دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والے اور موجودہ رکنِ اسمبلی راجہ محمد فاروق حیدر خان نے 29 اکتوبر 2026 کو سیکرٹری اسمبلی کے نام تحریکِ استحقاق جمع کرائی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر موجودہ خطرات کی وجہ سے انہیں کوئی جانی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار انسپکٹر جنرل پولیس ہوں گے۔
یہ جملہ کسی عام شہری کی فریاد نہیں۔ یہ اس شخص کا تحریری بیان ہے جو اس خطے کے سب سے بڑے انتظامی عہدے پر رہ چکا ہے۔ اس لیے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ جہاں حکمران طبقے کا ایک نمایاں فرد پولیس کے سربراہ کو اپنی جان کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہو، وہاں ایک مزدور، طالب علم، صحافی یا سیاسی کارکن کی جان کتنی محفوظ ہوگی؟
تحریکِ استحقاق میں کیا کہا گیا ہے؟
راجہ فاروق حیدر کے مطابق آزاد جموں و کشمیر وزراء مراعات ایکٹ 1975 کی دفعہ 7-A کے تحت سابق وزیراعظم کو دیگر مراعات کے ساتھ پوری پولیس نفری ملنی چاہیے۔ انہیں صرف ایک سینئر رینکر اور چار کانسٹیبلوں کی گارڈ دی گئی ہے۔
ضلع باغ کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد سعید گزشتہ 16 سال سے ان کے ساتھ گن مین کے طور پر تعینات تھے۔ سابق وزیراعظم کے مطابق انہیں زبانی حکم پر تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے آئی جی پولیس کو تحریری اور ڈی آئی جی کو زبانی طور پر بتایا کہ ان کے پاس پہلے ہی نفری کم ہے اور سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہے۔ اس کے جواب میں 25 اکتوبر 2026، اتوار کی شام پانچ بجے، اس اہلکار کو معطل کر کے راولاکوٹ تبدیل کر دیا گیا۔ تحریک میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف "بے شمار تھریٹ آن ریکارڈ" موجود ہیں۔
وہ سوال جن کا جواب کسی نے نہیں دیا
پہلا سوال: اگر خطرات واقعی ریکارڈ پر ہیں تو یہ خطرات کس کی طرف سے ہیں؟ کیا یہ کسی مسلح گروہ کی طرف سے ہیں، کسی سیاسی مخالف کی طرف سے، یا ان طاقتور حلقوں کی طرف سے جن کا نام اس خطے میں لینا خود ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے؟ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے سابق وزیراعظم کو کس سے خطرہ ہے۔
دوسرا سوال: خطرات کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے سیکیورٹی بڑھانے کے بجائے سولہ سال پرانے گن مین کو معطل کیوں کیا؟ اور اتوار کی شام ہی یہ فیصلہ کیوں ضروری تھا؟ اگر اہلکار کے خلاف کوئی محکمانہ شکایت تھی تو اسے سامنے لایا جائے۔ اگر کوئی شکایت نہیں تھی تو یہ کارروائی سزا کے سوا کچھ نظر نہیں آتی۔
جب ایک سابق وزیراعظم اپنی جان کی حفاظت کے لیے تحریری فریاد کرنے پر مجبور ہو تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا۔
تیسرا سوال: کیا پولیس ایک آزاد اور پیشہ ور ادارہ ہے، یا اقتدار کی رسہ کشی میں ایک فریق؟ اس خطے میں پولیس تبادلے برسوں سے سیاسی وفاداری کی پیمائش اور سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں۔ جب ایک سابق وزیراعظم کا ذاتی محافظ بھی ایک زبانی حکم پر ہٹایا جا سکتا ہے تو عام سپاہی کو کیا پیغام جاتا ہے؟ یہی کہ قانون نہیں، حکم چلتا ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ: تحفظ حق ہے یا مراعات؟
اس معاملے کا ایک تلخ پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ راجہ فاروق حیدر نے اپنا مقدمہ وزراء مراعات ایکٹ پر کھڑا کیا ہے۔ یعنی ان کی نظر میں ان کی حفاظت ایک قانونی استحقاق ہے جو عہدے کے ساتھ ملتا ہے۔
مگر یہی وہ نظام ہے جس کے خلاف حالیہ برسوں میں اس خطے کے عوام سڑکوں پر نکلے۔ حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ عوامی تحریک کے بنیادی مطالبات میں شامل رہا۔ عوام کا سوال یہی تھا کہ جو خطہ بجلی، آٹے اور روزگار کے لیے ترستا ہو، وہاں سابق حکمرانوں کی گاڑیوں، گارڈز اور پروٹوکول کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ایک سابق وزیراعظم کو کتنے کانسٹیبل ملنے چاہییں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس خطے میں تحفظ کو ہر شہری کا آئینی حق کب سمجھا جائے گا؟ ابھی تک یہ صرف چند عہدوں کا استحقاق ہے۔
جس دن ایک عام شہری کو دھمکی ملے اور پولیس اسی سنجیدگی سے حرکت میں آئے جس سنجیدگی کا مطالبہ آج ایک سابق وزیراعظم کر رہے ہیں، اس دن یہ نظام قابلِ اعتبار بنے گا۔ اس سے پہلے نہیں۔
ریاست کی خاموشی بھی ایک بیان ہے
اب تک آئی جی پولیس یا حکومت کی طرف سے اس تحریک پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ یہ خاموشی خود ایک جواب ہے۔ اگر پولیس کا فیصلہ درست تھا تو اسے دلیل کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا جائے۔ اگر غلط تھا تو اسے واپس لیا جائے اور ذمہ داری طے کی جائے۔
آگے کا راستہ
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
- تحریکِ استحقاق کو اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں کھلی سماعت کے لیے پیش کیا جائے، اور آئی جی پولیس خود پیش ہو کر وضاحت دیں۔
- راجہ فاروق حیدر کو ملنے والے خطرات کی آزادانہ جانچ ہو، اور جہاں تک ممکن ہو اس کی نوعیت عوام کے سامنے لائی جائے۔
- اے ایس آئی محمد سعید کی معطلی کی وجوہات تحریری طور پر بتائی جائیں۔
- پولیس تبادلوں اور تعیناتیوں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے لیے شفاف قانون بنایا جائے۔
- مراعات کی بنیاد پر تحفظ کے بجائے ہر شہری کے لیے برابر تحفظ کی پالیسی بنائی جائے۔
ریاست جموں کشمیر کے اس حصے کے لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں تحفظ عہدے سے نہیں، شہریت سے ملے۔ جب ایک سابق وزیراعظم اپنی جان کی حفاظت کے لیے تحریری فریاد کرنے پر مجبور ہو تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ پورے نظام کی ناکامی کا اعلان بن جاتا ہے۔

تبصرے (0)