مواد پر جائیں

رائے · آزاد کشمیر

صحافی ابصار عالم اور کشمیری دہشت گرد! جوابِ آں غزل — گزشتہ سے پیوستہ تیسری قسط

صحافی ابصار عالم کے الزامات پر عوامی ایکشن کمیٹی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پرامن کشمیریوں کو مکتی باہنی قرار دینے پر کڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مکمل تحریر پڑھیں۔

خلاصہ

صحافی ابصار عالم کے الزامات پر عوامی ایکشن کمیٹی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پرامن کشمیریوں کو مکتی باہنی قرار دینے پر کڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مکمل تحریر پڑھیں۔

Summary in English

The Awami Action Committee has issued a strong reaction to journalist Absar Alam’s allegations. Serious questions have been raised over labeling peaceful Kashmiris as Mukti Bahini. Read the full text.

صحافی ابصار عالم اور کشمیری دہشت گرد! جوابِ آں غزل — گزشتہ سے پیوستہ تیسری قسط
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

محترم بھائی ابصار عالم صاحب!

آپ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’’منافق کمیٹی‘‘ کہا ہے۔ اب اس کا فیصلہ تھریڈ کی پہلی دو قسطیں پڑھنے کے بعد قارئین خود ہی کر لیں گے کہ منافقت کہاں ہوئی، کس نے کی: ریاست نے، بطور صحافی آپ نے، یا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے؟

ابصار بھائی! ہر لفظ کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے اور بعض الفاظ اپنے ساتھ ایک تاریخی یادداشت بھی رکھتے ہیں۔ آپ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’’عوامی لیگ‘‘ کہہ کر کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک اور بنگلہ دیش بنا رہی ہے؟

ہزاروں خواتین و حضرات اپنے بنیادی حقوق کے لیے سو سے زائد دنوں سے دن رات کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی جھولی میں ایک سو سے زائد لاشیں اور بے شمار زخمی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کا ایک رکن پہلے دن خود گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ پھر چند دن بعد اپنے سگے بھائی کی لاش دفنا کر ہجوم کے سامنے آیا تو اس نے کہا:

’’ہم پُرامن رہیں گے، صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے، کبھی انتقام نہیں لیں گے اور کبھی بندوق کی بات نہیں کریں گے۔‘‘

کیا آپ مین اسٹریم میڈیا پر بیٹھ کر ایسے لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ دراصل مکتی باہنی ہیں؟

ابصار بھائی! یہ آپ بول رہے ہیں یا زیڈ اے سلہری؟ کیا آپ ایک اور جنرل ٹکا خان کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ نہتے لوگوں پر بنگال کی یاد تازہ کرے؟ یا آپ پُرامن لوگوں کو ڈرا رہے ہیں؟

ابصار بھائی! نہ آپ اتنے بھولے ہیں اور نہ ہی عوام کی یادداشت اتنی کمزور ہے کہ وہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ آپ کس کی زبان بول رہے ہیں۔ آپ نے ان لوگوں پر کھل کر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اجیت ڈوول اور مودی سے پیسے لیتے اور انہی کی زبان بولتے ہیں۔ ابصار بھائی، کیا واقعی یہ آپ ہی بول رہے تھے؟

صحافت کو ایک طرف رکھیے؛ کیا ایک دردِ دل رکھنے والا انسان بھی ان لوگوں کے بارے میں ایسا کہہ سکتا ہے جن سے ریاست نے معاہدہ کرکے دھوکا کیا، پھر ان پر گولیاں برسائیں، ان کی لاشیں گرائیں اور ان کے لوگوں کو زخمی کیا؟ ان کے لوگ جیلوں میں بند ہیں یا ریاست کی تحویل میں ہیں، لیکن انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

شوکت نواز میر کو کئی ہفتے قبل فورسز نے حراست میں لیا تھا، مگر آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے ریاست نے عدالت میں یہ بیان دے دیا کہ وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، کیا ان لوگوں کے کوئی انسانی حقوق ہیں یا نہیں؟

پھر چند دن بعد اپنے سگے بھائی کی لاش دفنا کر ہجوم کے سامنے آیا تو اس نے کہا: ''ہم پُرامن رہیں گے، صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے، کبھی انتقام نہیں لیں گے اور کبھی بندوق کی بات نہیں کریں گے۔

ایسے وقت میں ہم آپ جیسے پڑھے لکھے شخص سے کم از کم انسانی ہمدردی کی امید ضرور رکھتے تھے۔ کیا آپ نے کوئی بیان دیا کہ ریاست یہ ظلم نہ کرے، یا کم از کم یہ کہا کہ ایسی زیادتی نہیں ہونی چاہیے؟ اس کے برعکس، آپ انہی لوگوں کو مکتی باہنی سے ملا رہے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ تحریکوں میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور وہ اپنی اپنی بات کرتے رہتے ہیں، لیکن بطور صحافی آپ کا کام یہ دیکھنا ہے کہ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایسا کوئی اعلامیہ جاری ہوا؟ اگر نہیں، تو انفرادی لوگوں کے بیانات کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا نقطۂ نظر بنا کر پیش کرنا پیشہ ورانہ بدنیتی نہیں تو کم از کم غفلت ضرور ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے غداری کے تمام الزامات بغیر کسی ثبوت کے عائد کیے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ معلومات آپ کو ریاست نے فراہم کی ہیں۔ کیا ریاستیں اپنے مخالفین پر ایسے الزامات نہیں لگاتی رہیں؟ باجوہ دور میں آپ پر بھی تو الزامات لگائے گئے تھے؛ کیا وہ سب سچ تھے؟

تیسری بات یہ ہے کہ جن کشمیریوں کو آپ مکتی باہنی کا طعنہ دے رہے ہیں، کیا آپ کو ان کے متعلق تاریخی حقائق معلوم ہیں؟

محترم! شاید آپ کو معلوم نہیں کہ سقوطِ ڈھاکا کے وقت بنگال میں بھارتی دراندازی کے خلاف، پاکستان کی حمایت میں، جن دو نوجوانوں نے انڈین ہائی کمیشن پر قبضہ کیا تھا، وہ دونوں کشمیری تھے۔ دونوں اس کارروائی میں مارے گئے۔ ان میں سے ایک کی قبر آج بھی میرپور کی مرکزی عیدگاہ کے قبرستان میں سبز گنبد کے ساتھ موجود ہے، جبکہ دوسرے کی قبر چکسواری اور ڈڈیال کے درمیان واقع ایک گاؤں میں ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب دونوں نوجوان آپریشن میں مارے گئے تو بعد میں ان سے جو بندوقیں برآمد ہوئیں، وہ پلاسٹک کی تھیں؟ کیا آج تک کسی پاکستانی نے ایسا کرنے کی جرأت کی ہے؟

اگر آپ کا خیال ہے کہ پاکستان سے اتنی محبت کرنے والے یہی لوگ آج آپ سے نفرت کرتے ہیں، تو یہ سوال کشمیریوں سے نہیں بلکہ اپنی ریاست اور خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ آخر کہیں خرابی ہم میں ہی تو نہیں؟

کیا آپ نے خواجہ آصف جیسے شخص کو اپنا پلیٹ فارم فراہم نہیں کیا، جو کہتا ہے کہ ہمارے لیے یہ پہاڑی کشمیری ایسے ہی دشمن ہیں جیسے بھارت کے لیے؟ پھر آپ نے یہ بھی کہا کہ آپ خواجہ آصف کے خیال سے متفق ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ خواجہ آصف کے ساتھ بیٹھ کر آپ نے جو بیانیہ بنانے کی کوشش کی، اس کا ردِعمل کیا ہوا؟

ابصار بھائی! یار لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ ایسے کام کرنے کے پرانے ماہر ہیں۔ کیا آپ نے پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا جس میں مفادات کا ٹکراؤ موجود ہو؟ کیا آپ 2010ء میں جارج سوروس فاؤنڈیشن نامی ایک این جی او کے سربراہ نہیں تھے؟ اور کیا عین اسی وقت آپ دی نیشن میں بھی ملازمت نہیں کررہے تھے؟

میں شاید اس امریکی این جی او کے بارے میں کیے جانے والے ان دعوؤں سے اتفاق نہ کروں کہ اس کی فنڈنگ کن مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی یا اس کا سی آئی اے سے کوئی تعلق تھا، لیکن مفادات کے ٹکراؤ کا سوال تو اپنی جگہ موجود ہے۔

جاری ہے—اگلی قسط میں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں