”ابھی ابھی ایک سرکاری گاڑی دیکھی جس پر پرائیویٹ نمبر پلیٹ لگی تھی، جو آزاد کشمیر میں اب ایک نیا معمول بن چکا ہے، اور اسے ایک کم عمر ڈرائیور لاپرواہی سے چلا رہا تھا۔“ یہ الفاظ اس ہفتے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سب سے معتبر صحافیوں میں سے ایک، طارق نقاش نے لکھے۔ انہیں امید تھی کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر عوامی ردِعمل سے اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے کچھ سبق سیکھا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوا۔
ایک سرکاری گاڑی، ایک نوعمر من چلا، ایک جعلی پرائیویٹ نمبر پلیٹ۔ منظر چھوٹا سا ہے، لیکن یہ بتاتا ہے کہ راولاکوٹ کے لوگ تقریباً چار مہینوں سے سڑک کنارے کیوں بیٹھے ہیں۔
آغاز کیسے ہوا
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی ”بیرونی ہاتھ“ کی ایجاد نہیں ہے۔ یہ تاجروں، وکلا، ٹرانسپورٹروں اور طلبہ کا ایک شہری پلیٹ فارم ہے۔ اس کے مطالبات کوئی انقلابی نہیں: سستی بجلی اور رعایتی آٹا، بہتر صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ، اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، اور سیاسی اصلاحات۔ دوسرے لفظوں میں: ہمارا پانی، ہماری بجلی اور ہمارے ٹیکس چند لوگوں کی سرکاری گاڑیوں پر لٹانا بند کرو۔
اسلام آباد اور مظفرآباد کاغذ پر پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ مطالبات جائز ہیں۔ حکومت خود کہتی ہے کہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت ایکشن کمیٹی کے تمام 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں منظور کر لیے گئے تھے۔ منظور ہوئے، دستخط ہوئے، اور پھر فائلوں میں دھول چاٹنے کے لیے چھوڑ دیے گئے۔
مذاکراتی فریق سے ”دہشت گرد“ تک
جب لوگوں نے شکایت کی کہ وعدے پورے نہیں ہوئے تو ریاست نے انہیں پورا کرنے سے زیادہ آسان حل ڈھونڈ لیا۔ 5 جون کو آزاد کشمیر حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا۔ تاجر اور وکیل راتوں رات دہشت گرد بن گئے۔
دونوں طرف کے مرنے والے انہی پہاڑوں کے بیٹے ہیں۔
اس کے بعد جو ہوا وہ خونریز تھا۔ کمشنر پونچھ نے تصدیق کی کہ جون میں ایک تصادم میں بارہ افراد جان سے گئے، آٹھ مظاہرین اور چار سکیورٹی اہلکار۔ حکام نے ایکشن کمیٹی کے تمام 31 کور ممبران کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیے، اور وزیرِ مملکت برائے قانون نے اعلان کیا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 5 جون سے 28 جولائی کے درمیان 67 افراد مارے گئے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ریاست کا مؤقف ہے کہ جولائی میں شہر میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران مسلح کمیٹی ارکان نے رینجرز کے ایک سپاہی کو ہلاک اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔ دونوں طرف کے مرنے والے انہی پہاڑوں کے بیٹے ہیں۔
ڈرونز کے سائے میں ایک شہر
ستمبر میں دھرنے کا دورہ کرنے والے ایک صحافی نے صاف الفاظ میں منظر بیان کیا: احتجاج کی جگہ پر نیچی پرواز کرتے نگرانی کے ڈرون، محدود مواصلات، اور نئی بننے والی حکومت سے بہت کم امید۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد بھی پابندیوں کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بدلنے سے اصل نظام نہیں بدلتا۔
یہی ستم ظریفی ہے۔ انتخابات ہوئے، وزراء نے حلف اٹھایا، سرکاری گاڑیاں بانٹی گئیں۔ مگر راولاکوٹ آج بھی ایک فون کال نہیں کر سکتا۔
آگے کیا ہوگا
ستمبر کے اوائل میں ایک حکومتی رکنِ اسمبلی کی قیادت میں ایک وفد نے ابتدائی رابطے شروع کیے، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اب کمیٹی ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی نے شہریوں سے کہا ہے کہ 3 اکتوبر تک دو ماہ کا راشن جمع کر لیں، اور اعلان کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو ایک ”انتہائی اہم کال“ دی جائے گی۔ اس دن کو معاہدے اور اس کی خلاف ورزیوں کا ایک سال مکمل ہونے پر ”یومِ سیاہ“ کے طور پر منایا جائے گا۔
راولاکوٹ کے لوگ تھک چکے ہیں۔ تاجر اپنی دکانیں کھولنا چاہتے ہیں، والدین اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن تھک جانا ہار جانا نہیں ہے۔ بہت سے لوگ معمول کی زندگی واپس چاہتے ہیں، مگر ہتھیار ڈال کر نہیں، اور پرانا معمول تو بالکل نہیں۔
مظفرآباد اور اسلام آباد کے حکمرانوں کے لیے سوال سیدھا ہے۔ آپ ایک کمیٹی پر پابندی لگا سکتے ہیں، پاسپورٹ بلاک کر سکتے ہیں اور دھرنے پر ڈرون اُڑا سکتے ہیں۔ لیکن جب تک ایک نابالغ جعلی نمبر پلیٹ والی سرکاری گاڑی ایسے شہر میں دوڑاتا پھرے جہاں دکانیں بند ہیں اور فون خاموش، آپ دہشت گردی سے نہیں

تبصرے (0)