستوں میں کسی ایک قوم کی شناخت کو پوری ریاست کی قومی شناخت قرار دیا جا سکتا ہے؟ تاریخ میں حاوی رجحان یہی رہا ہے کہ ایک قوم جو دیگر اقوام پر غالب آگئی اس ہی کی شناخت ریاست کی قومی شناخت بن گئی ۔ اس دور میں قومی اور ریاست شناخت ایک ہی ہوگئی تھی ۔ ریاست و قوم میں کوئی تخصیص نہیں رہی تھی ۔ برطانیہ، ہندوستان، چین وغیرہ اس کی مثالیں ہیں جہاں ایک علاقے یا قبیلے کی شناخت پوری ریاست کی شناخت بن گئی۔ قوم و ریاست کے اس تصور میں ایک قوم ایک زبان اور کبھی ایک مذہب کا نعرہ گونجتا تھا ۔

تاہم ماضی قریب میں جمہوری معاشروں میں مختلف اقوام کو اپنی قومی شناختوں کو ریاست کے اندر اپنانے اور ان پر اترانے کی گنجائش فراہم کرنے کے بعد کسی ایک شناخت کا قومی شناخت کا تسلیم کیا جانا مشکل ہو رہا ہے ۔ ایسے میں ریاست اور قوم الگ الگ ہو رہی ہیں ۔ اوپر سے عالمگیریت globalisation اور نیچے سے مقامیت localisation کے دباو تلے قومی ریاست کا اختیار اور تصور بدل رہا ہے ۔ اب قومی ریاست کی بجائے قوموں کی ریاست کا تصور فروغ پا رہا ہے جس میں قوموں کو مزید اختیارات دینے اور قومی شناختوں کو مزید گنجائش دینے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ خود مختار ریاست کشمیر کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو یہاں کے حالات و ضروریات کے مطابق اپنے نظریات اور سیاست کو ڈھالنا ہوگا۔ مثال کے طور پر ہماری منقسم ریاست میں کشمیری شناخت جو کہ تاریخی طور پر ریاست کی شناخت بن کر ابھری ہے مگر تقسیم کے بعد اس کو کاشری کے ہم پلہ سمجھے جانے کے باعث ریاست کے دیگر ”علاقہ بند“ نظریات کی طرف سے مسترد کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ تفصیلی تحقیق و بحث طلب موضوع ہے۔ تاہم یہاں اتنا واضح کرنا مقصود ہے کہ خود مختاری کے نظریات و سیاست کو پوری ریاست کی نمائندگی کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے سخت خود تنقیدی اور سیاسی و نظریاتی وسعت نظری کی ضرورت ہے۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں میں شامل یا الگ سے خود مختاری کی سیاست و نظریات و تاریخ اور مستقبل میں دلچسپی رکھنے والے سماجی علوم کے علماء اور پیشہ ور ماہرین کو مل بیٹھنا ہوگا اور سیاسی و جماعتی وابستگیوں سے ماوراء ”ریاستی“ سطح پر تنقیدی و علمی بحث مباحثے کے ذریعے کوئی وسیع تر پروگرام تشکیل دینا ہو گا جس پر ”متحدہ خود مختار کشمیر“ کے لیے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنی سیاست کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔ جنوب ایشیاء کی دیگر اقوام کی شراکت سے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف۔

دوم یہ کہ ریاست کے اندر اپنے اپنے خطے میں موجود اسمبلیوں کو مقامی آبادی کی نمائندہ اور مقامی حقوق کی پاسبان بنانا ہوگا۔ اس کے لیے اس خطے میں پانچ اسمبلیوں کا قیام اولین ترجیحی ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، جموں، لداخ اور کوشر۔ تاہم قیام کی یہ جدوجہد اوپر سے نہیں بلکہ ہر ایک علاقے میں تمام نقطہ ہائے نظر کے عوام کے ساتھ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ صلاح مشورے کے بعد اس طرح سے ہونی چاہیے کہ ہر ایک اسمبلی میں مقامی طور پر تمام علاقوں اور نظریات کی نمائندگی کا موقع اور گنجائش موجود ہو۔ مثال کے طور پر کسی خطے میں بھی خود مختاری یا الحاق کے حامیوں پر انتخابات میں شرکت کی پابندی عائد نہ ہو۔ آزادانہ اور جمہوری طور پر منتخب شدہ ان اسمبلیوں کے اختیارات ایسے ہوں کہ یہ مقامی علاقے کے عوام کے سیاسی، معاشی، سماجی، وثقافتی حقوق کی پاسداری اور ترقی وخوشحالی میں آزاد و خود مختار ہو اور حقوق کی پاسداری اور ترقی کے لیے عالمی سطح پر یعنی اقوام متحدہ اور یورپی یونین وغیرہ میں درکار علم و تربیت تک ان کو رسائی حاصل ہو۔ کل ریاست کے مستقبل کا جو بھی فیصلہ ہو ان اسمبلیوں کی مقامی خود اختیاری قائم و دائم رہے۔ آئیے اب اس تناظر میں آزاد کشمیر کے موجودہ عبوری آئین یعنی ایکٹ چوہتر کا جائزہ لیں۔

اس ایکٹ کے بارے میں پہلی بات یہ صاف کر لینی چاہیے کہ یہ ’’ریاست جموں و کشمیر و تبت ہا و اقصائی چن وغیرہ‘‘ کے اس حصے کا احاطہ کرتا ہے جو ۱۹۴۷ میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف پونچھ و میر پور کی مسلمان آبادی کے ایک بڑے حصے کی بغاوت اور پاکستانی سرکاری اور غیر سرکاری اور عسکری وسول شہریوں کی ’’مدد‘‘ جس کو اس خطے کی بہت بڑی تعداد مداخلت قرار دیتی ہے کے نتیجے میں مہاراجہ کے راج سے آزاد ہوا تھا اور جس علاقے کے لیے چار اکتوبر 1947 کو عارضی جمہوریہ کشمیر کا اعلان ہوا تھا اور جہاں 24 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر حکومت قائم کی گئی تھی۔ اس آئین میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے اور یہ حکومت اس وقت تک کے لیے اس علاقے کے لیے جو آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ خود مختار کشمیر کے حامی کشمیری اس حکومت مسترد کرتے ہوئے چار اکتوبر کی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں اور عمومی طور پر بھی آزاد کشمیر کو ’بیس کیمپ‘ قرار دیا جاتا ہے جہاں سے باقی ماندہ کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کروانا ہے۔ یہ دونوں سیاسی موقف ہیں جو عملی جامہ تب ہی پہن سکتے ہیں جب یہ موقف رکھنے والے اس کو لاگو کرنے کی طاقت حاصل کر لیں۔ اس وقت تک اس چار ہزار مربع میل ٹکڑے کے معاملات اس آئین نما دستاویز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔

سوال جس پر آزاد کشمیر کے تمام سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کو مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس آئین میں آزاد کشمیر کی بے اختیاری اور محتاجی کو ختم کیا جائے۔ اس حکومت کا وقار بحال کیا جائے۔ پاکستان کے ساتھ اس کے جو آقا اور غلام کا رشتہ ہے وہ ختم کیا جائے اور رشتے میں سیاسی برابری پیدا کی جائے ۔ ان تمام آئینی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے جو آزاد کشمیر کو پاکستان کو مفتوحہ علاقہ بناتی ہیں اور اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔ صرف ایک اختیار اس اسمبلی کو حاصل نہیں ہے اور وہ اختیار کوریاست کے اندر موجود کسی بھی اسمبلی کو حاصل نہیں ہے وہ ہے ریاست کے کسی بھی حصے کے مستقبل کا فیصلہ کرنا یعنی کسی حصے کا بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا۔ کیونکہ یہ فیصلہ پوری ریاست کے ساتھ ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ بڑے بڑے کشمیری دانشور اور سیاستدان اور صحافی اخبارات میں اور ریڈیو ٹی وی پر دعوے کرتے سنائی اور دکھائی اور پڑھائی دے رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کی غلامی اور بے وقاری اور محتاجی اور بے اختیاری میں قصور یہاں کی قیادت کا ہے۔ کہ وہ کسی نقطے پرت اکٹھے نہیں ہوتے۔ آج ہی ٹی وی کے ایک شو میں ایک کشمیری صحافی فرمارہے تھے کہ دو کشمیریوں کو بٹھا دیا جائے تو وہ ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ پاکستان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ پھر تو بھارتی مقبوضہ کشمیر کی غلامی میں بھی قصور وہاں کی سرکار کا ہوا بھارت کا تو نہیں نا؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ حضور صلعم کے زمانے میں غلام غلاموں کا قصور تھا۔ سیاہ فام غلام خود اپنی غلامی کے ذمہ دار تھے برطانوی سامراجی اور نوآبادایاتی قوتوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار عورتیں مردوں کو تشدد پر اکساتی ہیں وغیرہ وغیرہ؟

حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اکثر سیاستدان اکثر باتوں پر متفق ہیں ۔ سب حق خود ارادیت چاہتے ہیں اور اس میں عوام کی اکثریت جو فیصلہ کرے اس کو تسلیم کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔ ایکٹ چوہتر کے حوالے سے آزاد کشمیر کی ہر ایک جماعت اس بات پر متفق ہے کہ کشمیر کونسل کو ختم کیا جائے۔ وزارت امور کشمیر کو ختم کیا جائے ۔ معاہدہ کراچی میں جو اختیارات آزاد کشمیر حکومت سے لے لیے گئے تھے ان میں سے کرنسی ، خارجہ امور ، مواصلات اور دفاع کے سواء تمام اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو دیے جائیں۔ ان میں اس خطے کی ہر شعبہ زندگی میں تعمیر و ترقی کے لیے مقامی وسائل کو مقامی اور عالمی مہارتوں اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کا اختیار بھی شامل ہے ۔ یہ حکومت ریاست کی دوسری علاقائی و مقامی حکومتوں کے ساتھ ریاستی وسائل و معاملات اور ریاست کی مرکزی حکومت کے قیام کے حوالے سے ربط و ابلاغ کی مجاز ہو۔ ریاست کے تمام باشندوں کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کارڈ کی شکل میں جاری کیا جائے اور اس ہی کارڈ پر ان کو پوری ریاست میں آمد و رفت کی اجازت ہو۔ خودمختار کشمیر کے حامی اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات اور ملازمت اور وزارتوں و صدارت و وزراتِ عظمیٰ کے عہدوں کے لیے انتخابات و امتحانات میں شرکت اور تقرری کے لیے الحاق پاکستان کی شرط کو ختم کیا جائے ۔ آزاد کشمیر میں کسی بھی عہدے کے لیے پاکستانی باشندوں کی تقرری کی شرط ختم کی جائے ۔ آزاد کشمیر میں پاکستان کی فوج اور سرکاری ظاہر و خفیہ افسران اور تاجر و سرمایہ کار آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت ہوں اور آزاد کشمیر کے وسائل بشمول زر مبادلہ اور بینکوں میں موجود رقوم پر بھی آزاد کشمیر حکومت کا اختیار ہو۔ یہ وہ چیدہ چیدہ اختیارات ہیں جو آزاد حکومت کو حاصل ہونے چاہئیں ۔ درحقیقت یہ اختیارات ریاست کی تمام (پانچوں) صوبائی یا قومی حکومتوں کو حاصل ہونے چاہئیں۔ ہاں اگر بالکل آزادانہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کے بعد جس میں کسی بھی نقطۂ نظر کے حامیوں کے حصہ لینے پر پابندی نہ ہو اگر کوئی اسمبلی معقول نوٹس اور بحث و مباحثے کے بعد خود مختاری یا کسی پڑوسی ملک سے الحاق کا فیصلہ کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کو زبردستی نہیں روکا جا سکتا تاہم یہ حق پھر پاکستان اور بھارت کی صوبائی اور ریاستی اسمبلیوں کو بھی بالترتیب حاصل ہونا چاہیے ورنہ آزاد کشمیر اور دیگر ریاستی حکومتوں اور مجموعی طور پر ریاست جموں کشمیر کا جھگڑا خطے میں جنگ اور معاشی پسماندگی کا سبب بنا رہے گا اور فرقہ پرست اور جنگ باز و تشدد پسند اس کو اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔

ماں کی کہانی پر پابندی اور پورے سچ کی اہمیت

سوشل میڈیا پر ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرشنا مہتا کی کتاب’’ایک ماں کی سچی کہانی‘‘پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مظفر آباد کے کچھ پولیس افسران نے یہ کتاب فروخت کرنے والے کتب فروشوں کو اس کی فروخت سے منع کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کتاب پر پابندی کسی باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے عائد کی گئی ہے یا کچھ پولیس افسران نے کتاب کو پڑھ کر یا کسی کے کہنے پر اس کو’’آزاد‘‘کشمیر کے عوام کے لیے مضر گردانتے ہوئے اس کو کتاب گھروں سے اٹھوانے یا وہاں فروخت نہ کیے جانے کی مہم چلائی ہے۔

حقیقت جو بھی ہو ہر صورت میں قابلِ مذمت ہے۔ اگر پولیس والے اپنی نظریاتی سوچ کے لیے یا کسی کے کہنے پر اپنی وردی کا اس طرح سے استعمال کر رہے ہیں تو یہ بھی غیر قانونی کام ہے اور اگر کوئی نوٹیفکیشن جاری کر کے اس کتاب پر پابندی عائد کی گئی ہے تو وہ بھی درحقیقت آزادی اظہار پر پابندی ہے کیونکہ کرشنا مہتا ریاست جموں کشمیر کے وزیر وزارت (ڈپٹی کمشنر) مظفر آباد کی بیوی تھی اور جو کچھ اس نے 1947 میں دیکھا وہ لکھا۔ اس نے انگریزی میں لکھا اور آزاد کشمیر کے ایک نامور محقق، مرتب، مصنف اور پبلشر محترم سعید اسعد نے اس کے ترجمے کا انتظام کروایا جو آزاد کشمیر کے ایک اور نامور، وطن دوست اور ترقی پسند دانشور اور سیاسی کارکن محترم پروفیسر خلیق احمد نے انتہائی خوبصورت انداز میں سرانجام دیا۔ اس کتاب کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟ جو لوگ مذہب اور حب الوطنی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس معاملے میں جن کی حب الوطنی کی بنیاد کشمیر نہیں بلکہ پاکستان اور وہ بھی فرقہ واریت کی آبیاری کرنے والی پاکستانی قوتیں ہیں وہ کہیں گے کہ اس کتاب کو اہمیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو اہمیت دینے والے کشمیر پر بھارتی موقف کے حامی ہیں یا بھارتی ایجنٹ ہیں یا پاکستان کے دشمن ہیں اور سنتالیس میں کشمیر کے اس حصے کی آزادی میں پاکستان کے کردار کے منکر ہیں ، وغیرہ وغیرہ۔

تاہم سیاسی و سماجی علوم کے ایک طالب علم ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ اس کتاب کو اہمیت اس لیے دی گئی کہ یہ آزاد کشمیر کے بارے میں ہے۔ آزاد کشمیر کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم پہلو کے بارے میں جس کی پوری تصویر موجودہ اور آنے والی نسلوں تک پہنچے گی تو کسی ایک طرف کی کہانی سُن کر ان کے دماغوں کو یک طرفہ نفرت سے بھرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس زمانے پر ایک اور کتاب کشن بال گپتا نے بھی ابھی حال ہی میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں بال گپتا اپنی یادوں کے ذریعے میر پور میں ہندووں اور سکھوں کے قتل عام کی روئیداد بیان کرتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہماری تاریخ کے اہم ترین سالوں اور واقعات کو بھول جائیں؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں۔ مگر قتل عام فقط غیر مسلموں کا ہی تو نہیں ہوا تھا۔ جو لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جموں شہر اور گردونواح کے علاقوں میں قتل کر دیے گئے اُن کے بارے میں کوئی کیوں نہیں لکھتا؟ یہ بہت ہی جائز اور لازمی سوال ہے۔

جموں کے اس قتل عام کے بارے میں ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ پڑھنے کے لیے کچھ مختصر سے نعرہ باز اور نفرت آمیز آرٹیکل بھی ملے عمر کے مختلف سالوں میں اور مختلف اخبارات و رسالوں میں۔ تاہم اگر کوئی ایماندارانہ تحریر ملی تو وہ خالد حسن مرحوم کی مختصر سی کتاب ”میموری لین ٹو جموں“ جو کہ ”جموں کہ اک شہر تھا“ کے نام سے ترجمہ ہوئی۔ اس کتاب میں ذاتی یاداشتوں کے ذریعے جموں کے قتل عام کی روائیداد بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب سے اور پانچ نومبر کو جموں قتل عام پر دستیاب دیگر تحریروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ریاستی باشندوں کو قتل کر دیا گیا۔ تاہم ہزاروں لوگ جموں سے بچ کر آزاد کشمیر یا پاکستان کے مختلف علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس طرح کشن بال گپتا، کلویر گپتا اور ان کے سولہ سو ہندو ساتھی میر پور سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور جس طرح کرشنا مہتا بچ گئیں۔ تاہم جموں سے بچ کر آنے والوں میں سے خالد حسن مرحوم کے علاوہ کسی کا کچھ لکھا ہوا کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ پروفیسر اسحاق قریشی مرحوم اور جسٹس یوسف صراف مرحوم نے مختصر تحریریں لکھیں۔

اس سال کے اوائل میں اپنی دادی مرحومہ کی میت کو ان کی وصیت کے مطابق اپنے گاوں میں دفنانے کے لیے گیا تو سعید اسعد سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ اپنی کتاب ’’آزاد کشمیر اور برٹش کشمیریز‘‘ کے حوالے سے۔ اس دوران کرشنا مہتا اور کشن بال گپتا کی کتابوں کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی کہ ان کو حکمران اور حکام کی طرف سے کس طرح سے لیا جائے گا۔ میں نے ان سے بھی یہ بات کہی تھی اور جن لوگوں نے اس پر پابندی عائد کی ہے اور جو لوگ اس اور اس طرح کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ہیں ان سے بھی عرض کروں گا کہ دنیا بھر میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جبری پابندیوں کے فوری فواہد تو شاید کچھ ہو جائیں تاہم بعد ازاں ان کے بیانک نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل میرے خیال میں یہ ہے کہ اور لوگ بھی اپنی یاداشتیں لکھیں۔ وہ افسران اور وہ شہری اور سیاستدان جو اس وقت ان سارے ہنگاموں میں موجود تھے لکھیں ۔ ایمانداری اور اس سوچ کے ساتھ کہ اللہ کے ہاں جان دینی ہے۔ سچ لکھیں۔ جو کچھ دیکھا جو کچھ بیتا وہ لکھیں۔ اپنی آنے والی نسلوں تک اپنی تاریخ کے اس انتہائی باب کے بارے میں سچ سچ معلومات پہنچانے کے لیے لکھیں۔ اور جہاں تک غیر مسلموں کے قتل عام کی بات ہے یہ ایک انتہائی شرمناک باب ہے ہمارے تاریخ کا۔ اس پر ہم سب کو اپنے غیر مسلم ہم وطنوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ تاہم یہ اس قتل عام کا صرف ایک پہلو ہے۔ جموں میں جو قتل عام ہوا اور اس سے بچ کر جو مسلمان نکل آئے ان کو اپنی یاداشتیں بھی کرید کرید کر لکھنی چاہیں ۔ اگر وہ خود نہیں لکھ سکتے تو لکھاری ان کے پاس جا کر ان کی یاداشتوں کو ریکارڈ کریں اور ایمانداری سے لکھیں۔ سعید اسعد صاحب کو بھی میں نے یہی تجویز دی تھی۔ اور جموں میں جو غیر مسلم ریاستی باشندے ہیں ان کو مسلمانوں کے اس قتل عام پر معافی مانگنی چاہیے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں ہونے والے اس قتل عام کے بارے میں یہ حقیقت سمجھنا انتہائی ضروری ہے، ہم سب لوگوں کے لیے، کہ اس سے بنیادی طور پر ریاست میں آباد مختلف مذاہب کے باشندوں کے درمیان صدیوں سے قائم رشتے ٹوٹ گئے تھے۔ اس کے پیچھے کوئی مذہب اور کوئی حب الوطنی نہیں تھی۔ یہ خالصتاً فرقہ وارانہ مفادات کے لیے فرقہ وارانہ قوتوں اور فرقہ وارانہ نظریات کی بنیاد پر انسانوں سے نفرت کرنے والوں نے کیا اور کروایا تھا۔ ان میں مسلمان بھی تھے، غیر مسلم بھی، کشمیری بھی اور بھارتی و پاکستانی بھی۔ یہ نفرت کا اظہار تھا اور اس نفرت کا نہ تو اس وقت کوئی مذہب اور وطن تھا اور نہ اب ہے۔ اس نفرت کی جڑوں تک پہنچنا ہوگا اور اس نفرت کو استعمال کر کے جو انسانیت کو پھونکنا چاہتی ہیں ان قوتوں کے خلاف ریاست کے تمام باشندوں کو ایک ہونا ہوگا ۔ اپنے اپنے مذاہب میں پائی جانے والی محبتوں اور وطن کی محبت اور انسانی سماج میں انسانیت کے راج کی محبت اور ایسا سماج تعمیر کرنے کی محبتوں کو لے کر ایک ہونا ہوگا۔ ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے عہد کی تاریخ کا پورا سچ سامنے لانا ہوگا۔ صرف ہندو سچ، سکھ سچ، پنڈت سچ، مسلمان سچ، جموں کا سچ، میر پور کا سچ یا پاکستانی سچ یا بھارتی سچ ہی نہیں پورا سچ۔ جو سچ کے سب ٹکڑوں کو جوڑ کر نظر آتا ہے۔ تاریخ کے اس پورے سچ کی کوکھ سے ہی آج ہمارے حال کا پورا سچ بھی سامنے آجائے گا۔ یہ پورا سچ وادی، جموں، لداخ، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے سچ کو سن کر اور جان کر اور سمجھ کر اور اس کو جوڑ کر دیکھنے سے سامنے آئے گا۔ کشمیر کا پورا سچ کسی ایک خطے، جماعت، نظریے یا شخصیت کے پاس نہیں ہے۔ سب کے پاس ٹکڑے ہیں اور ان کو جوڑنے کا فریضہ محققین، صحافیوں، مصنفین، ناشروں، ڈرامہ نگاروں اور مورخوں، شہری تنظیموں اور فنکاروں کو ادا کرنا ہوگا۔ اس لیے سعید اسعد صاحب اور سب لکھنے والو لکھو مزید لکھو، چھاپو اور چھاپو مگر ایک بات سمجھ لو کہ کسی ایک ٹکڑے کو پورا سچ بنا کر مت پیش کرو کیونکہ ایسا کرنے سے تم بھی نفرتوں پر پلنے والی سیاستوں کی آبیاری کے مرتکب ہو جاتے ہو۔

جبر و تشدد سے امن قائم نہیں کیا جاسکتا

کل مظفر آباد میں طلباء پر پولیس کا تشدد دیکھا تو ایک واقعہ جس نے میری زندگی کا رخ بدلا دیا تھا یادداشت میں پھر سے تازہ ہو گیا۔

گیارہ فروری 1984 انٹر(اب پرل) کانٹی نینٹل ہوٹل کے باہر کھڑی یونیورسٹی کی بس کے اندر میں سہما دبکا بیٹھا باہر طلباء کے پتھراو اور پولیس کی شیلنگ دیکھ رہا تھا کہ آنسو گیس کا ایک شیل گاڑی میں آن گرا۔ گاڑی میں بیٹھے کچھ اور لڑکوں جن میں میر پور کے راجہ افتخار مرحوم بھی تھے کے ساتھ میں نے بھی چھلانگ لگائی۔ باقی معلوم نہیں کہا گے لیکن میں چند قدم بھاگ کر فٹ پاتھ پر کھڑے تماشائیوں میں جا کر کھڑا ہو کر آنکھوں سے بہتا پانی صاف کرنے لگا۔ ابھی چند لمحے ہی گذرے تھے کہ مجھے پیچھے سے کسی نے پوری قوت سے پکڑ کر زمین سے اوپر اٹھا لیا۔ میں ابھی کچھ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اٹھانے والا مجھے شاپنگ بیگ کی طرح اٹھائے ہوئے چل پڑا ۔ چند قدم بعد میں نے جبلی طور پر ایک جھٹکے سے اپنی گرد اس کے مضبوط شکنجے سے چھڑائی اور واپس بھاگ کر پھر تماشائیوں میں کھڑا ہو گیا اور سادہ کپڑوں میں اس قوی ہیکل پولیس والے کو کمال سادگی سے بتانے لگا کہ میں نے کوئی پتھر نہیں مارا میں تو غلطی سے ان کے ساتھ آگیا ہوں ۔ لیکن اب کی بار اس نے مجھے سامنے سے پکڑ کر یوں اٹھا لیا جیسے مائیں بچوں کو پہلو میں (کچھڑ ) اٹھاتی ہیں اور چند گز کے فاصلے پر کھڑی پولیس کی پک اپ میں جا کر پٹخ دیا۔ پک اپ کے فرش پر گرتے ہی وہاں باوردی پولیس والوں نے مجھے گھونسوں اور لاتوں کی زد میں لے لیا۔ ساتھ ساتھ ہتک آمیز گالیاں بھی بکے جاتے ۔ تیری ماں ۔۔ تیری بہن ۔۔ تواڈی کشمیریاں دی ۔۔۔۔ تسی کشمیری ہے ہی غدار ہو ۔ کھاندے پاکستان دا تے منگدے خودمختاریاں ۔۔۔۔ اور جانے کیا کیا۔ پھر کہنے لگے چلو زور سے نعرہ لگاؤ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘۔۔۔۔۔

میں نے جھٹ سے نعرہ لگایا ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ اور ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اب نہیں ماریں گے کہ ایک زور دار گھونسا گردن اور رخسار کے بیچ میں پڑا اور میں زمین بوس ہو گیا۔ اتنے میں ایک زور دار لات پہلو (بکھیں) میں پڑی اور مجھے لگا جیسے میری سانس بند ہو رہی تھی۔ سانس تو بند نہ ہوئی مگر میں نیم بے ہوش ضرور ہو گیا اور ہوش میں آنے کی کوشش بھی نہ کی۔ اتنے میں ایک آواز آئی ’’سائیں اس کو کیوں مارتے ہو۔ بابا یہ مر جائے گا اس کو تھانے لے چلو‘‘۔

تب مجھے احساس ہوا کہ اس پک اپ میں جو چار پولیس والے کھڑے تھے ان میں تین پنجابی تھے اور ایک سندھی۔ باقی تینوں نے مجھے مارا اور گالیاں دیں لیکن اس سندھی نے مجھے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ میں بے سدھ پڑا رہا اور چند لمحوں بعد میں نے ایک ہاتھ میری جیب میں سے پیسے نکالتا ہوا محسوس کیا اور پھر کلائی کی گھڑی اترتی ہوئی۔ میں دہشت زدہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد گاڑی چلنے لگی اور مجھے تھانے لے جایا گیا۔ وہاں کوئی تیس چالیس اور لڑکے ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھنسے ہوئے تھے۔ میں چوٹوں اور سوالوں کی شدت سے گھومتے سر اور خوف و دہشت سے کانپتے دل کے ساتھ اس کمرے میں دھکیلا گیا تو لڑکے نعرے لگا رہے تھے۔ ترانے گا رہے تھے۔ مجھے سب لوگوں کے نام تو یاد نہیں رہ گئے لیکن شوکت کشمیری صاحب پیش پیش تھے۔ وہاں پیارے جنرل سلیمان اور غوث میرے رومیٹ بھی تھے۔

ہماری ضمانت کے لیے آزاد کشمیر کے موجودہ صدر سردار یعقوب کے بھائی جن کا کراچی میں دودھ کا کاروبار تھا آئے تو شوکت کشمیری اور دیگر طالب علم رہنماوں نے مزید جوش کے ساتھ نعرے بازی شروع کر دی اور کہا کہ ہم نے جب کوئی جرم ہی نہیں کیا تو ضمانت کس بات کی ۔ یہ سب باتیں تب میری سمجھ سے باہر تھیں ۔ میں مزید خوف زدہ ہو گیا اور سلیمان اور غوث سے کہا کہ ضمانت نہیں لیں گے تو ہمیں جیل میں بھیج دیں گے نا۔ انہوں نے بھی یہ دہرایا کہ جب ہم نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو جیل میں کیوں بھیجیں گے ۔ اور چند گھنٹے بعد ہمیں رہا کر دیا گیا۔

تاہم میرے ذہن میں سوالوں کی ایک ایسی بھر مار شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے اور ان سوالوں کے پیچھے میں کہاں کہاں نہ گیا ، کیا کیا نہ کیا اور کیا کیا نہ پڑھا۔ میری زندگی کا رخ بدلنے والے اس واقعے کا آغاز ایک دن قبل شام کو ہوا تھا جب یہ خبر آئی کہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں چند روز قبل کشمیر لبریشن آرمی نام ایک گمنام تنظیم کے چند لوگوں کی طرف سے شہر میں قائم بھارتی قونصلیٹ کے ایک سفارتکار رویندر مہاترے کو قتل کرنے کے جواب میں بھارتی سرکار نے دہلی کی تہاڑ جیل میں سزائے موت کے قیدی محمد مقبول بٹ کو پھانسی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شام کو سب کشمیری لڑکے کراچی میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کے لیے اکٹھے ہوئے تو میرا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا کیونکہ میری اپنی تو کوئی بھی سیاسی سوچ اس وقت تک نہیں تھی لیکن والد صاحب جماعت اسلامی کے رکن اور شاید اکال گڑھ کے امیر بھی تھے۔ اس سے پہلے سردار قیوم کے زبردست مداح اور مسلم کانفرسی تھے۔ مقبول بٹ کے بارے میں اس وقت میں جماعتی ذرائع سے صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ وہ الحاق پاکستان کا حامی نہیں تھا اس لیے انڈیا کا ایجنٹ تھا۔ لیکن جب دیکھا کہ جماعت اسلامی اور مسلم کانفرنس کے رہنما آگے آگے تھے تو میں بھی چلا گیا۔ سفارتخانے کے سامنے جلسہ ہوا جس میں مختلف لیڈروں نے تقریریں کیں نعرے لگائے اور واپس آگئے۔

صبح جب میں ہوسٹل سے یونیورسٹی کی طرف نکلا تو رات کی بات بھول چکا تھا۔ میں نے راستے میں یونائیٹڈ بینک کی یونیورسٹی برانچ سے پیسے نکلوائے اور یونیورسٹی کی طرف چل پڑا۔ یونیورسٹی کے وسیع و عریض میدان کے کنارے پر سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل رہا تھا کہ دور سے نعروں کی آواز سنائی دی اور دیکھا تو لان کے درمیان میں ایک ہجوم سا نظر آیا۔ تب میرے ذہن میں آیا کہ مقبول بٹ کو پھانسی ہو گئی ۔ اور قریب جا کر تصدیق ہوگئی۔ مجھے افسوس ہوا لیکن جذباتی طور پر کوئی ایسا غصہ نہیں آیا۔ تاہم یہ سوال رات کو بھی میرے ذہن میں آیا تھا کہ اگر مقبول بٹ انڈیا کا ایجنٹ تھا تو پھر جمعیت اور مسلم کانفرنسی طالب علم رہنما کیوں پیش پیش تھے۔ شاید اس لیے کہ انڈیا نے پھانسی دی۔ لیکن انڈیا نے اپنے ہی ایجنٹ کو کیوں پھانسی دی؟ خیر میں بھی ہجوم میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ وہاں سلیمان اور غوث پہلے ہی موجود تھے۔ میں نے ان سے کہا یار ریلوے سٹیشن چلنا ہے ٹکٹ

لینے ۔ انہوں نے کہا ابھی تو سب لوگ مظاہرے پر جا رہے ہیں ۔ سٹیشن وہاں سے نزدیک ہی ہے

مظاہرے کے بعد چلے چلیں گے۔ یوں میں ریلوے سٹیشن جانے کے لیے یونیورسٹی کی بس پر سوار

ہوا اور مظاہرے کے بعد تھانے پہنچ گیا۔ مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی نوبت

کیسے پہنچی یہ کہانی پھر سہی۔ یہاں یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پولیس کے غیر انسانی اور

وحشانہ طرز عمل اور ’ڈاکے‘‘ کا مجھ جیسے ایک درحقیقت غیر سیاسی طالب علم پر یہ اثر ہوا کہ اس دن کے

بعد سے شاید ہی کوئی دن گذرا ہو گا کہ میں نے مقبول بٹ اور کشمیر کے بارے میں کچھ پڑھا نہ ہو یا

کسی سرگرمی میں حصہ نہ لیا ہو۔ بعد میں سوالوں کے پیچھے پیچھے میں شعور و آگہی کے وسیع و عریض

جہانوں میں جا نکلا اور ہر سال مقبول بٹ کی زندگی اور جدوجہد پر لکھنا میری زندگی کا لازمی جزو بن

گیا۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے معاشروں میں اب بھی یہی سوچ و فکر حاوی ہے کہ صرف ڈنڈے یعنی جبر و

تشدد کے ذریعے ہی معاملات کو اجاگر اور قابو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا ارباب اختیار نے جبر کی تاریخ

سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ کیا جبر کے ذریعے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے روکا جا سکا؟ کیا جبر

کے ذریعے سندھ بلوچستان اور پختونخواہ میں تشخص اور حقوق کی تحریکوں کو کچلا جا سکا؟ کیا بھارت نے

اپنے مقبوضہ کشمیر میں جبر کے ذریعے مزاحمت کو ختم کر دیا؟ کیا جبر کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو

اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونے سے روک لیا؟ تو پھر آزاد کشمیر میں وہ کیسے یہ سمجھ رہے ہیں کہ جبر

کے ذریعے وہ طلباء کو کچل دیں گے؟ جو کچھ کل میں نے فیس بک پر لگائی گئی ویڈیوز میں دیکھا اس سے

صاف نظر آتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے کچھ نہیں سیکھا۔ اور جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ

انتظامیہ اور پولیس تو صرف حکم بجالانے کے لیے ہیں۔ لیکن حاکموں کو بھی خبر ہونی چاہیے کہ ریاستی

قوتیں کتنی بھی طاقتور کیوں نہ ہوں عوامی تحریکوں کو کچل نہیں سکتی۔ چاہے یہ تحریکیں پ عوام کی جمہوری

وشہری حقوق اور سماجی انصاف کے لیے ہوں یا طلباء کی اپنے تعلیمی حقوق کے لیے یا کشمیریوں کی اپنے

قومی اور عوامی حقوق کے لیے۔

پولیس گردی اور ریاست گردی کا نتیجہ عوامی بغاوت کے سواء کوئی اور نہیں نکل سکتا۔ اس لیے ابھی وقت ہے کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو عوام کے جائز حقوق کو فراہم کرنے کی کوششوں کے ذریعے سلجھایا جائے نہ کہ جبر اور قید و بند سے۔ 1987 میں بھارتی سرکار نے بھی وادی کے نوجوانوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی بجائے کچل دینے کی پالیسی اپنائی تھی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس طرف کم از کم اس سے تو سبق سیکھ لیا جائے۔

آزاد کشمیر میں انتخابی سیاست، برادری اور کشمیر کا مستقبل

موجودہ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے خلاف ان کی اپنی ہی جماعت کے ارکان عدم اعتماد کی تحریک لے آئے اور ان ہی کی جماعت میں ان کے رفیق اور سابق وزیر اعظم ان کے مقابلے میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور دو مزید سابق وزرائے اعظم اپنی اپنی جماعتوں کے ارکان اسمبلی لے کر وزیر اعظم اور حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یوں تو یہ سب کچھ جمہوری نظام حکومت و سیاست کا حصہ ہے اور وزیر اعظم پر عدم اعتماد کوئی غیر معمولی اور غیر جمہوری بات نہیں ہے، تاہم ”آزاد“ کشمیر جو درحقیقت پاکستانی سربراہ ریاست کی سرپرستی میں کشمیر کونسل اور پاکستان کے آئین کی شق چھپن کے تحت غلام کشمیر ہے اور جہاں پاکستان نے ایکٹ چوہتر یعنی اس نام کے آزاد کشمیر کے آئین کے ذریعے خودمختار کشمیر والوں پر پابندی لگا کر بنیادی طور پر غیر جمہوری کر دیا ہوا ہے اس لیے یہاں ایک باوقار جمہوریت کی توقع تو خیر کی ہی نہیں جاسکتی تاہم جس کثرت سے عدم اعتماد ہونے لگے ہیں اور جس طرح سے عدم اعتماد کی تحریکیں خود اسی جماعت کے لوگ لاتے ہیں اور مخالفین سے مل کر حکومت کو چلتا کرتے ہیں اس سے یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ یہاں جماعت سے وابستگی اور وفاداری فروغ پانے کی بجائے زوال پذیر ہے۔

میں نے بہت پہلے ایک کالم میں پارٹی اور برادری کی کش مکش کا ذکر کیا تھا کہ درحقیقت آزاد کشمیر میں مضبوط ترین سماجی تنظیم برادری تھی اور ۱۹۳۱ میں پہلی سیاسی جماعت کے قیام کے وقت برادری پس منظر میں چلی گئی تھی۔ لیکن ۱۹۳۴ میں پہلے انتخابات کے بعد انتخابی سیاست میں اہمیت بڑھ جانے کے بعد برادری دوبارہ سے سامنے آ گئی۔ ۱۹۴۷ تک ریاست میں سیاسی جماعت [نیشنل کانفرنس، مسلم کانفرنس، مزدور کسان کانفرنس] نے مضبوط حیثیت اختیار کر لی تھی۔

تاہم سنتالیس کے بعد جب یہ خطہ مسلم کانفرنس کے حصے میں آیا تو یہاں پہلے تو برادری الحاق و خود
مختاری اور رائے شماری اور آزاد کشمیر کو تسلیم کروانے جیسے سیاسی نظریات پر مبنی سیاست کے پس منظر
میں کارفرما رہی لیکن ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد سیاسی منظر نامہ بتدریج بدلنے لگا۔ "آزاد
کشمیر میں یوں تو اقتدار پر بڑی برادریاں پہلے سدھن پھر راجپوت اور اب جاٹ ہی قابض رہی ہیں
لیکن گذشتہ بار سردار عتیق احمد خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد سدھن پس منظر میں چلے گئے اور
راجے اور جاٹ پیش منظر میں آ گئے مگر اس طرح کہ ریاستی تشخص جس کی پاسبان انتخابی سیاست میں
مسلم کانفرنس رہی ہے وہ بھی پس منظر میں چلا گیا اور آزاد کشمیر کی دونوں بڑی برادریاں جاٹ اور
راجپوت بالترتیب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں چلی گئیں ۔ مسلم
کانفرنس نے بیان بازی کے ذریعے شور مچایا تا ہم چونکہ کھیل کے اصولوں کے مطابق ان کا بنیادی
مقصد اقتدار ہی ہے اس لیے وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل گئے کیونکہ اقتدار سے باہر رہ کر خرچہ زیادہ
ہوتا ہے اور آمدنی نہیں ہوتی لہذا ایک بار باہر جا کر واپسی بہت مشکل ہوتی ہے۔

مگر اب کی بار جو تحریک عدم اعتماد چوہدری مجید کے خلاف پیش ہوئی ہے اس میں جس

طرح کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ اب آزاد کشمیر کی دو بڑی برادریاں

ایک ہی جماعت میں اکٹھی ہو جائیں گی ۔ چونکہ بیرسٹر سلطان کی پیپلز پارٹی کی رکنیت ختم کر دی گئی

ہے اور مسلم لیگ نون ومسلم کانفرنس بہر حال عدم اعتماد قرارداد کی حمایت کریں گی اس لیے بیرسٹر

سلطان وزیر اعظم بن جائیں گے اور ان کے پاس دو راستے ہیں: ایک یہ کہ اپنی پیپلز مسلم لیگ کو زندہ

کر لیں ۔ دوسرا یہ کہ نون لیگ میں شامل ہو جائیں ۔ میرے خیال میں وہ دوسرا راستہ اختیار کریں

گے۔ کیونکہ پارٹی کو زندہ کرنے اور چلانے کے لیے بہت خرچہ کرنا پڑتا ہے اور خرچہ برادری دیتی ہے

اور برادری خرچہ ایسے ہی نہیں دیتی بلکہ "لین دین" اور "پہانجی برتن" کے حساب سے دیتی ہے۔

یہ "دین" مستقبل میں "لین" کے لیے ہوتا ہے۔ اور سنا ہے کہ بیرسٹر صاحب "لین" میں تو ٹھیک ہیں

لیکن "دین" میں وہ عام پائے جانے والے تاثر کے مطابق قدرے شریف ثابت ہوئے ہیں ۔ اور اب ان کے بزرگ جن کے بارے میں ان کے گذشتہ دور اقتدار کے دوران کہا جاتا تھا کہ ”لین دین“ وہ خود ہی کرتے تھے اور ظاہر ہے ان کا اس شعبے میں کون ثانی ہو سکتا ہے اب وہ بھی خاصے بیمار ہیں اس لیے وزیر اعظم بن کر بھی بیرسٹر صاحب کے لیے اپنی پارٹی کو دوبارہ منظم کرنا آسان نظر نہیں آتا۔ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے وہ مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے تو مسلم لیگ نون مزید تغڑوی ہو جائے گی اور پیپلز پارٹی اگر فوت نہ ہوئی تو بس ”ٹہرکتی ٹہرکتی،‘ رہے گی اور مزید جاٹ نکل کر بیرسٹر سلطان کے ساتھ مسلم لیگ نون میں چلے جائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ چوہدری یاسین پر بھی اگر ان کی اسلام آباد والی دنیا کے حوالے سے کچھ دباؤ بڑھا تو وہ بھی بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اپنی سیاسی وابستگیوں پر نظر ثانی کریں؟

یہ صورت حال خودمختار کشمیر کی جدوجہد کے لیے فوری طور پر سود مند نہیں ہو گی کیونکہ آزاد کشمیر کی دو بڑی برادریاں ایک پاکستانی جماعت میں چلی جائیں گی اور باقی ماندہ پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس اپنے اثاثوں کی بخشش اور اقتدار میں تھوڑا بہت حصہ ملتے رہنے کے بدلے موجودہ سیاست سے ہٹ کر تشخص یا خودمختاری کے لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے خودمختاری کو تقویت ملے۔

تاہم مسلم لیگ نون میں آزاد کشمیر کے راجوں اور جاٹوں کا پاکستان کے ایک صنعت کاروں کی سربراہی اکٹھے ہونے کا ایک مثبت پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ دوست مجھے کہیں کہ تم مثبت رہنے کے چکر میں کبھی کبھی جاگتے جاگتے سو جاتے ہو مگر مجھے اس ممکنہ اتحاد میں ایک امکان یہ لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے راجوں اور چوہدریوں کے پاس پیسے بہت ہیں خاص طور سے ولایتی چوہدریوں کے پاس۔ اور سنا ہے کہ ادھر چوہدری سرور بھی پنجاب واپس جا رہے ہیں اور لارڈ نذیر بھی اس کھیل میں چپکے چپکے جھاتیاں مارتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اگر سردار یعقوب کو بھی ساتھ ملا لیں تو مل کر آزاد کشمیر میں کم از کم توانائی، صنعت اور سیاحت کے شعبوں میں انتہائی مفید پیش رفت کر سکتے ہیں اور اس سے ان سب کو اتنی کمائی ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے صنعتکاروں کو بجلی چوری کر کے اور دو نمبر مال بنا کر پیسے بنانے کی مجبوری سے آزادی مل سکتی ہے اور توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کو برادری اور رشتہ داروں سے لفافوں اور اپنے محکوم و مجبور ملازمین و چھوٹے کاروباریوں کی مجبوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رشوت لینے سے آزادی مل سکتی ہے۔ عام آدمی کی زندگی میں بھی کچھ بہتری آ سکتی ہے اور اگر نواز شریف و شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کے سینیئرز ’’آزاد‘‘ کشمیر کے آئین میں تبدیلی کر کے اس کو واقعی یا کم از کم سیاسی طور پر با اختیار کر دیں تو مختلف اقسام کی انتہا پسندی کی شدت میں بھی کمی آسکتی ہے اور با معنی ترقی اور سیاست کے لیے راہیں ہموار ہو سکتی ہی۔ بصورت دیگر اگر یہ سیاسی تماشہ چلتا رہا اور معاشی طور پر عام آدمی کی محرومیاں بڑھتی رہیں تو پھر بچوں کو خشک گھاس کے پاس ماچس دے کر بٹھانے والی بات ہوئی نا؟ اب یہ آزاد کشمیر و پاکستان کے سیاست کاروں اور صنعتکاروں پر ہے کہ وہ ماچس والے بچوں کے ہاتھوں میں تخلیقی و صنعتی علوم کی کتابیں اور اوزار اور آلات دیتے ہیں یا ان کو ماچس کے ساتھ خشک گھاس کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔

تابعداری اور کاروبارِ حکومت

چوہدری عبدالمجید صاحب آزاد کشمیر میں میرے حلقے یعنی حلقہ نمبر دو سے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ میں اُن کے حلقے سے ہوں۔ موجودہ انتخابات کے دوران میں وہیں تھا مگر کسی بھی امیدوار کے لیے مہم نہیں چلائی کیونکہ اس نام کے آزاد کشمیر میں میرے نظریے کے کشمیریوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے نظریے کے انکار پر مبنی حلف لیتے ہوئے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا وفادار رہوں گا۔

نظریہ خود مختار کشمیر کے بہت سے حامیوں نے اب کی بار یہ حلف لے کر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا مگر ہمارے حلقے میں سے کوئی نہ تھا۔ کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کے لیے بر سرِ پیکار یہ کشمیری بہت زیادہ ووٹ نہ لے سکے کیونکہ نظریاتی سیاست کرنا اور ووٹ لینا دو الگ کام ہیں۔ نظریاتی سیاست کے لیے آپ جو چاہیں کہیں چند لوگوں کے سواء کوئی سُنتا نہیں اور جو چند سُنتے ہیں اُن میں کچھ کچھ سمجھتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں اُن میں کچھ کچھ عمل پیرا ہوتے ہیں اور جو عمل پیرا ہوتے ہیں وہ اکثر سماج سے کٹ جاتے ہیں اور سماج کو بدلنے کے لیے عمر بھر راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی تو سماج ہی ایسا بُرا اور بدبودار لگنے لگتا ہے کہ اپنے اور اپنے جیسے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سارے کافر نظر آنے لگتے ہیں۔ بے ایمان، جھوٹے، گھٹیا۔ تاہم اگر جذبات کی بجائے علم وعقل اور حقیقت پسندی کا راستی اختیار کیا جائے تو پھر گندگی کے ڈھیر میں بھی پھول کھلانے کی تانگ مرتی نہیں اور بُرے سے بُرے حالات میں بھی اُمید زندہ رہتی ہے۔ لمبی ہے رات مگر رات ہی تو ہے اور جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے اور ہم دیکھیں گے۔۔۔۔ اور کم زیادہ پر غالب آگئے وغیرہ جیسی شاعرانہ اور دینی تسلیاں ثابت قدم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔

تاہم ووٹوں کی سیاست میں جہاں لفاظی، دعوے، وعدے سب کچھ ضروری ہوتا ہے وہاں اصل مسئلہ ووٹ لینے کا ہوتا ہے۔ اس لیے ووٹر کی سمجھ بوجھ اور کمزوریوں کو سامنے رکھ کر کہا اور سُنا جاتا ہے۔ وزیر اعظم صاحب بھی سیاست میں خود مختاری ہی کے راستے سے آئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے بہت سے دوسرے سینئیر رہنماؤں کی طرح اور کُچھ کے ساتھ ۔ چوہدری مجید اب ووٹوں کی سیاست کے بہترین کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ان سے منسوب بے شمار کہانیاں حلقے میں اور حلقے سے باہر بھی گردش کرتی ہیں۔

ایک کہانی یہ ہے کہ وہ کہیں ووٹ لینے گئے ایسے گھر میں جس کے بارے میں اُن کو پتہ تھا کہ اُن کے لڑکے چوہدری صاحب کو ووٹ نہیں دیں گے۔ مگر وہ گئے اور انکار سُنا۔ کوشش کی کہ انکار کو اقرار میں بدلیں۔ مگر ناکام ہوئے تو اندر سے اُٹھ کر باہر چار پائی پر ساری رات سوتے رہے اور صُبح جب لڑکوں کی والدہ نے دیکھا تو لڑکوں کو حکم دیا کہ جو بھی ہو جائے ووٹ اس ہی شخص کو دینا ہے جس نے ساری رات یہاں باہر ”رخوڑی“ چار پائی پر گزار دی۔

دادیوں نانیوں ماسیوں پھپھیوں کے ساتھ گھاس کاٹنے کے بھی واقعات سُنے ہیں ہیں اور سڑک کے کنارے ”بوجھو“ کے ساتھ جاتے ہوئے مداری کو دوسو روپے دینے کا واقعہ بھی۔ میں اپنا واقعہ یہاں نہیں سناؤں گا۔ تاہم ایک مزے کا واقعہ سنانا ضروری معلوم ہوتا ہے جو میں نے حالیہ انتخابات میں سُنا۔ کہتے ہیں کہ چوہدری صاحب یا شاید ان کے قریبی حامی ووٹ مانگنے چکسواری کے قریب مخولیوں کی ایک بستی میں گئے۔ وہاں گفتگو اور وعدے وعید کے بعد چوہدری صاحب کے کسی ماتحت / مرید یا مجاور ؟ نے کہا کہ ”جی تے فیر پڑھو کلمہ “ تو مخولیوں کے سربراہ نے تیسرا کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ چوہدری صاحب نے پوچھا ” یہ کیا۔ پہلا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے“ تو مخولیوں کے نمائندے نے کہا جی وہ پہلا اور دوسرا کلمہ تو دوسرے امیدوار پڑھوا گئے ہیں جی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مجید صاحب بڑے محظوظ ہوئے۔

نظریاتی اس سطح کی مہم نہیں چلا سکتے۔ وہ ووٹروں کو نظریہ پڑھاتے ہیں اپنی ایمانداری، شرافت اور سفید پوشی کا یقین دلاتے ہیں۔ ووٹر کو پتہ ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے تو بس میں بھی سیٹ نہیں ملتی لہٰذا کیوں اپنا قیمتی ووٹ ضائع کریں ۔ لیکن چوہدری مجید صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی تابعداری، فرمانبرداری سے اور وضع داری سے لوگوں کے دل تو معلوم نہیں مگر ووٹ جیت لیتے ہیں۔ اب کی بار جب حلقہ نمبر دو میں جانے کیوں (آخر کیوں؟) سردار سکندر صاحب کی طرف سے فضول میں برادری کارڈ استعمال کرنے کے باوجود پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لیے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ مگر ہوا یوں کہ غیر متوقع طور پر وہ وزیر اعظم بن گئے ۔ غیر متوقع اس لیے کہ توقعات رقم اور خرچے سے جڑی ہوئی تھیں جو کہ چوہدری یاسین اور بیرسٹر سلطان صاحب کے ماتھے پر لکھی نظر آتی تھیں۔ خیر اچھا ہوا، چوہدری صاحب وزیر اعظم بنے اور ہمارے حلقے کا کچھ نام تو بنا۔ اب کام ہو گا یا کیا کام ہو گا اور کس کا ہو گا؟ کس کا کم ہو گا اور کس کا تمام؟ یہ سوال تو مقامی دوست بہتر جانتے ہوں گے۔ مگر اخباروں کے ذریعے ”تُرنت“ ہی یہ واضح ہونے لگا کہ چوہدری صاحب مظفر آباد بھی تابعداری اور فرمانبرداری ہی کو لے کر گئے ہیں۔

پہلے تو انہوں نے خود کو گڑھی خدا بخش کا مجاور قرار دیا اور پھر اس پر ڈٹ گئے اور جگہ جگہ کہنے لگے کہ ہاں میں گڑھی خدا بخش کے پیروں کے پیروں کی خاک ہوں۔ اس وقت مجھے یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ راجہ گلاب سنگھ نے انگریز بہادر سے وادی اور ملحقہ علاقے پنجاب دربار کے ذمے واجب الادا تعاون جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کے بعد کیوں کہا تھا کہ میں آپ کا زرخرید غلام ہو گیا ہوں۔

مگر پھر ایک دن ان ایسا بیان پڑھا کہ مجھے لگا اب اُن کی حکومت پر کوئی رٹ کرے گا۔ مگر کسی نے رٹ نہ کی۔ میں نے سوچا کالم لکھوں۔ پھر سوچا نہیں ابھی نہیں۔ دیکھتے ہیں کوئی اس پر کچھ کہتا ہے؟ کسی نے کچھ نہ کہا۔ اب بھی کوئی کچھ نہیں سمجھ رہا۔ جی ہاں! چوہدری صاحب کا تین چار بار مسلسل بیان آتا رہا ہے کہ میں نے حکومت کو پارٹی کے تابع کر دیا ہے۔ صرف اس ایک بات پر یہ حکومت جا سکتی ہے۔ کیونکہ دُنیا کی کسی بھی آئینی جمہوریت میں حکومت کو سیاسی وابستگیوں سے ماوراء ہو کر چلانا حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ عملی طور پر ظاہر ہے کہ ہر حکومت میں ”کیا جانتے ہیں پر کسے جانتے ہیں،، کو کچھ نہ کچھ فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ مگر ایسا کرتے ہوئے پکڑے جانے پر حکومت چلی جاتی ہے۔ مگر آزاد کشمیر میں کسی سیاستدان کسی خودمختار یے کسی وکیل کسی صحافی کسی نے بھی چوہدری صاحب سے نہیں کہا جناب ایسی تابعداری قانون کے خلاف ہے۔ آئین کے خلاف ہے۔ جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ کیا پاکستان کی حکومت یا بھارت کی حکومت یا برطانیہ کی حکومت کا وزیر اعظم اگر یہ بیان جاری کرے کہ میں نے حکومت کو پارٹی کے تابع کر دیا ہے تو کیا ان کی حکومت ایک دن بھی زندہ رہ سکتی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ لارڈ نذیر کی کشمیری شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی چوہدری صاحب کی نہیں تھی بلکہ بڑے صاحب کی تابعداری میں تھی۔ اب یہ بڑے صاحب کون ہیں؟ اللہ جانے یا اللہ کے کچھ خاص بندے۔

اور اب چوہدری صاحب نے اسی اصول کے تحت یہ غضب کیا ہے کہ اُنہوں نے کچھ سینیر افسروں کو گھر بٹھا دیا جن میں مسعود الرحمان بھی شامل ہیں جن سے میری کچھ ملاقاتیں ہوئی ہیں جب وہ برطانیہ میں زیر تعلیم تھے۔ انتہائی چاک و چوبند، محنتی، ایماندار، مخلص، انسان دوست اور دور اندیش افسر۔ مظفر آباد کے ڈی سی تھے۔ اس سے پہلے مختلف وزرا اعظم کے پاسبان رہے ہیں۔ یہ سب افسران حکومت کی جماعتی تابعداری کا شکار ہوئے ہیں۔ تاہم چوہدری صاحب کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ تو تابعداری کر کے ہمیشہ خود جو پانا چاہتے ہیں پا لیتے ہیں کوئی اور اگر اُن کی تابعداری کا شکار ہوتا ہے تو اس بارے میں شاید اُنہوں نے سوچا ہوگا؟

کان، کتا، جن اور وزیر

بچپن میں یہ کہانی سُنی تھی اور یہاں برطانیہ میں آکر بھی بارہا سُننے کا اتفاق ہوا کہ کسی معصوم سے آدمی سے کسی چالاک نے کہا کہ تمھارا کان تو کتا لے گیا ہے تو معصوم آدمی کتے کے پیچھے بھاگنے لگا۔ اب ظاہر ہے کہ من چلوں کو تماشا مل گیا۔ مگر کسی دانا بزرگ نے معصوم کو ہانپتے بھاگتے دیکھا تو اس کو روکا اور دونوں کانوں پر اس کے ہاتھ رکھ کر کہا یہ لو تمھارے تو دونوں کان سلامت ہیں اس لیے تم کتے کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو۔ اس کہانی سے پھر یہ محاورہ نکلا کہ کتے کے پیچھے بھاگنے سے پہلے کان دیکھ لینا چاہیے۔

اس طرح کی کہانیوں اور واقعات کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ درحقیقت ہوئے ہوں بلکہ قومی امکانات ہوتے ہیں کہ سیاسی و سماجی صورت حال کو آسان بنا کر سمجھانے کے لیے کچھ سیانے لوگوں نے یہ کہانیاں تخلیق کی ہوئی ہوتی ہیں۔ پرانے زمانوں کی تو خیر چھوڑیے ہمارے ہاں آج بھی یہ چلن عام ہے کہ افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں اور سیاسی یا شخصی مخالفتوں کی بنیادوں پر ریکارڈ خوب لگتے اور بجتے ہیں۔ نجی مذاق کی حد تک تو اس رجحان کی نوعیت الگ ہے مگر سیاسی اور معاشرتی سطح پر افواہیں بعض اوقات انتہائی نقصان دہ نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے سیاسی و سماجی واقعات کے حوالے سے اضافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور سے جب سیاسی عوامل بھی شامل ہوں جو کہ آج کل ہر ایک بات میں شامل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ جو واقعی یا بات سیاسی طور پر جس کے فائدے میں جاتی ہو وہ فوری طور پر اس کو درست تسلیم کر کے آگے پھیلانا شروع کر دیتا ہے اور آگے چل کر اگر غلط ثابت ہو تو پھر یوں منہ پھیر لیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔۔

اس رجحان کی تازہ ترین مثال وہ اخباری خبر ہے جو پہلے روزنامہ مشرق اور نوائے وقت میں شائع ہوئی جس کے مطابق آزاد کشمیر کے تین وزراء نے ایم اے پاس ایک طالبہ کے ساتھ مظفر آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں اجتماعی زیادتی کی اور پھر جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ تا حال سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پونچھ کے علاقہ جنڈالی کی اس لڑکی کو کوٹلی کے ایک اعلیٰ افسر کے کہنے پر لڑکی کے رشتہ دار نے جاب انٹرویو کے لیے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھیجا جہاں نشے میں دھت وزراء نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور بعد ازاں لڑکی نے بیان دیا کہ وہ حادثے میں زخمی ہوئی ہے مگر اب تازہ ترین معلومات کے مطابق مظفر آباد سی ایم ایچ کے باہر پرائیویٹ کلینک میں اس کا معائنہ ایک لیڈی ڈاکٹر نے کیا اور لڑکی کو سی ایم بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد کہا کہ لڑکی کا ریپ ہوا ہے اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے ایک افسر نے اپنے اعلیٰ افسر سے بات کی جس نے لڑکی سے فون پر بات کی جس کے بعد لڑکی نے بیان بدل دیا۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنڈالی کے علاقہ میں حادثے سے ہلاک ہونے والی لڑکی کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

درحقیقت آزاد کشمیر کے پرچم وادی میں لہرائے جانے کا مطلب میرے خیال میں آزاد کشمیر کے حقیقی تصور کے دوبارہ جنم لینے کی علامت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کہانی وزراء سے کچھ کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے گھڑی جارہی ہے یا پھر وزراء نے اس کہانی کو اپنی زیادتی کا شکار لڑکی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی تھی؟ ان سوالات پر روشنی ڈالنے کے لیے تو مکمل تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہے جو ہونی چاہیے اور حقائق سامنے آنے چاہیں مگر وزراء یا آزاد کشمیر حکومت یا الحاق کی سیاست سے اختلافات کی بنیاد پر حقائق سامنے آنے سے پہلے یہ فرض کر لینا کہ وزراء نے ایسا کیا ہے میرے خیال میں نہ تو سیاسی طور پر موزوں ہے اور نہ اخلاقی طور پر اور نہ ہی جدید سماج کے شہریوں کو یہ زیب دیتا ہے۔

اس کہانی میں جو بات مجھے کھٹکتی ہے وہ ”نشے میں دھت ہو کر اجتماعی زیادتی“ کے الفاظ ہیں۔ اس سے مجھے وہ واقعی یاد آرہا ہے جو نیا نیا برطانیہ آنے کے بعد میرے شہر اولڈ ہم میں پیش آیا تھا جہاں ایک لڑکی کوثر کو جن نکالنے والے ایک پیر نے سرخ مرچوں کا ”تہوف“ دے کر الحاق کر ڈالا تھا تو یہاں نے چینل فور نے اس موضوع پر ایک ڈاکومنٹری بنائی اور برطانیہ میں جن نکالنے کے مناظر کی کچھ خفیہ اور کچھ ظاہر ریکارڈنگ کی۔ ایک منظر میں برطانیہ کے کسی شہر میں ایک لڑکی کے اندر جن سے پیر پوچھتا ہے کہ تم اس لڑکی کے ساتھ کیوں چمٹے تھے تو جن نے جواب دیا کہ ’میں کھانا کھا رہا تھا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا‘‘۔

میں نے سوچا ہاں یہی بات تو جن اکالگڑھ میں بھی کیا کرتے تھے۔ میرے بچپن میں۔ مگر تب وہاں ٹائلٹیں نہیں ہوا کرتی تھیں اور لوگ پیشاب کرنے کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔ باہر کچھ جگہیں ’’پکی‘‘ مشہور تھیں کہ وہاں جنوں کا ٹھکانا ہے اس لیے یہاں پیشاب نہ کیا جائے ۔ اکثر ایسی جگہیں کسانوں اور ہالیوں اور مسافروں کے آرام کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ مگر برطانیہ میں جن ٹائلٹ میں بیٹھ کر کھانا کیوں کھا رہا تھا؟ یہ تو کوئی انتہائی بے وقوف جن تھا۔ مزید غور کرنے پر معلوم ہوا کہ جنوں کی اس کہانی میں اس لڑکی کو جو سبق پڑھایا گیا اس کا سکرپٹ دیسی تھا مگر استاد سماجی فرق کو سمجھ نہیں پایا اور وہی پرانا سبق پڑھا دیا۔

میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس کوئی ثبوت ہے کہ اس ’’نشے میں دھت اجتماعی زیادتی‘‘ والے واقعے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے مگر جو لوگ اس وقت ’’آزاد‘‘ کشمیر میں رہتے یا یہاں کے موجودہ سیاسی و معاشرتی کلچر سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں تیسرے درجے کے ملازمین اور سیاسی کارکنان کو ایک سے زیادہ لڑکیوں تک رسائی ہوتی ہے اور اثر و رسوخ کے ذریعے ملاں سے لے کر سیاست دان وافسران سب دن کو اور جبکہ رات کو کچھ اور ہوتے ہیں۔ مذکورہ کہانی میں اس دعوے پر کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کہ بااثر افراد نے اپنے اثر ورسوخ اور اختیارات کا ایک ایسا جال بن رکھا ہے جس میں وہ عورتوں کو ملازمتیں دلوانے، تبادلے کروانے، ترقیاں دینے اور ملازمت قائم رکھنے کے عوض پھانستے ہیں۔ لیکن ’’نشے میں دھت اجتماعی زیادتی‘‘ کی سرکاری رسم کیا اب بھی رائج ہے؟ اور جن وزراء کے نام غیررسمی طور پر لیے جا رہے ہیں وہ ایسا کریں گے؟ اگر یہ بات ہے تو پھر یا تو وہ جن کی طرح بے وقوف ہیں یا پھر استاد پرانے وقتوں کے ہیں اور بات نئے وقتوں کی ہے۔۔۔

’’آزاد کشمیر‘‘ میں آئینی ترامیم اور آزادی پسندوں کے خدشات

’’آزاد‘‘ کشمیر کی آزادی کے بارے میں نہ تو الحاق پاکستان والوں کو کوئی شبہ ہے اور نہ خود مختار کشمیر کے حامیوں کو۔ دونوں اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ نام کی حد تک تو ’’وطن ہمارا آزاد کشمیر‘‘ آزاد ہے لیکن عملی طور پر یہاں پاکستان کے حکمرانوں کا اختیار چلتا ہے۔ موجود سیاسی علم و اعمال (سیاسیات اور سیاست) کے مطالعے اور مشاہدے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی ’’آزاد‘‘ کشمیر، یا، ریاست کے کسی اور حصے میں موجود صورت حال کو بدلنے کی بات ہوتی ہے تو وہ ریاست کی ’’متنازعہ‘‘ حیثیت سے الگ کر کے نہیں ہوتی۔ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷ء میں ریاست کی تقسیم کے بعد سے علیحدگی/تقسیم کی لکیر کی دونوں جانب بھارت اور پاکستان نے ریاست کی خودمختاری کو ختم کر دیا اور دونوں جانب خودمختار کشمیر کی سیاست کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا۔ لیکن دونوں اطراف ریاست جموں کشمیر کی منفرد حیثیت، باشندہ ریاست اور منفرد ریاستی کشمیری تشخص کو برقرار رکھا۔ اس کی بنیادی وجہ جہاں ریاستی باشندوں میں سیاسی شعور تھا وہاں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ میں دنیا بھر کی اقوام اور ممالک کے سامنے اقرار کیا تھا کہ وہ ریاست سے اپنی فوجیں نکالیں گے اور ریاست کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیں گے۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مستقبل کا فیصلہ کرنے کے الفاظ کا استعمال کمشن کی صرف ۱۳ اگست ۱۹۴۸ والی قرارداد میں ہوا تھا جبکہ ۵ جنوری ۱۹۴۹ والی قرارداد میں اس کی جگہ الحاق کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کے سامنے صرف دو آپشن ہیں۔ اور شاید اسی وجہ سے مقبول بٹ شہید سمیت سینکڑوں کشمیریوں نے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کر دیا تھا اور لاکھوں نوجوان کشمیری آج بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں خود مختاری سے کم کوئی حل قبول نہیں ہے۔ ان سیاسی انتہاؤں کے درمیان دیکھیں تو اقوام متحدہ میں کمشن کی قراردادوں ، سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں اور اقوام متحدہ کے صدور کے کشمیر پر موقف میں استعمال کی جانے والی اصطلاحات میں ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو ایک سے زیادہ بار تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ کوئی طے شدہ بات نہیں لگتی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اگر کوئی ریفرنڈم یا رائے شماری ہوئی تو ریاستی باشندوں کو خود اختیاری کا حق حاصل نہیں ہوگا بلکہ صرف الحاق کا حق حاصل ہوگا۔ اور نہ ہی اس بحث میں ریاست کے تمام باشندوں کو جو سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں ان کو یرغمال بنائے رکھنا دانشمندی ہے۔

قوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت پاکستان اور بھارت کو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک ان کے مقبوضہ علاقوں میں دفاع / کرنسی اور خارجہ امور کا اختیار دیا گیا تھا۔ دیگر تمام امور میں ’’آزاد‘‘ کشمیر اور ’’مقبوضہ‘‘ کشمیر کی خودمختاری کی ضمانت دینا بھارت و پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ اس وقت ظاہر ہے کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ فوجیں نکال کر رائے شماری کروائیں گے۔ انہوں نے فوجیں نہیں نکالیں اور رائے شماری نہیں کروائی جو کہ ظاہر ہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے لیکن چونکہ ان قراردادوں میں ان پر عمل درآمد کروانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے پاس اختیارات نہیں ہیں اس لیے اقوام متحدہ کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ بھارت و پاکستان کشمیر کا مسئلہ رضا کارانہ طور پر حل کریں۔ یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ حل نہ کیا (جو انہوں سڑسٹھ سال گذرنے کے بعد بھی نہیں کیا) تو کیا کریں گے۔ تاہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی وجہ سے ریاست کا کوئی حصہ بھی پاکستان یا بھارت کا آئینی اور قانونی حصہ نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں قابض ممالک نے اس کو اپنا آئینی حصہ نہیں بنایا۔ بھارت نے اپنے آئین میں دفعہ ۳۷۰ کے مطابق ریاست جموں کشمیر کو خصوصی حثیت دے رکھی ہے جو بھارت کی کسی اور ریاست کو حاصل نہیں ہے۔ پاکستان نے بھی اپنے آئین میں صاف لکھا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔

اس صورت حال کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ دونوں جانب ریاست کی منفرد حیثیت اور تشخص قائم رہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر ریاست کی الحاق پسند اور آزادی پسند جماعتوں کی اکثریت متفق چلی آرہی ہے کہ مستقبل میں جو فیصلہ بھی ہو ریاست کی منفرد حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ ریاست کے حصوں اور قابض ملک کے درمیان آئینی اور قانونی تعلق واضح نہیں ہو سکا۔ غور کریں تو یہ صورت حال بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں زیادہ مبہم اور اس خطے کے لیے نقصان دہ چلی آرہی ہے۔

۱۹۶۰ تک تو آزاد کشمیر کا یہ خطہ مہاراجہ نظام کے خلاف ۱۹۳۰ میں چلنے والی تحریک کے زمانے سے بھی پیچھے چلا گیا۔ اور پہلا الیکشن جس میں معمولی سی جمہوری رمق دیکھی جاسکتی تھی وہ ۱۹۶۰ میں منعقد ہوا۔ پہلی آئین نما چیز ۱۹۷۰ میں اپنائی گئی اور پھر سن چوہتر میں یہ عبوری آئین پیپلز پارٹی کے سیاستکاروں نے بھٹو کی سربراہی میں آزاد کشمیر اسمبلی پر تھوپ دیا۔ آئین کیا ہے جیسے کسی ملک کے کچھ اہلکاروں کی جاب ڈسکرپشن [ملازمانہ ذمہ داریاں] ہو۔ اور چند صفحات پلٹنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس آئین میں کوئی اور بھی ہے۔ کشمیر کونسل۔ اگر چہ آئین میں اس کے دائر کار کی وضاحت نہیں لیکن یہ حقیقت کہ یہ ادارہ ”آزاد“ کشمیر اسمبلی پر بھاری ہوگا اس ان دفعات سے واضح ہو جاتی ہے کہ اس کا سرپرست پاکستان حکومت کا سربراہ ہوگا ، جو اپنی کابینہ اور اسمبلی سے پانچ ارکان اس میں نامزد کرے گا، وزارت امور کشمیر کا وزیر اس کا بلحاظ عہدہ رکن ہوگا اور آزاد کشمیر کا صدر اس کا وائس چیئر اور آزاد کشمیر اسمبلی کونسل کے چار ارکان منتخب کرے گی۔ جب اس کے دائرہ کار اور دائرہ کار کی تفصیلات سامنے آئیں تو واضح ہو گیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی برائے نام ہی ہے۔ اور ایسا ہی تھا۔

آزاد کشمیر اسمبلی کی بے اختیاری سے کوئی بھی ایسا فرد جس کو اس موضوع سے دلچسپی تھی اور ہے آگاہ ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں مختلف سیاستدانوں اور اداروں میں بھی اس پر کئی بار تنقید کی گئی اور پاکستانی اور آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خودمختار کشمیر کے حامی کشمیری اس آئین کو سرعام دستاویز غلامی کہتے ہیں کیونکہ اس میں الحاق پاکستان کے نظریے کے خلاف کوئی فرد یا جماعت انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے نہ کسی فرد کو الحاق سے وفاداری کا حلف اٹھائے بغیر ملازمت ملتی ہے۔ خودمختار کشمیر والوں نے بارہا انتخابات میں حصہ لینے کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے مگر الحاق سے وفاداری کا اقرار کیے بغیر تو ان کے کاغذات مسترد کر دیے گئے۔

جس طرح سے عبوری آئین نے آزاد کشمیر کو ایک بے اختیار حکومت بنا کے رکھا ہوا تھا اس کے تناظر میں ”آزاد“ کشمیر اسمبلی کی طرف سے جو سفارشات پاکستان کی وزارت قانون کی منظوری کے لیے ارسال کی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہوگا کہ یہ آزاد کشمیر حکومت کے اختیارات میں اضافے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کیونکہ بائیس ۲۲ سفارشات پیش کی گئی ہیں ان میں کشمیر کونسل کے اختیارات اسمبلی کو منتقل کرنے اور لینٹ افسران کے لیے ڈیپوٹیشن پالیسی متعارف کروانے کا مطالبہ بھی شامل ہے جس سے توقع کی جاتی ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومتی عہدیداروں کی محتاجی میں کمی واقع ہوگی۔

تاہم ظاہر ہے کہ یہ آئین اور ترامیم اور پورا سیٹ اپ جو آزاد کشمیر میں موجود ہے وہ بنیادی طور پر کسی خودمختار ملک کا نہیں ہے بلکہ انتظامی لحاظ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس لیے اس سے ”آزاد“ کشمیر کو مکمل طور پر خودمختار کرنے کی ترامیم کی توقع تو ظاہر ہے نہیں رکھی جاسکتی لیکن اس کو جمہوری بنانے اور خودمختار کشمیر کے حامیوں میں انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہونے کے خلاف مسلسل فروغ پذیر بیزاری اور اکتاہٹ کو کم کرنے کے لیے اس غیر جمہوری اور جابرانہ پابندی کو برقرار رکھنے کے باعث آزاد کشمیر کے آزادی پسند حلقوں کے لیے یہ ترامیم غیر متعلق ہی رہیں گی۔ ان ترامیم کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والوں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم ایک این جی او اور اس کے ایک رہنما ارشاد محمود صاحب بھی شامل ہیں۔ ان سے جب میں نے پوچھا کہ خودمختاری کے حامیوں پر پابندی کے باب میں کوئی سفارش شامل کی گئی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس موجود مسودے کے مطابق اس حصے کو نہیں چھیڑا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آزادی پسندوں کی طرف سے اس مسئلے کو شدومد کے ساتھ اٹھایا نہیں گیا اور الحاق نواز جماعتوں کا ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم میرے خیال میں ان کا یہ دعویٰ صرف اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے اگر ہم شد و مد سے مراد پر تشدد اور توڑ پھوڑ سے بھر پور تحریک لیں ورنہ کم از کم ۱۹۹۲ سے تو میں آگاہ ہوں کہ مختلف آزادی پسندوں نے اس شق کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور ہر ایک انتخابات میں ان کے کاغذات نامزدگی الحاق پاکستان کی شرط کو کاٹ دینے باعث مسترد ہوتے ہیں، اخبارات میں بھی مسلسل لکھا گیا اور جب موجودہ تجاویز پیش کرنے کو کہا گیا تو بھی برطانیہ اور آزاد کشمیر میں آزادی پسندوں نے تجاویز پیش کیں۔ برطانیہ میں مختلف آزادی پسند جماعتوں نے مل کر اس پر غور کیا اور تجاویز پیش کیں جن کو بعد ازاں جموں کشمیر رائٹرز فورم کے شفقت راجہ نے ایک کتابچے کی شکل میں مرتب کر کے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر صادق سبحانی صاحب کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کے وزراء کی خدمت میں پیش کیا تھا۔

نتیجہ اس ساری گفتگو کا یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں اور حکومتوں کے اختیارات میں اضافہ، ان کے وقار اور توقیر میں اضافے کے لیے ضروری ہے جس سے ان خطوں کی منفرد حیثیت اور تشخص کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ان خطوں کو بااختیار بنا کر پھر ان اختیارات کے ذریعے ان خطوں کی منفرد حثیت اور تشخص کے خلاف فیصلے کروانے کے خدشات پورے ہوئے تو ظاہر ہے کہ اس سے حالات کوئی بھی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ جب تک اس آئین میں خود مختار کشمیر کے حامیوں پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں اور ریاستی وسائل بشمول بینکوں میں رکھے سرمائے، زر مبادلہ اور عالمی سطح پر ملنے والے مالی امداد سے مناسب حصہ آزاد کشمیر کی حکومت اور متعلقہ اداروں کے حوالے نہیں کیا جاتا مجوزہ آئینی ترامیم سے محدود حد تک شخصی اور علاقائی، اداراتی بہتریاں تو پیدا ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر آزاد کشمیر کی محتاجی میں خاطر خواہ کمی کے امکانات کمزور ہی رہیں گے۔

گلگت بلتستان: صوبے اور حقوق کی تکرار

پاکستانی اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اپنے مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے شمال میں واقع خطے گلگت بلتستان میں اصلاحات کے لیے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سرپرستی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کے بارے میں پاکستانی اخبارات ہی میں یہ دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں کہ یہ کمیٹی چین کی طرف سے یہ کہنے کے بعد قائم کی گئی ہے اقتصادی راہداری کو گلگت بلتستان سے نہیں گذارا جا سکتا کیونکہ راہداری کا معاہدہ چین و پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ہے اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ علاقہ ہے۔ اور متنازعہ علاقے میں کھربوں کی سرمایہ کاری نہیں کی جاسکتی۔ اخبار نویسوں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کمیٹی کا قیام گلگت بلتستان کو پاکستان کا ’’آئینی اور قانونی‘‘ صوبہ بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔

اس خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ’’آزاد‘‘ اور ’’مقبوضہ‘‘ کشمیر کے سیاست کاروں نے کہا ہے گلگت بلتستان کشمیر کا لازمی حصہ ہیں اور ان کی آئینی و قانونی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

یہ خبر اور اس پر ’’آزاد‘‘ اور ’’مقبوضہ‘‘ کشمیر کے سیاست کاروں کا ردعمل پڑھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ پہلے یہ تو طے کر لینا چاہیے کہ کیا واقعی چین نے ایسا کوئی اعتراض کیا ہے؟ کیونکہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت تو 1947 سے چلی آ رہی ہے اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ چین کی طرف سے اس خطے میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ در حقیقت ان ہی علاقوں کا کچھ حصہ ۱۹۶۰ کی دہائی میں پاکستان کی طرف سے چین کو دیا گیا تھا جن کے بارے میں چین و پاکستان کے درمیان باقاعدہ معاہدہ موجود ہے۔

دوسری سوچنے کی بات یہ ہے کہ ۸۰۰ میل لمبی شاہرہ کراکرم جس کی تعمیر ۱۹۵۹ میں شروع ہوئی تھی اس میں بھی چین نے کھربوں کی سرمایہ کاری کی تھی اور موجودہ پروجیکٹ میں پچیس بلین کے قریب اس شاہراہ کی مرمت و وسعت پر خرچ کیے جائیں گے۔ کیا اس دوران چین ان علاقوں کی متنازعہ حیثیت سے بے خبر تھا؟

موجودہ راہداری منصوبے کی تجویز پہلی بار پاکستان و چین کے وزراء اعظموں نے مئی ۲۲ مئی ۲۰۱۳ کو پیش کی تھی اور اسی سال ۲۷ اگست کو اس کا سیکرٹریٹ قائم کیا گیا تھا۔ کیا اس وقت چین کو نہیں معلوم تھا کہ یہ علاقے متنازعہ ہیں؟

میرے پاس کوئی اندرونی ذرائع (چڑیا وغیرہ) تو نہیں جن سے خبر مل سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے تاہم جو کچھ اخبارات میں چھپا ہے اس سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ درحقیقت چین نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بناو۔ کیونکہ پاکستان کی طرف سے اکیلے یا پاکستان کی مسلط کی ہوئی گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کر دینے سے یہ علاقے آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اب ظاہر ہے چینیوں میں عالمی قوانین کی اتنی سی سمجھ بوجھ تو پائی جاتی ہوگی نا؟ تاہم اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ چین نے گلگت بلتستان کے عوام کو مزید انتظامی و معاشی حقوق دینے کی ہدایت ضرور کی ہے۔ کیونکہ جس طرح سے گلگت بلتستان میں سیاسی شعور بڑھ رہا ہے اور خاص طور سے اقتصادی راہداری کے اس منصوبے سے مقامی عوام کو مکمل طور پر باہر رکھنے کے خلاف جو احتجاجی آوازیں بلند ہو رہی ہیں وہ شاہراہ قرا کرم کے وقت نہیں سنائی دی تھیں۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ چین نے کہا ہو کہ گلگت بلتستان کی حکومت مزید اختیارات اور عوام کو مزید حقوق دیے جائیں۔ اور یہ اصلاحاتی کمیٹی قائم ممکن ہے کہ اس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہو۔

لیکن اْدھر صحافی بھائی نے اس کمیٹی کو ’صوبہ بناو کمیٹی‘ بنادیا اور کشمیری لیڈروں نے گلگت بلتستان پر اٹوٹ انگ اور ہماری شہ رگ کی طرز پر حق جتانا شروع کر دیا۔ یوں گلگت بلتستان کے حقوق کو گلگت بلتستان کی قانونی و آئینی حیثیت کو گڈ مڈ کرنے لگے۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے باسیوں کے حقوق اور اس کو صوبہ بنانا دو الگ موضوعات ہیں۔ جہاں تک گلگت بلتستان کے عوام کے سیاسی، معاشی، ثقافتی و انتظامی حقوق کا سوال ہے جو پاکستانی حکمرانوں نے نومبر ۱۹۴۷ سے سلب کر رکھے ہیں اگر اب پاکستان کے اربابِ اختیار ان میں بہتری لانا چاہتے ہیں، چین کے کہنے پر ہی سہی تو ہر اس فرد یا جماعت کو جو گلگت بلتستان کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں مقامی عوامی قیادت کے مشورے کے مطابق موقف اختیار کرنا چاہیے۔

یہ عین ممکن ہے کہ حقوق و مراعات دینے کی آڑ میں پاکستانی حکمران گلگت بلتستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومت سے مل کر طاقت و اختیار صرف مراعات یافتہ اور پاکستانی حکمرانوں کے وفادار سیاست کاروں و افسر شاہی تک ہی محدود رکھے۔ لیکن یہ تو بھارت ”جموں کشمیر“ میں اور پاکستان ”آزاد“ کشمیر میں بھی کرتا چلا آ رہا ہے۔ ”آزاد“ کشمیر کے حکمرانوں کو ”آزاد“ کشمیر کے معاشی و سیاسی، انتظامی اور اختیاراتی حقوق پر بامعنی آواز اٹھانے کی توفیق تو شاید ہی کبھی ہوتی ہے۔ یہاں یہ آوازیں خودمختار کشمیر کے حمایتی اٹھاتے ہیں جن کو آزاد کشمیر کے حکمران پاکستان مخالف کہتے ہیں۔

اسی طرح تقسیم کے وقت ”جموں کشمیر“ کی حیثیت کا موازنہ آج سے کریں اور سوچیں کہ وہاں کے حکمرانوں نے بھارت کی طرف سے بتدریج اپنے مقبوضہ خطوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف کیا مزاحمت کی؟ وہاں مزاحمتی تحریک حکومتی اور سرکاری دائروں سے دھتکارے ہوئے افراد نے شروع کی اور مختلف محرومیاں بتدریج آزادی کی محرومی اور امید سے جڑ گئیں۔

گلگت بلتستان میں بھی ایک طرف پاکستانی اقتدار نواز ہیں اور دوسری طرف عوامی حقوق نواز۔ پاکستانی اقتدار نواز صوبہ بننے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ تاہم عوامی حقوق نوازوں کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تمام حقوق حاصل ہونے چاہیں اور اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے لوگ ریاست کے دیگر خطوں کے باشندوں کے ساتھ مل کر کریں۔ اس فیصلے میں ریاست کشمیر کے ساتھ رہنے، پاکستان کا حصہ بننے یا خود مختار گلگت بلتستان ولداخ [بلوراور/ یا بالا ورستان] وغیرہ جیسے ممکنہ متبادل شامل ہیں۔ لیکن ٹھیک اس وقت گلگت بلتستان کا ہر فرد اپنے اس خطے کے لیے زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کرنے کا خواہشمند ہے اور وہ اس کا پوری طرح حقدار ہے اور ان کے اس حق کو ریاست جموں کشمیر کے تمام باشندوں کو تسلیم کرنا اور اس کی غیر مشروط حمایت کرنی چاہیے۔

میرے خیال میں پاکستان گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر سے الگ کر کے صوبہ بنانے کا غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام نہیں کرے گا اور نہ ہی گلگت بلتستان کے حقوق نواز لیڈر اور کارکن اتنے بے خبر ہیں کہ ایسا ہونے دیں گے۔ ”آزاد“ کشمیر اور ”جموں کشمیر“ والوں کو اپنے اپنے خطے میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی و سیاسی حقوق کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

ریاست جموں کشمیر کے تمام حصے لاکھ ریاست کا حصہ سہی اور بے شک پوری ریاست کے ساتھ متنازعہ ہیں لیکن کوئی بھی حصہ کسی دوسرے حصے کے کہنے پر شہہ رگ یا اٹوٹ انگ نہیں بن سکتا جب تک کہ مذکورہ حصے کے عوام ایسا نہیں چاہیں گے۔ اس لیے ریاست جموں کشمیر کے تمام حصوں کے عوام خاص طور سے لیڈروں کو جہاں اپنے حصے میں حقیقی حقوق کی نشاندہی اور مانگ کرنی چاہیے وہاں اپنی ریاست کے دوسرے حصوں میں حقوق کی جدوجہد میں ان کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ پاکستان، بھارت و چین کی ریاستیں اپنی جابر سرکاری قوم پرستیوں کو جس قدر بھی حاوی اور خونخوار بنالیں اگر وہ اپنے تمام عوام کے حقوق کا احترام نہیں کریں گے اور ان کو سماجی و معاشی انصاف فراہم نہیں کریں گے تو اپنے ان ہی بڑے بڑے جثوں کا بوجھ نہیں سہار سکیں گے۔ کیونکہ جبر پسند اور آمریت زدہ حلقے جتنے بھی فتح کے شادیانے بجائیں اور طاقت کے بل پر قبضے کرنے اور جاری رکھنے کا عہد گزر چکا ہے۔ حتیٰ کہ جائز اور قانونی خطوں کے عوام پر آمریت قائم رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

ریاست جموں کشمیر میں جمہوریت اور عوامی حقوق اور سماجی انصاف کی بنیاد پر آزادی کی جدوجہد کرنے والی قوتوں کو پاکستان و بھارت اور چین کے سرکاری جابرانہ قوم پرستیوں کی نہیں بلکہ ان تینوں کثیر القومی ریاستوں کے اندر عوامی حقوق و سماجی انصاف کے لیے برسر پیکار عوامی و ترقی پسندانہ قومی پرستیوں کی فکر و سیاست کا حصہ بننا چاہیے اور ہر خطے کے عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے اور ہر ایک خطے سے ابھرنے والی آوازوں کو جوڑنا چاہیے۔ ان آوازوں اور ان کی شناختوں کے باہمی احترام کی بنیاد پر۔

برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر قرارداد

جمعرات 19 جنوری 2017 کو برطانوی پارلیمنٹ میں مانچسٹر کے مضافات میں انتخابی حلقے’’بری شمال‘‘ سے کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ نٹ ہال نے مندرجہ ذیل قرارداد (موشن) پیش کی:

That this House notes the escalation in violence and breaches of international human rights on the Indian side of the Line of Control in Kashmir; calls on the Government to raise the matter at the United Nations; and further calls on the Government to encourage Pakistan and India to commence peace negotiations to establish a long-term solution on the future governance of Kashmir based on the right of the Kashmiri people to determine their own future in accordance with the provisions of UN Security Council resolutions.

ترجمہ:-کشمیر میں تسلط کی لکیر کے بھارتی جانب تشدد اور عالمی انسانی حقوق کی پامالی میں اضافے کے پیش نظر اس ایوان کی طرف سے حکومت سے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی درخواست کی جاتی ہے ؛اور حکومت سے مزید استدعا کی جاتی ہے کہ وہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں بھارت و پاکستان کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس بات کا خود فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے کہ مستقبل میں وہ کشمیر پر کس کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

اس کے بعد نٹ ہال جو کہ پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر گروپ کے سرپرست بھی ہیں نے پہلے تو ’’پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والوں سے متعلقہ معاملات‘‘ کی کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد مختلف برطانوی کشمیری تنظیموں اور ان کے قائدین کو سراہا جو برطانیہ میں کشمیر کے مسئلے پر سرگرم چلی آرہی ہیں۔ ان میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے عظمت اے خان، حق خود ارادیت تنظیم کے راجہ نجابت حسین، تحریک کشمیر کے فہیم کیانی، برطانوی مسلمان خواتین کے فورم کی صبیہ خان، جموں کشمیر انسانی حقوق کی کونسل کے ڈاکٹر نذیر گیلانی اور جموں کشمیر لبریشن کونسل کے نجیب افسر شامل ہیں۔

گذشتہ دو سالوں میں کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ میں یہ دوسری بحث تھی۔ صبح گیارہ بج کر اکاون (11:51) منٹ پر شروع ہوئی اور تین بجے سہہ پہر تک جاری رہی اور اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے دیکھا اور سنا۔

قرارداد پیش کرنے کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مسٹرنٹ ہال نے کہا کہ میرے حلقے میں ہزاروں افراد جو کشمیری اور پاکستانی پس منظر سے آئے ہیں ان کے لیے یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ دوسرے بہت سے حلقوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ نا واقف ارکان کے لیے کشمیر کا تعارف کرواتے ہوئے نٹ ہال نے کہا: ’’یہ زمین کا ایک قطعہ ہے جو بھارت اور پاکستان کی سرحدوں کے آر پار جاتا ہے۔‘‘

مسئلہ کشمیر کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا’’اس جھگڑے کی جڑیں 1947 میں ہیں جب برطانیہ نے اپنی کالونی انڈیا کو آزادی دی تھی اور اس کو دو علیحدہ اکائیوں انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کیا تھا۔ ریاست جموں کشمیر جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر وہاں کا حکمران ہندو تھا کی سرحدیں انڈیا اور مغربی پاکستان کے ساتھ لگتی تھیں۔‘‘

انہوں نے کہا کشمیر کی تاریخ بہت پیچیدہ ہے جس کی تفصیلات میں نہیں جایا جا سکتا تھا لیکن پاکستان و بھارت کے درمیان پہلی جنگ کی وجہ جو جھگڑا بنا وہ یہ تھا کہ کشمیر کی ریاست کون سی قوم میں شامل ہوگی۔

اس کے بعد؟ نے اس بحث میں حصہ لیا اور موشن کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کیا۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں عمران حسین۔ شبانہ محمود، خالد محمود، نصرت غنی اور ناز شاہ کا آبائی تعلق کشمیر میں تسلط کی لکیر کے پاکستانی جنب والے حصے سے ہے۔ یہ بحث جنوب ایشیاء کے لیے وزیر آلوک شرما کے سامنے ہو رہی تھی جن کا آبائی تعلق بھارت سے ہے۔ چونکہ موشن کا بنیادی نقطہ کشمیر کے بھارتی تسلط والے حصے میں حقوق انانی کی خلاف ورزیاں تھا اس لیے بحث کے دوران مختلف شرکاء نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران وادی کشمیر میں بھارتی سرکاری قوتوں کی طرف سے کی جانے والے انسانی حقوق کی پامالیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ رکن پارلیمنٹ بوب بلیک مین جو کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت نواز مانے جاتے ہیں نے کشمیری پنڈتوں کے انخلاء کے معاملے سے لے کر پاکستانی دخل اندازی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پہلے افواج نکالنے میں ناکامی جیسے معاملات اٹھاتے ہوئے لشکر وجیش جیسی تنظیموں کے ذریعے کشمیری آزادی کی جدوجہد کو اسلام کے نام ہر برپا کی جانے والی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔
بحث کی مکمل تفصیلات پارلیمنٹ کے اس لنک پر موجود ہیں۔

https://hansard.parliament.uk/Commons/2017-01-19/debates/5E3E7217-2415-4B9
Kashmir

اس کالم کا مقصد ایک تو اردو پڑھنے والے کشمیریوں کو تقسیم کی لکیر کے آر پار اس بحث سے آگاہ کرنا ہے لیکن اس سے بھی اہم مقصد یہ ہے کہ اس بحث کے فوائد اور حدود کیا ہیں اور باوقار آزادی کے حصول کے لیے مستقبل میں کشمیریوں کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک فوائد کا تعلق ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ وادی کشمیر میں مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لیے شرکاء پر ہونے والے مظالم سے متعلق عمومی آگاہی میں واضح اضافہ ہوا۔ نہ صرف پارلیمنٹ کے ارکان بلکہ ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے کئی ایک نئے لوگوں تک کشمیریوں کی آواز پہنچی۔ کشمیری نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو موقع ملا کہ وہ اپنے آبائی وطن کے لیے کچھ کہہ سکیں۔ برطانیہ میں کشمیر مسئلے کے حوالے سے سرگرم کشمیری تنظیموں اور ان کے قائدین کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ کوشش کرنے سے کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرورت ہوتی ہے۔ عام برطانوی کشمیریوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوا کہ کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے کچھ کیا جانا چاہیے اور امید ہے کہ مختلف سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کریں گے۔

برطانیہ میں سرگرم کشمیریوں میں سے ان تنظیموں یا ان کے قائدین کی طرف سے کوئی بیان میری نظر سے نہیں گزرا جن کو قرارداد پیش کرتے وقت تجویز کار مسٹر ٹ ہال کی طرف سے سراہا گیا تھا۔ تاہم دیگر بہت سے کشمیریوں نے اپنے اپنے انداز میں اس کی بحث اور قرارداد کی تشریح اور تاویلیں پیش کی ہیں۔ اکثر نے اسے کشمیریوں کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ کچھ نے کہا ہے کہ اس میں غیر مشروط اور غیر محدود حق خود ارادیت کو منظور کر لیا گیا ہے۔ جبکہ کچھ نے اس کو پاکستان کی فتح قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کی طرف سے اس پر شادیانے بجانے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔

ذیل میں اسی تناظر میں قرارداد کا ایک مختصر اور غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ بحث کو کشمیری عوام کے اندر پائے جانے والے مختلف نقطہ ہائے نظر کی روشنی میں دیکھ کر کشمیر کے اندر برسر پیکار کشمیری اگر چاہیں تو اس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

بنیادی طور پر اس قرارداد کے دو حصے ہیں: ایک حقوق انسانی کی پامالی سے متعلق اور دوسرے مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور مستقل حل سے متعلق۔ جہاں تک حقوق انسانی کی پامالی کا تعلق ہے اس میں ساری توجہ کا مرکز وادی کشمیر ہے جہاں بلاشک حقوق انسانی کی پامالی کی سطح اور شدت کا تسلط کی لکیر کی پاکستانی جانب کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پھر بھی ٹوری پارٹی کی نصرت غنی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کشمیر میں تسلط کی لکیر کے صرف بھارتی جانب ہی نہیں بلکہ پاکستانی جانب جا کر بھی انسانی حقوق کی صورت حال کو دیکھنا چاہیے۔

قرارداد کے اس حصے پر مزید غور کریں تو یہ بھی نظر آئے گا کہ حقوق انسانی کی پامالی کے ساتھ ساتھ تشدد میں اضافے کی بات بھی ہو رہی ہے اور عام طور پر جب سیاست میں تشدد کی بات کی جاتی ہے تو اشارہ اکثر مزاحمت کاروں کی طرف سے تشدد کے استعمال کی طرف ہوتا ہے۔ کشمیر میں تقسیم کی لکیر جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’جنگ بندی لائن‘ ہے کو ’کنٹرول لائن‘ لکھا گیا ہے جو کہ شملہ معاہدے کی اصطلاح ہے۔ مزید براں حکومت برطانیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ انسانی حقوق کے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ کشمیر مسئلے پر مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر پاکستان و بھارت آپسی بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کر کے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن ان کے لیے ایسا کرنا اس لیے ناممکن نظر آتا ہے کہ پاکستان کے نزدیک آزاد کشمیر کی حکومت اور حریت کانفرنس کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ بھارت کے خیال میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مشترکہ حکومت کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ خود مختار کشمیر والے کشمیریوں کے خیال میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون کی حکومت پاکستان کی کٹھ پتلی ہے اور پی ڈی پی و بی جے پی کی حکومت بھارت کی۔ جبکہ حریت وادی میں مزاحمت میں شریک عوام کی تو نمائندگی کرتی ہے لیکن جموں ، لداخ اور گلگت بلتستان والے اس کو اپنی نمائندہ نہیں مانتے۔ آزاد کشمیر میں بھی صرف جے کے ایل ایف ہی حریت کا حصہ ہونے کے باعث اس کی نمائندہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے۔ لیکن دیگر آزادی پسند جماعتیں ایسا نہیں مانتیں ۔ تاہم اولین ترجیح جس پر مختلف مقررین نے زور دیا وہ ہے وادی میں امن کا قیام۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ بھارت اور مزاحمت کاروں کو مختلف اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد جا کر مسئلے کے حل کے لیے عمل شروع کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ جس کا ایک راستہ یہ ہے کہ ریاست کی موجودہ تین اسمبلیوں اور جموں و لداخ میں بھی مقامی اسمبلیاں قائم کر کے اقوام متحدہ کے نمائندوں ، حقوق انسانی کی تنظیموں اور صحافیوں کی نگرانی میں پانچوں اسمبلیوں کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ریاست کے مختلف علاقوں کی نمائندہ قیادت کا انتخاب کیا جائے۔ اور پھر اس قیادت کو بات چیت میں شامل کیا جائے۔ دوسرا راستہ جو اس قرارداد میں تجویز کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو خود یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے کہ وہ مستقبل میں کس کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 13 اگست 1948 کو جو قرارداد منظور ہوئی تھی اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان و بھارت کی طرف سے فوجیں نکال لینے کے بعد کشمیری کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور عام کشمیری کے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں وہ خودمختار رہنے کے حق میں بھی ووٹ دے سکیں گے۔ یعنی سوال یہ ہوگا کہ آپ خودمختار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان یا بھارت سے الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ قرارداد اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کیے گئے کمشن کی طرف سے پہلی قرارداد تھی۔ جبکہ 5 جنوری 1949 کو کمشن نے جو دوسری قرارداد منظور کی تھی اس میں ’’مستقبل کا فیصلہ‘‘ کی جگہ’’الحاق کا فیصلہ‘‘ کے الفاظ شامل کر دیے گئے تھے۔ یوں حق خودارادیت کو الحاق تک محدود کر دیا گیا تھا جس کے مطابق کشمیری کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ۔

کشمیری تشخص: سیاسی، ثقافتی اور قومی

زیر نظر موضوع پر میں نے کچھ عرصہ قبل انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر مختلف تاثرات اور بحثوں کے پیش نظر میں نے سوچا کہ شاید اردو میں اس کو لکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس لیے یہاں انگریزی مضمون کا ایک خلاصہ پیش خدمت ہے۔

16 مارچ 1846 کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور جموں کے راجہ گلاب سنگھ کے درمیان امرتسر کے مقام پر ہونے والے معاہدے کے تحت برطانیہ نے وادی کشمیر اور ملحقہ علاقے گلاب سنگھ اور اس کی نرینہ اولاد کی خود مختار ملکیت میں دے دیے۔ اس معاہدے کی حیثیت اور سیاست پر تب سے بحث جاری ہے اور جاری رہے گی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ریاست جموں کشمیر اس معاہدے کے نتیجے میں قائم ہوئی۔ مختلف دستاویزات کے مطابق اس کا پورا سرکاری نام ’ریاست جموں و کشمیر و تبت ہا و اقصائی چن و علاقہ جات وغیرہ‘‘ تھا۔ تاہم جو نام اکثر استعمال ہوا وہ جموں وکشمیر تھا لیکن انگریزوں، مہاراجہ اور دیگر کشمیری احکام اور باشندوں کی طرف سے پوری ریاست کے لیے صرف کشمیر کا استعمال بھی عام تھا۔

اس تناظر میں یہ دعویٰ بے جا نہیں ہوگا کہ اگر 1947 میں ریاست تقسیم نہ ہوتی تو کشمیری شناخت ہی اس کی عام سیاسی وقومی شناخت کے طور پر پروان چڑھتی۔ اور یہ کوئی کشمیر کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ دنیا کی کئی ایک کثیر الثقافتی اور کثیر القومی وقومیتی ریاستوں میں کسی ایک علاقے، ثقافت یا خطے کو قومی شناخت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس کی صرف چند مثالیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔ قریبی ہمسائے ہندوستان کو دیکھیں تو ہندوستانی شناخت کی جڑ بنیاد ’انڈس‘ دریا میں ہے جو کہ ہندوستان کے کئی ایک دریاوں میں سے ایک ہے۔ برطانیہ (Britain) کی وجہ تسمیہ قدیم زمانے میں بہت سے قبائل میں سے ایک قبائل برطان (Briton) میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ بھوٹان کا مطلب مقامی زبان میں تبتیوں کی جگہ بتایا جاتا ہے۔ بورکینا فاسو صحرائی افریقی ملک ہے جو پہلے پہل وولٹا بالا (اپر وولٹا) کہلاتا تھا یعنی دریائے وولٹا کے اوپر کی زمین۔ پچاس فیصد مسلم اکثریت کے اس ملک کا نام دو زبانوں سے مشتق ہے۔ بورکینا مورے زبان سے ہے جسکا مطلب ایماندار آدمی اور فاسو دیئولا زبان سے ہے جسکا مطلب باپ کا گھر ہے۔ یعنی بورکینا فاسو کا مطلب ایماندار آدمیوں کے باپ کا گھر۔

چین سنسکرت کے لفظ چین سے ہے۔ یہ مہا بھارتامیں موجود ہے اور اس وقت کے اس علاقے میں قائم خاندان قین سے بنا ہے۔ چین کو پہلے کیتھے اور ختن بھی کہتے تھے۔ جبکہ اہل مغرب اسے سیریس یا سیریکا بھی کہتے تھے۔ مقامی طور پر اس ملک کا نام ”جھونگو“ ہے جس کا مطلب مملکت وسطی ہے۔ ان مثالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کی پہچان وہاں بسنے والی تمام ثقافتوں یا زبانوں یا علاقوں کی عکاسی نہیں کرتی۔ خاص طور سے وہ ممالک جہاں ایک سے زیادہ زبانیں، مذاہب اور علاقائی شناختوں سے وابستہ ہے۔ مختلف قومی شناختیں اپنے اپنے مخصوص مقامی حالات کی روشنی میں پروان چڑھی اور ارتقاء پذیر ہوئی ہیں۔ اور جیسا کہ مذکورہ مثالوں میں دیکھا جاسکتا ہے ملکوں کی قومی شناخت کا منبع یا جڑ بنیاد کوئی ایک صفت نہیں ہے۔ بعض قومی شناختیں کسی قبیلے کے نام پر ہیں، بعض کسی حکمران خاندان کے نام سے، بعض کسی ملک کے کسی ایک جغرافیائی خطے کے نام پر اور بعض کسی ثقافت یا زبان کی مماثلت سے۔ اور تمام قدیم ممالک کی شناختوں کی کہانیاں قدیم ماورائی یا مافوق الفطرت قصے کہانیوں میں ہی ملتی ہیں۔

اب اس تناظر میں دیکھیں تو کشمیر کی وجہ تسمیہ کے ساتھ بھی ایک ایسی ہی قدیم کہاوت منسوب ہے۔ اس کے مطابق موجودہ وادی کشمیر کبھی ایک جھیل تھی جس میں ایک جل بھاو رہتا تھا جو آس پاس کے پہاڑوں پر رہنے والے افراد کو تنگ کرتا تھا جنہوں نے کشپ دیو سے مدد مانگی جس نے ایک مقام غالباً بارہ مولا سے کاٹ کر پانی بہا دیا اور جل بھاو کو مار کر لوگوں کو اس سے نجات دلائی اور اس کے نام پر کشپ مرا اور پھر بتدریج کشمیر بن گیا۔ ایک کشمیری قلمکار نے حال ہی میں اس کو مشرق وسطیٰ کے ایک قبیلے کاش کی طرف سے آباد کیے جانے پر کاش مرا اور پھر کشمیر کی توضیح پیش کی ہے۔ لیکن مقامی لوگ تو اسے اب بھی کشیر کہتے ہیں اور گلگت بلتستان والے بھی۔ اور ایک دعویٰ یہ ہے مقامی طور پر اس کا نام کشیر ہی تھا لیکن باہر سے آنے والوں نے اسے مختلف ناموں سے پکارا اور ان میں سے کشمیر زیادہ مشہور ہو گیا اور یہ بھی کشمیر سے مراد تب بھی صرف وادی کشمیر نہیں تھی بلکہ ملحقہ علاقوں کے لیے بھی اس کو حوالے کی شناخت کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔ تاہم یہاں اہم نقطہ یہ ہے کہ کشمیر کی شناخت کی بنیاد زمین کا خطہ تھا یعنی یہ جغرافیائی شناخت تھی۔ جس کو شاید کاشری زبان بولنے والوں نے کشیر کہا۔ وہ یہاں کب آباد ہوئے اس کے بارے میں میرا علم فلحال محدود ہے۔ کیونکہ اگر جھیل والی کہاوت کو مان لیا جائے جو جیالوجیکل حوالوں سے بھی اس حد تک ثابت ہوتی ہے کہ پہلے یہ خطہ پانی میں تھا اور پانی کے انخلاء کے بعد یہاں انسانی آبادیاں بسیں تو عین ممکن ہے کہ یہ کہانی یہاں آباد ہونے والوں نے تخلیق کی ہو۔ لیکن تاریخ سے تو یہ بھی حوالے ملتے ہیں کہ یہاں کے ابتدائی آباد کار ناگا اور پشاچہ لوگ تھے۔ ظاہر ہے ان سب مظاہر پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن یہاں ان حوالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کشمیری بنیادی طور پر ایک جغرافیائی شناخت تھی اور تاریخ کے کسی عہد میں کاشری زبان بولنے والوں کی اکثریت کی وجہ سے ثقافتی شناخت میں جذب ہو گئی۔ لیکن چونکہ کشمیری عنان حکومت قدیم عہد سے زین العابدین بڈشاہ کے زمانے تک کئی بار اپنے مرکزی علاقوں سے نکل کر دور دراز تک پھیلی اور جب اس کا اقتدار پھیلا تو شناخت نے سیاسی شناخت کا روپ دھار کر وسعت بھی حاصل کی۔ اور موجودہ ریاست جموں کشمیر کے قیام تک کشمیری شناخت ایک واضح سیاسی شناخت بن چکی تھی جو ان تمام لوگوں کی شناخت تھی جو وادی کشمیر میں رہتے تھے یا جہاں تک ان کی حکومت جاتی تھی وہ کشمیری ماتحت علاقے کہلاتے تھے۔ اور وادی کشمیر میں بھی اور وسیع تر کشمیری حکمرانی میں آنے والے علاقوں میں بھی مختلف زبانوں اور نسلوں اور مذاہب اور علاقوں کے لوگ شامل تھے۔ اگرچہ اس زمانے میں ثقافتی، لسانی اور قومی شناختوں کی وہ حیثیت اور اہمیت نہیں تھی جو آج ہے۔ تاہم یہاں اہم بات یہ ہے کہ کشمیری شناخت کی اس وسعت اور مضبوطی کی وجہ سے جب موجودہ ریاست قائم ہوئی تو اس کے نام میں کشمیر کو اور دیگر خطوں کے ناموں کو شامل کیا گیا اور اس کو صرف جموں ریاست نہیں قرار دے دیا گیا۔

اس عہد کے بعد کے سو سالہ مہاراجہ راج کے دوران اس ریاست کی قومی شناخت دو سطحوں پر پروان چڑھی۔ ایک اوپر سے یعنی حکومتی اقدامات اور اعمال کے ذریعے اور دوسرے نیچے سے یعنی عوامی سیاست اور ادب کے ذریعے۔ اوپر سے دیکھیں تو انتہائی رسمی طور پر پوری ریاست کا نام لکھا جاتا تھا جیسا کہ مظفر آباد کے ایک پل پر آج بھی ریاست کا پورا نام لکھا ہوا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر و تبت ہا، اقصائی چن اور علاقہ جات وغیرہ اور سرکاری طور پر جموں و کشمیر لکھنے کا رواج زیادہ تھا لیکن بے شمار تاریخی حوالے موجود ہیں جہاں سرکاری دستاویزات اور خط و کتابت میں مہاراجوں نے بھی ریاست کو کشمیر لکھا اور انگریز احکام نے بھی۔ اوپر سے باشندہ ریاست کا قانون وہ اہم ترین اقدام تھا جس نے پہلی بار اس پوری ریاست کے باشندوں کو ایک قانونی حیثیت فراہم کی۔ اس کے بعد اس ریاست کے باشندے انگریزی علاقوں یعنی برطانوی ہندوستان سے قانونی طور پر الگ ہو گئے۔ دیگر قوانین اور جو کچھ بھی رسل و رسائل اور ذرائع مواصلات تھے ان کے ذریعے اس ریاست کے خطوں میں ابلاغ اور اشتراک کے ایک ایسے عمل کا آغاز ہوا جس نے جدید قوم اور قومی ریاست کی تشکیل میں اہم اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم جدید قومی تشکیل صرف اوپر سے نہیں قرار پاسکتی۔ اس کے لیے اہم ترین تقاضا عوامی شرکت ہوتا ہے۔ یوں تو ریاست جموں کشمیر میں بھی کئی بغاوتیں ہوئیں جن کو ریاستی احکام نے کچل دیا اور ریاست کے وجود سے پہلے بھی وادی اور جموں اور ریاست کے دیگر علاقوں میں کئی ایک بغاوتوں اور حملوں اور فتوحات اور مفتوحات کی طویل تاریخ پائی جاتی ہے۔ ان میں پندرھویں صدی میں سنٹر ایشیائی غلبے کے خلاف تازی بٹ کی قیادت میں ایک ایسی بغاوت بھی شامل ہے جس کو عوامی بغاوت قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ سب بغاوتیں حکمرانوں کے لیے تھیں۔ کبھی بھی حکومت میں عوامی شراکت ان کا مقصد نہیں تھا۔

1930 میں پہلی بار ریاستی اور حکومتی امور میں عوام کی حصہ داری کے مطالبات کی بنیاد پر عوامی بغاوت کی گئی۔ اگرچہ شروع میں اس کا ریاست سے تصادم ہوا اور ریاست نے عوام کو بزور طاقت و تشدد کچلنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی تحریک نے جدید عوامی سیاسی راستہ اختیار کرتے ہوئے ریاست کی تاریخ کی پہلی سیاسی جماعت قائم کر کے ذمہ دارانہ یعنی جمہوری نظام حکومت کا مطالبہ کیا ۔ 1932 سے 1947 تک اس عوامی تحریک کی کوکھ سے مختلف سیاسی جماعتیں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں اور مہاراجہ ہری سنگھ نے بھی بتدریج طاقت کو عوامی نمائندوں تک منتقل کرنے کے کچھ قابل قدر اقدامات کیے۔ خاص طور سے اسمبلی کا قیام اور اس کے منتخب کردہ ارکان کی تعداد میں بتدریج اضافہ۔ اس عرصے کے دوران نیچے سے یعنی عوامی سیاست میں سے ریاست کی جو سیاسی شناخت فروغ پذیر ہوئی وہ بھی کشمیری ہی تھی اور سیاسی کارکنان کے لیے کشمیری کا مطلب کاشری زبان یا وادی کشمیر تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ اس سے مراد پوری ریاست تھی۔ نیا کشمیر جو کہ ریاست کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس نے پیش کیا، اس وقت اس کانفرنس کا صدر میر پور کا سردار بدھ سنگھ تھا، اس میں کشمیر سے مراد پوری ریاست تھی اور اس میں ریاست کی مختلف زبانوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ افراد، جماعتوں اور نظریات سے آپ کو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن سیاسی اعمال processes کو پیش نظر رکھ کر دیکھیں تو کشمیری پوری ریاست کی سیاسی اور قومی شناخت بننے کے راستے پر ارتقاء پذیر نظر آتی ہے۔ 1946 میں جب مزدور کسان کانفرنس نے اپنے کنونشن میں آزاد کشمیر کا تصور پیش کیا تو وہ بھی صرف وادی کشمیر کی آزادی کا تصور نہیں تھا۔ ریاست کی سیاست کے عظیم انقلابی بابا کرشن دیو سیٹھی جس سیاسی کشمیر کی بات کرتے ہیں وہ بھی پوری ریاست پر محیط ہے۔

تاہم جب ریاست تقسیم ہو گئی تو کشمیری شناخت کے اس ارتقائی سفر کو ایک شدید دھچکا لگا۔ صرف کشمیری شناخت کو ہی نہیں بلکہ ریاست کے اندر ارتقاء پذیر جمہوری عمل درحقیقت بھارتی اور پاکستانی قبضے کا پہلا شکار تھا۔ اب ایک طرف الحاق پاکستان اور دوسری طرف الحاق ہندوستان کے علاوہ تمام کشمیری نظریات کفر اور غداری قرار دے دیے گئے۔ اور جموں ولداخ میں بتدریج کشمیری شناخت کو وادی کے مساوی سمجھا جانے لگا اور قومی شناخت ہندوستانی سمجھی جانے لگی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی پاکستانی شناخت کو سرکاری طور پر قومی شناخت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ تاہم خود مختار ریاست کے نظریے کے دوبارہ ظہور نے دونوں اطراف بھارتی اور پاکستانی تشخص کے متبادل کشمیری شناخت کو سیاسی وقومی شناخت کے طور پر اجاگر کیا۔ تاہم یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خود مختاری کے اس نظریے کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست وادی اور آزاد کشمیر کے علاوہ دیگر خطوں کو اس سیاست اور نظریے کے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی۔ اب بھی آر پار کشمیری تشخص کو ایک ثقافتی تشخص یا صرف وادی کے سیاسی تشخص تک محدود کرنے کی آوازیں موجود ہیں اور آزاد کشمیر میں قبائلی شناختوں کو انتخابی سیاست میں استعمال کرنے کے رجحان نے ایک حلقے میں کشمیری شناخت کو مستقبل کی شناخت کی حیثیت دے دی ہے یعنی جب کشمیر آزاد ہوگا تو ہم کشمیری ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر کے باشعور اور آزادی پسند حلقوں میں کشمیری ایک سیاسی اور قومی شناخت ہے نہ کہ ثقافتی شناخت جو صرف وادی تک محدود ہے۔

بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قومی سیاسی تشخص کی تشکیل اور فروغ میں بنیادی اہمیت مشترکہ سیاسی مقصد کو حاصل ہوتی ہے۔ شناخت بذات خود کچھ بھی نہیں ہے جب تک کہ معاشرے کی معاشی، سماجی، سیاسی و ثقافتی ترقی میں اس کے تمام عوام اور ان کی دیگر تمام شناختوں کو شمولیت اور احترام حاصل نہ ہو اور ان کو اپنے اپنے دائروں میں تسلیم نہ کیا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور قومی شناخت کی حیثیت سے کشمیری شناخت کا ریاست کی دیگر علاقائی، مذہبی، ثقافتی اور قبائلی شناختوں سے کوئی مقابلہ یا مخاصمت نہیں ہے۔ تمام دیگر شناختیں بشمول کشمیری یا کاشری شناخت بھی ریاست کشمیر کی شناختیں ہیں اور تمام زبانیں بشمول کوشر زبان ریاست کشمیر کی زبانیں ہیں۔ تاہم یہ صرف ایک نظری دعویٰ ہے جس کو عملی شکل صرف ایک ایسی سیاست ہی دے سکتی ہے جس کو اس نظری دعوے کا ادراک حاصل ہو۔ اس کے بغیر ریاست نہ تو متحد ہوسکتی ہے اور نہ متحدہ رہ سکتی ہے اور ریاست کے اتحاد کے بغیر ریاست کی آزادی کا تصور بھی محال ہے۔ متبادل یہ ہے کہ تمام خطے انڈیا یا پاکستان میں ضم ہو جائیں گے۔ قومی شناخت بھارتی اور پاکستانی ہوگی اور دیگر شناختیں بتدریج ہمسایہ بڑی شناختوں میں ضم ہو جائیں گی اور قوی امکانات ہیں کہ باشندہ ریاست کا قانون بھی ختم ہوجائے گا اور ریاست ایک قصہ پارینہ بن جائے گی۔

ریاست میں علاقائی حقوق کا سوال اور مسئلہ کشمیر

عوامی سیاست کے نظریے سے دیکھیں تو متحدہ ریاست کشمیر میں جدید عوامی سیاست کا ’’ظہور‘‘ ۱۹۳۰ء کے عشرے میں ہوا تھا۔ تب سے ۱۹۴۷ء تک اس سیاست کا مرکز و محور صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر ہی رہا۔ تاہم اس عوامی سیاست کے نتیجے میں جو ریاستی اسمبلی وجود میں آئی اس میں لداخ (جس میں بلتستان بھی شامل تھا) اور گلگت کی نمائندگی بہرحال موجود تھی۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس ظاہر ہے کہ وادی اور جموں میں زیادہ متحرک تھیں لیکن وہ دونوں ’’آل‘‘ جموں کشمیر جماعتیں تھیں صرف جموں کشمیر کی نہیں۔ اگر ریاست میں پاکستان اور بھارت فوجی مداخلت کے ذریعے اس کو تقسیم کر کے قبضہ نہ کرتے تو یقیناً لداخ اور گلگت میں بھی عوامی سیاست فروغ پاتی اور کشمیری تشخص جو ریاست کا سیاسی تشخص بن کر اُبھر رہا تھا نئے کشمیر کی تعمیر و تشکیل کے ذریعے فروغ پاتا۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہ ہوا اور کشمیری ریاست کے اندر قوم و ریاست کی تشکیل کا عمل بھارتی و پاکستانی قوم پرستی اور ریاستی تسلط تلے تقسیم در تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ مسخ بھی ہوتا رہا۔ ریاست کے تین حصوں میں تقسیم کے باعث بھارتی مقبوضہ کشمیر، پاکستانی مقبوضہ جنوبی کشمیر (آزاد کشمیر) اور پاکستانی مقبوضہ شمالی کشمیر (گلگت و بلتستان) میں روابط بھی مقطع ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں معلومات اور تعلیم و آگاہی کے ذرائع پاکستانی اور بھارتی سرکاروں کے ہاتھ آ گئے۔ اُنہوں نے منقسم کشمیر کے ایک طرف پاکستانی پروپیگنڈے اور دوسری طرف بھارتی پروپیگنڈے کے ذریعے نئے تشخص اور نئی سیاستوں کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا۔ تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے ریاست کے متعلقہ خطوں کو مکمل طور پر ضم نہ کیا بلکہ ان کو ایک منفرد خصوصی حیثیت دیے رکھی۔ اس پر کشمیری خودمختاری پسندوں کا موقف یہ ہے کہ اس کی وجہ دونوں کی طرف سے پوری ریاست پر اقوام متحدہ کے ذریعے قبضہ کرنے کی خواہش تھی نہ کہ کشمیریوں کے منفرد تشخص کا احترام۔ تاہم یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ میں ہے اور بھارت و پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تو جھٹلاتے رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کے مبصروں کی موجودگی میں ان حصوں کو ہضم نہیں کر سکتے تھے۔ وجہ جو بھی ہو اس صورت حال نے وادی اور آزاد کشمیر میں ”کشمیری سیاسی تشخص“ کو اور دیگر علاقوں میں ایک منفرد ریاستی تشخص کو زندہ رکھا ہے۔ تاہم یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا لازمی ہے کہ اس دوران نیشنل کانفرنس و مسلم کانفرنس نے بالترتیب بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں کے تابع پوری ریاست کی وحدت اور تشخص کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ اس خلاء میں جو خودمختار کشمیر کی سیاست اُبھری اس نے بھی نعروں کی حد تک تو پوری ریاست کی بات کی مگر عملی طور پر ”آزاد“ کشمیر اور وادی کشمیر تک ہی محدود رہی۔ جموں و لداخ کو تو بالکل ہی نظر انداز کیا تاہم گلگت بلتستان میں محاذ رائے شماری، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور مقبول بٹ کی قیادت میں این ایل ایف اور بعد ازاں امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ شوکت مقبول و عارف شاہد و کرنل وجاہت وغیرہ کی قیادت میں ”آپنا“ نے کمزور ہی سہی مگر ایک رابطہ قائم رکھا۔

اس وقت ریاست میں تین حکومتیں اور تین انتظامی ڈھانچے موجود ہیں جو اپنے سرکاری ناموں کے مطابق درج ذیل ہیں:

۱۔ جموں اور کشمیر ۲۔ آزاد جموں و کشمیر ۳۔ گلگت بلتستان

اس کے علاوہ لداخ میں ہل کونسل قائم ہے جبکہ جموں میں مقامی اسمبلی کے لیے مانگ طویل عرصے سے نہیں سُنی جا رہی۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ خودمختار کشمیر کی حامی قوتیں عملی طور پر اپنے اپنے مخصوص جغرافیائی اور علاقائی دائروں تک محدود ہیں اور تقسیم سے پہلے نیشنل کانفرنس کے نیا کشمیر اور تقسیم کے بعد ۱۹۸۰ کی دہائی میں متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے کشمیری قوم و قومیتیں اور نئے کشمیر میں ان کی حیثیت کے سوا کسی جماعت نے ریاست کے اندر ثقافتی اور جغرافیائی تشخص اور اختیار سے متعلق سوالات کو حل کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب گلگت بلتستان، جموں اور لداخ میں کشمیری تشخص کو یہ کہہ کر سرے سے مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس کا مطلب وادی کشمیر ہے۔ ظاہر ہے اس میں بھارتی اور پاکستانی سرکاروں کا بھی ہاتھ ہے مگر ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اس میں کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کی سیاست کی نظریاتی وسیاسی و معاشی پسماندگی یعنی غربت کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب گلگت بلتستان کی ریاست سے علیحدگی کے مطالبات پر خودمختار و متحدہ ریاست کشمیر کے پرچارکوں کی طرف سے وہی ردعمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے جو بھارت اور پاکستان کے حکمران کشمیر کے حوالے سے ظاہر کرتے چلے آرہے ہیں۔ یعنی گلگت بلتستان ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس کی علیحدگی کا سوال غداری ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر اسطرح کی دھمکیوں اور عملی قتل عام کے باوجود بھارت و پاکستان ریاست کے کشمیریوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے تو خودمختار کشمیر والے اس رویے کے ذریعے ریاست کو متحد ظاہر ہے کہ نہیں رکھ سکتے۔ مگر ٹھیک اس وقت خودمختار کشمیر والوں کو گلگت بلتستان، جموں اور لداخ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ اس کے لیے ایک تجویز اس کالم کے نچوڑ میں پیش کی گئی ہے شاید اس سے خودمختار و متحدہ اور جمہوری کشمیر کے لیے برسر پیکار کشمیریوں کو کچھ مدد مل سکے۔

میری تجویز جو کہ میں نے کشمیر مسئلے کے جمہوری اور منصفانہ حل کے لیے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز اور کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات وسیاست اور منشوروں سے کشید کی ہے اس کے چیدہ چیدہ نقاط درج ذیل ہیں:

۱۔ ریاست کے تمام حصوں میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے بشمول مقبول بٹ اور افضل گورو کے جسد خاکی اور بابا جان اور ان کے ساتھی جنہیں مشکوک عدالتی کاروائیوں اور پولیس گردی کے ذریعے مجرم قرار دیا گیا۔

۲۔ پاکستان و بھارت کی فوجیں شہری علاقوں سے دور ہٹالی جائیں اور دونوں کی قید یا علم میں جو بھی ریاستی باشندے ہیں اُن کو فوری رہا کیا جائے اور جن کو شہید کر دیا گیا ہے اُن کے لواحقین کو اس کی خبر کی جائے۔

۳۔ تمام ریاستی باشندوں کو ریاست کے اندر آنے جانے اور تجارت کرنے کی مکمل آزادی ہو اس کے لیے فوری طور پر تمام روایتی راستے کھولے جائیں اور باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا کارڈ کی شکل میں جاری کیا جائے ۔

۴۔ نشر و اشاعت اور ملازمت کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط اور پابندیوں کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے

۵۔ تنظیم سازی، سیاسی طور پر انتخابات میں حصہ لینے اور مہم سازی کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط کا بھی فوری طور پر خاتمہ کیا جائے

۶۔ ریاست میں پانچ مقامی اسمبلیاں قائم کی جائیں جن میں وادی کشمیر یا کاشمر اسمبلی، جموں اسمبلی، لداخ اسمبلی، آزاد کشمیر اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی شامل ہیں۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات جس حد تک ممکن ہو ایک ہی وقت میں منعقد کروائے جائیں اور ان میں کوئی بھی کشمیری یعنی ریاستی باشندہ بغیر کسی امتیاز و تفریق کے حصہ لینے کا مجاز ہو۔

۷۔ ان اسمبلیوں کو یہ حق حاصل ہو کہ پوری ریاست کا جو بھی آخری فیصلہ ہو یہ اسمبلیاں مقامی طور پر خودمختار رہیں گی چاہے ریاست خودمختار رہے، بھارت میں شامل ہو یا پاکستان میں یا اس کا آخری حل کسی قسم کی تقسیم کی شکل میں سامنے آئے۔

۸۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی کے لیے ریاست بھر میں انتخابات ہوں اس واضع مینڈیٹ کے ساتھ کے اس اسمبلی کو ریاست کے مُستقبل کے بارے میں مذاکرات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ان انتخابات میں شرکت کے لیے بھی ریاستی باشندوں پر کسی قسم کی کوئی قدغن یا شرائط مسلط نہیں ہونی چاہیں۔

ظاہر ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور سارے عمل کو صاف و شفاف اور منصفانہ رکھنے کے لیے مختلف طرح کے نگران انتظام وانصرام کی ضرورت ہوگی جس پر مذکورہ راہِ عمل پر اصولی اتفاق اور صلاح مشورے سے مزید غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنے بھی ذرائع اور وسائل جس کے پاس بھی موجود ہیں ان کے ذریعے اس تجویز کو ریاست کے سب حصوں اور تمام سیاسی جماعتوں اور نظریات کے حامل باشندوں تک پہنچایا جائے اور ان کی رائے سے اس کو ”ریاستی ڈیمانڈ“ کے طور پر پیش کیا جائے تا کہ ایک تو ریاستی نمائندگی کا مسئلہ حل ہو سکے اور دوسرے ریاست کے تمام باشندوں کو اس کے مستقبل کے فیصلے میں شریک کیا جا سکے۔

پاکستانی مقبوضہ جنوبی کشمیر میں انقلابی سیاست کے لیے چند تجویزی گذارشات

دوستوسنگیوسلامِ شعور

سب سے پہلے تو میری معذرت قبول کریں کہ میں خود حاضر نہیں ہو سکا۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں ایک میری بدنظمی بھی ہے۔ تاہم اس میں نیپ کے صدر شاہد ہاشمی کا کوئی قصور نہیں کیونکہ اس نے تو مجھے آنے کی دعوت وقت پر ہی دی تھی۔

خیر اگر میں خود بھی آتا تو یہی تقریر پڑھتا۔ اس لیے میرے نہ آنے سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑا۔ اصل بات خیال کے اظہار کی ہے جو امید ہے کہ آپ تک پہنچ رہے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر میں موجود ہوتا تو شاید سوال جواب بھی ہو جاتے کچھ بحث مباحثہ بھی ہو جاتا۔ چلیے پھر کبھی سہی۔

میری اس تقریر کا موضوع ہے ’پاکستانی زیر انتظام جنوبی کشمیر میں انقلابی سیاست‘‘۔

میں یہاں قومی آزادی و خودمختاری کے پہلو کو نہیں چھیڑوں گا۔ اس لیے نہیں کہ انقلاب و قومی خودمختاری کا کوئی تعلق نہیں ہے یعنی ایسا نہیں کہ انقلاب و آزادی کوئی الگ الگ مظاہر ہیں۔ بلکہ صرف پیچیدگی سے بچنے کے لیے جس کو مختصر وقت میں سلیقے سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے صرف انقلابی سیاست کی بات کروں گا۔ انقلابی سیاست میں بھی میں صرف ایک پہلو پر بات کروں گا۔

’’انقلابی تحریک میں مقامی مادی حالات انقلابی تجزیے کی اہمیت۔‘‘

اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت میں نے اس لیے محسوس کی کہ گیارہ فروری 1984 کو حادثاتی طور پر قومی آزادی اور انقلاب کی سیاست میں پٹخے جانے کے بعد سے اپنے تجربے، مشاہدے اور تھوڑے بہت مطالعے کے ذریعے میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سماج میں انقلابی سیاست کی کامیابی کے لیے اس معاشرے کے مادی حالات کے مادی تجزیے کو مرکزی اور قائدانہ حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ تجزیوں سے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکمت عملی اور درست ٹیکٹکٹس Tactics کے ذریعے اس کو عملی جامہ پہنانے کے بغیر تجزیے صرف تجزیے ہی رہتے ہیں لیکن اپنے سماج کے درست مادی تجزیے کے بغیر انقلابی بصیرت یعنی ویژن vision نہیں تشکیل دی جاسکتی اور انقلابی ویژن کے بغیر انقلابی سرگرمیوں اور انقلابی سیاست کی کوکھ سے اگر طاقت کا توازن طاقت کے ذریعے بدل بھی لیا جائے یعنی سیاسی طاقت انقلاب کی علمبردار قوتوں کے پاس آ بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ صرف موجودہ نظام کو توڑا ہی جاسکتا ہے اس کی جگہ انقلابی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا۔

مقامی سماج کے مادی حالات کے انقلابی تجزیے سے میری مراد اس سماج کے بنیادی پیداواری ڈھانچے یعنی پیداواری قوتوں، پیداواری عمل اور اس عمل سے تشکیل پانے والے سماجی و سیاسی رشتوں ناطوں، اداروں اور طاقت کے منبعوں اور شکلوں اور ان کی سمتوں کا تجزیہ ہے۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو دیکھیں تو یہاں اس وقت تین جماعتیں ایسی ہیں جو سرعام سوشلسٹ انقلاب کو اپنی سیاست کا محور اور منزل قرار دیتی ہیں۔ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی، جموں کشمیر عوامی نیشنل پارٹی اور یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی۔ ان تمام جماعتوں نے مجموعی طور پر ایک متبادل سیاسی فضاء کو پروان چڑھانے میں اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کیا ہے اور کر رہی ہیں۔ تاہم میں اس پہلو پر بات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جس کے بغیر میرے خیال میں یہ جماعتیں بتدریج عملی طور پر اس سیاست کی بھینٹ چڑھ جائیں گی جس کا بنیادی خمیر معاشی، سماجی، جذباتی، نفسیاتی اور ثقافتی استحصال (یعنی ان شعبوں میں عوام میں کمزوریوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے) سے اٹھا ہے اور یہی ان کی حکمت عملیوں کی جڑ بنیاد ہے۔

تینوں انقلابی جماعتوں کی طرف سے جو کچھ میں نے سنا اور پڑھا ہے اس میں طبقاتی نظام کے خاتمے اور سماجی انصاف و معاشی مساوات کے ذریعے معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کی تکرار تو بے شک جاری و ساری ملتی ہے اور دنیا کے انقلابوں اور موجودہ عالمی منظر نامے پر سامراجی طاقتوں کے خلاف نعرہ بازی بھی پورے جوش و جذبے سے سنائی دیتی ہے لیکن کسی بھی جماعت کی طرف سے آج تک پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے مادی ڈھانچے اور سماجی و سیاسی نظام کا تجزیہ نہیں پیش کیا گیا۔

جے کے پی این پی کے بانی قائد محترم بیرسٹر قربان صاحب نے انتہائی محنت اور لگن سے مارکسی شعور پروان چڑھانے کے لیے کئی ایک قابل قدر اور بصیرت افروز تصنیفات چھوڑی ہیں۔ جن سے میں نے استفادہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان قبضے تلے پروان چڑھنے والے دیگر کئی کشمیریوں کے معاشرتی شعور کو اس سے جلا ملی ہے اور مل رہی ہے۔ تاہم اب مسئلہ اس نظریاتی شعور کی روشنی میں اپنے معاشرے کو دیکھنا پرکھنا اور اس شعور کو عوام کے لیے قابل فہم بنانے کا ہے جس کے بغیر میرے خیال میں انقلابی سیاست پروان نہیں چڑھ سکتی۔ اب جن سوالوں پر تمام انقلابیوں کو غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے ان کا مرکز و محور یہ دھرتی اور اس پر بسنے والے لوگ ہونے چاہئیں۔

مطلب اس ساڑھے چار ہزار مربع میل اور ساڑھے چار لاکھ افراد پر مشتمل خطے کی معیشت کی جڑ بنیاد کیا ہے؟ تقسیم کے بعد یہاں کی معیشت کن خطوط پر پروان چڑھی اور چڑھ رہی ہے؟ پیداواری قوتیں یعنی ذرائع پیداوار، آلات پیداوار کیا ہیں اور ان کی ملکیت کی شکل کیا ہے؟ پیداواری رشتوں کی نوعیت کیا ہے؟ کیا کہیں سرمایہ دارانہ رشتے موجود ہیں؟ کہاں؟ بورژوازی طبقے کی نوعیت کیا ہے ان کے مشترک مفادات کیا ہیں اور تضادات کہاں کہاں ہیں؟

بورژوازی طبقہ کس طرح یہاں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں پاکستان کے سرمایہ دار طبقے کا اس خطے پر قبضے اور استحصال میں ہاتھ بٹاتا ہے؟ ہر ایک ضلعے، تحصیل اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر استحصال کی شکلیں کیا ہیں؟ کون کیا اور کیسے مستفید ہو رہا ہے اور کون کیا اور کسطرح محروم ہو رہا ہے؟

نام نہاد آزاد کشمیر کے بینکوں میں کل کتنا سرمایہ ہے اور سرمایہ کاری کہاں پر ہورہی ہے کتنی اور کون کر رہا ہے؟ قدرتی وسائل کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟

اس معاشی ڈھانچے کی بنیاد پر یہاں کے سیاسی اور سماجی نظام کس طرح پروان چڑھے ہیں؟ سیاسی، مذہبی، تجارتی اور کاروباری طبقے کے درمیان ایک غیر تحریری اتحاد کی شکلیں کیا ہیں؟ کہاں، کون کسطرح سیاست و مذہب اور اب سرمایہ کاری کے نام پر عوامی وسائل کو ذاتی ملکیت میں بدل رہا ہے؟ اور اپنے ان مفادات کو کون کہاں کسطرح ایسی ثقافتی قدروں کی حفاظت و پرورش کے ذریعے چھپا رہا ہے جن کا مرکزی عقیدہ یہ ہے کہ اپنے مسائل و مشکلات اور محرومیوں کی وجوہات کو ٹھوس مادی حالات میں دیکھنے کی بجائے ان کو اپنے اعمال کی سزا سمجھ کر قبول کرلے؟

یہ تجزیے کا صرف ایک اور میرے خیال میں مرکزی اور بنیادی پہلو ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم جس انقلاب کی بات کرتے ہیں اس کے ذریعے کس طرح معاشرے کے مادی اور سیاسی وسماجی اور ثقافتی نظام میں کیا تبدیلی آئے گی اور کسطرح مقامی وسائل اور سرمائے میں اضافہ ہوگا؟ اور کسطرح ان کا استعمال عوام کی اکثریت کے لیے ایک بہتر خوشحال اور باوقار زندگی ممکن بنائی جائے گی؟

طبقاتی نظام کا خاتمہ اور خوشحالی ہر ایک فرد کا خواب ہے کوئی بھی استحصال زدہ ، محرومیوں سے عبارت اور بے بسی وبے کسی کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو آج ہمارے ہاں عوام کی اکثریت جی رہی ہے۔ حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ ان کی محرومیوں اور برے حالات کا ذمہ دار ہے عوام کی اکثریت کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ کہاں کون اس کا ذمہ دار ہے؟ اس کو کیسے بدلا جاسکتا ہے؟ کون بدل سکتا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں عوام جن کا جواب جاننا چاہتے ہیں اور ایسی زبان میں جاننا چاہتے ہیں جس کو وہ سمجھ سکتے ہوں۔ جو انہیں ان کے گردوپیش کے حالات کی مادی وجوہات کا شعور بخشے۔

یہ کوئی ایک دن یا مہینے کا کام نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ایک فرد یہ کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انقلابی جماعتیں اپنے اندر ایک ”تجزیاتی ونگ“ قائم کریں۔ جس کا مقصد اپنے عوام کو سامنے رکھ کر ان کے لیے معاشرے کے مختلف پہلووں پر عوام کے ذریعے تحقیق کر کے عام فہم زبان میں تجزیات پیش کرنا ہو۔ اور یہ محض ایک علمی مشق نہیں ہے۔ اس کو ایک مہم کی شکل دینا ہوگی۔ ”عوامی شعور بڑھاؤ“ مہم کے نام سے؟

تجزیاتی ونگ میں وہ افراد شامل ہوں جن کو معاشرتی ڈھانچے کے مختلف حصوں یا اداروں کو کھوجنے پرکھنے اور سمجھنے میں حقیقی دلچسپی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر معیشت، سیاست اور سیاست کاری، تعلیم، سول انتظامیہ، فوجی قبضہ، سول قبضہ، قبائلی بنتر، ذرائع ابلاغ/صحافت، تاریخ و ثقافت۔ آغاز عمومی تجزیوں سے ہی کیا جاسکتا ہے اور پھر ان کی بنیاد پر ہر ایک شعبے کے مزید اجزائے ترکیبی کو الگ الگ بھی کھنگالا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے کم از کم دوسال کا عرصہ دیا جائے اور جو بھی فرد جس ادارے یا شعبے کی انقلابی نقطہ نظر سے تحقیق کی ذمہ داری لے وہ جماعت کا کل وقتی ملازم ہو جس کو معقول معاوضہ ملے۔ اور اگر ایک سے زیادہ افراد کی ضرورت ہے تو ان کو بھی ان کے وقت اور محنت کا معقول معاوضہ ملے تاکہ وہ مکمل یکسوئی سے یہ انقلابی فریضہ سرانجام دے سکیں۔ ان دوسالوں میں اس کا مقصد ہر ایک شعبے کی بنیادی سوالوں کی روشنی میں تحقیق کرنا ہونا چاہیے۔ کیا، کتنا، کہاں، کون، کیوں اور کیسے۔۔۔۔۔ اور پھر ان سوالوں کے جوابوں کی روشنی میں یہ واضح ہوجائے گا کہ ہر ایک شعبہ کسطرح بے اختیار ہے اور غلامی کو قائم کرنے اور دوام بخشنے میں کیا کردار ہے۔

لیکن اس کے لیے ایک اور انتہائی اہم بات جو ہر وقت ذہن نشین رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ افراد کی بجائے سرمائے اور اعمال یعنی پروسیس Proceses کا پیچھا کیا جائے۔ اگرچہ عام طور پر سرمائے کو صرف معیشت سے جوڑا جاتا ہے لیکن درحقیقت ہر ایک شعبے میں سب کچھ سرمائے کی گردش سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے سرمائے کا پیچھا کیا جائے کہ کتنا بجٹ کہاں سے آتا ہے کہاں جاتا ہے کیسے آتا ہے کس کے ذریعے آتا ہے کس کے ذریعے خرچ ہوتا ہے کہاں پر خرچ ہوتا ہے۔

عوام تک کیا پہنچتا ہے اور انتظام کاروں کے پاس کتنا جاتا ہے؟
ایسا تجزیہ باہر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر چہ سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سی معلومات دستیاب ہیں لیکن اس کے لیے اداروں کے اندر جھانک کر بلکہ اندر بیٹھ کر ہی روزمرہ کی سرگرمیوں کے ذریعے سرمائے کی حرکت اور برکت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم باہر سے مالی معاونت اور تحقیقی رہنمائی فراہم کی جاسکتی ہے۔

دو سال بعد جب تمام اداروں کی تحقیقات مکمل ہو جائے تو وہ ایک علمی تحقیق ہو گی۔ علمی مواد ہوگا۔ جو علمی محققین کے لیے ایک بہت بڑا سرمایہ ہوگا۔ لیکن عام آدمی یعنی عوام کی اکثریت کے لیے اس تک رسائی ممکن نہیں ہوگی۔ اس لیے کم از کم ایک سال مزید اس حقیقی علم اور معلومات کی بنیاد پر ہر ایک شعبے کے بارے میں عام فہم یعنی آسان ترین زبان میں اس کا خلاصہ تیار کیا جانا چاہیے جس میں ایک عام آدمی کی سمجھ میں اس ادارے یا شعبے یا معاشرتی پہلو کے بارے میں یہ بات آجائے کہ جو کچھ ہوتا ہے کیسے ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے اور ہمارے انقلاب کا مطلب اس کو ادارے کو عوامی بنانا ہے اور ہم یہ کیسے بنائیں گے۔

اس کی بنیاد پر اس جماعت کا ویژن، منشور، اور قومی، علاقائی اور بین الاقوامی امور کے بارے میں حکمت عملیاں اور پالیسیاں مرتب کی جائیں اور سیاسی سرگرمیوں کا مقصد اس مقامی شعور کو مسلسل عوام کے سامنے موجود دستیاب ذرائع کے ذریعے بار بار پیش کرنا ہونا چاہیے۔ کیونکہ چاہے آپ انتخابی سیاست کے ذریعے سیاسی قوت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا عوام انقلابی ابھار کے ذریعے، آپ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ مقامی حالات کے انقلابی شعور سے مسلح نہیں ہیں اور عوام کی اکثریت کو آپ اس مقامی شعور سے لیس نہیں کر لیتے۔ کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے مقامی معاشرے کے اس حقیقی معاشی، سیاسی و سماجی اور ثقافتی شعور کے بغیر پہلی بات تو یہ ہے کہ سیاسی قوت حاصل ہی نہیں کی جاسکتی اور اگر شورش برپا کر بھی لی جائے اور اقتدار حاصل بھی کر لیا جائے تو چند باشعور لوگوں کے سواء اکثریت کے نزدیک انقلاب کا مقصد "جس کی لاٹھی اس کی بھینس"

کی ثقافت کو بدلنا نہیں ہوگا بلکہ لاٹھی حاصل کرنا ہوگا۔ بھینس تو آپ کے اختیار میں آجائے گی مگر اس کا دودھ اسی کو ملے گا جس کی لاٹھی ہوگی۔ جبکہ انقلاب کا مطلب معاشرے کو Might is Right کے اصول سے نجات دلانا ہوتا ہے۔

میں نے وقت اور پیچیدگی سے بچنے کے لیے صرف ایک پہلو پر بات کی ہے۔ در حقیقت اس کے متوازی متبادل انقلابی معیشت، سیاست، سماجی ماحول اور ثقافت تعمیر کرنے کا عمل شروع کرنا بھی ممکن اور لازمی ہے۔ جس کو اس گفتگو میں نہیں سمویا جاسکتا۔ تاہم اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ یہاں پیش کیا گیا ہے وہ صرف میری خواہش ہے اور در حقیقت عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر اس کو مزید آگے بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ میرے خیال میں اپنے معاشرے میں یہی تین جماعتیں ہیں جو انقلابی عمل کو آگے بڑھا سکتی ہیں بہت سی خامیوں کمزوریوں کے باوجود۔ تاہم اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہاں اس پر مزید غور وفکر کی ضرورت ہے تو یار زندہ صحبت باقی۔

زمین، جنگلات اور نئے مہاراجے

’’آزاد‘‘ کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں گذشتہ چند روز سے پرجوش اور ہنگامہ خیز مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان کا نشانہ آزاد کشمیر کے صدر جناب سردار یعقوب خان صاحب ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ مل کر معروف سیاحتی مقام تولی پیر سمیت پانچ ہزار کنال دیہی شاملات اپنے نام کروانے کی کوشش کی ہے۔ اس معاملے کے بارے میں ایک تفصیلی کالم مقامی صحافی صدیق خان نے چند دن قبل ’’صدر ریاست اور جنگل کہانی‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ میں اس معاملے کا قدرے گہرا تجزیہ بعد میں پیش کروں گا۔ ذیل میں کچھ ابتدائی معلومات اور خیالات شامل کیے گئے ہیں۔

اس کرہ ارض پر رونما ہونے کے بعد زمین اور اس سے پیدا ہونے والے رزق نے انسانی بقاء اور ارتقاء میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے اس ’’آزاد‘‘ حصے میں بھی پردیس میں محنت فروخت کرنے کا عہد شروع ہونے سے پہلے روزی رزق کا بنیادی اور بڑا ذریعہ زمین ہی تھی۔ اسی لیے زمین کو رازق اور ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ لیکن بیرون ملک مزدوری کر کے جب کشمیری محنت کشوں نے پیسہ اپنے دیس اپنے خاندان والوں کو بھیجنا شروع کیا تو زمین صرف رزق یعنی پیداوار کے ذریعے کے ساتھ ساتھ تجارت کی شے بھی بن گئی اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے مہاراجہ کو فروخت کرنے کے عمل کے خلاف سیاست کی کوکھ سے پیدا ہونے والے کشمیری لیڈروں نے اس کی وہ خرید و فروخت کی کہ بیعنامہ امرتسر اس کے مقابلے میں ایک باعزت معاہدہ نظر آنے لگا۔

ریاست جموں کشمیر پر حاکمیت کا حق اس معاہدے کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ نے شکست خوردہ پنجابی سکھ حکمرانوں کی جگہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو تاوان جنگ دے کر خریدا تھا۔

ریاست کے قیام کے بعد یہاں بھی برطانیہ کی طرح زمین کا اصل مالک بادشاہ یعنی مہاراجہ قرار پایا۔ مہاراجہ نے زمین مختلف جاگیرداروں میں تقسیم کر رکھی تھی جنہوں نے کاشتکاری کے لیے آگے باہک اور مزارعے رکھے ہوئے تھے۔ بعد ازاں بتدریج ملکیت گھرانوں اور خاندانوں تک منتقل ہوتی رہی اور چھوٹے زمیندار خود کاشت کرتے تھے۔ لیکن ذاتی ملکیت کے علاوہ بہت ساری زمین مشترک ملکیت میں تھی۔ دیہی شاملات، خالصہ سرکار یا سری سرکار وغیرہ۔۔۔۔ چراگاہیں اور ایندھن کے لیے گاوں کے مشترکہ استعمال میں تھی۔

ریاست کی تقسیم اور مہاراجہ نظام کے خاتمے کے بعد بھی زمین کی ملکیت کے یہی قوانین جاری رہے۔ لیکن 1947 کے بعد اس مشترکہ استعمال کی زمین پر قبضہ کرنے کی کئی ایک کوششوں کے شواہد ملتے ہیں۔ جو بذات خود زمین کی ملکیت سے متعلقہ علمی تحقیق مقالے کا موضوع ہو سکتا ہے۔ تاہم آج کے اس کالم میں توجہ کا موضوع وارلاکوٹ میں جاری وہ مزاحمتی تحریک ہے جو تولی پیر اور اس کے گردونواح کے پانچ ہزار کنال خطہ اراضی کو موجودہ صدر ریاست سردار یعقوب خان صاحب کی طرف سے مبینہ طور پر قبضے میں لینے کے خلاف جاری ہے۔ میسر معلومات کے مطابق سردار یعقوب صاحب جب 2009 میں اس ”آزاد“ خطہ کے وزیر اعظم مقرر ہوئے تو انہوں نے پانچ ہزار کے قریب اس مشترکہ استعمال کی زمین جس میں تولی پیر اور ملحقہ ساحت مقامات کے علاوہ اربوں مالیت کے جنگلات بھی شامل ہیں معمولی سی رقم کے حوض اپنے خاندان کے نام کروانے کی کوشش کی۔ چونکہ آزاد کشمیر میں، پاکستان اور جنوب ایشیائی کے دیگر کئی ممالک کی طرح آج بھی حکومتی سیاستدان اداروں سے زیادہ طاقتور ہوتے اور ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں اس لیے سردار یعقوب صاحب کے حکم پر ان کی فائل کو پر لگ گئے لیکن ایک دفتر میں جا کر رک گئی۔ اور قبل اس کے کہ رکنے کی وجہ معلوم کرتے اور رکاوٹ کو دور کرتے ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہو گیا۔ تاہم 2011 میں وہ دوبارہ حکومت میں آ گئے۔ اب کی بار وہ صدر مقرر کیے گے اور مقامی ذرائع کے مطابق انہوں نے جنگل کے قریب عمارتیں تعمیر کر کے قبضہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس مرحلے پر ان کے اپنے ہی خاندان کے ایک فرد عبدالحمید خان جو کہ فوڈ انسپیکٹر ہیں نے مبینہ طور پر اس ناجائز قبضے کے خلاف تھے عوام علاقہ کو آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ اس کو روکیں ورنہ اس قیمتی زمین کے کے ساتھ ساتھ خطہ غلامی کی ایک نئی تہہ میں جھکڑ لیا جائے گا۔ جب صدر کے خلاف کسی نے ہمت نہ کی تو عبدالحمید نے خود صدر کی طرف سے تجاوزات کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ جیسا کہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی صرف پہلا قدم اٹھانے کی ہمت چاہیے ہوتی ہے جب عبدالحمید نے درخواست دے دی تو سو سے زائد افراد ان کے ساتھ کھڑے ہو کر فریق بننے کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن قانونی جدوجہد ظاہر ہے کہ آسان نہیں ہوتی۔ درخواست جس کی نقول تمام متعلقہ شخصیات اور اداروں بشمول چیف سیکرٹری اور احتساب ادارے کو بھی ارسال کی گئی تھیں اس کا کوئی جواب کہیں سے موصول نہ ہوا۔

اطلاعات کے مطابق ایک نچلی عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا کیونکہ درخواست ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے دائر نہیں کی گئی تھی دہندگان براہ راست متاثر نہیں ہو رہے تھے۔ فریقین نے اوپرلی عدالت میں اپیل دائر کی تو بقول مقامی ذرائع کے صدر صاحب نے عبدالحمید کا تبادلہ کروا دیا لیکن اس تبادلے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اس دوران صدر صاحب ایک مقامی ہسپتال کا افتتاح کرنے گے جس کا وہ ایک بار پہلے بھی افتتاح کر چکے تھے۔ وہاں انہوں نے مبینہ طور ہر مقامی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو جھاڑ پلائی کہ ایک معمولی ملازم ان سے سنبھالا نہیں جا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد مقامی ڈپٹی کمشنر نے مبینہ طور پر انسپیکٹر حمید کو دفتر بلایا۔ ان کے ساتھ ایک مقامی صحافی صدیق خان بھی تھے۔

اطلاعات کے مطابق دفتر میں ڈی سی صاحب نے عبدالحمید سے کہا کہ ایک معمولی ملازم ہو کر صدر ریاست کے خلاف مقدمہ کر رہے ہو۔ اگر سیاست کرنی ہے تو ملازمت چھوڑ دو۔ اس پر عبدالحمید نے کہا کہ درخواست صدر ریاست کے خلاف نہیں بلکہ سردار یعقوب خان کی طرف سے علاقے کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کے خلاف ہے۔ عبدالحمید نے جب ڈی سی صاحب کی طرف سے کیس سے دستبردار ہونے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تو انہیں بتایا گیا کہ اسے ڈی سی کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ اس پر کچھ تو تو میں ہوئی جس دوران ایک اطلاع کے مطابق عبدالحمید نے ڈی سی صاحب سے کہا کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں نہ کہ صدر صاحب کے جس کو ریاستی ملازم کے خلاف زبان درازی اور اعلیٰ افسر کے دفتر کی توہین قرار دے کر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن معاملہ اس وقت سنگین شکل اختیار کر گیا جب نہ صرف علاقے کی تمام سیاسی جماعتیں اور سماجی و شہری تنظیمیں عبدالحمید کی رہائی کے لیے میدان میں نکل آئیں بلکہ صدر ریاست کے بھائی حاجی زمان مرحوم کے بیٹے محبوب زمان نے عبدالحمید سے تھانے میں ملاقات کی بعد ایک اخباری بیان کے ذریعے عبدالحمید کے خلاف مقدمے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا۔

آخری اطلاعت کے مطابق مظاہرے جاری ہیں اور مختلف صحافتی حلقوں کی طرف سے اس معاملے کی چھان بین جاری ہے۔ اس سلسلے میں کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ عوام کے مشترکہ استعمال میں دیہی شاملات اور خالصہ زمینوں پر آزاد کشمیر کے حکمرانوں کی طرف سے قبضے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے ریاست کی زمین پر قبضہ کر کے ذاتی ملکیت میں لانے کے کئی ایک واقعات ریاست کے مختلف اضلاع میں رونما ہوئے ہیں جن کی غیر جانبدارانہ چھان بین کی ضرورت ہے۔ کچھ مبصرین نے آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو اس طرز عمل کی وجہ سے نئے مہاراجے قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تقسیم سے پہلے ایک مہاراجہ ہوتا تھا لیکن اس کے خلاف عوامی جدوجہد کی کوکھ سے پیدا ہونے والے آزاد کشمیری حکمرانوں نے مہاراجوں کی ایک پوری نسل پیدا کر دی ہے جو گاوں گاوں، شہر شہر مہاراجے بنے پھرتے ہیں اور عوام کی اکثریت مہاراجہ نظام سے بھی بدتر بے اختیاری اور بے بسی کی زنجیروں میں جھکڑی ہوئی ہے۔

تاہم میرے خیال میں اہم پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ بے شک آزاد کشمیر کے خطے میں سیاحت اور جنگلات اور پانی وبجلی جیسے وسائل اس پورے خطے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور متعلقہ حکومتی اداروں کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ وزراء اور با اثر افراد فوری ذاتی مفادات کے لیے ان کو اونے پونے بیچ رہے ہیں۔ قبل ازیں ایک اور وزیر حکومت جناب قمرالزمان کے خلاف ریاست کے ورثے اور نوادرات کو غیر قانونی طریقے سے اپنی تحویل اور ملکیت میں لینے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ادھر سینیئر وزیر چوہدری یاسین صاحب کی طرف سے زمین اونے پونے خرید کر اس کی قدر و قیمت بڑھانے کے لیے تحصیل دفاتر وہاں منتقل کروانے کا مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ چند ماہ سرکاری طور پر بجلی پیدا کرنے کی بجائے یہ کام اونے پونے داموں نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جانے کا معاملہ سابق سیکرٹری سہیل اکرم صاحب نے منظرِ عام پر لایا تھا۔ یہ تمام معاملات ایک ایسے رجحان کی غمازی کرتے ہیں جس کا مرکز و محور آزاد کشمیر کے وسائل کو ترقی دینا نہیں بلکہ چند افراد کے مفادات کے لیے اکثریت کو ان کے ثمرات سے محروم کرنا ہے۔ یہ آزاد کشمیر کے بظاہر چھوٹے سے بورژو طبقے بہت بڑی خود غرضی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مرحلے پر اگر آزاد کشمیر کے عوام نے برادریائی، قبائلی، علاقائی اور جماعتی مفادات سے ماوراء آزاد کشمیر کی سطح پر عوامی حقوق اور ترقی کی بنیاد پر اتحاد بنا مقامی عدالتوں اور انتظامیہ کے افسران کو وزراء اور سرکاری بڑوں کے خوف سے آزاد کروا کر اس ناجائز اور غیر قانونی لوٹ مار کو نہ روکا تو حالات ایسا رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں جو کسی کے مفاد میں بھی نہیں ہوں گے۔

مطلب یہ ہے کہ راولا کوٹ کی اس تحریک کو صرف ایک گاوں یا ضلع کی تحریک نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس کو جماعتی سیاست کی بھینٹ چڑھنے دیا جائے بلکہ آزاد کشمیر کے تمام ریاستی باشندوں کو جو اس خطے میں انصاف اور ترقی اور جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں انہیں ایک آواز ہو کر ہر ضلعے میں طاقتوروں کی طرف سے سرکاری مشینری کے ذریعے سرکاری یا کمزور افراد کی زمینوں پر غیر قانونی اور ناجائز قبضوں کے رجحان کے خلاف مشترکہ اور متحدہ محاذ قائم کرنا چاہیے اور ریاست اور اس کے وسائل کو عوام دشمن اور استحصالی قوتوں سے محفوظ بنانا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس خطے کے وسائل اور سیر و سیاحت کی ترقی کے لیے جائز اور قانونی راستے بھی ہموار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کشمیر ایکسپریس

آزاد کشمیر میں صحت مند صحافت کی علامت

شاید آپ کو یقین نہ آئے مگر میں نے صحافت کے بارے میں پہلی بار ۱۹۸۲ میں اس وقت سُنا تھا جب کراچی یونیورسٹی میں بی اے آنرز میں داخلہ لیتے وقت اختیاری مضامین کی فہرست میں سے صحافت کو چُنا تھا۔ تاہم عملی طور پر صحافت سے رشتہ ورابطہ ہائی سکول کے اولین سالوں سے قائم تھا، جب میں، وحید اقبال (اب میڈیکل سپیشلسٹ اکالگڑھ) محمد سلیم (اب پروفیسر؟) فرخ خلیل (اب ویٹنری ڈاکٹر حال برمنگھم)، خان شبیر خان (اب ناٹنگھم) اور محمد رمضان (وحید کا کزن اب معلوم نہیں کیا کرتے ہیں) اور کچھ دوسرے طلباء مل کر جنگ اخبار میں معلوماتی مقابلوں میں حصہ لیتے اور کبھی کوءی چھوٹا موٹا چُٹکلا وغیرہ ارسال کیا کرتے۔ اخبار کا بے چینی سے انتظار کرتے اور کبھی ہمارا نام شائع ہوتا تو بڑے شوق سے دیکھا کرتے۔ یوں اخبار سے شناسائی کا ایک عمل بھی شروع ہوا جو بتدریج فروغ پاتا رہا۔ تاہم تب، اور ایک طویل عرصہ بعد تک، یہ تاثر ذہن میں عقیدے کی حد تک پُختہ تھا اور گھول کر پلائے ہوئے عقیدے کے ساتھ کہیں جُڑا ہوا بھی تھا کہ اخبارات صرف پاکستان میں نکل سکتے ہیں، ’’آزاد‘‘ کشمیر میں نہیں۔ کیونکہ ایک تو ’’آزاد‘‘ کشمیر کی جغرافیائی صورت حال اجازت نہیں دیتی یعنی اخبار ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پہنچنے تک دوسرا دن ہو جائے گا۔ اور دوسرے یہ کہ ’’آزاد‘‘ کشمیر میں شاید کوئی اخبار نکالنے کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ پسماندہ علاقہ ہے ۔ اُس وقت میں اس بات کو بالکل درست اور سچ مانتا تھا۔ ذہن میں یہ باتیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں ابھی بیدار نہیں ہوئی تھیں کہ آزاد کشمیر کا ضلع میر پور جہاں سے مہاراجہ کے (بقول سرکاری نصاب کے ظالم ڈوگرہ غلامی کے) زمانے میں تین روزنامے نکلا کرتے تھے (سچ، ہمت اور صداقت ) وہاں اب ’’آزادی‘‘ کے بعد صحافت پیش رفت کرنے کی بجائے پسماندہ کیوں اور کیسے ہوگئی؟

آج برطانیہ کے شہر اولڈہم میں بیٹھ کر یہ کالم میں ایک ایسے اخبار کے لیے لکھ رہا ہوں جو تیرہ سال کا ہو گیا ہے اور تیرہ سالوں میں نہ صرف اس کی صحت مند نشوونما ہوئی ہے بلکہ یہ کشمیری تشخص کی ایک اہم علامت بھی بن گیا ہے۔ کشمیر ایکسپریس جب شروع ہوا تو جلد ہی یہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ ’کہاں جی۔ خودمختاری کے پس منظر کے کسی بندے کو بھلا کون چلنے دے گا۔‘‘ مگر زائد تبسم نے نہ صرف اس اخبار کو اپنا تشخص کھوئے بغیر زندہ رکھا بلکہ تو انا بنایا اور خود بھی شہروں شہروں اور ملکوں ملکوں گھوم کر کشمیریوں کو اخبار اور صحافت کی اہمیت اور افادیت کی بنیاد پر اس اہم پیش رفت کو مزید مضبوط کرنے پر نہ صرف آمادہ کیا بلکہ ان کو آپس میں جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

صحافت (اب ذرائع ابلاغ) کو عام طور پر عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے بعد کسی بھی جمہوری حکومت کا پانچواں ستون کہا جاتا ہے کیونکہ ذرائع ابلاغ عوامی رائے عامہ کی تشکیل و تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ آج بھی، دُنیا کے امیر ترین اور جمہوری ترین ممالک میں بھی، ذرائع ابلاغ مکمل طور پر خودمختار اور غیر جانبدار نہیں ہیں۔ سرمایہ دار اور قوانین اور ضوابط کو اپنے حق میں استعمال کر سکنے کے ماہرین دانشور اُن کو اپنے مفادات اور ان کے محافظ نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کرتے ہیں تاہم یہ بھی حقیقت کے کہ بے تحاشا طاقت کے باوجود اس طاقت کا اندھا استعمال [سوائے حالت جنگ میں] دیکھنے میں نہیں آتا اور متبادل نظریات ورائے کے حامل ذرائع ابلاغ کو بھی کچھ نہ کچھ جگہ اور آزادی میسر ہے۔ ’’آزاد‘‘ کشمیر میں گذشتہ کوئی بیس سالوں سے اخبارات و رسائل میں تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ ایک مثبت اور صحت مند پیش رفت ہے۔ بیس سال قبل ’’آزاد‘‘ کشمیر کا ’’مقبوضہ‘‘ کشمیر سے موازنہ کرتے وقت اکثر دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہاں تو اتنے روزنامے اور ہفت روزے ہیں یہاں کتنے ہیں۔ خود میں یہ موازنہ کیا کرتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ کشمیر کے اس پار اب روزناموں کی تعداد اُس پار سے کم نہیں۔ [دونوں اطراف صحافت کا موازنہ ایک دلچسپ موضوع ہو سکتا ہے پی ایچ ڈی یا ایم فل کا۔] کشمیر ایکسپریس آزاد کشمیر میں جدید روزنامہ اخباروں کے دور کا سرخیل اور نمائندہ اخبار اس لیے قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس نے مشکل وقت میں منفرد تشخص کے ساتھ آنکھ کھولی اور اپنے نظریات کا سودا کیا بغیر دوسرے نظریات کو بھی جگہ دے کر وسیع تر صحافتی اصولوں کو تقویت بخشی۔

انقلابی نقطہ نظر سے کشمیر ایکسپریس پر کیا کسی بھی ایسے اخبار یا اقدام پر تنقید ممکن ہوتی ہے جو لکھنے والے انقلابی کے انقلاب بارے مخصوص نقطہ نظر کے مطابق نہ ہو۔ اس لحاظ سے کشمیر ایکسپریس انقلابی اخبار تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ لیکن یہ صحافت کے اس چھوٹے سے صحافتی انقلاب کا علمبردار ضرور ہے جو آزاد کشمیر میں گذشتہ دو دہائیوں سے رونما ہوا ہے اور جاری ہے۔

میں ذاتی طور پر کشمیر ایکسپریس کا اس لیے بھی مشکور ہوں کہ انہوں نے نہ صرف میرے مضامین کو جگہ دی بلکہ میں نے جب ایک معاملے میں اُن سے معلومات اور روابط میں معاونت چاہی تو اُنہوں نے بلا کسی لیت ولعل کے مطلوبہ معلومات و روابط تک رسائی فراہم کی۔ صحافت میں، چاہے وہ اخبارات کی ہو یا ریڈیو ٹیلی ویژن بلکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں یہ تو ممکن ہی نہیں کہ آپ سب کو ہر وقت اور ہر معاملے میں خوش رکھ سکیں۔ تاہم اہم آزمائش یہ ہوتی ہے کہ آپ ممکنہ حد تک حالات و واقعات کی درست کوریج کرتے ہیں۔ یہ ہوتا ہے آپ کے خبروں والے [خبری؟] حصے کا کام۔ اور چونکہ کسی بھی واقعے اور حادثے کے بارے میں مختلف رائے اور معلومات موجود ہوتی ہیں اور سامنے آتے رہتی ہیں اس لیے اخبارات کے تجزیے اور کالموں والے حصے کا فرض بنتا ہے کہ اس میں مختلف رائے کے حامل افراد کے تجزیوں کو جگہ دی جائے اور یہ بات قارئین پر چھوڑ دی جائے کہ ان میں سے کون کس کی بات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ میرے خیال میں کشمیر ایکسپریس اس معیار کی صحافت کو فروغ دینے میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے جس میں رنگ برنگے نظریات و خیالات کو مناسب اور معقول جگہ دی جاتی ہے اور آزادی اظہار اور اختلاف رائے کے حق کا احترام کیا جاتا ہے۔ جبری زباں بندی کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے اور صحافت کا اولین فریضہ بند زبانوں کے حق گویائی کے لیے آواز بلند کرنا ہے اس میں کبھی کبھی غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں اور چالاک لوگ صحافیوں کو بھی چونا لگا جاتے ہیں مگر ان غلطیوں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ہاں سیکھنے کے لیے ضرور تیار رہنا چاہیے۔ بہتر سے بہتری کی طرف ارتقاء اسی کا نام ہے۔ میری تمام تر نیک تمنائیں کشمیر ایکسپریس کے ساتھ ہیں اور مجھے پورا اعتماد ہے کہ بہت جلد کشمیر ایکسپریس کے ساتھ ہم ایک مزید پیارے رشتے میں بندھنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ایک ایسا رشتہ جو دنیا بھر میں کشمیریوں کے موقف کو کسی قسم کی قدغن اور پابندی کے بغیر عوامی جمہوری صحافتی اصولوں کے مطابق پیش کرنے میں تاریخی کردار ادا کرے گا اور کشمیر کے اندر اور بیرون کشمیر کشمیریوں کو آپس میں جوڑنے اور باہمی آگاہی بڑھانے میں صحت مند اور مثبت حصہ ڈالے گا۔

مظفر آباد میں طالبہ کی مبینہ عصمت دری

مظفر آباد کے مضافات میں واقع فائیو سٹار ہوٹل میں ایک مقامی طالبہ کی تین وزراء اور چند بیوروکریٹس کے ہاتھوں مبینہ عصمت دری کی خبر سب سے پہلے مظفر آباد سے شائع ہونے والے اخبار المشرق میں شائع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ لڑکی نے زندہ رہنے کے لیے بیان دیا کہ وہ حادثے میں زخمی ہوئی ہے مگر چند دنوں کے بعد وفات پا گئی۔ اس خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ راولا کوٹ کے علاقے جنڈالی میں اس لڑکی کے جنازے کے وقت موجود معززین میں سے کسی نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ اس سے فرض کیا جا سکتا ہے کہ اس خبر کے خالق کے خیال میں معززین کو معلوم تھا کہ لڑکی کے ساتھ کیا ہوا۔ اس خبر کے تراشے فیس بک پر آئے اور دوسرے دن یہ نوائے وقت میں شائع ہوئی۔

فیس بک پر ان گنت لوگوں نے انتہائی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ ملزمان کے خلاف شدید کارروائی کا مطالبہ کیا جیسے اخبار میں خبر آنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔ تاہم کچھ بالغ نظر افراد نے کسی کارروائی سے پہلے معاملے کی پوری چھان بین کرنے پر زور دیا۔ ابھی کچھ اور افراد نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ وزراء کو معطل کر کے معاملے کی تفتیش و تحقیق کی جائے۔ اس معاملے پر کیا کارروائی کی جائے اس حوالے سے کوئی تجویز دینے سے پہلے میرے خیال میں تمام موجود و دستیاب معلومات کی روشنی میں جس حد تک کہانی معلوم ہو سکی ہے اس کو قارئین کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اس کے بعد کچھ تجاویز دی جا سکتی ہیں کہ اس معاملے کی تفتیش کن خطوط پر کی جانی چاہیے یا کی جا سکتی ہے۔

کہانی یا وقوعہ کے بارے میں دستیاب معلومات:

تمام دستیاب معلومات کے مطابق 3 اپریل کو آزاد کشمیر حکومت کے ایک سینئیر افسر نے ایم اے کی ایک طالبہ کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے کمرہ نمبر 312 میں ملازمت کے لیے انٹرویو کے لیے بلایا۔ جب وہ ہوٹل پہونچی تو وہاں آزاد کشمیر حکومت کے تین وزراء اور دو سینئیر افسر موجود تھے۔ یہ سب لوگ شراب کے نشے میں دھت تھے اور ان سب نے اس طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور پھر اپنے جرم کے ثبوت مٹانے کے لیے اس کے بدن کے نازک حصوں کو زخمی کر دیا۔ لڑکی بے ہوش ہو گئی تو اس کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ وہاں سے شہریوں نے اس کو اٹھا کر سی ایم ایچ کے باہر پرائیویٹ کلینک میں پہنچایا جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا۔ لیکن لڑکی وہاں بے ہوش ہو گئی تو اس لیڈی ڈاکٹر نے جو دن کو سی ایم ایچ میں کام کرتی ہے لڑکی کو سی ای ایچ بھیجوا دیا اور ساتھ ہی پولیس کو بھی اطلاع کر دی۔ ایک اطلاع کے مطابق یہاں لڑکی نے شروع میں چند لوگوں کی موجودگی میں بتایا کہ اس کا ریپ ہو گیا ہے۔ ہسپتال میں اس کا معائنہ کیا گیا اور واضح شواہد موجود تھے کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔ پولیس خواتین نفری سمیت ہسپتال میں آئی مگر انچارج کو ایک فون آیا اور وہ ”سر، سر“ کرتا باہر نکل گیا اور پھر خواتین پولیس عملے کو بھی باہر آنے کا اشارہ کیا اور وہ بھی چلی گئیں۔ ہسپتال میں مبینہ طور پر زنا بالجبر کا شکار لڑکی کا پڑوسی لڑکا جس کو اس لڑکی کی ماں نے بتایا تھا کہ وہ کسی حادثے میں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئی تھی اس کا پتہ کرنے ہسپتال آیا تو عملے نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو لڑکی نے بتایا کہ وہ اس کا بھائی ہے اس لیے اس کو اندر آنے دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس لڑکے کا کہنا ہے کہ سامنے نظر آرہا تھا کہ اس لڑکی کا ریپ ہوا تھا۔ تاہم لڑکی فوت نہیں ہوئی بلکہ چند روز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد لڑکی کو فارغ کر دیا گیا۔ پولیس نے کوئی کیس رجسٹر نہیں کیا اور بظاہر معاملہ یہاں پر ختم ہو گیا۔ تاہم جب المشرق میں خبر آئی اور فیس بک تک بات پہونچی تو پھر معاملہ تازہ ہو گیا۔

اس دوران اس لڑکی جس کو اب اخبارات میں مسمات ”س ع“ کہا جاتا ہے کے بارے میں یہ سامنے آیا کہ وہ راولاکوٹ کی نہیں بلکہ مظفر آباد کے ایک قریبی گاوں کی ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے کی یتیم لڑکی ہے جو اپنے بھائی اور ماں کے ساتھ رہتی ہے۔ چند سال قبل وہ آزاد کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ لینے آئی تھی مگر میرٹ پر پوری نہ اترنے کے باعث اس کو یونیورسٹی میں داخلہ نہ مل سکا مگر مقامی کالج میں ایم بی اے (ماسٹرز آف بزنس ایڈمنسٹریشن) میں داخلہ مل گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران یونیورسٹی کے عملے کے ایک سینیئر رکن نے اس لڑکی کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے اور ان کی ملاقاتیں اس طرح سے ہونے لگیں کہ عملے کے لیے یہ کوئی راز کی بات نہ رہی۔ مبینہ طور پر یہ صاحب اس کو آہستہ آہستہ دوستوں کو بھی پیش کرنے لگے اور غریب گھرانے کی یتیم لڑکی کا جسم بکنے لگا۔ اس روز اس کو پرل کانٹی نینٹل میں یہ کہہ کر بلایا گیا کہ کچھ عالمی بینکار آئے ہوئے ہیں جو اس کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انٹرویو دینے گئی تو وہاں اس کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا۔

ایک اور موقف یہ سامنے آیا ہے کہ دراصل لڑکی کوئی جسم فروش یا کال گرل یا عام طالبہ نہیں تھی بلکہ ایک وزیر کی دوست یعنی گرل فرینڈ تھی اور اس سے ملنے ہوٹل گئی تھی۔ مگر وہاں اس وزیر کے دوسرے دوستوں نے بھی اس کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کر دی تو لڑکی نے احتجاج کیا اور جب وزیروں نے بدتمیزیاں جاری رکھیں تو لڑکی نے مزید احتجاج کیا اور ہاتھا پائی میں اس پر کسی وزیر نے بوتل برسائی جس سے وہ زخمی ہوگئی اور اس کو ہسپتال پہنچایا گیا۔

اب ایک اور خبر کے مطابق لڑکی تھوڑاڑ کی رہنے والی ہے اور اب اس کو منہ بند رکھنے کے لیے خاصی بڑی رقم کی پیش کش کی جا رہی ہے۔ تاہم ایک اخبار میں اس لڑکی کا بیان بھی شائع ہوا ہے جس کے مطابق اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے اور نہ ہی وہ فوت ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیوشن پڑھنے جا رہی تھی کہ راستے میں گرنے سے اس کو چوٹ لگی اور وہ شدید زخمی ہوگئی تھی۔ تین دن ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد دو دن ہاسٹل میں رہی اور پھر گھر گئی۔ اور اس دوران اس نے پولیس کو بھی بیان دیا۔

ایک ذریعے کے مطابق یہ ایک سیاسی ڈرامہ ہے جس کا ایک سکرپٹ ہے اور اداکار ہیں اور اس کی ہدایات کہیں اوپر سے جاری ہو رہی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاملے کو نظر انداز کر دیا جائے جس طرح کہ حکومت اور پولیس بظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر واقعی ایک غریب لڑکی کا ریپ ہوا ہے تو کیا اس کے اردگرد سب لوگوں کا سماج اور سرکار پر سے یقین نہیں اُٹھ جائے گا؟ اس لیے تفتیش لازمی ہے۔ مگر کیا تفتیش کے لیے متعلقہ وزراء کے نام سامنے لانا اور ان کو معطل کرنا یا ان سے استعفے لینا ضروری ہے؟ ایک حلقے کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تو صرف اخباروں میں شور مچا کر وزراء کو استعفے دینے پر مجبور کرنے کی یہ روایت کہاں جا کر ختم ہوگی؟ کل اگر پیپلز پارٹی کے حامی اخبارات اور فیس بک حمایتیوں نے یہ خبر ”چھوڑ“ دی کہ حکومتی پارٹی کے فلاں فلاں وزراء یہ بے حیائی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں اور اپنے حمایتیوں سے مظاہرے کروا دیے تو کیا وزراء کو پھر معطل کر دیا جائے گا؟ میرے خیال میں اس معاملے کی پولیس کو بہرحال تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس کے لیے لڑکی کی طرف سے تو بیان آ گیا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ اس سے پورے معاملے کی نوعیت ظاہر ہے کہ بدل جاتی ہے۔

تاہم چونکہ اخبارات کی خبروں نے صورت حال کو بہت سیاسی بنا دیا ہے اس لیے میرے خیال میں غیر جانبدارانہ تحقیق اب بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ لڑکی اس دن اس وقت ہوٹل میں موجود تھی؟ اس کے لیے سینئر افسران سے پوچھ تاچھ ہو اور پھر ہوٹل کے متعلقہ عملے سے۔ اس مرحلے پر یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ کیا وزیر وہاں موجود تھے؟ اور یہ بات بھی ہوٹل کے عملے یا مہمانوں سے معلوم ہو سکنے کے امکانات ہیں۔ کمرہ نمبر ۳۱۲ کا ذکر آیا ہے۔ یہ کس کے نام بک تھا؟ کہا جاتا ہے کہ وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی نمائندہ پندرہ لاکھ ماہانہ پر رہتا ہے اور اس کو لڑکیوں سمیت عیاشی کا سارا سامان فراہم کیا جاتا ہے اور اس معاملے میں ان صاحب کا نام سوشل میڈیا میں سر فہرست آرہا ہے۔ ہوٹل کے ریکارڈ سے کیا ایسی معلومات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس ابتدائی تحقیق سے لڑکی اور وزراء کی ایک ہی وقت میں ایک ہی کمرے میں موجودگی کو ثابت ہونے یا نہ ہونے کے امکانات ہیں۔ اگر ثابت ہو جائے کہ وزراء اور لڑکی ایک ہی وقت میں ایک ہی کمرے میں تھے تو میرے خیال میں وزراء کو معطل کر دیا جانا چاہیے اور مزید تحقیق جاری رہنی چاہیے۔

اگلا مرحلہ یہ ہے کہ وہ شہری ڈھونڈے جائیں جنہوں نے لڑکی کو زخمی حالت میں پرل کانٹی نینٹل سے سی ایم ایچ کے باہر کلینک میں پہنچایا۔ پھر لیڈی ڈاکٹر سے پوچھا جائے جس نے اس کا معائنہ کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پھر ان ڈاکٹروں کا بیان لیا جائے جنہوں ہسپتال میں اس لڑکی کا معائنہ اور علاج کیا۔ اور پولیس کے کون لوگوں نے لڑکی کا بیان لیا تھا؟ کیونکہ یہ تو ثابت کے کہ لڑکی نے بیان دیا تھا۔ اگر لڑکی کی بات مان لی جائے کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا تو پولیس کیوں آئی تھی؟ کیا سی ایم ایچ میں کوئی بھی زخمی آئے تو پولیس کو اطلاع کی جاتی ہے؟ لڑکی کا پاوں پھسلنے سے چوٹ کہاں لگی؟ اور ظاہر ہے کہ عام طور پر ڈاکٹر بتا سکتے ہیں کہ چوٹ کیسے لگی۔ تین دن وہ ہسپتال میں رہی تو کون نرسوں اور ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا؟ وہ کیا کہتے ہیں؟ وہ پڑوسی لڑکا جس کو ایک ذریعے کے مطابق لڑکی کی ماں نے بھیجا اس نے کیا دیکھا اور وہ کیا کہتا ہے؟ ظاہر ہے کی ہسپتال کے ریکارڈ میں ہوگا کہ لڑکی کو کیوں داخل کیا گیا اور کیا علاج کیا گیا اور کیا ادویات دی گئیں؟ اور اگر شواہد ایسے ملیں کہ لڑکی جو بیان اب دے رہی ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور شاید بیان بدل رہی ہے تو پھر اس کچھ مزید تحقیق کی جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے؟

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ لڑکی ہوٹل میں گئی ہی نہیں یا وہ اپنی مرضی سے گئی تھی تو پھر اخبارات کے ان مالکان اور نمائندگان سے بھی سوالات کیے جائیں کہ انہوں نے اس خبر کو زنا بالجبر کا رنگ کیوں دیا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی سیاسی جماعتیں ہیں جو اس واقعے کو زنا بالجبر کا رنگ دے کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

اب ایک عام آدمی یا پیپلز پارٹی کا مخالف قاری ہنس کر یہی کہے گا کہ یہاں ایسی انکوائریاں کہاں ہوتی ہیں؟ یہاں تو سب کچھ فکس یعنی پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔ اور اگر حقیقت یہ ہے تو پھر مزید لکھنے یا کم از کم انصاف کے تناظر میں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اخبارات میں پڑھ لیں گے کہ کون ”ڈاہڈا“ ہوا ہے۔

مظفر آباد طالبہ زیادتی کیس

میری دلچسپی اور اسباق؟

مظفر آباد طالبہ زیادتی کیس پر آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے قائم کردہ سرکاری کمشن کی رپورٹ کے مطابق ایسا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔

تاہم وہ افراد جو پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی اب خوف یا رقم لے کر اس سے انکار کر رہی ہے۔

انہوں نے کمشن کے قیام پر ہی اس کو مسترد کر دیا تھا کہ اس کمشن سے ایماندارانہ اور منصفانہ تحقیق کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ کمشن کے لوگ بھی ملزمان کے سیاسی حمایتی طرفدار ہیں۔

کمشن کی کاروائی اور رپورٹ کے حوالے سے جو باتیں غیر رسمی طور پر سرگوشیوں میں باہر آئی ہیں ان میں بھی کچھ باتیں ایسی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ اپنے ہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول تو رائج ہے مگر اس کے خلاف احتجاج کرنے والے بھی آخر کار صرف لاٹھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس اصول کو بدلنا ان کا بھی مقصد نہیں ہوتا۔

تاہم یہاں ایک بار پھر میں اس واقعے کے منظر عام پر آنے سے لے کر اب تک کی کہانی بیان کرنا چاہوں گا تاکہ اس میں اپنی دلچسپی اور اس کے بارے میں کچھ ایسے پہلو سامنے لا سکوں جن کی تحقیق سے اس کو مزید بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس واقعے کی خبر پہلی بار میری نظروں سے اسی سال اپریل کے تیسرے ہفتے میں فیس بک پر ایک اخباری تراشے کی صورت میں گذری تھی۔ جب ایک طالبہ کے خبر کے مطابق طالبہ کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کے تین وزراء اور اعلیٰ افسران نے اجتماعی عصمت دری کا ارتکاب کیا اور زخمی طالبہ بعد ازاں پراسرار طور پر ہلاک ہو گئی۔

یہ تراشہ جب میں نے فیس بک پر پڑھا تو مجھے ایک جھٹکا سا لگا اور خاصی دیر کرب و اذیت کی لہریں میرے احساس کو کچوکے لگاتی رہیں۔

مگر پھر جانے کیوں مجھے لگا کہ اس خبر میں ”کچھ“ ایسا ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ کیا ٹھیک نہیں تھا، خاصی دیر میری سمجھ میں نہ آیا۔ میری زندگی اتنی پر آسائش اور آسان نہیں ہے کہ میں اس طرح کے مسائل پر اتنا زیادہ سوچوں۔

بقول میرے کچھ سمجھدار دوستوں کے اس طرح کے معاملات پر اتنا وقت صرف کرنے کو، خاص طور سے ”آزاد“ کشمیر کے سیاسی ماحول میں نرم سے نرم لفظوں میں بے وقوفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر کیا کروں میری تو ساری عمر ہی ایسی بے وقوفیوں میں کٹ گئی ہے۔ کیونکہ جب کہیں محسوس ہوتا ہے کہ کسی صورت حال کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو ایک تجسس سا پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف کی کہانی جاننے کے لیے۔ پہلے پہل میں بھی صرف شک ہونے کو ہی ثبوت سمجھ کر اپنی مرضی کے مفروضے قائم کر لیا کرتا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ یہ یقین ہونا کہ ہو نہ ہو ایسا ہی ہے ذاتی حد تک تو شاید ٹھیک ہو سکتا ہے مگر عوام کے سامنے اس کو پیش کرنے کے لیے کچھ ثبوتوں کا ہونا ضروری ہے، خاص طور سے اگر آپ کا تعلق صحافت سے ہو اور معاملہ اجتماعی عصمت دری کے جیسا نازک ہو۔

ایک طالبہ کی اجتماعی عصمت دری اور ہلاکت کی اس خبر پر میری نگائیں اس لیے نہیں رک گئی تھیں کہ ”آزاد“ کشمیر میں کبھی جبر زنا ہوا نہیں یا اس لیے کہ گذشتہ بیس، پچیس سالوں سے برطانیہ میں رہنے کی وجہ سے مجھے اپنے آبائی وطن کے حالات سے آگاہی نہیں تھی۔ طاقت، دولت اور جنسی استحصال کے باہمی تعلق سے میں اچھی طرح آگاہ ہوں۔

در حقیقت اس خبر میں میری دلچسپی کی وجہ اور خاص طور سے اس پر مصنوعی ہونے کا گماں ہوا ہی اس لیے تھا کہ میں ہزاروں میل دور آ کر بھی ”آزاد“ کشمیر کے حالات سے آگاہ تھا بلکہ برطانیہ آ کر وہاں کے حالات سے آگاہی میں خاصہ اضافہ ہوا تھا اور برطانیہ میں دو عشروں تک مختلف اداروں میں کام کاج اور یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی تعلیم اور خودمختاری کی سیاست میں سرگرمی کے ذریعے جو کچھ بظاہر نظر آتا ہے اس کے پس منظر میں جھانکنے کا رجحان بھی پیدا ہو گیا تھا۔

مجھے ”اجتماعی آبرو ریزی اور ثبوت مٹانے کے لیے نازک حصوں کو زخمی کرنے“ کے الفاظ عجیب سے لگے تھے۔ یوں محسوس ہوا کہ یہ خبر میں نے پہلے بھی کہیں پڑھی ہے۔ تاہم میں نے خود کو سرزنش کی کہ کسی کے ساتھ اتنا بڑا سانحہ ہو گیا اور میں اسکے مندرجات اور الفاظ میں الجھا ہوا ہوں۔

اپنے اندر احساس جرم کے ذریعے اس خبر کو پس منظر میں دھکیل کر میں آگے بڑھ گیا۔ زندگی کے روزانہ کے عام معمولات ،فرائض اور صوادوں ومشغلوں کی طرف۔

چونکہ لاکھوں کڑوڑوں لوگوں کی طرح سوشل میڈیا میری زندگی کے معمولات کا بھی حصہ بن چکا ہے اس لیے روزانہ صبح سویرے اپنے دوستوں سے ملاقات اور دنیا کے حالات سے آگاہی کے لیے فیس بک پر حاضری جیسے آج کی دنیا میں ایک فرض سا بن گیا ہے۔

طالبہ زیادتی کی خبر پر احتجاجی اور مذمتی بیانات اور وزراء کے استعفوں اور معاملے کی تحقیقات کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات نظر سے گزرنے لگے۔

دوستوں اور ان کے دوستوں اور ان کے دوستوں کے تبصروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ معاملے پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

میں نے سوچا معاملہ پرل کانٹیننٹل میں ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ وہاں ”خفیہ“ کیمرے نصب ہوں گے اور اس کے ذریعے کم از کم یہ معلوم ہو جائے گا کہ کون کون تھا؟

پھر خبر آئی کہ خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ ”حساس ادارے“ لے گئے ہیں اور اب وہ معاملے کی تحقیقات کریں گے۔ میں نے سوچا بہت اچھی بات ہے۔

اگر چہ ”آزاد“ کشمیر میں پاکستانی فوج، احساس اداروں، کشمیر کونسل، کشمیر منسٹری، لینٹ افسران جیسے معاملات پر میرا بڑا صاف موقف ہے کہ وہ غیر قانونی ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کے سارے ادارے غیر قانونی ہیں کیونکہ انہوں نے ساری دنیا کے سامنے وعدے کر کے بھی کشمیر میں لڑائی کے لیے آنے والے اپنی فوجی اور سول قوتوں کو نہیں نکالا جو کہ یہاں رائے شماری کی اولین شرط تھی۔

لیکن ایک کشمیری لڑکی کے ساتھ اس کھلے ظلم کے معاملے پر اگر پاکستان کے احساس ادارے ہی تحقیق کر کے ملزمان تک پہنچ سکتے ہیں تو یہ برائی میں خیر کے پہلو والی بات ہوگی۔ لیکن پھر ایک دن ایک اخباری خبر کا تراشہ فیس بک پر نظر سے گذرا کہ وہ لڑکی جس کے بارے میں خبر آئی تھی کہ وہ جبر زنا کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئی تھی درحقیقت زندہ ہے اور انصاف چاہتی ہے۔

تو پھر پہلی خبر میں وہ جنازہ کس لڑکی کا تھا؟ اور اخبار والے نے جو یہ لکھا تھا کہ جنازے میں شریک بڑے بڑوں میں سے کوئی حرفِ شکایت زباں پر نہیں لایا تھا، وہ کس بنیاد پر لکھا تھا؟

لیکن اس کہانی میں ایک سے بڑھ کر ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ اس خبر کے بعد بھی کہ وہ لڑکی زندہ ہے۔ مردہ لڑکی کے حوالے سے احتجاجی بیانات آتے رہے اور ان ہر تبصرے بھی ہوتے رہے۔ پھر یہ خبر کہیں سے آئی کہ وہ لڑکی کوئی اور تھی جس کی شاید زبردستی شادی کر رہے تھے اور کہیں گر کر مر گئی۔ اور اس لڑکی کی خبر بھی مر گئی۔

لیکن اس نئی زندہ لڑکی کی خبر زندہ ہوگئی اور بیانات کا سلسلہ چل نکلا۔

میں نے اس خبر پر پہلا کالم اس وقت لکھا جب دیکھا کہ بہت سے قوم پرست بھی بیان بازی میں شامل ہیں۔

میں نے لکھا کہ میرے خیال میں اس خبر کے حوالے سے کتے کے پیچھے بھاگنے کی بجائے پہلے کان دیکھ لینا چاہیے ہو سکتا ہے کہ کتا نہ لے گیا ہو۔

اور پھر میں نے یہاں بیٹھ کے جو تحقیق ہو سکتی تھی وہ کی اور دوسرا کالم لکھا جس میں تحقیق و تفتیش کا وہ طریقہ اختیار کیا جس کو ”کہانی بُننے“ کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔

اس میں کسی واقعے کے بارے میں پائی جانے والے مختلف خیالات اور رائے کو ان کے اپنے خیال کے مطابق ایک کہانی کی شکل دی جاتی ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ کس کہانی میں میں کیا تسلسل ہے؟ کیا کڑیاں ایک دوسرے سے ملتی ہیں؟ کہاں جھول ہے؟ اور کس کے کون سے دعووں کو ٹیسٹ کر کے پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ کم از کم اس پہلو یا اس ٹکڑے کے بارے میں جھوٹ کیا اور سچ کیا ہے۔ یا کم از کم مزید چھان بین میں مدد مل سکتی ہے۔

اس دوران وزراء اور اعلیٰ افسران کے نام بھی سامنے آگئے۔ اور اخباری اور فیس بک کے شور میں بھی اضافہ ہو گیا اور اکثر لوگوں نے نام سامنے آجانے کو سب سے بڑا ثبوت قرار دے دیا اور مطالبہ کیا کہ ان وزراء کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

الزام لگانے والوں کا دعویٰ تھا کہ یہ واقع پرل کانٹینینٹل ہوٹل مظفر آباد کے کمرہ نمبر غالباً 312 میں ہوا تھا جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی کشمیر میں کرتا دھرتا فریال تالپور کے کسی سیکرٹری رضوان قریشی کے نام پر بک رہتا ہے اور جہاں مبینہ طور پر آزاد کشمیر کے وزیر اور افسران اس پاکستانی وائسرائے کی خدمت وخاطر مدارت کے لوازمات کا نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔

میں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ اگر کسی بھی حد تک یہ ثابت ہو جائے کہ یہ وزراء اور متعلقہ لڑکی ایک ہی وقت میں پی سی ہوٹل میں تھے تو پھر واقعی ان وزراء کو مستعفی ہو جانا چاہیے یا ان کو معطل کر دیا جانا چاہیے۔

لیکن سوائے دعووں کے اور ان بیانات کے کہ ”پی سی“ غیر قانونی ہے، عیاشی کا اڈہ ہے، وزیر بے غیرت ہیں، ہم سب بے غیرت ہیں، پوری قوم بے غیرت ہے، وغیرہ وغیرہ کوئی ثبوت نظر سے نہ گذرا کہ آیا ان کو وہاں کسی نے دیکھا ہے؟ یا کسی دیکھنے والے سے سُنا ہے؟

میں نے مختلف دوستوں اور کچھ متعلقہ افراد کو فون کیے اور کچھ سے فیس بک پر کبھی عام اور کبھی ان کے پرائیویٹ باکسوں میں بات کی ۔ پوچھا کہ کیا یہ جو زندہ لڑکی ہے اس کو کوئی جانتا ہے؟

اس کا کوئی اتی پتہ ٹھکانا مگر کوئی خاص جواب نہ ملا۔ زیادہ تر دوست کہتے یہاں کیا نہیں ہوتا بھائی۔ ہر روز عزتیں لٹتی ہیں اور ہر روز غیرتیں بکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایک دوست نے کہا کہ واقعہ جتنا کچھ اخبارات میں آیا ہے اس سے بھی بھیانک ہے۔ تاہم اس کا ثبوت کیا ہے؟
”پورا شہر جانتا ہے“۔

مگر شہر میں جو بھی جاننے والے تھے ان سے پوچھو کہ کیسے پتہ چلا؟ تو وہ اس کا جواب دینے کی بجائے کہتے یہ حرام خور سیاست دان اور کرتے کیا ہیں؟ یہ ہیں ہی دلال اور پوری قوم کو منڈی میں بٹھا رکھا ہے۔

اخباروں سے جو کہانی بن رہی تھی اس کے مطابق غالباً چار اپریل کو وہ لڑکی جس کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ آزاد کشمیر یونیورسٹی کی پھر کہا گیا کہ مظفر آباد کے مقامی پوسٹ گریجویٹ کالج کی طالبہ تھی اس کو اس بہانے سے پرل کانٹینینٹل بلایا گیا کہ وہاں افسران اس کا ایک رسمی سا انٹرویو لے کر اس کو ملازمت سے نوازیں گے۔

مگر جب وہ وہاں گئی تو تین وزراء، ایک پی پی پی پاکستان کا ”آزاد“ کشمیر میں نمائندہ اور کچھ اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جو نشے میں دھت تھے اور انہوں نے اس معصوم لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کی اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے اس کے جسم کے نازک حصوں کو زخمی کر دیا۔

پھر معلوم ہوا کہ کوئی دو سال قبل وہ لڑکی آزاد کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ لینے گئی تھی مگر میرٹ پر پوری نہ اترنے کی وجہ سے اس کا داخلہ پوسٹ گریجویٹ کالج میں ایم بی اے میں ہوا تاہم اس دوران یونیورسٹی کے کسی سینئیر افسر سے اس کے تعلقات قائم ہو گئے اور پھر بتدریج اس کے دوستوں سے اور پھر مظفر آباد کی وسیع تر سوسائٹی سے اور پھر وہ ”کال گرل“ بن گئی۔ اس واقعے کے حوالے سے معلوم ہوا کہ اس کو پی سی میں یہ کہہ کر بلایا گیا تھا کہ وہاں کچھ عالمی بینکار آئے ہوئے ہیں

مگر اس سوال کا کوئی جواب نہ ملا کہ۔۔۔ اگر وہ کال گرل تھی تو اس کو بہانہ کر کے بلانے کی کیا ضرورت تھی؟

خیر یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں شرابی درندوں نے اس لڑکی کو زخمی کر کے باہر پھینکوا دیا اور پھر کافی دیر بعد شہری اس کو ہسپتال کے نزدیک ایک پرائیوٹ کلینک میں لائے ایک اور ذریعے کے مطابق شہری نہیں بلکہ وزراء اور اعلیٰ افسران میں سے کسی کی گاڑی پر اس کا کوئی ڈرائیور اس کو کلینک میں چھوڑ کر چلا گیا اور معائنے کے دوران وہ بہت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث بے ہوش ہو گئی تو لیڈی ڈاکٹر اس کو ہسپتال لے گئی۔ وہاں پولیس آئی اور اس لڑکی نے ان کو بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا مگر پھر اوپر سے فون آیا اور پولیس چلی گئی پھر اس لڑکی کا کوئی رشتہ دار یا گاوں والا ایک جوان آیا اور اس نے بھی ”دیکھتے“ ہی بھانپ لیا کہ اس لڑکی کا ”ریپ“ ہوا ہے۔

مگر اوپر والوں کے دباو کی وجہ سے ہسپتال والوں نے میڈیکل رپورٹ غائب کر دی اور وہ لڑکی گھر میں محبوس ہو گئی۔ فیس بک پر تبصرے جاری رہے۔

ظلم کی انتہا، پہلے تو سنتے تھے کہ عزتیں صرف بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجی لوٹتے ہیں مگر یہ کیا کہ اپنے ہی وزیر اپنی ہی بہو بیٹیوں کی عزتیں لوٹنے پر آگئے۔ سدھن قبیلے کی غیرت کو کیا ہو گیا ہے؟ جلسے، جلوس، مظاہرے، دھرنے۔ بے غیرت وزراء، بے غیرت صدر کے نعرے اور تبصرے۔۔۔۔

ٹیلی فونوں اور فیس بک کے ذریعے میں نے وزراء سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہو سکی۔ میں سوچ رہا تھا ہر طرف شور مچا ہوا ہے ظاہر ہے کچھ تو ہوا ہے۔ مگر وہ کیمرے کی ریکارڈنگ کہاں گئی؟ خفیہ اداروں کی تفتیش کا کیا ہوا؟ اس ریکارڈنگ میں کیا ہے؟ ان سوالوں کا کوئی جواب کہیں سے نہیں آرہا تھا۔ البتہ اپوزیشن جماعتیں اور بہت سے قوم پرست سراپا احتجاج تھے۔ ایک کشمیری بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وزراء مستعفی ہو جائیں اور حکومت اس ظلم کا جواب دے۔

پھر وزیر اعظم نے فرمان جاری کیا کہ فوری انکوائری کروائی جائے گی اور اگر یہ جرم ثابت ہو گیا تو مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور اگر الزام جھوٹے نکلے تو بہتان تراشی کرنے والوں کو بھی جواب دینا ہوگا۔

اسی اثناء میں جے کے نیوز کی طرف سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس میں انصار برنی ٹرسٹ کے نمائندوں کی طرف سے لڑکی کے گھر پر جا کر اس سے بات چیت کی روشنی میں دعویٰ کیا گیا کہ لڑکی کی باڈی لنگوئج بتاتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور یہ کہ اس کے گھر کے گرد پہرا ہے اور سرکاری طور پر اس کو کسی سے بات کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں انتہائی سنسنی خیز انداز میں ان ڈاکٹروں کے حوالے دیے گئے جنہوں نے اس کا علاج کیا تھا۔

پھر لڑکی کا نام اور گاوں کا نام اور پھر بیان اور پھر انٹرویو بھی سامنے آگیا۔ وہ تھوڑار گاوں کی سنی العارفین بتائی گئی۔ جو واقعی مظفرآباد کے پوسٹ گریجویٹ کالج میں ایم بی اے کی طالبہ تھی۔ انٹرویو میں اس نے کہا کہ میں کبھی ”پی سی“ میں گئی ہی نہیں اور نہ میرے ساتھ ریپ کا کوئی واقعہ ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ مذکورہ دن وہ ٹیوشن پڑھنے جا رہی تھی کہ راستے میں ایک نالے میں گر گئی اور ایک سریا پیٹ میں لگنے سے زخمی ہو گئی۔ جس کے بعد اس کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ کچھ دن زیر علاج رہی۔ مگر الزامات لگانے والوں نے کہا کہ وہ خوف کے باعث یا رقم لے کر کہانی بدل رہی ہے۔۔۔ اس کے کچھ رشتہ داروں نے مظاہرے کروائے اور حکومت مخالف سیاستدانوں نے خوب تقریریں کیں کہ حکومت اس گناونے فعل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے مقرر کیے جانے والے کمشن اور خاص طور سے اس کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر دیا۔

کچھ اخبارات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ مظفرآباد کے ہوسٹلوں میں رہنے والی لڑکیوں کو تو ٹیوشن پڑھنے جانے کی اجازت ہی نہیں ہے لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔

انٹرویو اور تصویر سامنے آنے پر یہ شور بھی بپا ہوا کہ ”ریپ زدہ“ لڑکی کی تصویر اور انٹرویو چھاپنا بے غیرتی ہے۔

اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کچھ صحافی دوستوں سے گزارش کی کہ اگر ممکن ہو تو لڑکی سے بات کروادیں اور اگر وہ راضی ہو تو ہم جے کے ٹی وی پر اس کی باتیں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ اس انٹرویو میں سنی العارفین نے یہ بات دہرائی کہ وہ زندگی میں کبھی ”پی سی“ نہیں گئی اور نہ ہی اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ اس گفتگو میں اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے کچھ رشتہ دار ان کی کچھ کمرشل زمین ہتھیانے کے لیے اس کا نام اس واقعے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اور اسی زمین کے چکر میں میں انہوں نے کچھ عرصہ قبل اس کے والد کو قتل کر دیا تھا۔

ٹیوشن کے مسئلے پر اس نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے ٹیوشن پڑھ رہی ہے اور بہت سے لڑکیاں ٹیوشن پڑھنے جاتی ہیں پروفیسر فضل سے جن کی عمر اسی سال ہے اور اس بات کی ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔

اس نے کہا کہ ہسپتال سے فارغ ہو کر وہ کچھ دن ہوسٹل میں رہی اور پھر گھر آئی اور اس سارے عرصے کے دوران کوئی خبر اخباروں میں نہیں چھپی۔ لیکن پھر اچانک اس کا نام اس واقعے جوڑ دیا گیا۔ اب الزام لگانے والے کہتے ہیں وہ لڑکی گر کر زخمی ہونے سے ہسپتال میں داخل نہیں ہوئی تھی بلکہ ریپ اور ریپ کے نشانات مٹانے کے لیے لگائے جانے والے زخموں کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ جبکہ اس لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے ہسپتال میں داخل ہونے کو بنیاد بنا کر اس کا نام سے واقعے سے جوڑا گیا ہے۔

اس انٹرویو کے بعد توقع کے عین مطابق مجھے بھی فیس بک پر لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ دوستوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ لڑکی جس سے میں نے فون پر بات کی ہے وہ وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے؟

اب ظاہر ہے کہ ٹیلی فون پر صرف آواز ہی سنائی دے سکتی تھی لہٰذا یہ سوال جائز تھا۔ مگر جو باتیں اس لڑکی نے کیں خاص طور سے انصار برنی ٹرسٹ کے دورے اور اخبارات میں کیے جانے والے دعووں کے بارے میں ان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان نہیں کہ وہ کہانی کو زبانی یاد کر کے بیان کر رہی تھی، اس نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ کمشن کے سامنے وہ بیان دے گی اور اگر ضرورت پڑی تو عدالت میں بھی جائے گی اور اگر وہ قصوروار ہے تو پھانسی چڑھنے کے لیے بھی تیار ہے لیکن اگر اس پر الزام لگانے والوں پر ثابت ہو جائے کہ وہ بہتان تراشی کر رہے ہیں اور ایک ایسی لڑکی جس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اس کی زندگی تباہ کر دی ہے تو پھر ان کو بھی اس کی وہی سزا ملنی چاہیے۔

کچھ جذباتی دوستوں نے مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ واقعہ ہوا یا نہیں میں نے ان وزراء کو ان کے گرد تنگ ہوتے ہوئے پھندے سے نکالنے کی کوشش کیوں کی؟ گو ان کے پوچھنے کا انداز انتہائی بے ہودا اور جاہلانہ تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان کا سوال معقول ہے۔

کیونکہ ایک ایسی حکومت جس کو کشمیری عوام کی آزادی اور بھلائی اور ترقی کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کی خوشنودی زیادہ عزیز ہے جو آزاد کشمیر کے وسائل پر یہاں کے باشندوں کے حق کی بجائے ان پر پاکستان کے حق کو ترجیح دیتی ہے اس حکومت کی حمایت میں اتنی محنت کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟

مگر میں نے اس معاملے میں حکومت یا وزراء کے حمایت میں دلچسپی ہرگز نہیں لی۔ میری دلچسپی کی وجہ تو اس خبر میں الزامات اور دعووں کے پیچھے ثبوت کی غیر حاضری تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ وہاں ایک عام نچلے گریڈوں کے ملازمیں بھی اپنے عہدوں کا رعب ڈال کر عزتوں سے کھلواڑ کرتے ہیں، سرکاری اختیارات سے سہم جانے والی اکثر غریب لڑکیوں کی عزتوں سے یا گھر کے فاقوں کو دور کرنے میں کمزور اور بیمار والدین کا ہاتھ بٹانے

نوکری کے بہانے صبح گھروں سے نکل کر افسران و سیاست کاروں اور اثر و رسوخ والوں کی محفلوں میں یا خواب گاہوں میں آنے والیوں کی عزتوں کا۔

میں نے تو روز بیسیوں ایسے واقعات میں سے اس واقعے میں اس لیے دلچسپی لی کہ اگر یہ واقعہ ہوا ہے تو آزاد کشمیر کے صحافیوں کو کم از کم یہ سوچنے کی دعوت تو دوں کے ایسی خبروں کے لیے ثبوت کتنا ضرور ہوتا ہے اور اپوزیشن کے سیاستدانوں اور قوم پرستوں کے الزامات کو چیلنج کر کے یہ باور کرواوں کے ٹھوس ثبوت کے بغیر ایسے واقعات کو سیاست کا رنگ دینے سے معاشرے میں انصاف کی جو بھی کمزور سی امید ہے وہ بھی قتل ہو جاتی ہے۔

کیا کسی نے جا کر اس بات کی تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ سنی العارفین جس کے بارے میں اب کہا جاتا ہے کہ اس کا پہلے نام شمیم ہوا کرتا تھا اس کے والد کو کیا واقعی قتل کیا گیا تھا؟ کس نے کیا تھا؟ اور کیوں؟ اس مقدمے کا کیا بنا؟ اور کیا یہ واقعی ایک یتیم بچی کی زمین کا جھگڑا تو نہیں؟

سوال یہ نہیں ہے کہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہے سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ اس کے ساتھ رونما ہوا ہے یا نہیں؟

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کے والد کو قتل نہیں کیا گیا تھا اور زمین کا کوئی جھگڑا نہیں تو پھر دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کچھ چھپا رہی ہے اور پھر مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اس معاملے کی مزید چھان بین کی جائے۔

قوم پرستوں کی طرف سے یہ کہنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ آزاد کشمیر میں ثبوت کو عدم سے وجود میں لانا اور ثبوت کے وجود کو عدم میں پہنچانا طاقتوروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن اگر نون لیگ اور مسلم کانفرنس والے بھی یہی کہیں تو کل جب وہ اقتدار میں ہوں گے تو اگر پیپلز پارٹی والے بھی ایسے ہی واقعات کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر سیاسی رنگ دے کر سڑکوں پر نکل آئے تو کیا ہوگا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمشن نے اخبارات میں اشتہار دیے کہ اگر کسی کے پاس بھی اس معاملے کے بارے میں کوئی معلومات ہے تو آ کر بیان کریں مگر وہ تمام لوگ جو دعوے سے کہتے ہیں کہ زنا بالجبر کا یہ واقعہ رونما ہوا ہے اور ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں انہوں نے کمشن کے سامنے آ کر بیان دینے کی ضرورت بھی نہیں محسوس کی۔

یہاں کمشن کی رپورٹ کے حوالے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کمشن قائم کرتے وقت وزیر اعظم نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ خبریں جھوٹی ثابت ہوئیں تو ان کے خالقوں کے خلاف بھی قانونی کاروائی کی جائے گی۔ کمشن کی طرف سے یہ رپورٹ پیش کرنے کے بعد کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں کیا اب ان تمام اخبارات اور سیاستدانوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی جنہوں نے یہ سارا عرصہ خبریں چھاپیں اور بیانات جاری کیے؟ اور کیا کمشن کی رپورٹ شائع کی جائے گی؟ خاص طور سے کیا لڑکی نے اپنے زخموں کے بارے میں وہی بیان دیا جو اس نے میڈیا کو دیا تھا؟ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن سردار سیاب خالد نے آئی جی سے کیوں جھگڑا کیا؟ اور رکن اسمبلی ماجد خان کیا وہی ہیں جن کا نام مبینہ ریپ کرنے والوں میں شامل تھا؟ اور کیا ان ہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چوہدری عبدالمجید کو والد قرار دیتے تھے؟ اور کیا محمد حسین سرگالہ کے ساتھ چوہدری عبدالمجید کے خلاف قرارداد پیش کرنے والے یہی عبدالماجد خان تھے؟ کیوں؟ خفیہ ادارے پرل کانٹی نینٹل سے جو ٹیپیں لے کر گئے تھے ان میں کیا تھا؟

نام میں کیا رکھا ہے؟

ملکوں کے نام جو ہیں وہ کیسے پڑے---

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے نا کہ لفظ کشمیر کی اصلیت وادی کشمیر میں ملتی ہے۔ روایات کے مطابق قدیم زمانے (ہزاروں سال قبل) میں وادی کشمیر ایک بہت بڑی جھیل تھی یا ابھی پانی میں تھی تو اس میں ایک پانی کا دیو تھا جو ارد گرد کے پہاڑوں پر بسنے والی آبادی کو تنگ کرتا تھا۔ انہوں نے دیوتا سے دعا مانگی تو جھیل کی ایک طرف سے زمین کھل گئی اور پانی بہہ نکلا۔ روایت کے مطابق پھر دیو کو کشپ دیوتا یا اس کے چیلے نے مار مکایا اور پانی سے نکلنے والی زمین کو کشپ مرگ کہا جانے لگا جو بتدریج کاشمر اور پھر کشمیر بن گیا۔ حالانکہ مقامی طور پر وادی کا قدیم نام کشیر پکارا جاتا ہے۔ اور اب ایک نئی روایت بھی سامنے آرہی ہے کہ کشمیر درحقیقت مشرق وسطیٰ سے آنے والے کسی کاش قبیلے نے آباد کیا تھا اور اس کا نام کاش میر رکھا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ کاشو اور میر یعنی پہاڑوں اور ندیوں کی سرزمین ہونے کی وجہ سے اس کو کاشمیر کہا گیا اور اب کشمیر کہلاتا ہے۔

بہر حال جو بھی ہو جب باہر سے سیاح آئے تو انہوں نے وادی اور گردونواح کے علاقوں کے لیے جو کہ وادی کے راج میں تھے سب کو اپنی اپنی زبانوں میں کشمیر پکارا۔۔۔ اور بتدریج کشمیر نہ صرف وادی بلکہ گردوپیش کے علاقوں کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ حتیٰ کہ اٹھارہ سو چھیالیس میں جب وادی پنجابی سکھ قبضے سے تعاون جنگ کے طور پر حاصل کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی نے معاہدہ امرتسر کے ذریعے پچھتر لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کی عمل داری میں دے دی دلچسپ بات یہ ہے کہ راجہ گلاب سنگھ جو لداخ اور بلتستان پر پہلے ہی قبضہ کر چکا تھا اور گلگت بھی جلد ہی فتح کر لیا نے ریاست کا سرکاری نام جموں، کشمیر، تبت ہا اور اقصائی چن رکھا لیکن عام طور پر پوری ریاست کے لیے اگر کوئی ایک نام استعمال کیا تو وہ کشمیر تھا نہ کہ اس کی اپنی جنم بھومی جموں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کو جموں سے نفرت تھی بلکہ اس لیے کہ صرف کشمیر ہی ارتقاء کی شاہراہ پر چل کر پڑوسی علاقوں کی شناخت بنا ہوا تھا۔

جموں، وادی کاشر، لداخ، گلگت و بلتستان (بلور) کے لیے مشترکہ نام کشمیر کے خلاف ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ یہ صرف ایک علاقے کا نام ہے لہذا ریاست کا یہی نام کیسے ہوسکتا ہے۔ کیا یہ مسئلہ صرف ہماری ریاست کو درپیش ہے یا دوسرے ممالک بھی اس سے گزرے اور کیسے گزرے؟ اس سوال کو لے کر میں نے مختلف ممالک کے ناموں کے پس منظر پر معمولی سے تحقیق یا کھوج کی تو کافی دلچسپ معلومات سامنے آئیں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے کینیڈا کی بات کرتے ہیں جہاں بہت سے کشمیری آباد ہیں اور بہت سختی کے ساتھ کہتے ہیں کشمیر کا نام پوری ریاست کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ لیکن شاید انہوں نے خود کینیڈا کی تاریخ ابھی تک پڑھی نہیں ہے۔

آج کینیڈا کو کسی اور نام سے پکارنے کا تصور بھی ناممکن لگتا ہے لیکن ۱۸۶۷ میں اس ملک کا نام کینیڈا رکھے جانے سے قبل اور بھی تجاویز پیش ہوئی تھیں۔

کینیڈا نام کی اصلیت کے بارے میں دوحوالے ملتے ہیں:

ایک یہ کہ یہ اس کی اصلیت ”کنیٹا“ ہے جس کا مطلب ”آبادی“ یا ”بستی“ ہے۔ روایت کے ۱۵۳۵ میں دو مقامی باشندوں نے ایک فرانسیسی سیاح جیکوز کارٹئیر کو ایک کنیٹا کا راستہ بتایا۔ جس گاؤں کا انہوں نے راستہ بتایا اس کا نام ’سٹاڈاکونا‘ تھا جہاں اب کیوبک کا شہر آباد ہے۔ کوئی اور نام معلوم نہ ہونے کے باعث کارٹئیر نے نہ صرف اس گاؤں بلکہ اردگرد کے گاؤں جہاں اس کے چیف (سرپنچ / چوہدری / راجہ / سردار) کی حکومت تھی ان سب کو کینیڈا کے نام سے بیان کیا۔

کینیڈا کا نام بتدریج وسعت اختیار کرتا گیا۔ پہلی بار سرکاری طور پر کینیڈا کا نام ۱۷۹۱ء میں استعمال ہوا جب کیوبک کے صوبے کو اوپر اور نیچے والی نو آبادیاں قرار دیا گیا۔ ۱۸۴۱ میں دونوں کو ملا کر صوبہ کنیڈا قرار دیا گیا۔

دوسرے حوالے کے مطابق انیسویں صدی کے وسط میں جب شمالی امریکہ کے آدھے حصے پر مشتمل کنفیڈریشن کی تجویز پیش ہوئی تو اس کے لیے بارہ مختلف نام تجویز کیے گئے۔ البرٹز لینڈ، کبوشیا، کلونیا، ٹرانس آتلانتیا، وکٹوریہ لینڈ وغیرہ۔ بعد ازاں جب ناموں پر بحث کی گئی تو تھامس ڈارسی ملگی نے ۹ فروری ۱۸۶۵ میں لکھا:

میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ کوئی بارہ نام تجویز کیے گئے ہیں۔ نئی قوم کے لیے ایک شخص ٹوپونیا اور دوسرا کہتا ہے کہ ہو چلا گا نام موزوں رہے گا۔ اب میں اس ہاؤس کے معزز ارکان سے پوچھتا ہوں کہ اگر رات کو وہ کنیڈین سوئیں اور صبح جاگیں تو ٹوپونین یا ہو چلگیڈر بن چکے ہوں تو کیسا محسوس کریں گے۔

یوں یکم جولائی ۱۸۶۷ کو کنیڈا، نو اسکوشیا اور نیو برونز ویک کے صوبوں پر مشتمل ریاست کے لیے کنیڈا کا مشترکہ نام چن لیا گیا۔

مہاجرین، باشندہ ریاست اور رائے شماری

غیر ریاستی باشندوں کو ریاست میں بسانے کی بھر پور مذمت کی ہے، آزاد کشمیر کے صدر مسعود صاحب نے۔ کرنی بھی چاہیے۔ ہر ایک ریاستی باشندے کو مذمت کرنی چاہیے۔ اور کرتے بھی ہیں۔ اُس پار اور اس پار اور وطن سے باہر سینکڑوں کشمیری باشندوں نے مذمت کی ہے اور کیے جا رہے ہیں۔ حریت والے۔ نیشنل کانفرنس والے ، کمیونسٹ اور انجینئر رشید نے تو باقاعدہ دھرنا دیا ہوا ہے۔ میں بھی مذمت کرتا ہوں ۔ اس دن سے کرتا ہوں جس دن سے پڑھا اور سُنا کہ پاکستان و بھارت کی آزادی کے وقت مذہبی فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مغربی پاکستان سے بھاگ کر ریاست کشمیر کے صوبے جموں میں بسنے والے مہاجرین کو مستقل ریاستی باشندے بنایا جا رہا ہے۔ خود برطانیہ میں ایک مہاجر کی حیثیت سے آ کر بسنے اور پھر مستقل باشندہ بننے کے عمل سے گذرنے کے بعد ظاہر ہے یہ سوال تو ذہن میں آنا ہی تھا کہ جس ریاست سے مہاجر ہو کر میرے والدین اور میں برطانیہ آئے اور یہاں مستقل رہائش کے حقوق حاصل کیے وہی حقوق مغربی پاکستان کہ ان باشندوں کو اس ریاست میں کیوں نہ ملیں؟ لیکن جھٹ سے جواب بھی آگیا کہ ریاست جموں کشمیر برطانیہ، بھارت یا پاکستان کی طرح آزاد و خودمختار ریاست نہیں بلکہ متنازعہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے اور امید ہے کہ فیصلہ آخر کار لوگ ہی کریں گے۔ اس لیے غیر ریاستی باشندوں کی مستقل آباد کاری سے رائے شماری پر اثر پڑے گا۔ مہاجرین کی مستقل آباد کاری کے مخالفین کا خیال ہے کہ یہ اثر بھارت کے حق میں اور کشمیر و پاکستان کی مخالفت میں ہوگا۔ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ نہیں ہونی چاہیے۔ حریت والوں کی طرف سے یہ وضاحت پڑھ کر خوشی ہوئی کہ وہ ان مہاجرین کی مستقل آبادکاری اور ان کو تمام انسانی حقوق کی فراہمی کے ہرگز خلاف نہیں ہیں۔ صرف یہ کہتے ہیں بھارت بہت بڑا ملک ہے اور اس کی 30 ریاستیں ہیں جہاں ان کو مکمل طور پر آباد کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کشمیر کی حیثیت چونکہ متنازعہ ہے اور اس کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے اس لیے ان کو یہاں مستقل طور پر آباد نہ کریں۔

اس مسئلے کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں تھا جب میں نے فیس بک پر جموں یونیورسٹی کی ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر ریکھا چوہدری کی ایک پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کہ درحقیقت ان مہاجرین کو مستقل رہائش نامے نہیں صرف رہائش نامے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ شیڈول کاسٹ کے تحت بھارتی سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو سکیں۔ ڈاکٹر ریکھا کا ماننا ہے کہ ان رہائش ناموں کی بنیاد پر وہ کبھی بھی مستقل رہائش نامے یعنی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یعنی رائے شماری میں ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

سوچنے کی بیماری کی وجہ سے میرے دماغ میں یہ سوال بن بلائے گھس آیا کہ دو ملین کے قریب کشمیری باشندے جو دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں، خاص طور سے ان ممالک میں جہاں ان کو مستقل ’’رہائش ناموں‘‘ کا حق حاصل ہے جہاں ان کو پاکستانی تسلیم کیا جاتا ہے اور پاکستان نے ان کے پاکستانی پاسپورٹوں اور شناختی کارڈوں پر سے ’’باشندہ سابق ریاست جموں کشمیر‘‘ کی عبارتیں مٹادی ہیں اور ان کے تمام کاغذات پر مقام پیدائش پاکستان لکھا ہے۔ ان میں سے جن کے پاس باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ نہیں وہ کل جب رائے شماری ہو گی تو کیسے ثابت کریں گے کہ وہ ریاستی باشندے ہیں اور ووٹ دینے کے حقدار ہیں؟

اور پھر سوچ گلگت بلتستان کی طرف چلی گئی کہ جہاں باشندہ ریاست 1971 سے معطل ہے۔ وہاں تب سے اب تک ریاستی اور غیر ریاستی آبادی کے توازن میں کیا کچھ تبدیلیاں رونما ہو چکی ہوں گی، کیا کسی کو معلوم ہے؟ اور پھر میرا دھیان مظفر آباد اور میر پور میں کچھ ظاہر اور کچھ خفیہ آبادکاریوں کی طرف بھی گیا جو آبادی کے توازن کو ہی نہیں آبادکاری کے توازن کو بھی بدل رہے ہیں۔ حریت والوں کی طرف سے گلگت بلتستان اور ’’آزاد‘‘ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی پاکستانی کوششوں پر خاموشی قابل فہم ہے کیونکہ یہ فریضہ ان خطوں کے مقامی رہنماوں اور صحافیوں اور لکھاریوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ان خطوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں۔ لیکن یہاں کے رہنما جو آئے دن بھارتی مقبوضہ علاقے میں بھارتی کی طرف سے کسی قسم کی زیادتی اور نا انصافی پر تو بجاطور پر‘‘ابلاغی آہ ہا کار‘‘ مچاتے ہیں لیکن وہ خطہ جس کے حقوق آزادی اور انصاف کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے وہاں باشندہ ریاست کی کھلی خلاف ورزیوں اور بدعنوانیوں پر نہ صرف یہ کہ ان کی زبانیں کنگ رہتی ہیں بلکہ اکثر تو اس کو جوازیت بخشنے کے لیے کہاں کہاں سے کوڑیاں ڈھونڈ کے لانے کو ہی جدوجہد آزادی سمجھتے ہیں۔ ریاست کشمیر کے تمام حصوں میں جو اپنی اس طویل متنازعہ حیثیت سے آزادی چاہتے ہیں اور اپنے اپنے خطے میں باوقار شناخت اور حقوق چاہتے ہیں انہیں کسی ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ تمام خطوں میں حقوق کی پامالی پر احتجاج کرنا ہو گا۔ چاہے یہ پامالی بھارت سرکار کرے یا پاکستان سرکار۔ تب جا کر ہم سب کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے ورنہ باہر والے ہمارے اندرونی اختلافات کو استعمال کر کے ہمارے حقوق کی پامالی اور وسائل کا استحصال جاری رکھیں گے۔ ریاست کے وہ لیڈر جن کو صرف تقسیم کی لکیر کے دوسری جانب دوسرے قابض کی نا انصافیاں اور زیادتیاں ہی نظر آتی ہیں اور خود اپنی ناک کے نیچے نظر نہیں آتا وہ اور سب کچھ ہوں تو ہوں مگر ریاست کے باشندوں کے حقوق اور آزادیوں کے محافظ کس بنیاد پر مان لیے جائیں؟

ہو رہی ہیں قیاس آرائیاں کیا کیا

گزشتہ ہفتے اخبارات کی ”سکرین گردانی“ کے دوران دو دلچسپ سیاسی قیاس آرائیاں نظر سے گزریں۔ ایک یہ کہ کشمیر میں بھارت کے بھیجے ہوئے انٹرلوکیوٹرز یعنی مذاکراتی ٹیم نے اپنے دورے کی جو رپورٹ بھارت سرکار کو پیش کرنی ہے اُس میں سفارش کی گئی ہے کہ ریاست کو ۱۹۵۳ سے پہلے والی حیثیت واپس کی جائے تو یہاں امن و امان قائم ہو سکتا ہے اور بھارتی سرکار عالمی سطح پر اپنی فروغ پذیر اہمیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یعنی کشمیر میں بدامنی سے آزاد ہو سکتی ہے۔ قیاس آرائی یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس رپورٹ میں منقسم کشمیر کے باشندوں کو تقسیم کی لکیر کے آر پار آنے جانے اور تجارت کرنے کی بھی آزادی ہونی چاہیے۔ تاہم تقسیم کی لکیر کے اس پار ”آزاد کشمیر“ سے جو قیاس آرائی بغیر کسی ویزے کے یہاں برطانیہ پہنچی ہے اس کے مطابق اندر خانے پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات میں نے ایک اندر کے بندے سے جو کہ ہے تو بھلا سا مگر جانے کیوں اس کو بھولا کہتے ہیں سے پوچھی تو اس نے میرے کان میں اپنا نام نہ بتانے کا وعدہ لے کر بتایا (وہ پہلا بندہ ہے جس نے کمیشن مانگے بغیر کچھ کہہ دیا) کہ آپ سمجھتے ہو بیرسٹر سلطان کو چوہدری مجید اور چوہدری یاسین صاحب نے نکرے لگا دیا؟ یہی سمجھتے ہونا؟ اُس نے ایسے کہا جیسے میرے دماغ کے اندر سے گھوم پھر آیا ہو۔ حالانکہ میں ایسا بالکل نہیں سمجھتا۔ بلکہ میں تو سیاست کی یہ شکل بالکل بھی نہیں سمجھتا۔ مگر وہ کب میری سُنتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ انتہائی ذاتی قسم کا راز اُس کے دل میں (ہونا تو دماغ میں چاہیے) پھول پھول کر پھٹنے کے قریب پہنچ چکا تھا، مگر اس نے کسی کو بتایا نہیں۔ کیونکہ اس کو بڑی مشکل سے اعتبار آتا ہے۔ اب جب اس کو مجھ پر اعتبار آ گیا تو سرگوشی میں بتانے بلکہ پوچھنے لگا:

”آپ کو اصلی بات کا نہیں پتہ ناں کہ بیرسٹر وزیر اعظم کیوں نہیں بنا؟“

میں نے کہا محترم سُنا تو بہت کچھ ہے مگر اصلی بات کا پتہ نہیں۔ آپ ہی کچھ بتا دیں تاکہ پتہ چلے۔ مگر وہ تو شاید تجسس کے گھوڑے پر سوار تھا، حالانکہ اتنی رات گئے تو اُسے جلدی جلدی بتا کر گھر پہنچنے کی جلدی ہونی چاہیے تھی۔ میں نے یاد بھی دلایا کہ آپ کو گھر جانا ہے تو بولا کون سا گھر میں تو بے گھر ہوں ۔ میں نے کہا میں بھی۔ میرا بھی کوئی اپنا گھر نہیں۔۔۔۔ لیکن اس نے شاید وہ انڈین گانا نہیں سُنا تھا اس لیے کچھ نہ سمجھا ۔ اور گویا ہوا۔۔۔ ( آپ نے بھی نہیں سُنا ہوا؟ تو پھر بھلے سے بھولے کی بات سُنیے )

”اچھا تو بتاؤ کیا سُنا ہے تم نے کہ بیرسٹر کیوں وزیر اعظم نہیں بنا؟“ وہ اپنے سوال پر قائم تھا،

میرا جی چاہا کہ اس کو بانہوں سے پکڑ کر باہر نکال کر اندر سے کنڈے لگا لوں ۔ مگر یہ میرے اختیار میں نہیں تھا، لہذا ہاتھوں کی بجائے دماغ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور جواب دینے کی کوشش کی کہ

”سُنا ہے کہ زرداری صاحب نے ان کو دو سال بعد بنانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ دونوں بندے خوش رہیں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ رقم پوری نہیں کر سکے“۔

اُس نے مجھے یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو تمھارے ساتھ میں اس سیاست کی بات کرتا ہی کیوں ہوں ۔ مگر بھولا جو بولا وہ کچھ اور تھا۔ وہ بولا

”نہیں یار ایسا نہیں ہے بلکہ بیرسٹر صاحب انکاری ہو گئے تھے“۔

کیا؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے کہا ۔ ریسٹورنٹ کے اندر ایک دو انگریز گاہکوں نے ہماری طرف یوں دیکھا جیسے یقین کر رہے ہوں کہ ہم میں سے کوئی پھٹنے والا تو نہیں۔ اطمینان کے بعد وہ مشغول ہو گئے اور میں نے بات صاف کرنے کے لیے پوچھا :

”تمھارا مطلب ہے بیرسٹر صاحب کو وزیر اعظم بننے کی پیش کش ہوئی اور اُنہوں نے انکار کر دیا؟“ ’’ہاں تو اور کیا۔ ہمارے بیرسٹر صاحب بڑے سیانے بندے ہیں اور بڑی دور کی سوچتے ہیں۔ تمھیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ سردار سکندر اور نون لیگ کیوں ہاری ہے؟‘‘

میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ گفتگو کو کہاں لے کر جا رہا ہے۔ مُجھے یقین تھا کہ وہ کوئی اہم راز واقعی جانتا ہے اور مُجھے بتانا بھی چاہتا ہے اس لیے میں نے بھی ذرا سنسنی خیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا مُجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ پیپلز پارٹی جیتی کیسے ہے اور تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ نون لیگ کیسے ہاری ہے؟ ایک پل کے لیے اس کے چہرے پر کنفیوژن کے تاثرات اُبھرے مگر پھر فوری طور پر وہی سسپنس اُبھر آیا۔

’’یہی تو راز ہے‘‘ وہ بولا اور میں اُس کا گریبان پکڑتے پکڑتے رہ گیا۔ گلاس کو ہاتھ میں پکڑ کر پوچھا بھائی بھولے میں بھولا بلکہ میں بھولا۔۔۔۔ بس اب جلدی سے وہ راز کی بات بتادے ورنہ مانچسٹر کے انگریزی اخبار میں خبر لگ جائے گی۔ میرے خیال میں وہ میری بات میں پنہاں دھمکی کی سنگینی کو سمجھ نہ سکا۔ کہنے لگا بیرسٹر سلطان، فاروق حیدر اور سردار سکندر ایک ہیں لیکن گئے پھنس ہیں کربگے میں۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا مگر جب ویٹر سے آنکھیں چار ہوئیں جو غالباً ہمارے اُٹھنے اور اس سے پہلے بل ادا کرنے کے انتظار میں تھا میں نے آنکھیں واپس موڑ لیں اور عین اس وقت وہ بولا :’’ زرداری صاحب بیرسٹر کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے مگر اس شرط پر کہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر کے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے میں اُن کا غیر مشروط ساتھ دیں گے۔ تو بیرسٹر صاحب انکاری ہو گئے‘‘

میری ہنسی چھوٹ گئی۔ بھولا تو واقع بھولا ہے۔ تو یہ کہہ رہا ہے کہ بیرسٹر نے اس بات پر وزارتِ عظمیٰ ٹھکرادی؟

’’ہاں میں کہہ رہا ہوں اور پکی بات کہہ رہا ہوں۔ اور یہ بھی لکھ لو کیونکہ مُجھے پتہ ہے تم مجھ سے روٹی کھا کر اپنا کالم لکھو گئے۔ جب صوبے کی بات آگے بڑھے گی تو یہاں وہ کچھ ہوگا جو ستاسی میں وہاں ہوا تھا۔ مُجھے صرف ایک بات کا ڈر ہے۔ مگر کہوں گا تو تُم بُرا مان جاؤ گے۔‘‘ بھولا یکدم ایسا سنجیدہ نظر آنے لگا جیسے وہ نہیں یہ ساری دُنیا بھولی ہے یا کم از کم میں ضرور بھولا ہوں۔ میں نے پوچھا ایسی کیا بات ہے جس کا میں بُرا مان سکتا ہوں؟

”وہ یہ کہ جس طرح ستاسی میں اُدھر تم خودمختار یوں نے اُدھار کے پٹاخوں سے اپنا گھر پھونکا اسی طرح اب ادھر اپنا ذاتی غُصہ گھر کے اس حصے میں نکالنے پر آمادہ نہ ہو جاؤ۔ بس اس بات کا ڈر ہے۔ ورنہ سکندر، سلطان و فاروق ہی نہیں عتیق و خالد اور تو اور مجید و یاسین بھی اپنے اس گھر کے بچے ہیں۔ مگر حالات نے اُن کو سکھایا ہے کہ یہاں سب دوسروں کو آگے کر کے خود سودا بازیاں کرتے ہیں تو اُنہوں نے پھر لمبے سودے کرنے شروع کر دیے۔“

تُم یہ کہنا چاہتے ہو کہ خودمختار یے کچھ بھی نہ کریں اور تمھارے الحاق والے آزاد کشمیر کو صوبہ نہیں بننے دیں گے؟

اب بھولے کی ہنسی چھوٹ گئی۔ مُجھے یوں دیکھنے لگا جیسے ماں بچے کو دیکھتی ہے۔ پھر بولا:
”کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ خودمختاری والے کچھ کر بھی سکتے ہیں؟ میرا مطلب ہے دعوؤں کے علاوہ؟“

کیا مطلب ہے تمھارا؟ خودمختاری والوں نے ہی تو کشمیر کا تشخص بچا کر رکھا ہے۔ وہی تو آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ اُس نے میری بات کاٹ دی۔

”بس بس یار۔۔۔ مُجھے پتہ ہے تُم یونیورسٹی میں گئے تھے اور وہاں جا کے کچھ کچھ بندے تمھاری طرح لفظوں سے کھیلنا خوب سیکھ جاتے ہیں۔ مگر جہاں چار اکٹھے ہو جائیں وہاں چار نہیں تو دو گروپ ضرور بن جاتے ہیں اور ہر ایک گروپ خود کو ماس پارٹی کہتا ہے۔ دیکھ اس پر ہماری پہلے بھی بات ہوئی تھی کہ آزاد کشمیر میں اس وقت خودمختاری والے کم از کم نصف آبادی کے برابر ہیں۔ ہیں نا؟ (مُجھے پہلی بار لگا کہ بھولا اندر سے خودمختار یہ ہے) مگر ان کی جماعتیں کتنی ہیں؟ اور ایمانداری سے بتانا ان کی اصلی لڑائی کس کے ساتھ ہے؟ (بیرونی قابضوں کے خلاف۔ میں نے کہا مگر بھولا بولے گیا) ایک دوسرے کے ساتھ۔ تمھیں پتہ ہے ہر انتخابات کا یہ بائیکاٹ کرتے ہیں مگر ان کے کارکن ۔۔۔۔خیر چھوڑ اس بات کو۔ یہ بتا کیا کوئی ایسا ایک بھی مسئلہ جس پر یہ اکٹھے بیٹھ سکتے ہوں؟ یہ سب بچے ہیں۔ پیارے پیارے، جذباتی لاڈلے مگر بگڑے ہوئے بچے جن کو گڑگے استعمال کرتے ہیں۔ (گڑگے؟ میں بس سوچ کر ہی رہ گیا) اب دیکھ لو۔ تم صوبے کی فکر میں کھائے جارہے ہو( سالا کہتا ہے میں لفظوں سے کھیلتا ہوں) مگر کہاں ہیں تمھارے خود مختاریے؟ کچھ کو یہ پڑی ہے کہ وادی میں آگ کیوں ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ کچھ ادھر اُدھر والوں کے اکٹھے ہونے پر نالاں ہیں کہ یہ پرانے ملازم نئی تنخواہ پر آرہے ہیں۔ اور جوابی حملہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ تو اپنا نظریہ بیلٹ باکس میں ڈال آئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ انقلاب آئے گا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ انتظار میں رہتے ہیں کہ برطانیہ سے نظریاتی لفافے آئیں گے۔ اور برطانیہ میں وہ کون کون ہے جو کہتا ہے فلاں کو بلاؤ گے تو میں میٹنگ میں نہیں آؤں گا؟ میٹنگ نہ ہوئی روٹھے ہوئے خاندان کا ”بیاہ“ ہوا نا؟ تم کہتے ہو یہ اکٹھے ہو کر مزاحمت کریں گے؟ بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ یہ صوبے کے مسئلے پر ایک مشترکہ اجلاس بھی بلا لیں اور اُس میں ایک دوسرے سے لڑے بغیر اس کو ”تور“ چڑھا دیں تو مان جاؤں۔ مزاحمت تو دور کی بات ہے۔

(مجھے بُرا تو لگا مگر میں چُپ رہا۔ کچھ نہ کہا)

آزاد کشمیر کو بچائیں گے تو وہی جنہوں نے اس کو بنانے اور اس کو پروان چڑھانے میں بہت کچھ کمایا ہے اور کما رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایک بار یہ صوبہ بن گیا تو پھر اس کو ضلعوں میں بٹ کر دوسرے صوبوں میں ضم ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔“

بھولے تُو تو بڑا تقریر یا ہوتا جا رہا ہے اوئے۔ میں نے سراہتے ہوئے کہا تو وہ قدرے اترا کر بولا:

”دیکھ میرا نام والد صاحب قبلہ نے آج سے باون سال پہلے بلاول رکھا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا نام بھٹو نہیں تھا۔ والد صاحب سماج کی خدمت کرتے کرتے گھر کو بھول گئے اور میں بلاول سے بھولا بنتا گیا۔ورنہ۔۔۔۔“

میرے دماغ میں عجیب سی سوچیں چل رہی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔ کیونکہ بھولے کی باتیں مُجھے اسی طرح خواہشیں محسوس ہورہی تھیں جس طرح میری اپنی۔۔۔ مگر ہم دونوں تو انگلینڈ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم دونوں میں سے کسی کو بھی اصل بات کا تو پتہ نہیں ہوسکتا ہے نا؟
اصل بات کسی کو پتہ ہے کیا؟

بھولا بل دے کر آیا اور کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ تیرے ساتھ کھانا مہنگا پڑتا ہے مگر مزا بہت آتا ہے۔

کشمیری شہریت اور لارڈ نذیر احمد

غالباً تئیس نومبر کو دن بھر پاکستان کے نجی ٹی وی چینل پر یہ خبر چلتی رہی کہ حکومتِ آزاد کشمیر برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے کشمیری نژاد رُکن لارڈ نذیر آف رادھرم کی کشمیری شہریت منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ شام کو ایک محفل میں دوستوں سے پتہ چلا کہ وجوہات میں لارڈ نذیر کی طرف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما، پاکستان کی اسمبلی کے رُکن اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار احمد کی میزبانی اور برطانیہ میں اُن کے جلسوں کا انتظام اور اُن میں شرکت اور پاکستان میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سینیئر رہنما عمران فاروق کے لندن میں قتل سے متعلق ثبوت پاکستان سے لانے اور برطانیہ کے تفتیشی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ کو پیش کرنے میں معاونت شامل ہیں۔

پہلا سوال تو میرے ذہن میں یہ آیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر لارڈ نذیر کی کشمیری شہریت منسوخ کرنے کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ اگر واقعی ڈاکٹر ذوالفقار کی طرف سے عمران فاروق مرحوم کے قتل سے متعلق کوئی ثبوت سکاٹ لینڈ یارڈ کو پیش کرنا اور ڈاکٹر ذوالفقار کے لیے برطانوی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹیوں کے جلسے منعقد کر کے پاکستان کی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں پر تنقید کرنا پاکستان دشمنی ہے تو پاکستانی حکومت نے ڈاکٹر ذوالفقار کو شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی کیوں نہیں دی؟ یا پھر لارڈ نذیر کی پاکستانی شہریت منسوخ کرنے پر غور کیوں نہیں کیا کیونکہ کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام حصے سے بیرونِ وطن جا کر بسنے والے لاکھوں کشمیری پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر بہت سے پاکستانی سرکاری موقف کے حمایتی کشمیری برطانیہ میں ہم کشمیری شناخت تسلیم کروانے کے حامیوں کی مخالفت میں دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے اور پاکستانی شہریت ہونے کے باعث کشمیری پاکستانی بن چکے ہیں۔ تاہم جب اُن سے سوال کیا جائے کہ اس منطق سے بھارتی پاسپورٹ پر بھارتی زیرانتظام علاقے سے باہر آکر بسنے والے بھارتی ہو گئے نا؟ پھر یہ کشمیر کشمیر کیا ہوتا ہے؟ تو وہ ایک دم مذہبی اور پاکستانی لبادہ اوڑھ کر کہتے ہیں یہ بھارت نوازی اور اسلام دشمنی ہے۔ درحقیقت برطانیہ میں کشمیری شناخت پر لارڈ نذیر صاحب کا موقف بھی یہ رہا ہے کہ مقامی اداروں کی حد تک اس کو تسلیم کروانا تو ٹھیک ہے مگر برطانیہ کی سطح پر پاکستانی شناخت اپنانا ہمارے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اب جبکہ لارڈ صاحب کی کشمیری شہریت کو ختم کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور ان کو آزاد کشمیر کی مُنتخب اسمبلی نے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے تو یہ کسی بھی طرح سے درست، مناسب اور معقول نہیں ہے۔ تاہم مذکورہ تناظر میں مجھے ایک تاریخی کردار مُلا نصیر الدین سے منسوب وہ واقعہ یاد آ گیا جو ہم بچپن میں سُنا کرتے تھے جب مُلا گھر کے باہر شور سُن کر کمبل اوڑھ کر نکلے تو لڑنے والے مُلا کا کمبل چھین کر بھاگ گئے۔ واپس آنے پر جب بیوی نے پوچھا کہ باہر کیا جھگڑا تھا تو مُلا معصومیت سے بولے ”جھگڑا میرے کمبل کا تھا۔

بعد کی اخباری رپورٹوں اور ذاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پہلے پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر پاکستانی میڈیا کو یہ خبر دی کہ آزاد کشمیر حکومت لارڈ احمد کی کشمیری شہریت منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم بعد میں آزاد کشمیر کابینہ اجلاس بلایا گیا تو قانونی ماہرین نے سیاست کاروں کو بتایا کہ کابینہ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے لارڈ نذیر کا ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے پر اکتفا کیا گیا۔ ایک اخباری خبر کے مطابق اس کہانی کا آغاز اسلام آباد کی طرف سے مظفر آباد کو جاری کیے جانے والے اس فرمان سے ہوا۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے کچھ ارکان کے حوالے سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ جب کابینہ نے وزیر اعظم کشمیر چوہدری عبدالمجید سے کہا کہ لارڈ صاحب کے خلاف کوئی قرارداد پیش کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ اُن کا کام ہے اور نام ہے تو وزیر اعظم صاحب نے کہا کہ بھائی مجبوری ہے کیونکہ حکم اوپر سے آیا ہے اور بڑے صاحب کو ناراض نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے لارڈ نذیر احمد صاحب کو چوہدری مجید صاحب کی پوزیشن اور مجبوری کا خیال کرتے ہوئے اس کو ان کے خلاف لڑائی نہیں بنانی چاہیے بلکہ سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی اور کہیں اور سے چھپ چھپ کر ڈوریں کھینچ رہا ہے۔ اور کشمیری شہریت کے حوالے سے اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اللہ کرے یہ کمبل والا معاملہ نہ ہو اور جہاں تک کشمیری تشخص کا سوال ہے میرے خیال میں دنیا بھر اور کشمیر کے اندر کشمیریوں کو تحریک چلا کر مطالبہ کرنا چاہیے کہ باشندہ ریاست کو شناختی کارڈ کی شکل میں جاری کیا جائے۔ تاکہ کسی اور بات پر جھگڑے والے ہمارا کمبل لے کر ہی نہ چلے جائیں۔

”آزاد“ کشمیر کی سیاست میں بکرے کی واپسی

گذشتہ دنوں آزاد کشمیر کے ایک ضلع بھمبر میں مسلم لیگ نون کے کارکنان کے کنونشن میں کشمیر سے متعلقہ امور کے پاکستانی وزیر چوہدری محمد برجیس طاہر صاحب نے اپنی تقریر میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے بارے کہا کہ وہ ایک پہاڑی بکرا ہے جس کو ذبح ہونے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ الیکشن میں چوہدری مجید کو ہرا دیا جائے گا۔ پاکستانی وزیروں کی طرف سے آزاد کشمیری سیاستدانوں کو ہرانے اور ہٹانے کی دھمکیاں اور عملی اظہار کوئی ایسی نئی بات نہیں۔ تاہم آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بکرا کہنا اور پھر اسے ذبح ہونے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دینا نئی بات ہے۔

ہمارے کلچر میں بندے کو بکرے سے تشبیہ دینے کی روایت میری معلومات کے مطابق ایک لوک کہانی میں ملتی ہے۔ اس کہانی کے مطابق بکر والوں کے ایک کنبے نے کسی گاوں کے نزدیک پڑاو ڈالا تو کنبے کے ایک بزرگ جمعے کی نماز پڑھنے گاوں کی مسجد میں گئے اور وہاں مولوی صاحب کے واعظ سے خاصے متاثر ہوئے۔ جب کسی نے پوچھا کہ مولوی صاحب کی کون سی ادا آپ کو اچھی لگی ہے تو معصومیت سے بولے کے جب مولوی واعظ کر رہے تو اس کی داڑھی یوں ہلو ہے جیسے میرے بوچو بکرو کی ہلو ہے۔ اس لوک کہانی میں بکر وال قبیلے کی ہتک مقصود نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر مولوی اور اب سیاسی لیڈروں کی تقریریں جب سنتے ہیں تو ان کے مندرجات نہیں بلکہ انداز پر توجہ دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر پسند نا پسند کرتے ہیں۔ اور جس معصومیت سے بکروال بزرگ نے مولوی صاحب کے انداز کو سراہنے کے لیے اپنے بکرے کی مثال دی وہ بھی کوئی نہیں بات نہیں بلکہ اس حوالے سے ایک قدیم تاریخی حکایت بھی سینہ بسینہ سننے کو ملتی ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ کا کسی جنگل سے گذر ہوا تو وہاں درختوں کی گھنی اور ٹھنڈی چھاوں میں آرام کرنے کے لیے ایک گڈریے کے پاس بیٹھ گئے۔ لیکن پیغمبر خدا ہونے کے ناطے ظاہر ہے وہ کبھی بھی تبلیغ سے غافل نہیں رہتے تھے لہٰذا باتوں باتوں میں گڈریے سے پوچھا کہ تمھیں معلوم ہے کہ یہ خوبصورت گھنے درخت، یہ ٹھنڈی ہوا اور یہ رم جھم کرتے ٹھنڈے میٹھے چشمے یہ چہکتے پرندے، تمھاری یہ بھیڑ بکریاں اور خود تمھیں کس نے تخلیق کیا ہے۔ گڈریے جس کا باہر کی دنیا سے شاید کوئی رشتہ ورابطہ نہیں تھا نے جواب دیا کہ نہیں مجھے نہیں معلوم۔ حضرت موسیٰ نے اس کو بتایا کہ یہ سب کچھ خدا نے بنایا ہے۔

گڈریا بے حد خوش ہوا اور بولا اگر خدا میرے پاس آئے تو میں اس کی جوئیں نکالوں گا۔ حضرت موسیٰ نے قدرے خفا ہوتے ہوئے کہا خدا کے بارے میں ایسا نہیں کہتے۔ اسی وقت خدا کی طرف سے پیغام آیا موسیٰ اس پر خفا نہ ہو اس کے لفظوں پر نہ جاوان لفظوں کے اندر موجزن جذبے کو پہچانو۔ اس گڈریے کے پاس پیار اور شکر کا اظہار کرنے کے لیے یہی الفاظ ہیں۔ اس کو جو بھیڑ بکری پیاری لگتی ہے یہ اس کی جوئیں نکالتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس کو اظہارِ تشکر کے لیے توریت کی کچھ آیات بتائیں اور خدا کی تسبیح کرتے ہوئے اپنے سفر پر آگے نکل گئے۔

ان دونوں حکایات میں معصومیت سے پیار کا اظہار کرنے کے لیے بکرے کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن کشمیر میں بکرے کے ہتک آمیز استعمال کی تاریخ بھی موجود ہے۔ اس کی اولین مثال جدید عوامی سیاست کے ابتدائی ایام میں ملتی ہے جب وادی کشمیر میں مسلم کانفرنس کے کارکنان نے اپنے لیڈر شیخ عبداللہ کو شیر اور شیخ عبداللہ کے مخالف مولوی محمد یوسف کے حامیوں کو بکرا قرار دے دیا اور پھر شیر اور بکرے کی اصطلاحات سیاست میں عام ہوگئیں۔

آزاد کشمیر میں بکرے کے ہتک آمیز استعمال کی روایت غالباً ستر کی دہائی میں خود مختار کشمیر کے حامی کارکنان نے شروع کی اور سردار عبدالقیوم جن کو خود مختار کشمیر کا سخت مخالف اور مولوی محمد یوسف کی مسلم کانفرنسی فکر کا پرچارک سمجھا جاتا تھا کو ہتک آمیز انداز میں بکرا کہنا شروع کر دیا اور اس مناسبت سے بکرا بکرا اٹھاہ بکرا کا نعرہ کالجوں میں گونجنے لگا اور درودیوار پر نظر آنے لگا۔

لیکن اب جو پاکستان کے وزیر برجیس طاہر جن کو خود مختار کشمیر والے برطانوی کالونیل نظام کی مناسبت سے واسرائے بھی کہتے ہیں کی طرف سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس کا تناظر مذکورہ بالا معصومیت اور ہتک کے تناظر سے الگ اور قدرے شدید بھی ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کی نہ صرف ہتک کی بلکہ انہیں ذبح ہونے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس میں ایک اور فرق یہ ہے کہ اب بکرے کا ہتک اور دھمکی آمیز استعمال پاکستانی وزیر نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے خلاف کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ برجیس طاہر پاکستان کی سیاسی جماعت نون لیگ کے ہیں اور چوہدری مجید کا تعلق پاکستانی جماعت پیپلز پارٹی سے ہے۔ یوں اگر چہ دونوں پاکستانی جماعتیں ہیں لیکن ان کی آزاد کشمیری شاخوں میں منفرد کشمیریت اور آزاد کشمیری انفرادیت کا عنصر واضح طور پر موجود ہے یوں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بکرا کہہ کر انہوں نے کم از کم وزیر اعظم کے منصب کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

جمہوری سیاست جیسی بھی ہو اس میں مخالفین پر شدید سے شدید تنقید تو سب کا جمہوری حق ہوتا ہے لیکن مخالفین کی ہتک کرنا اور وزیر اعظم کے منصب کو ہتک اور خون آمیز دھمکی دینا کسی بھی طرح سے جمہوری حق کے زمرے میں نہیں آتا۔

برجیس طاہر نے جو زبان استعمال کی ہے اگر اسے حضرت موسیٰ کو خدا کی طرف سے ملنے والی ہدایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کی ایک توضیح تو یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے علمی خزانے میں اپنی سیاسی بصیرت کے اظہار کے لیے شاید یہی الفاظ ہیں لیکن اس میں موجزن جذبات کو پہچانا جائے تو اس میں کوئی معصومانہ جذبہ نظر نہیں آتا بلکہ ہتک ، نفرت ، احساس برتری ، آمریت اور غاصبانہ سوچ وفکر کے جذبات موجزن نظر آتے ہیں۔

اس کو ایک اور پہلو سے دیکھیں تو بکرا ایک حلال پالتو جانور ہے جو بے چارہ پیدا ہی ذبح ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مجید صاحب کی طرف سے کسی قسم کے احتجاج اور بغاوت کی توقع شاید کسی کو بھی نہیں ہو گی کیونکہ ان سے بہتر یہ فن کس کو آتا ہے کہ طاقت کے سر چشمے کے سامنے ماتھا ٹیک دینے اور نذرونیاز کرنے سے ہی اقتدار کی دیوی مہربان ہو کر فیض یاب کرتی ہے۔

لیکن بکرے کو ذبح کرنے والے کو قصائی کہا جاتا ہے اور قصائی اگرچہ دیگر پیشوں ہی کی طرح ایک پیشہ ہے لیکن بڑا ہی خون آشام پیشہ ہے۔ بے شک دولت کے لیے طاقت حاصل کرنے کی سیاست بھی ایک خون آشام پیشہ ہے اور دنیا بھر میں اس پیشے میں روز کتنے ہی ذبیحے ہوتے ہیں لیکن ایک بات جو آزاد کشمیر کے تمام سیاسی لیڈروں اور سیاست میں دلچسپی رکھنے اور اس میں سرگرم تمام جماعتوں کے کارکنان کو خوب یاد رکھنی چاہیے کہ قصائی صرف بکرے ہی ذبح نہیں کرتے وہ امن کے زمانے میں سب حلال جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور کسی بحرانی صورت حال میں جب حلال جانور کم پڑ جائیں تو مکروہ اور حرام میں بھی تمیز نہیں کرتے۔ آج اگر پہاڑی بکرا ذبح ہوا تو کل پہاڑی دُنبے، لیلے، گائیاں، بھینسیں اور اگر خدانخواستہ کوئی ہنگامی یا بحرانی صورت حال پیدا ہوئی تو گھوڑے اور گدھے بھی نہیں بچیں گے۔ اس لیے ابھی وقت ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت اور کمشنوں اور اقتدار کی ہوس میں اپنی اپنی جماعتوں کے پاکستانی وزیروں کے دماغوں میں یہ تاثر مت بھرو کہ وہ ’آزاد‘ کشمیر کے وائسرائے، مہاراجے، نواب اور نظام ہیں کیونکہ کل جب ان کی گرفت مضبوط ہوجائے گی تو پھر وہ آپ کو کمشن بھی نہیں دیں گے۔ سٹیٹ سبجیکٹ ختم کرکے وہ خود ہی مالک و مختار بن جائیں گے اور آپ اگر آج اپنے اس خطے کے عوام کو شہری کے درجے پر نہیں اٹھنے دو گے تو کل آپ بھی رعایا کے درجوں پر آجاو گے۔ ابھی وقت ہے پاکستان سے اپنے رشتے کو بادشاہت، آمریت اور جاگیردارانہ تسلط کی اندھی راہوں سے موڑ کر جمہوری راستوں پر ڈال لو۔

اس وقت تک صرف سردار عتیق صاحب یہ بات سمجھ سکے ہیں جنہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف صاحب جن کے ابا واجداد اسی پہاڑی سلسلے اور وادیوں سے اٹھ کر گئے ہیں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے وزراء کو کم از کم بات کرنے اور منتخب نمائندوں کے منصب کا احترام کرنے کی تمیز تو سکھائیں۔

میرے خیال میں آزاد کشمیر کے دیگر سیاستدانوں بشمول نون لیگ کی قیادت کو ایک زبان ہو کر اس ہتک اور دھمکی آمیز زبان کے استعمال پر برجیس طاہر کی کھلے عام مذمت کرنی چاہیے اور در حقیقت ان کے استعفے کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ لیکن میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ شاید سب ہی سیاستدانوں کے ذخیرے میں مہذب الفاظ ہی نہیں یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے ان پہاڑیوں کو جذباتی کرنے کے لیے اسطرح کی زبان ہی موثر رہتی ہے؟ اور ان الفاظ سے شاید کسی کو ہتک محسوس ہی نہیں ہوئی؟

محمد مقبول بٹ شہید بہتان تراشی اور علمی تنقید

یہ مضمون میں فیس بک پر سجاد راجہ کی طرف سے محمد مقبول بٹ شہید کی جدوجہد کے مقاصد پر سوال اٹھانے کے جواب میں لکھ رہا ہوں۔ ویسے تو انہوں نے جس انداز میں سوال اٹھائے ہیں مقبول بٹ کے حامیوں کے طرف سے ان کو اسی انداز میں جو جوابات ملے اور مل رہے ہیں اس سے زیادہ کے وہ مستحق نہیں ہیں لیکن چونکہ وہ بضد ہیں کہ ان کو دلیل اور ثبوت کے ساتھ جواب دیا جائے اس لیے میں نے سنجیدگی کے ساتھ ان کو استدلال کے ساتھ جواب دینے کی کوشش ہے۔ ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے لیے جن کو مقبول بٹ سے محبت ہے کیونکہ ان کے خیال میں خود مختاری کے نظریے اور جدوجہد کو بھارت اور پاکستان کے حکمران طبقوں کی قابض و غاصب قوم پرستیوں کے مقابلے میں باوقار بنانے کے لیے انہوں نے دونوں ممالک میں قید کاٹی، تشدد سہا اور بھارتی جیل میں پورے اطمنیان کے ساتھ پھانسی چڑھ گئے اپنے وطن کی آزادی کے لیے۔ اس پہلو سے میں سجاد راجہ کا مشکور ہوں کہ مجھے مقبول بٹ کے بارے میں ان کے کم علمی اور جہالت پر مبنی اعتراضات و سوالات اور دعوؤں کے جواب میں مقبول بٹ کے نظریات اور جدوجہد کے بارے میں ان کے چاہنے والوں کے علم میں کچھ اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم ان کے دعوؤں، سوالات و اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے ان کے اس دعوے کی تائید میں کچھ کہنا ضروری ہے کہ اشیاء اور مظاہر کے بارے میں نئے علم اور معلومات کی روشنی میں ہماری ان کی سمجھ و بوجھ میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے جو بالکل درست دعویٰ ہے۔

یہ حقیقت اپنے تجربات اور گرد و پیش کے مشاہدات کے ذریعے فلسفیوں نے ہزاروں سال قبل دریافت کر لی تھی کچھ بھی ساکت و جامد نہیں تھا۔ ہر شئے تغیر پذیر تھی۔ فلسفے کے بانیوں میں اس ایک یونانی فلاسفر ہرکلیٹس (535-475 قبل مسیح) نے اس کو یوں بیان کیا کہ دُنیا میں صرف تبدیلی ہی مستقل ہے۔ کشمیری نژاد فلسفی شاعر علامہ اقبال صاحب نے اس کو یوں شاعری میں ڈھالا تھا کہ ”ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں“۔ تغیر و تبدل کا یہ عمل ازل سے ہر ایک انفرادی اور سماجی شے اور مظہر میں جاری و ساری ہے اور یہی صفت کائنات کو اس کے ذروں سے لے کر مجموعی طور پر خود کائنات کو ارتقاء کی شاہراہ پر رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ کچھ بھی ابدی نہیں۔ کچھ بھہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔سوائے اس خالق کے جس نے مذہبی علوم کے مطابق کائنات تخلیق کی اور سماجی سائنسی علوم کے مطابق جس کو انسان نے تخلیق کو سمجھنے کے عمل کے دوران تخلیق کیا کہ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مذہبی علوم میں اجتہاد اور سائنسی علوم میں مسلسل تحقیق اور تنقیدی جائزہ علم و شعور کو گرد و پیش کی پل پل بدلتی حقیقتوں کی تازہ ترین سمجھ کو حاصل کرنے اور اس کی رہنمائی میں زندگی کے سفر کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر سے بہتر بنانے کی جدوجہد کو روشنی اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے لازمی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بے شک جو لوگ، ادارے، ریاستیں وغیرہ تغیر و تبدل کو نظر انداز کر کے ساکت و جامد رہتے ہیں ان کے عمال اور افکار کے دھارے خشک ہو کر جو ہر بن کر تعفن زدہ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے انفرادی امور ہوں یا اجتماعی ان کی بہتر سے بہتر سمجھ حاصل کرنے کے لیے مسلسل تنقیدی جائزے کو انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تقدس، عقیدت اور عشق اپنی جگہ لیکن منطقی طور پر سوچیں تو خالق کے قریب ترین وہی ہو سکتا ہے جو اس کی تخلیق کو سب سے بہتر سمجھتا ہو۔ لہٰذا سمجھ میں اضافے اور شعور کو نکھارنے اور حقیقت کا عکاس بنانے کے لیے حقیقت کے متعلقہ پہلوؤں کا متعلقہ علوم کے ذریعے مسلسل علمی جائزہ و تجزیہ انتہائی افضل عمل ہے۔

تاہم علم و شعور میں اضافے کے سفر پر انسان نے تنقید، تحقیق و تجزیے کے کچھ اصول و طریقے بھی سیکھے۔

چونکہ یہاں بات ہو رہی ہے ایک سیاسی کردار محمد مقبول بٹ کی اس لیے سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سیاسی کرداروں اور سیاسی نظریات و جدوجہد، حکمت عملیوں وغیرہ کا تنقیدی جائزہ عام طور پر دو مقاصد کے تحت لیا جاتا ہے۔ ایک علمی مقصد یعنی اس کردار، نظریے، جدوجہد و حکمت عملی وغیرہ کے بارے میں علم میں اضافہ کرنا مقصود ہوتا ہے تاکہ اس کے مختلف پہلو واضح ہو سکیں اور طالب علموں کے علم و شعور میں اضافہ ہو۔ دوسرا مقصد عام طور پر سیاسی ہوتا ہے۔ جس میں اس کے حق یا مخالفت میں سیاسی مقاصد حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جدید تحقیق کے حوالے سے ایک بات عام طور پر دہرائی جاتی ہے کہ اب کچھ بھی مقدس نہیں۔ کسی فرد یا سماجی مظہر کے کسی پہلو کو محض اس لیے پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا یا اس سے نظریں نہیں پھیریں جائیں گی کہ لوگ اس سے عقیدت رکھتے ہیں۔ تاہم اس جملے یا اصول کو نمایاں کر کے بیان کرنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں جدید تحقیق کی دنیا میں اس جملے کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہوتا کہ آپ کو ہتک آمیزی اور بک بکارے کرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ تقدس زیر مطالعہ افراد و مظاہر کی بجائے تحقیق کے عمل کو منتقل ہو جاتا ہے۔ جدید تحقیق میں پوری ایمانداری کے ساتھ مطلوبہ معلومات اور علم حاصل کرنے کو تقدس حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی فرد یا مظہر کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلے ان کے بارے میں موجود حقائق کو کسی بے ایمانی یا بد دیانتی کے بغیر پیش کیا جائے۔ اس کے بعد ان حقائق پر سوالات اٹھائے جائیں اور اگر کوئی معلومات درست نہیں یا کافی نہیں تو اس کو سامنے لایا جائے اور پھر ان کے بارے میں جو کچھ ان مشکوک حقائق کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے اس پر سوال کیا جائے۔ یہ کسی بھی سائنسی بلکہ عام سماجی اور پنچائیت کے بھی بنیادی اخلاقی ethical اصول اور لازمی تقاضے ہوتے ہیں۔ اب آئیے دیکھیں کہ سجاد راجہ نے جو کچھ جو مقبول بٹ شہید کے بارے میں لکھا ہے اس میں کس قدر دیانت داری سے کام لیا ہے؟ کیونکہ اس کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات، لگائے گئے الزامات اور کیے گے دعوؤں کے جواب کا دارومدار اس کی طرف سے پیش کی گئی معلومات پر ہی ہوگا۔

سجاد راجہ کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ ”مقبول بٹ شہید کی جدوجہد مقبول بٹ صاحب کی جدوجہد صرف اور صرف پاکستان کی مدد سے کشمیر وادی کو بھارت سے آزاد کروا کے اسے پاکستان کے زیر قبضہ نام نہاد آزاد کشمیر کے ساتھ شامل کرنے کی تھی۔

اس دعوے پر اور اس کے ذیلی دعوؤں پر ضرور بات کی جائے گی۔ دلیل اور ثبوت کے ساتھ۔ مگر دلیل اور ثبوت مانگنے والے اس نادانستگی میں ایک اچھی بحث چھیڑنے والے عجیب کردار کے اپنے دلائل اور ثبوت وشواہد کے معیار کو تو دیکھ لیں۔

موصوف کا بٹ صاحب کے بارے میں علم کا معیار دیکھیے جن کا یہ سائنسی اور ارتقائی جائزہ لینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ پڑھیے۔ ان کی طرف سے مقبول بٹ کو پاکستانی پراکسی ثابت کرنے کی جاہلانہ کوشش کا پہلا دعویٰ:

1۔ ’’مقبول بٹ صاحب سرینگر جیل توڑ کر جنوری 1969 میں واپس پاکستان آگئے اور پھر پشاور میں رہنا شروع کر دیا۔ پاکستان کو اپنا گھر بنالیا۔ پشاور میں ایک شادی کی اور کشمیر میں موجود اپنی اہلیہ کو بھی کشمیر سے پاکستان منگوالیا۔‘‘

جب کہ حقیت یہ ہے کہ مقبول بٹ 1958 میں اپنے چچا عزیز کے ساتھ ”آزاد“ کشمیر آئے تھے۔ بارہ مولا کالج سے بی اے کی ڈگری اور پاکستان کے لیے محبت سے بھرپور دل و دماغ کے ساتھ۔ سب سے پہلے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی کوشش کی۔ وہاں داخلہ نہ ملا لیکن پشاور یونیورسٹی میں مل گیا جہاں سے انہوں احمد فراز جیسے طالب علموں کے ساتھ اردو ادب میں ایم اے کیا۔ مقبول بٹ کی پہلی بیوی راج بیگم شادی سے پہلے پاکستان آچکی تھیں۔ جب مقبول بٹ سری نگر جیل توڑ کر آئے تو نہ صرف یہ کہ ان کی شادی ہوچکی تھی بلکہ دو بچے بھی تھے (شوکت مقبول اور جاوید مقبول)۔

سجاد راجہ کے اس ایک دعوے سے ہی ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے مقبول بٹ شہید کے بارے میں بنیادی حقائق جانے بغیر اپنی مرضی کے حقائق گھڑ کر باقی کے دعوے کیے ہیں۔

اس لیے سجاد راجہ کو میرا مشورہ ہے کہ پہلے مقبول بٹ کے بارے میں اپنے بنیادی حقائق درست کرو۔ پھر تمھیں باقی سب دعوؤں کا جواب بھی دے دیا جائے گا۔

سجاد راجہ کے ساتھ ساتھ مقبول بٹ کے پیروکاروں سے بھی درخواست ہے کی درج ذیل کتابیں پڑھیں اور اس کے بعد فیس بک پر بحث کا آغاز کریں۔ میں بخوشی اس میں حصہ لوں گا۔

سفیر حریت۔۔۔ خواجہ رفیق جس میں مقبول بٹ کے کچھ خطوط اور انٹرویوز شامل ہیں جس میں انہوں نے ان سوالات میں سے اکثر کے جوابات دیے ہوئے ہیں جو سجاد راجہ اور اس کی طرح کے حمایتی پوچھ رہے ہیں۔

شعورِ فردا (مرتب: محمد سعید اسعد)۔ پاکستان اور بھارت کی جیلوں سے مقبول بٹ کے خطوط کا مجموعہ جس میں مقبول بٹ کے نظریات کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

دیوانوں پہ کیا گزری (مرتب: محمد سعید اسعد)۔ گنگا ہائی جیکنگ پر پاکستانی عدالت میں دیے گئے بیانات کا مجموعہ جس میں اس مقدمے کے بارے میں مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں کے سیاسی موقف و نظریات کے ساتھ ساتھ قید کے دوران کیے گئے تشدد اور اذیتوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ سجاد راجہ کہتا ہے قید کے دوران مقبول بٹ کو پاکستانی خفیہ ادارے تربیت دیتے تھے۔ یعنی یہ سب عدالتی بیانات جھوٹے تھے اور سجاد راجہ کا یہ دعویٰ جس کے ثبوت میں مزید بے بنیاد دعوؤں کے سواء اس کے پاس کچھ بھی نہیں پیش کرنے کو، سچا ہے۔

بلیک وارنٹ؛ ایک جیلر کے اعترافات۔ اس میں مقبول بٹ کی تہار جیل کے اندر زندگی کا شعور حاصل ہوتا ہے اور یہ کہ وہ کیسی شخصیت کے مالک تھے۔

کم کم چڈا کے ساتھ تہار جیل سے کسی صحافی کو دیا جانے والا آخری انٹرویو جس میں مقبول بٹ نے اپنے عقائد اور سیاسی نظریات کی وضاحت کی ہوئی ہے۔

اس مضمون کا پہلا حصہ میری فیسک بک وال پر چھپنے کے بعد کچھ دوستوں نے صلاح دی کہ یہ بس توجہ حاصل کرنے اور بھارتی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش ہے اس لیے اس کو نظر انداز کر دینا ہی بہتر رہے گا۔ ان میں سے اکثر دوست فیلڈ میں موجود ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ اس طرح ’’کیچڑ اچھالنے‘‘ کی حرکات کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں۔ تاہم میں نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اس ’’کیچڑ‘‘ کو بٹ صاحب اور قومی آزادی کی تحریک سے صاف کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر میں 11 فروری 1984 کو اتفاقیہ طور پر خود مختار کشمیر کے کیمپ میں ’’لڑھک‘‘ نہ جاتا تو شاید مقبول بٹ کو بھارت کا ایجنٹ ہی سمجھتا رہتا کیونکہ میرے مسلم کانفرنسی اور جماعت اسلامی کے قائدین و کارکنان یہی کہتے تھے۔ میرے پاس متبادل معلومات نہیں تھیں۔

اس لیے میں، میرے جیسے ان نوجوانوں کے لیے یہ لکھ رہا ہوں جو مقبول بٹ شہید کے بارے میں اس بھارتی بیانیے کو (شعوری یا غیر شعوری طور پر) درست سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ پڑھتے ہیں کہ بار بار چیلنج کرنے کے بعد بھی کہ ’’مجھے ثبوتوں سے قائل کرو، کسی دلیل کے ذریعے میرے دعوے غلط ثابت کرو‘‘ کوئی ثبوت اور متبادل جواب کیوں نہیں آ رہا۔

سینیئر رہنما تو جانتے ہیں کہ چاند پر تھوکنے کا چلن کیوں اختیار کیا گیا ہے اور جو یہ کر رہا ہے پہلے کیا کیا کیا کرتا تھا، لیکن جن نوجوانوں کو ان الفاظ کے پیچھے شخصیت کا تعارف نہیں ان تک متبادل معلومات پہنچانا ہمارا جو خود کو خود مختاری کے نظریے، تحریک و سیاست کا طالب علم سمجھتے ہیں فرض بنتا ہے۔ ورنہ قسم سے مجھے معلوم ہے کہ اس مضمون کی وجہ سے میرے بہت سے کام ’’پیچھے‘‘ رہ جائیں گے اور گھر اور کام دونوں اطراف سے ڈانٹ پڑے گی۔ خیر چلیے آگے بڑھتے ہیں جواب کے دوسرے حصے کی طرف۔

میں نے تعارفی حصے کا آغاز بہتان تراشی اور علمی تنقید کے فرق کو نمایاں کرنے سے کیا تھا۔ اور نتیجہ یہ اخذ کیا تھا کہ سجاد راجہ نے جو اعتراضات اٹھائے ان میں سے پہلا اعتراض غلط معلومات پر مبنی تھا۔ اس لیے سب سے پہلے ان کو حقائق درست کرنے چاہئیں کیونکہ حقائق کے بغیر دعوے علمی تنقید نہیں بلکہ بہتان تراشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم دوستوں بشمول سجاد راجہ اور جاوید عنایت نے کہا کہ اتنی لمبی تحریر میں اعتراضات پر جواب تو لکھا ہی نہیں۔ اس حصے میں اعتراض نمبر 2 کا جواب دیا گیا ہے۔

تنقید ہوتی کیا ہے؟

جاوید صاحب نے یہ بھی لکھا کہ سجاد کے حق تنقید کو تسلیم کیے بغیر آپ خود یہ حق نہیں لے سکتے ہیں۔ حالانکہ میں نے تمہید میں بات واضح کر کے لکھی تھی کہ کوئی بھی سیاسی شخصیت، سماجی مظہر تنقید سے مبرا نہیں ہوتا اور تنقید کرنا سب کا حق ہوتا ہے اس لیے اس دوسرے حصے کے شروع میں شاید یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ علمی تنقید کیا ہوتی ہے۔

علمی تنقید ایک بہت بڑا موضوع اور مضمون ہے۔ تاہم اس کو مختصر الفاظ میں واضح کرنے کے لیے بہترین مثال زراعت کے اس عمل سے دی جا سکتی ہے جس کو ہم ”نیندنا“ یا ”گوڈی“ کرنا کہتے تھے۔ یہ خاص طور سے اس وقت کی جاتی جب مکئی اور باجرے کی فصل زمین سے اگتی تو اس کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیاں بھی اُگ آتی تھیں۔ نیدنے کا مقصد فصل کے پودوں کو بچا کر جڑی بوٹیوں کو نکالنا ہوتا تھا۔ یہ کام کرنے والے آلہ پیداوار کو ”کھرپا“ کہا جاتا تھا۔ نیندنے کا کام عام طور پر عورتیں کرتی تھیں۔ یہ زرعی آرٹ کا ایک خوبصورت نمونہ اور بڑا دلچسپ منظر ہوتا تھا۔ ( ضروری نہیں جو اس آرٹ کا مظاہرہ کر رہی ہوتی تھیں ان کے لیے بھی یہ کام اتنا ہی دلچسپ اور خوبصورت ہوتا ہو۔)

اس کے کچھ عرصے بعد جب فصل کچھ مزید بڑی (”سُکھڑ“) ہو جاتی تو پھر اس کو ”دالا“ دیا جاتا تھا۔ دالا بیلوں کو ہل میں ”جُغت“ کر دیا جاتا تھا۔ اس کا مقصد اس جڑی بوٹی کو ختم کرنا ہوتا تھا جو نیندنے کے بعد بھی بچ جاتی اور بڑی ہو جاتی تھی۔ دالا مرد دیتے تھے۔ ”نیندنے“ کے مقابلے میں ”دالا“ زیادہ سخت ہوتا تھا۔ نیدنے کے دوران چُن چُن کر جڑی بوٹیوں کے پودے خاصے نرم انداز میں نکالے جاتے تھے۔ جبکہ ”دالا“ دیتے ہوئے کچھ فصل کے بوٹے بھی ”دَل“ جاتے تھے۔

یہ دونوں شعوری اور منظم عمل تھے۔ ایک واضح مقصد کے حصول کے لیے۔ تاہم ان ہی فصلوں میں جب ڈور ڈنگر بشمول بیل اپنی مرضی سے گھس جاتے تو جڑی بوٹیاں اور فصل دونوں ہی تباہ ہو جاتی تھیں۔ ضروری نہیں کہ ان کا مقصد فصل تباہ کرنا ہو کیونکہ وہ تو ”چرنے“ کے لیے فصل میں گھستے تھے مگر ان کے عمل کا نتیجہ ظاہر ہے تباہی ہی ہوتا تھا۔

یہی اصول علمی تنقید کا ہوتا ہے۔ آپ جس فرد یا واقعے، عمل یا مظہر یا تحریر پر تنقید کرتے ہیں اس کا مقصد اس میں موجود ”فصل“ کو بچانا ہوتا ہے اور جو کچھ آپ کو ”فضول“ نظر آئے اس کو نمایاں کر کے مسترد کرنا ہوتا ہے۔ سیاسی و سماجی تنقید پر اس کا اطلاق اس طرح سے ہوتا ہے کہ سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے؟ زیر تنقید موضوع/مظہر کی کمیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کر کے اسے ”جڑی بوٹیوں“ سے آزاد کروانا ہے تا کہ وہ کھل کر نشوونما پاسکے اور غذائیت سے بھر پور صحت مند فصل دے سکے یا کہ اس کو تباہ کرنا مقصد ہے؟

میں اس مضمون میں مقبول بٹ کے نظریے، تحریک و حکمتِ عملی پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے وقت تنقید اور اختلاف رائے کے حق کو ’رد‘ نہیں رہا یعنی مسترد نہیں کر رہا بلکہ جن بنیادوں پر تنقید کی گئی ہے، اختلاف کیا گیا ہے، دعوے کیے گئے ہیں ان میں موجود فضول اور غیر صحت مند معلومات کو نمایاں کر کے ان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

پہلے حصے میں بہتان تراشی اور علمی تنقید کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس میں واضح کیا تھا کہ بنیادی دعوٰی جو سجاد راجہ نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ مقبول بٹ اور ان کے ساتھی ریاست جموں کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی مدد سے وادی کشمیر کو آزاد کروا کر اسے ”آزاد“ کشمیر سے ملانا چاہتے تھے“۔ اس حصے میں ان کے صرف ایک دعوے کو مثال کے طور پر پیش کیا تھا کہ کس طرح ان کی بنیادی معلومات اور ان کی بنیاد پر کیے جانے والا دعوٰی غلط تھا۔ انہوں نے لکھا کہ مقبول بٹ جب 1969 میں سری نگر جیل توڑ کر آئے تو اس کے بعد پشاور گئے اور اس کے بعد شادی کی ۔ میں نے واضح کیا کہ یہ معلومات غلط تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس جوابی مضمون کا عنوان بہتان تراشی اور علمی تنقید رکھا۔ کیونکہ سجاد راجہ کی تنقید کم اور بہتان تراشی زیادہ ہے۔ کیسے؟ یہ میں نے اس مضمون کے ہر ایک حصے میں ان کے ایک ایک دعوے کو علمی تنقید کی روشنی میں غلط ثابت کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم کچھ لوگ جس طرح کے جوابات دے رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کو شعوری طور پر منظم ’’نیدنے‘‘ اور ’’دالا‘‘ دینے کی بجائے بیلوں کے دم اٹھا کر فصل کو تباہ کرتے دیکھنے میں زیادہ مزا آتا ہے۔ ان کے لیے میرے پاس نہ تو کوئی جواب ہے اور نہ وقت۔ البتہ جو علمی بحث مباحثے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے اپنی بساط کے مطابق یہ مضامین لکھ رہا ہوں کیونکہ میرے خیال میں یہی صحت مند راستہ ہے۔

گزشتہ حصے میں مقبول بٹ کو پاکستان کا سہولت کار ثابت کرنے کے سجاد راجہ کے دعوؤں سے میں نے صرف اس کے پہلے دعوے پر بات کی تھی اور وہ بھی صرف اس حد تک کہ درحقیقت اس کی بنیادی معلومات ہی غلط ہیں۔ اور جس دعوے کی بنیادی معلومات ہی غلط ہوں اس دعوے پر کیا بات کرنی؟ لیکن ہم تو اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو وہ قرض بھی اتار دیتے ہیں جو واجب نہ ہوں۔ اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ سجاد راجہ بجائے یہ تسلیم کرنے کے کہ مقبول بٹ صاحب نے 1969 میں جیل توڑ کر آنے کے بعد پاکستان میں رہنا نہیں شروع کیا تھا بلکہ وہ اس سے ایک عشرہ قبل پشاور آئے تھے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ انہوں نے اس کے بعد پشاور میں رہائش اختیار کی تھی اور یہ بھی غلط ہے کہ انہوں نے اس کے بعد اپنی بیوی کو بھارتی مقبوضہ علاقے سے منگوایا تھا پھر وہی ٹیپ دہراتے ہیں: کیا مقبول بٹ نے اپنی کشمیر والی اہلیہ کو پشاور نہیں بلایا تھا؟

کیا مقبول بٹ نے پشاور میں دوسری شادی نہیں کی تھی؟

کیا مقبول بٹ 1969 میں سرینگر جیل سے فرار کے بعد دوبارہ پاکستان نہیں آئے تھے؟

آپ مجھے کہاں غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل اعتراضات بٹ صاحب کی سیاسی جدوجہد پر ہیں نجی زندگی پر نہیں۔ تو چلیے اس قسط میں ان کے اعتراض نمبر دو کی صحت کا معائنہ اور دعوؤں کا تجزیہ کر لیتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں:

2۔ اس دوران پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں سے اپنے ساتھیوں کو تربیت دلوا کر جنوری 1971 میں بھارت کا گنگا طیارہ اغواء کرایا اور اسے لاہور میں لینڈ کرایا۔

اس دعوے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی حوالہ یا ثبوت نہیں پیش کیا گیا کہ کس حوالے سے وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’ایجنسیوں سے اپنے ساتھیوں کو تربیت دلوائی‘‘۔ عام طور پر اس طرح کے معاملات میں تین قسم کے حوالوں سے دعوے کیے جاتے ہیں۔ قابض ریاستی ذرائع ابلاغ اور خفیہ ادارے۔ مزاحمت کار اور آزادی پسندوں کے جوابات اور بیانات۔ عدالتی کاروائی اور فیصلے ۔ جولوگ فصل یعنی قومی آزادی کی تحریک کو بچانا چاہتے ہیں وہ تینوں اطراف سے آگاہی حاصل کر کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ اسی طرح عام طور پر اکیڈیمک ریسرچ (علمی تحقیق) کے لیے بھی تمام ذرائع سے سامنے آنے والے حقائق کو علمی تنقید کی کسوٹی پر پرکھ کر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو مخالفت یا حمایت میں صرف اپنے دعوؤں کو تقویت دینے والے پہلوؤں کو لے کر ان کو دہرائے جاتے ہیں۔ اس بحث میں ایک اور رجحان بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عدالتی بیانات اور فیصلوں کو جھوٹ اور الزامات کو درست قرار دینے کا۔

خیر مذکورہ دعوے کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ ’’خفیہ ایجنسیوں سے تربیت دلوائی‘‘۔ دوسرا کہ اغوا شدہ طیارہ ’’لاہور لینڈ کروایا‘‘۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اکثر دعوؤں کی طرح ’’ایجنسیوں سے تربیت دلوانے‘‘ کے دعوے کے ثبوت میں بھی کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ البتہ جہاز کے ایک اغواء کار ہاشم قریشی جو بفضل خدا زندہ سلامت ہیں اور آئے روز فیس بک پر لکھتے رہتے ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں ’’تربیت ایک سابق پائلٹ جاوید منٹو نے دی تھی جو کہ ڈاکٹر فاروق حیدر کے سالے تھے اور یہ تربیت انہوں نے ذاتی حیثیت سے اس قدر دی تھی تاکہ پائلٹ مجھے ڈاج نہ دے سکے‘‘۔

گنگا مقدمے کے دوران عدالت نے جاوید منٹو کا بیان لیا تھا جو عدالت کے ریکارڈ میں موجود ہوگا۔ اور مجھے یقین ہے کہ بہتان تراش اس حقیقت سے باخبر ہوں گے کہ قابض اور نو آبادیاتی ممالک کے اندر سے ہمدرد اور حمایتی شہریوں/ افسران/ سیاستدانوں/ فوجیوں سے انفرادی طور پر مدد حاصل کرنا قومی آزادی کی تحریکوں میں عام معمول رہا ہے۔ برطانوی نو آبادیاتی تسلط کے خلاف برطانیہ کے اندر سے مزاحمت کاروں کی مختلف شکلوں میں مدد کی گئی۔ حتیٰ کہ کچھ برطانوی انڈیا کے اندر آ کر برطانوی راج کے خلاف برسرپیکار بھی ہوئے جیسے ڈربی کے ایک گھڑی ساز کی بیٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی طالب علم فریڈا بیدی۔ اسی طرح الجزائر کی تحریک کو فرانس کے اندر حمایتی حاصل تھے۔ ویتنام میں امریکہ کی ناکامی کی ایک وجہ امریکہ کے اندر اس کے خلاف عوامی تحریک تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔

تاہم اگر سجاد راجہ یا ان کے کسی حمایتی کے پاس ہاشم قریشی کو ایجنسیوں کی طرف سے باضابطہ تربیت دیے جانے کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں۔ ورنہ ان کا یہ دعویٰ کہ ہاشم کو جہاز اغواء کرنے کی تربیت ایجنسیوں نے دی تھی ایک سیاسی بہتان کے سواء کچھ نہیں ہے۔ کیوں کہ ہاشم قریشی اور ان کے ساتھیوں نے اس کے جواب عدالت میں بھی دیے اور آج بھی زندہ ہیں اور ان کا موقف اور دیا گیا۔

دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں جہاز لاہور لینڈ کروایا۔

اغواء شدہ جہاز واقعی لاہور کے ہوائی اڈے پر ہی اُترا تھا۔ اس بارے میں اغوا کار ہاشم قریشی کہتے ہیں کہ گنگا جہاز دہلی سے سری نگر آیا تھا۔ واپسی پر اس کو جموں سے تیل لے کر دہلی جانا تھا۔ ہم اس پر سری نگر سے سوا ہوئے تھے۔ جب ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا کہ مسافر اپنے اپنے حفاظتی باندھ لیں کچھ ہی دیر میں ہم جموں ائیر پورٹ پر اترنے والے ہیں تو ہم نے پلان کے مطابق جہاز کو اغواء کر لیا۔ ہم نے اسے راولپنڈی چلنے کے لیے کہا لیکن پائلٹ نے کہا کہ اس میں وہاں پہنچنے کے ایندھن نہیں ہے۔ صرف لاہور تک پہنچ سکتا ہے تو ہم نے کہا ٹھیک ہے لاہور چلو۔ ریڈار میں آنے سے بچنے کے لیے ہم جہاز کو اتنی نیچی پرواز پر اُڑا رہے تھے کہ نیچے لوگوں کی حرکات تک کو بھی دیکھ سکتے تھے۔ جہاز وزیر آباد سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوا۔ جہاز کا سکھ پائلٹ تقسیم سے پہلے وزیر آباد میں رہتا تھا۔ وہاں سے لاہور تک ہم نے جہاز جی ٹی روڈ کے اوپر سے اُڑایا۔

”لاہور میں لینڈ کروانے“ والے دعوے کا اصل نقطہ یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر اس میں پاکستانی اداروں کا ہاتھ نہیں تھا تو کشمیری اس کو لاہور کیوں لاتے۔ لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ مقبول بٹ پاکستانی اداروں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بارے میں وادی کشمیر کے ایک صحافی افتخار گیلانی نے سابق بھارتی خفیہ اداروں کے ملازم بی این سینا کی کتاب ”سامبہ سپائی کیس“ کے حوالے سے کشمیر ٹائمز میں دعویٰ کیا کہ جہاز اغواء کا منصوبہ بھارت نے اغواء کر لیا تاکہ پاکستان کے لیے بھارتی فضا استعمال کرنے پر پابندی لگائی جا سکے اور مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے پاکستانی فوج کو مغربی پاکستان سے امداد نہ مل سکے۔

پاکستان کا سرکاری موقف بھی یہی تھا اور شاید مطالعہ پاکستان کے نصاب میں بھی یہی بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔

جن لوگوں نے گنگا اغواء کے بارے میں متعلقہ دستیاب لٹریچر بشمول مقبول بٹ شہید کا پاکستان کی خصوصی عدالت میں دیا گیا بیان اور کتابیں خاص طور سے دیوانوں پہ کیا گذری پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ شاہی قلعہ لاہور میں مقبول بٹ، ہاشم واشرف قریشی، جی ایم میر، جی ایم لون اور میر عبد القیوم اور ڈاکٹر فاروق حیدر وغیرہ شاہی مہمان نہیں تھے بلکہ ان کو توڑنے کے لیے انتہائی ظالمانہ، ہتک آمیز اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ مگر وہ ثابت قدم رہے اور آخر کار عدالت نے ان کو بری قرار دیا۔

اب اس الزام کا ایک اور پہلو بھی ہے جو الزام کار شاید انجانے میں یا جان بوجھ ر نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں آنے والے اکثر کشمیری پاکستان کو مکہ مدینہ سمجھ کر بہت سی امیدیں لے کر آتے تھے۔ اس لیے بے شک پاکستان انہیں دشمن نہیں بلکہ دوست ملک نظر آتا تھا۔ جیسے اب بھی وادی، تارکین وطن اور آزاد کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان دوست اور وکیل نظر آتا ہے۔ اور لاکھوں کی تعداد میں جموں ولداخ اور ابھی بھی وادی میں خاصی تعداد کو پاکستانی پشتی بانی میں لڑنے والوں سے جان چھڑانے کے لیے بھارت نجات دہندہ نظر آتا ہے۔ ہاشم قریشی نے اس بارے میں تو کئی جگہ بولا اور لکھا ہے کہ میں جب پہلی بار پاکستان گیا تو زمین کو چوم رہا تھا جب ایک حفاظتی گارڈ نے پوچھا یہ کیا کر رہے تو میں نے کہا کہ اپنے مکے مدینے کو چوم رہا ہوں تو اس نے کہا’’خوچہ جاؤ جاؤ اندر جا کر مکے مدینے کو خود دیکھ لو‘‘۔

مقبول بٹ بھی جب آئے تو پاکستان کے لیے بہت سی محبت اور پاکستان سے بہت سی امیدیں لے کر آئے تھے۔ لیکن ان سب امیدوں کا مرکز و محور اپنے وطن پر سے قبضے کا خاتمہ تھا۔ وطن کا تصور اس وقت ان کے ذہن میں کیا تھا؟ اور کس کے قبضے سے آزادی چاہتے تھے؟ میرے خیال میں وطن کا تصور تو پوری ریاست تھی لیکن فوری ترجیحی بھارتی قبضے کا خاتمہ تھا۔ پاکستان سے امید تھی کہ بھارتی قبضے سے آزادی کے بعد وہ اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کر دے گا۔

اس کا واضح اظہار انہوں نے ترہگام کی جامع مسجد کے صحن میں چنار کے درخت کے نیچے ہونے والی ایک میٹنگ میں کر دیا تھا جس میں کشمیر میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا احرار، سعد الدین اور قاری سیف الدین شریک تھے۔ یہ پچاس کی دہائی کے شروع سالوں کا واقعہ ہے۔ مقبول بٹ کی عمر پندرہ سولہ سال ہے۔

مقبول بٹ : میں کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن معلوم نہیں کیسے کہوں

مولانا احرار نے حوصلہ افزائی کی کہ کہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو

مقبول بٹ : کیا اس در خے کے نیچے کوئی اور درخت پوری طرح پھل پھول سکتا ہے؟ مطلب نہیں ہو سکتا نا؟ اس درخت کے نیچے جو بھی درخت اگے گا کمزور ہی رہے گا۔

مولانا : آپ کہنا کیا چاہتے؟

مقبول بٹ : میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک ہم اس بڑے درخت کے نیچے رہیں گے جس کا نام انڈیا ہے ہم نشوونما نہیں پا سکیں گے۔ اس کی شاخیں تراشنا ہوں گی یا اس کو مرجھانا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے تینوں مولانا حیرانگی سے اس نوجوان کو دیکھ رہے ہیں۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”میں صاف بات کرتا ہوں کہ ہمارا بنیادی مقصد قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ میرا جماعت اسلامی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آپ لوگ اس بات پر لڑتے ہیں کہ قبضے کے بعد کشمیر سیکولر ہوگا یا اسلامی۔ یہ بعد کی باتیں ہیں پہلے اس درخت کے نیچے سے تو نکلیں جس نے ہماری نشوونما روک رکھی ہے۔“۱

اس کے بعد سے ان کی ساری زندگی اس قبضے کے خاتمے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کرنے یا ان کا حصہ بننے اور عملی جدوجہد کے سفر پر مشتمل رہی ہے۔

تاہم بیس سال کی عمر کے جوشیلی تقریریں کرنے والا طالب علم رہنما جو اس سوچ و سمجھ کے ساتھ پاکستان آیا تھا اس کا پاکستان کی ریاست و حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اور حکمران طبقوں اور عوامی سیاست کی عملی شکلوں سے پالا ابھی نہیں پڑا تھا۔

یہاں مقبول بٹ کے فکری ارتقاء کو سمجھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے لیے یہاں تین باتیں واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلی جو کہ اوپر بھی بیان کی گئی ہے کہ کچھ بھی ساکت و جامد نہیں ہے۔ سیاسی کارکنان، سیاسی رہنما اور ان کی سیاست بھی ہر دم ارتقاء پذیر رہتی ہے۔ دوسری یہ کہ کسی بھی سیاسی کردار کے ارتقاء میں اس کی سیاسی سرگرمیوں یعنی عملی سیاست کو بنیادی، مرکزی اور رہنما حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سیاسی کردار اور ان کی سیاسی سرگرمیاں انفرادی مظاہر نہیں ہوتے بلکہ ایک وسیع سیاسی تناظر میں پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی سیاسی کردار کو سمجھنے اور اس کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے اس کی سرگرمیوں اور ان کے سیاسی تناظر کو سمجھنا لازمی ہوتا ہے۔

۱ بحوالہ : فیولڈ کشمیرز مقبول بٹ”مصنف بلال ہانڈو۔۔۔

https://freepresskashmir.news/2018/02/11/what-fuelled-kashmirs-maqbool-butt/)

یہ بہت ہی اہم حصہ ہے اس سلسلے کا جس کو شروع کروانے کے لیے میں سجاد راجہ کا مشکور ہوں۔

اب آئیے پہلے مقبول بٹ کی سرگرمیوں کی فہرست بناتے ہیں۔ پھر ریاست کے اندر سیاسی تناظر کے دو داہروں کو دیکھتے ہیں۔ ایک وسیع تر اور ایک خودمختاری کا داہرہ۔ اس کے بعد بھارت و پاکستان کے حکمرانوں اور ریاست جموں کشمیر کے اپنے اپنے زیر انتظام خطوں میں بٹھائے ہوئے کشمیری حکمرانوں کے مابین تعلق میں محبت کی جگہ تشدد کیسے عود آیا اور پھر اس کی کوکھ سے نئی مزاحمت کی کیا شکلیں پیدا ہوئیں۔ پھر دیکھیں گے کہ مقبول بٹ اپنے سیاسی سفر میں کب اس میں داخل ہوکر اس کا مرکز ومحور بن گئے۔

مقبول بٹ کی سیاسی سرگرمیاں:

مقبول بٹ کی سیاسی سرگرمیوں کو جنہوں نے ان کی سیاسی شخصیت اور جدوجہد کی تشکیل کی، انہیں مختلف مرحلوں میں بانٹ کر ترتیب وار دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی پہلی سیاسی سرگرمی تقسیم سے پہلے کی ریاست جموں کشمیر میں اس جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھی جس میں چھوٹا زمیندار اور کسان بُری طرح جھکڑا ہوا تھا۔ ان کی یہ سرگرمی شعوری سیاسی سرگرمی نہیں تھی لیکن جیسا کہ انہوں نے خود اس خط میں جس میں اس سرگرمی کا بیان کیا اس کی وضاحت کی کہ غلامی کے اثرات سے غلاموں کے بچے بھی بچ نہیں پاتے۔ اور ظاہر ہے کہ سات آٹھ سال کی عمر میں اپنے والدین و بزرگوں کو یوں ذلیل ہوتا دیکھنے اور جاگیردار کی گاڑی کے آگے دیگر ہم عمر بچوں کے ساتھ زمین پر لیٹنے کے اثرات بہت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مقبول بٹ کی زندگی کی پہلی سیاسی سرگرمی جاگیردارانہ نظام کے کھلے ، ظالمانہ اور ننگے جبر و استحصال کے خلاف تھی۔

ان کی دوسری سرگرمی جو ان کے ہم عمر دوستوں (محمد سلطان) اور فیملی ذرائع (شوکت مقبول) سے ہم تک پہنچی وہ سکول میں امیر و غریب بچوں کے درمیان دیوار مسمار کرنے کی وہ بھی طبقاتی غلامی اور تفریق کے خلاف تھی۔ پہلی سرگرمی کھیت میں خاندان اور گاؤں کے کسانوں کے درمیان غیر شعوری تھی۔ جبکہ دوسری جدید تعلیم کے گہوارے میں شعوری سرگرمی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی جن سرگرمیوں کا سراغ ملتا ہے۔ بقول ان کے ساتھی سلطان محمد ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے ایک طالب علمی کی حیثیت سے اپنے پرائمری سکول کو سیکنڈری کا درجہ دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکول سے باہر وہ گاؤں میں سب کی مدد کے لیے تیار رہتے تھا۔ پنڈتوں کے شمشان گھاٹ میں وہ ہم عمر لڑکوں کو جمع کر کے ایک طرح سے کلاس لگا لیتا تھا۔ وہ بلیک بورڈ پر کشمیر کا نقشہ بناتا اور پھر اس کی غلامی کی باتیں کیا کرتا۔

بارہ مولا کے سنت جوزف کالج جانے سے پہلے ایک اور سرگرمی جس کا حوالہ پچھلے حصے میں دیا تھا وہ تھی جماعت اسلامی کے بانی قائدین مولانا احرار، مولانا سعد اور مولانا سیف کو تریگام میں دعوت دینے اور وہاں ان کے ساتھ مکالمہ کرنے کی ۔ اس میں پہلی بار ہم اس مقبول بٹ کو تصور میں دیکھتے اور سنتے ہیں جو آگے چل کر قومی آزادی کی تحریک کا قائد بن کر ابھرا۔ اس گفتگو میں وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی کو آزادی کے بعد وہاں نظام حکومت کی بحث پر ترجیحی دیتے ہیں۔ یہاں اس سیاست کے انتہائی ابتدائی خدوخال نظر آتے ہیں جو انہوں نے آگے چل کر کی ۔ سیاست کو مذہب سے الگ رکھنا ۔ یعنی وہ خود بغیر کسی معذرت کے مذہبی فرد تھے لیکن اسی طرح بغیر کسی معذرت کے کبھی اپنی سیاست میں مذہب کو نہیں استعمال کیا سوائے مذہب کے ان سیاسی پہلوؤں کے جن میں کمزوری اور اقلیتی حالت میں ہونے کے باوجود جبر و استبداد اور استحصال کے خلاف بغاوت اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کا درس ملتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں عباداتی مذہب کے نام پر سیاست نہیں کی اور نہ ہی لوگوں کو اس نام پر متحرک کیا بلکہ بیرونی قبضے سے آزادی کو اپنی سیاست کا مرکز و محور رکھا۔

سینٹ جوزف کالج میں انکی سرگرمیاں جیسا کہ مختلف حوالوں سے ثابت ہوتا ہے شیخ عبداللہ کی رہائی اور پھر سے گرفتاری اور محاذ کے قیام اور ’’رائے شماری‘‘ کے مطالبے کی بازگشت سے متعلق تھیں۔ اس ہی کالج میں ان کی تقاریر سن کر اس کے پرنسپل نے کہا تھا ”اگر یہ نوجوان راہ کی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تو بہت بڑا آدمی بنے گا۔ لیکن اکثر ایسے افراد آزادی کی راہ میں قربان ہو جایا کرتے ہیں“۔

شیخ عبداللہ کی حمایت میں سرگرمیوں کو اس وقت کے حالات میں دیکھنا چاہیے نہ کہ آج فتوے شروع کر دیے جائیں کہ شیخ کی حمایت کیوں کر رہے تھے۔ اس کا پس نظر اور تناظر یہ تھا کہ اس وقت شیخ عبداللہ ریاست کے بھارتی مقبوضہ حصے میں تمام کسانوں اور غریب طبقوں کا ہیرو تھا کیونکہ اس نے وہ کام کر دکھایا تھا جو ’آزاد‘ بھارت کا پہلا وزیر اعظم نہرو بھی ابھی نہیں کر سکا تھا۔ وہ جنوب ایشیاء میں جدید عوامی سیاست کا پہلا رہنما تھا جس نے جاگیرداری نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر چھوٹے زمیندار اور کسان کی زندگیوں کو واقعی بدل ڈالا تھا۔ (بڑے زمیندار جن میں سے اکثریت تاریخی وجوہات کی بناء پر ہندوؤں پر مشتمل تھی اور ان میں زیادہ تر ڈوگرہ زمیندار تھے، لیکن کئی ایک مسلمان بھی تھے، ان کو ظاہر ہے شیخ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا)۔ بلال ہانڈو اپنے طویل مضمون ’وٹ فیولڈ مقبول بٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ مقبول بٹ کے والد شیخ عبداللہ کے شدید حمایتی تھے۔ بلال ہانڈو جنہوں نے اس مضمون کے لیے مقبول بٹ کا گاؤں جا کر مختلف عمروں کے افراد سے تریگام میں مقبول بٹ کی زندگی کے بارے میں بات چیت کی مقبول بٹ کے دوست شوکت احمد کے حوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ وہ سکول کے دور میں بھی کم از کم چار بار تقسیم کی لکیر پار کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔

وضاحت:

(مقبول بٹ کے ساتھی اور قومی آزادی کی جدوجہد کے ایک راہی محترم نصیر وانی صاحب نے ہدایت کی تھی کہ بازاری الزامات کے جواب دینے کی بجائے بٹ صاحب کی زندگی پر لکھیں۔ اور میں نے کہا تھا کہ یہاں سے آگے ایسا ہی ہو گا۔ میرے پاس بٹ صاحب کی زندگی کے سفر، ان کی جدوجہد اور سیاسی نظریات کے ارتقاء پر خاصا مواد بھی موجود ہے۔ ایک خاکہ بھی تیار ہے کہ کسطرح اس کو لکھنا ہے۔ تاہم وہ ایک مکمل کتاب بنتی ہے جو فرصت سے لکھوں گا۔ میرے ذاتی پس

منظر اور جہاں میں اب ہوں وہاں سے مجھے لگتا ہے کہ فلحال راجہ سجاد کے بقایا الزامات کو نپٹانا

ضروری ہے۔ اس کے بعد بٹ صاحب کی زندگی پر لکھنا جاری رکھوں گا۔ امید ہے کہ وانی صاحب

اور دیگر سینیئر و جونیئر دوست جو ان سے اتفاق کرتے ہیں بُرا نہیں منائیں گے۔)

اس دوران سجاد راجہ اور ان کے چند حمایتیوں کے اندازِ تنقید پر مجھے ایک خیال سوجھا تھا جو
میں نے اپنی وال پر شئیر کیا تھا۔

تنقید سے کوئی بھی
ماوراء نہیں
کوئی بھی خدا نہیں
اور تنقید ہے یہ
کیوں وہ خدا نہیں

مقبول بٹ پشاور میں کیوں رہائش پذیر ہوئے؟

جیسا کہ میں نے پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ کے کشمیری
جو بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتے اپنے دلوں میں پاکستان سے محبت اور امیدیں لے کر آتے ہیں
(تھے)۔ مقبول بٹ اس سے مستثنا نہیں تھے۔ بیس سال کی عمر کے کالج میں جوشیلی تقریریں کرنے
والے لڑکے کو جسے بھارتی مقبوضہ علاقے میں آزادی کا دشمن اور آزادی کا راستہ چھوٹی عمر میں صاف
نظر آگیا تھا اس کو ابھی شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ ریاستی سطح پر جو بھی ہو جس مذہب یا نظریے کے نام پر
ہو اگر وہاں حقیقی عوامی جمہوریت اور سماجی انصاف نہ ہو تو وہاں حکمران طبقوں اور عوام کے مفادات
الگ الگ الگ ہی نہیں ہوتے بلکہ جب تک طبقاتی راج قائم رہے اکثر متصادم بھی رہتے ہیں۔
(بالکل اسی طرح جیسے ان کے گاؤں میں اور سکول میں)۔

تاہم مقبول بٹ کی پاکستان آمد اور مستقل سکونت اختیار کرنے کے مسئلے کو تنگ نظر قوم پرستانہ عینک سے نہیں بلکہ ”ترک وطن“، ”ہجرت“، یعنی مائیگریشن کے علم کے ذریعے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

ہجرت جو کہ معلوم تاریخ کے شروع عہد سے ہی انسانی زندگی کے بقاء اور نشوونما کا لازمی حصہ رہی ہے آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ برصغیر میں بھی دیس چھوڑ کر پردیس جانے کی روایت بہت قدیم ہے۔ برطانوی راج کے خاتمے پر تقسیم سے پہلے صدیوں سے مختلف خطوں کے لوگ مختلف وجوہات (باہر دھکیلنے والے (پش) اور اندر کھینچنے والے (پل) عوامل) کی بناء پر ترک وطن کرتے رہے ہیں۔ اگر ہم مجرد انداز میں اس عمل کو دیکھنے کے بجائے میر پور سے برطانیہ اپنی کمیونٹی، خاندان اور خود اپنی ہجرت کے عمل کی روشنی میں دیکھیں تو ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مقبول بٹ پشاور جا کر کیوں بسے؟

ہمارے اجداد جو برطانیہ آئے تھے ان سے لے کر ہم تک جو بھی آیا کسی وسیلے سے آیا۔ یہاں آ کر سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کے پاس گئے۔ اگر رشتہ دار نہیں تو گاؤں، علاقے، وطن، ہم مذہب یا ہم خیال سیاسی۔۔۔ اور پھر اکثر وہیں نئے رشتوں ناطوں میں بس کر اسی کو اپنا دوسرا گھر بنا لیتے ہیں اور کچھ، بہت ہی کم، واپس وطن چلے جاتے اور کچھ نئے وطن کے اندر یا وہاں سے بھی ہجرت کر کے کسی اور نئے وطن میں چلے جاتے ہیں۔ یہ عام طریقہ کار رہا ہے دنیا بھر میں ہجرت کر کے نئے ممالک میں جا کر بسنے والوں کا۔ مقبول بٹ کا پشاور میں بسنا بھی اسی اصول کے مطابق تھا جس کی محدود تفصیلات یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

وہ 1958 میں جب مظفر آباد پہنچے تو بقول غلام دین لالہ جو مقبول بٹ سے ایک سال پہلے بارہ مولا چھوڑ کر مظفر آباد آئے اور تفتیشی مرکز میں روٹیاں پکاتے رہے تھے کے بقول بٹ صاحب کو بھی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد بقول ماسٹر مقبول، مقبول بٹ اور ان کے چچا عبدالعزیز بٹ، چند روز میر غلام نبی گرداور کے ہاں ٹھہرے جس کے بعد وہ میر صاحب کا رقعہ لے کر ایبٹ آباد ان کے پاس آئے۔ ماسٹر مقبول کے بقول میں نے عبدالعزیز بٹ سے پوچھا کہ مقبول بٹ کو کیوں یہاں لائے ہو تو انہوں نے بتایا کہ مقبول بٹ کے والد یعنی عزیز بٹ کے بڑے بھائی عبدالقادر بٹ نے ان سے کہا کہ اس کو وہاں لے جا کر اس کی اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کرو شاید یہ بچہ ہمارے خاندان کا نام روشن کرے ۔

خود بٹ صاحب نے بھی ماسٹر صاحب کو بتایا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ان کے لیے حالات سازگار نہیں تھے اس لیے ان کی پہلی ترجیح تعلیم مکمل کرنا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے پہلے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اپلائی کیا ۔ (اگر مظفر آباد میں کوئی یونیورسٹی ہوتی تو شاید وہیں داخلہ لے لیتے)۔ لیکن ان کو پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ نہ مل سکا تو وہ چچا کے ساتھ ان کے کسی جاننے والے کے پاس پشاور چلے گئے جہاں ان سے پہلے بھی کئی کشمیری گھرانے آباد تھے۔ یہاں ان کو پشاور یونیورسٹی میں ایم اے اردو ادب میں داخلہ مل گیا۔ شام کو ممتاز پشتون سیاستدان ، شاعر ، ادیب اور خدائی خدمت گار ، صحافی اجمل خٹک کے اخبار "شہباز" میں کام اور چچا عزیز نے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے مولوی فتح محمد کی وساطت سے گھنٹہ گھر کے سامنے متروکہ مکان نمبر 2508-K بھی حاصل کر لیا ۔ مکان تھا تو تین منزلہ لیکن خستہ حال۔ چچا جو کہ کپڑے کے کاریگر تھے نے مقامی ہوزری کی فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا۔ کھانا پکانا چچا بھتیجا خود ہی کرتے تھے۔

یونیورسٹی میں ان کے کلاس فیلوز میں پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز بھی شامل تھے۔ بقول ان کے مقبول بٹ ، جو جلد ہی ان کے ترقی پسند گروپ کا حصہ بن گئے تھے، ان میں ایک بڑا منفر د ساسپارک / شعلہ تھا۔ پاکستان آ کر جب یہاں کے حالات کو قریب سے دیکھا تو بڑے حیران ہوئے کہ یہاں کے نوجوان حکمرانوں کے خلاف اٹھ کیوں نہیں کھڑے ہوتے ۔۔ 1960 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کو اجمل خٹک کے ایک دوسرے اخبار "انجام" میں کل وقتی سب ایڈیٹر کی ملازمت مل گئی۔ اس کے بعد ایک سادہ سی تقریب میں ماسٹر مقبول صاحب کی عزیزہ راجہ بیگم کے ساتھ شادی ہو گئی۔ لیکن اس سے اگلے سال مقبول بٹ نے پہلی بیوی کو بتائے بغیر پشاور میں کراچی کی ایک سکول ٹیچر ذاکرہ بیگم سے دوسری شادی کر لی ۔ بقول ماسٹر مقبول انہوں نے 1961 میں آزاد کشمیر میں اسسٹنٹ کمشنر کے لیے امتحان بھی پاس کر لیا تھا لیکن ملازمت اختیار نہ کی ۔ (عام طور

پر اس طرح کے معاملات کی تصدیق مقامی اداروں کے ریکارڈ سے ہوا کرتی ہے ۔ معلوم نہیں آزاد

کشمیر میں 1960 کے عشرے میں مقبول بٹ کی طرف سے اے سی کا امتحان پاس کرنے کا کوئی

ریکارڈ ہوگا یا نہیں؟) اس کے بعد پاکستان ائیر فورس کے لیے تحریری امتحان بھی پاس کر لیا لیکن جب

انہوں نے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت مانگا جس کے لیے وزارت داخلہ سے سرٹیفکیٹ لینا پڑتا تھا

تو ملازمت کا خیال دل سے نکال دیا۔

اس کے بعد سیاست جو کہ سنٹ جوزف کالج کے بعد پسِ منظر میں چلی گئی تھی اس میں پھر
سے سرگرم ہو گئے۔ سفر کے اس مرحلے پر پہلے تو بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں حصہ لیا پھر
لبریشن لیگ میں شامل ہوئے اور پھر انڈی پنڈنس کمیٹی سے ہوتے ہوئے محاذ رائے شماری اور این
ایل ایف۔ لیکن اس سب کی تفصیلات بعد میں ۔ یہاں جو بات بٹ صاحب کی ہجرت اور سکونت
کے بارے میں ان بنیادی حقائق کو پیش کر کے نمایاں کرنا مقصود ہے وہ یہ کہ وہ نچلے طبقے کے ایک
عام آدمی تھے جن کو غلامی سے نفرت تھی۔ اس کی شکل کوئی بھی ہو کہیں بھی ہو۔ وہ کسی ایجنسی کے کہنے
پر یا ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے کا کوئی پلان لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ بے شماری کشمیریوں کی
طرح ”پاکستان“ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے پروان چڑھے تھے اور ”اس پار“ کے تجسس کی
تحریک پر کئی بار پہلے بھی قبضے کی لکیر کو پار کرنے کی کوششیں کر چکے تھے۔ کالج میں بھارتی
اسٹیبلشمنٹ اور ان کے مقامی کل پرزوں کے خلاف جوشیلی سرگرمیوں کے نتیجے میں زیر زمین چلے
گئے تو چاچا عزیز بٹ جو کہ سینکڑوں دیگر کشمیریوں کی طرح زندگی سے بہتر مواقعوں کی تلاش میں آر پار
آتے جاتے رہتے تھے کے ساتھ یہاں آگئے۔ اگر وہ کسی سرکاری پلان کے تحت آتے تو شان سے
رہتے اور شاید سیدھے فوج یا ائیر فورس میں ہی چلے جاتے ۔ لیکن انہوں نے دیگر عام آدمیوں کی
طرح اپنے لیے پاکستانی معاشرے کے مزاحمتی اور ترقی پسند حلقوں میں اپنے لیے جگہ بنائی اور
شعوری طور پر ریاست پر قبضے کے خلاف اور ایک خوشحال و سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے راستے کا انتخاب کیا۔

یہ سوال کہ وہ اگر پاکستان کو دشمن سمجھتے تھے تو پشاور کیوں سکونت اختیار کی اس کا جواب دیا جا چکا ہے لیکن کچھ لوگوں کو ایک خاص زبان ہی سمجھ آتی ہے۔ ان کے کے لیے خاص طور پر یہ کہ مقبول بٹ واقعی میں پاکستان کو دشمن نہیں بلکہ دوست سمجھتے تھے لیکن جب یہاں آ کر رہنا شروع کیا تو ان کے صاف شفاف ذہن دماغ کو بہت جلد نظر آگیا کہ حکمران طبقوں نے اپنے عوام کو بھی مقبوضہ اور مفتوحہ بنایا ہوا ہے۔ انہیں پاکستان کیا بھارت کے عوام سے بھی نفرت نہیں تھی۔ نفرت اگر تھی تو غلامی، جبر، استحصال، ریا کاری، فرسودگی، بیماری، ان پڑھہی اور محرومیوں سے۔ وہ عوام دشمن نہیں عوام دوست تھے۔ وہ تنگ نظر قوم پرست یا مذہبی بنیاد پرست نہیں تھے۔

یہاں اس قسط کے آخر میں شاید یہ مناسب مقام ہے سجاد راجہ کے اعتراض نمبر 3 کا براہ راست جواب دینے کا:

اعتراض 3۔ اگر مقبول بٹ صاحب 1968 کے بعد پاکستان اور بھارت کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شروع ہو گئے تھے تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ 1971 میں بھارت کا طیارہ اغواء کروانا اور اسے پاکستان لانا کیا ڈرامہ ہے؟ یہ کام ثابت کرتا ہے کہ مقبول بٹ صاحب بدستور پاکستان کی مدد سے کشمیر کو بھارت سے آزاد کروانا چاہتے تھے۔ وہ پاکستان کو اپنا دوست، اپنا بھائی اور مددگار سمجھتے تھے۔

کس کو دوست اور کس دشمن سمجھتے تھے اس کی جو وضاحت بٹ صاحب نے خود کی تھی اس سے بہتر کم از کم میرے لیے ممکن نہیں۔

’’ہماری آزادی کے چار دشمن ہیں

1۔ بھارتی فوج اور بھارتی ریاستی مشینری کے وہ کل پرزے جو ریاست پر جارحانہ قبضے کو دوام بخشنے میں مدد کر رہے ہیں

2۔ پاکستان میں خود ساختہ سیاستدانوں کے وہ حلقے جو امریکی اور روسی سامراج کے گماشتے ہیں اور جو عوامی تحریکوں کے ذریعے قومی مفادات کے حصول پر یقین نہیں رکھتے

3۔ کشمیری قوم میں پائے جانے والے وہ عناصر جو شکست خوردہ ذہنیت کے مالک ہیں یا خود اعتمادی کے فقدان کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اس کیفیت کے باعث شعوری یا لاشعوری طور پر عوامی سطح پر تحریک منظم ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں یا جو بعض کمینے مفادات کے باعث ’’کوئزلنگ‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔

4۔ بین الاقوامی سطح پر وہ طاقتیں جو دنیا میں سامراج اور نو آبادیات کی علمبردار ہیں یا اسکی حمایت کرتی ہیں۔‘‘

اور پھر یہ کہ

’’ہر وہ جماعت، ہر وہ فوج اور وہ ملک ہمارا دشمن ہے جو ہماری آزادی کا دشمن ہے۔‘‘

ان دو وضاحتوں میں سجاد راجہ کے سب ہی سوالات، اعتراضات اور دعوؤں (جو کہ اکثر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں) کا جواب آ جاتا ہے۔ تاہم چونکہ میں نے ذمہ داری لی ہے کہ ہر ایک اعتراض کا جواب دینا ہے اس لیے نیچے کی سطور میں حلف لے کر انتخابات میں حصہ لینے والے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔

اگلے اعتراض میں اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کہ مقبول بٹ شہید کی پاکستان کے بارے میں سوچ و فکر گنگا ہائی جیکنگ کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی تھی 1975 کے انتخابات میں حصہ لینے کی مثال پیش کی گئی ہے۔

’’شاہی قلعے سے رہا ہونے کے بعد مقبول بٹ صاحب نے 1975 کے آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی شق پر حلف دے کر دو نشستوں سے حصہ لیا۔‘‘

اس بارے میں سب سے پہلے تو بہتانئے خود یہ جواب دیں کہ مقبول بٹ نے کب انتخابات میں حصہ لینے کو حرام قرار دیا تھا؟ کب کہا تھا کہ ایکٹ چوہتر کے بعد کسی کو انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے؟ اور کس بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ایکٹ چوہتر کے تحت انتخابات میں حصہ لینا پاکستان سے دوستی کے مترادف ہے؟

ایکٹ چوہتر میں الحاق کی شق ختم کیے بغیر حصہ نہ لینا کسی ایک فرد یا جماعت یا جماعتوں کی سمجھ ہوسکتی ہے اور ان کا موقف ہوسکتا ہے۔ لیکن مقبول بٹ اور ان کی جماعت محاذ رائے شماری جس کی ہدایت پر وہ اس وقت ان سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے کیا ان کا یہ موقف تھا؟ اگر تھا تو پہلے اس کا ثبوت پیش کریں کہ انہوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا حلف لیا ہوا تھا کہ پاکستان حلف کی موجودگی میں ہم حصہ نہیں لیں گے لیکن حصہ لیا۔

محاذ تو شروع دن سے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے۔ اعظم دت صاحب تو اب بھی کبھی کبھی انتخابات لڑتے ہیں۔ اس لیے یہ دعویٰ اور اعتراض بھی فضول اور بے بنیاد ہے۔ مقبول بٹ شہید کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں جو کچھ دستیاب ہے تقریباً وہ سب ہی میں نے پڑھا اور سنا ہے لیکن کہیں میں نے کبھی کہیں نہ پڑھا اور نہ سنا کہ مقبول بٹ نے کہا ہو کہ میں ’’آزاد‘‘ کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا۔

انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا، مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا یا نہ کرنا، یا دونوں راستے اختیار کرنا یا نہ کرنا، ان سب کا تعلق حکمت عملی سے ہے اور ساری دنیا میں ”آزادی پسندوں“ نے اس طرح کی صورت حال سے نپٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپنائی ہیں۔

برطانیہ سے آئرلینڈ کی آزادی کی علمبردار تنظیم شین فین کی اس بارے میں حکمت عملی بڑی دلچسپ تھی۔ وہ انتخابات میں حصہ لیتے تھے لیکن جیتنے کے بعد برطانیہ کی پارلیمنٹ میں آ کر نہیں بیٹھتے تھے۔ لیکن سکاٹش نیشنل پارٹی ایسا نہیں کرتی۔ وہ جیت کر برطانوی پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہیں۔

چند سال قبل سکاٹش نیشنل پارٹی کے سابق صدر ایلیکس سائمن (مرحوم) کے ساتھ گلاسگو میں ہمارے بہت ہی محترم مہربان چوہدری عبدالمجید کی وساطت سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا جب لبریشن لیگ کے ڈاکٹر مسفر صاحب مجھے ایس این پی کی کانفرنس میں شرکت کرنے لے گئے تھے۔

وہاں پر جے کے ایل ایف کے تحسین گیلانی، شکیل جرال اور شاید صابر گل اور دیگر بھی موجود تھے۔ وہاں الیکس سائمن نے بتایا کہ ہمیں بھی وفاداری کا حلف لینا پڑتا ہے لیکن طریقے دو ہی ہوتے ہیں۔ یا تو اس کے خلاف مسلسل مہم چلائیں یا پھر سیاسی حکمت عملی کے طور پر حصہ لے لیں اس اعلان کے ساتھ کہ ہم اسمبلی میں جا کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور جب اکثریت ہوئی تو اس جمہوریت مخالف قانون کو بدل دیں گے۔ اس لیے اگر تو مقبول بٹ شہید نے یہ کہا ہو کہ ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور پھر حکمت عملی بدلنے کی کوئی معقول وجہ بتائے بغیر حکمت عملی بدلی ہو تو پھر تو آپ کا سوال بنتا ہے ورنہ تو بہتان ہی ہے نا؟

اگلے اعتراض میں بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مقبول بٹ پاکستان کے سہولت کار تھے۔ ’’انتخابی مہم کے دوران جب ایک صحافی نے پاکستان کے بارے میں سوال کیا تو مقبول بٹ صاحب نے جو جواب دیا وہ آپ خود اس آڈیو کلپ میں سُن لیں جو میں نے یہاں لگایا ہے۔‘‘

اس سلسلہ میں یہاں پر میں مقبول بٹ شہید کے جواب کا پورا حصہ پیش کر رہا ہوں جس میں سے بہتانیے اپنی مرضی کا حصہ نکال کر بچوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ یہ حصہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیسٹر میں مقیم کارکن ڈاکٹر آفتاب حسین نے اپنی وال پر سے شیئر کیا تھا جن کا میں مشکور ہوں۔ میرا نہیں خیال کہ اس پر مجھے کچھ مزید کہنے کی ضرورت ہے۔

”(مقبول بٹ) کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں جو فرد جو گروپ جو جماعت جو طاقت جو حکومت ہمارے ساتھ دشمناناں رویہ اختیار کرے گی اُس کے ساتھ ہم علی الاعلان دشمنی کریں گے چاہے وہ ہمارا کوئی بھی ہو چاہے وہ ہمارا ہم مذہب ہی کیوں نہ ھو اور جو طاقت اس سلسلے میں ہماری عانت کرے گی ہماری مدد کرے گی ہمارے ساتھ چلے گی ہم ہمیشہ اُس کو وہی درجہ دیں گے وہی سلوک دیں گے اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کریں گے جو ایک کامریڈ کا عام ھوتا ہے۔

(صحافی کا سوال۔ پاکستان نے آج تک اس سلسلے میں کچھ دوستی کی ہے؟)

(مقبول بٹ) بالکل کی ہے ہم تسلیم کرتے ہیں اور ہم نے اسے ہمیشہ دوستی اور بھائی کا درجہ دیا ہے۔ لیکن دوستی کا تعین اس راستے پر ھوگا دوستی کا فیصلہ اس راستے پر ھوگا۔

اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے کچھ حلقے چاہے کشمیر کی آزادی کے مخالف ہی کیوں نہ ھوں اس قسم کے پاکستان میں ضرور موجود ہیں مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے اس لیے کہ میں خود اس سٹیج سے گزر چکا ھوں اور مجھے معلوم ہے پاکستان میں بعض حلقے ایسے ضرور موجود ہیں جو کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے ہیں اور خود ہمارے کشمیریوں میں بھی ایسے حلقے موجود ہیں اور ایسے عناصر موجود ہیں جو کشمیر کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے ہیں کہ یہ سیز فائر لائن ٹوٹے اور ریاست آزاد ھو جائے لیکن اُن عناصر کو ہم انشاء اللہ میدان میں ایکسپوز کریں گے۔

(صحافی کا سوال جو آپ نے یہاں فرمایا کہ جدوجہد جاری رکھیں گے اس سلسلے میں دوسرے ممالک سے کوئی امداد حاصل کریں گے؟)

(مقبول بٹ) میں آپ سے عرض کروں ہماری بنیاد پالیسی ہے اور بنیادی پالیسی یہ ہے کہ ہم جب تک اپنے پاؤں پر خود کھڑے نہیں ھوں گے۔ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگے گے

(صحافی امداد)

(مقبول بٹ) میں امداد کی ہی بات کر رہا ھوں امداد ہم نہیں چاہتے ہیں کہ کسی سے مانگیں امداد کیلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے ہماری بنیادی پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہو جائیں جب ہم اپنے پاؤں پر خود کھڑے ھونگے اس کے بعد ہر وہ طاقت ہر وہ قوم ہر وہ ملک جس میں انسانی آزادی کے احترام کا کچھ بھی پاس ھو گا جو انسانی آزادی کے سلسلے میں کچھ بھی احترام رکھتی ھو گی وہ ضرور ہماری مدد کرے گی۔“ (ڈاکٹر آفتاب کی وال سے)

وضاحت:

(اس تحریر کے پہلے دن سے جہاں آن لائن تبصرے ہوئے وہاں کئی دوستوں، جن میں سے اکثر وطن کے اندر اور کچھ باہر ہیں، نے صلاح دی کہ آپ ایک فضول آدمی کے فضول بہتانوں کا جواب دے رہے ہیں۔ آپ درحقیقت اس بندے کا سہارا بن رہے ہیں جس کو ہم بچپن سے جانتے ہیں اور جس کی سیاست ”الف سے یے“ تک ہم جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اور فیلڈ میں ان کا سیاسی مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ آپ ان کو نظر انداز ہی کر دیتے تو اچھا ہوتا۔)

اس سلسلے میں ظاہر ہے کہ ہر کسی اپنی اپنی رائے اور حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ میں نے بہتر سمجھا کہ بہتانوں کا جواب دیا جائے اور بہتانیوں کو کھلے عام سمجھا بھی جائے تا کہ صرف ہم کو ہی نہیں سب کو پتہ چلے۔ کیونکہ میں نے جتنا کچھ مقبول بٹ شہید کے بارے میں پڑھا جن پر اعتراض اٹھائے گئے اور جن کے حوالے سے میں یہ لکھ رہا ہوں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے تو ہمیشہ سوال اٹھانے والوں کو جواب دیے چاہے وہ سوالات علمی کم اور بہتان تراشی زیادہ ہوں۔

کیونکہ میرے خیال میں سوشل میڈیا کے عہد میں جب معلومات کی ترسیل ہر لمحہ جاری ہے، دلائل مختلف شکلوں میں اذہان کو متاثر کرتے ہیں اور بیانیے تشکیل پاتے، بکھرتے اور مضبوط و کمزور ہوتے رہتے ہیں ”خاموشی“ ان نوجوان ذہنوں کو ”نیم رضامندی“ محسوس ہو سکتی ہے جو جذبوں اور خلوص سے بھرے ہوئے ہیں اور بٹ صاحب پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ان کے انداز پر سیخ پا بھی ہوتے ہیں لیکن ٹھوس، حقیقی اور ناقابل تردید اور ممکنہ حد تک معتبر حوالوں سے اکٹھی گئی معلومات تک ان کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس ایک وجہ سے میں سجاد راجہ کا مشکور ہوں کہ اس نے اس انتہائی اہم کمی کا احساس دلایا۔ اگر چہ بٹ صاحب پر اب ماشا اللہ بہت سا مواد موجود ہے۔ سفیر حریت، شعور فردا، دیوانوں پہ کیا گذری، میرا قائد میرا رہبر جیسی اردو زبان میں سعید اسعد اور رفیق خواجہ کی طرف سے مرتب کی گئی کتابوں میں اور انگریزی میں کئی ویب سائیٹس اور رسالوں میں۔ تاہم ان کی زندگی کے پورے سفر کے ایک ٹھوس اور معروضی بیان کی ضرورت ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلووں پر مختلف لوگوں نے لکھا ہوا جو کہ بہت ہی مفید ہے۔ کیونکہ اس سے ان کے سفر کی مکمل کہانی بیان کرنے اور سیاسی ارتقاء اور نظریات کی تشکیل ونشوونما کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اعتراض کرنے والوں اور کچھ ان کی حمایت کرنے والوں کی زبان، انداز اور ’دلائل‘ سے یہ بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ان کا مقصد تنقید کرنا نہیں بلکہ بہتان تراشی ہی اور وہ اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں ایک سیاسی مقصد کے تحت۔ حالانکہ وہ مہذب طریقے سے بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمیں مقبول بٹ کے نظریات، مقاصد یا حکمت عملی سے اتفاق نہیں اور اس کی یہ یہ وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے بڑی وجہ جو اکثر لوگوں کو اس راستے پر نہیں چلنے دیتی وہ یہ ہے کہ یہ بہت مشکل راستہ ہے۔ کیرئیر سیاستدان۔ میرے جیسے کمزور دل افراد اور سیاست کو شغل میلہ سمجھنے والے اس پر نہیں چل سکتے۔

اس سارے عمل سے میں نے جو اب تک نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ بہتانیوں کے دعوے کی اصل یہ ہے کہ ”مقبول بٹ پاکستان کا دشمن نہیں تھا“۔ اور ان کو اعتراض ہے کہ وہ کیوں نہیں تھا۔ ان کی تنگ نظر سمجھ کے مطابق اگر دشمن نہیں تھا تو پھر سہولت کار تھا۔ جیسا کہ میں نے قسط نمبر چار میں مقبول بٹ کے اپنے ہی الفاظ میں واضح کیا تھا کہ مقبول بٹ تنگ نظر قوم پرست یا فرقہ پرست نہیں تھا۔ وہ پاکستان کا دشمن بھی نہیں تھا اور بھارت کا دشمن بھی نہیں تھا۔ وہ ہمارے وطن پر قابضوں اور ان کے آلہ کاروں کا دشمن تھا۔ پاکستان اور بھارت کے عوام سے اس کی کوئی دشمنی نہیں تھی۔ کیونکہ یہ حقیقت تو ان کو ایک طرف بچپن میں دوسری جوانی میں ہی معلوم ہو گئی تھی کہ ایک استحصالی طبقے نے عوام اور مختلف قومیتوں کو پاکستان میں بھی غلام اور مفتوحہ بنا رکھا ہے اور بھارت میں بھی۔

دوسری بات جو میں نے سمجھی ہے اس مشکل مشق سے وہ یہ ہے کہ ”بہتانیے“ پہلے بغیر کسی تحقیق کے کچھ فرض کرتے ہیں اور پھر اپنی اس من گھڑت فرض کی ہوئی اپنی سمجھ پر خود ہی اعتراض کرتے ہیں جیسے یہ ”حقیقت“ ہو۔ اوپر کی مثال میں پہلے انہوں نے فرض کیا کہ مقبول بٹ اور قومی آزادی کی جدوجہد کے حامی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے دشمن ہیں اور پھر دعویٰ کیا کہ نہیں وہ دشمن نہیں ہیں اور پھر اپنے بے بنیاد اور من گھڑت مزید دعوؤں کی بنیاد پر یہ ”ثابت“ کیا کہ وہ پاکستان کے دشمن نہیں تھے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے دشمن تھے نہ پاکستان کے بلکہ کشمیر پر ان کے غاصبانہ، جارحانہ اور غیر قانونی قبضے کے دشمن تھے اور اس کا ثبوت منقسم ریاست کے آر پار لاکھوں آزادی پسند آزادی پسند کشمیریوں کے سواء کیا ہوسکتا ہے؟
سجاد راجہ نے فیس بک پر 17 اور 28 فروری کو مقبول بٹ پر جو الزامات لگائے تھے ان کے ثبوت میں انہوں نے جو نمبر دے کر دعوے کیے تھے ان کے جواب میں نے گزشتہ پانچ قسطوں میں ایک ایک کر کے دینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کوئی علمی (اور حتیٰ کہ مہذب سیاسی) تنقید نہیں بلکہ بہتان بازی اور الزام تراشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

میں نے پہلی اور دوسری قسط میں دو باتیں واضح کی تھیں ۔ ایک یہ کہ سیاسی شخصیات ، تحریکوں و تنظیموں سمیت کچھ بھی ساکت و جامد نہیں رہتا۔ حالات کے ساتھ ساتھ کبھی شعوری اور کبھی تحت شعوری اور کبھی حالات کے جبر تلے مجبوری سے تغیر و تبدل جاری رہتا ہے۔ دوسری بات جو واضح کی تھی وہ یہ کہ کسی بھی سیاسی اور عوامی شخصیت، تنظیم و تحریک یا کسی بھی سماجی مظہر پر سوالات و تنقید کرنا اور سوال اٹھانا ہر کسی کا حق ہوتا ہے۔

میں نے سجاد راجہ یا جو لوگ ان کی سوچ کے حمایتی ہیں کے حق سوال یا حق تنقید پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ان کے اس حق کو مسترد کرتا ہوں۔ البتہ میں نے اپنا حق جواب یا جوابی حق استعمال کرتے ہوئے ان کے انتہائی بھونڈے انداز کی تہہ میں ”بلکتے“ سوالوں ، اعتراضات اور دعوؤں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

اس کے جواب میں انہوں نے جو ایک تبصرہ کیا تھا وہ اور بھی زیادہ بھونڈا تھا۔ شاید میری پوسٹ پڑھے بغیر ہی کیا۔ لیکن جب پوسٹ پڑھی تو لکھا اب ایڈیٹ کیوں کی ہے۔ ابھی تو شروعات ہیں۔ حالانکہ میں نے پوسٹ ایڈٹ کی ہی نہیں تھی۔

بہر حال میں نے اپنے تئیں کوشش کی ہے کہ مقبول بٹ شہید سمیت تمام تاریخی کرداروں، واقعات، تحریکوں، تنظیموں اور ان کی حکمت عملیوں پر ریاستی باشندے کی حیثیت سے بحث کو تعمیری، مہذب، علمی رکھا جائے۔

اس سلسلے کی اس آخری قسط میں دو باتیں جواب کے لائق ہیں۔ ایک تو سجاد راجہ کا مرکزی دعویٰ کہ مقبول بٹ شہید پاکستانی مدد سے وادی کشمیر کو آزاد کشمیر سے ملانا چاہتے تھے اور دوسرے یہ کہ سجاد راجہ کی تحریر سے کیا لگتا ہے کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں اور کون سی حکمت عملی اختیار کرنے کا درس دے رہے ہیں۔

میں نے اس قسط میں صرف اس آخری بات کو نمایاں کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے کیونکہ دوسرے پہلو کا تعلق وسیع تر تحریک سے جو الگ سے ایماندارانہ علمی تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس کی مزید وضاحت اخر میں پیش کی گئی ہے۔

اب آئیے دیکھیں کہ مقبول بٹ پر بہتان تراشی کرنے کے بعد کہ وہ پاکستان کے سہولت کار تھے؛

ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک پر بہتان تراشی کرنے کے بعد کہ یہ ریاست کی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کی سہولت کاری کے ذریعے وادی کو آزاد کروا کر آزاد کشمیر کے ساتھ ملانے کی تحریک ہے؛

ملاحظہ کیجیے خود ان کی طرف سے کیا تجویز کیا جارہا ہے

’’پاکستان سے آزادی حاصل کی جائے اور بھارت کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کے مشروط معاہدے کی بنیاد پر مذاکرات کیے جائیں۔‘‘

میں نے اپنے جواب کی پہلی قسط میں ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ مقبول بٹ پر اس بھونڈے انداز میں بہتان تراشی کا مقصد درحقیقت پراکسی بن کر کام کرنے کا جواز پیش کرنا تھا۔ یہاں میں خود سجاد راجہ کے الفاظ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو انہوں نے اپنی 28 فروری والی پوسٹ میں ایک بار نہیں دو بار لکھے ہیں۔ ایک بار دبے لفظوں میں اور پھر کھلے عام۔

پہلے دبے لفظوں میں بھارت کے لیے کام کرنے کی بات۔۔۔ ’’فرض کریں اگر ہم بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں اور بھارت یا پاکستان کے لئیے کام کر رہے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ ریاست کے اندر لاکھوں لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ اگر ہم کر رہے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے“

اور پھر کھل کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’پاکستان اور انڈیا دونوں ریاست کو اپنا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اور دونوں کے ریاست کے اندر لاکھوں پراکسی موجود ہیں۔ اگر ہم پراکسی ہیں تو کیا ہوا۔ ہم کوئی اکیلے یہ کام تو نہیں کر رہے‘‘۔

سچی بات ہے پہلے مجھے سجاد راجہ نے جو کچھ لکھا اس پر غصہ آیا تھا لیکن اب افسوس ہو ، اور ترس آ ، رہا ہے۔

بھائی بالکل آپ کریں۔ لیکن اپنے پراکسی کردار کو جواز بخشنے کے لیے اس شخص کو تو الزام نہ دیں جس نے شعوری طور پر کسی کے پراکسی کی بجائے قومی آزادی کے لیے ایک عوامی تحریک اٹھانے کی جدوجہد میں اپنی زندگی کے سارے لمحے اور آخر جان تک وار دی؟

یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ کراچی یونیورسٹی اقبال ہوسٹل کمرہ نمبر میرے خیال میں 3/3 تھا۔ وہاں مسلم کانفرنس کے ممتاز رہنما اور حلقہ نمبر دو سے قومی اسمبلی کے ممبر اور وزیر کیپٹن سرفراز مرحوم جو کہ اپنے بھائی ذوالفقار سے ملنے آئے ہوئے تھے تشریف فرما تھے۔ میں ابھی نیا نیا ’’خود مختاریا‘‘ بنا تھا۔ وہاں باتوں باتوں میں مقبول بٹ شہید کا ذکر چلا تو کپتان صاحب نے کہا کہ وہ تو بھارتی ایجنٹ تھا۔ میں نے این ایس ایف کے سینئرز جو وہاں موجود تھے کی طرف دیکھا۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا اور کپتان صاحب وضاحت کرتے رہے کہ گنگا کا اغواء کس طرح پاکستان توڑنے کے لیے بھارتی سازش تھی وغیرہ وغیرہ۔ میں نے پھر صبر کیا کہ کوئی ’’بڑا‘‘ بولے گا۔ جب کوئی نہ بولا تو میں پھٹ پڑا۔ اب بھی میں اس طرح کی صورت حال میں جذباتی ہو جاتا ہوں تب تو بالکل ہی تمیز نہیں تھی کہ سیاسی گفتگو کس طرح کی جاتی ہے۔ میں نے کہا جو خود اور اس کے بیوی بچے ساری عمر غربت اور کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ جو جیلوں میں تشدد سہتا رہا اور آخر سولی چڑھ گیا وہ ایجنٹ تھا اور آپ جب سیاست میں آئے تھے تو کیا تھا آپ کے پاس اور اب کیا ہے؟ اصل ایجنٹ تو آپ جیسے سیاستدان ہیں جو پاکستان کے نام پر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں اور آزادی کی بات کرنے والوں کو ایجنٹ بولتے ہیں ۔۔۔۔۔

اتنے میں پہا منیر (منیر حسین ایڈووکیٹ) جن کا تعلق بھمبر سے تھا اور عمر میں سب کشمیریوں سے بڑے تھے، نے اٹھ کر مجھے بازو سے پکڑا اور زبردستی کمرے سے باہر لے گئے۔ باہر جا کر ڈانٹتے ہوئے کہا، یہ تم کیا کر رہے ہو۔ کوئی بڑا نہیں بولا تو تم کیوں بول رہے ہو۔ میں نے کہا پہا اپنے قائد کی کردار کشی پر چپ کیسے رہوں۔ پُہا نے کہا تمھیں معلوم ہے کہ ”بڑے خودمختار یوں“ میں سے کوئی کیوں نہیں بولا؟ میں نے کہا نہیں ۔ تو کہنے لگے اس لیے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ان ہی لوگوں کے پاس جا کر آپ نے نوکریاں مانگنی ہیں۔ تب یہ باتیں بہت مہنگی پڑیں گی۔ میں نے کہا پُہا اس کی تو مجھے ”جاچ“ ہی نہیں ہے یعنی یہ ہنر تو مجھے آتا ہی نہیں ہے کہ کوئی اس طرح سے الزام تراشی کرے اور میں خاموش رہوں۔ اتنے میں اندر نشست ختم ہو گئی اور کپتان صاحب باہر آئے تو مجھے گلے سے لگایا اور کہا اوئے تم تو اپنے پتر ہو۔ صوفی جان تو میرا کلاس فیلو اور بھائیوں کی طرح ہے۔ پیسوں شیسوں کی تو ضرورت نہیں؟ میں نے کہا نہیں جی شکریہ آپ کا۔ (میرے باہر نکلنے کے بعد ظاہر ہے کپتان صاحب نے پوچھا ہو گا اور ان کو بتایا گیا کہ میں کون ہوں اور کس کا بیٹا ہوں۔ میرے والد پہلے کٹر مسلم کانفرنسی اور بعد میں کٹر جماعت اسلامی کے تھے۔ کپتان صاحب ہمارے رشتہ دار تھے)۔

اس لیے سجاد راجہ صاحب آپ کریں جو کرنا ہے۔ آپ جانے ، آپ کا ضمیر اور خدا۔ لیکن پلیز کم از کم اپنی تعلیم کا ہی لحاظ کریں اور تنقید کریں تو اپنی ”پروفیسری“ کے شایان شان۔ میری آپ سے اور کسی سے بھی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ سیاسی مخالفت البتہ ہے اور جب بھی آپ یا کسی کی طرف سے بھی مقبول بٹ اور خودمختار کشمیر کی پوری تحریک پر الزام تراشی کی جائے گی اگر اس میں کچھ نیا ہوا یا کوئی الزام جواب کے قابل ہوا اور مجھے فرصت ملی تو ضرور جواب دوں گا۔

مزید وضاحت:

میں نے اوپر جب مقبول بٹ کی سرگرمیوں کا ذکر کیا تھا تو یہ بھی کہا تھا مقبول کے سیاسی و نظریاتی ارتقاء کو ان وسیع تر سیاسی دائروں کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے جن میں ان کی سیاست و نظریات پروان چڑھے۔ یہ دائرے ہیں درج ذیل ہیں:

1۔ بھارت و پاکستان میں آزادی کے بعد حکومت و سیاست اور کشمیر پر اس کے اثرات

2۔ ریاست جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ حصے میں بھارتی و کشمیری بانی حکومتوں کانگرس حکومت اور نیشنل کانفرنس حکومت کے درمیان بظاہر محبت کی شادی میں بے اعتباری اور جبر کا عنصر

3۔ ریاست جموں کشمیر کے پاکستانی مقبوضہ حصے میں بانی حکومتوں پاکستانی مسلم لیگ اور ریاستی مسلم کانفرنس کے درمیان بظاہر محبت کی شادی میں بے اعتباری اور جبر کا عنصر

4۔ تقسیم کے آر پار دونوں حصوں میں مزاحمتی سیاست کی پیدائش، اس کی شکلیں اور ارتقاء

5۔ خود مختار کشمیر کی سیاست کی پیدائش اور ارتقاء

6۔ خود مختار کشمیر کی سیاست کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

ان موضوعات پر جب بھی فرصت ملی میں باری باری لکھ کر یہاں شئیر کرتا رہوں گا۔ اس امید کے ساتھ کہ ان تحریروں میں وہ عوامل بھی نمایاں ہو جائیں گے جن کی کوکھ سے ریاست کے اندر نئے بیانیے جنم لے رہے ہیں اور کس طرح اُن بیانیوں کو ریاست کی سیاسی فضاؤں میں 1930 سے عوامی تحریک کے پیدا ہونے سے لے کر اڑنے والے گدھ اور الیں’ اُچک‘ کر اپنا پیٹ پال رہی ہیں۔ ان وسیع تر عوامل سے بے خبر جن کی وجہ سے کشمیر میں آزادی کی جد و جہد تمام تر رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود جنوب ایشیاء اور دنیا میں آزادی کے دھاروں سے آہستہ آہستہ ہی سہی مل رہی ہے۔

امان اللہ خان

24 اگست 1934 تا 26 اپریل 2016-
کچھ ذاتی یادیں اور تاثرات

در حقیقت مجھے یہ کالم امان اللہ خان کی زندگی میں لکھنا چاہیے تھا لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر ایسا نہ ہو سکا۔ چند ہفتے قبل جب فیس بک پر ان کی بیماری اور ہسپتال میں داخلے کی خبر پڑھی تو ان کے بارے میں کچھ لکھنے کی تحریک محسوس کی۔ سچی بات یہ ہے کہ مقبول بٹ کے مقابلے میں مجھے امان اللہ خان کے بارے میں لکھنا بہت مشکل محسوس ہوا۔ اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے میری تحریری قابلیت کی کمی ہو سکتی ہے اور دوسری وجہ شاید یہ کہ ان کی سیاست اتنی سیدھی نہیں تھی جتنی کہ مقبول بٹ کی ۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ بہر حال یہ کالم لکھنے میں خاصے دن لگ گے اور اس دوران بزرگ کشمیری رہنما ہسپتال سے فارغ ہو کر دوبارہ ہسپتال میں داخل کر لیے گئے اور آج صبح صبح فیس بک کھولی تو معلوم ہوا کہ بیاسی سالہ کشمیری رہنما ہزاروں پیروکاروں اور شاید اتنے ناقدین کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

1970 کے وسطی سالوں میں جب میں اکال گڑھ سکول کا ایک طالب علم تھا تو کئی نعرے جو ہم سے لگوائے جاتے تھے ان میں سے ایک’’آزادی کے تین نشان ، ہاشم، اشرف اور ایمان‘‘ بھی تھا۔ میں آج تک یہی سمجھتا رہا کہ ہاشم اشرف کشمیری ہائی جیکر تھے جنہوں نے بھارتی طیارہ اغواء کیا تھا اور تیسرا ایمان تھا۔ تاہم بعد میں کسی مرحلے پر سُنا کہ ایمان دراصل امان تھا، یعنی امان اللہ خان۔ میں نے سوال کیا کہ پھر مقبول بٹ کے نام کا نعرہ کیوں نہیں تھا کیونکہ جہاز اغواء کرنے کی قیادت تو انہوں نے کی تھی۔ جوابی دلیل تھی کہ ان کا الگ سے نعرہ تھا۔ کیا تھا وہ نعرہ؟ مجھے تو یاد نہیں۔

میں نے سوال کیا۔ جواب آیا ”مقبول بٹ کا راستہ ہمارا راستہ“۔ مگر یہ بعد میں نہیں لگایا گیا تھا جب مقبول بٹ کو پھانسی ہوگئی تھی؟ یہ گفتگو عکاس ہے ہماری سیاسی جدوجہد خاص طور سے خودمختار کشمیر کی جدوجہد کی تاریخ رقم نہ ہونے کی۔

ذاتی طور پر میں نے امان اللہ خان کا نام پہلی بار 1982 میں سُنا جب میں پہلی دفعہ برطانیہ آیا تھا۔ امان اللہ خان 1976 سے برطانیہ میں رہ کر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں مختلف سطحوں پر آگاہی بڑھانے کے لیے بساط بھر کام کر رہے تھے۔ میں ایک ماہ رہ کر تعلیم جاری رکھنے کے لیے واپس کراچی چلا گیا۔ وہاں 11 فروری 1984 کو مقبول بٹ کی پھانسی کے خلاف مظاہرے میں اتفاقیہ شرکت کے دوران پاکستانی پنجابی پولیس کے ہاتھوں بے تحاشا تشدد اور تذلیل کے بعد سیاست اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق و وابستگی کے میرے معصوم سے جذبات اور ”نظریات“ کی دھجیاں بکھر گئیں اور میں نے مقبول بٹ اور خودمختار کشمیر کی سیاست کے بارے میں جاننے کو اپنی روزمرہ زندگی کا ایک معمول بنالیا۔ 1986 میں امان اللہ خان کی برطانیہ بدری سے چند روز قبل میرے ایک دور کے انکل کراچی کے اقبال ہوسٹل میں مجھ سے ملنے میرے کمرے میں آئے۔ میں ان کے بارے میں جانتا تھا کہ وہ کراچی پولیس میں تھے لیکن کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور میری تربیت کے مطابق اپنے سے بڑے رشتہ داروں کی غیر مشروط عزت و تکریم اور فرمانبرداری بھی شامل تھی۔ اس لیے جب انہوں نے سلام دعا اور تعارف کے بعد پوچھا کہ کیا میں کسی خودمختار کشمیر کے حامی طالب علم لیڈر کو جانتا ہوں تو میں نے جھٹ سے ہاں میں جواب دیا۔ انہوں نے پوچھا کیا میں انہیں ان کے پاس لے جاسکتا ہوں۔ میں نے پھر فوراً حامی بھری اور ان کو ساتھ لے کر دو کشمیری لیڈر جن کا مجھے معلوم تھا کہ کہاں رہتے تھے ان کے کمروں میں گیا۔ خوش قسمتی سے ممتاز خان یا شوکت کشمیری صاحبان میں سے کوئی بھی اپنے کمرے میں نہیں تھا۔ راستے میں میرے انکل نے مجھے بتایا کہ وہ بھی سمجھتے تھے کشمیر کو خودمختار ہی ہونا چاہیے اس لیے یہاں کسی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہیں آئے تھے بس اس بات کا یقین کرنا چاہتے تھے کہ امان اللہ خان کے کراچی آنے پر کوئی ہنگامہ یا تشدد وغیرہ نہ ہو۔ ان کے جانے کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں پہنچا تو مجھے اپنے رومیٹ سے میری زندگی کی پہلی سیاسی ڈانٹ پڑی۔ میں کچھ سمجھا نہیں تو اس نے وضاحت کی کہ کیا پتہ وہ خودمختار کشمیر کے حامی لیڈروں کو گرفتار کرلیں اور اس کی ذمہ داری تم پر آئے گی۔ میرا رومیٹ سیاسی کارکن نہیں تھا لیکن ایک اعلیٰ افسر گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے سیاست و سرکاری اداروں کو خوب سمجھتا تھا۔ 1986 تک میں دو بار برطانیہ آچکا تھا اور نظریاتی طور پر مکمل خودمختاریہ بن چکا تھا لیکن عملی سیاسی سرگرمیوں کی بجائے میں کشمیر کے بارے میں جو کچھ دستیاب تھا اس کو پڑھتے پڑھتے ترقی پسند اور سوشلسٹ لٹریچر پڑھنے میں مگن ہو چکا تھا۔ اور قوم پرستی کی سیاست پس منظر میں چلی گئی تھی۔ اس لیے جب میں برطانیہ آیا تو میں امان اللہ خان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا کہ ان کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اور وہ کراچی میں پڑھے تھے اور اب کافی عرصے سے برطانیہ میں مقیم تھے جہاں سے ان کو آتش گیر مواد رکھنے کے جرم میں برطانیہ بدر کیا گیا تھا۔

برطانیہ آیا تو میں کتابی طور پر زبردست سوشلسٹ اور خودمختاریہ تھا۔ اس لیے مجھے عجیب لگا کہ یہاں خاندان میں یا کمیونٹی میں خودمختار کشمیر کے لیے کوئی خاص جوش نہیں پایا جاتا تھا اور نہ ہی کسی کو سوشلزم سے دلچسپی تھی۔ اس کی وجوہات میں نے بعد میں کچھ کچھ سمجھیں لیکن یہاں ان میں جانے کی گنجائش نہیں۔ بہرحال ایسے میں جب محبوب حسین اور شبیر کشمیری اولڈہم میں مجھ سے ملنے آئے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بارے میں بتایا کہ اچھی خاصی منظم تنظیم ہے تو مجھے بڑا حوصلہ ملا۔ وہ دونوں جے کے ایل ایف کے سرگرم رکن تھے اور ان کے لیے اور جے کے ایل ایف میں شامل ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ کارکنان کی اکثریت کے لیے امان اللہ خان جن کو سب ’امان صاحب‘ کہتے تھے بڑا محترم نام اور خودمختار کشمیر کے نظریے اور تحریک استعارہ تھا۔

میں 1992 تک جے کے ایل ایف میں رہا اور اس دوران تنظیم کی ساری توجہ وادی کشمیر میں جاری تحریک پر تھی۔ اس دوران امان اللہ خان نے عبوری حکومت قائم کی جس کو کارکنان کی اکثریت نے سراہا جبکہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو اس کو عجلت میں اٹھایا گیا اقدام سمجھتے تھے۔ 1992 میں جب جنگ بندی لکیر روندھنے کا عوامی مارچ ہوا تو ہم سب نے اس کی حمایت کی لیکن اس کے بعد کوئی منظم اور ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے پر تنقید کی ۔ اس دوران یہ راز کہ وادی کی تحریک کی بھاگ ڈور اصل میں پاکستان کے ہاتھ میں تھی سب پر ظاہر ہو چکا تھا۔ اور جے کے ایل ایف کے وہ مخلص مگر جذباتی کارکنان جو کافی عرصہ قبل ہماری طرف سے یہ سوال اٹھانے پر ہمیں مارنے کو دوڑتے تھے اب ہمارے حمایتی بن چکے تھے کہ جے کے ایل ایف کو استعمال کیا گیا اور اس کا ذمہ دار امان اللہ خان کو ٹھہرایا جاتا تھا کیونکہ وہ پارٹی کے سربراہ تھے۔

اس سے چند ماہ بعد جب جے کے ایل برطانیہ کے الیکشن ہوئے تو اس میں دو پینل بن گئے۔ جس کی وجوہات کی تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں تاہم اتنا کہنا مناسب ہوگا کہ ایک پینل کو امان اللہ کا حامی اور دوسرے کو مخالف سمجھا جاتا تھا۔ لیکن درحقیقت ہم امان اللہ خان کے مخالف نہیں تھے بلکہ برطانیہ میں جماعت کے کام کرنے کے طریقہ کار اور حکمت عملی سے اختلافات رکھتے تھے۔ اس میں کچھ حد تک دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی کشمکش بھی تھی۔ الیکشن میں سیکرٹری جنرل کے عہدے کو چھوڑ کر باقی کا سارا پینل ان لوگوں کا جیتا جن کو امان اللہ خان کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن یہاں اس کا اتنا تعلق بنتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد امان اللہ خان نے جے کے ایل ایف برطانیہ کو معطل کر دیا اور اس کی اطلاع ہمیں برطانیہ سے شائع ہونے والے پاکستانی روزنامے جنگ کے ذریعے ملی جو کہ میری مختصر سی سیاسی زندگی کا ایک اور انتہائی افسوسناک دن تھا۔ اس فیصلے کو برطانیہ میں جے کے ایل ایف کی بتیس برانچوں میں سے 18 نے مسترد کیا جبکہ چودہ نے قبول کیا اور ان میں سے بھی اکثر نے کہا کہ فیصلہ غلط ہے لیکن جماعت اور تحریک کی خاطر ہم اس کو قبول کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اٹھارہ برانچوں کو ہیلی فیکس میں اجلاس ہوا جس میں ہم نے تجویز کیا کہ اس کا نام بدل کر جموں کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن فرنٹ رکھا جائے اور آئین میں کی جانے والے ترامیم کو ختم کر کے فرنٹ کے آئین کی سیکولر حیثیت کو بحال کرتے ہوئے ان کاموں پر اور اس طریقہ پر توجہ مرکوز کی جائے جس کی ہم فرنٹ کے اندر وکالت کیا کرتے تھے۔ تاہم شبیر چوہدری جنہوں نے نئے گروپ کی قیادت سنبھالی تھی ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم ثابت کریں گے کہ ہم ہی اصل لبریشن فرنٹ ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ اصل لبریشن فرنٹ وہی ہے جس کے سربراہ امان اللہ خان ہیں چاہے وہ اس کے تنہا رکن ہی کیوں نہ رہ جائیں۔ بہر حال ہم کچھ دوست جے کے ایل ایف سے کنارہ کش ہو گئے اور انسانی حقوق اور فلاح و بہبود کے ضمن میں جو مدد و حمایت کشمیر کے اندر ہو سکتی تھی وہ جاری رکھی۔ اور بتدریج اپنی توجہ برطانیہ میں موجود کشمیری کمیونٹی کی شناخت و ترقی کی طرف موڑ دی۔

امان اللہ خان سے ہم نے کبھی کوئی ذاتی عناد یا مخاصمت نہیں رکھی۔ 1994 میں جب روز نامہ جنگ کے ممتاز تجزیہ نگار ارشاد احمد حقانی کے نام میرے ایک خط کو انہوں نے چار اقساط میں چھاپا جس میں بقول ان کے میں نے خود مختار کشمیر کا نظریہ بڑی قوت کے ساتھ پیش کیا تھا تو امان اللہ خان نے مجھے ستائش کا خط لکھا جس کا میں نے ایک سخت جواب لکھا کیونکہ مجھے ابھی تک ان کے فرنٹ برطانیہ کو توڑنے کے غیر جمہوری آمرانہ فیصلے کا غصہ تھا۔ لیکن ارسال نہ کیا۔

امان اللہ خان 24 اگست 1934 کو گلگت کے علاہ استور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جمعہ خان محکمہ مال کے ملازم تھے جن کے ساتھ امان اللہ خان کی ابتدائی پرورش تعلیم ہندواڑہ میں ہوئی جو آج کل بھارتی فوجیوں کی طرف سے ایک مقامی لڑکی کو ہتک کا نشانہ بنانے کے ردعمل میں شہادتوں اور مظاہروں کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ یہاں امان اللہ نویں جماعت کے طالب علم کے طور پر پہلی بار گرفتار ہوئے تھے۔ میٹرک میں شاید اول پوزیشن حاصل کی اور ایس پی کالج سے فارغ ہونے کے بعد کراچی پاکستان سے وکالت کی ڈگری لی اور وکالت کرنے کی بجائے سکول کھولا جو عمر بھر ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ رہا۔ 1962 میں بھارتی و پاکستانی وزرا خارجہ کےمذکرات میں مبینہ طور پر کشمیر کی تقسیم پر اتفاق کرنے کی خبروں کے ردعمل میں کشمیر اینڈی پینڈنس کمیٹی بنائی اور 1965 میں محاز رائے شماری سیکرٹری منتخب ہوئے جب مقبول بٹ اس کے پبلسٹی سیکرٹری اور عبدالخالق انصاری صدر منتخب ہوئے تھے۔ محاز کے اندر مسلح ونگ قائم کرنے کی تجویز کی شکست کے بعد امان اللہ کے بقول انہوں نے اور مقبول بٹ نے نیشنل لبریشن فرنٹ بنانے کا فیصلہ کیا اور 13 اگست 1966 کو جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کا قیام میجر امان اللہ کے گھر پشاور میں عمل میں لایا گیا۔ 1971 میں گنگا طیارے کے اغواء کے بعد جب این ایل ایف زیر عتاب آگیا تو امان اللہ خان اور عبد الخالق انصاری برطانیہ آئے اور مقبول بٹ ایک بار واپس بھارتی مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ رائے شماری کا نام بدل کر لبریشن فرنٹ رکھا تو امان اللہ خان جو بقول ان کے امیگریشن سے متعلقہ وجوہات کی بناء پر اس کے عہدیدار نہیں بن سکتے تھے ان کو فرنٹ کے رسالے کشمیر وائس کا انچارج بنایا گیا اور بعد ازاں وہ فرنٹ کے چیئر بنے اور 1986 میں برطانیہ بدری تک یہ رسالہ بھی چلاتے رہے اور تنظیم بھی۔ اس دوران بہت سے وا اقعات ہوئے تنظیم کی قطر بیونت بھی ہوئی جو ایک الگ کہانی ہے۔ بائیں بازو کے بہت سے دوستوں کے نزدیک امان اللہ خان کی ساری زندگی خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر سازشوں پر مبنی تھی۔ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے ان کوسیکولر، غیر مذہبی اور لبرل کہتے تھے۔ ان کے حامی ان کو تحریک خودمختار کشمیر کا استعارہ اور قائد مانتے تھے اور ہزاروں اب بھی مانتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ واقعی لبرل اور سیکولر اور حقیقی قوم پرست سیاستدان تھے لیکن بہت بڑی انا کے مالک اور سخت آمرانہ رجحانات کے حامل۔ اور یہ بات ان کی آپ بیتی ’’جہدِ مسلسل‘‘ کی تین جلدوں کی ورق گردانی سے بھی سامنے آتی ہے کہ انہیں اپنی ان صفات و خصوصیات اور حکمتِ عملی اور سیاسی اقدامات پر فخر تھا۔ خودمختار کشمیر کا مطلب ان کے نزدیک پوری ریاست جموں کشمیر بشمول لداخ اور گلگت بلتستان کی وحدت اور ایک خودمختار قومی ریاست کا قیام تھا۔ اپنی وصیت میں انہوں نے جو کہا ہے کہ مجھے گلگت میں دفن کیا جائے میرے خیال میں یہ ان کے خودمختار کشمیر کے اسی تصور کا عکاس ہے۔

خود مختار کشمیر کا نظریہ جس میں ایک حادثے کے نتیجے میں آپٹخنے کے بعد میرے زندگی پر گہرا اثر ڈالنے والے مقبول بٹ بھارتی جیل تہار میں دفن ہیں، اشرف قریشی میر پور میں اور امان اللہ خان گلگت میں۔ ہاشم قریشی کو اللہ صحت وتندرستی اور لمبی عمر عطا کرے۔ یہ لوگ ریاست جموں کشمیر میں خودمختاری کی جدید تحریک کے بانی ہیں اور ان کی کمیوں، کجیوں، خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود جن سے شاید ہی کوئی مبرا ہوتا ہے ان کی مسلسل جدوجہد نے ریاست کے اکثر حصوں میں اگلی نسلوں تک مزاحمت اور آزادی کی ایک ایسی امنگ اور نظریہ منتقل کر دیا ہے جس کو ختم کرنا بھارت و پاکستان کی ریاستی مشینری کے بس میں ہرگز نہیں ہے۔ تاہم اندرونی طور پر اس کو جو خطرات لاحق ہیں اب آنے والی قیادت ان سے کس طرح نپٹتی ہے اس پر ریاست کے مستقبل کا دارومدار ہے۔

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

دہلی کی تہار جیل میں جہاں گیاری فروری انی سو چوراسی 11/02/1984 کو کشمیر کے ایک انقلابی رہنما مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا آج ایک اور کشمیری پھانسی کا منتظر ہے۔ مقبول بٹ کی پھانسی سے پہلے وادی میں عسکریت یا مسلح جدوجہد کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا۔ مگر اس کی پھانسی کے دوسالوں کے بعد وہاں عسکریت پسندی کی سخت لہر نے ہزاروں جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ جوان وہی تھے جنہوں نے پہلے ریاست میں موجود جمہوری ڈھانچے کے ذریعے اپنی آواز عوام تک پہنچانے اور تبدیلی لانے کی پرامن کوشش کی مگر جب اس کو جبری طور پر دبا دیا گیا تو اس کے نتیجے میں عسکریت پیدا ہوئی تھی۔ اب کچھ عرصے سے عسکریت کی بجائے ایک بار پھر پرامن سیاسی جدوجہد کے رجحان میں وسعت پیدا ہو رہی ہے اور عوام کی اکثریت کشمیر کے دونوں حصوں میں عسکریت سے شعوری طور پر دور ہٹ رہی ہے۔ مگر آج پھر ایک کشمیری کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ اور یہ کتنی قانونی ہے اور کتنی سیاسی اس کا اندازہ سپریم کورٹ کے جج صاحب کے فیصلے میں اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’صرف افضل کی پھانسی سے ہی قوم کو مطمئن کیا جا سکتا ہے‘‘۔

شاید ایسے ہی مواقعوں کے لیے فیض احمد فیض نے کہا تھا:
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی۔ کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت میں بھی ہر معاشرے کی طرح اپنے ملک کے اہلِ ہوس کے خلاف کلمہ حق کہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

یہ انٹرویو ’’اراجا‘‘ نے لیا اور سنڈے انڈیا اور کشمیر ٹائمز میں شائع ہوا تھا۔ راقم نے اس کا اردو ترجمہ بھارت و پاکستان و کشمیر اور دنیا بھر میں اردو پڑھنے والوں کے لیے کیا ہے تا کہ ہم سب مل کر افضل گورو کو ریاستی لاقانونیت اور بھارتی دائیں بازو کی انتہا پسندانہ ریاست کی بھینٹ چڑھنے سے روکنے کے لیے بھارت کے جمہوریت اور انصاف پسند عوام کے ساتھ مل کر جو ہمارے بس میں ہے کر سکیں۔
ترجمہ شمس رحمان

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ تامل ناڈو اسمبلی کی طرح اگر جموں و کشمیر اسمبلی بھی (افضل گورو کے معاملے پر) قرارداد منظور کرتی تو ردعمل ایسا معمولی نہیں ہوتا جیسا کہ تامل ناڈو کے معاملے پر سامنے آیا ہے۔ اس مسئلے پر آپ کیا کہتے ہیں؟

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے دہلی حکومت سے درخواست کی تھی کہ مجھے سری نگر جیل میں اپنے خاندان کے نزدیک منتقل کیا جائے۔ میری بوڑھی ماں، بیوی اور چھوٹے بچے کے لیے دہلی آ کر مجھ سے ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سال میں ایک بار آدھے گھنٹے کی ملاقات کے لیے اُن کو ناقابل تصور سختیوں اور ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ بس پر صرف ایک طرف کا سفر طے کرنے میں چوبیس گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر میں سری نگر جیل میں ہوں تو اُن کی مصیبت میں قدرے کمی ہو سکتی ہے۔ دہلی سرکار نے مجھے لکھا کہ ریاستی حکومت نے دہلی سے سری نگر میری منتقلی پر رضامندی نہیں دی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جے اینڈ کے کی حکومت نے سری نگر جیل میں میری منتقلی کی مخالفت کیوں کی ہے؟ جموں اور سری نگر کی جیلوں میں کئی ایک ایسے قیدی ہیں جن پر کہیں زیادہ سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ اگر عمر عبد اللہ کو میری حالت کی کوئی پرواہ ہے تو اُنہیں مجھے سری نگر جیل میں لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی قرارداد کی مجھے کوئی خواہش، ضرورت یا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔

عمر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں مرکزی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

تہاڑ جیل میں مجھے دو چٹھیاں ملیں جن میں سے ایک پر ۲۰ مئی ۲۰۱۰ کی تاریخ درج تھی اور دوسری پر یکم جولائی ۲۰۱۰ء کی اور لکھا تھا کہ جموں وکشمیر سرکار نے میری درخواست مسترد کردی ہے اور سری نگر جیل میں میری منتقلی پر رضامندی نہیں دی ہے۔ اس کی روشنی میں دہلی سرکار نے بھی میری درخواست مسترد کردی۔ اس آمرانہ اور من مانے فیصلے کے خلاف میں قانونی امداد کی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ میں گیا۔ سپریم کورٹ نے دہلی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو نوٹس جاری کیے۔ اس بات کو سات ماہ سے اوپر ہوگئے ہیں اور میرا مقدمہ چار یا پانچ بار ملتوی ہو چکا ہے مگر آج تک مجھے اپنی درخواست کا کوئی جواب نہیں ملا۔ میرے معاملے کی کاروائی اخبار میں بھی چھپتی ہے۔ عمر عبداللہ نے سپریم کورٹ کے نوٹسوں کا جواب کیوں نہیں دیا اور میری منتقلی کی درخواست پر اپنے موقف کی وضاحت کیوں نہیں کی؟

میرے دن یہاں بڑے ذلت آمیز حالات میں گذر رہے ہیں۔ مجھ پر کئی ایک پابندیاں عائد ہیں۔ میں پھانسی سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ تہاڑ جیل کی انتظامیہ سخت حفاظتی وارڈوں میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں جیسا برتاؤ کرتی ہے۔ اُن کو پنجروں میں رکھا جاتا ہے جہاں زندہ رکھنے کے لیے اُن کے سامنے کھانا پھینکا جاتا ہے۔ کوئی کھیل کھیلنے یا لائبریری وغیرہ جانے جیسی سہولتوں کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ تلاشی کے لیے طرح طرح کی جدید ایکسرے ٹیکنالوجی اور دھات کی نشاندہی کرنے والی مشینوں کے باوجود ملاقات پر پھل یا پکے ہوئے چاول تک لانے کی اجازت نہیں۔ سخت حفاظتی قیدیوں کی حالت انتہائی دردناک ہے۔ تلاشی کے نام پر تہاڑ جیل کے محافظ کسی بھی وقت کوٹھریوں میں آجاتے ہیں اور انتہائی جارحانہ اور بے عزتی کے انداز میں قیدیوں کی تلاشی لیتے ہیں۔ روزانہ مسلسل تلاشیاں قیدیوں کے لیے انتہائی اذیت کا باعث ہوتی ہیں جن سے ان کا دماغ اور دل بُری طرح زخمی اور دُکھی ہو جاتے ہیں۔

آپ نے بھارتی صدر کے نام معافی کی درخواست (رحم کی اپیل) میں کن بنیادوں پر معافی مانگی ہے؟

میرے خلاف الزام یہ تھا کہ میں نے حملہ آوروں کو دہلی میں رہائش فراہم کرنے میں مدد دی تھی اور ان میں سے ایک کے ساتھ میں وہ گاڑی خریدنے بازار گیا تھا جو بعد ازاں حملے میں استعمال ہوئی تھی۔

ان قیاسانہ اور اتفاقیہ حالات کی بنیاد پر مُجھے مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مروجہ قانون کے مطابق کسی ملزم کو کسی جرم میں اس طرح کی معاونت کی پاداش میں سزائے موت نہیں سنائی جاسکتی۔ شروع سے ہی میں نے پارلیمنٹ پر حملے میں میرے کردار سے انکار نہیں کیا۔ حتیٰ کہ معزز جج ایس این ڈنگھرا نے بھی کہا کہ افضل سچا ہے۔ مگر کسی نے کہانی کے اُس دوسرے رخ کو تسلیم یا اس پر یقین نہیں کیا جس کا تعلق وحشیانہ ریاستی دہشت گردی سے ہے۔ دہشت گردی جس کا ارتکاب حکومتِ ہند نے اپنی سیکیورٹی فورسز، خاص طور سے ایس ٹی ایف یعنی خصوصی ٹاسک فورس اور سپیشل اپریشن گروپ (آئیس او جی) کے ذریعے کیا۔ اس طرح کی ریاستی دہشت گردی ہر روز کچی عمر کے معصوم نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) جیسے جابرانہ قوانین کے ذریعے سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر روز افضل جیسے کئیوں کو جنم دے رہی ہے۔ جب تک ریاستی دہشت گردی موجود ہے ایسے حملے روکے نہیں جاسکتے۔ بھارت سرکار کشمیر کو چھوٹے افغانستان میں بدل رہی ہے۔ اس وقت کشمیر میں صورتِ حال پرسکون لگتی ہے مگر اس میں افغانستان جیسا ہوجانے کے امکانات موجود ہیں اور یہ آتش فشاں کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔

یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ میری تشویش ہے کشمیر کے عوام کے لیے اور انڈیا کے عوام کے لیے۔ کشمیری کبھی بھی انڈیا کے عوام کے خلاف نہیں تھے۔ یہ سرکاری پالیسیاں ہیں جنہوں نے کشمیری لوگوں بیگانہ بنادیا۔ مسئلے کا حل کشمیر کے ذریعے ہے پاکستان کے ذریعے نہیں۔ پاکستانی حکومت اور کچھ ایسے علیحدگی پسند سیاسی مسخروں سے بات چیت کر کے جنکو عوام نے مسترد کیا ہوا ہے بھارت سرکار اپنا وقت ضائع کر رہی ہے اور کشمیر کے اندر صورت حال کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ اس وقت ایک ہی قابل بھروسہ لیڈر ہے اور وہ ہے سید علی شاہ گیلانی صاحب جو کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں کہ آپ نے گیلانی کو خط لکھا ہے کہ رحم کی اپیل داخل کرنا ایک غلطی تھی اور آپ شہید بننا چاہتے ہو؟

جی ہاں میں نے گیلانی صاحب کو خط لکھا ہے مگر لفظ رحم کی اپیل درست نہیں ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 72 کے مطابق جس کے تحت نام نہاد رحم کی اپیل داخل کی جاتی ہے لفظ رحم کہیں موجود نہیں ہے۔ اس دفعہ میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں معافی، رہائی، خلاصی اور سزا میں کمی شامل کیے گئے ہیں کہ اگر کوئی مجرم یہ سمجھتا ہے کہ اس کو غلط سزا ملی ہے تو وہ ایسی درخواست کا حقدار ہے۔ یہ ہر ایک مجرم کا آئینی استحقاق ہے۔ میں نے رحم کی درخواست نہیں کی بلکہ اپنا آئینی حق مانگا ہے کہ میری سزا ختم/کم کی جائے کیونکہ مجھے پکا یقین ہے کہ مجھے جو موت کی سزا سنائی گئی ہے وہ غلط اور نا جائز ہے۔ چونکہ گیلانی صاحب ایک ایماندار اور قابلِ اعتماد سیاسی رہنما ہیں جو سیاسی اور اخلاقی طور پر بلند مرتبہ ہیں۔ گیلانی صاحب نہ تو سخت گیر ہیں اور نہ ہی بنیاد پرست یا نا معقول یا نا قابل عمل۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اصرار گیلانی صاحب کی بنیاد ہے جس سے دستبردار ہونے کے لیے وہ پہلے ہی رضا مند ہیں مگر بھارت سرکار کی انا پرستی اور سخت گیری کے باعث کشمیر مسئلہ بگڑ کر علاقے میں نہ ختم ہونے والے فساد اور عدم استحکام کی طرف لڑھک رہا ہے۔

آپ کی سزائے موت کا معاملہ سیاسی رنگ کیوں اختیار کر رہا ہے؟

اس لیے کہ میرے سزائے موت ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ کے معزز جج نے فرمایا ہے کہ قوم کے مجموعی ضمیر کو صرف میری موت ہی سے اطمنیان حاصل ہوگا۔ عدالتوں میں سزائیں قانونی اصولوں کے تحت دی جاتی ہیں نہ کہ عوام کے احساسات اور جذبات کی بنیاد پر۔ صرف (قانون سے ماوراء) ”کھپ پنچائتیں“ ایسا کرتی ہوں گی۔ کشمیر کے لوگ مشتعل ہیں کیونکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے ان کے محسوسات اور جذبات کو نظر انداز کر دیا ہے۔

اگر آپ کو پھانسی دے دی گئی تو کشمیر میں اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

میری پھانسی سے کشمیر میں صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔ وہاں لوگ میری سزا کو بھارت سرکار کی طرف سے کشمیر میں جابرانہ پالیسیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔1984 تک کشمیر میں کوئی عسکریت نہیں تھی۔ لیکن 1984 میں تہاڑ جیل ہی میں مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد کشمیر کے لوگوں میں بھارت سرکار کے خلاف غم و غصے میں اضافہ ہوا جس نے عسکریت کو جنم اور فروغ دیا۔

کیا آپ نے جیل میں اپنے تجربات اور پھانسی کے طویل انتظار کے بارے میں کچھ لکھا ہے؟

ابھی نہیں مگر لکھنا چاہتا ہوں۔

ایک رپورٹ کے مطابق تہاڑ جیل کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے آپ پر کتاب لکھی تھی جس کے اقتباسات ایک رسالے میں چھپے تھے۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

میں نے ماضی میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ مذہب، روحانیت اور کشمیر کے مسئلے جیسے موضوعات پر بات چیت کی ہے۔ اس نے یہ چیزیں انگریزی زبان میں کتابچے کی شکل میں رقم کر کے میری ان پر رضامندی بھی حاصل کی تھی۔ میں ہندی نہیں پڑھ سکتا۔ میں یہی کہوں گا کہ مسخ کرنے کی بجائے اسے انگریزی کتاب لانی چاہیے جس میں ہمارے درمیان بھارتی فوجی قبضے، مسلسل دہشت گردی اور معصوم کشمیریوں کی حالتِ زار کے بارے میں کی جانے والی باتیں ہوں۔

دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والے بم دھماکے پر آپ کا کیا خیال ہے؟ کچھ عسکری گروپوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ای میل میں آپ کا نام بھی آیا ہے؟

اس واقعے پر میں پہلے ہی اپنی وکیل این ڈی پنچولی کے ذریعے بیان جاری کر چکا ہوں جس میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے میں نے اس کو ایک وحشیانہ اور بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔ کوئی بھی مذہب بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسی بزدلانہ اور غیر انسانی حرکات کی سب کو مذمت کرنی چاہیے۔ میرے لیے یہ بات تکلیف کا باعث ہے کہ اس میں میرا نام غیر ضروری طور پر گھسیٹ کر اس کے ساتھ جوڑ لیا گیا ہے۔ کچھ ایجنسیاں/گروپ غلط طور پر میرا نام اس میں شامل کر کے گندا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ میرا نام جوڑ کر مجھے بدنام کر کے عوامی رائے عامہ کو میرے خلاف اُبھارا جاتا ہے۔

اگر آپ کو پھانسی دے دی گئی تو آپ کیسے یاد رکھے جانا چاہیں گئے؟

میں انصاف کے مقصد کے لیے شہید کی حیثیت میں یاد رکھا جانا چاہوں گا۔ میرے دل میں موت کا کوئی خوف نہیں کیوں کہ تنہائی میں گہرے غور وفکر نے مجھے یہ فہم اور بصیرت عطا کی ہے کہ روحانی طور پر اس دنیا میں انسان کی زندگی ماں کے پیٹ میں بچے کی مانند ابتدائی اور خام شکل میں ہے۔ اس جہان سے روانگی دراصل اس کا جنم ہوتا ہے۔ ہماری روح ہمارا اصل جسم ہے اور ہمارا جسم ہمارے لباس کی مانند ہے۔ روحانی شعور و ادراک کی تشکیل و نشوونما سماجی انصاف کے لیے مسلمہ کائناتی اقدار کے سائے میں کی جانے والی جدوجہد کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ اقدار مستقل اور کامل ہیں ان کو عزیز رکھنے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل اور مستقل کوشش سے شخصیت یا خودی کی تشکیل ہوتی ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی انفرادی اور روحانی طور پر اپنے اعمال کا ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ جیسا کہ عظیم صوفی رومی نے کہا تھا: ’’اپنے اعمال کے بدلے کو کبھی نہ بھولو کیونکہ گندم سے گندم اور جو سے جو پیدا ہوتے ہیں‘‘۔

کشمیر مسئلے کا جمہوری حل؟

کشمیر پر بھارت و پاکستان کے سرکاری موقف میں تازہ ترین تبدیلی یہ محسوس کی جارہی ہے کہ اب وہ خود مختار کشمیر کو مسترد کرنے کے لیے ریاست کشمیر کے اندر جغرافیائی ، ثقافتی اور سیاسی رنگارنگی کو نمایاں کرتے ہوئے خود مختار کشمیر کو ناممکن قرار دیتے ہیں ۔ بھارتی سرکاری حلقے گو ریاست کی وحدت کو قائم رکھنے کے خواں نظر آتے ہیں مگر لداخ ، جموں اور وادی میں ثقافتی فرق اور وادی کے سواء آزادی کی تحریک کی غیر موجودگی کو جواز بنا کر خود مختاری کے سواء اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دیگر راستوں کا تلاش کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔انٹرلوکیٹرز کی طرف سے بھی یہی عندیہ دیا جا رہا ہے کہ ریاست کو یکجا تو رہنا چاہیے مگر بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے دائرے میں۔

پاکستان کی طرف سے بھی اب یہ تاثر سامنے آنا شروع ہو چکا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف وادی کشمیر کا مسئلہ ہے اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر پاکستان کے اختیار میں رہیں اور وادی بھی ان سے جڑ جائے یا آزاد ہو جائے تو یہ حل قابل قبول ہو سکتا ہے۔

کشمیر کے اندر حریت کی سیاسی بصیرت میں کشمیر وادی سے شروع ہو کر وادی میں ختم ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ یاسین ملک صاحب جو ریاست کی وحدت اور خود مختاری کی علمبردار لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں عملی طور پر ان کی سیاست بھی وادی تک ہی محدود ہے جس کی بڑی مثال اُن کا مقبول عام سفر آزادی تھا۔ پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کو ”صوبہ نما“ بنانے کے اقدام کے خلاف آزاد کشمیر کے اقتداری اور حریت کے کچھ لیڈروں نے محتاط قسم کے اخباری بیانات تو جاری کیے مگر کوئی سنجیدہ مزاحمت سامنے نہیں آئی۔ جموں ، لداخ اور وادی کے پنڈتوں میں حریت کے تصورِ کشمیر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مزید اختیارات کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔

ایسی صورت میں بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ بھارت و پاکستان کی طرف سے متفقہ طور پر ریاست کی خود مختاری کو مسترد کیا جانا درحقیقت ریاست کے اندرونی حالات ہی کا پرتو ہے۔ یعنی جب خود ریاستی باشندے ہی خودمختاری نہیں چاہتے تو بھارت و پاکستان جو کشمیر پر دعویدار ہیں وہ کیوں خودمختاری کی حمایت کریں گے؟ بات تو معقول ہے۔ اسی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاید جنرل پرویز مشرف نے ایک ایسا حل پیش کیا تھا جس کے بارے میں اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں سب کی جیت ہے اور وہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔ اس میں اُنہوں نے ریاست کے اندر ثقافتی اور جغرافیائی رنگارنگی کی بنیاد پر کچھ خطوں کا تعین کرتے ہوئے ریاست سے فوجوں کا انخلاء، اندرونی خود اختیاری، آزادانہ آمدورفت اور دفاع، خارجہ امور اور ابلاغ پر مشترکہ اختیار کی تجاویز پیش کی تھیں۔ اندرونی خودمختاری کو جنوب ایشیاء کے بائیں بازو کے کئی سیاسی تجزیہ نگار اور دانشور بھی کشمیر مسئلے کا بہترین حل قرار دے چکے ہیں۔ میں نے پہلی بار یہ حل معروف برطانوی پاکستانی انقلابی طارق علی سے لندن میں سوشلسٹ ورکرز پارٹی کی طرف سے مارکسی ہفتے کے دوران عوامی عدالت کے سوال کے جواب میں سُنا تھا۔

ذاتی طور پر تو میرا خیال ہے کہ جنوب ایشیاء کے موجودہ سیاسی و معاشی ڈھانچے میں خودمختار، متحدہ اور جمہوری کشمیر ہی مسئلے کا بہترین حل ہے جس کی سیاسی روح کشمیریت میں ہو جو کہ ہماری اپنی تاریخ کی کوکھ میں ارتقاء پانے والا مذہبی رواداری کا فلسفہ ہے۔ تاہم اگر ریاست کی کچھ اکائیوں کی آبادی کی اکثریت خودمختار ریاست میں نہیں رہنا چاہتی تو پھر بندوق کی نوک پر تو کسی کو ساتھ نہیں رکھا جاسکتا نا؟

مگر جب بات لوگوں کی اُمنگوں اور خواہشوں کی ہے اور خودمختار کشمیر کو اس وجہ سے مسترد کیا جا رہا ہے کہ اسمیں پوری ریاست کے لوگوں کی اُمنگیں شامل نہیں ہیں تو پھر متبادل حل، راستے اور طریقہ کار میں لوگوں کی امنگوں کا خیال رکھنے کی ضمانت ہونی چاہیے نا؟ اگر خودمختاری وادی اور آزاد کشمیر میں خودمختاری کے علمبرداروں کی وجہ سے ریاست کے باقی علاقوں پر تھوپی نہیں جاسکتی تو پھر تقسیم کو بھی وادی یا بھارت و پاکستان کے لیڈروں کے ذریعے ریاست کشمیر کے دیگر خطوں کے لوگوں پر تھوپا نہیں جانا چاہیے ۔ اُن سے جمہوری طریقہ کار کے تحت پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اگر خود مختار کشمیر نہیں چاہتے تو کیا چاہتے ہیں؟

اس تناظر میں ذیل میں ایک ایسے حل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس میں لوگوں کی اُمنگوں کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے لیے پاکستان و بھارت کو فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدام کرنا ہوں گے۔

ا۔ تقسیم کی لکیر کے آر پار موجود تجارت اور آمد و رفت کو سہل بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت اور کثرت پیدا کی جائے۔ مطلب مزید جگہوں سے تجارت و آمد و رفت شروع کی جائے۔

۲۔ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے بشمول مقبول بٹ شہید کی فانی باقیات

۳۔ تمام بیرونی افواج اور جنگجووں کا ریاست سے انخلاء کیا جائے

۴۔ ریاست کے اندر موجودہ اسمبلیوں کو مزید جمہوری بنانے کے لیے ضروری آئینی ترامیم کی جائیں مثال کے طور پر لداخ ہل کونسل، جموں وکشمیر اسمبلی، آزاد کشمیر اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل۔ جموں کے لیے مقامی اسمبلی کا دیرینہ مطالبہ تسلیم نہ کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں کیونکہ دیگر تمام علاقوں کی مقامی اسمبلیاں موجود ہیں۔ ان تمام کشمیری اسمبلیوں کے آئینوں میں کشمیر کے کسی بھی مستقبل کی صورت میں اندرونی خودمختاری کی ضمانت ہونی چاہیے۔

۵۔ پاکستان و بھارت کی طرف سے کشمیری معاملات کو چلانے کے لیے غیر جمہوری ادارے اور قوانین کا خاتمہ کیا جائے جیسے کشمیر کونسل وایکٹ چوہتر وغیرہ۔

۶۔ خود مختار کشمیر کے حامیوں پر انتخابات میں شرکت کے لیے عائد پابندیوں کو ختم کیا جائے۔

۷۔ ذرائع ابلاغ، جلسے جلوسوں اور مہم سازی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں

۸۔ غیر جانبدار مبصرین کو دعوت دی جائے ۹۔ تمام اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان کیا جائے اور جہاں ممکن ہو انتخابات ایک ساتھ ہوں

۱۰۔ اگر کوئی اسمبلی کسی ہمسایہ ملک سے الحاق کرنا چاہتی ہو جیسے بھارت، پاکستان یا چین تو ایک متفقہ عرصے تک اس کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہونی چاہیئے

۱۱۔ جو اسمبلیاں اس مدت تک الحاق نہ کریں یا اگر کوئی بھی الحاق نہ کرے تو تمام اسمبلیاں متفقہ طور پر ریاست کے لیے نمائندے مُنتخب کریں جن کو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے

یوں اس جمہوری عمل کے ذریعے ریاست کے ممکنہ حد تک تمام علاقوں کے عوام کی رائے سے مستقبل کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ تاہم تمام عوام اور ثقافتی اکائیوں کو حق خودارادیت دینے کے اس اصول کے بارے میں ایک انتہائی اہم سوال کا جواب پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں اور ریاست کے اندر کثیر الثقافتی بنیاد پر خودمختاری کی مخالفت اور بھارت و پاکستان سے الحاق کی حمایت کرنے والوں کو بھی دینا ہوگا۔ کیا بھارت و پاکستان کے اندر مختلف ثقافتی اور جغرافیائی اور سیاسی اکائیوں کو بھی حق خودارادی دیا جائے گا؟ جیسے پنجاب، سندھ، آسام، تامل، بلوچستان وغیرہ؟ کیونکہ بھارت و پاکستان میں تو سیاسی گونا گونی ریاست کشمیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور تیز دھار ہے؟ کیا نچلی سطح تک حق خودارادیت دینے کا یہ عمل پورے جنوب ایشیاء میں لاگو کیا جائے گا؟ کیونکہ آخر کار جنوب ایشیاء میں بسنے والے سب لوگوں میں بہت کچھ مشترک ہے۔ کیا ہم ایک اور دو قومی نظریے سے آگے بڑھ کر انڈین کمیونسٹ پارٹی کے اس منشور کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں تقسیم ہندوستان کے وقت خبردار کیا گیا تھا کہ انڈیا میں ایک یا دو نہیں کوئی درجن بھر اقوام ہیں جن کو ایک کنفیڈریشن میں برابر حیثیت، عزت اور شناخت ملنی چاہیے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں