مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک اور 90 کی دہائی کے زخم - اعتماد کہاں سے لائیں کشمیری... ؟

Azad Kashmir’s ongoing civil uprising is a struggle for basic rights and economic justice, not a revival of 1990s militancy. Can authorities address these public grievances without repeating past tragic mistakes?

خلاصہ
Summary in English

Azad Kashmir’s ongoing civil uprising is a struggle for basic rights and economic justice, not a revival of 1990s militancy. Can authorities address these public grievances without repeating past tragic mistakes?

آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک اور 90 کی دہائی کے زخم - اعتماد کہاں سے لائیں کشمیری... ؟

آزاد کشمیر میں جاری موجودہ تحریک کو سمجھنے کے لیے اس کی قیادت کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی مرکزی قیادت کے اہم چہرے

عمر نذیر کشمیری، ارباب ایڈووکیٹ، سعد انصاری ایڈووکیٹ، امتیاز اسلم، توصیف جرال ایڈووکیٹ، راجہ مجتبیٰ اور دیگر بہت سے کارکنان تحصیل ضلع تک زیادہ تر کا تعلق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) سے اور دیگر قوم پرست گروپوں سے ہی ہیے شک نہیں

یہ وہ نسل ہے جس نے 90 کی دہائی کو آنکھوں سے دیکھا ہے۔ 1988 میں جب JKLF نے پاکستان کے تعاون سے مسلح جدوجہد شروع کی اور تحریک اپنے عروج پر پہنچی تو عین اس وقت ہاتھ کھینچ لیا گیا جب کشمیری پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آگے اس کے بعد کا منظر ہم سب جانتے ہیں۔

وہی پرانا طریقہ اور اس کا نتیجہ

جب تحریک عروج پر تھی تو لبرل سیکولر اور قوم پرست تحریک کو پیچھے دھکیل کر مذہبی گروپوں کو فرنٹ پر لایا گیا۔ وادی میں جماعت اسلامی اور سید علی گیلانی مرحوم کو نمایاں کیا گیا تو آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کے صدر سردار عبدالقیوم خان مرحوم نے اپنا الگ مسلح گروپ بنا لیا چندے کا بے حساب کاروبار دنیا بھر میں شروع ہوا اس پالیسی سے دو نقصان ہوئے

اول دنیا کی نظر میں کشمیریوں کی سیاسی آزادی کی تحریک

"مذہبی فساد"

کے طور پر پیش ہوئی۔

دوم پیسے نے تحریک کو اندر سے توڑ دیا دنیا بھر سے آنے والے چندے کے حساب کتاب پر تین چار بڑے گروپ الگ ہوئے، کچھ بااثر افراد خاندانوں سمیت پیسے کے حساب کتاب کے بغیر بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے جس پر لکھنا ہر کسی کے بس میں  نہیں ہندوستان کے خلاف کشمیریوں کی تحریک کو بے دردی سے کچلا گیا پاکستان کی طرف سے اسلحہ بند پیسے بند لسٹیں تک دے دی گئی گرفتاریاں قتل و غارت لیکن تحریک پھر بھی ختم نہ ہو سکی  کیونکہ آزادی اور شناخت کے بنیاد سوال پر برصغیر کی تقسیم کے وقت جو سوال کھڑا کیا گیا آج بھی وہیں کھڑا ہے اور برصغیر عالمی طاقتوں کے درمیان بھی وہیں کھڑا ہیے مذہبی نیشنل ازم کا نقصان بڑا ہوا  اب جو خطرناک کھیل کی شکل میں موجود ہیے

آج آزاد کشمیر میں جو تحریک ہے وہ 90 والی مسلح تحریک نہیں یہ خالصتاً طبقاتی اور بنیادی حقوق کی تحریک ہے -

آٹے، بجلی، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور لوٹ مار کے خلاف احتجاج۔

اسے دہشتگردی یا پراکسی وار کا نام دے کر طاقت کا استعمال کر کے دوبارہ اسی پرانے حکمران طبقے کے نیچے لگانا  یہ دو بالکل مختلف کہانیاں ہیں اب یہ ممکن نہیں رہا

90 کی دہائی نے ثابت کیا کہ طاقت سے تحریک دبتی نہیں، صرف زیر زمین چلی جاتی ہے۔

یہ دھرنا کسی ایک جماعت کا نہیں، عام سول شہریوں کا ہے اسکی کوئی باضابطہ آرگنائزیشنل ڈھانچہ نہیں، اس کا ہر آدمی وارث ہے۔ اسی وجہ سے اسکے اسٹیج سے بیک وقت آزادی، انقلاب  اسلامی جہاد سب کے سب نعرے سنائی دیتے ہیں۔ ریاست پاکستان نیشنل میڈیا کے ذریعے مجاہدین کا نام لے کر آپریشن کا جواز ڈھونڈ رہی ہے، کیونکہ لوٹ مار کے خلاف اٹھنے والی اس بغاوت کا اس کے پاس کوئی دوسرا جواب یا راستہ نہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر احتساب کی اس آواز کو کسی فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بعد قائم ہونے والے امن کی ذمہ داری کون لے گا اسکی شکل کیا  ہوگی

حل کیا ہے؟

90 کی غلطیوں سے کیسے بچا جائے؟یہ ایک پوری کتاب کا موضوع ہے اعتماد اور بداعتمادی پرمبنی تو تو میں میں کے ماحول کو کیسے کم کیا جائے مذہبی رشتے وکیل والے عالمی چہرے کا کیا کریں

حقوق کی تحریک کو 90 کی مسلح تحریک سے الگ رکھنا ہوگا۔ یہ آٹا اور بجلی کی تحریک ہے، اسے اسی دائرے میں رہنا چاہیے۔

نعروں میں بھی فرق کرنا ہوگا طبقاتی حقوق  آزادی انقلاب اور مسلح جہاد کا نعرہ ایک ہی اسٹیج پر نہیں چل سکتے۔

اعتماد بحال کیا جائے آپریشن امن نہیں لاتا۔ 90 کی دہائی نے ثابت کیا کہ طاقت سے تحریک دبتی نہیں، صرف زیر زمین چلی جاتی ہے۔ اس انتشار سے بچنے کا واحد راستہ صاف ستھرا ذمہ دارانہ اور اعتماد کا ماحول چاہیے

لیکن سوال وہی ہے  وہ اعتماد لائیں کہاں سے؟ جب تک ریاست اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے، بنیادی حقوق کو دہشتگردی کے بیانیے سے الگ نہیں کرے گی، اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ ریاست کو خود کو قائم رکھنے کے لیے اپنے ریاستی شہریوں کے بنیادی شہری حقوق دینے ہوں گیے آٹا مانگنا کون سی بغاوت ہیے تین سال سے مسلسل مذاکرات کے عمل کو ایسے تو نہیں چھوڑا جاسکتا جیسے اب نیم پاگل طاقتور مافیا نے سب کو لاتعلق کرکے شروع کیا ہوا ہیے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو اپنے لوگوں سے بات کرنے کی گنجائش دینا ہوگی پوری دنیا میں پھیلے کشمیریوں کے امن مذاکرات کے مطالبات کو جگہ دینا ہوگی اس کے  بغیر صورتحال کنٹرول نہیں ہوگی پونچھ کو اکیلاے ٹارگٹ کرنے کا مطلب انتقام یا نفرت تو ہوسکتی ہیے لیکن کسی فورم پر اس پر دلیل یا وضاحت نہیں دی جاسکتی کے یہ درست عمل ہیے مجاہدین کی فیکٹریاں تو آپ کی پراکسی وار کے پلان کا حصہ تھی راولاکوٹ کا اس میں کیا قصور ہیے افغانستان سے کشمیر اور خالصتان تک یہ سب کس کا پروجیکٹ تھا کس کے مفادات تھے یہ سب کچھ ایسے ہی تو نہیں ہوگیا بیرونی تعلقات کے تناظر میں ہی خود کو دیکھ لیتے ہمارا عالمی موقف کیا ہیے اگر وفاق بجٹ دیتا رہا تو سکول کالج ہسپتال سڑکیں تعمیر کیوں نہیں ہوئی احتساب کے بجائے آپ نے اپنے کرپٹ طبقے کو محفوظ بنانے کے لیے سول تحریک پر عام شہریوں پر تشدد کرنا شروع کردیا سو لوگ کس جرم میں قتلِ ہوئے کون حساب دے گا کون جواب دے گا ابھی بھی وقت ہیے

تبصرے (0)

تبصرہ کریں