مواد پر جائیں

رائے · آزاد کشمیر

آزاد کشمیر

نو ستمبر کی ہڑتال کے بعد

خلاصہ

9 ستمبر کی ہڑتال کے بعد آزاد کشمیر کو ایک کشیدہ تعطل کا سامنا ہے، جبکہ حکومت کاروباروں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔ کیا کوئی درمیانی راستہ اس غیر معمولی بحران کو حل کر سکتا ہے؟

Summary in English

Azad Kashmir faces a tense standoff after the September 9 strike, with the government cracking down on businesses. Can a middle ground resolve this unprecedented crisis?

آزاد کشمیر
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

نو ستمبر کی ہڑتال کے بعد صورتحال کیا ہے؟

نو ستمبر کو آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ایک کامیاب ہڑتال ہوئی جو ہم جیسوں کیلئے تو سمجھنا آسان ہے مگر بہت سے تجزیہ نگار اور خود حکومت میں شامل لوگ اسکے لیے تیار نہیں تھے۔ اپنے جھوٹ کو دہراتے دہراتے سرکار خود ہی اس پر یقین کر بیٹھی اور انتقامی طور پر ان لوگوں کی دکانوں کو سیل کیا جا رہا ہے جنہوں نے نو ستمبر کو اپنے کاروبار بند رکھے۔

نو جون سے اب تک آزادکشمیر میں جو بھی ہوا، وہ اس خطے کے لوگوں کیلئے یوں بھی غیر معمولی تھا کہ ریاست کا یہ روپ سب نے پہلی مرتبہ دیکھا اور ان واقعات کے ایسے اثرات قبول کیے جو اب مٹائے نہیں جا سکتے۔ آزادکشمیر میں حکومتی رٹ کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، رٹ ہمیشہ سے موجود ضرور تھی مگر عوام کی نظروں سے اوجھل تھی، تحریر و تقریر کی جو آزادی یہاں میسر تھی اور اس کے نتیجے میں جو سیاسی کلچر پروان چڑھا، وہ پورے پاکستان کیلئے مثالی تھا۔

سچی بات یہ ھیکہ کوئی بھی فرد یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ اسقدر بربریت روا رکھی جائیگی اور ایسا بحران پیدا ہو گا جو ختم ہونے میں ہی نہیں آئے گا۔ آزادکشمیر ان معنوں میں مکمل آزاد تھا کہ یہاں ہر قسم کا سیاسی نکتہء نظر رکھنے کی آزادی تھی اور ریاستی اداروں کا عوام الناس کی روز مرہ زندگی میں عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا۔ قوم پرست تنظیموں سے وابستہ سیاسی کارکنوں کو اکثر مشکلات کا سامنا رہتا تھا مگر ان کو کبھی ریاست دشمن یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنیوالی تنظیمیں قرار دیکر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

نو ستمبر کے بعد صورتحال یوں ھیکہ سب اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں، ہم نے سرینڈر نہیں کیا اور یہ بات افسران بالا کو ہضم نہیں ہو رہی۔

پانچ جون کو آزادکشمیر ہمیشہ کیلئے بدل گیا۔ پہلی دفعہ کسی عوامی پلیٹ فارم کو دہشتگرد قرار دیا گیا، عشروں پرانے الزامات، قبیلائی تعصبات اور اس نوعیت کی دیگر قباحتوں کو مقتدرہ نے پھر سے زندہ کیا تاکہ دہشتگردی کے خاکے میں رنگ بھرا جا سکے۔ آزادکشمیر کے متعصب سیاستدانوں جیسے سردار عتیق احمد خان، شاہ غلام قادر، فیصل راٹھور وغیرہ نے آئی جی اور ایک بریگیڈیئر کیساتھ مل کر پونچھ کو نشانے پر رکھ لیا اور خون کی ندیاں بہا کر اپنے برسوں کے احساس محرومی کی تشفی کر لی نیز مقتدرہ جس موقعہ کی برسوں سے تلاش کر رہی تھی، اسے وہ فراہم کر دیا۔

نو ستمبر کے بعد صورتحال یوں ھیکہ سب اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں، ہم نے سرینڈر نہیں کیا اور یہ بات افسران بالا کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اس کیساتھ پاکستان تحریک انصاف بھی لانگ مارچ کیلئے پر طول رہی ہے اور ایسے وقت میں آزادکشمیر میں کوئی بڑا آپریشن کرنا بھی اب ممکن نہیں رہا۔ پیر مظہر شاہ عوامی ایکشن کمیٹی کو یہی بات سمجھانے بار بار چکر لگا رہا ھیکہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں اور درمیانہ راستہ تلاش کریں۔

کیا کوئی درمیانی راستہ ممکن ہے؟ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی کی سیاسی ترجیحات اور مقاصد پر منحصر ہے۔ اگر حکومت پانچ جون کی صورتحال بحال کرنے پر تیار ہوتی ہے تو مقدمات کا سامنا کرنے میں ہمیں پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر حکومت تمام شہداء، زخمیوں کی داد رسی سمیت ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کرنے پر تیار ہوتی ہے تو ہمیں بھی معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لچک دکھانی ہو گی۔ میری رائے میں اسوقت یہ معاملہ معاہدے کا نہیں بلکہ تاثر کا ہے، حکومت ایکشن کمیٹی کی بیانیہ سازی کی طاقت سے خوفزدہ ہے جبکہ ایکشن کمیٹی یہ بھانپ چکی ھیکہ حکومت پریشر میں ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں