انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ظلم ہمیشہ موجود رہا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ظلم کرنے والے اکثر اپنے آپ کو امن کا محافظ، قانون کا پاسبان، انسانیت کا خیر خواہ اور عوام کا نجات دہندہ قرار دیتے رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ہر دور کے فرعون نے اپنے اقتدار کو عوام کی حفاظت کا نام دیا، ہر جابر نے اپنے ظلم کو ریاستی ضرورت قرار دیا، ہر آمر نے اپنی طاقت کو امن کی ضمانت کہا اور ہر ظالم نے اپنے ہاتھوں سے بہنے والے خون کو کسی نہ کسی نام سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔
آج جب پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کی جانب سے مسلسل انسانی مشکلات، طاقت کے استعمال، بنیادی حقوق کی محرومی، آمدورفت کی پابندیوں، خوراک اور ادویات کی قلت، تعلیمی اداروں کی بندش اور شہریوں کی گرفتاریوں یا لاپتا ہونے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا سن کیوں نہیں رہی؟
انسانیت کے نام پر قائم ہونے والے ادارے کہاں ہیں؟
انسانی حقوق کے علمبردار کہاں ہیں؟
وہ عالمی طاقتیں کہاں ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کی بات کرتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں؟
وہ ذرائع ابلاغ کہاں ہیں جو معمولی واقعات کو عالمی سرخی بنا دیتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ضمیر کہاں ہیں جو انسان کی تکلیف کو انسان کی تکلیف سمجھتے تھے؟
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کے بارے میں جو اطلاعات، الزامات اور درد بھرے بیانات سامنے آ رہے ہیں، وہ ایک ایسے انسانی بحران کی تصویر پیش کرتے ہیں جسے محض سیاسی اختلاف یا انتظامی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بنیادی حقوق اور اپنے مطالبات کے حصول کے لیے شروع ہونے والی پُرامن احتجاجی تحریک کے جواب میں طاقت کا استعمال کیا گیا، شہریوں کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا، متعدد خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں بے خبر ہوئے، زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور عام زندگی شدید طور پر متاثر ہوئی۔
اگر ایک ماں اپنے بچے کے لیے خوراک تلاش کر رہی ہو، اگر ایک بیمار انسان دوا کے لیے دربدر ہو، اگر ایک طالب علم کا اسکول مسلسل بند ہو، اگر ایک زخمی شخص بروقت علاج سے محروم ہو، اگر ایک خاندان اپنے لاپتا فرد کی خبر کے لیے دروازے دروازے پھر رہا ہو، اگر شہری خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، تو پھر اس صورتحال کو صرف امن و امان کا مسئلہ کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
یہ انسانی مسئلہ ہے۔
یہ انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔
یہ بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
یہ ایک پوری آبادی کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں دنیا نے انسانی حقوق کے بے شمار منشور تحریر کیے ہیں۔ آزادی، انصاف، مساوات، عزتِ نفس اور زندگی کے حق کے بارے میں بڑے بڑے عالمی معاہدے موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر سے لے کر انسانی حقوق کے عالمی اعلانات تک، دنیا نے یہ اصول تسلیم کیے ہیں کہ ہر انسان کو زندگی کا حق حاصل ہے، ہر انسان عزت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی انسان کو بلاجواز ظلم، تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی خطے کے عوام چیخ رہے ہوں تو ان اصولوں کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
کاغذ پر لکھے ہوئے حقوق اور زمین پر موجود انسانوں کی تکلیف میں اتنا بڑا فرق کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟
کیا انسانی حقوق کا تعلق صرف طاقتور ممالک کے مفادات سے ہے؟
کیا کسی انسان کا درد اس وقت تک قابلِ توجہ نہیں ہوتا جب تک وہ عالمی سیاست کے لیے فائدہ مند نہ ہو؟
کیا دنیا میں انسانیت بھی سیاسی مفادات کے ترازو میں تولی جاتی ہے؟
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کے بارے میں سامنے آنے والی صورتحال ایک ایسے سوال کو جنم دیتی ہے جس کا جواب صرف حکمرانوں کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو دینا ہوگا۔ اگر کسی آبادی کو طویل عرصے تک بنیادی ضروریات سے محرومی کا سامنا ہو، اگر خوراک کی فراہمی متاثر ہو، اگر ادویات تک رسائی مشکل ہو، اگر آمدورفت محدود ہو جائے، اگر تعلیمی ادارے بند ہوں اور اگر عام شہری خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے لگیں تو یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔
ایک بچہ جب بھوک سے روتا ہے تو اس کے آنسو کسی سیاسی نظریے کے تابع نہیں ہوتے۔
انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہتا، مگر روٹی کے بغیر انسان زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔
انسان صرف دوا سے زندگی نہیں بناتا، مگر دوا کے بغیر بیمار انسان موت کے قریب جا سکتا ہے۔
تعلیم صرف کتابوں کا نام نہیں، بلکہ ایک نسل کے مستقبل کا نام ہے۔
آزادی صرف سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ انسان کے سانس لینے، سوچنے، بولنے اور باعزت زندگی گزارنے کا حق ہے۔
جب کسی معاشرے سے یہ بنیادی چیزیں چھننے لگیں تو وہاں صرف مسائل پیدا نہیں ہوتے، وہاں نسلوں کا مستقبل تاریک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر ہمیشہ بچوں کا ہوتا ہے۔
بچے سیاست نہیں سمجھتے۔
انہیں ریاستی مفادات کا علم نہیں ہوتا۔
وہ طاقت کی جنگوں کے فلسفے سے واقف نہیں ہوتے۔
انہیں صرف بھوک محسوس ہوتی ہے۔
انہیں صرف خوف محسوس ہوتا ہے۔
انہیں صرف اپنے والدین کی پریشانی نظر آتی ہے۔
ایک بچہ جب بھوک سے روتا ہے تو اس کے آنسو کسی سیاسی نظریے کے تابع نہیں ہوتے۔ ایک بیمار بچہ جب دوا نہ ملنے کی وجہ سے تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی تکلیف کسی سرحد، کسی ریاست اور کسی حکمران کے سیاسی مفاد کو نہیں پہچانتی۔
بچپن کا ایک ہی مذہب ہے: محبت۔
ایک ہی سیاست ہے: تحفظ۔
ایک ہی مطالبہ ہے: زندگی۔
اگر کسی خطے میں بچے مسلسل خوف، بھوک، بیماری اور تعلیمی محرومی کے ماحول میں پروان چڑھیں تو اس کا نقصان صرف آج کو نہیں ہوتا بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچتا ہے۔
اسی طرح عورتوں کی مشکلات بھی کسی انسانی بحران کا سب سے دردناک پہلو ہوتی ہیں۔ ایک ماں اگر اپنے بچے کے لیے دودھ، خوراک یا دوا نہ حاصل کر سکے تو اس کی بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک بیوی اگر اپنے شوہر کے بارے میں بے خبر ہو، ایک بہن اگر اپنے بھائی کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹا رہی ہو، ایک بیٹی اگر اپنے والد کی واپسی کا انتظار کر رہی ہو تو ان کے گھروں میں صرف خاموشی نہیں ہوتی، وہاں ہر لمحہ ایک سوال زندہ رہتا ہے۔
وہ کہاں ہے؟
وہ زندہ ہے یا نہیں؟
اسے کیوں لے جایا گیا؟
وہ کب واپس آئے گا؟
کیا ہمیں دوبارہ اس کی آواز سننے کو ملے گی؟
یہ سوال کسی بھی خاندان کے لیے زندگی بھر کا عذاب بن سکتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں لاپتا ہونے کا خوف شاید موت کے خوف سے بھی زیادہ اذیت ناک رہا ہے، کیونکہ موت کم از کم ایک حقیقت ہے، لیکن لاپتا شخص کے بارے میں بے خبری ایک خاندان کو ہر لمحے امید اور مایوسی کے درمیان زندہ رکھتی ہے۔ اگر شہریوں کے لاپتا ہونے یا بلاجواز حراست میں لیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو ان الزامات کی شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انصاف صرف ہونا کافی نہیں ہوتا۔
انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کی پہچان ہے۔
ریاست کی اصل طاقت بندوق کی نالی میں نہیں ہوتی۔ ریاست کی اصل طاقت عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ فوجی گاڑیاں، چیک پوسٹیں، طاقت اور اسلحہ وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتے۔
اعتماد انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔
اعتماد احترام سے پیدا ہوتا ہے۔
اعتماد سچ سے پیدا ہوتا ہے۔
اعتماد عوام کی آواز سننے سے پیدا ہوتا ہے۔
اور جب ریاست عوام کو دشمن سمجھنا شروع کر دے تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
کسی بھی حکومت کے لیے سب سے خطرناک چیز عوام کا احتجاج نہیں، بلکہ عوام کا حکومت پر اعتماد ختم ہو جانا ہوتا ہے۔
اگر ایک قوم اپنے مسائل بیان کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائے تو سب سے پہلے یہ سوال حکمرانوں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر وہ کون سی محرومیاں تھیں جنہوں نے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا؟
کیا ان کے مطالبات سنے گئے؟
کیا مذاکرات کیے گئے؟
کیا مسائل کے حل کی کوشش ہوئی؟
کیا ان کے نمائندوں سے بات کی گئی؟
یا پھر ہر اختلاف کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی؟
تاریخ کا ایک اصول ہے: آواز کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔
قلم کو توڑا جا سکتا ہے، مگر خیال کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
انسان کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے، مگر سوال کو زندان میں نہیں رکھا جا سکتا۔
اور جب کسی قوم کے بنیادی سوالات کا جواب طاقت سے دیا جاتا ہے تو سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔

تبصرے (0)