تصحیح!
میں یہ تھریڈ شروع کرنے سے پہلے گزشتہ تھریڈ میں کی گئی دو غلطیوں کی نہ صرف تصحیح کرنا چاہتا ہوں بلکہ قارئین سے معذرت خواہ بھی ہوں۔ میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ میں تھریڈ لکھتے وقت اسے دوبارہ نہیں پڑھتا، جو کہ ایک غلط عمل ہے۔
میں طاہر عمران میاں
کا مشکور ہوں، جنہوں نے ابصار عالم کے عہدے کی درستگی فرمائی۔ ابصار بھائی PTV کے نہیں بلکہ پیمرا کے چیئرمین رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ابصار بھائی پر اور زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر وہ آج پیمرا کے چیئرمین ہوتے تو کیا ایسی صحافت کی اجازت دیتے؟
دوسری غلطی JAAC اور حکومتی معاہدے کی تاریخوں کے حوالے سے ہے۔ معاہدہ 5 اکتوبر 2025 کو نہیں بلکہ 4 اکتوبر 2025 کو ہوا تھا۔ حکومت اور JAAC کا اجلاس 5 جون کو نہیں بلکہ 30 مئی کو ہوا تھا، جس میں اگلا اجلاس 7 جون کو بلانے پر اتفاق ہوا تھا۔
حکومت نے اچانک 5 جون کو ہی عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا۔ 5 جون کو ہی عمر نذیر کشمیری پر راولاکوٹ میں اچانک حملہ کر دیا گیا، جس میں وہ زخمی اور شاہ زیب شہید ہوا۔ پھر اگلے دو دن راولاکوٹ میں فائرنگ ہوتی رہی، جس میں کافی لوگ شہید، بیسیوں زخمی اور لاتعداد لاپتہ ہوئے۔ اور 7 نہیں بلکہ 9 جون کو کوٹلی میں بلااشتعال فائرنگ کرکے 9 افراد شہید کیے گئے۔ ایک ڈاکٹر سمیت متعدد لوگ اپنے گھروں میں مارے گئے تھے۔
مجھے یہ وضاحتیں اس لیے دینی پڑ رہی ہیں کیونکہ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا پر JAAC کے مطالبات، ان کے ساتھ حکومتی معاہدوں اور ان معاہدوں سے روگردانی پر مکمل بلیک آؤٹ رکھا گیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ آزاد حکومت کا پہلا دس نکاتی معاہدہ 2024 میں ہوا، جس پر آزاد حکومت نے کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے تاجروں کے دس مطالبات کے ساتھ میدان میں ابھری تھی، لیکن بعدازاں دوسری تنظیمیں اور یونینز اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ اس میں شامل ہوگئیں تو اس کے مطالبات دس سے بڑھ کر 38 ہوگئے۔ یوں اس کا نیا نام عوامی ایکشن کمیٹی کے بجائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی رکھا گیا۔
پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا پر بیٹھے ابصار بھائی
جیسے پنجاب سینٹرک صحافی، مثلاً عمر چیمہ
مزمل سہروردی
اور رضوان رضی
وغیرہ بھی JAAC کی حقیقت کو سمجھے بغیر ریاستی بیانیے کے ساتھ نہ صرف کھڑے ہوگئے بلکہ یک طرفہ طور پر ریاستی بیانیے کو پروموٹ بھی کرنا شروع ہوگئے۔ یہ تاثر پھیلاتے رہے کہ JAAC ایک جتھا یا گروہ ہے، مگر نہ جانے یہ معلومات کی کمی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد تھے۔ بہرحال، ان لوگوں نے دانستہ یا نادانستہ اپنی صحافیانہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری نہیں کی۔
بہرحال، ہمارا خیال ہے کہ خاموش اکثریت کی آواز کو جب صحافت میں جگہ نہیں ملتی تو نقصان صحافت کا ہوتا ہے، اور صحافت کا نقصان دراصل ریاست کا ہی نقصان ہوتا ہے۔
ابصار بھائی نے اپنے وی لاگز میں JAAC کو ایک گروہ قرار دیا۔ میرے خیال سے JAAC، TLP کی طرح کا کوئی گروہ بالکل نہیں ہے۔ JAAC اپنی نوعیت میں سراسر بنیادی انسانی حقوق اور سول رائٹس کی تحریک ہے۔ اس میں سول سوسائٹی کے ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔
اس میں پاکستان نواز سیاسی جماعتوں کے کارکن، مذہبی جماعتوں، بائیں بازو کی تنظیموں، خودمختار کشمیر کے علمبرداروں اور الحاقِ پاکستان کے حامیوں سمیت رکشہ یونینز سے لے کر طلبہ یونینز تک، تاجر برادری ہو یا وکلا برادری، ہر مکتبۂ فکر کا فرد شامل ہے۔
ان کے بنیادی مطالبات صحت، تعلیم، روزگار، بہتر گورننس اور ایلیٹ کلچر میں اصلاحات ہیں۔ یہ انقلابی یا علیحدگی کی تحریک بہرحال نہیں ہے۔ اس کے اوپر کوئی ایک لیڈر نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت باہمی مشاورت سے ہر تحصیل پر مشتمل ایک کور کمیٹی ہے۔
ایسی تحریک ایک Academic بحث مانگتی ہے، جس پر وجاہت مسعود
افراسیاب خٹک
ضیغم خان
جامی چانڈیو
یا شاہ محمد مری جیسے دانشور صاحبان کو گفتگو کرنی چاہیے۔
بہرحال، ہمارا خیال ہے کہ خاموش اکثریت کی آواز کو جب صحافت میں جگہ نہیں ملتی تو نقصان صحافت کا ہوتا ہے، اور صحافت کا نقصان دراصل ریاست کا ہی نقصان ہوتا ہے۔
ابصار بھائی، آپ TV کے پرائم ٹائم پر شو کرتے ہیں، اپنے وی لاگ بناتے ہیں، اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں، یعنی آپ ایک پیشہ ور صحافی ہیں۔
بحیثیت صحافی، کیا آپ نے آزاد کشمیر پر خبر کرنے سے پہلے وہاں جاکر حالات دیکھے؟ اعزاز سید کی طرح عام لوگوں یا مقامی صحافیوں سے سوال کیے؟ JAAC کے کسی نمائندے کا مؤقف لیا؟ اگر آپ وہاں نہیں جاسکتے تھے تو کیا کسی غیر جانب دار صحافی یا عام آدمی سے کشمیر کے حالات کی خبر لی؟ کیا ان کو رپورٹ کیا؟ کون سے آزاد ذرائع استعمال کیے؟ کیا آپ نے الجزیرہ یا بی بی سی کی رپورٹس دیکھیں؟
جواب شاید نہیں ہے۔
آپ نے آج تک کشمیر پر جو بھی خبر کی، وہ سرکاری مؤقف پر ہی کی۔ کیا سرکاری مؤقف دینا وزارتِ اطلاعات کا کام ہوتا ہے یا ایک صحافی کا؟
بات اگر سرکاری مؤقف تک رہتی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ آپ نے ایک قدم آگے بڑھ کر ریاستی بیانیہ بنانے میں ایک محرک کا کردار ادا کیا۔ آپ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنے پروگرامز میں کئی بار ”منافق لیگ“ اور ”عوامی لیگ“ کے القابات سے پکارا اور برملا کہا کہ میں ایسا سمجھتا ہوں۔
آپ اپنے پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو کیا پیغام دے رہے تھے؟
آپ کے لیے JAAC ”منافق لیگ“ ہے، مگر وہ ریاست جو دو مرتبہ اپنے شہریوں کے ساتھ معاہدے کرکے ان پر عمل درآمد نہیں کر رہی، وہ ٹھیک ہے؟ مگر جن کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوا، وہ ”منافق“ ہیں؟ (جاری ہے مگر اگلے اور تیسرے تھریڈ ميں

تبصرے (0)