پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کی جدوجہد کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے افراد کی قربانیاں محض ہلاکتوں کی ایک فہرست یا اخبارات کی چند سرخیوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان قربانیوں کے پیچھے ایسی انسانی داستانیں پوشیدہ ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے صرف شہداء کے نام اور تعداد جاننا کافی نہیں، بلکہ ان گھروں کے اندر جھانکنا ہوگا جہاں کسی ماں نے اپنا جوان بیٹا کھویا، کسی بہن نے اپنا بھائی کھویا، کسی بیوی نے اپنا شریکِ حیات کھویا اور کسی معصوم بچے کے سر سے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا۔ یہ وہ خاندان ہیں جن کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی، جن کے گھروں میں مستقبل کے خواب سجائے جا رہے تھے، مگر آج وہاں جدائی، محرومی اور عمر بھر کے انتظار نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
اس جدوجہد کی ایک نمایاں انسانی حقیقت یہ ہے کہ اس میں جانیں قربان کرنے والوں میں صرف روایتی معنوں میں سیاسی کارکن یا احتجاجی مظاہروں میں شریک نوجوان ہی شامل نہیں تھے، بلکہ یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ طلبہ، پی ایچ ڈی اسکالرز، ڈاکٹرز، پیشہ ور افراد، کم عمر بچے، بچیاں، خواتین اور مختلف سماجی و تعلیمی پس منظر رکھنے والے شہری بھی شامل تھے۔ یہ وہ نسل تھی جس کے ہاتھوں میں کتابیں، آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب اور ذہنوں میں اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش تھی۔ کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا، کوئی اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کی تعمیر میں مصروف تھا، کوئی اپنے خاندان کی امیدوں کا مرکز تھا اور کوئی ابھی زندگی کی ابتدائی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جن کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی، مگر وہ زندگی اپنے پیچھے ایسے سوال چھوڑ گئی جن کا جواب ان کے خاندان تلاش کر رہے ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کی تحریک کا بنیادی پس منظر کیا تھا۔ یہ تحریک عوامی وسائل پر مقامی باشندوں کے حق، حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی، بجلی کے پیداواری وسائل کے باوجود عوام کو مہنگی بجلی کی فراہمی، آٹے کی قیمتوں، صحت و تعلیم کی سہولیات، نوجوانوں کے روزگار اور حکمران طبقے کو حاصل مراعات سمیت متعدد بنیادی عوامی مسائل کے گرد منظم ہوئی۔ عوام کا مطالبہ تھا کہ ان کے وسائل ان کی اجتماعی فلاح کے لیے استعمال ہوں، انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اختیار حاصل ہو اور ریاستی نظام میں عام شہری کے حقوق کو مراعات یافتہ طبقے کے مفادات پر ترجیح دی جائے۔ یہ مطالبات کسی ایک فرد یا خاندان کے نہیں بلکہ معاشرے کے وسیع تر طبقوں کے بنیادی مسائل سے تعلق رکھتے تھے۔
اس تحریک میں شریک لوگوں نے اپنے حقوق کے مطالبات کے لیے آواز بلند کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل طاقت کے استعمال، خوف اور جبر سے نہیں بلکہ مذاکرات، سیاسی بصیرت، عوامی نمائندگی اور آئینی و جمہوری طریقوں سے نکالا جانا چاہیے۔ لیکن تحریک کے مختلف مراحل میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات، فائرنگ، جانی نقصانات اور شہری ہلاکتوں نے اس جدوجہد کو ایک شدید انسانی المیے میں تبدیل کر دیا۔ مظاہرین اور شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق ذمہ داری کے تعین، واقعات کی مکمل تفصیلات اور قانونی حقائق کی آزادانہ تحقیقات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ خاندانوں کی محرومیوں کو کسی سیاسی اختلاف یا انتظامی مؤقف کے پردے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس پوری صورتِ حال کا سب سے قابلِ مذمت پہلو پاکستانی فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال ہے۔ پرامن احتجاج کرنے والے ریاست جموں کشمیر کے باشندوں پر جنگی اسلحے کا استعمال، سینوں کو گولیوں سے چھلنی کرنا اور ایک سو سے زائد شہریوں کی جانیں لے لینا کسی بھی مہذب معاشرے، انسانی اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ پاکستانی فورسز کے اس طرزِ عمل کو ناقدین صیہونی طرزِ جبر سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں طاقت کے ذریعے عوامی مزاحمت اور حقوق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوامی حقوق مانگنے والے نہتے شہریوں کے خلاف جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا؟ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ان شہریوں کے قتل کا حساب کون دے گا؟ ان کے خاندانوں کو انصاف کون فراہم کرے گا؟ ان واقعات میں ملوث اہلکاروں اور احکامات جاری کرنے والے ذمہ داران کا تعین آزادانہ تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان فورسز اور ان کے کمانڈ ڈھانچے کو ان ہلاکتوں کا جواب دینا ہوگا۔ وردی کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتی اور ریاستی اختیار کسی کو انسانی جان لینے کا غیر مشروط حق نہیں دیتا۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا پہلو ان ماؤں کا ہے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو تعلیم، تربیت اور محبت کے ساتھ پروان چڑھایا تھا۔ کسی ماں نے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا ہوگا، کسی نے اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی بھیجا ہوگا، کسی نے اس کی کامیابیوں کے لیے دعائیں مانگی ہوں گی۔ وہ مائیں اپنے بچوں کو مستقبل کی خوشیوں کے ساتھ رخصت کرتی تھیں، انہیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن ان کے گھروں میں ان کے جوان بیٹوں کے جنازے واپس آئیں گے۔ ماں کے لیے اولاد کی جدائی کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے بیٹے کی عمر، تعلیم، معاشی حیثیت یا سماجی مقام اہم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے وہ ہمیشہ اس کا بچہ رہتا ہے۔ آج ان ماؤں کے پاس اپنے بچوں کی یادیں، تصویریں اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے چند لمحوں کی یادگاریں باقی ہیں۔
اس المیے کا ایک اور دردناک رخ وہ بہنیں ہیں جنہوں نے اپنے بھائی کھو دیے۔ بھائی صرف خاندان کا ایک فرد نہیں ہوتا، وہ بہن کے لیے تحفظ، محبت، اعتماد اور زندگی کے کئی رشتوں کا نام ہوتا ہے۔ عید کے موقع پر بھائی کی آمد، گھر میں اس کی آواز، بہن کے لیے اس کی فکر اور مشکل وقت میں اس کا ساتھ، یہ سب کچھ ایک ایسے خلا میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے کوئی دوسرا رشتہ مکمل نہیں کر سکتا۔ بعض گھروں میں بھائی کے بعد خاندان کی ذمہ داریاں اٹھانے والا کوئی نہیں رہا، اور بعض بہنیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اس سہارے سے محروم ہو گئیں جسے وہ زندگی بھر اپنا حق سمجھتی رہی تھیں۔
وردی کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتی اور ریاستی اختیار کسی کو انسانی جان لینے کا غیر مشروط حق نہیں دیتا۔
لیکن ان تمام انسانی المیوں میں سب سے زیادہ تشویش ناک صورتِ حال ان معصوم بچوں کی ہے جن کے والد ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ایک بچے کے لیے باپ محض کفالت کرنے والا شخص نہیں ہوتا، وہ اس کی شناخت، اعتماد، تربیت اور مستقبل کے خوابوں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے، اس کے کندھوں پر بیٹھ کر دنیا دیکھتا ہے، اسکول کے پہلے دن اس کا ہاتھ تھامتا ہے اور زندگی کے ابتدائی سوالوں کے جواب اسی سے تلاش کرتا ہے۔ اب ان بچوں کو کون اسکول چھوڑنے جائے گا؟ کون ان کی تعلیمی کامیابیوں پر خوش ہوگا؟ کون ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہے گا کہ گھبراؤ نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں؟ جب یہ بچے بڑے ہوں گے اور اپنے ہم عمر بچوں کو اپنے والد کے ساتھ دیکھیں گے تو ان کے دل میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب کون دے گا؟
ان یتیم بچوں کی محرومی صرف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، تعلیمی اور سماجی بھی ہے۔ کسی خاندان کا واحد کفیل چلا جائے تو گھر کا پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج، خوراک، رہائش اور روزمرہ ضروریات ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہیں۔ بیوہ خواتین کو نہ صرف اپنے غم سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے بلکہ بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم اور خاندان کے مستقبل کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے محض تعزیتی بیانات کافی نہیں۔ انہیں مستقل معاشی تحفظ، بچوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات، قانونی معاونت اور باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔
یہاں ایک سوال ان تمام حکومتی اداروں، سیاسی قیادتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کے سامنے بھی آتا ہے جو انسانی جان، آزادی اظہار اور شہری حقوق کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں۔ کیا عوامی حقوق کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کی زندگیوں کی کوئی قدر نہیں؟ کیا ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھانا غیر ضروری ہے؟ کیا شہریوں کی ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ داری کا تعین اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری نہیں؟ اگر کسی شہری کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کا الزام ہو تو اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے استعمال سے اس کی زندگی ختم کر کے اس کے خاندان کو عمر بھر کے لیے سزا دے دی جائے۔
جموں کشمیر کی اس عوامی حقوق کی جدوجہد نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سامنے رکھی ہے کہ ریاستی وسائل، سیاسی اختیار اور عوامی نمائندگی کے سوالات کو محض انتظامی احکامات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ جب عوام کے بنیادی مسائل مسلسل نظرانداز ہوں، جب ان کی آواز کو سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جائے اور جب مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے امکانات کمزور پڑ جائیں تو معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے۔ ایسے حالات میں حکمرانوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کریں اور طاقت کے بجائے سیاسی و جمہوری حل کو ترجیح دیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کے دوران جانیں قربان کرنے والوں کو یاد کرنے کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ان کے ناموں پر تقریبات منعقد کی جائیں یا ان کی تصاویر پر پھول چڑھائے جائیں۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ ان کے خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے، ان کے بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری اجتماعی طور پر محسوس کی جائے، ان کی بیواؤں اور والدین کی کفالت کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور ان واقعات کے تمام حقائق سامنے لانے کے لیے آزادانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے۔ شہداء کے خاندانوں کو انصاف، عزت اور تحفظ فراہم کرنا کسی سیاسی جماعت یا تنظیم پر احسان نہیں بلکہ انسانی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
بیرونِ ملک مقیم ریاست جموں کشمیر کے باشندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عالمی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس انسانی المیے کو محض سیاسی اختلافات کے تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ اسے شہریوں کے بنیادی حقوق، انسانی جان کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے احتساب کے اصولوں سے جوڑ کر دیکھیں۔ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے بیانات، دستیاب شواہد اور متعلقہ واقعات کی تفصیلات جمع کریں، حقائق کی آزادانہ جانچ کریں اور ذمہ داران کے تعین کے لیے شفاف قانونی عمل کی حمایت کریں۔
آج جب ان شہداء کے گھروں میں ان کی مائیں ان کی تصویروں سے باتیں کرتی ہیں، بہنیں ان کی یادوں میں آنسو بہاتی ہیں اور بچے اپنے والد کی واپسی کے ناممکن انتظار میں بڑے ہو رہے ہیں تو یہ سوال صرف ان خاندانوں کا نہیں رہتا، پوری ریاست کے اجتماعی ضمیر کا سوال بن جاتا ہے۔ یہ بچے کسی سیاسی تنازعے کے ذمہ دار نہیں، یہ مائیں کسی ریاستی پالیسی کی مصنف نہیں اور یہ خاندان کسی طاقت کے کھیل کا حصہ نہیں تھے۔ ان کا حق صرف یہ تھا کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ایک محفوظ، باعزت اور پُرامن زندگی گزار سکیں۔
شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے بامعنی طریقہ یہی ہے کہ عوامی حقوق کی جدوجہد کو انسانی جان کے احترام، عدم تشدد، جمہوری اصولوں، اتحاد اور انصاف کے راستے پر آگے بڑھایا جائے۔ کسی ماں کی گود دوبارہ آباد نہیں ہو سکتی، کسی یتیم بچے کو اس کا کھویا ہوا باپ واپس نہیں مل سکتا اور کسی بیوہ کے زندگی بھر کے دکھ کا مکمل مداوا ممکن نہیں۔ لیکن ان خاندانوں کو تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کے مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے، ان کے دکھ کو اجتماعی ذمہ داری بنایا جا سکتا ہے اور ان کے پیاروں کی ہلاکتوں کے حقائق سامنے لا کر انصاف کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
یہ شہداء صرف اپنے خاندانوں کے نہیں تھے؛ وہ اس معاشرے کا حصہ تھے جس کے بنیادی عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی جا رہی تھی۔ ان کی قربانیوں کو محض ماضی کا ایک واقعہ سمجھ کر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بچوں کے سوال، ان کی ماؤں کے آنسو اور ان کے خاندانوں کی محرومیاں زندہ ہیں۔
تاریخ صرف یہ نہیں لکھے گی کہ کتنے لوگ شہید ہوئے، بلکہ یہ بھی پوچھے گی کہ ان کی شہادتوں کے بعد ان کے خاندانوں کے لیے کیا کیا گیا، ان واقعات کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں، ذمہ داروں کا تعین ہوا یا نہیں اور عوامی حقوق کے بنیادی مطالبات کا کیا بنا؟
شہداء کے لہو کو خراجِ عقیدت صرف نعروں سے نہیں، انصاف، انسانی وقار، عوامی حقوق کے تحفظ اور ان کے یتیم بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے سے ادا کیا جا سکتا ہے۔
سلام شہدائے عوامی حقوقِ تحریک جموں کشمیر!

تبصرے (0)