آزاد کشمیر عوامی حقوق تحریک: طبقاتی تبدیلی، حکمرانی کا بحران اور نئی عوامی سیاست
تحریر: شمس رحمان، مانچسٹر/میرپور
تجزیاتی فیچر
آزاد جموں کشمیر میں ابھرنے والی عوامی حقوق کی موجودہ تحریک 2022/23 میں آٹے، بجلی اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے مطالبات سے شروع ہوئی تھی ۔ اشرافیہ کی مراعات کے سواء باقی کے دونوں مطالبات مئی 2024 میں ہونے والے پہلے لانگ مارچ کے دوران مان لیے گئے تھے۔ تین شہریوں اور ایک پولیس والے کی زندگیوں اور درجوں لوگوں کے زخموں کی قیمت پر۔بعد ازاں اس میں انتظامی، سروسوں سے متعلق اور حکومتی جوابدہی سے متعلق مطالبات بھی شامل کر کے اڑتیس مطالبات پر مشتمل ایک باقاعدہ ' چارٹر آف ڈیمانڈز' پیش کیا گیا۔
یہ تحریک جو اپنے تیسرے لانگ مارچ تک جو کہ 09 جون 2026 کو شروع ہوا تھا اور ابھی تک بھی ' جاری' ہے میں مختلف مقامی ذرائع کے مطابق ایک سو کے قریب افراد کی جان جا چکی ہے ، سینکڑوں زخمی اور ان گنت قید و بند برداشت کر رہے ہیں۔ اس تحریک کو ایمانداری سے سمجھنے کے لیے کچھ بنیادی سوالات کے گرداس قدرے طویل مضمون میں میرے کتابچے ' آزاد جموں کشمیر میں حقوق کی تحریک: سیاسی و طبقاتی تناظر' کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
کیا یہ تحریک محض وقتی غصے، چند رہنماؤں کی مقبولیت یا کسی سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے؟
اس کتابچے میں آزاد کشمیر کے سماجی، معاشی اور طبقاتی پس منظر اور تناظر کی وضاحت کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہ تحریک مختلف معاشی و سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا اظہار ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے آزاد کشمیر کے اندر خاموشی سے پک رہی تھی، مگر جسے روایتی اقتداری سیاست، نظریاتی نعروں اور حکومتی سرپرستی میں چلنے والے مفاداتی نظام نے مسلسل نظر انداز کیا ہوا تھا ۔
“آزاد جموں کشمیر عوامی حقوق تحریک: طبقاتی و سیاسی تناظر اور مستقبل کے راستے” کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اس تحریک کو کسی ایک نظریاتی خانہ بندی میں بند کرنے کے بجائے آزاد کشمیر کے بدلتے ہوئے طبقاتی ڈھانچے، معیشت، حکمرانی اور عوامی شعور کے پس منظر میں سمجھا جائے۔
تو لیجیے تبصرہ حاضر ہے ۔۔۔
مصنف آغاز ہی میں واضح کرتے ہیں کہ یہ تحریر ان نظریاتی دوستوں کے لیے لکھی گئی ہے جو تحریک سے وابستہ بھی ہیں مگر اس بات پر الجھن یا ناراضی بھی رکھتے ہیں کہ تحریک ان کے پسندیدہ نظریاتی رنگ میں کیوں نہیں ڈھلی۔ مصنف کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا طبقاتی ڈھانچہ پیدائش کے وقت کیا تھا، اب کیا ہے، اور اسی بنیاد پر سیاسی نظریات اور عوامی حقوق تحریک کو مقامی حالات میں کیسے پرکھا جا سکتا ہے؟
زرعی سماج سے پیسے کی معیشت تک
کتابچے کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ تحریک کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس خطے کی مادی بنیاد کو سمجھنا ہوگا۔ 1947 میں آزاد کشمیر کی پیدائش کے وقت یہ خطہ بنیادی طور پر زرعی سماج تھا۔ پیداوار کا بڑا ذریعہ زمین تھی، اور زمین سے حاصل ہونے والی خوراک، اناج، مال مویشی، پھل، جڑی بوٹیاں اور دیگر اشیا ہی زندگی اور تبادلے کی بنیاد تھیں۔ مصنف کے مطابق طبقاتی بنتر کی بنیاد اسی کاشتکار معیشت پر قائم تھی، جس میں زمین کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
لیکن یہ سماج سادہ جاگیردارانہ سماج نہیں تھا۔ مصنف کے مطابق زمین داروں کی اکثریت خود بھی پیداواری عمل میں شریک تھی۔ یعنی وہ بیک وقت زمیندار بھی تھے اور کسان بھی۔ غیر زمیندار طبقات مختلف ہنر، خدمات اور پیشوں کے ذریعے اس زرعی معیشت سے جڑے ہوئے تھے۔ اس لیے یہاں طبقاتی تضاد کلاسیکی سرمایہ دار اور مزدور یا جاگیردار اور مزارعے جیسا شدید نہیں تھا۔ مصنف اس سماجی ڈھانچے کو بنیادی طور پر قبائلی ڈھانچہ قرار دیتے ہیں جس میں خون کے رشتوں، برادری اور مقامی تعلقات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
یہ صورت حال 1947 کے بعد بتدریج بدلنے لگی۔ مہاراجہ کا براہ راست راج تو ختم ہوا، مگر وہ پیداواری اور انتظامی ستون باقی رہے جن پر پرانا نظام کھڑا تھا۔ مختلف قبائل کے سردار، راجے، چوہدری، ملک، زیلدار، افسر اور نئے سیاسی چہرے مقامی اقتدار کے ڈھانچے کا حصہ بن گئے۔ مصنف کے مطابق مہاراجہ والی اصل حیثیت مقامی لوگوں کو منتقل نہیں ہوئی بلکہ معاہدہ کراچی اور وزارت امور کشمیر کے ذریعے پاکستان کے حکمران طبقے کو منتقل ہو گئی۔ اسی پس منظر میں تین بڑی مادی تبدیلیوں نے آزاد کشمیر کے قدیم سماجی ڈھانچے کو بدلنا شروع کیا: برطانیہ ہجرت، سرکاری ملازمتوں میں اضافہ، اور ان دونوں کے نتیجے میں تجارت و کاروبار کا فروغ۔
سرکاری ملازمت، ہجرت اور تجارت: نئے طبقاتی ڈھانچے کی بنیاد
مصنف کے مطابق 1947 کے بعد آزاد کشمیر کے معاشی ڈھانچے میں تین اہم تبدیلیاں آئیں: سرکاری ملازمتیں، برطانیہ ہجرت، اور تجارت۔ یہ تینوں چیزیں پہلے بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں، مگر 1947 کے بعد ان کا حجم، طاقت اور سماجی اثر کہیں زیادہ بڑھ گیا۔
مہاراجہ راج کے خاتمے کے بعد سرکاری ملازمتوں میں مقامی مسلمانوں کا حصہ بڑھا۔ اس سے ایک تنخواہ دار طبقہ پیدا ہوا۔ ہر ملازمت کے ساتھ کچھ نہ کچھ اختیار وابستہ تھا، اس لیے سرکاری ملازمین کا سماجی اثر بھی بڑھا۔ تاہم مصنف کے مطابق 1960 کی دہائی تک یہ تبدیلی معاشرے کی جڑ بنیاد نہیں بدل سکی، کیونکہ پیداوار کا بڑا ذریعہ اب بھی زمین اور کاشتکاری تھی۔ پھر بھی سرکاری ملازمتوں نے تعلیم کے رجحان کو بڑھایا اور ایک مقامی حکمران طبقے کی تشکیل کا پہلا مرحلہ شروع کیا۔
دوسری بڑی تبدیلی برطانیہ ہجرت تھی۔ اگرچہ میرپور سے برطانیہ ہجرت کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہو چکا تھا، لیکن 1950 کی دہائی میں اس میں تیزی آئی۔ اس کی ایک وجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ میں مزدوروں کی ضرورت تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے برطانیہ میں موجود میرپوری مزدوروں نے اپنے رشتہ داروں، محلے داروں اور واقف کاروں کو بلانا شروع کیا۔ منگلا ڈیم کی تعمیر نے بعد میں میرپور شہر اور اس کے گرد و نواح سے برطانیہ ہجرت کو مزید تیز کیا۔
برطانیہ ہجرت کے نتیجے میں 1970 کی دہائی کے آخر سے میرپور کا معاشی ڈھانچہ تیزی سے بدلنے لگا۔ کاشتکاری سکڑنے لگی، اناج کی جگہ نقدی نے لے لی، اور برطانیہ سے آنے والا پیسہ زندگی کا مرکزی ذریعہ بننے لگا۔ اسی کے ساتھ سرکاری ملازمین، سیاستدانوں اور درمیانی کرداروں کا ایک ایسا تکونی اتحاد بنا جس نے جائز اور ناجائز کاموں، رشوت، سفارش اور تعلقات کے ذریعے پیسے تک رسائی کا نیا نظام پیدا کیا۔ مصنف اسے مقامی حکمران طبقے کی تشکیل کا دوسرا مرحلہ قرار دیتے ہیں۔
تیسری تبدیلی تجارت تھی۔ منگلا ڈیم کے بعد پرانا میرپور ڈوب گیا، نئے شہر نے جڑیں پکڑیں، اور رفتہ رفتہ آزاد کشمیر پاکستان سے آنے والے مال کی منڈی بنتا گیا۔ 1990 کی دہائی اور خاص طور پر 2000 کے بعد تعمیراتی سامان، کپڑوں، آرائش، نجی تعلیم، صحت اور مختلف کاروباروں کا پھیلاؤ ہوا۔ پونچھ اور مظفرآباد میں بھی بیرون ملک ہجرت اور ملازمتوں کی آمدنی سے بازار بڑھے۔ یوں پورا آزاد کشمیر پاکستانی مصنوعات کے لیے ایک پرکشش منڈی بن گیا۔ اس عمل سے تاجر طبقے کی بالائی پرت بھی مقامی اوپرلے طبقے کا حصہ بن گئی۔
مصنف کے مطابق آج آزاد کشمیر کا اوپرلا طبقہ چار حصوں سے مل کر بنا ہے: اعلیٰ سرکاری ملازمین، سیاسی خاندان، تاجر طبقے کی بالائی پرت، اور تارکین وطن کے وہ حلقے جنہوں نے بیرون ملک کاروبار یا سیاسی تعلقات کے ذریعے دولت کمائی اور اب وہاں اور یہاں دونوں جگہ اثر رکھتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی نئی پیداوار: پیسہ
کتابچے کا سب سے اہم تصور یہ ہے کہ آج آزاد کشمیر کی مرکزی پیداوار اناج نہیں بلکہ پیسہ ہے۔ مصنف کے مطابق آزاد کشمیر میں پیسے کی پیداوار کے تین بڑے ذرائع ہیں: سرکاری ملازمتیں، تارکین وطن کی طرف سے بھیجا جانے والا پیسہ، اور تجارت و کاروبار۔
بجٹ کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ سرکاری ملازمین تنخواہوں کے ذریعے پیسے تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اور یہ رقم آزاد کشمیر کے سالانہ بجٹ سے آتی ہے۔ اس بجٹ کے بارے میں وہ واضح کرتے ہیں کہ اسے خیرات یا امداد سمجھنا غلط ہے؛ یہ آزاد کشمیر کے ٹیکسوں، پانی، جنگلات، معدنیات اور تارکین وطن کے زر مبادلہ سمیت مختلف وسائل کے بدلے ملتا ہے۔ اس بجٹ کا مقصد عوام کو صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور خدمات فراہم کرنا ہونا چاہیے، مگر اگر حکومتی اور انتظامی ڈھانچہ درست نہ چلے تو عوام کو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے۔
تارکین وطن کا پیسہ بھی آزاد کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے۔ یہ رقم بظاہر خاندانوں کو بھیجی جاتی ہے، مگر اس سے پورا معاشرہ، آزاد کشمیر حکومت اور پاکستان مستفید ہوتے ہیں۔ یہ زر مبادلہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔ مصنف کے مطابق ایکشن کمیٹی کا جموں کشمیر بینک کو شیڈول بینک کا درجہ دینے کا مطالبہ اسی زر مبادلہ میں آزاد کشمیر کو حصہ دار بنانے کی کوشش ہے۔
اسی تجزیے کی بنیاد پر مصنف آزاد کشمیر کو ایک “سوداگری” یا کاروباری معاشرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاشرے میں پیسے تک رسائی کے لیے سودا بازی بنیادی مہارت بن چکی ہے۔ یہ سودا بازی صرف زمین، خوراک، لباس یا کاروبار تک محدود نہیں، بلکہ تعلیمی داخلوں، سرکاری تقرریوں، تبادلوں، ترقیوں، سیاست اور اقتدار تک پھیلی ہوئی ہے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پیسہ اتنی مقدار میں موجود ہے کہ اس کے ذریعے ریاستی اداروں، نجی کاروبار، عوامی خدمات، سیاحت، قدرتی وسائل اور ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے معاشرے کو جدید راستے پر ڈالا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے سیاسی اور حکومتی اداروں کو فرسودگی سے نکالنا لازمی ہے۔
حکمرانی کا بحران: رعایا سے شہری نہ بننے تک
کتابچے میں آزاد کشمیر کی حکومت کے ارتقاء پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق معاہدہ کراچی کے بعد آزاد کشمیر حکومت اندرونی انتظام و انصرام تک محدود ہو گئی، مگر اس نے مقامی سطح پر بااختیار، باوقار اور عوام دوست نظام بنانے کے بجائے پاکستان، اسلام اور بلند نظریاتی نعروں کے ذریعے اپنی سیاسی آجارہ داری قائم کی۔ عملی طور پر حکومت اور انتظامیہ نے برادری وابستگیوں کو بنیاد بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ جائز اور ناجائز ذرائع سے پیسہ کمانے اور عام آدمی کو محتاج رکھنے کے فلسفے کے گرد ارتقاء پذیر ہوا۔
مصنف کا ایک سخت مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ عوام 1947 کے بعد بھی شہری نہ بن سکے، بلکہ رعایا ہی رہے۔ بنیادی حقوق، سہولتیں اور مواقع عوام کا حق بننے کے بجائے حکمرانوں کا احسان بن گئے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات پر عوام دور دراز دیہات سے بڑے شہروں تک کھڑے ہو گئے۔
نظریاتی سیاست کی حدیں اور عوامی سیاست کا ابھار
کتابچہ آزاد کشمیر کی متبادل سیاست، قوم پرست سیاست، ترقی پسند تحریکوں، لبریشن فرنٹ، این ایس ایف، پی این پی، یو کے پی این پی، مذہبی جماعتوں اور اقتداری جماعتوں پر بھی تنقیدی نظر ڈالتا ہے۔ مصنف ان سب کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ زیادہ تر نظریاتی سیاست عوامی زندگی کے اصل مسائل سے کٹتی گئی۔
مصنف کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا طبقاتی ڈھانچہ پیدائش کے وقت کیا تھا، اب کیا ہے، اور اسی بنیاد پر سیاسی نظریات اور عوامی حقوق تحریک کو مقامی حالات میں کیسے پرکھا جا سکتا ہے؟
مصنف کے مطابق 1970 کی دہائی تک محاذ رائے شماری، نیشنل لبریشن فرنٹ، مقبول بٹ شہید، این ایس ایف اور دیگر حلقوں کے ذریعے مسلم کانفرنس کے بیانیے کے خلاف ایک مضبوط متبادل سیاست پیدا ہو چکی تھی، مگر اس کی توجہ زیادہ تر رائے شماری، خودمختاری، سوشلزم اور نظریاتی تبلیغ پر رہی۔ مقبول بٹ نے غربت، استحصال، فرسودگی اور اقربا پروری کی زنجیروں کی نشاندہی کی، مگر مجموعی طور پر متبادل سیاست نظریاتی سیاست بن کر رہ گئی۔
مصنف کے مطابق آزاد کشمیر میں متبادل سیاست نے نوجوان نسل کے نظریاتی شعور میں بڑا اضافہ کیا، مگر اس کا مسئلہ یہ رہا کہ اس شعور نے اکثر مقامی مادی حالات کو سمجھنے کے بجائے بڑے عالمی نظریات کو مرکز بنا لیا۔ عوام کے روزمرہ مسائل، بدعنوانی، تذلیل، جبر اور محرومی کے ساتھ بیٹھ کر حل تلاش کرنے کے بجائے انہیں مارکس، خودمختاری یا انقلاب پڑھانے کو جدوجہد کا مرکز بنایا گیا۔
یہی وہ خلا تھا جہاں عوامی حقوق تحریک نے جگہ بنائی۔ مصنف کے مطابق عمر نذیر، سردار قدیر اور دیگر کے دھرنوں سے پہلے بھی ترقی پسند اور قوم پرست حلقے عوامی مسائل پر آواز اٹھاتے رہے، مگر چونکہ ان کا اصل مقصد خودمختاری یا انقلاب کی سیاست کو مضبوط کرنا ہوتا تھا، اس لیے عام عوام اس طرح نہ جڑ سکے جیسے وہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ جڑ گئے۔
عوامی ایکشن کمیٹی: غیر سیاسی یا نئی سیاست؟
کتابچے کا ایک اہم حصہ اس سوال پر ہے کہ کیا عوامی ایکشن کمیٹی واقعی غیر سیاسی اور غیر نظریاتی تحریک ہے؟ مصنف کے مطابق ایکشن کمیٹی کوئی جماعتی پلیٹ فارم نہیں بلکہ کثیر الجماعتی فورم ہے۔ اس میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے فعال، کم فعال یا غیر فعال کارکنان موجود ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک نظریاتی جماعت نہیں، مگر کثیر النظریاتی پلیٹ فارم ضرور ہے۔
مصنف کے مطابق یہ تحریک غیر سیاسی صرف اس معنی میں ہے کہ اس میں کسی ایک جماعت یا نظریے کی سیاست نہیں کی جاتی۔ مگر سیاست کے اصل معنی میں یہ مکمل سیاسی تحریک ہے۔ اس کی سیاست بنیادی طور پر عوامی سیاست ہے: یہ عوام کو سیاسی لائن نہیں دے رہی بلکہ عوام سے سیاسی لائن لے رہی ہے۔ اس کی بنیاد عوامی حقوق کا حصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس کے ساتھ جڑ گئے اور یہ آزاد کشمیر کی اصل اور متبادل سیاست بن گئی۔
چارٹر آف ڈیمانڈ: روزمرہ زندگی کا منشور
مصنف کے مطابق ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا ارتقاء دیکھیں تو بارہ نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ تمام مطالبات عوامی حقوق سے متعلق ہیں۔ ابتدائی مطالبات میں بجلی اور آٹے کی سستی فراہمی براہ راست روزمرہ زندگی سے جڑی تھی، جبکہ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ عوام اور حکمران طبقے کے درمیان طبقاتی فرق سے متعلق تھا۔ بعد میں شامل ہونے والے مطالبات بھی صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی، میرٹ، احتساب اور بنیادی سہولیات سے متعلق تھے، جو حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں میں آتے ہیں۔
مصنف کے مطابق ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں کوئی ایک بھی آئین اور قانون کے خلاف نہیں، مگر آزاد کشمیر کے حکمران شروع دن سے اس تحریک کو پاکستان مخالف اور بھارت کے مفاد میں قرار دیتے رہے۔ مصنف اسے ایک پرانی حکومتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے مزاحمتی سیاست کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف بغاوت بتایا گیا۔
اسی مقام پر مصنف ایک اہم فرق واضح کرتے ہیں: عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اس وقت ابھری جب عوام کے اصل حقوق کو نظریات کے چنگل سے نکال کر عملی مطالبات میں بدل دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران اسے بھارت کا ایجنٹ کہتے ہیں، کچھ نظریاتی حلقے اسے پاکستان کا سہولت کار کہتے ہیں، مگر عوام کی بڑی تعداد اسے اپنے حقوق کی آواز سمجھتی ہے۔
تحریک کا آغاز اور پھیلاؤ
کتابچے کے مطابق موجودہ عوامی حقوق تحریک کا آغاز مئی 2023 میں راولاکوٹ کے آٹا سپلائی ڈپو کے باہر ہوا۔ عمر نذیر کے بقول ابتدائی مسئلہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور پرانے آٹے کو نئی قیمت پر بیچنے کی ضد سے پیدا ہوا۔ شروع میں چند دکاندار اس احتجاج کا حصہ بنے، مگر جلد ہی بجلی بلوں میں ناجائز ٹیکسوں اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے مطالبات بھی شامل ہو گئے۔ پھر یہ دھرنا تحریک بن کر پونچھ اور میرپور ڈویژن کے دیگر شہروں تک پھیل گیا، اور بجلی بلوں کے بائیکاٹ کے بعد مظفرآباد ڈویژن میں بھی عام آدمی کی تحریک بن گیا۔
16 اور 17 ستمبر 2023 کو مظفرآباد میں گرینڈ مشاورتی اجلاس میں مختلف علاقوں کی عوامی ایکشن کمیٹیوں کو یکجا کر کے “جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کا نام دیا گیا اور ہر ضلع سے تین نمائندوں پر مشتمل کور کمیٹی پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات، مطالبات کی منظوری، عمل درآمد میں ناکامی، صدارتی آرڈیننس، دوبارہ احتجاج، مہلتیں، ہڑتالیں اور لانگ مارچ اس تحریک کے ارتقاء کے مراحل بنے۔
معاہدہ، کامیابیاں اور الجھنیں
کتابچے میں 3 اکتوبر کے معاہدے پر بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں پاکستان حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے شامل تھے۔ معاہدے میں چارٹر آف ڈیمانڈ، اضافی نکات، مارچ کے دوران تشدد، ہلاکتوں، زخمیوں، امداد، ملازمتوں اور دیگر معاملات پر فیصلے شامل تھے۔
معاہدے میں اضافی تعلیمی بورڈز، منگلا ڈیم متاثرین، بلدیاتی نمائندوں سے متعلق عدالتی فیصلے، صحت کارڈ، ضلعی اسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشینوں، بجلی نظام کی بہتری، وزرا اور سیکرٹریوں کی تعداد میں کمی، احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کے ادغام، ٹنلوں کی تعمیر اور آئینی و قانونی ماہرین کی کمیٹی جیسے نکات شامل تھے۔ اس کے علاوہ میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ، زمینوں کے تبادلوں پر ٹیکس، پانی کی سکیمیں، اسپتالوں میں آپریشن تھیٹر، نرسریاں، پل، ایڈوانس ٹیکس، اوپن میرٹ اور گرفتاریوں کی رہائی جیسے مطالبات بھی معاہدے کا حصہ بنے۔
مصنف کے مطابق ان مطالبات میں، مراعات اور مہاجرین نشستوں کے سوا، تقریباً سب مطالبات وہی ہیں جو کسی بھی منتخب حکومت کے بنیادی فرائض اور عوام کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتے ہیں: صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی اور وسائل کے مطابق سہولیات۔
ہڑتال، ابلاغ بندی اور عوامی اعتماد
کتابچے کا ذاتی اور صحافتی طور پر سب سے مؤثر حصہ وہ ہے جہاں مصنف 29 ستمبر 2025 کی ہڑتال، ابلاغ بندی اور عوامی ردعمل کا مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور فون بند کر دیے گئے، افواہوں نے جگہ لی، پاکستانی میڈیا پر یک طرفہ خبریں چلیں، مگر مقامی سطح پر لوگوں نے اسے ناکامی کے بجائے ایک بڑی عوامی بیداری کے طور پر دیکھا۔ مصنف کے مطابق ان کے اپنے قصبے کالگڑھ، اسلام گڑھ میں بازار بند تھے، مگر خوف یا افراتفری نہیں تھی۔ لوگ بیٹھے تھے، تقریریں ہو رہی تھیں، اور مختلف جماعتوں کے مقامی لوگ اپنی جماعتوں کی حکومتوں کے خلاف اور عوامی حقوق تحریک کے حق میں بول رہے تھے۔
مصنف کے مطابق عوام کا حکومت پر اعتماد ختم ہو چکا تھا۔ 36 مطالبات ماننے کی زبانی باتوں کے باوجود لوگ اس لیے باہر نکلے کہ حکومت پر یقین نہیں رہا تھا۔ اس بار گاؤں گاؤں ایکشن کمیٹیاں بن چکی تھیں، قیادت پر اعتماد تھا، اور “بالکل عام آدمی” تک اس تحریک کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
نئی عوامی قوت: تاجر، نوجوان اور محروم طبقات
کتابچے کے آخری حصے میں مصنف ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہیں: آزاد کشمیر میں نئی سیاسی قوت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ قوت ان شہریوں پر مشتمل ہے جنہیں 1947 کے بعد سے حکومتی اور انتظامی نظام سے باہر رکھا گیا۔ اس نئی قوت کا مرکزہ تاجر اور دکاندار ہیں، جنہوں نے اس تحریک میں ثابت کیا کہ وہ حکمران طبقے کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مصنف اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ تاجر لازماً عوامی تحریک سے غداری کریں گے۔ آزاد کشمیر کے مخصوص معاشی ڈھانچے میں تاجر طبقہ وہ قوت بن کر ابھرا ہے جو معیشت کو روکنے، بازار بند کرنے اور عوامی مطالبات کو اجتماعی طاقت دینے کی سکت رکھتا ہے۔
مصنف کے مطابق اس “تاجر کمیٹی” نے جو مطالبات پیش کیے وہ صرف تاجروں کے مفاد میں نہیں بلکہ تمام عوامی طبقات کے لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک ایک وسیع عوامی قوت بن چکی ہے جس میں معاشرے کے مختلف معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی حلقوں کی نمائندگی موجود ہے۔ اگر اسے مثبت، صحت مند اور تعمیری انداز میں آگے بڑھایا گیا تو آزاد کشمیر میں ایک پرامن سماجی انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہے۔
خطرات: جذباتی بے صبری، ریاستی جبر اور قیادت کا امتحان
مصنف واضح کرتے ہیں کہ اس تحریک کے سامنے خطرات بھی کم نہیں۔ اگر اسے انقلابی، قوم پرستانہ یا کسی جذباتی نظریاتی بے صبری کی طرف دھکیلا گیا تو خطرہ ہے کہ وہی کچھ ہو جو وادی کشمیر میں 1987 کے بعد ہوا۔ اسی طرح اگر ریاست پرامن تحریکوں کے ساتھ جبر کا راستہ اختیار کرتی رہی تو لوگوں کے پاس امن کا راستہ نہیں بچے گا۔ مصنف کمیٹی کی قیادت کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر عوام کی مشاورت کے بغیر اوپر اوپر فیصلے کیے گئے تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
اس کے ساتھ مصنف ایکشن کمیٹی کے نظم و ضبط کو اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحریک شروع دن سے پرامن رہی ہے۔ جب بھی مطالبات مانے گئے، کمیٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور عوام نے امن و امان بحال کیا۔ تازہ لانگ مارچ کے بعد بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کے باوجود معاہدہ ہونے پر قافلے گھروں کو لوٹ گئے اور راستے میں قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مصنف کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایکشن کمیٹی قانون شکن یا تشدد پسند قوت نہیں بلکہ ایک منظم عوامی قوت ہے۔
آگے کا راستہ: تحریک، تنظیم یا سیاسی جماعت؟
کتابچے کے اختتام پر سب سے اہم سوال یہ رکھا گیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے اور ان پر عمل درآمد کے بعد ایکشن کمیٹی کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟ مصنف کے مطابق کمیٹی کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنا کام مکمل سمجھ کر خاتمے کا اعلان کر دے۔ دوسرا یہ کہ وہ آزاد کشمیر میں عوامی ترقی، فلاح و بہبود اور بہتر نظام کے منشور کے ساتھ سیاسی عمل میں داخل ہو۔ مصنف کے خیال میں اگلے انتخابات تک ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بننا شاید ممکن نہ ہو، مگر ایکشن کمیٹی کی حمایت سے ہر حلقے میں ایک امیدوار سامنے آ سکتا ہے۔ بعد میں کمیٹی کو جمہوری انداز میں منظم ہو کر باقاعدہ سیاسی جماعت بننا چاہیے۔
مصنف کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام، خاص طور پر نوجوان، ایک نیا عوام دوست، ترقی کار اور فلاحی آزاد کشمیر بنانے کے لیے تیار ہیں۔ وسائل، علم، ہنر اور انسانی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اصل سوال ان سب کو منظم کرنے کا ہے۔ اگر یہ عمل سنجیدگی سے آگے بڑھا تو ایک ایسی عوامی جماعت بن سکتی ہے جو نہ صرف موجودہ سیاسی و انتظامی ذمہ داران کو جوابدہ بنائے بلکہ آزاد کشمیر میں ایک حقیقی متبادل سیاسی و انتظامی نظام کی تعمیر اور پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد کے معاملات کی قیادت بھی کر سکے۔
نتیجہ
یہ کتابچہ آزاد کشمیر کی عوامی حقوق تحریک کو وقتی احتجاج کے بجائے ایک تاریخی موڑ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے مطابق آزاد کشمیر کا سماج زرعی بنیاد سے پیسے، ملازمت، ہجرت اور تجارت کی معیشت تک آ چکا ہے، مگر اس کی حکمرانی اب بھی پرانے برادری، مراعات، وفاداری، تابعداری اور اوپر سے کنٹرول والے ڈھانچے میں پھنسی ہوئی ہے۔ یہی تضاد اب عوامی تحریک کی صورت میں پھٹ پڑا ہے۔
یہ تحریک نہ صرف بجلی، آٹے، صحت، تعلیم اور مراعات کا سوال اٹھا رہی ہے بلکہ اس سے بھی بڑا سوال سامنے لا رہی ہے: کیا آزاد کشمیر کے لوگ رعایا رہیں گے یا شہری بنیں گے؟ کیا حکومت عوام کو سہولتیں احسان کے طور پر دے گی یا حقوق کے طور پر؟ کیا سیاست برادری، نظریاتی نعروں اور اقتدار کے گرد گھومتی رہے گی یا روزمرہ زندگی کے حقیقی مسائل سے جنم لینے والی عوامی سیاست بنے گی؟
کتابچے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ تحریک کو نہ رومانوی بناتا ہے نہ اسے رد کرتا ہے۔ یہ اس کے امکانات بھی دکھاتا ہے اور خطرات بھی۔ اس کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس دروازے سے عوامی فلاح، جمہوری جوابدہی اور پرامن سماجی تبدیلی کا راستہ نکلتا ہے یا اسے بھی پرانے نظام، جذباتی بے صبری، ریاستی جبر اور مفاداتی سیاست کے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
فی الحال اتنا واضح ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی حقوق تحریک نے خطے کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ اس نے عام آدمی کو بتایا ہے کہ وہ صرف ووٹر نہیں، شہری بھی ہے؛ صرف رعایا نہیں، حق دار بھی ہے؛ اور اگر وہ منظم ہو جائے تو وہ اپنے حقوق کے لیے پورے حکمرانی ڈھانچے کو جوابدہ بنا سکتا ہے۔

تبصرے (0)