قلم کو زنجیر پہنانے والو تاریخ کا فیصلہ سن لو لفظوں سے خوف کھانے والو سچ کی طاقت کو پہچان لو یہاں جو ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے اسے غدار کہا جاتا ہے جو حق کی بات زبان پر لائے اسے مجرم بنایا جاتا ہے مگر یاد رکھو ہر دور میں جبر ہارا ہے اور ہر دور میں سچ نے سر اٹھایا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جاری عوامی حقوق کی پرامن سیاسی جدوجہد آج ایک ایسے سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کو شہید جا رہا ہے اور مقدمات، گرفتاریوں پابندیوں اور فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سینکڑوں افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے جبکہ زمینی حقائق کی روشنی میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور انہیں بھی فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔
ہمارے دو صحافی عذرا عالم اور سردار اویس گرفتار ہیں۔ یہ صورت حال محض چند افراد کی گرفتاری یا انتظامی کارروائی کا معاملہ نہیں، بلکہ آزادی اظہار آزادی صحافت شہری حقوق اور قانون کے منصفانہ استعمال سے جڑے ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے جن کا جواب متعلقہ حکام کو دینا ہوگا جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ سستی بجلی، سستا آٹا معیاری تعلیم، بہتر علاج معالجے، صاف پانی اور خستہ حال سڑکوں کی تعمیر سمیت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ یہ وہ مطالبات ہیں جن کا تعلق براہ راست عام شہری کی زندگی اس کے معاشی حالات اور اس کے مستقبل سے ہے۔ اگر عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی شکایات سنے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے اور مذاکرات کے ذریعے صورت حال کو بہتر بنائے لیکن اگر ان مطالبات کے جواب میں شہریوں کو مشکوک قرار دیا جائے ان کی نقل و حرکت محدود کی جائے مقدمات قائم کیے جائیں اور ان کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر عوام اپنے حقوق کے لیے آواز کہاں بلند کریں ۔؟ کیا بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرنا جرم ہے ؟ کیا حکومت سے سوال کرنا بغاوت ہے ؟ کیا پرامن سیاسی جدوجہد میں شرکت کرنے والا ہر شخص کسی جرم کا مرتکب ہو جاتا ہے ؟
فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانونی نظام کے تحت بعض افراد پر مخصوص پابندیاں عائد کرنے کا ذریعہ ہے لیکن کسی بھی قانون کا استعمال انفرادی شواہد واضح قانونی بنیاد اور منصفانہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے اگر کسی شخص کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں تو اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے مگر محض سیاسی وابستگی پرامن احتجاج، حکومتی پالیسیوں پر تنقید یا عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو کسی فرد کے خلاف پابندیوں کی واحد بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے قانون کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے، ان کے جائز حقوق کو غیر ضروری طور پر محدود کرنا نہیں ہے اگر فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے سینکڑوں افراد کے خلاف ٹھوس قانونی بنیاد موجود ہے تو متعلقہ حکام کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے اور اگر کسی شخص کو غلط طور پر اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے تو اس کے معاملے کا فوری جائزہ لے کر ناجائز پابندیاں ختم کی جانی چاہییں۔ کسی شہری کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم تصور کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اس پوری صورت حال کا سب سے تشویش ناک پہلو صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں صحافت کا بنیادی فریضہ زمینی حقائق کو سامنے لانا، عوامی مسائل اجاگر کرنا حکومتی اقدامات پر سوال اٹھانا اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف عوام تک پہنچانا ہے صحافی نہ حکومت کا ذاتی ملازم ہوتا ہے اور نہ کسی ادارے کا ترجمان اس کی اصل ذمہ داری عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے اگر کسی علاقے میں کرفیو، لاک ڈاؤن، گرفتاریوں، احتجاجی مظاہروں یا شہریوں کو درپیش مشکلات کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو ان واقعات کی غیر جانب دارانہ رپورٹنگ صحافی کا پیشہ ورانہ فرض ہے۔ کسی رپورٹ سے حکام کو اختلاف ہو تو وہ شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف سامنے لائیں غلطی کی نشان دہی کریں یا قانون کے مطابق کارروائی کریں لیکن اگر زمینی حقائق بیان کرنے والے صحافیوں کو مقدمات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے آزادی صحافت کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا ہوتے ہیں اسلام آباد میں مقیم کشمیری صحافی عذرا عالم اور باغ کے غیور صحافی سردار اویس کی گرفتاریاں بھی اسی وسیع تر صورت حال میں توجہ طلب ہیں۔ ان کے خلاف الزامات کی نوعیت اور گرفتاری کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے انہیں وکیل تک رسائی، اپنے دفاع اور منصفانہ سماعت کا پورا حق ملنا چاہیے اور اگر ان کی گرفتاریوں کا تعلق محض صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ہم کسی شخص کو قانون سے بالاتر قرار دینے کے حامی نہیں ہیں لیکن قانون کے نام پر کسی کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی حمایت بھی نہیں کر سکتے ہیں صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ حقائق کی تصدیق کی جائے تمام فریقوں کا مؤقف لیا جائے اور کسی الزام کو عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ یہی اصول حکومتی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عوامی اعتماد طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور لوگوں کے مسائل حل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
کسی صحافی یا شہری کے خلاف کارروائی کرتے وقت اس کے پیشہ ورانہ کردار، دستیاب شواہد اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کرنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی مسائل محض انتظامی پابندیوں سے ختم نہیں ہوتے۔ اگر لوگوں کو مہنگی بجلی، مہنگے آٹے علاج معالجے کی مشکلات، تعلیمی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم دستیابی اور خستہ حال سڑکوں جیسے مسائل کا سامنا ہے تو ان کا حل عملی اقدامات میں ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک کے مطالبات کا جواب مذاکرات، دلیل اور عوامی فلاح کے اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔ اگر کسی احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کی انفرادی بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف شواہد کے مطابق کارروائی ہو لیکن پورے احتجاجی عمل سے وابستہ افراد کو اجتماعی طور پر مشکوک سمجھنا یا ان کی پرامن سیاسی سرگرمیوں کو بلاجواز محدود کرنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عوامی اعتماد طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور لوگوں کے مسائل حل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی آواز سننے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو بے اعتمادی بڑھتی ہے اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے مزید وسیع ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافِ رائے کے لیے جگہ پیدا کی جائے پرامن سیاسی سرگرمیوں کا احترام کیا جائے اور شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا مؤثر موقع دیا جائے۔
بحیثیت صحافی میرا سوال یہ ہے کہ اگر عوامی حقوق کی پرامن تحریک میں شریک ہونے والے سینکڑوں افراد فورتھ شیڈول میں شامل کیے جا رہے ہیں اگر زمینی حقائق رپورٹ کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم ہو رہے ہیں اور اگر عذرا عالم اور سردار اویس جیسے صحافی گرفتار ہیں تو پھر آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا ؟ کیا صحافی صرف وہی لکھیں جو حکام کو پسند ہو ؟ کیا انہیں عوامی مشکلات بیان کرنے سے پہلے کسی کی اجازت درکار ہوگی ؟ کیا صحافت کا معیار یہ ہوگا کہ طاقتور حلقوں کے مؤقف کو تو جگہ دی جائے لیکن عوام کے دکھ محرومیاں اور شکایات بیان کرنے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے ؟ اگر ایسا ہے تو یہ صورت حال کسی ایک صحافی یا ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی انسانی حقوق کے اصول پرامن اجتماع، آزادی اظہار اور منصفانہ سماعت کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان حقوق پر پابندی کے لیے واضح قانونی جواز ضرورت اور تناسب کا معیار اہم ہے۔ اسی لیے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک سے وابستہ افراد اور صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے معاملات کی شفاف جانچ گرفتار صحافیوں کے قانونی حقوق کا تحفظ اور مقدمات کی منصفانہ کارروائی یقینی بنائیں اگر کسی شخص کے خلاف شواہد موجود نہیں تو اسے محض اختلافِ رائے یا صحافتی ذمہ داری کی ادائیگی کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ صحافی کا قلم کسی حکومت کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ عوامی حقوق کا مطالبہ جرم نہیں، پرامن احتجاج دہشت گردی کا مترادف نہیں اور حکمرانوں سے سوال کرنا کسی شہری کی غداری نہیں ہے قانون کی بالادستی اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، جب ملزم کو صفائی کا موقع ملے اور جب ریاستی اختیار کو ذاتی یا سیاسی اختلافات کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اگر حکام اپنے اقدامات کو درست سمجھتے ہیں تو انہیں شفافیت سے کام لینا چاہیے، الزامات اور شواہد سامنے لانے چاہیں اور آزادانہ قانونی جانچ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
عذرا عالم اور سردار اویس سمیت گرفتار صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد کے معاملات کا جائزہ اور پرامن سیاسی جدوجہد کے لیے جمہوری گنجائش پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم نہ قانون شکنی کی حمایت کرتے ہیں، نہ تشدد کی اور نہ کسی کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قانون کو انتقام کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اختلافِ رائے کو جرم نہ سمجھا جائے اور صحافت کو اپنے فرائض آزادانہ طور پر ادا کرنے دیے جائیں۔ آخر میں ان تمام قوتوں کے نام جو قلم کی آواز سے خوف زدہ ہیں، چند اشعار پیش ہیں۔
قلم کو قید کرو گے تو خیال کیا ہوگا؟ ہر ایک لب کو سیو گے تو سوال کیا ہوگا ؟ جو حق کی بات کرے، اس کو مجرم نہ بناؤ، جو آئینہ دکھائے، اسے دشمن نہ بناؤ۔ یاد رکھیے، کسی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں درج کیا جا سکتا ہے، اس کی نقل و حرکت محدود کی جا سکتی ہے اور صحافی کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن حقائق سے جنم لینے والے سوالات کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا ہے عوامی حقوق کی آواز کو دبانے کے بجائے ان محرومیوں کا ازالہ کیا جائے جو لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتی ہیں، کیونکہ خوف سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، انصاف نہیں، اور جبر سے وقتی سکوت تو حاصل کیا جا سکتا ہے، پائیدار امن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ایوان بدلتے رہتے ہیں، حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، مگر عوامی حقوق، آزادی اظہار اور سچائی کے لیے اٹھنے والی آوازیں تاریخ کے صفحات پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ اب فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے کہ وہ عوامی مسائل حل کرکے اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں یا پابندیوں اور گرفتاریوں کے ذریعے اختلافی آوازوں کو مزید بلند کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

تبصرے (0)