اس وقت آزادکشمیر جن حالات سے گزر رہا ہے، ان میں یہاں کے ان "نظریاتی رنگوں" کی بات کرنا بھی ضروری ہے ۔ یہ سن سنتالیس میں 'آزاد کشمیر' کے قیام اور اس کو ریاست کے دیگر علاقے آزاد کروانے کے لیے ' بیس کیمپ' قرار دینے کے بعد مختلف مراحل پر پیدا ہوئے اور بتدریج پروان چڑھے۔ اب یہ سب کے سب اس خطے کے سیاسی " لٹھے" یعنی اس کے سیاسی فیبرک، کا ایک اہم حصہ ہیں۔بل کہ 09 جون کو آزاد کشمیر بھر کے اضلاع سے آئے ہوئے ایکشن کمیٹی کے تیسرے ' لانگ مارچ' کے راولاکوٹ میں دھرنوں کی شکل اختیار کر لینے کے بعد سے آج تک بتدریج یہ نظریاتی رنگ بھی لاکھوں افراد پر مشتمل ان دھرنوں کے سٹیجوں پر اپنے اپنے رنگ بدلتی ہوئی گہرائی اور گھیرائی کے ساتھ یوں بکھیرتے نظر آ رہے ہیں کہ حقوق تحریک کے اصلی رنگوں کی بس جھلکیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ نظریاتی دنیا بھی خاصی رنگین ہے۔ اس میں مختلف رنگوں کے اسلامی انقلاب ہیں، سوشلسٹ انقلاب ہیں، اور ایسے قوم پرستانہ تصورات بھی ہیں جو کسی انقلاب کے بغیر پوری سابق ریاست جموں و کشمیر کو متحد کرکے ایک خودمختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ میری سمجھ میں ان سب کے ہاں ایک بنیادی مسئلہ مشترک ہے: یہ سب پہلے ایک خاص نظریاتی تعلیم کے ذریعے ذہنی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور پھر اس ذہنی انقلاب کو مختلف طرح کے 'جہادوں' اور ' جدوجہدوں' کے ذریعے عملی انقلاب میں تبدیل کرنے کے راستے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے وہ تمام جو آزاد کشمیر کی آزادی و خود مختاری کے نظریے کا پرچار کرتے ہیں ان پر آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ ان میں پوری ریاست کی وحدت اور خود مختاری کی داعی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور خود مختاری کے ساتھ ساتھ عوامی جمہوری انقلابوں کی علمبردار نیشنل عوامی پارٹی، مارکسی سیاسی فکر کی داعی جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی ( اس میں سے نکلی ہوئی ) یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی اور کشمیر فریڈم موومنٹ وغیرہ شامل ہیں۔
اسلامی انقلاب والوں میں جماعت اسلامی سے شروع ہو کر گزشتہ تین دہائیوں میں وادی میں بھارتی قبضے کے خلاف مختلف جہادی گروپوں تک شامل ہیں۔ عوامی حقوق دھرنے میں شروع میں تو آزادی و خود مختاری اور عوامی انقلاب والوں نے اپنی تقریروں کے جوہر دکھائے لیکن پھر بتدریج جماعت اسلامی اور اب جہاد کے مختلف رنگوں والے بھی منظر عام پر آ رہے ہیں ۔ یعنی انقلاب کے سارے رنگ راولاکوٹ دھرنوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ سب نظریاتی تنظیمیں اور تحریکیں آزاد کشمیر میں موجود تو رہی ہیں لیکن مخصوص دائروں میں اور محدود حلقوں میں۔ اس کی بنیادی وجہ میرے خیال میں یہ رہی ہے کہ ان نظریات کا یہاں کے عام آدمی کی روزمرہ زندگی، اس کی فوری مشکلات، معاشی پریشانیوں، روزگار، بجلی، آٹے، تعلیم، صحت اور بنیادی شہری حقوق سے براہِ راست تعلق بہت محدود ہے۔
لوگ ان نظریات میں اپنے دکھوں کے خاتمے کا خواب ضرور دیکھتے ہیں، لیکن یہ نظریات خود ان کی روزمرہ زندگی کے تجربات سے پیدا نہیں ہوئے۔ اسی لیے پھر پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو ان کی موجودہ حقیقتوں سے اٹھا کر "انقلاب" یا "خودمختاری" کے کسی بڑے تاریخی راستے پر ڈال دیا جائے۔
ایکشن کمیٹی کی موجودہ تحریک سے ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اس مرتبہ مختلف نظریاتی اور انقلابی گروہ اس تحریک کی حمایت تو کریں گے، لیکن اپنی سیاست اور نظریات کو اس کے اندر نہیں سرکائیں گے۔ شاید پہلی مرتبہ شہری حقوق کی تحریک کو شہری حقوق ہی کی تحریک رہنے دیا جائے گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایکشن کمیٹی کے اندر موجود یہ سارے رنگ بتدریج کمیٹی کے عوامی حقوق رنگ پر غالب آتے گئے۔
بتدریج بجلی، آٹا، ٹیکس، حکومتی مراعات، نمائندگی، روزگار اور شہری اختیار جیسے بنیادی مطالبات مختلف رنگوں کے انقلابوں، قوم پرستی، آزادی کے نظریاتی نعروں کے شور میں دبنے لگے۔اب تو جہاد کے اشارے دینے والے بھی تقریریں کرنے لگے ہیں ۔
اس سب میں پاکستانی فورسز کی طرف سے نہتے لوگوں ہر سیدھی گولیاں برسانے کی پالیسی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اس کو فوری طور پر روکنا ہو گا۔ آزاد کشمیر میں پاکستان کے خلاف کوئی مسلح گروپ نہیں ہے۔ سوائے ان سابقہ جنگ جووؤں کے جو اب ایک کھلا راز ہے کہ آپ کے ہی تیار کردہ ہیں۔ اب دھرنوں سے میں ان کی آوازیں اگر تو آزادی و انقلاب پسندوں کو دکھانے کے لیے ہیں کہ اگر تحریک کو اس طرف لے کر جانے کی کوشش کی تو ہمارے پاس توڑ بھی موجود ہے تو پھر اس سلسلے کو دونوں طرف سے یہیں روک دیا جانا چاہیے ۔ کیوں کہ آگے کسی کے لیے بھی کوئی سکون نہیں بچے گا۔ تاہم اگر ان جہاد کے نعروں کو خود مختاری اور انقلاب کی تقریریوں اور نعروں کے ساتھ ملا کر کوئی بڑا اپریشن کرنا مقصود ہے تو بھی یہ کامیاب نہیں ہو گا کیوں کہ آپ کا واسطہ کسی سیاسی تنظیم یا نظریے کے ساتھ نہیں ہے۔ آپ کا واسطہ عوام سے ہے ۔ تیس سال قبل وادی میں شروع کی جانے والی تحریک کے بعد پیدا ہونے والے جو اس تحریک میں بھاری اکثریت رکھتے ہیں وہ سب جانتے ہیں۔ تب یعنی 1980 سے اب تک کی ساری کہانی ان کو زبانی یاد ہے۔
05 آزاد کشمیر میں پہلے لانگ مارچ میں چار افراد کی شہادت سے لے کر اب تک جبر نے غصہ پیدا کیا، غصے نے سیاسی بیانیہ بدلا، اور سیاسی بیانیہ حقوق کی تحریک کو آزادی اور انقلاب کے نعروں کے مزید قریب لے گیا۔ اگر تشدد کا سلسلہ مزید بڑھتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک کسی ایسے مقام تک پہنچ جائے جہاں سیاست "تخت یا تختہ" کے ناقابلِ واپسی مرحلے میں داخل ہو جائے۔
لیکن سوال یہ ہے: اس سے نکلے گا کیا؟ جبر کے ذریعے حاصل کیا جانے والا مکمل سناٹا بھی امن نہیں ہوتا۔
اسی طرح جیسا کہ شروع سے ہی میں یہاں لکھتا آیا ہوں کہ ایکشن کمیٹی کی موجودہ تحریک سے نہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی خودمختاری برآمد ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ سماجی یا سیاسی انقلاب جس کا تصور بعض دوست اس کے اندر دیکھ رہے ہیں۔
اس تحریک سے اگر کوئی تاریخی پیش رفت نکل سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ آزادکشمیر کے موجودہ نظام میں بنیادی اصلاح ہو، شہری اور معاشی حقوق محفوظ ہوں، مقامی سیاسی اختیار میں اضافہ ہو، ریاستی ادارے جوابدہ بنیں، اور پاکستان کے ساتھ تعلق حاکم و محکوم کے بجائے باہمی احترام، اعتماد اور مفادات کی بنیاد پر ازسرِنو مرتب ہو۔
یہ کوئی معمولی ہدف نہیں۔
اور یہ بات میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ آزادی، خودمختاری یا انقلاب کی خواہش یا نظریہ غلط ہے۔ خواہش اور نظریہ بالکل درست ہے۔ لیکن تاریخ صرف خواہشات اور مجرد نظریات سے نہیں بنتی۔ اس کے لیے زمینی حالات، سیاسی قوت، تنظیمی صلاحیت، وسیع عوامی آمادگی، مادی وسائل اور علاقائی و عالمی حالات بھی درکار ہوتے ہیں۔
میں شروع دن سے ایک سادہ مثال دیتا آیا ہوں:
رکشے میں جہاز کا انجن لگا دینے سے وہ جہاز نہیں بن جاتا۔
الٹا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ رکشہ بھی تباہ ہو جائے۔
اس لیے کم از کم اس مرحلے پر آزادکشمیر کو ہی مرکز بنا لیجیے۔ اور جانیے کہ یہاں کے لوگوں کو کیا چاہیے۔ یہاں کے ادارے کیسے بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہاں کی حکومت کتنی جوابدہ بن سکتی ہے۔ یہاں کے وسائل پر لوگوں کا اختیار کیسے بڑھ سکتا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ تعلق کو زیادہ باوقار، متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے خطوں کے لوگ اگر آزادی چاہتے ہیں، خودمختاری چاہتے ہیں، بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا کوئی اور سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں خود بولنے دیجیے۔ ان کی طرف سے خود فیصلہ مت کیجیے۔ ان کی طرف سے انقلاب مت کیجیے۔ ان کی طرف سے آزادی کی منزل مت طے کیجیے۔
کبھی ہم نے خود سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ 1947 کے بعد آزادکشمیر کو "بیس کیمپ" کیوں کہا گیا تھا؟
کس مقصد کے لیے؟
کشمیر وادی، جموں اور لداخ کو بھارتی قبضے سے آزاد کروانے کے لیے؟
جبر کے ذریعے حاصل کیا جانے والا مکمل سناٹا بھی امن نہیں ہوتا۔
مطلب یہ کہ ہم آزادکشمیر والے انہیں آزاد کروائیں گے؟
کیوں؟
کیا وہ ہم سے کمتر تھے؟
کیا وہ اپنا برا بھلا خود نہیں سوچ سکتے تھے؟
کیا وہ اپنی آزادی کی جدوجہد خود نہیں کر سکتے تھے؟
ہم ان سے کس بنیاد پر زیادہ باشعور، زیادہ سیاسی، زیادہ انقلابی یا زیادہ برتر تھے کہ ان کے مستقبل کا بوجھ بھی ہم اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے؟
میں نے یہ سوال خود سے بار بار پوچھا ہے۔
اور گزشتہ چند برسوں میں جتنا اس پر غور کیا ہے، اتنا ہی مجھے یہ خیال کمزور، بے بنیاد اور بعض حوالوں سے چھوٹی سطح کی قبضہ گیر ذہنیت محسوس ہوا ہے۔
ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسرے خطوں کے لوگ شاید خود نہیں جانتے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے، لیکن ہم جانتے ہیں۔
یہ آزادی نہیں۔
آزادی کا پہلا اصول تو یہی ہونا چاہیے کہ ہر خطے کے لوگوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔
شاید جس تصور کو نسلوں تک ایک عظیم تاریخی مشن کے طور پر ہمارے سامنے رکھا گیا، وہ عملی سیاست میں وہی "ٹرک کی بتی" ثابت ہوا جس کے پیچھے نسلیں دوڑتی رہیں، جبکہ اپنے گھر کے اندر جمہوریت، اختیار، معیشت، ادارے اور شہری حقوق کمزور ہوتے گئے۔
اسی لیے میری گزارش بہت سادہ ہے:
اس وقت جو بھی رہنما راولاکوٹ میں لگے دھرنوں میں موجود ہیں وہ نظریاتی تفریق کے بغیر سر جوڑ کر ان کو پر امن انجام تک پہنچانے کے لیے سر جوڑ کر قابل عمل راستے نکالیے۔ اس کے بعد اگر بچا سکتے ہیں تو آزادکشمیر کو بچا لیجیے۔
اس کے ادارے بچائیے۔
اس کا سیاسی تشخص بچائیے۔
اس کی محدود ہی سہی مگر موجود آئینی اور علاقائی شناخت کو مضبوط کیجیے۔
اس کے لوگوں کو زیادہ اختیار ملیں ۔
اس کے وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق یہاں کے لوگوں کو ملے ۔
اس کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلق کو باہمی عزت، اعتماد اور باہمی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنے کی جدوجہد کیجیے۔
اسی تناظر میں "سہولت کار"، "مزاحمت کار" اور بارہ نشستوں کے گرد بننے والے بعض بیانیوں کا بھی سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
جذبات ک ایک طرف رکھ کر قائدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ جو زبان اور نعرے جلسوں، تقریروں اور سوشل میڈیا پر بہت انقلابی لگتے ہیں کیا ان کے نتائج بھی انقلابی ہوں گے یا کیا ان سے ابھارے جانے والے جذبات کو حقیقی بنانے کے لیے درکار لوازمات موجود ہیں ؟ بعض اوقات ہم جس بیانیے کو آزادکشمیر کے سیاسی تشخص کے دفاع کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں، وہی بیانیہ غیر ارادی طور پر اس تشخص کو ختم کرنے والوں کے دلائل کو مضبوط کر دیتا ہے۔اگر ہم خود یہ کہنا شروع کر دیں کہ آزادکشمیر کی موجودہ سرحد، سیاسی اکائی، آبادی اور اداروں کی کوئی الگ معنویت نہیں، تو پھر کل کوئی دوسرا یہی دلیل لے کر یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس خطے کے علیحدہ سیاسی وجود کی ضرورت ہی کیا ہے؟اسی لیے نعروں کو صرف ان کی جذباتی کشش سے نہیں، ان کے منطقی انجام سے بھی پرکھنا ہوگا۔
وسیع تر ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے ہر خطے کو اپنے مخصوص سیاسی، تاریخی، معاشی، سماجی اور جغرافیائی حالات کے مطابق اپنا بیانیہ اور اپنا راستہ بنانے دیجیے۔
کشمیر وادی کے لوگ اپنی بات کریں۔
جموں کے لوگ اپنی بات کریں۔
لداخ کے لوگ اپنی بات کریں۔
گلگت بلتستان کے لوگ اپنی بات کریں۔
اور آزادکشمیر کے لوگ اپنی زمین، اپنے اداروں، اپنے وسائل، اپنے سیاسی اختیار اور اپنے مستقبل کی بات کریں۔ پھر وہ مل کر پوری ریاست کی بات کریں ۔
اگر واقعی ریاست کے مشترکہ مستقبل پر کوئی سنجیدہ گفتگو کرنا مقصود ہے تو بڑے بڑے دعووں سے پہلے ایک بہت چھوٹا مگر بامعنی کام کیجیے۔
ہر خطے سے کم از کم ایک ایسا شخص تلاش کیجیے جو وہاں کی سماجی اور سیاسی حقیقتوں کو سمجھتا ہو۔ سب کو ایک میز پر بٹھائیے اور ایک دوسرے سے پوچھئے:
آپ کے خطے کے لوگ کیا چاہتے ہیں؟
ان کے بنیادی شہری مسائل کیا ہیں؟
ان کے سیاسی خدشات کیا ہیں؟
مشترکہ مفادات کہاں موجود ہیں؟
اور مستقبل کے حوالے سے کون سے راستے واقعی ممکن ہیں؟
ہو سکتا ہے ان سوالوں کے جواب ہماری تیار شدہ نظریاتی کتابوں سے مختلف نکلیں۔ حقیقت کو موڑ توڑ کر نظریات میں سمونے کی سیاست نے جو شعور پیدا کیا ہے وہ زمین سے کٹا ہوا ، مجرد بلکہ بعض اوقات عام عوام کی حقیقتوں سے ٹکڑانے والا بن جاتا ہے۔ کئی بار یہ استعمال ہو جانے والا بھی ثابت ہوا ہے۔ میرے خیال میں اس تحریک میں سے جو سب سے مفید اور بڑا سب نظریاتی سیاست والے آزاد کشمیریوں کے لیے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حقیقت کو موڑ کر نظریات میں سمونے کی بجائے حقیقت کو ایمانداری سے سمجھ کر نظریات کو اس کے مطابق ڈھالنا بہتر راستہ ہے۔ اس سارے عمل میں ہماری اپنی بنیادی توجہ آزادکشمیر پر ہونی چاہیے۔
اس کے لیے میرے خیال میں ہمیں اپنی نظریاتی عینکیں بھی بدلنی ہوں گی، خصوصاً وہ عینکیں جن سے ہر طرف صرف نفرت دکھائی دیتی ہے۔پاکستان سے نفرت، بھارت سے نفرت، کسی قوم، خطے، جماعت یا نظریے سے نفرت—نفرت کی عینک سے دنیا دیکھیں تو صرف دشمن، غدار، سہولت کار اور مزاحمت کار نظر آتے ہیں۔ تعمیر کے راستے نظر نہیں آتے۔
ایسی جذباتی نفرت سے ہزار خلوص اور نیک نیتی کے باوجود استحصال کے موجود منبعوں کو بے نقاب اور فرسودہ ڈھانچوں کو شاید زمین بوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن تعمیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا سوائے ایک مسلسل خلاء کے جو نفرت سے بھرا رہتا ہے۔
اس وقت آزادکشمیر کو سب سے زیادہ تعمیر کی ضرورت ہے۔ایک ایسے نظام کی تعمیر جو اپنے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہو۔ایک ایسی سیاست کی تعمیر جو لوگوں کے روزمرہ مسائل سے جڑی ہو۔ایسے اداروں کی تعمیر جو مضبوط بھی ہوں اور عوامی نگرانی کے تابع بھی۔ایسی جمہوریت کی تعمیر جو اختلاف کو برداشت کرے۔اور پاکستان کے ساتھ ایسے تعلق کی تعمیر جس میں حکم اور اطاعت کے بجائے عزت، اعتماد، مفاد اور سیاسی رضامندی ہو۔
شاید انقلاب کا آغاز بھی یہی ہے۔
آسمان فتح کرنے سے پہلے اپنے پاؤں کے نیچے موجود زمین کو محفوظ کرنا۔
دوسروں کو آزادی دلانے نکلنے سے پہلے اپنی آزادی کے حقیقی معنی طے کرنا۔
اور پوری ریاست کا مستقبل طے کرنے سے پہلے یہ مان لینا کہ ہر خطے کے لوگوں کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق ہے۔
اس لیے میری گزارش صرف اتنی ہے:
پورے کشمیر کو آزاد کروانے کے خواب سے پہلے آزادکشمیر کو بچا لیجیے۔
اگر ہم یہاں ایک بہتر، زیادہ جمہوری، زیادہ بااختیار، زیادہ جوابدہ اور زیادہ باوقار نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید یہی کامیابی ریاست کے باقی خطوں کے لوگوں کے لیے کسی نعرے، کسی لشکر اور کسی ’’بیس کیمپ‘‘ سے کہیں زیادہ طاقتور سیاسی پیغام ہوگی۔
لیکن اس راستے پر چلنے کی ذمہ داری صرف آزادکشمیر کے عوام، ایکشن کمیٹی یا یہاں کی سیاسی قوتوں پر نہیں آتی۔ سب سے اہم ، مرکزی اور کلیدی کردار پاکستان کی طرف سے اس خطے پر قائم سیاسی و انتظامی بالادستی کے موجودہ ڈھانچے کا بنتا ہے۔ اس کے محافظوں کو بھی پورے منظرنامے پر ازسرنو نظر ڈالنا ہوگی اور اس کے مطابق پالیسی بدلنا ہو گی۔ انہیں 'آزاد کشمیر' کے نئت معروض میں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلق صرف طاقت، دباؤ، سیاسی بلیک میلنگ اور وسائل پر یکطرفہ اختیار کے ذریعے ہمیشہ قائم نہیں رکھا جا سکتا۔
اگر پاکستان واقعی آزادکشمیر کے ساتھ ایک پائیدار تعلق چاہتا ہے تو اسے اس تعلق کی نوعیت تبدیل کرنا ہوگی۔ حکم اور اطاعت کی جگہ مشاورت، اعتماد اور رضامندی کو دینا ہوگا۔ وسائل کے مسلسل اخراج کی جگہ منصفانہ شراکت، سیاسی مداخلت کی جگہ مقامی اختیار، اور طاقت کے استعمال کی جگہ سیاسی مکالمے کو بنیادی اصول بنانا ہوگا۔
یہ صرف اخلاقی مطالبہ نہیں، ایک عملی سیاسی ضرورت بھی ہے۔
کیونکہ جو سیاسی خلا اعتماد کے خاتمے، مسلسل جبر اور بے اختیاری سے پیدا ہوتا ہے، وہ زیادہ دیر خالی نہیں رہتا۔ اگر مقامی سیاسی قوتیں، عوامی قیادت اور پاکستان مل کر اس بحران کا قابلِ اعتماد سیاسی راستہ پیدا نہیں کرتے تو حالات رفتہ رفتہ ان سب کے قابو سے باہر جا سکتے ہیں۔ پھر یہ خطہ صرف اپنے داخلی تضادات کا میدان نہیں رہے گا بلکہ ایسے علاقائی اور بیرونی مفادات کی توجہ کا مرکز بھی بن سکتا ہے جن کے مقاصد یہاں کے عوام کے مفادات سے لازم نہیں کہ ہم آہنگ ہوں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں طرف حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔
آزادکشمیر کی نظریاتی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بحران انقلاب کا دروازہ نہیں ہوتا اور ہر عوامی تحریک کو پورے خطے کی آزادی کے منصوبے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان کی مقتدر قوتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر اختلاف کو طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا اور ہر مطالبۂ اختیار کو ریاستی چیلنج قرار دینا بالآخر خود ریاستی تعلق کو کمزور کرتا ہے۔
اس لیے شاید آج کا سب سے بڑا سیاسی کام نہ پورے کشمیر کو ’’آزاد کروانا‘‘ ہے اور نہ آزادکشمیر کو مزید تابع بنانا۔
اصل کام یہ ہے کہ آزادکشمیر کو اس کے لوگوں کے لیے قابلِ رہائش، قابلِ دفاع اور سیاسی طور پر باوقار بنایا جائے۔
ایک ایسا آزادکشمیر جہاں لوگ اپنے وسائل، اپنے اداروں اور اپنی سیاست پر زیادہ اختیار رکھتے ہوں؛ جہاں اختلاف کو غداری اور حقوق کی آواز کو دہشت گردی نہ بنایا جائے؛ اور جہاں پاکستان کے ساتھ تعلق خوف، انحصار اور حکم کے بجائے اعتماد، احترام اور باہمی مفاد پر قائم ہو۔
اگر ہم یہ کر سکے تو شاید یہی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
اور اگر ہم یہ بھی نہ کر سکے تو پھر خطرہ صرف یہ نہیں کہ ایک تحریک ناکام ہو جائے گی۔
خطرہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے اس سیاسی زمین کو بھی کمزور کر دیں گے جسے بچانے کے نام پر گزشتہ پون صدی سے سیاست کرتے آئے ہیں۔

تبصرے (0)