پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر جون 2026ء سے سماجی، سیاسی اور انتظامی عدم استحکام کا شکار ہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک ایک پُرامن خطہ دو مخالف فریقوں کی ہٹ دھرمی کے باعث انتشار کا شکار ہو چکا ہے اور اس دوران بعض ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کی تلافی اب ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ چاہے پاکستان کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ پر بیٹھے حکومت کے حامی اور سرپرستی یافتہ دانشور ہوں یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود تجزیہ نگار، وہ اس سارے عمل میں پاکستانی حکومت، مقتدرہ اور پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت و انتظامیہ کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے اس انتشار اور مشکل سیاسی صورتِ حال کا ذمہ دار جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت یا مقتدرہ کے بیانیے سے اختلاف کرنے والے سیاسی ذمہ داران کو قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔
اس ساری بدنظمی اور مارا ماری کے دوران جہاں ایک طرف تقریباً سے 100 سے زائد انسانی جانیں لقمۂ اجل بنیں، متعدد افراد زخمی ہوئے، کئی سو پابندِ سلاسل ہیں اور پونچھ ڈویژن کی لاکھوں پر مشتمل آبادی ایک غیر معمولی کیفیت سے دوچار ہے، وہیں اس دوران انتقالِ اقتدار کا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ پونچھ ڈویژن کے سات حلقوں کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی کی اور ایک ایسے شخص کو مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا جسے متعلقہ حلقے کے عوام نے جمہوری عمل میں مسترد کر دیا تھا۔ پونچھ میں مسلسل دھرنوں اور احتجاجوں کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کاریگرانِ جمہور نے ڈاکٹر نجیب نقی کو اس امید کے ساتھ صدارت کی پگڑی پہنائی کہ شاید وہ پونچھ ڈویژن کے حالات کو قابو میں رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔
انتخابات کے دوران عام آدمی نے جمہوری عمل میں کتنی دلچسپی دکھائی اور اس میں کس حد تک شراکت داری رہی، یہ بات بحث طلب ہے۔ تاہم، اس عمل کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ اور پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے زمینی حقائق سے نابلد صحافیوں، مبصرین، تجزیہ نگاروں اور پیش کاروں نے جس ڈھٹائی سے مبالغہ آرائی کی اور جھوٹ پھیلایا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
یہی نہیں، بلکہ جون 2026ء سے پاکستان کے سرکاری و نجی ذرائع ابلاغ، بالعموم، اور سوشل میڈیا پر مقتدرہ کے بیانیے کو تقویت دینے والے اسپانسرڈ پیجز، بالخصوص، جس طرح عوامی ایکشن کمیٹی اور اس تحریک کے قائدین کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے کے لیے تاویلیں گھڑتے رہے، انہیں دیکھنے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے بدترین سیاسی مخالفین بھی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پکار اٹھتے کہ ایسا بھی ممکن ہے؟ مثال کے طور پر عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنماؤں شوکت نواز میر، خواجہ مہران ارشد، انجم اعوان اور دیگر کے گھروں سے جو لٹریچر، اسلحہ اور بارود برآمد کرکے دکھایا گیا، اس کے بعد کمی صرف غوری، ابدالی یا ایٹم بم کی ہی رہ گئی تھی۔ اس کے علاوہ مذکورہ ذرائع ابلاغ اور اسپانسرڈ پیجز کے تبصروں میں جھوٹ اس تواتر سے بولا جا رہا تھا کہ بعض اوقات اسے سچ سمجھنے کا گمان ہونے لگتا تھا۔
اگر پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی روایت کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ دہائی کے اختتام تک سیاسی رواداری کا عنصر مکمل طور پر مفقود نہیں ہوا تھا۔ تاہم، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک وسیع رسائی، مکالمے کی اخلاقیات سے بے بہرہ پن، نظریاتی تربیت کا فقدان، سیاست کی کاروباری شکلیں، سیاسی تنظیموں کے غیر جمہوری رویے اور طلبہ سیاست کی عدم موجودگی کے نتیجے میں مختلف نظریات اور خیالات رکھنے والے سیاسی کارکنان کے درمیان نہ صرف ایک وسیع خلیج پیدا ہوئی ہے بلکہ ایک ایسی سیاسی ثقافت نے بھی جنم لیا ہے جس میں ہیجان زدہ سیاسی کارکنان صحت مند مکالمے کے بجائے ہجو اور دشنام طرازی کو مؤثر ہتھیار سمجھتے ہیں اور کسی بھی سیاسی قیادت کی بے توقیری کرنے میں ذرا نہیں چوکتے۔
اگر سیاسی کارکنان کے اس رویے کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس میں سرمائے کے زور پر ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے مراکز قائم کرکے ناپسندیدہ سیاسی کارکنان کے خلاف ہتک آمیز مہمات چلانے کا سہرا بلاشبہ سیاسی اشرافیہ اور مقتدرہ کے سر جاتا ہے۔
اس بات کو ایک مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انتخابات کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہونے کے بعد پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر اور پارٹی کے سینئر رہنما راجہ فاروق حیدر خان کو نہ صرف کلیدی عہدوں کے لیے نظر انداز کیا گیا بلکہ حکومت سازی کے حوالے سے ان کے مشوروں کو بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا گیا۔ نتیجتاً، راجہ فاروق حیدر خان نے نہ صرف حکومت سازی میں اسلام آباد کی مداخلت اور غیر مقبول فیصلوں پر تنقید کی بلکہ اپنی گفتگو میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ کمزور قوتِ فیصلہ کے حامل وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی موجودگی میں وفاقی حکومت اور پاکستانی مقتدرہ بعض ایسے غیر مقبول فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے جو مسئلہ جموں کشمیر کی تاریخی حیثیت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پیش کیے جانے والے مقدمے پر بھی منفی اثرات مرتب کریں گے۔
اسی اثنا میں پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عبوری آئین 1974ء میں سولہویں ترمیم کی بازگشت سنائی دی۔ راجہ فاروق حیدر خان جب صاحبِ اقتدار تھے تو انہوں نے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عبوری آئین 1974ء میں تیرہویں ترمیم متعارف کروائی تھی۔
عبوری آئین 1974ء میں کی جانے والی تیرہویں آئینی ترمیم (2018ء) محض ایک قانونی تبدیلی نہیں تھی بلکہ خطے کی سیاسی، انتظامی اور مالیاتی تاریخ میں حقیقی عوامی خودمختاری کی سمت ایک اہم اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا قدم تھا۔ اس ترمیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے اسلام آباد کے زیرِ اثر کام کرنے والی کشمیر کونسل کے وسیع اور بالادست انتظامی و قانون سازی کے اختیارات ختم کرکے طاقت کا محور مظفرآباد میں موجود منتخب حکومت اور قانون ساز اسمبلی کو بنا دیا، جس سے دہائیوں پرانے متوازی حکومتی نظام کا خاتمہ ہوا۔
بعض مبصرین کے نزدیک ایک پُرامن خطہ دو مخالف فریقوں کی ہٹ دھرمی کے باعث انتشار کا شکار ہو چکا ہے اور اس دوران بعض ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کی تلافی اب ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
اس تاریخی آئینی تبدیلی کے نتیجے میں خطے کو انکم ٹیکس اور دیگر مقامی محصولات خود جمع کرنے اور انہیں استعمال کرنے کا اختیار ملا۔ اس سے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کو مالیاتی طور پر زیادہ خودمختاری حاصل ہوئی اور وہ وفاق کی محتاجی سے نکل کر اپنے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل ہوا۔ بالخصوص، خسارے سے پاک بجٹ کی تیاری ممکن ہوئی۔
سیاسی اور جمہوری محاذ پر قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کو 49 سے بڑھا کر 53 کرنے سے عوامی نمائندگی کے دائرے میں وسعت آئی، جبکہ کابینہ کے حجم کو کل ارکانِ اسمبلی کے 30 فیصد تک محدود کرکے بڑی کابینہ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت ہوئی۔ اسی طرح سیاسی جوڑ توڑ یا بیرونی دباؤ کے تحت اسمبلی کو وقت سے پہلے تحلیل کرنے کے راستے محدود کرکے خطے کو سیاسی استحکام فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔
گڈ گورننس کے علاوہ اس ترمیم کا ایک اہم پہلو شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے دائرے کو وسیع کرنا بھی تھا۔ اس کے تحت پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم، منصفانہ ٹرائل کے حق (Right to Fair Trial) اور ثقافتی تحفظ جیسے جدید جمہوری اصولوں کو آئین کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ تیرہویں ترمیم نے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کو کسی حد تک انتظامی اشرافیہ کے اثر و رسوخ سے نکال کر مقامی اداروں کو وقار بخشا اور وہاں کے عوام کو اپنے وسائل پر تصرف اور اپنے سیاسی و معاشی مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کی جمہوری قوت فراہم کی۔
اس کے علاوہ راجہ فاروق حیدر نے اپنے دورِ حکومت میں انتظامی نظم و ضبط، این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی، پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں پبلک سروس کمیشن کی تنظیمِ نو اور میرٹ کی بحالی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ یہی اقدامات ان کے دورِ حکومت کو ان کے پیش رو وزرائے اعظم سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ فاروق حیدر صاحب کے ناقدین ان اقدامات سے بھی مطمئن نہیں ہیں، جبکہ عبوری آئین 1974ء کو غلامی کا طوق گرداننے والے سیاسی رہنما اور کارکنان اس آئین کی تنسیخ ہی کو مسائل کا باوقار حل سمجھتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ اس نوآبادیاتی طرز کے عبوری آئین کی موجودگی میں حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کا حصول ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ ماضی قریب میں صرف سولہویں ترمیم ہی زیرِ بحث نہیں تھی بلکہ پاکستان کے آئین کی اٹھائیسویں ترمیم کا ذکر بھی ہو رہا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی موجودہ انتظامی و سیاسی حیثیت تبدیل کرکے اسے پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کی جانب پیش قدمی کی جا رہی تھی۔ راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دونوں ترامیم پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ان کے ہوتے ہوئے ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور صدر ڈاکٹر نجیب نقی سے ملاقات کرکے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر اور اسلام آباد سے باضابطہ ردِعمل سامنے آنے سے پہلے ہی وہاں کے ڈیجیٹل میڈیا پر موجود مقتدرہ کے بیانیے کو تقویت دینے والے صحافیوں، مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر خان کی مبینہ سیاہ کاریوں کے بارے میں گواہیاں دینا شروع کردیں۔ ان کے طرزِ عمل سے یوں محسوس ہونے لگا جیسے راجہ فاروق حیدر خان کوئی سابق وزیراعظم نہیں بلکہ کسی کالعدم یا دہشت گرد تنظیم کے کارکن یا رہنما ہوں۔
یہی نہیں، پاکستان کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ پر بیٹھے صحافیوں، تجزیہ نگاروں، مبصرین اور پیش کاروں نے اپنی توپوں کا رخ نہ صرف راجہ فاروق حیدر خان کی جانب کیا بلکہ ان کے نجی و خاندانی معاملات اور خاندان کی خواتین کو بھی موضوعِ بحث بنایا۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے راجہ فاروق حیدر خان مسلم لیگ (ن) کے نہیں بلکہ کسی حزبِ مخالف جماعت کے رہنما ہوں۔
سردار عبدالقیوم خان مرحوم، سردار سکندر حیات خان مرحوم، سردار ابراہیم خان مرحوم، ممتاز حسین راٹھور مرحوم، سردار خالد ابراہیم مرحوم، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم، سردار عتیق احمد خان، چوہدری محمد یٰسین، حاجی سردار یعقوب خان، چوہدری عبدالمجید، راجہ فاروق حیدر خان، عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود، سردار اعجاز افضل، نبیلہ ارشاد صاحبہ اور دیگر الحاق نواز سیاسی رہنما اپنی سیاسی زندگی میں بارہا اس امر کی وضاحت کرتے نظر آئے کہ وہ پختہ یقین کے ساتھ پاکستانی ہیں۔
اس کے برعکس امان اللہ خان مرحوم، جسٹس عبدالمجید ملک مرحوم، گلنواز بٹ مرحوم، بیرسٹر قربان علی مرحوم، پروفیسر خلیق، سردار رؤف کشمیری، سردار صغیر خان، سردار لیاقت حیات خان، ڈاکٹر توقیر گیلانی اور کئی دوسرے قوم پرست سیاسی رہنما خود کو ریاست جموں کشمیر کا باشندہ سمجھتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ پاکستان کے آئین کی شقوں 1 اور 257 کی روشنی میں وہ پاکستانی نہیں ہیں۔
تاہم، ان مختلف الخیال سیاسی رہنماؤں کو جب کسی سیاسی کانفرنس یا اجتماع میں ایک ساتھ بیٹھے دیکھا جاتا تو سیاسی رواداری کا عنصر نمایاں نظر آتا تھا۔ کئی ایسی سیاسی محافل کے گواہان آج بھی اس بات کی تصدیق کریں گے کہ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم یا صدر نے کسی سیاسی اجتماع کے دوران اپنے بدترین سیاسی مخالف کی آمد پر اپنی نشست خالی کردی۔ اس موقع پر نہ کارکنان نے گالم گلوچ کی اور نہ ہی سوشل میڈیا صارفین نے کسی رہنما کو بے توقیر کرنے کے لیے کوئی مہم شروع کی۔
موجودہ دور میں بھی 9 جون اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں جب راجہ فاروق حیدر خان، سردار یعقوب خان، ڈاکٹر نجیب نقی یا کسی دوسرے سیاسی رہنما سے ریاست اور ایکشن کمیٹی کے درمیان تنازع حل کروانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تو ماضی کی تمام تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر مذکورہ سیاسی رہنماؤں نے نہ صرف اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی بلکہ اس عمل کو سیاسی رواداری کے احیاء کی ایک کوشش بھی قرار دیا۔
لیکن یہ کیا کہ چند نہایت بے ضرر اور اصولی بیانات کے بعد مقتدرہ کے پروپیگنڈا سیلز نے اس سیاسی رواداری کے بالکل برعکس ایک سابق وزیراعظم کے خلاف ایسی مہم شروع کردی جس میں پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی روایات کے برخلاف ان کے گھر کی خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔
راجہ فاروق حیدر خان اور پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے دیگر سیاست دانوں کو اب اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ مستقبل میں بدترین سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی رواداری اور احترام کا برتاؤ ہی اس گھناؤنی مہم کا مقابلہ کرنے کا راستہ بن سکتا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی سیاسی مخالف کی تذلیل اور اس کے خاندان کو نشانہ بنانے کے عمل کی مخالفت ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے ہی کل کے سیاسی کارکنان سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اپنے مخالف کی بے توقیری کے خلاف آواز بلند کرسکیں گے۔ بصورتِ دیگر سیاسی قیادت نہ صرف اپنی اخلاقی ساکھ کھو دے گی بلکہ عوامی مفاد سے متعلق اہم فیصلوں میں بھی غیر متعلق ہوتی چلی جائے گی۔

تبصرے (0)