پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری عوامی حقوق کی تحریک نے نہ صرف روایتی سیاست کے دعوے داروں کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا ہے بلکہ ان قوتوں کے اصل کردار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں جو برسوں سے عوام کی نمائندگی، آزادی، انقلاب اور حقوق کی باتیں کرتی رہی ہیں۔ اس تحریک کے دوران ایک طرف عوام کے بنیادی حقوق کے مطالبات کو دبانے کی کوششیں ہوئیں، دوسری طرف تحریک کے شرکا کو بدنام کرنے کے لیے ایسے الزامات سامنے آئے جن کی بنیاد سنجیدہ شواہد کے بجائے ان کے ظاہری حلیے، سیاسی وابستگیوں اور مفروضوں پر رکھی جاتی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک پُرامن عوامی تحریک سے اتنی بوکھلاہٹ کیوں ہے؟ کیا پینتالیس لاکھ انسانوں کا اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ انہیں اجتماعی طور پر مشکوک، باغی یا دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جائے؟
ریاست جموں کشمیر کے عوام نے جب اپنے بنیادی حقوق، حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے لیے آواز بلند کی تو اس تحریک کا جواب دینے کے بجائے اسے مختلف الزامات کی زد میں لانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ مقتدرہ، حکومتی حلقوں، روایتی سیاسی قوتوں اور ان کے حامیوں کے کردار پر سوالات اٹھے تو عوامی مطالبات کی اصل نوعیت سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف بیانیے سامنے آنے لگے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر عوام بجلی، آٹے، تعلیم، صحت، روزگار، وسائل پر اختیار اور حکمرانی میں اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان مطالبات کا جواب دلیل، مکالمے اور عملی اقدامات سے کیوں نہیں دیا جاتا؟ اگر مطالبات جائز نہیں تو ان کا جواب حقائق کے ساتھ دیا جائے، لیکن کسی پوری آبادی کو مشکوک قرار دینا اور اجتماعی سزا کے تصور کو فروغ دینا کسی بھی جمہوری معاشرے کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایک دوسرا اور زیادہ افسوس ناک پہلو بھی ہے کہ وہ لوگ جو دہائیوں سے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، بھارت سے آزادی کی باتیں کرتے رہے اور مختلف ادوار میں مسلح پراکسی جنگوں یا ان سے وابستہ سیاسی بیانیوں کا حصہ رہے، ان میں سے بعض آج جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پُرامن عوامی تحریک کے شرکا پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنے کے لیے ان کی داڑھیوں اور بڑھے ہوئے بالوں کو دلیل بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل محض سیاسی تضاد نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا کسی انسان کے مذہبی حلیے، لباس یا ظاہری شکل سے اس کے کردار، نظریے یا مجرمانہ سرگرمیوں کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
داڑھی کو دہشت گردی کی علامت قرار دینے والے ذرا اپنے معیار پر نظرثانی کریں۔ مسلمانوں میں داڑھی کو مذہبی اہمیت حاصل ہے، جبکہ دوسرے مذاہب اور ثقافتوں میں بھی بڑی بڑی داڑھیاں رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ کیا ان سب کو بھی دہشت گرد سمجھ لیا جائے؟ کیا بغیر داڑھی رکھنے والا شخص دہشت گرد نہیں ہو سکتا؟ کیا دنیا میں پرتشدد جرائم یا دہشت گردی میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد داڑھیوں والے ہی ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے، ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ کسی شخص کے خلاف دہشت گردی کا الزام عائد کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد، اس کے عمل اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہیں۔ صرف ظاہری حلیے کی بنیاد پر کسی کو دہشت گرد قرار دینا تعصب اور غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔
اس معاملے میں ایک اور حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا گزشتہ تین برس سے اس عوامی تحریک کی تنظیم سازی اور اس کے مختلف مراحل کو دیکھ رہی ہے، جبکہ گزشتہ چار ماہ کے واقعات نے اس کے پُرامن طرزِ عمل کے دعوے کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ جب لوگوں کے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوں، کاروبار بند ہوں، نقل و حرکت محدود ہو اور لوگ طویل عرصے تک کھلے آسمان تلے دھرنوں میں بیٹھے رہیں تو ان کے بال اور داڑھیاں بڑھنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ عام حالات میں بھی لوگ اپنے بال اور داڑھی تراشواتے ہیں، لیکن مسلسل احتجاج، مشکلات اور بے یقینی کے دوران ہر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنی ظاہری وضع قطع کا معمول برقرار رکھ سکے۔
یہاں سوال صرف بالوں اور داڑھیوں کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو کسی انسان کے حلیے کو اس کے خلاف الزام کا ہتھیار بنا دیتی ہے۔ اگر کسی نے احتجاج کے دوران داڑھی بڑھا لی تو کیا اس سے اس کے نظریات بدل گئے؟ اگر کسی کے سر کے بال لمبے ہو گئے تو کیا وہ خودبخود دہشت گرد بن گیا؟ اگر مذہبی حلیہ رکھنے والا شخص اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرے تو کیا اس کی آواز کی حیثیت اس کے حلیے سے متعین کی جائے گی؟ کسی بھی مہذب معاشرے میں ان سوالات کا جواب واضح ہونا چاہیے: انسان کو اس کے عمل سے پرکھا جائے، اس کی ظاہری شکل سے نہیں۔
دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ جب لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، اپنے عزیزوں کو دفنایا اور اپنے دکھوں کے باوجود احتجاجی تحریک کے ساتھ کھڑے رہے تو اس کے بعد بھی عوامی حقوق کے مطالبات ختم نہیں ہوئے۔ ایسے حالات میں کسی تحریک کے شرکا کے رویے، ان کے مطالبات اور ان کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حالیہ واقعات میں سو سے زائد اموات کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن کی حتمی تعداد، واقعات کی تفصیلات اور ذمہ داری کا تعین آزادانہ تحقیقات اور مستند شواہد کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی تحریک کے دوران لوگوں کے پیارے جان سے چلے جائیں، خاندان اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھائیں اور اس کے باوجود وہ اپنے مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج جاری رکھیں تو انہیں اجتماعی طور پر دہشت گرد قرار دینے کی منطق کیا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی طاقت کے استعمال اور عوامی احتجاج کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی تحریکیں اٹھتی ہیں، بعض اوقات پُرتشدد واقعات بھی رونما ہوتے ہیں اور ریاستیں ان کا سامنا کرتی ہیں۔ فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں ہونے والے بڑے مظاہروں کے دوران پولیس کی کارروائیوں، زخمی ہونے والے افراد، اموات اور مالی نقصانات کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں اور اس وقت بھی ہو رہے ہیں۔ ان واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر تحریک کی نوعیت، حالات اور شواہد کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔ کسی ملک میں احتجاج کے دوران تشدد کا واقعہ دوسرے ملک میں ریاستی طاقت کے ہر استعمال کو درست ثابت نہیں کر سکتا، نہ ہی کسی ایک جگہ کی صورتِ حال کا حوالہ دے کر دوسری جگہ کے عوامی مطالبات کو بے معنی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی عوامی تحریک کے خلاف الزامات لگانا اس کے مطالبات کا جواب ہے؟ کیا ریاستی اداروں اور حکومتوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ شہریوں کی جان، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ کریں؟ کیا کسی بھی ریاست میں پُرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق برتاؤ نہیں ہونا چاہیے؟ اگر کسی فرد کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن چند افراد کے حلیے یا کسی غیر ثابت شدہ الزام کو بنیاد بنا کر پوری تحریک کو دہشت گردی سے جوڑ دینا انصاف کا تقاضا نہیں۔
صرف ظاہری حلیے کی بنیاد پر کسی کو دہشت گرد قرار دینا تعصب اور غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔
اس تمام صورتِ حال کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے روایتی سیاست کے ان کرداروں کو بھی بے نقاب کیا ہے جن پر کبھی عوام کو بہت بھروسا تھا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو چوکوں اور چوراہوں میں کھڑے ہو کر سری نگر فتح کرنے کے نعرے لگاتے تھے، آزادی کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے اور خود کو عوامی جذبات کا سب سے بڑا ترجمان سمجھتے تھے۔ لیکن جب عوامی حقوق کی تحریک نے عملی شکل اختیار کی، جب لوگوں نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے منظم انداز میں آواز بلند کی اور جب اس جدوجہد میں قربانیاں دینی پڑیں تو ان میں سے بعض کردار عوام کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دیے۔
عوامی تحریکوں میں سیاسی کرداروں کا اصل امتحان آسان حالات میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ نعروں کے ذریعے مقبولیت حاصل کرنا ایک بات ہے، لیکن جب لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کرنا پڑے، جب خاندان اپنے پیاروں کو دفنائیں اور جب عوام کو ریاستی طاقت کے مقابلے میں اپنے مطالبات پر قائم رہنا پڑے تو اس وقت قیادت کے دعوے داروں کی ذمہ داری بھی سامنے آتی ہے۔ جو لوگ کبھی عوامی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہوں، ان سے یہ سوال ضرور کیا جا سکتا ہے کہ جب عوام کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو وہ کہاں تھے؟
آج ان میں سے بعض لوگوں کی پریشانی کا ایک سبب یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ عوام ان کے روایتی نعروں کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنے حقوق کے مطالبات پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہیں یہ شکایت ہے کہ لوگ ان کے نعرے نہیں لگاتے، ان کے سیاسی بیانیے کو پہلے کی طرح قبول نہیں کرتے اور ان کی قیادت کو بلا سوال تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ جب عوام اپنی ترجیحات بدلتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے لگتے ہیں تو بعض سیاسی کردار اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے دوسروں پر ایجنسیوں کا کارندہ ہونے یا دہشت گردی سے وابستہ ہونے کے الزامات لگانے کا رجحان سامنے آتا ہے۔
ایسے لوگوں کو ہر دوسرا شخص کسی ایجنسی کا کارندہ اور ہر دوسرا انسان دہشت گرد دکھائی دینے لگتا ہے، جبکہ اپنے کردار اور اپنے مؤقف پر سوال اٹھانے کی گنجائش وہ خود اپنے لیے بھی پیدا نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک گویا ان کے سوا کوئی مخلص، کوئی اصول پسند اور کوئی حق پرست باقی نہیں رہا۔ یہ طرزِ فکر سیاسی بوکھلاہٹ کی علامت ہے، لیکن اس سے نہ عوام کے سوال ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی الزام کو حقیقت کا درجہ مل جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو واضح رکھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کا خود کو ایجنسیوں کا مخالف ظاہر کرنا اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ وہ واقعی ان سے آزاد ہے، لیکن کسی شخص کو ایجنسیوں کا کارندہ قرار دینے کے لیے بھی شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح کسی کے ماضی، سیاسی وابستگی یا موجودہ مؤقف پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن محض قیاس آرائی کی بنیاد پر اس کے خلاف سنگین الزامات کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ سیاسی کرداروں کا جائزہ ان کے عمل، ان کے بیانات، ان کے فیصلوں اور مشکل وقت میں ان کے طرزِ عمل کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ اس نے عوام کو روایتی سیاسی نعروں اور قیادت کے دعوؤں پر سوال اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ اس تحریک نے یہ بحث بھی سامنے لائی ہے کہ عوامی نمائندگی کا اصل معیار کیا ہونا چاہیے۔ کیا قیادت صرف جلسوں میں تقریریں کرنے، بلند بانگ دعوے کرنے اور مخالفین کو الزامات کا نشانہ بنانے سے ثابت ہوتی ہے، یا اس کے لیے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے مسائل کو سمجھنا، ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے؟
آج عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو لوگ برسوں تک آزادی اور انقلاب کے نعرے لگاتے رہے، وہ بنیادی انسانی حقوق کی ایک منظم تحریک کے معاملے میں کہاں کھڑے ہیں؟ جو لوگ خود کو عوام کا سب سے بڑا خیرخواہ کہتے تھے، وہ عوام کے دکھوں اور قربانیوں کے وقت کس کردار میں نظر آئے؟ جو لوگ دوسروں کی حب الوطنی اور آزادی پسندی پر سوال اٹھاتے ہیں، کیا وہ اپنے سیاسی فیصلوں اور اپنے کردار کے بارے میں عوام کے سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں؟
یہ سوالات کسی ایک فرد یا گروہ تک محدود نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہیں جو عوامی قیادت کا دعویٰ کرتا ہے، آزادی کی بات کرتا ہے، انسانی حقوق کا علم بردار بنتا ہے یا خود کو سیاسی اصولوں کا پابند قرار دیتا ہے۔ اصولوں کی اصل قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب انہیں اپنے مخالفین کے لیے بھی تسلیم کیا جائے۔ اگر کسی شخص کے مذہبی حلیے کی بنیاد پر اسے دہشت گرد قرار دینا غلط ہے تو یہ اصول ہر شخص پر لاگو ہونا چاہیے۔ اگر کسی عوامی تحریک کے مطالبات کا جائزہ لینا ضروری ہے تو یہی معیار ان سیاسی کرداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے جو اس تحریک کے خلاف الزامات عائد کرتے ہیں۔
اس تحریک کے دوران جانیں قربان کرنے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا حقیقی تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کے مطالبات، ان کے خاندانوں کے دکھ اور عوام کے بنیادی حقوق کے سوالات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، غیر ثابت شدہ الزامات یا مذہبی حلیوں کی بنیاد پر تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی واقعے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں، اگر کسی فرد پر جرم کا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق ثابت کیا جانا چاہیے اور اگر عوام کے مطالبات جائز ہیں تو ان کا حل مکالمے اور عملی اقدامات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وسائل، اپنے مستقبل اور اپنی حکمرانی کے بارے میں سوال اٹھائیں۔ ان کے مطالبات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے سیاسی طریقۂ کار پر بحث ہو سکتی ہے اور ان کی تحریک کے ہر پہلو کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی آواز کو محض الزامات کے ذریعے دبانے کی کوشش کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایک ذمہ دار سیاسی رویہ یہ ہے کہ عوام کے سوالات کا جواب دیا جائے، ان کے دکھوں کو سمجھا جائے اور ان کے حقوق کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کیا جائے۔
آخر میں سوال ان لوگوں سے بھی ہے جو خود کو آزادی پسند، سیاسی دانشور اور عوامی حقوق کا محافظ سمجھتے ہیں کہ کیا آپ کے نزدیک داڑھی رکھنا دہشت گردی ہے؟ کیا بڑھے ہوئے بال کسی جرم کا ثبوت ہیں؟ کیا اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا ریاست دشمنی ہے؟ اور کیا عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات عائد کرنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے؟
یاد رکھیے، داڑھی دہشت گردی کا ثبوت نہیں، بڑھے ہوئے بال کسی جرم کی دلیل نہیں اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کوئی دہشت گردانہ سرگرمی نہیں۔ کسی بھی فرد کے خلاف الزام کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے اور کسی بھی تحریک کے کردار کا فیصلہ اس کے مطالبات، عمل اور مستند حقائق کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
عوامی تحریکیں صرف نعروں سے نہیں، اپنے کردار، اپنے مطالبات اور اپنے طرزِ عمل سے پہچانی جاتی ہیں۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ایک اہم سوال عوام کے سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا عوام اپنی سیاسی سمت کا تعین خود کریں گے یا ان کے لیے فیصلے وہی لوگ کرتے رہیں گے جو کبھی آزادی کے نعرے لگاتے تھے اور آج عوام کے سوالات سے پریشان دکھائی دیتے ہیں؟
وقت کے ساتھ کرداروں کا جائزہ لیا جائے گا، دعوؤں کو پرکھا جائے گا اور الزامات کے مقابلے میں شواہد مانگے جائیں گے۔ عوام کی سیاسی بصیرت کا احترام اسی میں ہے کہ انہیں اپنے حقوق کے بارے میں سوال اٹھانے، اپنی رائے قائم کرنے اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق دیا جائے۔ یہی جمہوری اصول ہے، یہی انسانی حقوق کا تقاضا ہے اور یہی کسی بھی بامعنی عوامی تحریک کی بنیاد ہے۔

تبصرے (0)