مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں متوازی امن کمیٹیاں: خطرے کی گھنٹیاں کیوں؟

پاکستانی کشمیر میں عوامی آواز دبانے کیلئے متوازی امن کمیٹیاں بنانا تشویشناک ہے۔ ماضی میں یہ تجربات لاقانونیت کا سبب بنے۔ کیا تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے؟

خلاصہ

پاکستانی کشمیر میں عوامی آواز دبانے کیلئے متوازی امن کمیٹیاں بنانا تشویشناک ہے۔ ماضی میں یہ تجربات لاقانونیت کا سبب بنے۔ کیا تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے؟

Summary in English

The establishment of parallel peace committees in Pakistan-administered Kashmir has sparked fresh concerns. Is this an attempt to suppress public rights, as in the past? Read the detailed report.

پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں متوازی امن کمیٹیاں: خطرے کی گھنٹیاں کیوں؟

امن کمیٹی" یا "امن" کا نام آتے ہی کسی شورش زدہ یا دہشت گردی سے متاثرہ خطے کے بارے میں پہلا فطری احساس خوشگواری کا ہونا چاہیے؛ کیونکہ دہشت، جنگ اور بربریت کے دور میں امن کے نام لیوا سرد ہوا کے جھونکے کی مانند ہوتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب روایتی سرحدوں پر تناؤ بڑھتا ہے یا دو روایتی حریف ایک دوسرے کے خلاف خون آشام بیانات داغ رہے ہوتے ہیں، تو ایسے میں مٹھی بھر امن پسند لوگ کانٹوں کے بن میں نرم پھولوں کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔

لیکن، جب سرحدوں کے اندر سماجی اور عوامی حقوق کی آوازیں ایک طاقتور پریشر گروپ بن جائیں اور عوام عمرانی معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے، آئین نامی مقدس کتاب میں طے شدہ حقوق کا تقاضا چوکوں اور چوراہوں پر شروع کر دیں، تو مسلط شدہ حکمران اشرافیہ اسے شرپسندی، بغاوت یا وطن دشمنی کا نام دینے لگتی ہے۔ ایسے میں جب ان تحریکوں کو دبانے کے لیے "امن کمیٹی" نامی متوازی ڈھانچے کھڑے کیے جانے لگیں، تو سماجی اور شہری حقوق کی قیادت کا ماتھا ضرور ٹھنکنا چاہیے۔

پاکستان میں امن کمیٹیوں کی تاریخ دو مختلف انداز کی کمیٹیوں پر مشتمل ہے۔ اگر ان کے قیام کو نائن الیون (9/11) کے مابعد تناظر میں دیکھا جائے، تو سابقہ فاٹا یا وزیرستان میں طالبان کے حملوں کے مقابلے میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کے لیے مقامی مسلح گروہوں (ملیشیا) کو منظم کیا گیا، جسے "امن کمیٹی" کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں یہ کمیٹیاں حکومت و عسکری اداروں کے حامی مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور منظورِ نظر سماجی کارکنان پر مشتمل ہو گئیں۔

فاٹا، سوات، وزیرستان، مالاکنڈ، ٹانک اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں ان امن کمیٹیوں کے فرائض میں مقامی ٹیکسوں کی وصولی اور مقامی سطح پر انصاف کی فراہمی بھی شامل ہو گئی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں پر مقامی آبادی کی جانب سے اغوا برائے تاوان، جبر و استبداد کے ذریعے مقامی آوازوں کو دبانے اور ماورائے عدالت تشدد جیسے سنگین الزامات لگے۔ یہی وجہ تھی کہ بعد میں انہیں "ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں" (Village Defence Committees) میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کمیٹیوں کے کئی مقامی عمائدین خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کے قیام سے ریاست کے رسمی نظامِ انصاف اور تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کمزور ہوئے۔ عوامی اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچی، جس کے نتیجے میں مقامی پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہوئی۔

ایسی صورتحال میں، پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر کے کچھ شہروں میں اچانک امن کمیٹیوں کا معرضِ وجود میں آنا اور ان کی ساخت (Composition) کو دیکھنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بی بی سی اردو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں کے مبہم کردار کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماضی میں لکی مروت اور بنوں کی امن کمیٹیوں کی تشکیل میں مقامی پولیس کا خاصا عمل دخل تھا اور پولیس کی سرپرستی میں ان کمیٹیوں کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی بھی مبینہ دہشت گرد گروہ کے خلاف براہِ راست کارروائی کر سکتی تھیں۔ لیکن عوام کے شدید تحفظات اور شکایات کے پیشِ نظر، اب نئے ضابطہ اخلاق کے تحت ان کمیٹیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خود کوئی عسکری یا براہِ راست کارروائی نہیں کر سکتیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) اور دیگر سیاسی کارکنان تقریباً ایک دہائی سے پورے خیبر پختونخوا میں امن کمیٹیوں کے مشکوک کردار پر معترض رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امن کمیٹیوں کے ارکان عام شہریوں کو ماورائے عدالت سزائیں دے کر علاقے میں بدامنی کو فروغ دے رہے ہیں، اور آئین و قانون کی موجودگی میں ایسی کمیٹیوں کا قیام سراسر غیر آئینی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن کمیٹیوں کا قیام تو ڈیورنڈ لائن کے اس پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف مقامی سطح پر ریاستی معاونت کے لیے تھا تاکہ ریاست کو اس عفریت سے نمٹنے میں آسانی ہو۔ لیکن اس کے برعکس، پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں اب تک دہشت گردی کا کوئی ایسا قابلِ ذکر واقعہ نہیں ہوا جس سے خطے کا امن خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران، جب پورے پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر بالعموم اور پونچھ ڈویژن بالخصوص میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے، تب بھی عوامی سطح پر کوئی ایسا ناخوشگوار سانحہ رونما نہیں ہوا جسے دہشت گردی سے جوڑا جا سکے؛ جبکہ اس تمام عرصے میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں اب تک کئی افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ایسی صورتحال میں، پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر کے کچھ شہروں میں اچانک امن کمیٹیوں کا معرضِ وجود میں آنا اور ان کی ساخت (Composition) کو دیکھنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ یہ امن کمیٹیاں بھی مستقبل میں خیبر پختونخوا، لیاری یا بلوچستان کی امن کمیٹیوں جیسی ہی ثابت ہو سکتی ہیں۔ موجودہ نازک وقت میں پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی قیادت، حقوق کے لیے سرگرم کارکنان اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو اس صورتحال کا گہرا اور درست تجزیہ کرنا ہوگا تاکہ وقت رہتے ایسے فیصلے کیے جا سکیں جن کی بدولت مستقبل میں کسی ماورائے آئین و عدالت اقدامات کا بوجھ عوام کو نہ اٹھانا پڑے، اور بدامنی کا نام لے کر ان نام نہاد "امن کمیٹیوں" کے زعماء اپنے ذاتی عناد اور دشمنیاں نبھاتے نہ پھریں۔

اظہرمشتاق، کینیڈا

11اکتوبر ، 2026

(نوٹ: اس مضمون کے ساتھ استعمال کی گئی تصویر کے لئے AI کی مدد لی گئی ہے )

RightsMovementAJK

تبصرے (0)

تبصرہ کریں