تحریر: پروفیسر سعود الطاف غزنوی
صدر کشمیر انٹرنیشنل پریس کلب امریکہ
چوھدری یسن اور شاہ غلام قادر کے ساتھ ہونے والی انٹرا پارٹی دھاندلیاں اس امر کی غماز ہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی قطعی طور پر جمہوری پارٹیاں نہیں بلکہ فسطائیوں کا مفاد پرست گٹھ بندھن ہے جو اپنی مرضی سے اپنے خدامتگاروں کو ان کی قربانیاں خدمات وفادرایاں بھی بالا طاق رکھتے ہوئے اپنی من پسند کی بنیاد پر نوازتا ہے جو لوگ ان پارٹیوں کے لیے منافقت دھاندلی خونی سیاست ظلم
جبرواستبداد میں ان کے آلہ کار اور دست راس رہتے اپنے اعمال نامے آلودہ کر کےبھی جب انہیں ان آقاوں کا منظور نظر ہونا نصیب نہیں ہوتا تو تب یہ ملال میں فرقت میں اور بےقرراری میں اپنی سالھ کو بچانے کا بھانے تلاشتے اور ایک ایسا ٹھکانہ چاہتے جو انہیں سبکی سے بچا سکے لیکن صد افسوس وہ ٹھکانہ انہیں میسر نہیں ہوتا تب جمہوری راویت واضح داری اور میرٹ اس پرگندہ نظام کو چھو کر بھی نہیں گزرا اسی لیے میرٹ کے منافی سیاست سے بیورےکریسی انتظامیہ اور معمولی معاملات تک یہ دھاندلی سفارش من پسندیدگی رشوت ستانی کا بازار گرم نظر آتا خیر یہ ایک eye opening مومنٹ ہے ان سب سیاسی ورکرز کے لیے جو خود کو سیاسی کارکن گردانتے کہ معمولی مفادات کے لیے ملی ملکی اور معاشرتی مفادات کو خدا راہ قربان نہ کیا کرے اگر یہ چوھدری یسن اور شاہ غلام قادر صاحب عوام کے بنیادی مطالبے یعنی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری تحریک کی تائید کرتے ریاست میں میرٹ شفافیت نظام کی درستگی کو ترجیح دیتے تو شاید آج حالات یکسر مختلف
ہوتے لیکن تب جاتی امرا اور بلاول ہاوس کی وفادرای میں اس قدر آگے چلے جانا کے اپنے مفلس محکوم قوم کی قربانی کر دینا بھی انہیں گراں نہ گزرا تو آج ان احباب کو یہ اخلاقی اور ملی غداری بھی کوئی دنیاوی فائدہ تک نہ دے سکی اس لیے اب یہ موقع باقی سب کے لیے سبق آموزاور نصحیت خیز ضرور ہے کہ دھاندلی کروا کر اپنی نام نہاد پارٹیوں کو جتوانے کا بندوبست کرنا عوام کے بنیادی حق انتخاب غاصب کرنا اور اپنے ان نانہاد لیڈروں کے مفاد کے لیے مظلموں کا ناحق قتل عام سے بھی گریزاں نہ ہونا کیا نتائج احذ کرواتا ان لیڈروں کے پاس آپکی کیا وقعت حثیت ہوتی ؟جن کے لیے آپ اپنا سب کچھ قربان کر چکے ہوتے آخرت تک برباد کر چکے ہوتے ۔مجھے ایک سنیر سیاستدان نے ایک بار ان کی پارٹی جائن کرنے کا کہا اور اس کے صلے میں پارٹی عہدے اور اچھے رول کی پیشکش کی تو میرا جواب تھا کہ معمولی مفاد کے لیے میں قیادت کے ہر اچھے برے کام کا حصہ نہیں بن سکتا کیوں کہ یہی وہاں کا سیاسی کلچر دنیاوی مفاد کے لیے اپنے آخرت برباد کر کے نام نہاد قائدین کے گناہ بھی اپنے اعمال نامے میں شامل کروانے کا بوجھ اور اس کو اٹھانے کے سکت نہیں مجھ میں ۔سیاست ضرور کرے لیکن بدعنوانی ظلم جبر بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی کا حصہ نہ بنے صرف اتنی وفاداری دیکھے نام نہاد رہنماؤں سے جتنا بوجھ آپ عمال نامے میں روز محشر اٹھانے کے قابل ہو.

تبصرے (0)