کم و بیش گزشتہ دو ہفتوں سے راولاکوٹ کے مقامی صاحبِ رائے افراد کی طرف سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، اس کی قیادت اور کارکنان کو مسلسل ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔ یہ تاویل دی جا رہی ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پانچ ماہ سے جاری دھرنے میں عسکریت پسند عناصر شامل ہو چکے ہیں اور وہ راولاکوٹ کے اندر موجود فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ فورسز کے علاوہ مسلح افراد نے چند گھروں پر قبضہ کر کے مورچہ بندی کر رکھی ہے۔
یہ گفتگو ایک خاص فکر سے تعلق رکھنے والے اور ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے خلاف بولنے والے صحافیوں، مقامی سیاسی نمائندوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کا حصہ اس وقت بنی، جب ریاست کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر مبنی سارے بیانیے دم توڑ چکے تھے اور پونچھ ڈویژن میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ ہی مقبولِ عام تھا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر، جناب سردار اعجاز افضل ایڈوکیٹ کی جانب سے کھل کر ایکشن کمیٹی پر تنقید اور مسلح افراد کے گھروں پر قبضے والی بحث سوشل میڈیا پر کافی مقبول ٹرینڈ بن گئی۔ اس بحث کو جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مقامی مخالفین اور ان سیاسی کارکنان نے خوب اچھالا جن کا استدلال یہ ہے کہ ریاست کا ہر درست و غلط فیصلہ ہی حرفِ آخر ہے اور اسے من و عن مان لینا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت سمیت جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی قیادت جون کے وسط سے لے کر جولائی کے آخر تک بظاہر یہ کوشش کرتی نظر آئی کہ اس قضیے کا کوئی باوقار حل نکالتے ہوئے ریاستِ پاکستان اور پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے باشندوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔
راولاکوٹ کے دھرنے کے اوائل میں، بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں میں شامل ہم چند احباب نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں موجود کور ممبران تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے آپ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اور ریاست آپ سے بلاواسطہ گفتگو نہیں کر رہی، تو آپ سردار صغیر خان ایڈوکیٹ، سردار صابر ایڈوکیٹ، شمشاد ایڈوکیٹ، سردار اعجاز افضل ایڈوکیٹ، ڈاکٹر خالد محمود، راجہ ذوالفقار ایڈوکیٹ، جاوید نثار ایڈوکیٹ، فضل محمود بیگ ایڈوکیٹ اور دیگر سماجی یا سیاسی زعماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے کر اعلان کر دیں کہ یہ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی سے سیاسی تعلق رکھنے والے ایک دوست کی وساطت سے جناب اعجاز افضل ایڈوکیٹ اور ڈاکٹر خالد محمود سے بات چیت کی کاوش بھی کی گئی، لیکن سردار اعجاز افضل صاحب کے بارے میں یہ غالب رائے سامنے آئی کہ وہ علالت کے باعث صاحبِ فراش ہیں اور گفتگو کرنے سے احتراز برت رہے ہیں۔
ان احباب اور ڈاکٹر خالد محمود کی کاوشوں کو سوشل میڈیا کی وساطت سے چشمِ فلک نے دیکھا۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت 5 جون سے لے کر اب تک عوامی تحریک کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہے، جس کے نتیجے میں دھیرکوٹ سے جماعت اسلامی کے امیر پابندِ سلاسل ہیں اور راولاکوٹ سے جماعت اسلامی کے امیدوارِ اسمبلی کا نام شیڈول 4 میں شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ہی ایک رکن نے جناب اعجاز افضل کے موجودہ بیانات کی نفی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ایسا بیان داغ ڈالا جو جماعت اسلامی کے سابق اور موجودہ امیر کی سیاسی پالیسی، بیانات اور حکمتِ عملی کے برعکس، عوامی تحریک کے حق میں تھا۔ قرینِ قیاس تھا کہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی دوسرے درجے کی قیادت سوشل میڈیا پر جناب اعجاز افضل کے بیانات پر مختلف ردِعمل دیتی، لیکن انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور بندش کے باعث ان کے بیانات سوشل میڈیا کی زینت نہ بن سکے۔
اگر اس بات کو وقتی طور پر دلیل مان بھی لیا جائے کہ راولاکوٹ کے دھرنے کے ارد گرد مسلح لوگ موجود ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ دو بدو لڑائی میں مصروف ہیں، تو ان مسلح افراد اور جناب اعجاز افضل صاحب کے ماضی کے تعلق پر گفتگو کرنا غلط یا بے موقع نہیں ہوگا۔ گو کہ کسی بھی پرامن تحریک میں مسلح لوگوں کی موجودگی ریاست کو یہ جواز فراہم کر دیتی ہے کہ وہ اس تحریک کو کچلنے کے لیے آہنی ہاتھ استعمال کرے اور قیادت کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔
آج سے ایک دہائی پہلے تک بھی پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے سماج میں اتنی سیاسی رواداری موجود تھی کہ دو مختلف النظریات لوگ بیٹھ کر کسی اہم سیاسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اس کا حل نکال سکتے تھے۔
سیاست کا طالب علم ہونے کے ناطے، جماعت اسلامی کے دوستوں اور قیادت سے روابط ماضی میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھے۔ آج سے ایک دہائی پہلے تک بھی پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے سماج میں اتنی سیاسی رواداری موجود تھی کہ دو مختلف النظریات لوگ بیٹھ کر کسی اہم سیاسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اس کا حل نکال سکتے تھے۔ جموں کشمیر کی مسلح تحریک کے دوران، ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود، احترام کے ساتھ گفتگو کی جا سکتی تھی۔ اس سلسلے میں دو ذاتی تجربات ہوئے۔ یہ شاید سال 2000 تھا جب اسکول سے بھاگنے یا فیل ہونے والے طلبہ کے لیے سب سے محفوظ ٹھکانہ مجاہدین کے تربیتی کیمپ ہوا کرتے تھے۔ اس وقت میرا ایک عزیز بھاگ کر سہنسہ کے قریب ایک کیمپ میں چلا گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد میں اسے لینے جب سہنسہ کیمپ پہنچا تو وہاں قیوم افسر صاحب بھی موجود تھے۔ شاید وہ بھی وہاں موجود ذمہ داران کے حوالے اپنے کسی عزیز کو تربیت کے لیے آئے تھے (آج کل یہ بھی ایک خبر ہے کہ قیوم افسر صاحب کے گھر پر بھی مسلح افراد کا قبضہ ہے)۔
دو سے اڑھائی دہائیاں پہلے قیوم افسر صاحب اور سردار اعجاز افضل صاحب کا گھر ان مسلح افراد کا سب سے محفوظ ٹھکانہ ہوتا تھا، جن کے بارے میں ہمارے دیگر دوست شاکی تھے کہ انہیں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر خراب کرنے کے لیے عالمی مقتدرہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ آج بھی جماعت اسلامی کا بازوئے شمشیر زن جہاد کا سب سے بڑا عنصر ہے اور اسے ریاستی حمایت حاصل رہی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں جب حرکت الانصار کو کالعدم قرار دیا گیا، تو وہ مسلح افراد حرکت المجاہدین، جیشِ محمد اور حرکت الجہاد الاسلامی کے نام سے کام کرتے رہے۔ اسی طرح جب لشکرِ طیبہ پر پابندی لگائی گئی تو وہ پہلے جماعت الدعوۃ، پھر تحریکِ آزادی جموں و کشمیر، ملی مسلم لیگ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جموں کشمیر یونائیٹڈ پارٹی کی شکل میں سامنے آئیں۔
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ جناب اعجاز افضل اور ان کے اکثر رفقاء نجی محافل اور جلسوں میں ان تمام مسلح گروہوں کی موجودگی کی نہ صرف حمایت کرتے رہے بلکہ ان کے وجود کو نعمت گردانتے رہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج ریاست کی رِٹ (Writ) کی رَٹ لگانے والے اور اس رِٹ کو فعلِ حال جاری کی گردان سمجھ کر پڑھنے والے، ماضی میں ان تمام مسلح گروہوں پر پابندی کے باوجود نہ صرف ان کے اخلاقی و سیاسی، بلکہ مالی معاون بھی رہے۔
سردار اعجاز افضل صاحب کے دورِ امارت کا ایک ایسا واقعہ یاد آیا جس میں جماعت اسلامی نے عیدِ قربان پر شہداء کے گھروں میں قربانی کے بکرے پہنچانے کے لیے پونچھ کے ایک بیوپاری کو مبلغ 50 ہزار روپے پیشگی ادائیگی کی۔ بیوپاری بکروں کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے لیے دوڑ دھوپ میں مصروف تھا کہ شام کے وقت جماعت اسلامی سے منسوب کمانڈر نزاکت نامی ایک شخص اس کے ٹھکانے پر آن ٹپکا اور بیوپاری سے بکروں کی خریداری کے عوض کمیشن کا تقاضا کرنے لگا۔ بیوپاری شاید بکروں کی تعداد پوری کرنے سے قاصر تھا یا کوئی اور امر مانع تھا، اس نے اس شخص کو بھی بھگایا اور بکروں کا انتظام بھی نہ کیا۔ جماعت کے مقامی کارکنان نے یہ بات امیر صاحب تک پہنچائی لیکن امیر صاحب اس کارکن یا رفیق کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرنے سے معذور رہے۔
سردار اعجاز افضل صاحب کی موجودہ تحاریر کا اگر اجمالی جائزہ لیا جائے، تو یہ گزشتہ 4 ماہ سے خاموش رہنے والے ایک ایسے شخص کی آراء نظر آتی ہیں جنہیں شاید مجبور کر دیا گیا ہو کہ وہ ریاستی بیانیے کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جناب اعجاز افضل صاحب کی کسی تحریر میں، اب تک مارے جانے والے کم و بیش سو افراد کے لیے نہ تو کوئی حرفِ تعزیت دیکھا گیا اور نہ ہی ان کے پسماندگان کے لیے حرفِ تسلی۔ ان کی تحاریر میں بس یہی تکرار ہے کہ مسلح افراد کو ساتھ رکھ کر کوئی تحریک پرامن نہیں ہو سکتی۔ اگر بیماری نے ان کی یادداشت نہیں چھین لی، تو ان سے یہ سوال پوچھنا حق بجانب ہے کہ کم و بیش دو دہائیاں پہلے اگر یہی مسلح افراد ریاست اور آپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محترم و مقدس تھے، اور چند سرپھرے اگر اس وقت انہیں 'پراکسی' کے نام سے پکارتے تھے تو آپ کے ماتھے پر شکنیں کیوں ابھرتی تھیں؟ آج کے مسلح افراد اگر اپنے ہی پالنہاروں کی مخالف صف میں کھڑے ہیں، تو پھر شکوہ کیسا؟

تبصرے (0)