بیرسٹر افتخار گیلانی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب
مظفرآباد: مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔
قانون ساز اسمبلی میں وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کے دوران افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے۔
قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے مظفرآباد میں ایک تقریب کے دوران نومنتخب وزیراعظم سے عہدے کا حلف لیا۔
تاہم افتخار گیلانی کا انتخاب مسلم لیگ ن کے اندر موجود اختلافات اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق سوالات کے درمیان ہوا ہے۔
پارٹی صدر نے اپنی ہی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی جماعت کے امیدوار افتخار گیلانی کو ووٹ نہیں دیا۔ وہ وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کے لیے بلائے گئے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ ن نے ابتدائی طور پر شاہ غلام قادر کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کیا تھا، تاہم بعد میں مرکزی قیادت کی مشاورت کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے افتخار گیلانی کو امیدوار مقرر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بھی مبینہ طور پر افتخار گیلانی کی نامزدگی کی مخالفت کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں ہونے والی مشاورت کے دوران اپنے اعتراضات مرکزی قیادت کے سامنے رکھے تھے۔
شاہ غلام قادر کا مؤقف تھا کہ آزاد کشمیر میں پارٹی صدر اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے پہلے سے نامزد امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں اس منصب کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔
تاہم اختلافات کے باوجود مسلم لیگ ن اپنی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ افتخار گیلانی کو اپنی جماعت کے ارکان کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام اور عوامی دستِ بازو کے ایک، ایک رکن کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
عام انتخابات میں شکست، پھر وزارتِ عظمیٰ تک رسائی
افتخار گیلانی کے انتخاب پر ایک اہم سوال ان کی 2026 کے عام انتخابات میں شکست سے متعلق بھی اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا تھا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی نے انہیں شکست دی۔
بعد ازاں مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب کروایا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست انتخاب میں شکست کھانے والے سیاست دان کو مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں لانے اور پھر وزیراعظم منتخب کرنے سے عوامی مینڈیٹ کے تصور پر سوال اٹھتے ہیں۔
اتفاق سے وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں ان کا مقابلہ ایک مرتبہ پھر اسی امیدوار، سردار مختار احمد عباسی، سے ہوا جس نے انہیں عام انتخابات میں شکست دی تھی۔ اس مرتبہ اسمبلی میں عددی اکثریت افتخار گیلانی کے ساتھ تھی اور وہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست انتخاب میں شکست کھانے والے سیاست دان کو مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں لانے اور پھر وزیراعظم منتخب کرنے سے عوامی مینڈیٹ کے تصور پر سوال اٹھتے ہیں۔
تاہم مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے رکن کے وزیراعظم بننے پر آئینی طور پر کوئی پابندی نہیں۔ ماضی میں سردار عبدالقیوم خان بھی علما و مشائخ کے لیے مخصوص نشست پر اسمبلی کے رکن بننے کے بعد 1991 سے 1996 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہے تھے۔
افتخار گیلانی کا مؤقف
بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افتخار گیلانی نے اپنی انتخابی شکست، مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپسی، وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی اور مسلم لیگ ن کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات سے متعلق سوالات کا جواب دیا۔
انہوں نے اپنی آئندہ حکمتِ عملی اور حکومت کو درپیش چیلنجوں پر بھی بات کی۔
حلف اٹھانے کے بعد قانون ساز اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں افتخار گیلانی نے نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور محنت کریں گے۔
تاہم شاہ غلام قادر کی عدم شرکت سے یہ تاثر برقرار ہے کہ مسلم لیگ ن کے اندر قیادت سے متعلق اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہوں گی؟
افتخار گیلانی نے حکومت کی ابتدائی ترجیحات میں معیشت کی بہتری، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور انٹرنیٹ کی سہولت بہتر بنانے کو شامل کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہر شہری کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کرسکتی، اس لیے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔
انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات اور عوامی شکایات کے اندراج کے لیے شہری رابطہ نظام قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
افتخار گیلانی کون ہیں؟
بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی 27 جولائی 1980 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف کاروباری اور سیاسی خاندان سے ہے۔
ان کے والد سید آصف گیلانی مرحوم مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانی اور ابتدائی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
افتخار گیلانی نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی اور بعد ازاں برطانیہ سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے تقریباً دس برس اسلام آباد میں وکالت کی۔
انہوں نے 2011 میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 میں وہ دوبارہ کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں پانچ برس تک وزیرِ تعلیم کے منصب پر فائز رہے۔
اب وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حکومت کی قیادت کریں گے۔

تبصرے (0)