مواد پر جائیں

جموں کشمیر

راوالاکوٹ میں جہادی اور ایکشن کمیٹی

تحریر : افتخار کلوال

خلاصہ

راوالاکوٹ میں جہادیوں کی موجودگی اور ایکشن کمیٹی سے ان کے مبینہ تعلق نے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ کمیٹی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے امن و امان کے قیام کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی ہے۔

Summary in English

The presence of jihadists in Rawalakot and their alleged links to the Action Committee have raised serious concerns. Rejecting the allegations, the committee has placed the responsibility for maintaining law and order on the state.

Uk
Uk تصویر: Iftikhar Kalwal

راوالاکوٹ میں جہادی  اور ایکشن کمیٹی

تحریر : افتخار کلوال

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے فیصلوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، یقیناً بنتی بھی ہے۔ ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو ماضی میں ایکشن کمیٹی کی قیادت کے فیصلوں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، تاہم اس وقت اس لیے خاموش ہیں کہ ہزاروں لوگ فورسز کے محاصرے میں ہیں، درجنوں جانیں لی جا چکی ہیں اور اب بھی جانوں کے ضائع ہونے کے خطرات ہر وقت منڈلا رہے ہیں۔

بہرحال حالات کچھ بھی ہوں، ہر انسان اپنی سوچ و فکر میں آزاد ہے۔ وہ اپنی رائے بنانے اور اظہار کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے، تاہم تنقید کرنے اور سوالات اٹھانے میں منطق ضرور ہونی چاہیے۔

بعض لوگ آج کل جہادیوں کا ذکر کر رہے ہیں، بلکہ جہادیوں کا تعلق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے جوڑ رہے ہیں۔ حوالے کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ راولاکوٹ میں کچھ گھروں پر جہادی بندوق کے زور پر قابض ہیں۔

جہادیوں کی موجودگی اور گھروں پر قبضے سے انکار نہیں ہے، یقیناً ایسا ہوگا۔ اس طرح کے حالات، جیسے پچھلے تقریباً پانچ ماہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری ہیں، ایسے عوامل کا شامل ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

حیران کن طور پر جہادیوں کا ذکر حکومت اور حکومتی بیانیہ پھیلانے والوں سے زیادہ قوم پرست یا ترقی پسند لوگ کر رہے ہیں۔

ہر عام شہری جانتا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو طرح کے جہادی ہیں. ایک وہ جو ریاست کے خلاف لڑتے ہیں اور دوسرے وہ جو ریاست کا اثاثہ سمجھے جاتے ہیں، Non-state actors غیر ریاستی عناصر. یعنی ریاست کے اپنے ہی لوگ جنہیں ریاست اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ جہادیوں کا ایکشن کمیٹی سے اور کمیٹی کا ان جہادیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راولاکوٹ میں جن جہادیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ کس قسم کے جہادی ہیں؟ جہادیوں کی موجودگی کا ذکر کرنے والے یہ نہیں بتا رہے۔

اگر تو یہ ریاست کا اثاثہ سمجھے جانے والے لوگ ہیں تو خطرے کی بات ہے۔ دھرنے میں بیٹھے ہزاروں عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے ان کی موجودگی خطرے کی علامت ہے، اور اگر راولاکوٹ میں ریاست کے خلاف لڑنے والے جہادی موجود ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ خطرے والی بات ہے۔

ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ جہادیوں کا ایکشن کمیٹی سے اور کمیٹی کا ان جہادیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ واضح رہنا چاہیے کہ جہاں کسی کے قابض ہونے کی شکایت ہے، خواہ جہادی ہوں یا کسی اور گروپ کے لوگ، اس قبضے کو ختم کروانا اور متعلقہ لوگوں یا گروہ کے خلاف کارروائی کرنا ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اتھارٹی ریاست اور حکومت ہے، نہ کہ جموں کشمیر ایکشن کمیٹی کی قیادت۔

کچھ لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ جہادیوں کے نام پر کمیٹی کی خلاف آپریشن کیا جائے گا ۔۔۔ تاہم جو بھی ہے ریاست کی اولین ترجیح عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے اور اس کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے کہ کمیٹی سے مذاکرات کر کے تمام معاملات کو پر امن طور پر یکسو کیا جائے.

راولاکوٹ کے لوگوں نے تقریباً پانچ مہینوں سے میرپور ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن، پونچھ اور دیگر علاقوں کے لوگوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ ان لوگوں جیسی میزبانی اور قربانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان کی اس قربانی کی قیمت لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ بعض لوگ دانستہ یا غیر دانستہ اس عظیم قربانی کو جہادیوں کے قبضے کے ساتھ مکس کر کے ناانصافی کر رہے ہیں۔

ضروری ہے کہ جب جہادیوں کا ذکر کیا جائے تو یہ بھی بتایا جائے کہ کس قسم کے جہادیوں کا ذکر ہو رہا ہے، اور جہادیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ریاست اور حکومت سے کیا جائے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں