ریاست کی رِٹ: کیا حکمران خود اسے مانتے ہیں؟
آزاد کشمیر اور پاکستان کے حکمران احتجاجی تحریکوں کو کچلنے کے لیے اکثر ’’ریاست کی رِٹ قائم کرنے‘‘ کا جواز پیش کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف بھی یہی دلیل دہرائی جاتی ہے۔ بعض سیاست دان، صحافی اور تجزیہ نگار مسلسل یہ رَٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ’’ایکشن کمیٹی نے ریاست کی رِٹ کو چیلنج کیا ہے۔‘‘ مگر بنیادی سوال یہ ہے: کیا ریاستی اختیار استعمال کرنے والے خود ریاست کے قانون کو مانتے ہیں؟
ریاست کی رِٹ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ حکومت کا حکم عوام پر چلے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قانون کا حکم حکومت، انتظامیہ اور طاقت ور اداروں پر چلے۔ اگر عوام قانون کے پابند ہوں، مگر حکمران اور ان کے کارندے خود کو اس سے بالاتر سمجھیں، تو اسے قانون کی بالادستی کیسے کہا جا سکتا ہے؟
جو لوگ شہریوں کو باقاعدہ گرفتار کرنے کے بجائے ’’اٹھا‘‘ کر لے جاتے ہیں، ان کی حراست سے انکار کرتے ہیں اور انہیں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کرتے، وہ کس ریاست کی رِٹ قائم کر رہے ہوتے ہیں؟ قانون کے تحت گرفتاری اور کسی کو نامعلوم مقام پر لے جانے میں فرق ہے۔ ریاستی اختیار اس فرق کو مٹانے کی اجازت نہیں بن سکتا۔
حکمران ایکشن کمیٹی سے کہتے ہیں کہ دھرنے ختم کیے جائیں، مقدمات کے دفاع اور نقصانات کے ازالے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ جواب میں کمیٹی کے رہنما یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے اقتدار اور مقتدرہ کے فیصلوں کو قانونی سہارا دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے اس اعتراض کو بھی ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کا ثبوت بنا دیا جاتا ہے۔
لیکن عدالتوں پر اعتماد محض حکم دینے سے پیدا نہیں ہوتا۔ اعتماد تب پیدا ہوتا ہے جب عدالت کے سامنے آنے والا شہری دیکھے کہ قانون طاقت ور سے بھی جواب مانگتا ہے، اور سرکاری ادارے بھی عدالتی احکامات کے پابند ہیں۔ اگر ریاستی ادارے کسی زیرِ حراست شخص کو عدالت میں پیش ہی نہ کریں، تو متاثرہ خاندان عدالت سے انصاف کیسے حاصل کرے؟ پہلے انصاف کا راستہ بند کرنا اور پھر اسی راستے پر چلنے کا مشورہ دینا کیسا طرزِ حکمرانی ہے؟
طاقت اطاعت تو حاصل کر سکتی ہے، مگر اعتماد اور اخلاقی جواز کے لیے انصاف اور جواب دہی ضروری ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق گرفتار یا اٹھائے گئے افراد کی تعداد تقریباً ایک ہزار بتائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے افراد کو عدالتوں میں پیش کیا گیا؟ کتنے لوگوں کے خلاف الزامات واضح کیے گئے؟ کتنے خاندانوں کو ان کے عزیزوں کی حراست اور مقام کے بارے میں بتایا گیا؟ اور کتنے وکلاء کو اپنے مؤکلوں سے ملنے اور مقدمات کی پیروی کرنے کا موقع دیا گیا؟
شوکت نواز میر کو سرعام گرفتار کیا گیا اور ان کی گرفتاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود، ان کے اہلِ خانہ کے عدالت سے رجوع کرنے پر انہیں کسی بھی پیشی میں عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔ پولیس نے الٹا دعویٰ کیا کہ وہ اس کی حراست میں نہیں بلکہ مفرور اور روپوش ہیں۔ جب گرفتاری کی ویڈیوز عوام کے سامنے موجود ہوں، مگر حراست تسلیم نہ کی جائے اور گرفتار شخص کو عدالت میں پیش نہ کیا جائے، تو سوال صرف ایک شہری کی آزادی کا نہیں، خود ریاستی اداروں کی ساکھ، جواب دہی اور قانون کی پابندی کا بن جاتا ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل خود ریاست کی رِٹ کو چیلنج نہیں کرتا؟
ریاست کا احترام اس کے اپنے رویّے سے پیدا ہوتا ہے۔ جو حکمران خود قانون کا احترام نہیں کرتے، وہ عوام سے قانون پر اعتماد کا مطالبہ کس بنیاد پر کرتے ہیں؟ جو ادارے اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، ان کے دعووں پر اعتبار کیسے قائم ہو؟ طاقت اطاعت تو حاصل کر سکتی ہے، مگر اعتماد اور اخلاقی جواز کے لیے انصاف اور جواب دہی ضروری ہیں۔
اگر حکمران ریاست کی رِٹ قائم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنے اداروں کو قانون کا پابند بنانے سے کریں۔ تمام زیرِ حراست افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔ الزامات سامنے لائیں۔ وکلاء کو ملاقات اور مقدمات کی پیروی کی اجازت دیں۔ خاندانوں کو ان کے عزیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور عدالتوں کے احکامات پر عمل کریں۔
ورنہ ’’ریاست کی رِٹ‘‘ کی رَٹ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھاتی رہے گی۔ جب قانون عوام کو دبانے کے لیے استعمال ہو اور طاقت ور خود اس کی پابندی سے بچتے رہیں، تو ریاست اپنی ساکھ اپنے ہاتھوں کمزور کرتی ہے۔
ریاست کی رِٹ اس وقت معتبر ہوگی جب قانون کا حکم حکمرانوں پر بھی چلے گا۔

تبصرے (0)