میری پرورش پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ایک انتہائی دور افتادہ علاقے میں ہوئی جسے باضابطہ طور پرآزاد جموں کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی کیونکہ میرے ابتدائی بچپن میں نجی اسکولوں کا تصور ایک عیش و عشرت سمجھا جاتا تھا اور قریبی قصبے میں صرف ایک یا دو انگریزی میڈیم سکول تھے اور قصبے تک رسائی کے لیے ٹرانسپورٹ بہت نایاب تھی۔
میرا گاؤں حدمتارکہ (LOC) کے قریب واقع ہے اور ان دنوں ہمیں پاکستان ٹیلی ویژن دیکھنے کی سہولت بھی میسر نہیں تھی کیونکہ صرف ایک بوسٹر تھا جو پورے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نشریات کو چلانے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اونچے پہاڑوں کی وجہ سے عام اینٹینا ہمارے گاؤں میں پاکستان ٹیلی ویژن کے سگنلز یا نشریات کو نہیں پکڑ سکتے تھے۔ ہم شام کے وقت ٹی وی کے سامنے جمع ہوتے اور دور درشن دیکھتے تھے۔ ہم دوردرشن دیکھنے کے لیے اضافی اینٹینا استعمال نہیں کرتے تھے کیونکہ دور درشن کا آخری بوسٹر پونچھ شہر (جموں کشمیر کے ہندوستانی حصے) میں تھا اور ہم پونچھ شہر کو خالی آنکھ سے دیکھ سکتے تھے۔
یہ 1995 کی ایک خوشگوار رات تھی؛ ہم ٹیلی ویژن کے سامنے جمع تھے اور تفریحی پروگرام کے بعد آٹھ بجے کا خبروں کا بلیٹن شروع ہوا اور پہلی بڑی سرخی چرارشریف (بھارتی زیر قبضہ جموں کشمیر میں ایک مزار) میں ہندوستانی فوج کا ایک آپریشن تھا۔ نیوز کاسٹر نے آپریشن کے بارے میں تفصیلی خبر میں واقعہ بیان کیا۔ ہندوستانی سیکورٹی حکام کے مطابق ہندوستانی فوج نے اس مزار کا محاصرہ کر لیا تھا جہاں بڑی تعداد میں دہشت گردوں (مجاہدین) نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس شخص نے بتایا کہ ان کے پاس جدید گولہ بارود ہے اور وہ مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔ میرے خاندان کے تمام افراد سرگوشیاں کر رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے کہ تمام مجاہدین بحفاظت نکل جائیں۔ ہم بچے تھے اور ہم نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اس کے باوجود ہمارے دلوں میں مجاہدین کے لیے ہمدردی تھی۔
ٹھیک دو دن بعد جب ہم اسکول میں صبح کی اسمبلی میں تھے، تو ہمارے قاری صاحب نے ہمیں یہ واقعہ سنایا اور ہم سے چرار شریف کے شہداء کے لیے دعا کرنے کو کہا۔ غیر متوقع طور پر ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب آگے آئے اور انہوں نے مسئلہ کشمیر اور بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں ہندوستانی فوج کی بربریت پر ایک انتہائی جذباتی تقریر کی۔ انہوں نے طلبہ کو یہ ترغیب اور جوش بھی دلایا کہ اگر ایسا کرنے کی ضرورت پیش آئی تو ہم سب عملی طور پر اس جنگ میں حصہ لیں گے۔
نوجوان اذہان نے اپنے علم کے مطابق اس مسئلے پر بات چیت کی اور اس دن جہاد میں حصہ لینے کا پختہ فیصلہ کیا۔ ایک دن بعد ہمیں دستیاب پاکستانی ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا کہ چرار شریف سے ایک مجاہد فرار ہو گیا ہے، جس کا نام میجرمست گل ہے۔ میں حیران ہوا کہ اس کے فرار کی خبر 24 گھنٹوں کے اندر سرحد کیسے پار کر گئی؟ اس کے استقبال کی خبر گردش کر رہی تھی کہ چکوٹھی سے حزب المجاہدین (جماعت اسلامی کا مسلح ونگ) اس کا استقبال کرے گی۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہیں اس قدر یقین کیسے تھا کہ وہ یقیناً حدمتارکہ پار کر کے جموں کشمیر کے پاکستانی حصے میں داخل ہو جائے گا؟ کیونکہ چرار شریف سے چکوٹھی کا فاصلہ 151 کلومیٹر ہے اور چرار شریف سےچکوٹھی پہنچنے کے لیے گاڑی کے ذریعے تقریباً 3 گھنٹے اور پیدل 31 گھنٹے درکار ہوتے ہیں؛ راستے میں فوج کی 20 سے زائد چوکیاں ضرور ہوں گی۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں کوئی منظم اور باقاعدہ طریقہ کار یا ادارہ موجود تھا، جو جموں کشمیر کے ہندوستانی حصے میں مست گلوں کو چلا رہا تھا۔
دو دن بعدپاکستانی زیر انتظامی جموں کشمیر ککی تمام مارکیٹیں اور تمام اہم جگہیں چکوٹھی سے میجرکے استقبال کے پوسٹروں سے بھر گئیں۔ مجھے یاد ہے کہ جماعت اسلامی نے اس سرگرمی کے فروغ اور ریلی میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مہم چلائی تھی۔
یہ 2 اگست 1995 کا دن تھا جب چکوٹھی میں ایک بہت بڑے اجتماع نے میجر مست گل کا استقبال کیا، جو حد متارکہ پار کر کےجموں کشمیر کے پاکستانی حصے میں داخل ہو چکا تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے چکوٹھی سے میجر مست گل کا ساتھ دیا اور ان کے اعزاز میں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا گیا۔
مجھے یاد ہے کہ اس وقت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی نیم خواندہ مائیں بھی میجر مست گل کی بہادری کی مثالیں دے رہی تھیں۔ یہ یقینی ہے کہ مذہبی خاندانوں کے ڈرائنگ رومز میں میجر مست گُل کی تصاویر اب تک موجود ہوں گی۔
میں بڑا ہوا اور کالج گیا، اور سیاست میں دلچسپی اور جموں کشمیر کے مسئلے سے وابستگی کی وجہ سے میں نے ایک سیاسی جماعت کے طلبہ ونگ میں شمولیت اختیار کی جو خود مختاری کی حامی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ جموں کشمیر میں سیاسی اور معاشی بے چینی میں پاکستان اور بھارت دونوں کا یکساں کردار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میرے خاندان کو میری سیاسی وابستگی کے بارے میں پتہ چلا تو وہ چیخ اٹھے کہ میں ایک باغی بننے جا رہا ہوں جو ریاستِ پاکستان اور مسئلہ جموں کشمیر میں اس کے کردار کو تسلیم نہیں کرتا۔ پارٹی کے سیکولر رویے اور انداز کی وجہ سے لوگ ہمیں دہریے(Atheists) کہتے تھے۔ اس وقت میرے دل میں کشمیر کے مجاہدین کے لیے نرم گوشہ تھا اور میں اپنی کتابوں پر 9 پستول اور کلاشنکوف کے اسٹیکرز چسپاں کیا کرتا تھا۔
انہوں نے ایک سادہ سا سوال پوچھا؛ "اگر جہاد ایک نیکی اور اعلیٰ کام ہے تو پھر وہ لوگ اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو کیوں نہیں بھیج رہے، جو دوسروں کو اس کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اکسا رہے ہیں؟
کالج میں پندرہ روزہ اسٹڈی سرکل کے دوران میں نے پارٹی کے ایک سینئر رکن سے سوال کیا کہ اگر ہم جموں کشمیر کی مکمل آزادی چاہتے ہیں تو پھر ہم جہاد میں کیوں شرکت نہیں کر رہے؟ سینئر پارٹی رکن مسکرائے اور کیوبا، چین، انگولا اورویتنام کے عوام کی جدوجہد سے بہت سی مثالیں دیتے ہوئے مجھے ایک غیر متوقع جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کشمیر میں جہاد دراصل آزادی اور خود مختاری کی اس تحریک کو ہائی جیک کرنا ہے جو کشمیریوں نے شروع کی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امپورٹڈ جہادی آپ کو تھال میں رکھ کر آزادی پیش نہیں کر سکتے؛ جہاد کو فروغ دینے میں ان کے اپنے مفادات ہیں۔ میرے لیے یہ بات چونکا دینے والی تھی جب انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ایجنسیاں جموں کشمیر میں جہاد کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور وہ تمام سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایک سادہ سا سوال پوچھا؛ "اگر جہاد ایک نیکی اور اعلیٰ کام ہے تو پھر وہ لوگ اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو کیوں نہیں بھیج رہے، جو دوسروں کو اس کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اکسا رہے ہیں؟" سوال منطقی تھا اور میں اس وقت بالکل لاجواب تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جو لوگ سیکولر سوچ رکھتے تھے اور "میڈ اِن پاکستان" جہاد کی نفی کرتے تھے، انہیں کئی بار اغوا کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اب جموں کشمیر کے پاکستانی حصے میں نہیں ہیں، وہ اب بھی لاپتہ ہیں یا ان میں سے کچھ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ یا یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے قصبے کی مرکزی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ سے پہلے جہاد کے ترانے بجائے جاتے تھے اور ہر جمعہ کو آدھا خطبہ جہاد پر ہوتا تھا۔
یہ بات حیران کن تھی جب تمام دیوبندی علماء نے مسجد سے اعلان کیا کہ وہ تمام لوگ جو سیکولر اور لبرل نظریات رکھتے ہیں وہ غیر مسلم ہیں اور وہ ایک مسلم معاشرے میں صرف موت کے ہی مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید یہ وضاحت کی کہ انہیں قتل کرنا ثواب کا کام ہے۔ ہم سب جانتے تھے کہ اس کا پرچار کس نے کیا اور مذکورہ فتویٰ جاری کرنے کے لیے کس نے پیسے دیے۔
اس طرح کے اعلان کی بنیادی وجہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جہاد مخالف نظریے کا ابھرنا تھا۔ متعدد باشعور لوگ مختلف فورمز پر امپورٹڈ جہادیوں کی مذمت کر رہے تھے، اور عوام میں سے ایک متبادل سیاسی قوت ابھر رہی تھی۔
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہر کسی کے لیے یہ بات آنکھیں کھول دینے والی تھی جب حزب الہمجاہدین کے دو گروہ طاقت میں حصے داری (امارت) کے لیے آپس میں لڑ پڑے اور اس لڑائی اور کراس فائرنگ کے دوران 3 عام شہری مارے گئے۔ اس لڑائی میں بھاری مقدار میں گولہ بارود استعمال کیا گیا تھا۔
جہادی اس حد تک بااختیار تھے کہ کوئی ان کے خلاف ایک عام ایف آئی آر بھی درج نہیں کروا سکتا تھا۔ ان کی گاڑیوں پر سیاہ نمبر پلیٹیں لگی ہوتی تھیں اور وہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی کھلے عام اسلحہ لے کر گھومنے کے لیے آزاد تھے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ میں بھی ان کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے کے مشرف کے فیصلے کے بعد، اس حصے کے مکینوں نے بھی سکھ کا سانس لیا کیونکہ ان کے بیٹے، بیٹیاں، بہنیں اور خاندان محفوظ تھے اور وہ اسکولوں، کالجوں اور کام کی جگہوں وغیرہ جانے کے لیے آزاد تھے۔ اب کوئی ایسا مجاہد نہیں ہو گا جو موٹر سائیکل پر نوجوان لڑکیوں کا پیچھا کرے جس کی جہادی جیکٹ میں نو ایم ایم پستول ہو یا اس کے کندھے پر اے کے 47 لٹکی ہو۔
کچھ ترقی پسند سیاسی حلقوں نے تربیتی کیمپوں کے خاتمے کو جموں کشمیر سے افغانستان کی طرف جغرافیائی منتقلی کے طور پر زیر بحث لایا۔ کچھ حلقوں نے ترقی پسندوں کے اس بیان پر تمسخر اڑایا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور وہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے اس لیے ایسا کیا گیا۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مذہبی لوگ شدید اضطراب میں تھے اور ان کا استدلال تھا کہ پرویز مشرف جہاد کشمیر سے دستبردار ہو کر دو قومی نظریے کی نفی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کشمیر پاکستان کی کی نظریاتی سرحدوں کی تکمیل کے لیے ہے۔ پردے کے پیچھے پرویز مشرف یا پاکستانی ریاست کے ارادے خواہ کچھ بھی رہے ہوں لیکن یہ بات واضح تھی کہ پاسکتانی زیر انتظام جموں کشمیر سے تربیتی کیمپوں کے خاتمے سے بہت سے لوگوں کی دکانیں بند ہو چکی تھیں۔
وقت تیزی سے گزرا، میں یونیورسٹی گیا اور ڈگری حاصل کی، نوکری مل گئی اور شادی ہو گئی، ایک بچہ ہے، طرزِ زندگی بدل گیا اور اب ذمہ داریاں ہیں۔ پندرہ روزہ سیاسی اسٹڈی سرکلز کی تاریخیں اور اوقات ٹیکسٹ میسجز اور فیس بک کے ذریعے اپ ڈیٹ ہو رہے ہیں؛ ذاتی معیشت کی بہتری کی جدوجہد نے سیاسی سرگرمیوں کو نگل لیا ہے۔ سیاسی مباحثے محض شہ سرخیوں کے فوراً بعد اور کھانے کی میزوں تک محدود ہیں؛ مجھے نہیں معلوم کہ چرار شریف کا ہیرو میجر مست گل کہاں چلا گیا؟، لوگ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے علاوہ خود کو سیکولر اور ، ترقی پسند یا متنوع سوچ کا حامل کہلوانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان میں طالبان سے خوفزدہ ہیں۔
طالبان ٹیکنالوجی سے بخوبی واقف ہیں، وہ مرکزی دہارے کے ذرائع ابلاغ کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔ یہ 5 فروری کی بات ہے جب ٹھریک طالبان پشاور کے سربراہ حسن سواتی، میجر مست گل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سامنے آئے؛ انہوں نے بتایا کہ میجر مست گل نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں 9 بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ میں نے ایک مرکزی قومی اخبار میں یہ رپورٹ پڑھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں اپنے ذہن کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے لگا کہ اگر بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں ادارے میجر مست گل اور کمپنی کی پشت پناہی کر رہی تھی تو پھرتحریک طالبان پاکستان کے پیچھے کون ہے؟
(نوٹ: یہ مضمون اصل میں Monthly Commoner Islamabad, Pakistan کے فروری 2014 کے شمارے میں شائع ہوا تھا)

تبصرے (0)