Method Behind Madness"
مشہور دانشور اور ڈرامہ نگار اور شاعر سر ولیم شکسپير (William Shakespeare) کے ڈرامے ہملٹ (Hamlet)کا ایک بہت ہی مشہور اور اکثر استعمال ہونا والا ڈائیلاگ ہے ۔ جس کا مناسب اردو ترجمعہ اور تشریح "اس پا گل پن اور دیوانگی کے پسِ پردہ ضرور کو ئی خطرے ناک حکمتِ عملی پوشیدہ ہے"
مذکورہ محاورے یا ڈائیلاگ کا JKJAAC کی آن گوئنگ (On-going )تحریک اورتنظیم کی اہمیت کے ساتھ گہراتعلق بنتا ہے ۔
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی(JK-JAAC ) جسے آذاد کشمیر پر مسلط نا اہل، کرپٹ،ہائیبرڈ، سیلیکٹد رجیم کے ۵۲ کارندوں نے اپنے شہنشائی طرزِ حکومت اور اجارہ داری کے لیے موت کا پروانہ سمجھا اور اپنے پشتی با نوں کی مدد سے کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمان جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی(Jk-JAAC )کو عبرت کا نشانہ بنانے کا مزموم اردہ کیا جوائنٹ عوام ایکشن کمیٹی نے اپنے لیے اقتدار یا کسی قسم کی مراعات(Privileges) کا مطالبہ ہر گز نہیں کیا بلکہ آذاد کشمیر کے عوام کی گزشتہ اسی سالوں کی محرومیوں کےخاتمے کے لیے اجتمائی جہدو جہد شروع کی یعنی روٹی،دوائی،بجلی،ہسپتال،سکول ، انٹرنٹ،انصاف پسند ججوں پر مشتمل عدالتیں، عوام دوست ایڈ منسٹریشن ،کرپشن فری پولیس اور قابلِ اعتماد مضبوط و محفوظ انٹفرا سکٹریکچر مانگنے پر بھارت کا ایجنٹ اور فارن فنڈڈ کرار دے کر جیک پر پابندی عائد کر دی اور ۵جون ۲۰۲۶کو بلا اشتعال بنیادی حقوق کی تحریک کے سرکردہ رہنما اور کور کمیٹی کےممبر عمر نذیر پر
اندھادھند فائیرنگ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں ان کا ایک ساتھی شازیب حبیب شہد ہوا اور اسی دن شام کو پر امن مظاہرین پر فائیرنگ کرکے درجنوں پُر امن مظاہرین کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی و گرفتار کردیا ۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC)کی تاریخ
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی باقائدہ منصوبہ کی پیدائش نہیں بلکہ خطہ آذاد کشمیرکی ۸۰سالامحرومیوں کے خلاف ردِ عمل کے طور پر وجود میں آئی۔
عوامی ایکشن کمیٹی(JKJAAC)کی ہسٹری
ستمبر 2023 کے شروع میں راولاکوٹ کے مقام پر ٹریڈرز،وکلاء ،سٹوڈنٹ اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے ملکر مسائل کے حل پر غور و غوص کیا اور باہمی مشاورت سے آذاد کشمیر کے تینوں ڈیویژن کے ضلعوں ،تحصیلوں اور ٹاؤن کی سطع کے نمائندوں کا ایک گرینڈ جرگہ 17ستمبر2023کو مظفرآباد کے مقام پر بلایا گیا،طویل مشاورت کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی(Jk-JAAC)کے نام سے سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایسے پلیٹ فارم کا تصور پیش کیاگیا جس میں تمام شعبہ زندگی،تمام نظریات کے حامل افراد، تمام پارٹیوں کے کارکنان جو بنیادی حقوق کی اس تحریک میں والینٹیر لی (گ(voluntarily)کردار ادا کرنا چاہتے ہوں ,ان کو جیک خوش آمدید کہی گی۔
*جیک کی ممبر شپ
ہر وہ کشمیری جو اس خطے کے مسائل کے حل کا داعی ہو وہ بلا تعصبِ مذہب،رنگ ، نسل قبیلا اور علاقہ ممبرشپ فارم پُر کیے بغیر جیک کا فل ممبر یعنی( درجہ اول ) ممبر تصور ہوگا،یہی وجہ ہے کہ نہ تو جیک کا کوئی صدر چئیر مین یا سیکرٹری ہے اور نہ کوئی رہنمائی کا دعویدار ہے۔
مز کورہ تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باہمی مشاورت سے 25 ستمبر 2023کو باقائدہ طور پر جیک کی بنیاد رکھی گئی اور اتفاقِ رائے سے علاقائی نمائندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوے جیک(JAAC) کے 31کور ممبر ان چُنے گئے جو رابطے کا کام کرتے ہیں،ہر سال 25 ستمبر کو جیک کا یوم تاسیس بنایاجاتا ہے۔
جیک (JAAC)کے قیام کا مقصد *
جیک کے قیام کا مقصد ہر گز اقتدار نہیں بلکہ 80 سال کی محرومیوں کا ازالہ تھا ،کمیٹی کی کور کمیٹی نے خلوص ِ دل سے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروہ کا ر لاتے ہوے پوری تحقیق کرنے کے بعد 38 نقا تی ایجنڈا تیار کیا جسے تمام سطع کی کمیٹیوں نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا، ذیل میں درج مذکورہ ایجنڈے کا جائزہ لیتے ہیں-
کمیٹی کا 38 نکاتی ایجنڈا
یہ ایجنڈا دو حصوں پر مشتمل ہے:
الف) فوری معاشی ریلیف
منگلا ڈیم سمیت مقامی پن بجلی کی پیداواری لاگت پر بجلی، گلگت بلتستان کی طرح سستا آٹا، مفت تعلیم و صحت، نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضے۔
ب :ساختی اصلاحات (ReformsStructural)
حکمران اشرافیہ، بیوروکریسی اور ججوں کی بے جا مراعات کا خاتمہ، 12 مہاجر نشستوں کا خاتمہ جو پاکستان میں مقیم غیر مقامی افراد کے لیے مخصوص ہیں، لوکل گورنمنٹ کو اختیارات کی منتقلی، طلباء یونینز کی بحالی، کرپشن کا خاتمہ ہے-
ستمبر 2025 کو جیک نے 38 نکاتی چارٹر پیش کیا جس کو حکومت نے جیک کی دیوانگی کرار دے کر رد کردیا بلکہ حکومتی وزراہ نے سرِ عام آٹے اور بجلی پر دی گئی سبسیڈی بھی ختم کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کردی ردِ عمل کے طور پر جیک نے تاریخی پُرامن لانگ مارچ شروع کیا جس نے حکومت کو اپنے روے پر نظر ثانی کرنے پر مجبورکیا اور 4 اکتوبر 1925 کو حکومت ِپاکستان اور حکومت آذاد کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرکے باقائدہ تحریری معاہدے پر دستخط کیے اور عمل درآمد کے لیے 90 دن کا وقت مانگا لیکن سوائے چند معمولی نوعیت کے نقاط کے کسی بھی مطالبے پر عمل درآمد پر لعتُ لعل سے کام لینا شروع کر دیا ،مئی کے آخری ہفتے میں جیک نے حکومت کے ساتھ لمبی نشست رکھی اور مطالبہ کیا کہ دستخط شدہ معاہدے پر فوری طور پر عمل در آمد شروع کیا جائے ورنہ آپ ہمیں دوبارہ لانگ مارچ شروع کرنے پر مجبور کریں گے ، حکومت نے انتہائی منفی اور تز ہیک آمیز رویہ اختیار کیا جس سے ایکشن کمیٹی نے حکومتی بدنيتی کو بھانپتے ہوے راستِ اقدام کا فیصلہ کیا اور حکومت کو وارنگ دی کہ اگر فوری طور پر معاہدے پر عمل درآمد نہ شروع کیا گیا تو 9جون 2025 سے جیک دوبارہ پہلے سے زیادہ عوامی قوت کے ساتھ تحریک شروع کرے گی ۔
JKJAAC کا ہر عمل ہمیشہ پرامن، آئینی اور اصلاحی تعمیری رہا ہے۔
جیک کا جاری تاریخی دھرنا
اور
ریاستی تشدد اور قتل و غارت گری
جیک نے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ۹جون2026 کودوبارہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آذاد کشمیر پر مسلط رجیم نے اپنی جاہلی کرپٹ اور نا اہل کا بینہ اور غیر ریاستی پارٹیوں سے ملکر جیک اور جیک کے حمایتی 85 پرسنٹ آذاد کشمیرکے باشندوں کو دہشت گرد اور بھارتی ایجنسی را (RAW)کے ایجنٹس کاالزام لگا کر چوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کردی اور طاقت کے زور پر جیک کو کچلنے کا فیصلہ کیا۔حکومت نے اپنے اس مزموم اور بد نیٓتی پر مبنی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی پیرا ملٹری فورسز حکومت پاکستان سے طلب کی جنھیں فوری طور پر ڈیپلائیڈ کیاگیا۔
5 جون 2026 کو مارچ شروع ہونے سے قبل ہی راولاکوٹ کے نوائی علاقے میں رینجرز نے کور کمیٹی کے سنیر ممبر عمر نزیر کشمیری پر قاتلانہ حملہ کیا جسمیں وہ شدید زخمی ہوے اور ان کا ایک قریبی ساتھی شہازیب حبیب کو شہید کردیا گیا جبکہ موبیانہ طور پر اسی شام درجنوں مزید پر امن مظاہرین کو قتل،سیکڑوں کو زخمی اور غائب کیا گیا جن کو تاحال بازیاب نہیں کیا اور نہ ہی شہدائے راولاکوٹ کے جسدِ خاکی بھی ابھی تک وارثین کے حوالے کیے گئے۔
7. کیا کمیٹی پرامن یا پرتشدد؟
کمیٹی کا ہر احتجاج، لاک ڈاؤن، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام پرامن رہا ہے۔ تشدد ہمیشہ ریاستی فورسز کی طرف سے شروع ہوا۔ JKJAAC کا ہر عمل ہمیشہ پرامن، آئینی اور اصلاحی تعمیری رہا ہے۔
*8. پاکستان اور آذاد کشمیر کی حکومتوں نے متعد بار کے جیک ساتھ مڈاکرات اور معاہدے کرنے کی بعد پریس کانفرنس کے ذریعے کمیٹی کی تعریفیں کی اور جیک کے مطالبات کو حقیقی عوامی ضرورت کرار دیا۔
خاص کرکے 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد خود حکومتی وزراء نے JKJAAC کے مطالبات کو جائز اور عوام دوست قرار دیا۔ حکومت نے 38 میں سے 35 مطالبات کُلی طور پر منظور کیے لیکن عمل درآمد نہیں کیا جبکہ صرف 3 مطالبات پر آئین میں ترمیم کی ضرورت کو بہانہ بنا کر وعدہ کیا کہ اسمبلی کا سیشن شروع ہونے پر ان 3 مطالبات پر قانون سازی ہونے کے بعد اُنھیں منظور کیا جا ئیگا لیکن وقت نے ثابت کیاہے کہ حکومت کی نیت میں ہی کھوٹ تھا ۔
9. معاہدے سے انحراف اور قتل و غارت:
معاہدے پر عمل درآمد کے بجائے حکومت نے 5 جون 2026 کو JKJAAC پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت بطور دہشت گرد تنظیم پابندی عائد کر دی۔
5 جون 2026: کور کمیٹی ممبر عمر نذیر کاشر پر قاتلانہ حملہ، ان کے ساتھی شازیب حبیب شہید۔
- پرامن مظاہرین پر سیدھی فائرنگ سے درجنوں شہید اور سیکڑوں زخمی و گرفتار۔ آزاد ذرائع کے مطابق جون-جولائی 2026 کے احتجاج میں 50 سے زائد مظاہرین شہید ہوئے۔
- شوکت نواز میر سمیت کئی رہنما مسنگ پرسن بنا دیے گئے۔
- انٹرنیٹ، موبائل سروس بند، مکمل لاک ڈاؤن۔
- حکومتی فورسز پر گھروں میں لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات۔
10. حکومت کا مذاکرات سے انکار اورجیک کا جدوجہد جاری رکھنے اعلان :
حکومت نے مذاکرات کا دروازہ بند کر دیا ہے جبکہ JKJAAC کا مؤقف ہے کہ وہ آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ معاہدے پر عمل ہو۔ کمیٹی کی جدوجہد جاری ہے۔
11. جیک کا مصمم ارادہ-کامیابی یا شہادت
عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے کارکنوں کا نعرہ ہے -ہم روکھی سوکھی کھائیں انقلاب لا ئیں گے۔ جیک نے واضع اعلان کر دیا ہے کہ ہماری جہدو جہد حق اور سچ پر مبنی ہے ہم اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے کہ جب تک ہمارے کلی 38 ایجنڈا پوائنٹ پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ہم راہِ حق کے مسافر ہیں ہماری حتمی منزل :
کامیابی یا شہادت۔ اللٰہ ذولجلال ہماری منزل کا تعین کریگا دونوں چوائسس سے جوبھی سارے جہاں کا رب ہمارے لیے چنے گا ہم اسی پر راضی ہو گے۔
مشورہ:
اس تحریک کو کچلنے کے بجائے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ 80 سالہ محرومی کا پھٹتا ہوا لاوا ہے۔ اسے طاقت سے نہیں، صرف اور صرف 38 نکات پر ایماندارانہ عمل درآمد سے ہی حل کیا جا سکتا ہے_۔
٨٠سال تک کشمیریوں نے دلی کی فسطائیت کا مقابلہ کیا ہے ۔اب اسلام آباد سن لو ۔تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔
*مقام افسوس یہ ہے کہ کشمیریوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھاکہ پاکستان وہ قتل و اغارت گری کریگا جو آج تک ہندوستان کرتا چلا آرہا ہے ۔
حیرانگی یہ ہے کہ پاکستانی پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا اس قتل و غارت گری پر خبر کے طور پر بھی شائع کرنا گوارہ نہیں کر تا۔
*بے حسی کی حد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام یہ نعرہ تو لگاتے ہیں کہ " کشمیر پاکستان کی شہ رنگ ہے" لیکن آذاد کشمیر کو بنیادی حق مانگنے کی پاداش میں مقتل کدہ بنادیا گیا ہے لیکن پاکستان کا عام آدمی اُف تک بھی کرنے سے قاسر ہے ۔
٭پاکستانیوں ہمت ہے تو سنو*
100سے زائد پُر امن مظاہرین کو قتل کیا گیا،ہزاروں کو زخمی ،گرفتار،غائب کر دیا گیا،خوراک بند،دوائیاں بند، انٹرنٹ بند ، ہسپتال اور فارمیسی تک رسائی بند،سکول بند، مسجد بند اور 35 ہزار سے زائد رینجرز،ایف سی، پی سی کے ہاتھوں قبضہ اور قتل و غارت گری جاری ہے اور آپ کی خا موشی پر تو سوال بنتا ہے۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ۔
منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔

تبصرے (0)