کیا آزادیِ صحافت پر ایک اور قدغن لگنے جا رہی ہے؟
وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے ایک اعلامیے کے مطابق اب غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے پاکستانی صحافیوں کو بھی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے باہر رپورٹنگ کرنے سے قبل لازمی طور پر اجازت یا این او سی لینی ہوگی اور اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات نہ کریں۔
صرف یہی نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا اداروں سے بھی کسی قسم کا تعلق ہونے پر پاکستانی فرد کو وزارت کے ماتحت EP یا External Publicity Wing کے پورٹل پر اپنے آپ کو رجسٹر کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا قانون ہے جو غیر ملکی خبر رساں اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کے لیے بنایا گیا ہو۔ جبکہ اس سے قبل پاکستان میں غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے دوسرے ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں کو اپنا کام کرنے کے لیے صرف این او سی درکار ہوتی تھی۔
واضح رہے کہ یہ اعلامیہ اس وقت منظرِ عام پر آیا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں حالات سخت کشیدہ دکھائی دیتے ہیں اور وہاں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق کم از کم 40 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ قانون صرف ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوتا جو کہ براہِ راست صحافت سے وابستہ ہیں بلکہ یہ اصول ان افراد پر بھی لاگو ہوگا جو کسی بھی طرح سے غیر ملکی میڈیا کے صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں جیسے کہ فکسرز یا سٹرنگرز۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافت یا خبر کی اشاعت کے لیے کسی ریاست سے قبل از وقت اجازت لینا ضروری ہے؟
اس نئے اصول کے مطابق ایک غیر ملکی میڈیا ادارے سے جڑے ہوئے صحافی کو پہلے اپنی رجسٹریشن کروانی ہوگی جس کے بعد اسے ایک ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیا جائے گا جو مطالبے پر لازمی دکھانا ہوگا۔
دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ جس پورٹل کی اس قانون میں بات کی جا رہی ہے اس کا اجرا وزارت کی ویب سائٹ پر اب تک نہیں ہوا۔
اس دستور کی کچھ شقوں کے مطابق یہ کارڈ کسی بھی وقت منسوخ کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر وہ صحافی پاکستان کی سالمیت، نظریات یا تحفظ کے خلاف کام کرتے دکھائی دیں۔
خیال رہے کہ ریاستِ پاکستان نے تین اگست کو مشہور غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کو ملک بھر میں بند کر دیا۔ بظاہر ایسا الجزیرہ کی آزاد کشمیر کے الیکشن کے حوالے سے دو اگست کو نشر ہونے والی رپورٹ کے سبب ہوا جس پر وزارتِ اطلاعات نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس رپورٹ کو زرد صحافت کا نام دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافت یا خبر کی اشاعت کے لیے کسی ریاست سے قبل از وقت اجازت لینا ضروری ہے؟ کیا یہ قانون آزادیِ صحافت پر ایک نیا حملہ تو نہیں؟ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جہاں پاکستان کے کئی علاقوں میں جیسے کہ بلوچستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں حالات کی صحیح منظر کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شفاف رپورٹنگ کی شدید ضرورت ہے۔

تبصرے (0)