جواب آں غزل:-
پہلا تھريڈ- بیک گراونڈ
ابصار عالم پاکستان کے ایک بڑے صحافی ہيں ،آپ PTV کے چہرمین بھی رہے ہيں۔ پاکستانی ميڈيا پر نظر رکھنے والا ہر بندہ انکے نام سے واقف ہے۔ ابصار عالم باجوہ دور ميں زیر عتاب رہے،ففتھیوں کا ٹارگٹ رہے۔خدا اور اس وقت کا ہمارا ٹوئٹر ہينڈل گواہ ہے، ہم انکے ساتھ کھڑے تھے۔ جب ابصار بھائی کو گولی لگی تو بھی ہم انکے ساتھ کھڑے تھے۔ ابصار عالم صاحب کے حالات اب بدل چکے ہيں، آج کل وہ رياست کے ساتھ کھڑے ہيں، ہميں انکے کشمیریوں کے بارے ميں حاليہ بیانيہ پر سخت اعتراضات ہيں۔ہم انکی صحافت کے اس روپ کو دیکھ کر دلی دکھ ہوا، اسی لئے ہم نے فیصلہ کيا ہے کہ چند تھريڈز لکھ کر انکے کشمیر ميں جاری حاليہ جوائنٹ عوامی ایکشن کميٹی پر اٹھاے گے الزامات پر اپنا موقف رکھيں۔ ہميں امید ہے کہ محترم ابصار عالم بھی اپنے دفاع ميں اپنی بات رکھيں گے۔
صحافت کا سادہ سا اصول ہے کہ جب پ کوئی خبر دیتے ہيں تو اول (۱)اسکی کم از کم تین مستند زرائع سے تصدیق کرليں۔ دوم (۲) مخالف يا متاثرہ فریق کا موقف بھی لیں۔سوہم(۳)آزاد زرائع سے بھی خبر کی تصدیق کی جاے۔ چہارم (۴)اپنی ذاتی خواہش سے ہٹ کر جو ہے جیسا ہے اسکو رپورٹ کيا جاے۔ہم اس اور آنے والے تھريڈز ميں مندرجہ بالا اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہی ابصار بھائی کی صحافت پر بات کريں گے۔
ہم ہر بات کے ساتھ اپنا ثبوت رکھيں گے اور اميد رکھيں گے کہ ابصار بھائی بھی ہمیں دہشت گرد، گندہ، ویلفیئر پر پلنا والا اور ريپسٹ کہنے کی بجاے تعمل اور منطق سے اپنا جواب ديں گے۔ ابصار عالم صاحب نے کشمیر ميں جواہنٹ عوامی ايکشن کميٹی (JAAC) کی جاری تحریک، کشمیریوں، مسلہ کشمیر اور اورسیز کشمیريوں کے حوالے سے اپنی ہر خبر، ہر وی لاگ اور ہر ٹویٹ ميں اپنا تعصب یا ریاسی و سرکاری بیانيہ پیش کیا، کہيں ايک جگہ بھی کوئی صحافيانہ کردار ادا نہيں کيا۔آج ہم اس پہلے تھریڈ ميں جواہنٹ عوامی ايکشن کميٹی (JAAC ) اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سرسری بات کرکے ہی اگلے تھريڈزميں انکے نقطہ نظر پر اپنی بات رکھيں گے، تاکہ قارہین کو پہلے مسلے کی بیک گراونڈ کا پتا چل جاے۔
جواہنٹ عوامی ايکشن کمیٹی (JAAC)اور نماہندگان حکومت پاکستان و حکومت ریاست جموں وکشمیر کے درمیان 3اکتوب 2025 کوايک معاہدہ ڈرافٹ ہوا جو 5 اکتوبر 2025 کو آخری دستخطوں کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ جس ميں ریاست کی حکومت نے وفاقی حکومت کی گارنٹی کے ساتھ JAAC کے 38 ميں سے 36 مطالبات کو فوری ماننے کا اعلان کیا اور دو مطالبات جو کہ اہينی نوعیت کے تھے کو ايک کميٹی بنا کر تين ماہ تک باہمی گفت وشنید کے ساتھ حل کرنے کا وعدہ کيا۔
(يہاں JAAC کے مطالبات اور معاہدے کی کاپیاں لف ہيں)۔ حکومت نے 36 مطالبات ميں سے دو مطالبات پر جزوی طور فورا عمل کیا، جن ميں بجلی اور آٹے کی قيمتوں ميں کمی اور بعدازاں تیسرا مطالبہ وزیر اعظم کی تبديلی پر وزارتوں ميں کمی کی گئی، جبکہ باقی 33 مطالبات پر کوئی عمل نہ کیا اور نہ ہی اہینی نوعیت کے مطالبات پر تين کی بجاے سات ماہ تک کوئی کميٹی تشکيل دی۔
ریاست نے آزاد کشمیر ميں اسی طرح کا بلیک آوٹ کیا جیسے مودی نے کووڈ کے دنوں ميں بھارتی مقبوضہ کشمیر ميں کیاتھا۔
اس کے ردعمل ميںJAAC نے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کيلیے 9 جون کو ایک نئے لانگ مارچ کی کال دی، اس پر حکومت نے 5 جون کو JAAC کۓ ساتھ ایک ميٹنگ کی جس ميں حکومت نے JAAC کے سارے مطالبات کو دوبارہ ماننے کا اعلان کيا، جس پر JAAC نے تحریری یقین دھانی کی درخواست کی تو حکومت نے دو دن کی مہلت مانگی۔ يوں 7 جون 2026 کو حکومت نے تحریری گارنٹی دينی تھی، مگر 6 جون کو ہی حکومت نے JAAC کو ایک دہشت گرد گروپ کہہ کر اسے کالعدم قرار دے دیا اور اسکی کور کميٹی کے ممبران کے سروں کی بھاری قیمت رکھ دی۔سرکار نے JAAC کو دہشت گرد قرار دیتے ہوے ریاست بھر ميں انٹرنیٹ، موبائل سروس اور ہر طرح کی کمیونيکشن کو مکمل طور پر بند کردیا۔
ریاست نے آزاد کشمیر ميں اسی طرح کا بلیک آوٹ کیا جیسے مودی نے کووڈ کے دنوں ميں بھارتی مقبوضہ کشمیر ميں کیاتھا۔پھر اسی روز یعنی 6 تاریخ کو ہی حکومت نے عمر نذیر جو کور کميٹی کے ممبر ہيں انکی گاڑی پر گولی چلا دی، جس ميں عمر نذیر زخمی اور انکے ساتھی شہازیب کی شہادت ہو گئی۔ شہازیب کی لاش لینے جب انکے لواحقین ہسپتال پہنچے تو پولیس نے لاش کی وصولی کیلیے اس کے بھائی کو ایک پیپر پر پر سائن کرنے کا کہا، جس پر لکھا تھا کہ شاہزیب ایک دہشت گرد تھا۔
بھائی نے اپنے مقتول بھائی کو دہشت گرد ماننے سے انکار کر دیا، اسکا موقف تھا کہ اس نے کوئی دہشت گردی نہيں کی ہے۔ جس پر پولیس نے لاش دینے سے انکار کردیا، جہاں سے حالات خراب ہوے۔جب عوام علاقہ کو پتا چلا تو وہ ہسپتال کی طرف جانا شروع ہوگے، تو فورسزز نے ان پر فائرنگ کر دی، جس ميں مزید جانوں کا نقصان ہوا۔ پھر راولاکوٹ شہر ميں کرفیو لگا کر بلیک اوٹ کرکے رات بھر فورسزز نے علاقے کو انڈر سیج رکھا۔
يہ 6 جون تک کی صورت حال ہے، اگلے دن 7 تاریخ کو کوٹلی میں فورسزز نے وہی عمل دہرایا جو ايک روز قبل راولاکوٹ میں کيا گیا تھا۔ ہسپتال پر حملہ دشمن بھی حالت جنگ ميں نہيں کرتا،آخر کیوں کوٹلی DHQ کے اندر فورسزز نے فائرنگ کی جب ہسپتال کے اندر کوئئ JAAC کا بندہ تک موجود نہ تھا؟ احتشام شہاپال کی موت ہسپتال کے اندر ہوئئ جسکا JAAC کے ساتھ کوئئ تعلق نہيں تھا بلکہ وہ تو ہسپتال ميں چیريٹی کے طور پر کام کرتا تھا۔
ڈاکٹر احسن جیسا نوجوان جو ہال ہی ميں اسٹریلیا سے تعلیم مکمل کرکے آیا تھا،اس دن چھٹی پر اپنے گھر پر تھا جو ہسپتال کے عين ساتھ ایک ہوسنگ سوساہٹی ميں ہے، فورسزز نے اس کو گھر پر گولی ماری، اسکا بھی JAAC کے ساتھ کوئئ تعلق نہ تھا۔يہ لانگ مارچ والے دن یعنی 9 جون سے دو دن قبل تک کی کہانی ہے۔
سوال يہ اٹھتا ہے کہ کیا ابصار بھائئ نے کبھی کسی مقام پر اس بیک گراونڈ پر بات کی؟ کيا انھوں نے رياست سے معاہدے کی خلاف فرضی پر کوئی سوال اٹھایا؟ دہشت گردی کے جھوٹے بیانيہ اور بے گناہ لوگوں کے قتل عام پر سوال اٹھایا ؟ کیا کوئئ تحقیقاتی رپورٹ لکھی؟ ابصار بھائی نے کيا رپورٹ کیا، کیا کہا، کتنا پروپیگنڈہ کیا، اور کونسی زبان استعمال کی، ہم اگلے آنے والے تھریڈز ميں وڈیو کلپز کيساتھ اس کو پرکھنے کی کوشش کريں گے۔ جاری ہے (شکریہ)

تبصرے (0)