آزاد کشمیری سیاست میں آج کل بارہ مہاجر نشستیں سب سے بڑا موضوع بنی ہوئی ہیں۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا سوال بجا ہے، اعتراض بھی جائز ہے مگر ایک بنیادی سوال اس بحث کے شور میں دب رہا ہےآپ نے اکثر آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنا ہوگا یہ آٹھ مخصوص نشستیں آخر کس کے مینڈیٹ پر اسمبلی میں آتی ہیں؟ یوں تو بظاہر یہ مخصوص نشستیں مختلف طبقات فکر کی نمائندگی کے نام سے مختص کی گئیں ہیں ۔۔۔ لیکن معاملہ یہاں بھی گھمبیر ہے ۔
خواتین کی نمائندگی سب کو چاہیے؟ بالکل چاہیے جی
ٹیکنوکریٹس اسمبلی میں ہونے چاہئیں؟یقیناً ہونے چاہئیں۔
علما و مشائخ کی آواز بھی ایوان میں ہونی چاہیے؟
کیوں نہیں ضرور ہونی چاہیے۔
مگر کیا نمائندگی کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو ایک طرف کر کے سیاسی قیادت چند نام طے کرے اور وہ لوگ عوامی ووٹ کے بغیر قانون سازی اور حکومت سازی کے فیصلوں میں شریک ہو جائیں؟
یہ سوال کسی ایک جماعت یا فرد کے خلاف نہیں۔
یہ سوال نظام کے خلاف ہے۔
تو سوال یہ بنتا ہے کہ مہاراجہ کے دربار سے نکل کر جمہوریت اس لیے حاصل نہیں کی تھی کہ آج دربار کا کردار صرف تبدیل ہو جائے ؟
آپ نے ووٹ اس لیے نہیں مانگا تھا کہ انتخابات تو عوام کریں، مگر اقتدار کے کچھ دروازے عوام کے ووٹ کے بغیر بھی کھلے رہیں ؟ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہی راستے حکومت سازی کے سیاسی کھیل کو بھی متاثر کرتے آئے ہیں اور ایسا ہمیشہ سے ہورہا ہے۔۔۔ مگر کوئی اس پہ آواز نہیں اٹھاتا ۔
آج اگر ایک شخص براہِ راست عوام سے ووٹ لیے بغیر اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے، تو کل سوال یہ ہوگا کہ کیا وہ شخص حکومت بنانے یا گرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر اصل بحث محض نشستوں کی تعداد نہیں، عوامی مینڈیٹ کی حیثیت کی بھی ہے۔
جمہوریت میں عوام پانچ سال بعد صرف ووٹ ڈالنے نہیں آتے؛ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے یہ طے کرتے ہیں کہ اقتدار کس کے پاس جائے گا۔
اگر ہم واقعی ووٹ کی عزت چاہتے ہیں تو پھر آدھی نہیں، پوری جمہوریت مانگنا ہوگی۔
اگر اسمبلی کے اندر ایسے ووٹ بھی فیصلہ کن بن جائیں جن کے پیچھے براہِ راست عوامی مینڈیٹ موجود نہیں، تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم جمہوریت کو مضبوط کر رہے ہیں یا انتخابی جمہوریت کے اندر نامزدگی کی سیاست کو مضبوط کر رہے ہیں؟
ان سوالات کا جواب موجود ہے کہ خواتین کو نامزد نمائندہ نہیں، منتخب نمائندہ بنائیں۔
ٹیکنوکریٹ کو سیاسی قیادت کا محتاج نہیں، عوام کا جواب دہ بنائیں۔
علما و مشائخ کی نمائندگی کو بھی ایسا راستہ دیں جس میں شفافیت، انتخاب اور جواب دہی موجود ہو۔ اور مہاجر نشستوں پر بھی متناسب نمائندگی آئین، جمہوریت اور عوامی حقِ نمائندگی کی بنیاد پر ہو اور عوام فیصلہ کریں کہ فلور کراسنگ اور سیاسی انجینئرنگ کا دروازہ ان نشستوں کے ذریعے کیسے بند کیا جاسکتا ہے۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بارہ نشستیں کس کے پاس ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں طاقت کا ہر فیصلہ کن ووٹ آخر کس کے نام پر ہے؟
عوام کے نام پر؟ یا سیاسی بندوبست کے نام پر؟
اگر ہم واقعی ووٹ کی عزت چاہتے ہیں تو پھر آدھی نہیں، پوری جمہوریت مانگنا ہوگی۔
برطانوی پارلیمان کے House of Commons میں خواتین، ٹیکنوکریٹس، علما یا کسی اور طبقے کے لیے مخصوص نشستیں نہیں۔ ہر رکن اپنے انتخابی حلقے سے عوام کے براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔
تو آزاد کشمیر میں سوال کیوں نہیں اٹھنا چاہیے؟
خواتین کی نمائندگی ضروری ہے، ٹیکنوکریٹس اور علما کی بھی؛ مگر نمائندگی کا مطلب نامزدگی نہیں، عوامی مینڈیٹ ہے۔
آزاد کشمیر میں عوام کو صرف ووٹ ڈالنے کا حق نہیں چاہیے عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار طے کرنے کا حق چاہیے۔ اسی کو حق حاکمیت کہتے ہیں۔
اگر حقِ حاکمیت واقعی عوام کا ہے تو اسمبلی کی ہر فیصلہ کن نشست کا سرچشمہ بھی عوام کا ووٹ ہونا چاہیے ۔۔۔ اب سوال آپ ہر ہے کہ کیا عوام کو حق حاکمیت حاصل ہے ؟
کاشر_سوچ
RightsMovementAJK
AzadKashmir
(واحد کاشر لندن میں مقیم بی بی سی سکول آف جرنلزم سے فارغ التحصیل ایک فری لانس تحقیقی صحافی ہیں اور جموں کشمیر ٹی وی Jammu Kashmir TV کے ہیڈ آف کرنٹ افیئرز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )

تبصرے (0)