مواد پر جائیں

جموں کشمیر · آزاد کشمیر

دہشت گردی کے نام پر کھلواڑ — جھوٹ کے نہ پاؤں ہوتے ہیں نہ سر

کشمیریوں کی پرامن جدوجہد پر دہشت گردی کے الزامات نے حکومتی تضادات عیاں کر دیے۔ کیا عوامی تحریک بندوق سے دبائی جا سکتی ہے؟ تفاصیل جانیے۔

خلاصہ

کشمیریوں کی پرامن جدوجہد پر دہشت گردی کے الزامات نے حکومتی تضادات عیاں کر دیے۔ کیا عوامی تحریک بندوق سے دبائی جا سکتی ہے؟ تفاصیل جانیے۔

Summary in English

Allegations of terrorism against the Kashmiris' peaceful struggle have exposed government contradictions. Can a popular movement be suppressed by the gun? Find out the details.

دہشت گردی کے نام پر کھلواڑ — جھوٹ کے نہ پاؤں ہوتے ہیں نہ سر

دہشت گردی کے نام پر کشمیری عوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں خود حکمرانوں کے بیانات ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ طلال چوہدری کی زبان سے نکلنے والے الفاظ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر احتجاج کرنے والے دہشت گرد، شرپسند یا کسی بیرونی قوت کے ایجنٹ ہیں تو پھر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے صدر ڈاکٹر نجیب نقی کا یہ مؤقف کس کھاتے میں جائے گا کہ احتجاج کرنے والے ہمارے اپنے لوگ ہیں اور مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالا جائے گا ؟ سوال بہت سادہ ہے اگر یہ اپنے لوگ ہیں تو انہیں دہشت گرد، بھارتی ایجنٹ، افغانی ایجنٹ اور شرپسند قرار دینے والے کون ہیں؟ یہ فتوے کس کے حکم پر جاری ہوئے؟ ریاست میں فورسز کیوں لائی گئی؟ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر کسی جگہ واقعی دہشت گردی یا تشدد ہوا تو اس کے شواہد، ذمہ دار افراد اور قانونی کارروائی قوم کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتی؟ جھوٹ کے نہ پاؤں ہوتے ہیں نہ سر۔ پروپیگنڈا کچھ وقت کے لیے ماحول کو متاثر کر سکتا ہے لیکن تاریخ اور حقیقت کو ہمیشہ کے لیے نہیں بدلا جا سکتا ہے

ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔ اس حقیقت کو طاقت، گرفتاریوں، پابندیوں یا پروپیگنڈے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے کشمیری عوام کو دہشت گردی کے نام پر زیر کرنے کا خواب نہ سیاسی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ اخلاقی طور پر ہمیں یہ بھی واضح کر دینا چاہیے کہ کشمیری عوام نہ دہشت گرد ہیں نہ شرپسند، نہ کسی ملک کے ایجنٹ۔ ہم ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے لوگ ہیں اور اپنی شناخت، عذت اور بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

اگر حکمران واقعی ریاست کے امن کے خواہاں ہیں تو راستہ بالکل واضح ہے طاقت کے استعمال کا خاتمہ، فورسز کی واپسی، گرفتار افراد کے معاملات کا قانون کے مطابق جائزہ، اور تسلیم شدہ مطالبات پر سنجیدہ عمل درآمد کیا جائے عوامی تحریک کو طاقت سے کچلنے کی کوشش ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتی ہے بندوق خاموشی پیدا کر سکتی ہے، اتفاق نہیں خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا سیاسی مطالبات کا جواب دہشت گردی کے الزامات سے دینا دانشمندانہ پالیسی ہے؟ کیا اپنے ہی زیرِ انتظام خطے کے لوگوں کو دشمن قرار دے کر ریاست مضبوط ہوتی ہے؟ اور کیا آج جن لوگوں کو عوام کے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے وہ کل اسی معاشرے میں عوام کے ساتھ اعتماد سے رہ سکیں گے؟

ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

پاکستان پہلے ہی بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور دیگر علاقوں میں بدامنی، سیاسی بے چینی اور عوامی شکایات جیسے بڑے مسائل سے دوچار ہے ایسے میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں ہے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے سیاسی مذاکرات اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کے دریاؤں کا پانی پاکستان کے وسیع علاقوں کو سیراب کرتا ہے کشمیر کے قدرتی وسائل اور قربانیاں پاکستان کی معیشت اور سلامتی سے جڑی ہوئی ہیں کشمیری عوام نے اپنے گھروں، زمینوں، قبرستانوں، مساجد اور خانقاہوں کی قربانیوں کے ساتھ اس خطے کے بڑے منصوبوں کی قیمت ادا کی ہے ہمارے ڈیموں سے پاکستان کے شہر روشن ہوتے ہیں اور دریاؤں سے پنجاب کے کھیت سیراب ہوتے ہیں اتنی قربانیاں دینے والے عوام کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور پھر انہیں دشمن قرار دینا کسی بھی دانشمندانہ ریاستی پالیسی کا حصہ نہیں ہو سکتا ہے اور حکمران یہ بھی یاد رکھیں کہ عوامی تحریکیں صرف ایک شہر، ایک ضلع یا ایک خطے تک محدود نہیں رہتی ہیں آج کا اطلاعاتی دور ایسا ہے کہ ایک واقعہ چند لمحوں میں دنیا کے سامنے آ جاتا ہے۔ یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں میں مقیم کشمیری اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر کہیں ظلم، تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی گونج سرحدوں سے باہر بھی سنائی دیتی ہے اس لیے وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں نکلا ہے اور پھر پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدرہ کو سمجھنا چاہیے کہ جو اقتدار کے لیے اپنے ھی عوام کا قتل عام کروا رہے ہیں وہ آپ کے وفادار دار کیسے ہو سکتے ہیں ان کے لیے بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں کہ اقتدار کے لیے اپنے عوام پر مسلط ہو کر فورسز کو داخل کروایا ہے تو کل کہاں جاؤ گے حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں ایک راستہ طاقت، الزام تراشی، گرفتاریوں اور نفرت کا ہے جبکہ دوسرا راستہ مذاکرات، انصاف، قانون اور عوامی مطالبات کے حل کا ہے تاریخ گواہ ہے کہ دوسرا راستہ ہمیشہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے کشمیری عوام امن چاہتے ہیں، انصاف چاہتے ہیں، عذت چاہتے ہیں اور اپنے بنیادی حقوق چاہتے ہیں۔ انہیں دشمن سمجھنے کے بجائے سنا جائے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک  پرامن سیاسی جدوجہد ہے اس کا جواب بھی سیاسی ہے بندوق اور طاقت نہیں ہے حکمرانوں، سیاست دانوں، بیوروکریسی اور پولیس کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے آج اگر آپ اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑے ہیں تو کل تاریخ آپ سے ضرور پوچھے گی کہ جب عوام اپنے حقوق مانگ رہے تھے، آپ کس طرف کھڑے تھے ؟ وقت ابھی باقی ہے نفرتیں مت پھیلاؤ، اپنے لوگوں کو دشمن مت بناؤ، کشمیر کو ایک اور محاذ مت بناؤ۔ تسلیم شدہ مطالبات پر عمل کرو، طاقت کا استعمال بند کرو، فورسز واپس بلاؤ اور سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرو کیونکہ عوام کو وقتی طور پر خاموش کیا جا سکتا ہے، ان کے سوالات کو دفن نہیں کیا جا سکتا ہے اور تاریخ کا سب سے بڑا اصول یہی ہے طاقت کا دور ختم ہو جاتا ہے، مگر حق کی آواز باقی رہتی ہے طاقت کے ذور پر نہ قبضہ برقرار رکھا جا سکتا ہے اور نہ عوام کو یرغمال بنایا جا سکتا ہے یہ خطہ متنازعہ اور پر امن خطہ ہے یہ خطہ پاکستان کا دفاعی حصار ہے اگر اس خطے میں آگ لگا دی گئی تو بچے گا کوئی بھی نہیں یہ آگ پاکستان کے چاروں صوبوں میں پھیل جائے گی احتجاجی مظاہرین کو شہید کر کے تحریک کبھی نہیں دب سکے گی وہ تاریخ میں زندہ رہیں گے مگر ہمارا پیدا ہونے والے بچے کے سینے میں انتقام کی آگ اور تمہارے لیے نفرت ہو گی یہ مسئلہ پاکستان کا ہے ھی نہیں یہ مقامی حکومت کا ہے تم بلا جواز مداخلت بند کرو اور اپنی فورسز کو نکال دو اسی میں سب کی بھلائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں