مواد پر جائیں

سیاست · آزاد کشمیر

تین ماہ جنہوں نے آزاد کشمیر بدل دیا

دھرنے، قربانی، عوامی بیداری اور ایک نئے سیاسی مستقبل کی تشکیل

خلاصہ

گزشتہ تین ماہ کی عوامی جدوجہد نے آزاد کشمیر کا سیاسی رخ بدل دیا۔ عوام اور خواتین کی بے مثال قربانیوں نے بیداری کی نئی تاریخ رقم کی۔ جانیے اس تحریک نے خطے کو کیسے بدلا۔

Summary in English

The public struggle over the past three months has changed the political course of Azad Kashmir. The unprecedented sacrifices of the people and women have written a new history of awakening. Find out how this movement transformed the region.

تین ماہ جنہوں نے آزاد کشمیر بدل دیا
تصویر: Public

05 جون سے تا دم تحریر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام نے جس جرات و بہادری ، ایثار و قربانی اور محبت و الفت کی داستان رقم کی ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن گئی ہے شہادتوں ، قربانیوں ، قید و بند کی صعوبتوں اور ننگے آسمان تلے دھوپ اور بارش میں گزرے یہ تین ماہ ہمیں اتنا کچھ سیکھا گئے ہیں جس کا نتیجہ آنے والے ماہ و سال میں دیکھا جا سکے گا جدوجہد کے اس مرحلہ کا حتمی نتیجہ ابھی آنا باقی ہے لیکن اب تک جو نتائج ہم نے سیمٹے ہیں وہ حتمی نتیجہ سے کئی گنا بڑھ کر ہیں

ریاست کی یہ سرحدی پٹی پون صدی جس مذہبی فریب کا شکار رہی کہ ہمیں مذہبی جھانسہ دے کر لوٹا جاتا رہا اور ہم لٹنے کے باوجود مطمئن رہے کہ ہم مذہبوں سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ، یہ ہمارے محافظ تو ہیں اب جبکہ یہ فرضی محافظ ہی قاتل اور لٹیرے بن گئے تو ہم عوام خواب غفلت سے بیدار ہو چکے ہیں اب یہ بیداری عارضی نہیں ہوگی کیونکہ یہ کتابوں سے نہیں واقعات کے زریعے ہوئی ہے

ہماری سیاسی و مذہبی قیادت حتی کہ غیر روایتی اور مزاحمتی سیاست کرنے والے ہمیشہ اپنی نظریاتی کمزوری سہل پسندی اور جزوقتی جدوجہد کے نتیجہ خیز نہ ہونے کا الزام عام آدمی پر لگاتے رہے کہ ہمارے عوام کا کوئی حال نہیں ، یہ عوام لمبی لڑائی نہیں لڑ سکتے ، یہ ساتھ نہیں دیتے ، یہ سچ کو قبول نہیں کرتے، یہ جھوٹے لیڈروں کے پجاری ہیں یہ کم فہم کم عقل اور ڈرپوک ہیں وغیرہ وغیرہ اس بار عوام نے اپنے فولادی جذبوں ، جہد مسلسل اور غیر معمولی عملی کردار سے ان سب الزامات کو دھو ڈالا اور ثابت کیا کہ عوام ہی اصل لڑاکا ہوتے ہیں بس شرط یہ ہیکہ عوام کے مزاج اور تقاضوں کو درست طریقے سے ایڈریس کرنے والی کوئی اجتماعیت ہو

خواتین کے متعلق ہمارے ہاں یہ تصور عام طور پر پایا جاتا ہے کہ یہ صنف نازک ہے اس کے مخصوص و متعین کام ہیں یہ سخت جان کام نہیں کر سکتیں اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ کم عقل مخلوق ہے اس بار صرف ایک پکار پر جگہ جگہ گاوں گاوں اور گھر گھر خواتین نے جس جرات و بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور ایسی تقاریر و جذبے دیکھنے کو ملے جن سے بہت سے مرد بھی نا آشنا ہیں

جدوجہد کے دوران حکمت عملی کے اختلافات اور کئی طرح کی غلطیوں کمزوریوں اور غلط فہمیوں کا در آنا کوئی تعجب کی بات نہیں غلطیاں ہمیشہ انہی لوگوں سے ہوتی ہیں جو میدان عمل میں اترتے ہیں کسی گھر بیٹھے آدمی جو کسی اجتماعی جدوجہد کا حصہ نہیں بنتا اس سے کوئی غلطی سر زد نہیں ہوتی ہمارا عمومی رویہ غلطیوں پر آہ و فغاں اور لعن طعن کا ہوتا ہے بلکہ اکثر یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کر لی جاتی ہے کہ جی مجھے یہ برداشت نہیں میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا تحریک کے ان تین مہینوں میں کئی موقعوں پر جدوجہد کے ساتھیوں میں حکمت عملی کی بابت اختلافات ، غلطیوں اور غلط فہمیوں کا ارتکاب ہوا لیکن اس سب کے باوجود ایک ساتھ چلنے کا حوصلہ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا وطیرہ دیکھنے کو ملا جس سے جدوجہد کے گر سیکھے گئے اور مشترکہ جدوجہد پر اعتماد و یقین پیدا ہوا جو ایک شاندار مستقبل کی نوید ہے

اس دوران تحریک کے مراحل اور بنیادی مزاج کے متعلق بھی کئی بحثیں ہوئیں جسے نقطہ ہائے نظر کا اختلاف کہا جاتا ہے یعنی تحریک کو ایڈوانس سیاسی بیانیہ اختیار کرنا چاہیئے اور یہ کہ وہ بیانیہ کیا ہونا چاہیئے ؟ تحریک کو صرف بنیادی حقوق تک محدود رکھنا چاہیئے اور یہ محدودیت کیوں ضروری ہے ؟ وغیرہ وغیرہ لیکن مختلف آراء پر بھرپور دلائل رکھنے کے باوجود اپنی رائے کو قربان کرتے ہوئے اجتماعی رائے کو فوقیت دی جاتی رہی اور ایک ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہ کی گئی جو اس بات کی غماز ہے کہ ہمارے ہاں ایک پائیدار مشترکہ جدوجہد پر مختلف الخیال لوگوں کو جمع کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجہ میں ہم ایک شاندار مستقبل کی تعمیر کی طرف سفر کر سکتے ہیں

غلطیاں ہمیشہ انہی لوگوں سے ہوتی ہیں جو میدان عمل میں اترتے ہیں

ان تین مہینوں میں جو سب سے خطرناک تجربہ ہوا وہ ہماری صفوں میں موجود دوست نما دشمن سامنے آئے جو سہولتکاری اور مخبری کے زریعے بالادست قوتوں سے باقاعدہ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں یہ عوام دشمن عناصر ہمارے سماج کا وہ بدترین چہرہ ہیں جن کو پہچاننااتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے حقوق اور اپنی تحریک کو سمجھنا اور پہچاننا ضروری ہے یہ وہ خطرناک مرض ہے جس کی تشخیص اور علاج دونوں ازبس ضروری ہے کہ ناصرف ان کو عوام میں ننگا کیا جائے بلکہ اس سے بچنے کی سبیل کرتے رہنا چاہیئے یہ بدترین سہولتکاری اور مخبری ہی ہے جس نے اس ظالمانہ نظام کو عوام پر تشدد کرنے کے مواقع فراہم کئیے بصورت دیگر یہ ظالم کب کے سرینڈر کر چکے ہوتے

ہم عوام نے جدوجہد کے دوران اس قرآنی اصول کو بروئے کار ہوتے دیکھا کہ کہ ہم آپس میں کتنے رحم دل ہیں اور ظالموں کے بارے میں کتنے سخت گیر ہیں وہ لوگ جو بات بات پر لڑ پڑتے ہیں راستے کی ہلکی بندش ، زیادہ بھیڑ والی جگہ پر ، گاڑی بے جا کھڑی ہو جانے پر ، کسی لائن میں لگے ہوئے ، گاڑی میں سیٹ پر بیٹھے اکثر ہم ایک دوسرے سے الجھ جاتے ہیں لیکن ان تین مہینوں میں ہزاروں کی تعداد میں اجتماعی کھانوں کے دوران ، مختلف جگہوں پر قائم عوامی ناکہ بندیوں پر چیکنگ کے دوران مقامی افراد کو میرپور ڈویژن کے رضار کار شناخت پوچھتے ہوئے ، شدید بھیڑ اور ساون کی حبس میں بے ہنگم جم غفیر کے ایک دوسرے سے محبت و پیار سے پیش آنا ، اور سب سے زیادہ دیدنی مناظر کہ میزبان گھروں میں درجنوں لوگوں کے لیے مسلسل روٹیاں پکاتی ، کپڑے دھوتی ہماری مائیں بہنیں اور مہمانوں کا گھر کے کام کاج تک میں ہاتھ بٹانا اور بعض جگہوں پر کھیتوں تک میں مکئی کی گوڈی میں ساتھ کام کرنا اور پھر مارچ کے لیے

نکلتے وقت میزبان ماوں بہنوں کا روتے ہوئے مہمانوں کا الوداع کرنا میزبان بچوں کا مہمانوں سے گھل مل جانا اور دن رات جگہ جگہ ٹولیوں میں تاریخ فلسفہ ادب سیاست معیشت قومی و طبقاتی سوالوں پر خوشگوار مباحثے ایسے مناظر ہیں جن پر کتابیں لکھی جائیں گی کہانیاں اور افسانے تخلیق ہوں گے اور ایک ایسی تاریخ مرتب ہوگی جو آنے والی نسلوں کا نصاب بنے گی تو صاحبو !

مانا کہ ہم ابھی بہت منظم نہ ہو سکے اور مقامیت و ارضیت پر مبنی قابل عمل سیاسی بیانیہ بھی تخلیق نہ کر سکے لیکن اس سے قبل کے تمام مراحل ہم طے کر چکے ہیں آنے والے وقتوں میں اگر ہم تین کام کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے لیے خام مال وافر مقدار میں موجود ہے تو ہم اس صراط مستقیم کو پالیں گے جس کے لیے ہم سرگرداں ہیں

)1( ریاست جموں کشمیر کی مجموعی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی سیاسی معاشی اور جغرافیائی صورت حال کے مطابق ایک عوامی سیاسی پروگرام کی تخلیق

(2) اس بیانیہ کو بروئے لانے والی عوامی تحریک کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کا جمہوری تنظیمی ڈھانچہ

(3) وہ سیاسی حکمت عملی جو ہر طرح کے تشدد سے پاک ہو خالص عوامی ہو اور جو حقیقی معنوں میں عوامی راج کا سبب بنے اگر حالات کے جبر نے موقع دیا تو یہ کام ہو کر رہے گا ہاں یہ پیش نظر رہے کہ اب کی بار نتیجہ جو بھی آیا لیکن اس کے بعد یہاں کے حالات پہلے جیسے کبھی نہیں رہیں گے کیونکہ مسلط نظام نے یہاں کے عوام کی اس انگڑائی کو بھانپتے ہوئے یہاں کے عوام کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے کے جو منصوبے بنا رکھے ہیں وہ بہت خطرناک ہیں لیکن یہ بھی پیش نظر رہے کہ قومیں مشکل حالات میں ہی تعمیر و تشکیل کے مراحل سے گزرتی ہیں بس مشکل حالات میں جدوجہد کو بطور فن آگے بڑھانا ناگزیر ہوتا ہے کہ محض مہم جوئی اب کے بعد زہر قاتل ہوگی نوٹ : میں تحریک کے موجودہ مرحلہ کے اختتامی ممکنات پر بوجوہ کچھ نہیں لکھنا چاہتا اول تو اس لیے کہ تحریک میں موجود احباب ایک طرف دفاعی حکمت عملی پر اور دوسری طرف اقدامی حکمت عملی پر سر جوڑے

ہوئے ہیں اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا جو شاید ایک دو دنوں میں ہو جائے دوسرا یہ کہ ہم چونکہ فیلڈ میں موجود ہیں جس کے کچھ احتیاطی تقاضے ہیں کہ یہ وقت تھوڑا نازک ہے اب تک کی صورت حال کے مطابق دونوں صورتیں ممکن ہیں کہ یا تو ریاست کی طرف سے مزید شدت آئے گی اور ہمیں مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور یا اس مرحلہ پر عوام سرخرو ہوں گے اور تحریک کو بچانے میں کامیابی مل جائے گی یہ سب محض ہماری ہی حکمت عملی پر منحصر نہیں ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی اس بارے میں اختلاف موجود ہے اور ہمارے ہاں بھی بحث و مباحثہ موجود ہے

لیکن یہ طے ہے کہ ہم کسی صورت اپنے عوام کو رسوا نہیں ہونے دیں گے مرعوب نہ عہدِ ستم ناک سے ہوں گے ہم خاک بھی ہوئے تو بڑی دھاک سے ہوں گ

تبصرے (0)

تبصرہ کریں