مزاحمت اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘
کئی سال پہلے میں نے ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے اصول پر ایک مختصر تحریر لکھی تھی۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت کے زور پر قائم نظام کے خلاف جدوجہد صرف لاٹھی چھین لینے کا نام نہیں۔ اصل سوال اس کے بعد شروع ہوتا ہے کہ چھینی ہوئی لاٹھی اور حاصل ہونے والی بھینس کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ دراصل ایسے نظام کی علامت ہے جس میں طاقت رکھنے والا وسائل، اختیار اور فیصلے بھی اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔ باقی لوگوں کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا طاقتور دینا چاہے۔ ایسے نظام کے خلاف مزاحمت کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ محروم لوگ مل کر اپنی دستیاب قوت کو منظم کریں اور طاقت کی اس اجارہ داری کو توڑیں۔ اسے ہم علامتی طور پر لاٹھی چھیننا کہہ سکتے ہیں۔
لیکن لاٹھی چھین لینے سے ناانصافی خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ یہاں سے دو راستے نکلتے ہیں۔
پہلا راستہ یہ ہے کہ کہا جائے: اب لاٹھی بھی سب کی اور بھینس بھی سب کی۔ یعنی وسائل اور اختیار کو اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے۔ کوئی بھینس کا چارہ مہیا کرے، کوئی اس کی دیکھ بھال میں حصہ لے اور اس کا دودھ بھی انصاف کے ساتھ سب تک پہنچے۔ لاٹھی کی ضرورت پھر بھی رہے گی، کیونکہ اجتماعی وسائل کی حفاظت ضروری ہے، لیکن لاٹھی کسی ایک فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
دوسرا راستہ زیادہ آسان اور تاریخ میں زیادہ دیکھا گیا ہے: کل تمہاری لاٹھی، تمہاری بھینس تھی؛ آج ہماری لاٹھی، ہماری بھینس ہے۔ پرانے طاقتوروں سے اختیار چھین کر نئے طاقتور اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو دودھ میں حصہ دیتے ہیں، اپنے حامیوں کو چارے پر اختیار دیتے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک شروع کر دیتے ہیں جو کبھی ان کے ساتھ کیا جاتا تھا۔
بہت سی جدوجہدیں ظالم کو ہٹانے میں کامیاب ہوئیں، لیکن ظلم کا طریقہ ختم نہ کر سکیں۔
یہاں مزاحمت کا اصل امتحان سامنے آتا ہے۔
کسی تحریک کی منزل جاننے کے لیے ہمیشہ اس کے اقتدار میں آنے کا انتظار ضروری نہیں۔ جدوجہد کے دوران اس کا طرزِ عمل مستقبل کی جھلک دکھانے لگتا ہے۔ اگر تحریک کے اندر اختلاف برداشت نہیں ہوتا، چند لوگ فیصلوں پر قابض ہیں، سوال کرنے والے غدار سمجھے جاتے ہیں، طاقتور کارکن کمزور کارکن پر حکم چلاتا ہے، عورتوں، نوجوانوں اور عام لوگوں کی آواز محض ہجوم بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تو سوال پیدا ہونا چاہیے کہ یہ تحریک واقعی ’’سب کی لاٹھی، سب کی بھینس‘‘ چاہتی ہے یا صرف موجودہ مالک سے لاٹھی چھیننا چاہتی ہے؟
اس کے برعکس اگر مزاحمت کے دوران مشاورت، جواب دہی، اختلافِ رائے، اجتماعی قیادت، کمزور کی عزت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی روایت پیدا ہو رہی ہے تو اس میں ایک مختلف مستقبل کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس لیے انقلابیوں اور مزاحمت کاروں کے لیے سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم لاٹھی کیسے چھینیں گے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہونا چاہیے کہ لاٹھی چھیننے کے بعد اسے کس کے ہاتھ میں دیں گے، کون اس ہاتھ کو جواب دہ بنائے گا، اور بھینس کے دودھ پر حق کس کا ہوگا؟
یہ کوئی اخلاقی وعظ نہیں۔ یہ سیاست اور تاریخ کے مشاہدے سے نکلنے والا ایک سادہ سا نتیجہ ہے۔ بہت سی جدوجہدیں ظالم کو ہٹانے میں کامیاب ہوئیں، لیکن ظلم کا طریقہ ختم نہ کر سکیں۔ چہرے بدل گئے، لاٹھی کا مالک بدل گیا، مگر اصول وہی رہا:
’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔‘‘
حقیقی مزاحمت کی کامیابی تب ہوگی جب مقصد صرف لاٹھی کا مالک بدلنا نہیں بلکہ لاٹھی اور بھینس دونوں پر اجتماعی حق قائم کرنا ہو۔

تبصرے (0)