مواد پر جائیں

دنیا

نقشہ صرف جغرافیہ نہیں

اقوام متحدہ کی نئی قرارداد اور مسئلۂ جموں کشمیر

خلاصہ

اقوام متحدہ نے عالمی نقشوں کے توازن سے متعلق تاریخی قرارداد منظور کر لی ہے۔ مگر نقشہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ عالمی طاقت اور مسئلہ کشمیر جیسے تنازعات کا عکاس بھی ہے۔ جانیے یہ کیسے اثر انداز ہوگا؟

Summary in English

The United Nations has adopted a historic resolution regarding the balance of global maps. However, a map is not merely geography; it is also a reflection of global power and disputes such as the Kashmir issue. Find out how this will have an impact.

نقشہ صرف جغرافیہ نہیں

نقشہ صرف جغرافیہ نہیں: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد اور مسئلۂ جموں کشمیر

تحریر: شمس رحمان

دنیا کے نقشے بظاہر جغرافیہ کی کتابوں، کلاس رومز اور دیواروں پر لٹکی ہوئی بے ضرر تصویریں نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں نقشہ صرف یہ نہیں بتاتا کہ کوئی خطہ کہاں واقع ہے۔ نقشہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ ہم دنیا کو کس کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، کس خطے کو کتنا بڑا سمجھتے ہیں، کس سرحد کو مستقل تصور کرتے ہیں اور کس سیاسی دعوے کو معمول اور فطری حقیقت مان لیتے ہیں۔

اسی لیے 4 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی “Correct the Map: Rebalancing Global Cartographic Representation and Promoting Equitable Representation of the World’s Regions, Particularly Africa” قرارداد محض نقشہ سازی کی ایک تکنیکی بحث نہیں رہی۔ قرارداد 164 ووٹوں سے منظور ہوئی؛ امریکہ واحد ملک تھا جس نے مخالفت کی جبکہ چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اسے ٹوگو نے افریقی گروپ کی طرف سے پیش کیا تھا۔

اس قرارداد کا بنیادی مقصد کسی ملک کی سرحدیں بدلنا نہیں بلکہ دنیا کے عمومی نقشوں میں براعظموں کے رقبے کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دکھانا ہے۔ صدیوں سے استعمال ہونے والا Mercator Projection 1569 میں بنیادی طور پر سمندری جہاز رانی کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس میں خطِ استوا سے دور واقع خطے ضرورت سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں یورپ، روس، کینیڈا اور بالخصوص گرین لینڈ کا بصری حجم بڑھ جاتا ہے، جبکہ افریقہ اور خطِ استوا کے قریب دوسرے خطے نسبتاً چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر افریقہ حقیقت میں گرین لینڈ سے تقریباً چودہ گنا بڑا ہے، لیکن روایتی Mercator نقشے کو دیکھنے والا شخص دونوں کے حجم کو ایک دوسرے کے قریب سمجھ سکتا ہے۔ اسی عدم توازن کو درست کرنے کے لیے Equal Earth جیسے equal-area projections کے وسیع استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

لیکن نقشہ کبھی صرف نقشہ نہیں ہوتا

افریقی ممالک کی دلیل بہت دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا صرف یہ نہیں کہ پرانا نقشہ ریاضیاتی اعتبار سے غیر متناسب ہے، بلکہ یہ بھی کہ نقشے نے کئی نسلوں کے ذہن میں دنیا کی ایک خاص درجہ بندی پیدا کی۔

یورپ بڑا، مرکز میں اور طاقتور دکھائی دیتا رہا؛ افریقہ نسبتاً چھوٹا اور حاشیے پر۔

اسی لیے افریقی مہم چلانے والوں نے اسے صرف cartographic correction نہیں بلکہ representation کا مسئلہ بنایا ہے۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے جنرل اسمبلی میں اس نکتے پر زور دیا کہ نقشے دنیا کے بارے میں ہماری سمجھ، تعلیم اور اجتماعی تصور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ، بشمول Reuters، BBC، Al Jazeera اور دیگر اداروں نے بھی اس فیصلے کو نوآبادیاتی دور سے ورثے میں ملنے والی دنیا کی بصری درجہ بندی پر سوال کے طور پر دیکھا ہے۔

یہاں سے معاملہ جموں کشمیر کے لیے غیر معمولی طور پر دلچسپ ہو جاتا ہے۔

بھارت نے کشمیر کا ذکر کیوں کیا؟

قرارداد کا تعلق بنیادی طور پر براعظموں کے رقبے اور projection سے تھا، سیاسی سرحدوں سے نہیں۔ خود بھارتی وزارت خارجہ نے بھی بعد میں یہی وضاحت کی کہ قرارداد کسی مخصوص عالمی نقشے کی توثیق نہیں کرتی اور نہ ہی international boundaries، disputed territories یا place names طے کرتی ہے۔

لیکن اسی وضاحت میں نئی دہلی نے ایک اضافی بات کہی۔

بھارت نے اصرار کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کو ہر نقشے میں بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق اس کی خودمختار territory کے طور پر دکھایا جانا چاہیے اور اس سے مختلف کوئی depiction اس کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر قرارداد کا جموں کشمیر کی سیاسی حیثیت سے تعلق ہی نہیں تھا تو بھارت کو اپنی explanation of vote میں جموں کشمیر اور لداخ کی وضاحت کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

اس سوال کا جواب خود نقشوں کی سیاست میں چھپا ہوا ہے۔

بھارت جانتا ہے کہ اس کا اپنا سرکاری نقشہ اور اقوام متحدہ کے زیرِ استعمال نقشہ جاتی اصول جموں کشمیر کو ایک ہی انداز میں پیش نہیں کرتے۔ اسی لیے ایک بظاہر غیر سیاسی cartographic resolution پر ووٹ دیتے ہوئے بھی نئی دہلی نے اپنی territorial position کو ریکارڈ کا حصہ بنانا ضروری سمجھا۔

اقوام متحدہ کا نقشہ کیا کہتا ہے؟

یہ اس پوری بحث کا شاید سب سے اہم حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کی موجودہ Geospatial Guidelines میں جموں و کشمیر کے لیے خصوصی disclaimer موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے نقشوں میں Line of Control کو عموماً نقطہ دار لکیر سے ظاہر کیا جاتا ہے اور واضح کیا جاتا ہے کہ:

جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی فریقین کے درمیان طے نہیں ہوئی۔

اقوام متحدہ کی cartographic guidance یہ بھی واضح کرتی ہے کہ نقشوں پر دکھائی جانے والی boundaries اور designations بذاتِ خود کسی ریاست کے دعوائے خودمختاری کی توثیق نہیں کرتیں۔

یہ نکتہ بہت اہم ہے۔

4 ستمبر کی قرارداد نے جموں کشمیر کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، لیکن اس قرارداد کے بعد پیدا ہونے والی بھارت پاکستان بحث نے ایک پرانی حقیقت دوبارہ نمایاں کر دی:

بھارت کا سرکاری سیاسی نقشہ اور اقوام متحدہ کا جموں کشمیر کے بارے میں cartographic treatment ایک چیز نہیں ہیں۔

بھارت پوری ریاست پر اپنی حاکمیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان نے 7 ستمبر کو بھارتی بیان مسترد کرتے ہوئے دوبارہ مؤقف اختیار کیا کہ جموں کشمیر کی حتمی حیثیت طے نہیں ہوئی اور مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے اور سابقہ قراردادوں سے وابستہ ہے۔

لیکن کشمیری نقطۂ نظر سے سوال بھارت اور پاکستان کے ان دو سرکاری بیانیوں سے بھی آگے جاتا ہے۔

کشمیر: دو ملکوں کے نقشوں کے درمیان گمشدہ ایک ریاست

1947 کے بعد جموں کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی tragedy شاید یہی ہے کہ اس کے بارے میں گفتگو بتدریج لوگوں سے زیادہ نقشوں کی گفتگو بن گئی۔

1947 کے بعد جموں کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی tragedy شاید یہی ہے کہ اس کے بارے میں گفتگو بتدریج لوگوں سے زیادہ نقشوں کی گفتگو بن گئی۔

بھارت اپنے نقشے میں تقریباً پوری سابق ریاست جموں کشمیر کو اپنا حصہ دکھاتا ہے۔

پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو مختلف انتظامی اور سیاسی عنوانات کے تحت چلاتا ہے اور بھارت کے زیر انتظام حصے کو متنازع قرار دیتا ہے۔

چین بھی سابق ریاست کے کچھ علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔

لیکن ان تمام نقشوں کے درمیان اصل تاریخی سیاسی وحدت—ریاست جموں کشمیر—اور اس میں رہنے والے کشمیری، جموی، پہاڑی، گوجر، لداخی، بلتی، شینا اور دوسری شناختوں کے حامل عوام اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک boundary dispute سمجھنا اس کی تاریخی اور جمہوری نوعیت کو محدود کر دیتا ہے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نقشے پر لکیر کہاں کھینچی جائے۔

اصل سوال یہ بھی ہے کہ:

اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا سیاسی حق کس کے پاس ہے؟

افریقہ کی دلیل کشمیر کو کیا سکھاتی ہے؟

“Correct the Map” تحریک کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ representation کبھی غیر سیاسی نہیں ہوتی۔

افریقہ نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر نقشے نے صدیوں تک ایک براعظم کو حقیقت سے چھوٹا دکھایا تو اس سے دنیا کے ذہن میں افریقہ کے بارے میں کیا تصور پیدا ہوا؟

جموں کشمیر کے لوگوں کو بھی اسی نوعیت کا سوال پوچھنے کی ضرورت ہے:

اگر دنیا کے نقشوں، نصابی کتابوں، سفارتی بیانیوں اور ذرائع ابلاغ میں جموں کشمیر کو ہمیشہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم شدہ territory کے طور پر دکھایا جائے تو پھر ایک مشترکہ تاریخی ریاست اور اس کے باشندوں کا سیاسی تصور کہاں باقی رہتا ہے؟

1947 کی تقسیم نے صرف زمین تقسیم نہیں کی۔

اس نے تاریخی یادداشت، معیشت، خاندان، نقل و حرکت، زبانوں، سیاسی شناخت اور اجتماعی تصور کو بھی تقسیم کیا۔

میرپور، پونچھ، مظفرآباد، وادی کشمیر، جموں، لداخ، گلگت اور بلتستان ایک دوسرے سے سیاسی اور انتظامی طور پر اس قدر جدا ہو گئے کہ نئی نسلوں کے لیے بعض اوقات یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو گیا کہ یہ علاقے کبھی ایک ہی سیاسی و تاریخی جغرافیہ کا حصہ تھے۔

اسی لیے نقشہ یادداشت کا ذریعہ بھی ہے۔

اور بعض اوقات بھول جانے کا آلہ بھی۔

کیا اقوام متحدہ نے کشمیر کے حق میں کوئی نیا فیصلہ دیا ہے؟

نہیں۔

اس نکتے پر غیر ضروری مبالغہ مسئلہ کشمیر کے مقدمے کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرے گا۔

4 ستمبر کی قرارداد نے کشمیر کی سرحدیں مقرر نہیں کیں، بھارت کا نقشہ مسترد نہیں کیا، پاکستان کے نقشے کو منظور نہیں کیا، اور نہ ہی کسی نئے plebiscite یا sovereignty arrangement کا فیصلہ کیا۔

قرارداد non-binding ہے اور بنیادی طور پر equal-area cartographic projections کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کشمیر سے متعلق پیدا ہونے والی بحث بے معنی ہے۔

اس واقعے کی سیاسی اہمیت کسی نئے قانونی فیصلے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ ایک نقشہ جاتی قرارداد آتے ہی بھارت نے جموں کشمیر پر اپنی sovereignty کا تحفظ ضروری سمجھا، پاکستان نے اسے مسترد کیا، اور اقوام متحدہ کی اپنی موجودہ cartographic policy دوبارہ زیر بحث آ گئی۔

اور اقوام متحدہ کی وہ policy اب بھی یہ نہیں کہتی کہ جموں کشمیر کی حتمی حیثیت طے ہو چکی ہے۔

نقشے اور طاقت

فرانسیسی فلسفی میشل فوکو کے ہاں علم اور طاقت کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ نقشہ اس تعلق کی ایک انتہائی واضح مثال ہے۔

جو طاقت نام رکھتی ہے، وہی اکثر سرحد بھی کھینچتی ہے۔

جو سرحد کھینچتی ہے، وہی نقشہ چھاپتی ہے۔

اور جو نقشہ نسل در نسل سکولوں میں پڑھایا جائے، وہ بالآخر سیاسی دعوے کو روزمرہ کی “حقیقت” میں تبدیل کرنے لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی طاقتوں کے لیے سروے، census، map-making اور territorial classification محض انتظامی سرگرمیاں نہیں تھیں۔ یہ حکومت کرنے کے طریقے بھی تھے۔

لیکن اس استدلال کو سادہ سازشی نظریے میں تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔ Mercator projection خود افریقہ کو نیچا دکھانے کے لیے ایجاد نہیں کیا گیا تھا؛ وہ سمندری navigation کے لیے انتہائی مفید mathematical projection تھا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ایک مخصوص مقصد کے لیے بنائے گئے نقشے کو دنیا کی عمومی ذہنی تصویر بنا دیا گیا۔

بالکل اسی طرح سیاسی نقشوں کا مسئلہ بھی صرف یہ نہیں کہ لکیر کس نے بنائی، بلکہ یہ ہے کہ اس لکیر کو کس سیاسی مفروضے کے ساتھ نسل در نسل پیش کیا گیا۔

کشمیریوں کے لیے اصل موقع

اس بحث کو بھارت پاکستان کی روایتی لفظی جنگ تک محدود کر دینا ایک ضائع شدہ موقع ہوگا۔

کشمیری سیاسی فکر کو اس موقع پر ایک تیسرا سوال دنیا کے سامنے رکھنا چاہیے:

اگر افریقہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مطالبہ کرے کہ دنیا اسے اس کے حقیقی حجم میں دیکھے، تو جموں کشمیر کے لوگوں کو یہ حق کیوں حاصل نہ ہو کہ دنیا انہیں بھارت اور پاکستان کے territorial claims سے الگ ایک تاریخی اور سیاسی subject کے طور پر بھی دیکھے؟

اس کا مطلب کسی ایک تیار شدہ حل کو دنیا پر مسلط کرنا نہیں۔

یہ مطالبہ اس سے کہیں بنیادی ہے۔

یہ مطالبہ ہے کہ جموں کشمیر کی تاریخ، اس کی وحدت، اس کی تقسیم، اس کے مختلف خطوں اور سب سے بڑھ کر اس کے لوگوں کو discussion سے غائب نہ کیا جائے۔

یعنی مسئلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:

بھارتی نقشہ درست ہے یا پاکستانی نقشہ؟

اس سے پہلے سوال ہونا چاہیے:

کشمیری خود اپنے سیاسی جغرافیے اور مستقبل کے بارے میں کہاں کھڑے ہیں؟

نقشہ درست کرنے سے آگے

افریقہ کی “Correct the Map” تحریک نے دنیا کو ایک غیر معمولی سبق دیا ہے۔

کبھی کبھی وہ چیزیں جو ہمیں سب سے زیادہ فطری اور غیر سیاسی دکھائی دیتی ہیں—مثلاً سکول کی دیوار پر لگا ہوا دنیا کا نقشہ—اپنے اندر صدیوں کی طاقت، ترجیحات اور تاریخی بیانیے چھپائے ہوئے ہوتی ہیں۔

جموں کشمیر کے معاملے میں بھی نقشہ صرف جغرافیہ نہیں۔

یہ اس سوال کی بصری شکل ہے کہ ریاست کس کی ہے، سرحد کس نے بنائی، کس کی sovereignty تسلیم کی گئی، کس کی آواز نظر انداز ہوئی اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کس کے پاس ہونا چاہیے۔

4 ستمبر 2026 کی اقوام متحدہ کی ووٹنگ نے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا۔

نہ اس نے کوئی نئی سرحد کھینچی۔

نہ اس نے کسی ملک کا territorial claim تسلیم یا مسترد کیا۔

لیکن اس نے ایک بہت بنیادی سوال دوبارہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے:

دنیا کے نقشے کو درست کرنے کا مطلب صرف زمین کے حجم کو درست دکھانا ہے، یا ان تاریخی اور سیاسی تصورات کو بھی چیلنج کرنا ہے جن کے ذریعے ہم دنیا کو دیکھتے آئے ہیں؟

افریقہ نے دنیا سے کہا ہے:

ہمیں ہمارے حقیقی حجم میں دیکھو۔

شاید جموں کشمیر کے لوگوں کا مطالبہ بھی اسی اصول سے شروع ہونا چاہیے:

ہمیں صرف بھارت اور پاکستان کے نقشوں کے درمیان مت دیکھو۔ ہمیں ہماری تاریخ، ہماری مکمل جغرافیائی حقیقت، ہماری تقسیم شدہ ریاست اور ہمارے اپنے سیاسی حقِ انتخاب کے ساتھ بھی دیکھو۔

کیونکہ نقشے پر کسی قوم یا خطے کا صحیح مقام صرف longitude اور latitude سے متعین نہیں ہوتا۔

آخرکار سوال یہ ہوتا ہے کہ نقشہ کون بنا رہا ہے—اور اس نقشے میں بولنے کا حق کس کو حاصل ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں